رابرٹ اور حسرت دونوں شاعر تھے۔ رابرٹ کا پورانام رابرٹ گرانٹ تھا اور حسرت کا نام حسرت موہانی تھا۔ رابرٹ ایک برطانوی شہری تھے، اور حسرت ہندوستانی۔ دونوں کے آباؤ اجداد کا تعلق ہندوستان سے نہیں تھا۔ لیکن وہ ہجرت کر کے ہندوستان میں ایسے بسے کہ یہیں کے ہوکر رہ گئے۔ تفصیل سے پڑھئے
 ساتھ کام کرنے والے شخص اکثر اپنے کولیگ کی پروموشن سے بھی خائف رہتے ہیں-
کیا آپ کو بھی ایسا لگتا ہے کہ کچھ کردار ایسے ہوتے ہیں جو ڈراموں میں بظاہر ثانوی ہوتے ہیں مگر ان کا نقش ہمیشہ کے لیے ذہن میں بس جاتا ہے ؟ ایسا بالکل ہوتا ہے اگر آپ نے کافی عرصہ پہلے پی ٹی وی پر چلنے والا ڈراما 'خواجہ اینڈ سن' دیکھا ہو تو اس میں ایک پروفیسر اداس صاحب تھے (اب کوئی سوچے کہ کوئی پروفیسر اداس کیوں ہے تو درحقیقت یہ ان کا شاعرانہ نام تھا) جن کا کردار تو خاص نہ تھا مگر ان کی شخصیت کا جو پہلو دکھایا گیا وہ ناقابل فراموش تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
عام بھولی بھالی عورت اور طوائف میں کیا فرق ہوتا ہے؟ ہوتی تو دونوں عورتیں ہی ہیں پھر کیوں عام عورت ایک پاکیزہ محبت کے بعد ٹوٹ جاتی ہے؟ اور کیوں طوائف ایک کے بعد ایک تعلق بنائے جاتی ہے اور پھر بھی خود کو ٹوٹنے نہیں دیتی؟
عورت کی طاقت اسکے جذبات میں ہوتی ہے. تفصیل سے پڑھئے
مشہور مستشرق ڈاکٹر گیری ملیر Dr.Gary millerاستاذ ریاضیات ومنطق جامعہ ٹورنٹو دعوت الی النصرانی میں بہت ہی سرگرم اورفعال مستشرقین میں سے ہے ، کتاب مقدس اناجیل کے علم میں یدطولی اور علم غزیر رکھتا ہے جسے علم ریاضیات سے ایک خاص دلچسپی ہے ۔ہر ایک چیز میں فلسفہ اور منطق کے ناحیہ سے کام کرنے والے ہیں ، ایک دن اس نے قران کریم کو اس نیت سے پڑھنا شروع کیا کہ اس میں کوئی خامی نکالا جائے اور مسلمانوں کو بتلایا جائے کہ دیکھو جس کتاب کو تم دین کی بنیاد مانتے ہو اس میں تو کئی خامیاں ہیں تو کیوں نہ نصرانی مذہب کی طرف آجا اور نصرانیت قبول کرلو ۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
 
ایران میں 25-اکتوبر2014 کو پھانسی چڑھنے والی چھبیس سالہ خاتون، ریحانے جباری، کی ڈائری سے ایک اقتباس: -  ’’پولیس ہیڈ کوارٹر میں تین جسیم مرد ایک چھوٹے سے کمرے میں میرے منتظر تھے۔ اندر داخل ہوتے ہی انہوں نے مجھے فرش پر بیٹھنے کو کہا اور مجھے ایک کرسی کے ساتھ ہتھکڑیوں سے باندھ دیا۔باری باری وہ مجھ پہ چلاتے رہے:- تفصیل سے پڑھئے

 پہلے کبھی اخبارات کا دور تھا جو کچھ ہوتا تھا سامنے آ جاتا تھا لیکن آج کر سائنس و ٹیکنالوجی نے ہم کو سوشل میڈیا کا زمانہ دے دیا نا جانے آگے چل کر اور کیا کیا ایجاد ہو گا ناجانے اس لیے کہا کہ ہم لوگ صرف فرقہ واریت ، لسانیت اور نہ جانے کن کن لڑائی جھگڑوں میں پڑَ ہوئے ہیں اور جن کو ہم اپنا دشمن کہتے ہیں وہ سائنس و ٹیکنالوجی میں دن با دن ترقی کرتے جا رہے ہیں ہم اس معاملے میں کوئی مقابلہ نہیں کر پا رہے -  تفصیل سے پڑھئے

لگتا ہے جیسے ہم جارج آرویل کے ناول 1984کی بہت سی ترامیم اور اضافہ شدہ کہانی کا حصہ بن گئے ہوں۔
ایک دن ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تم مہاجر ہو۔ ابھی ہم تصور میں مہاجریت کا چوڑی دار پے جامہ چڑھانے کی تگ ودو میں ہوتے ہی ہیں کہ اگلے روز حکم جاری ہوتا ہے، تم اردو بولنے والے سندھی ہوں، اور ہمارا تصور اجرک اوڑھ لیتا ہے۔
پھر کوئی طلوع ہوتی صبح ہماری پہچان مہاجر ہوجاتی ہے، مگر ایک نیا دن اردو بولنے والے سندھی کی شناخت دے دیتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
پہلے گانے والوں کو میراثی، بھانڈا ، کنجر اور ڈوم کہا جاتا تھا اور میراثیوں کو یہ جرات نہ ہوتی تھی کہ وہ معزز لوگوں کے ساتھ کسی چارپائی یا کرسی پر بیٹھیں بلکہ انہیں نیچے بیٹھنا پڑتا تھا۔ آج میراثیوں اور کنجروں کو فنکار اور گلوکار کا نام دیا جاتا ہے اور ان کی ایسی آؤ بھگت کی جاتی ہے جو کسی بڑے سے بڑے عالم دین اور بزرگ کی بھی نہیں ہوتی۔ تفصیل سے پڑھئے
آج کل راجہ داہر کی اولادیں جو خود کو لبرل بھی کہتے ہیں اور دوسرے لفظوں میں " کھوٹے سکے " یہ شور مچا رہے ہیں کہ کاش کہ عربوں نے ہم پر حملہ نہ کیا ہوتا اور آج ہم عرب کلچر کا شکار نہ ہوتے ، عرب کلچرکا یلغار شاید ان کو پاکستان کو الباکستانی کی حد تک نظر آتا ہے اس کے علاوہ باقی جو کلچر کی بیلے پاکستان پر چڑھی ہوئی ہیں وہ تو انہوں نے ہڑپہ اورموہنجوداڑو کے کھنڈرات سے حاصل کی ہیں، تفصیل سے پڑھئے
کافی کے بیج، منبر، باغات، یونیورسٹی اور آبزرویٹری میں کیا چیز مشترک ہیں؟ لیونارڈو ڈی ونچ اور فیبونیسی کو پرواز اور نمبرز کا خیال کہاں سے آیا؟ یہ سب اس پُرکشش مسلم تہذیب کی کرامات ہیں جس وقت یورپ تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا تو مسلمان سائنسی اور ثقافتی دریافت کے روشن باب تحریر کر رہے تھے۔  تفصیل سے پڑھئے
 یہ طرزعمل ہرگز ٹھیک نہیں کہ محض آپ جس کو پسند کرتے ہیں وہ بالکل ٹھیک اور جس سے آپ اختلاف کرتے ہیوہ بالکل غلط ہو۔ ہر انسان میں خرابی اور خوبی کی گنجائش ہوتی ہے اور ہمیں اِس کا اعتراف کرلینا چاہیے۔
کسی سیانے نے کہا تھا کہ بعض اوقات ہم کسی اچھے کام کی تعریف بھی صرف اس لیے نہیں کرتے کیونکہ یہ کام ہماری پسندیدہ سیاسی پارٹی نے نہیں کیا ہوتا اور بعض اوقات کسی کے غلط اقدام پر بھی اس لیے چپ رہتے کیونکہ یہ کام کرنے والے کو ہم اپنے دماغ میں ہیرو کا درجہ دے کر تمام غلطیوں سے ہمیشہ کے لیے پاک کرچکے ہوتے ہیں ۔ تفصیل سے پڑھئے
مسلمان کے بھیس میں چھپے ھوئے قادیانی کافر کی کی پہچان کیسے کریں ؟
مسلمانوں کے بیچ دھوکے سے چھپ کر رھنے والے کافر زندیق احمدی قادیانیوں کو پہجاننے کا آسان طریقہ، مکمل پوسٹ پڑھئے اور خود سے آگے ضرور شیئر کریں ! بھائی سچی بات نے کسی ممبر کے سوال پر قادیانیوں کی کچھ نشانیاں بیان کری تھیں سو میں نے سوچا اس پر تھوڑی مفصل بات ھوجائے اور دیگر نشانیاں بھی عوام الناس کی معلومات میں اضافہ کے لئے مکمل تفصیل سے بیان کری جائیں ! تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
2000 میں ہمارے ہاں انٹرنیٹ صارفین کی تعداد 1لاکھ 33 ہزار900 تھی جو اس سال کے شروع تک 2کروڑ91 لاکھ 28 ہزار970 ہوچکی تھی۔  گزشتہ دنوں ایک ادارے نے رائے عامہ کا جائزہ لینے کی خاطر ایک سوال کیا، اگر انٹرنیٹ ختم ہوجائے تو آپ کی زندگی کیسی ہوگی؟ تفصیل سے پڑھئے
 میرے محلے میں ایک صاحب رہتے ہیں جن کا نام کثرتِ رائے سے ’’چاچا چَوَ ل‘‘ منظور ہوچکا ہے۔چاچے کا طریقہ واردات بڑا نرالا ہے، عموماً لوگ قرض مانگنے والوں سے کنی کتراتے ہیں ،لیکن چاچا ،قرض مانگنے والوں کی تلاش میں رہتاہے۔اس کی کوشش ہوتی ہے کہ ہر شخص اس سے قر ض مانگے۔ابھی تک محلے کے تین سو سے زائداس سے قرض لے چکے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
نوبل امن ایوارڈ حاصل کرنے کے لیے امن کے فروغ کی نہیں بس ’ڈارلنگ آف ویسٹ‘‘ بننے کی ضرورت ہے۔ اگر آج الفریڈ نوبیل زندہ ہوتا تو ایسے بلنڈرز کو دیکھنے کے بعد شاید اِس ایوارڈز کا ہی خاتمہ کردیتا۔ الفریڈ نوبل کا تو متمع نظر ہی کچھ اور تھا وہ تواپنے دامن پر لگا دھبہ دھونا چاہتا تھا لیکن اگر اسے معلوم ہوتا کہ یہی کھیل دوبارہ کھیلا جائے گاتو شاید وہ اپنی وصیت تبد یل کر لیتا اور کسی بہتر چیز کا خیال دل میں لاتا۔  تفصیل سے پڑھئے
آج سے 50 سال قبل یعنی 1964ء میں دنیا کا نقشہ آج سے بہت مختلف تھا اور کوئی یہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ انٹرنیٹ اور موبائل فون جیسی ٹیکنالوجی بھی ایک دن اس دنیا میں آ سکتی ہے۔ یقیناً کوئی عام شخص ان چیزوں کا تصور بھی نہیں کر سکتا تھا مگر سائنس فکشن کے مشہور مصنف آئزک ایزیموو نے آنے والے وقت کو اپنی چشم تصور سے دیکھ کر کچھ پشین گوئیاں سال 1964 ءمیں مشہور اخبار ’نیو یارک ٹائمز‘ میں شائع کی تھیں۔ اگر ہم اپنی آج کی دنیا پر نظر ڈالیں تو آئزک کی پشین گوئیاں حیرت انگیز حد تک درست ثابت ہو چکی ہیں۔ آئیے 50 سال قبل کہی گئی اس کی کچھ باتوں کو دیکھتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
جاوید ہاشمی سے تحریک انصاف کا سلوک دیکھ کر ایک ایسے نئے پاکستان کی شکل و صورت واضح ہو جاتی ہے جہاں اصولی، پارلیمانی اور جمہوری سیاست کرنے والوں، عمران خان پر تنقید کرنے والوں اور ضمیر کی آزادی رکھنے والوں کے لئے تحریک انصاف اورنئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں ہو گی۔  تفصیل سے پڑھئے
’’دوستوضسکی‘‘ کا شمار دنیا کے عظیم ترین کہانی کاروں میں کیا جاتا ہے۔ اس کی کتابیں اب تک 72 زبانوں میں ترجمہ ہو چکی ہیں۔ اس کا ایک ناول ’’Crime and Punishment‘‘ (جرم و سزا) پاکستان کی موجودہ دھرنوں والی صورت حال کا عکس دکھائی دیتا ہے۔ ’’دوستو ضسکی‘‘ ایک عجیب و غریب وباء کا ذکر کرتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے

ہندوستان میں انگریز کی آمد و قبضہ

انکار خدا بھی کر بیٹھو انکار محمد بھی لیکن جانباز تماشہ دیکھیں گے محشر میں نافرمانوں کا قلم اور زبان سے نکلے ہوئے الفاظ، تاریخ کو جنم دیتے ہیں، قومیں جب حقوق کی میز پر آمنے سامنے بیٹھتیں ہیں تو وہاں ووٹ نہیں، لاشیں شمار کی جاتی ہیں۔ جس قوم کی لاشیں اپنے حقوق کے حصول میں زیادہ ہوں گی وہی ہر اول دستہ کہلائے گی۔  تفصیل سے پڑھئے
اسرائیل کی تاریخ 1917 سے دنیا بھر میں اسرائیل کے جنگی جرائم کے خلاف اٹھنے والے احتجاجی مظاہروں کو دیکھا جائے تو ایک دلچسپ صورتحال ابھرتی ہے یعنی حکومتوں اور عوام کے درمیان ذہنی دراڑ سی نظر آتی ہے یعنی عوامی حلقوں میں فلسطین کے مظلوم عوام کے لیے ہمدردی، اتحاد اور یگانگت ہے جب کہ بہت سے بڑے ہاتھیوں کی حکومتیں اپنی سونڈوں کو ایک ہی سمت میں ہلا رہی ہیں اسرائیل نوازی کی یہ مہم دنیا بھر میں کیا پیغام دے رہی ہے آیندہ آنے والے چند برسوں میں یہ بھی واضح ہو جائے گا۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

دریائے سندھ سے نکلنے والی نارا کینال، شاید پاکستان کی وہ واحد کینال ہے جو بل دیتے ہوئے سانپ کی طرح عربی سمندر (بحر عرب) تک جاتی تھی، لیکن اب وہ سندھ کے حب الوطنی کی علامتی کردار ماروی کی قید والے شہر عمر کوٹ کے علاقے ڈھورو نارو کے مقام تک قید ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
بنیادی طورپر توپ کاپی ایک بہت بڑا محل تھا۔ سلطنت عثمانیہ کے 625 سالہ دور حکومت میں سے 400سال تک (1465 تا 1856) توپ کاپی محل عثمانی سلاطین کی سرکاری رہائش گاہ رہی۔ یہ محل نہ صرف سرکاری رہائش گاہ تھی بلکہ سلطنت کی تمام سرکاری تقریبات بھی یہاں منعقد ہوتی تھیں۔یہ توپ کاپی محل سمندر کے کنارے شاخ زریں(گولڈن ہارن) کی طرف بنایا گیا تھا۔ لیکن اب اس محل کی اہمیت ایک میوزیم سے زیاد ہ نہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
مسجد شاہ چراغ کی تعمیر کے لیے نواب زکریا کی والدہ بیگم جان نے اپنے گہنے وقف کئے- لاہور میں مزارات کے ساتھ مسجد کی تعمیر کی روایت خاصی پرانی ہے۔ مزارات کے ساتھ موجود مساجد ان ہی صاحب مزار کے نام سے منسوب ہو جاتی تھیں، جیسا کہ مسجد داتا دربار ؒ ، مسجد شاہ محمد غوثؒ اور اسی طرح کی کئی اور مساجد بھی صاحب مزار ہی کے نام سے جانی جاتی ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
لوگ حقائق جاننا چاہتے ہیں لیکن وطن عزیز میں سچ کو جھوٹ کے پردوں میں چھپا کر پیش کئے جانے سے حقیقت ہمیشہ پس ِدیوار رہی ہے۔ بیت المقدس بلا شبہ اہل ایمان کے ایمان کا معاملہ ہے لیکن جو احتجاج ان دنوں فلسطین کے نام پر پاکستان میں ہو رہا ہے ، دیکھنا یہ ہے کہ کیا بیت المقدس کی آزادی کیلئے مطلوبہ عمل کیا یہی ہے !! بیت المقدس 9 دسمبر 1917ء کو برطانیہ اور بعدازاں اسرائیل کے قبضے میں آیا۔  تفصیل سے پڑھئے
قائداعظم کی زندگی کا ایک سچا واقعہ جسے پڑھ کے آنکھ میں آنسو آ جائیں گے- " اگست کے اواخر میں قائد اعظم پر اچانک مایوسی کا غلبہ ہو گیا ایک دن میری آنکھوں میں غور سے دیکھتے ہوئے انہوں نے کہا "فاطی اب مجھے زندہ رہنے سے کوئی دلچسپی نہیں۔۔۔ ۔جتنی جلد چلا جاوٍں۔۔۔ ۔ اتنا ہی بہتر ہے " یہ نہائت مایوس کن اور منحوس الفاظ تھے ،میں دھک سے رہ گئی یوں جیسے میں نے بجلی کا ننگا تار پکڑ لیا ہو پھر بھی میں نے صبر و ضبط سے کام لیا اور کہا "جن ، تم بہت جلد ٹھیک ہو جاوگے۔ڈاکٹروں کو پوری امید ہے " تفصیل سے پڑھئے
دوسری جنگ عظیم کے دوران ہٹلر کے ہاتھوں یہودیوں کے قتل کو افسانوی انداز میں پیش کیا گیا۔ ہزاروں نظمیں، ڈرامے اور ناول لکھوائے گئے اوراس واقعے کو ’’ہولوکاسٹ‘‘ کا نام دیا گیا۔ ہولو کاسٹ کے مرنے والوں کو اس قدر مقدس درجہ عطا کیا گیا کہ ان کے خلاف لب کشائی کرنے والا نفرت پھیلانے والا قرار دے کر قابل تعزیر بنادیا گیا۔ ہولوکاسٹ کی نہ صرف تردید کرنا جرم ٹھہرا، بلکہ یہودیوں کی جانب سے بیان کردہ ’’مقتولین‘‘ کی ساٹھ لاکھ تعداد میں چند ایک کی کمی کرنا بھی قابل سزا جرم بنا دیا گیا۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
جابر بن حیا ن کو دنیا کا پہلا مستند کیمیا دان خیال کیا جا تا ہے ۔ اس کی اندازاََتاریخ پیدائش 731 عیسوی �اور مقام پیدائش طوس یا خراسان تھا ۔ دوا سازی اور دوا فروشی اس کا ذریعہ روزگار تھا ۔ حکومت سے بغاوت کی پاداش میں اسے قید اور پھر قتل کر دیاگیا ۔ شیرخواری میں ہی باپ کا سایہ سر سے اٹھ گیا تو ماں نے اپنے معصوم بچے کی پرورش اور تعلیم و تر بیت کی فکر کی ۔ جابر بن حیان نے کچھ ہوش سنبھالی تو ماں اسے کوفہ کے مضافات میں بدوئوں کے ساتھ پرورش پانے کے لئے بھیج دیا ۔ تفصیل سے پڑھئے
'ﺻﺒﯿﻎ ﺑﻦ ﻋﺴﻞ'' ﺩﺍﺭﻣﯽ ﺳﻨﻦ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺮ ﻣﻘﺪﺳﯽ ﻭﺍﺑﻮﺍﻟﻘﺎﺳﻢ ﺍﺻﺒﮩﺎﻧﯽ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺤﺠﮧ ﺍﺑﻦ ﺍﻻﺑﻨﺎﺭﯼ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻤﺼﺎﺭﻑ ﺍﻭﺭ ﻻﻟﮑﺎﺋﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﺴﻨۃ ﺍﻭﺭ ﺍﺑﻦ ﻋﺴﺎﮐﺮ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﺩﻣﺸﻖ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﯾﺴﺎﺭ ﺳﮯ ﺭﺍﻭﯼ : ﺭﺟﻞ ﻣﻦ ﺑﻨﯽ ﺗﻤﯿﻢ ﯾﻘﺎﻝ ﻟﮧ ﺻﺒﯿﻎ ﺑﻦ ﻋﺴﻞ ﻗﺪﻡ ﺍﻟﻤﺪﯾﻨۃ ﻭﮐﺎﻥ ﻋﻨﺪﮦ ﮐﺘﺐ ﻓﮑﺎﻥ ﯾﺴﺄﻝ ﻋﻦ ﻣﺘﺸﺎﺑﮧ ﺍﻟﻘﺮﺍٰﻥ ﻓﺒﻠﻎ ﺫٰﻟﮏ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﻓﺒﻌﺚ ﺍﻟﯿﮧ ﻭﻗﺪ ﺍﻋﺪﻟﮧ ﻋﺮﺍﺟﯿﻦ ﺍﻟﻨﺤﻞ ﻓﻠﻤﺎ ﺩﺧﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﻗﺎﻝ ﻣﻦ ﺍﻧﺖ ﻗﺎﻝ ﺍﻧﺎ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﺻﺒﯿﻎ ﻗﺎﻝ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﷲ ﺗﻌﺎﻟٰﯽ ﻋﻨﮧ ﻭﺍﻧﺎ ﻋﺒﺪﺍﷲ ﻋﻤﺮ ﻭﺍﻭﻣﺎ ﺍﻟﯿﮧ ﻓﺠﻌﻞ ﯾﻀﺮﺑﮧ ﺑﺘﻠﮏ ﺍﻟﻌﺮﺍﺟﯿﻦ ﻓﻤﺎ ﺯﺍﻝ ﺑﻀﺮﺑﮧ ﺣﺘﯽ ﻓﻤﺎ ﺯﺍﻝ ﯾﻀﺮﺑﮧ ﺣﺘﯽ ﺷﺠﮧ ﻭﺟﻌﻞ ﺍﻟﺪﻡ ﯾﺴﯿﻞ ﻋﻠﯽ ﻭﺟﮩﮧ ﻓﻘﺎﻝ ﺣﺴﺒﮏ ﯾﺎ ﺍﻣﯿﺮ ﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﻭﺍﷲ ﻓﻘﺪ ﺫﮬﺐ ﺍﻟﺬﯼ ﺍﺟﺪ ﻓﯽ ﺭﺃﺳﯽ 1؎۔ ﻭﻟﻨﺼﺮ ﻭﺍﺑﻦ ﻋﺴﺎﮐﺮ ﻋﻦ ﺍﺑﯽ ﻋﺜﻤﺎﻥ ﺍﻟﻨﮩﺪﯼ ﻋﻦ ﺻﺒﯿﻎ ﮐﺘﺐ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﻮﻣﻨﯿﻦ ﺍﻟﯽ ﺍﮬﻞ ﺍﻟﺒﺼﺮۃ ﺍﻥ ﻻﺗﺠﺎﻟﺴﻮﺍ ﺻﺒﯿﻐﺎ ﻗﺎﻝ ﺍﺑﻮﻋﺜﻤٰﻦ ﻓﻠﻮﺟﺎﺀ ﻭﻧﺤﻦ ﻣﺎﺋۃ ﻟﺘﻔﺮﻗﻨﺎﻋﻨﮧ    تفصیل سے پڑھئے
شہر لاہور کی نمائندہ تاریخی‘ ثقافتی عمارات میں ایک اہم ترین عمارت بادشاہی مسجد ہے۔ یہ مسجد اپنی تعمیر کے ابتدائی ایام میں شاہی مسجد کہلائی اور اس کے بعد اہل لاہور میں ایک طویل عرصہ جامع مسجد کے نام سے بھی جانی گئی۔ تعمیرات میں فنون لطیفہ کا ایک نایاب نمونہ ہونے کے ساتھ ساتھ یہ اپنی تعمیر کے بعد تین سو برس سے زائد عرصہ غیر متنازعہ طور پر نمازیوں کی تعداد کے حوالے سے دنیا کی سب سے بڑی مسجد مانی گئی۔ تفصیل سے پڑھئے
1973ء میں عین اس وقت جب عرب اور اسرائیل میں جنگ چھڑنے والی تھی، امریکی سنیٹر اور اسلحہ کمیٹی کا سربرا اسرائیل آیا، اور اسرائیلی وزیراعظم "گولڈہ مائر" سے ملاقات کی گولڈہ مائر نے بڑی چالاکی سے اسلحہ خریدنے کا معاھدہ کرلیا- اس کے بعد اسلحہ خرید لیا اور عربوں سے جنگ شروع ھوگئ- تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کہا جاتا ہے کہ ٹائی ٹينک اپنے وقت کا سب سے بڑا اور مضبوط ترین بحری جہاز تھا۔ جس کے بنانے والوں نے دعویٰ کيا تھا کہ "اگر خدا بھی چاہے تو اسے ڈبو نہیں سکتا۔۔!" (نعوذ باللہ) ليکن بدقسمت جہاز اپنا پہلا ہی سفر مکمل نہ کر سکا۔
ٹائی ٹينک شمالی بحر اوقيانوس کے تاريک پانيوں کا مسافر تھا جس کی منزل نيويارک تھی۔ يہ جہاز آرام و آسائش کی ايک يادگار دنيا تھی۔ جس کو بنانے اور سجانے میں تین سال کا عرصہ اور 75 لاکھ ڈالر کی لاگت آئی۔ تفصیل سے پڑھئے
فری میسن  یہودیوں کی ایک نہایت درجہ خفیہ تنظیم ہے۔ اس کا قیام 1771ء کو برطانیہ کی کاونٹی لنکا شائر میں ہوا۔ اس کے دفاتر دنیا بھر کے طول و عرض میں پھیلے ہوئے ہیں۔ ان دفاتر کو یہودی لاجز (Lodges) کے نام سے پکارتے ہیں۔ اس تنظیم کے پاس کھربوں ڈالرز کے فنڈز ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ابھی کتب خانے میں آیا ہوں۔ بارش تھم نہیں رہی ،جو دو گھڑی رکی تو پھر ٹپکنے لگی .. نیند آئی ہوئی ہے .. ہاآ! ایک لمبی نیند کے لیے کتنی بھاگ دوڑ کرنا پڑتی ہے زندگی بھر اچھل کود کرتا ہے انسان! ڈنڈر پیلتا ہے، پاپڑ بیلتا ہے … پھر کہیں جا کر ایک گہری نیند میسر آتی ہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
گزشتہ کچھ دنوں سے ہمارے دوست مسٹر کلین(عمران خان ) صبح صبح کوئٹہ ہوٹل میں ناشتہ کرتے پائے جارہے تھے۔ ہم نے کئی دفعہ مدرسے جاتے ہوئے موصوف کو وہاں آملیٹ پراٹھے سے ’’انصاف‘‘ کرتے ہوئے دیکھا۔ ہم سمجھے شاید یہ ’’تحریک انصاف‘‘ کا اثر ہے۔ آج کل مسٹر کلین (عمران خان ) کے ارد گرد اکثر تحریک انصاف کے ’’انقلابی‘‘ ہی دکھائی دیتے ہیں۔ وہ موجودہ نظام کے خلاف مسٹر موصوف کی نان اسٹاپ تقریریں سنتے اور آخر میں شکرانے کے طور پر ان کا چائے پراٹھے کا بل ادا کرکے جاتے ہیں۔ مسٹر کلین  (عمران خان ) جیسے جہاں دیدہ اور سرد و گرم چشیدہ دانشور کو اور کیا چاہیے۔ تفصیل سے پڑھئے
میاں نزیر حسین دہلوی صاحب کی مجاھدین ۱۸۵۷ء سے غداری اور گورنمنٹ انگلشیہ کے ساتھ وفاداری- میاں صاحب کا سوانح نگا فضل حسین بہاری، میاں صاحب کی سوانح الحیات بعد المماۃ میں“گورنمنٹ انگلشیہ کے ساتھ وفاداری” کا عنوان قائم کر کے لکھتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
پیکر علم وعمل امام اعظم ابوحنیفہ--- امام اعظم ابو حنیفہ جس طرح علم وفضل اور فقہ میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اسی طرح اخلاق وکردار کے لحاظ سے بھی آپ یکتائے روزگار تھے‘ آپ کی فکر اور علمی وسعت نے قیامت تک کے لوگوں کے لئے بہترین لائحہ عمل اور بے مثال اخلاق عطاء کیا ہے‘ یوں تو امام اعظم ابوحنیفہ کے عظیم اخلاق وکردار کو بیان کرنے کے لئے تاریخ وتذکرہ کی کتابوں سے متعدد واقعات کو بطور استشہاد اور مثال پیش کیا جاسکتا ہے لیکن ان کے اخلاق وکردار کی جو تصویر خلیفہ ہارون الرشید کے دربار میں قاضی القضاة امام ابو یوسف نے پیش کی ہے‘ اس کی جامعیت اور افادیت اندازے سے باہر ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
ٹیپو سلطان تاریخ اسلام کا وہ لازوال کردار ہے جس پر عالم اسلام تا قیامت نازاں رہے گا ۔ مسلم مورخ سچ لکھتا ہے کہ حضرت اقبال کے مردِ مومن کو اگر مجسم حالت میں دیکھنا مقصود ہو تو ٹیپو سلطان شہید اس کا بہترین نمونہ ہے۔ تاریخ عالم شاید ہی اس جری و اولوالعزم مسلم سلطان کی کوئی مثال یا نظیر پیش کر سکے گی۔ ٹیپو سلطان شہید نا صرف ایک مردِ مجاہد تھا بلکہ حقیقی معنیٰ میں حضرت اقبال کا وہ مردِ مومن تھا جو عالِم بھی تھا اور عابد بھی۔ ایک جری سپاہی اور بہترین سپہ سالار بھی تھا اور ایک بہترین حاکم و منتظم بھی۔ تفصیل سے پڑھئے
عمران خان کو چاہیے کہ نئے پاکستان میں نئی زبان میں نیا الزام لگائیں غیر ملکی ایجنٹ کہنا چھوڑیں اور بس یہ کہہ دیں کہ نئے پاکستان میں اِنسانی حقوق کا کوئی وجود نہیں ہو گا- تحریکِ انصاف کے سربراہ اور قائداعظم ثانی نے پاکستان کے اِنسانی حقوق کمیشن پر الزام لگایا ہے کہ وُہ پیسے باہر سے لیتے ہیں اور ملک میں بیرونی ایجنڈے پر کام کر رہے ہیں۔ عمران خان نے نئے پاکستان میں ایک بہت ہی پُرانی بات کر دی ہے۔ پاکستان میں سیاسی مخالفین کو غیر ملکی ایجنٹ یا غدار کہنے کی روایت اُس وقت سے موجود ہے جب یہ ملک بھی وجود میں نہیں آیا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
عباسی خاندان کی حکومت کا آغاز 132ھ میں ہوتا ہے، ابو العباس بن سفاح کو دنیائے اسلام کا خلیفہ تسلیم کر لیا جاتا ہے، عباسی سلطنت کی عمارت جن لوگوں نے کھڑی کی ان کے معماروں میں ایک نام ابو مسلم خراسانی کا ہے.
سارا خراسان اسکے حکم کا غلام تھا، سفاح و منصور نے اس سے بڑے بڑے معرکے سر کرواۓ، اس شخص کو بجا طور پر سلطنت عباسیہ کا بانی کہا جاتا ہے- تفصیل سے پڑھئے
اسکندریہ کے ساحل سے تقریباً ایک میل کی دوری پر واقع جزیرہ فاروس میں اس کی تعمیر280 قبل مسیح میں مکمل ہوئی، اسکندر اعظم نے جب 332 قبل مسیح میں مصر کو فتح کیا اور اسکندریہ شہر کی بنیاد رکھی تو اس جزیرہ تک ایک پل تعمیر کیا، البتہ اس مینار کی تعمیر بطلمونی اول کے دور میں شروع ہوئی- تفصیل سے پڑھئے
بیگم صاحب دختر شاہ جہاں اور بدنصیب عاشق - شاہ جہاں کی بڑی بیٹی بیگم صاحب بے حد حسین، خوش اندام اور باپ کی پیاری تھی، شاہ جہاں کو اپنی اس منظور نظر فرزند پر بے حد اعتماد تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
خلیفہ المنصور نے(۷۵۰ء میں)جب بغداد شہر کی بنیاد رکھی تو ساتھ ہی ایک دارلترجمہ بھی قائم کیا جس کا مقصد قدیم ایرانی، عبرانی، مصری اور شامی زبانوں کے مسودات کو عربی زبان میں منتقل کرنا تھا. ھارون الرشید (٨٠٩-٧٨٦) کے دور میں اس ادارے کو مزید فروغ دیا گیا اور ہندوستانی، یونانی اور رومی زبانوں کے مسودات کے تراجم کا نیا سلسلہ شروع ہوا-
دسویں صدی عیسوی میں قیروان (موجودہ تیونس کا ایک شہر) کی جامع مسجد کے لیے قرآن مجید کا ایک انتہای نادر اور قیمتی نسخہ تیار کیا گیا،اس کی تیاری کے لیے مخصوص طرز پر رنگا نیلے رنگ کا کپڑا استعمال کیا گیا،اسکو سیاہی کی بجاے پگہلے سیال سونے سے لکہا گیا،اور آیات کے درمیان وقف کی علامات ڈالنے کے لیے آکسیڈایزڈ چاندی استعمال کی گئ،اسکو خط کوفی اول میں لکہا گیا (عربی زبان لکہنے کے لیے سب سے پہلے یہی خط استعمال کیا گیا عہد رسالت اور خلفہ راشدین کے عہد کے تمام مسودات اسی خط میں ہیں) چونکہ شمالی افریقہ کا یہ علاقہ اس وقت فاطمی خلافت(909-1171)کے ماتحت تہا اس لیے اندازہ ہے کہ اس کی تیاری کا اہتمام کسی فاطمی خلیفہ کی طرف سے گیا ہوگا۔
اس کا زیادہ تر حصہ اب بھی تیونس میں محفوظ ہے البتہ ایک جلد ترک عثمانی خلفاء کے دور میں استنمبول منتقل کی گئ یہ عکس اسی جلد کے ایک صفحے کا ہے۔

پندرہ صدیوں پر محیط رومی سلطنت کا آخری ستون قسطنطنیہ 29 مئ 1453ء کو سلطنت عثمانیہ کے ساتویں حاکم سلطان محمد دوم (1432–1481) کے ھاتھوں گرا، واضح رہے کہ یہ وہی شہر ہے جس کو مشہور حدیثِ قسنطنیہ مین رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم نے قیصر کا شہر کہا تھا اور جس پر سب سے پہلے فوج کشی کرنے والے لشکر کو جنت کی بشارت دی تھی،حضرت معاویہ کے دور حکومت میں پہلا اسلامی لشکر اس شہر میں داخل ہوا لیکن یہ شہر اموی اور عباسی عہد خلافت میں فتح نہ کیا جا سکا اور بدستور مشرقی سلطنت رومہ (بازنطین) کا دارلخلافہ رھا،آخر کار اِکیس سالہ سلطان محمد دوم نے اسے تریپن دن کے قلیل محاصرے کے بعد فتح کیا جس کے بعد یہ استنبول کے نام سے چھ صدیوں پر محیط سلطنتِ عثمانیہ(1299-1922)کا دارلخلافہ رہا۔
معلومات فن پارہ؛
مشہور فرانسیس مستشرق مصور بینجمن کونسٹینٹ نے اپنے 1876 میں تخلیق کردہ اس فن پارے میں سلطان محمد دوم کو قسطنطنیہ میں فتح کے بعد داخل ہوتے دکھایا ہے۔

جلال الدین ملک شاہ سلجوقی دولت سلجوقیہ کے تیسرے حاکم نے اپنے شاہی منجم عمر خیام کو لکھا"میرے پاؤں میں موچ آ گئی ہے اور میں کوئی کام نہیں کر سکتا، امور سلطنت رک گئے ہیں، براۓ مہربانی کسی اچھے طبیب کا پتہ بتایئے"
عمر خیام نے بادشاہ کو جواب میں لکھا "ظل الہی! آپ امور سلطنت کی انجام دہی کے لیۓ اپنا پاؤں نہیں، سر استعمال کریں۔
جاوید ہاشمی کی عظمت یہ ہے کہ وہ اپنی غلطیاں دہراتے نہیں، انہوں نے ایک آمر ضیاء الحق کا ساتھ دیا مگر پھر تمام عمر آمروں کی مخالفت کی، مسلم لیگ میں شامل ہوئے اور مشرف دور میں بغاوت کے مقدمات کا سامنا کیا، مسلم لیگ نواز کو چھوڑا تو تحریک انصاف میں شمولیت اختیار کی۔حکومت گرانے کی کوششوں اور پارلیمان پر حملہ کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے اپنی ہی جماعت سے بغاوت کی۔ جاوید ہاشمی جہاں گئے حریت فکر اور جمہوری سیاست کی ایک نئی داستان چھوڑ کر آئے ۔ تفصیل سے پڑھئے
بھارت اور چین کے درمیان سرحد کی طوالت 3500 کلومیٹر ہے۔ 1600 کلومیٹر طویل سرحد کا حصہ ہندوستان کی ریاست جموں و کشمیر اور چین کے صوبہ سنکیانگ اور تبت کو جدا کرتا ہے۔ یہ سرحدی لکیر1890ء کے عشرے میں برطانیہ اور چین کے درمیان معاہدے کا نتیجہ ہے۔ بھارت کی آزادی کے بعد چین نے یہاں کے 33 ہزار مربع کلومیٹر پر اپنی ملکیت کا حق ظاہر کیا تھا۔ 1954ء میں بھارت اور چین کے درمیان تجارتی روابط بڑھے تو اس علاقے کے 640 کلومیٹر کو دونوں جانب سے تسلیم کر لیا گیا، تفصیل سے پڑھئے
جب حضرت عُمر رضی اللہ تعلی عنہ کے وفات کا وقت آیا، تو سیدنا ؑعمر رضی اللہ تعلی عنہ زمین پر لیٹ گےٗ،
حضرت عبداللہ ابن عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے والد عمر رضی اللہ تعالی عنہ کا سر مبارک زمین سے اُٹھانا چایا، حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نےفرمایا، انسان اسی مٹی سے بنا ہوا ہے اور اسے واپساسی مْٹی میں جانا ہے، مجھے اِسی زمیں پر چھوڑدو۔ تفصیل سے پڑھئے

ام کلثوم رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم کی تیسری صاحبزادی تھیں۔ اکثر اہل سیر نے لکھا ہے کہ حضرت ام کلثوم بعثت نبوی سے چھ سال قبل پید اہوئیں۔ انکا نکاح بعثت نبوی سے پہلے عتیبہ بن ابولہب سے ہوا۔ جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم مبعوث ہوئے اور آپ نے لوگوں کو دعوت اسلام دینی شروع کی تو ابولہب اور اس کی بیوی آپ کے سخت دشمن ہوگئے اور انہوں نے حضور کو ستانے میں کوئی کسر اٹھا نہ رکھی۔ غیرت الہی جوش میں آئی اور سورۃ "تَبّت یَدا اَبی لھب وتب" نازل ہوئی۔ تفصیل سے پڑھئے
ان کارٹونز کے ذریعے فحش خیالات و رجحانات کو غیرمحسوس طریقے سے عام کرنے کی کوششیں کی جارہی ہیں۔ ساتھ ہی کثرت سے کارٹونز دیکھنے والے بچوں میں یہ مشاہدات ہوئے ہیں کہ ان میں اکثر بچے کاہلی کا شکار ہوتے ہیں۔
قرآن کریم میں ارشاد باری تعالیٰ ہے ترجمہ: اے ایمان والو! بچاؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہل و عیال کو (جہنم کی) آگ سے (التحریم66:6)ہر ماں کی اپنے بچوں سے بے شمار امیدیں وابستہ ہوتی ہیں کہ ان کے بچے بڑے ہوکر ایک کامیاب انسان بنیں اور دنیا وآخرت کی کامیابی سے ہمکنار ہوں اور اسی مقصد کے تحت اکثر بہنوں کی ساری جدوجہد‘ علم‘ اوقات اور سرمایہ کا اولین مرکز ان کا اپنا گھر ہوتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

حضرت عثمان بن عفّا ن رضی اللہ عنہ اسلام کے سابقین اولین میں سے ہیں ، اور عظیم قدر و منزلت کے مالک ہیں، انہوں نے اللہ کی راہ میں سخت تکلیفیں اٹھائیں،اس کے باوجود وہ نبی کریم کی محبت میں آگے بڑھتے گئے اور نبی کریم کی محبت ان سے بڑھتی گئی اور جب ابو لہب کے دوبیٹوں نے ( جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے داماد تھے)اپنے والدین کے حکم سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی دو صاحبزادیوں: رقیہ اور ام کلثوم رضی اللہ عنہما کو طلاق دے دی- تفصیل سے پڑھئے
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت عبداللہ بن سبّا اورمروان کی شرارتوں سے واقع ہوئی چنانچہ مصریوں کے اصرارپرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی ایک جماعت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اورگورنر مصرکی معزولی کامطالبہ کیاآپ نے فرمایاجس کو تم پسندکرتے ہو میں اسکو گورنر بنادیتا ہوں انہوں نے حضرت محمدبن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا- تفصیل سے پڑھئے
وہ دارالعلوم دیوبند کے قریب میں ایک محلے میں ایک امیر ھندو گھرانے میں پیدا ھوا تھا اور ھندؤں کے اس مکتبہ فکر سے تعلق رکھتا تھا جو سورج کی پوجا کرتے ھیں !بچپن گزرا تو جوانی شروع ھوئی ! بچپن کی طرح اس کی جوانی بھی نرالی تھی ، وہ ایک ھمدرد اور دیالو نوجوان تھا، ھر دم ھر وقت کسی کی مدد کو تیار ! مذھبی تعصب سے بالاتر،، محلے کی سب خواتین کو ماسی کہتا ،ان کے کام کرتا ! جوانی سے اس کا معمول تھا کہ وہ صبح دارلعلوم کے کنوئیں پر سورج طلوع ھونے سے تھوڑا پہلے آتا- تفصیل سے پڑھئے
یوں تو سبھی پرندے حضرت سلیمان علیہ السلام کے مسخر اور تابع فرمان تھے لیکن آپ کا ہُدہُد آپ کی فرماں برداری اور خدمت گزاری میں بہت مشہور تھا۔ اسی ہُدہُد نے آپ کو ملک سبا کی ملکہ ''بلقیس'' کے بارے میں خبر دی تھی کہ وہ ایک بہت بڑے تخت پر بیٹھ کر سلطنت کرتی ہے اور بادشاہوں کے شایانِ شان جو بھی سروسامان ہوتا ہے وہ سب کچھ اس کے پاس ہے مگر وہ اور اس کی قوم ستاروں کے پجاری ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
فاروق اعظم اور شیر خدا کی اُویس قرنی سے ملاقات کا عجیب واقعہ(رضوان اللہ تعالی علیہم اجمعین)
حضرت سیدناابوہریرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے، رحمتِ عالم صلَّی اللہ تعالیٰ علیہ وآلہ وسلَّم نے ارشاد فرمایا:''بےشک اللہ عزوجل اپنے بندوں میں سے ان کو زیادہ پسند فرماتا ہے جو مخلص ، پر ہیز گار اور گمنام ہوتے ہیں ، جن کے چہرے گرد آلود ، بھوک کی وجہ سے پیٹ کمر سے ملے ہوئے- تفصیل سے پڑھئے
قارون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے چچا ''یصہر'' کا بیٹا تھا۔ بہت ہی شکیل اور خوبصورت آدمی تھا۔ اسی لئے لوگ اُس کے حسن و جمال سے متاثر ہو کر اُس کو ''منور''کہا کرتے تھے۔ اس کے ساتھ ساتھ اُس میں یہ کمال بھی تھا کہ وہ بنی اسرائیل میں ''توراۃ'' کا بہت بڑا عالم، اور بہت ہی ملنسار و بااخلاق انسان تھا۔ اور لوگ اُس کا بہت ہی ادب و احترام کرتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
چنگیز خان دُنیا کی تاریخ کا ایک منفی کِردار ہے جِس نے لاکھوں لوگوں کو موت کے گھاٹ اُتارا۔اُسے قتل و غارت دیکھ کر مزا آتا تھا۔ہٹلر کی طرح چنگیز خان پر بھی کبھی کِسی نے فخر کا اِظہار نہیں کیا تھا۔
لیکن نئے زمانے میں سب انداز بدلے گئے ہیں۔ہمارے ہاں ایک صاحب نے فرمایا تھا کہ اُنکا ہیرو مُحمد بِن قاسم نہیں ہے (کیونکہ وہ تو بیرونی حملہ آور تھا) بلکہ اُنکا ہیرو راجہ داہر تھا کیونکہ وہ مُقامی باشندہ اور سندھ دھرتی کا بیٹا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
اپنے یہاں رواج تھا کہ دولہے کو صحن میں چوکی پر بٹھاتے ھیں اور سلامی شروع ھوتی ھے،، تیل شیل ملا جاتا ھے،،وٹنا ملا جاتا ھے،اس زمانے میں شیمپو جیسی نحوست ابھی ایجاد نہیں ھوئی تھی،، اس کے بعد ماشکی چھت کے اوپر سے پانی دولہا پر گراتا ھے اور دولہا جو کپڑے پہن کر بھی ننگا ھوتا ھے، آخر میں پانی ھتھیلیوں میں بھر کر اپنے چاروں طرف کھڑے لوگوں پر پھینکتا ھے تا کہ اللہ پاک انہیں بھی اس پانی کی برکت سے جلد دلہن نصیب کرے -  تفصیل سے پڑھئے
عمر خیام نیشاپور (ایران) میں۹۳۰۱ء میں پیدا ہوئے۔ آپ ایک عالی دماغ فلسفی اور شاعر ہونے کے ساتھ ساتھ علم فلکیات اور ہیئت کے زبردست عالم، ماہر ریاضی دان، شمسی اور قمری تاریخوں کی تحقیق کرکے ان میں مفید اصلاحات کرنے والے، دونوں قسم کی تاریخوں میں مطابقت پیدا کرنے کا طریقہ دریافت کرنے والے ماہر موسمیات، شمسی مہینوں کے دنوں کا تعین کرکے درست کرنے والے، دینی کاموں کے لئے قمری سال اور سرکاری دفاتر میں شمسی سال کو حکومت کے ذریعے رائج کرانے والے، لیپ سال(Leap Year) کے موجد، ادیب اور مصنف تھے۔ یاد رہے لیپ سال میں فروری کے۲۹دن ہوتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
روایت ہے کہ حضرت داؤد علیہ السلام کی قوم کے ستر ہزار آدمی ‘ عقبہ ‘ کے پاس سمندر کے کنارے ‘ ایلہ ‘ نامی گاؤں میں رہتے تھے اور یہ لوگ بڑی فراخی اور خوشحالی کی زندگی بسر کرتے تھے۔ اللہ تعالیٰ نے ان لوگوں کا اس طرح امتحان لیا کہ سینچر کے دن مچھلی کا شکار ان لوگوں پر حرام فرما دیا اور ہفتے کے باقی دنوں میں شکار حلال فرما دیا - تفصیل سے پڑھئے
سید عطاء اللہ شاہ بخاری کی پیدائش 23 ستمبر 1882کو گجرات کے علاقے ناگڑیاں شریف میں حافظ سید ضیاء الدین کے ہاں ہوئی ۔جو خود بھی ایک بڑے عالمِ دین تھے۔ایک دینی گھرانے میںپیدا ہونے والے عطاء اللہ شاہ بخاری نے ابتدائی تعلیم اپنے والد کے زیر نگرانی حاصل کی دس سال کی عمر میں حفظ قرآن کیا ۔ تفصیل سے پڑھئے

نور الدین زنگی سلطنت کے بانی عماد الدین زنگی کا بیٹا تھا جس نے تاریخ میں بڑا نام پیدا کیا۔ نور الدین فروری 1118ء میں پیدا ہوا اور 1146ء سے 1174ء تک 28سال حکومت کی۔ تفصیل سے پڑھئے
حضرت عمیر بن سعدؓ خوبیوں میں حضرت سعید بن عامرؓ کے جڑواں ہیں۔  مسلمانوں نے انھیں ’’ اپنی ہی طرز کا آدمی ‘‘کا لقب دے رکھا تھا۔
قارئین کرام! آپ کے لیے تو یہی کافی ہے کہ آپ ایک ایسے شخص کا تذکرہ پڑھ رہے ہیں جس کو صحابہ نے اپنے فضل و فہم اور نورو فراست کے باوجود ’’اپنی طرز کا آدمی‘‘ کا لقب دے رکھا تھا۔ ان کے والد حضرت سعد القادریؓ رسول اللہﷺ کے ساتھ غزوۂ بدر اور بعد کے غزوات میں شریک رہے اور اس دوران اپنے عہد کو وفا کرتے رہے یہاں تک کہ جنگ قادسیہ میں جام شہادت سے شادکام ہوئے۔تفصیل سے پڑھئے
تازہ سروے کے مطابق لاہور میں مقیم 80 فیصد لوگ پردیسی ہیں۔ ہم سمجھتے تھے کہ لاہور ایک سرائے ہے جہاں پاکستان کے ہر شہر سے لوگ رہنے کے لئے آتے ہیں، پتا چلا کہ یہ تو شاہ کوٹ کے روٹ کی وہ کھٹارا بس ہے جس کے ہر کونے پر کوئی نہ کوئی چمٹا ہوا ہے۔ کچھ کو سیٹ مل چکی ہے کچھ کھڑے ہوئے ہیں، کچھ بس کے اندر ہیں ، کچھ بے بس ہیں بالکل اس لڑکی کی طرح جو بس سٹاپ پر کھڑی تھی۔ بس قریب آکر رکی تو کھڑکی کے قریب بیٹھے ایک صاحب نے اپنے ساتھی کو متوجہ کرتے ہوئے کہا ’’ دیکھو ! کتنی خوبصورت لڑکی ہے۔‘‘تفصیل سے پڑھئے
ملالہ یوسفزئی کو نوبل انعام ملنا پاکستان کیلئے قابل فخر بات ہوگیلیکن عوام میں کچھ اور قسم کے پریشان کن سوال اٹھنا شروع ہوگئے ہیں مثلاً یہ کہ کیا اسرائیل اور امریکہ عمران خان سے مایوس ہو گئے؟ کیا وائٹ ہاؤس نے پاکستان کی اگلی وزیراعظم ملالہ کو بنانے کا فیصلہ کر لیا ہے؟ ملالہ یوسف زئی نوبل انعام پانے والی پہلی پاکستانی مسلمان ہیں۔ ان سے پہلے ایک پاکستانی سائنس دان ڈاکٹر عبدالسلام کو بھی یہ انعام ملا جو قادیانی مذہب سے تعلق رکھتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
نوکری چھوڑنا ایک مشکل مرحلہ ہوسکتا ہے خاص کر تب جب یہ آپ کی مرضی سے نہ ہورہا ہو۔ تاہم اگر آپ ایک کامیاب کریئر کے امکانات بڑھانا چاہتے ہیں تو ان غلطیوں سے بچنے کی کوشش کریں۔ تفصیل سے پڑھئے
اگر حیدرآباد سے آپ کا تھوڑا سا بھی تعلق رہا ہے، تو آپ جانتے ہی ہوں گے کہ سندھ کا یہ دوسرا بڑا شہر جمعے کے روز مکمل طور پر بند ہوتا ہے۔ خالی سڑکوں، سنسان بازاروں کی وجہ سے جمعے کے دن شہر میں گھومنے پھرنے میں بہت آسانی ہوتی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
لوئر مڈل کلاس کے دو دلوں میں جانے کب سے محبت بُکل مارے بیٹھی تھی۔ پھر ایک رات پڑوس میں مہندی کی ایک تقریب میں نازلی سکھیوں کے ہمراہ انڈین گانے کی دھن پر ناچی تو بابر قدرے جھجھکتے ہوئے سامنے آیا اور اس کے قدموں کی تال پر نظریں جمائے خود بھی تھرکنے لگا۔ نازلی کو لگا جیسے دلہن کے گھر کے درودیوار اس کی سنگت میں محوِ رقص ہوں۔ نظریں چار ہوئیں تو گردش دوراں تھم سی گئی۔ رقص کے دوران ہی نازلی نے خاموشی سے دل کے رومال پر اس کا نام کاڑھ لیا اور بابر نے بھی اپنی چاہت کا ہار نازلی کے گلے میں ڈال دیا۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
غریب کی کوئی خواہش اس دنیا میں پوری نہیں ہوتی۔ اس کی خواہشوں کا خون کبھی سیلاب کرتا ہے، کبھی طالبان اور کبھی دھرنے - وہ مجھے کئی مہینوں بعد بازار میں ملا۔ وہ جلدی میں تھا لیکن میں نے اس سے اپنے پُرانے تعلق کی خاطر اس کو بازار کے ایک ریسٹورنٹ میں ایک پیالی دُودھ پتی چائے کی دعوت دی۔ ہم بڑے عرصے کے بعد ملے تھے تو میں نے اس سے پوچھا ”کدھر غائب ہو یار بلکل پکڑائی نہیں دیتے؟“ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

 

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک پر ایک ایسا بادشاہ حکومت کرتا تھا جسے نئے نئے محل بنانے اور طرح طرح کے لباس پہننے کا شوق تھا۔ بلکہ لباس کے اوپر لباس پہننے کا شوق تھا۔وہ ملک کا بادشاہ بھی تھا اور ایک پارٹی کا شریک چیئرمین بھی۔ اُسے دونوں لباس پہننے کا شوق تھا۔ تفصیل سے پڑھئے

عرصہ ہوا ایک ترک افسانہ پڑھا تھا یہ دراصل میاں بیوی اور تین بچوں پر مشتل گھرانے کی کہانی تھی جو جیسے تیسے زندگی گھسیٹ رہا تھا۔ جو جمع پونجی تھی وہ گھر کے سربراہ کے علاج معالجے پر لگ چکی تھی، مگر وہ اب بھی چارپائی سے لگا ہوا تھا۔ آخر اسی حالت میں ایک دن بچوں کو یتیم کر گیا۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
آج کل وطن عزیز میں مسکراہٹوں کی قلت ہے۔ ہونٹوں نے اپنی جگہ سے کھسکنے کی عادت کو فراموش کردیا ہے۔ حالانکہ مونا لیزا کی مسکراہٹ کے چرچے زمانہ قدیم سے آج تک زباں زدِ عام و خاص ہیں۔ مونا لیزا کی مسکراہٹ ایک فطری سی مسکراہٹ ہے۔ بہرحال اس کی مسکراہٹ کے پیچھے اس کے موتیوں جیسے چمکتے ہوئے دانتوں کا کرشمہ بھی دکھائی دیتا ہے۔ ہم نے تو تین ماہ قبل قربانی کیلئے بکرا تلاش کرنے کے دوران کچھ کھیرے اور دوندے بکروں کے دانت دیکھے تھے۔ بکرے ملکی حالات کے پیش نظر سنجیدگی کے پیکر بنے ہوئے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
صحیح مسلم میں ہے کہ ایک دفعہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر میں آرام فرما رہے تھے کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) ویسے ہی لیٹے رہے ۔۔۔حضرت ابوبکر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بات کر کے چلے گئے۔ ۔ پھر حضرت عمر فاروق رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم) لیٹے رہے حضرت عمر (رضی اللہ تعالیٰ عنہ) بات کر کے چلے گئے پھر حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تشریف لائے تو آپ (صلی اللہ علیہ وسلم)ا اُٹھ بیٹھے اور اپنے کپڑے ٹھیک کر لئے۔ تفصیل سے پڑھئے
کیا آپ کبھی مایوسی یا ڈپریشن کا شکار ہوئے ہیں؟ دنیا میں کونسا انسان ہے جو دکھ، مالیاتی مشکلات اور بے روزگاری سمیت دیگر مسائل کی بناءپر اس ذہنی کیفیت کا شکار نہیں ہوتا اور یہی عام طور پر اس کی معروف وجوہات بھی سمجھی جاتی ہیں - مگر ایسا نہ ہونے کے باوجود آپ ڈپریشن کا شکار ہیں اور اس کی کوئی خاص وجہ سمجھ نہیں آرہی تو درحقیقت ایسی متعدد حیرت انگیز چیزیں جو آپ کو مایوس بنارہی ہوتی ہیں اور دلچسپ بات یہ ہے کہ بیشتر افراد ان سے واقف بھی نہیں ہوتے جن کو جان کر آپ حیران رہ جائیں گے۔ تفصیل سے پڑھئے
اماں جیراں اکثر کوئی نہ کوئی مسئلہ لے کر میرے پاس آتی رہتی ہے‘ اس بار بھی وہ منہ بنائے بیٹھی تھی‘ پتا چلا کہ اس کی بیٹی نبیلہ پھر نویں جماعت کے امتحان میں فیل ہوگئی ہے‘ ماسی نے پہلے تو نبیلہ کو کوسا‘ پھر مجھے کہنے لگی ’’اے بیٹا! کچھ کر کرا کے پاس نہیں ہوسکتی؟؟؟‘‘
میں نے سرہلایا۔۔۔’’ہوسکتی ہے۔۔۔ایک طریقہ ہے  تفصیل سے پڑھئے !!!‘‘
آج کی نسل اردو سے کس طرح بے بہرہ ہوئی ہے ۔ ملاحظہ کیجیے
سنو یہ فخر سے اک راز بھی ہم فاش کرتے ہیں
کبھی ہم منہ بھی دھوتے تھے، مگر اب واش کرتے ہیں
تھا بچوں کے لیے بوسہ مگر اب کِس ہی کرتے ہیں
ستاتی تھیں کبھی یادیں مگر اب مِس ہی کرتے ہیں
چہل قدمی کبھی کرتے تھے اور اب واک کرتے ہیں- تفصیل سے پڑھئے

ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻤﺮﺍﻣﯿﺮﺍﻟﻤﺆﻣﻨﯿﻦﺩﺭ ﻣﻨﺼﺐ27 ﺳﺘﻤﺒﺮ 1996 – 13 ﻧﻮﻣﺒﺮ 2001ﻭﺯﯾﺮِ ﺍﻋﻈﻢ ﻣﺤﻤﺪ ﺭﺑﺎﻧﯽﻋﺒﺪﺍﻟﮑﺒﯿﺮ (ﻗﺎﺋﻢ ﻣﻘﺎﻡ )ﭘﯿﺸﺮﻭ ﺑﺮﮨﺎﻥ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺑﺎﻧﯽ(ﺻﺪﺭ )ﺟﺎﻧﺸﯿﻦ ﺑﺮﮨﺎﻥ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺑﺎﻧﯽ(ﺻﺪﺭ )ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ 1959 (ﻋﻤﺮ 54–55 )ﻧﻮﺩﯾﮩﮧ, ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥﺳﯿﺎﺳﯽ جماعت ﺍﻟﻘﺎﻋﺪﮦﻃﺎﻟﺒﺎﻥﻣﺎﺩﺭ ﻋﻠﻤﯽ ﺩﺍﺭﺍﻟﻌﻠﻮﻡ ﺣﻘﺎﻧﯿﮧﻣﺬﮨﺐ ﺩﯾﻮﺑﻨﺪﯼ ﺳﻨﯽﻓﻮﺟﯽ ﺧﺪﻣﺎﺕﺟﻨﮕﯿﮟ ﺟﻨﮓ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ(1978ﺀ - ﺗﺎ ﺣﺎﻝ )ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺳﻮﻭﯾﺖﺟﻨﮓﺟﻨﮓ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ(2001ﺀ– ﺗﺎﺣﺎﻝ )ﻣﻼ ﻣﺤﻤﺪ ﻋﻤﺮ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﯽ ﻃﺎﻟﺒﺎﻥﺗﺤﺮﯾﮏ ﮐﮯ ﺭﮨﻨﻤﺎﺀ ۔ ﻭﮦ 1996ﺀ ﺳﮯ2001ﺀ ﺗﮏ ﺍﻓﻐﺎﻧﺴﺘﺎﻥ ﮐﮯ ﺣﮑﻤﺮﺍﻥﺭﮨﮯ۔ تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers