انقلاب کی کامیابی اور نئے پاکستان کی تشکیل کے بعد انقلابی حکومت کی کابینہ کا پہلا اجلاس ہونے جا رہا ہے جس کی صدارت وزیر اعظم عمران خان کریں گے۔ کپتان اپنی صدارتی کرسی پر براجمان ہیں۔ وہ مکمل کٹ میں ہیں۔ پیروں پر پیڈز باندھ رکھے ہیں، ہاتھوں پر گلوز چڑھے ہیں اور سر پر ہیلمٹ سجا ہوا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
یہ بات انتہائی حیران کن ہے کہ ہمارے ملک میں بسنے والے لوگوں کی ایک بڑی تعداد اس بات کی خواہاں ہے کہ انہیں آزادی چاہیئے! مجھے تو یہ بات سمجھ ہی نہیں آتی کہ آزادی کا نعرہ لگانے والے آخر کس بنیاد پر یہ ڈیمانڈ کر رہے ہیں؟ میری نظر میں تو ہم سے زیادہ آزاد کوئی اور قوم ہے ہی نہیں، ہم تو ضرورت سے زیادہ آزاد ہیں!- تفصیل سے پڑھئے
 کچھ ہی روز میں سماجی رابطے کی نئی ویب سائٹ "ایلو" جسے اپنی پرائیویسی اور ایڈورٹائزنگ پالیسی کے حوالے سے"فیس بک مخالف" قرار دیا جارہا ہے، انٹرنیٹ پر مقبولیت کے نت نئے ریکارڈز بنانے لگی ہے۔ گزشتہ سال ایک "پرائیویٹ" سوشل نیٹ ورک کی شکل میں تشکیل دی جانے والی سائٹ ایلو نے حال ہی میں اپنے دروازے کھولے ہیں تاہم اس میں شمولیت کے لیے کسی صارف کی جانب سے مدعو یا دعوت دینے کی شرط عائد ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
عمران خان کا اصل مشن کردار اور ٹائمنگ کا ثبوت جاننے کے لیئے لازمی پڑھیں ایک علمی اور تاریخی تحقیق
خونی چاندوں کی نمود، صہیونیوں کا پانچ صدیوں سے انتظارزمیں، سورج اور مریخ ایک ہی قطار میں آ جاتے ہیں۔ اس ترتیب کے نتیجے میں چاند کا رنگ خون کی طرح سرخ ہو جاتا ہے۔
اسلام آباد: سالِ رواں کے آغاز میں جب ماہرین فلکیات نے پیش گوئی کی کہ 15 اپریل سے آسمان پرسرخ چاند گرہن کا آغاز ونے والا ہے تو ساتھ ہی کار پوریٹ عالمی میڈیا میں نجوم کے ماہرین کے بیانات بھی آنے لگے۔ تفصیل سے پڑھئے

یہ دنیا بھی کیا بوالعجب شے ہے۔ جہاں ہر کوئی ایک مختصر قیام کے لیے آتا ہے، کسی کو خبر نہیں ہے کہ کس لیے، لیکن کبھی کبھار یونہی ایک الوہی مقصد کی تلاش رہتی ہے۔ روزمرہ زندگی کے زاویہ سے ایک بات ہے جو ہمیں ٹھیک سے معلوم ہے، اور وہ یہ کہ آدمی دنیا میں اس لیے ہے کہ دوسروں کے لیے جیے۔ تفصیل سے پڑھئے
ہمارے بزرگانِ دین، صوفیائے کرام اور علما نے معرفت کی منزلیں طے کرنے اور پاکیزہ زندگی گزارنے کے لیے جہاں بہت سی چیزیں بتائیں، وہاں دو چیزوں کی طرف زیادہ زور دیا: ایک خوفِ خدا اور دوسرا عشقِ رسولﷺ۔ جس شخص میں یہ اوصاف پیدا نہیں ہوتے وہ کامل مسلمان نہیں ہو سکتا۔ وہ بڑا خوش نصیب ہے جس میں یہ دونوں خوبیاں ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے

یہ ایک بادشاہ کی پُرانی کہانی ہے۔ اُس کا ایک بچپن کا دوست تھا جس کے ساتھ وہ کھیل کود کر جوان ہوا تھا۔ بادشاہ اپنے اُس دوست کو ہمہ وقت ساتھ رکھتا تھا۔ اُس کی عادت تھی کہ اُس کی زندگی میں خواہ کوئی بھی اچھی بُری بات ہو وہ ہمیشہ یہ ہی کہتا کہ جو ہوتا ہے اچھے کے لئے ہوتا ہے۔ ایک دن بادشاہ اور اُس کا دوست شکار کیلئے جنگل میں گئے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ہندوستان میں مغلیہ سلطنت چند بڑی بادشاہیوں میں گنی جاتی ہے، اتنے وسیع اور زرخیز علاقے میں انتہائی جاہ و جلال کے ساتھ اپنا سکہ چلانے کا موقع بہت کم خانوادوں کو ملا، ایسی شاندار یادگار یں بھی بہت کم بادشاہوں نے چھوڑیں، سوا تین سو سال تک قائم رہنے والی اس سلطنت نے ہندوستان کے چپے چپے پر انمٹ نقوش چھوڑے، ہندوستان کی مختلف ریاستوں کو ملا کر ایک عظیم الشان ملک کی بنیاد اسی عہد میں رکھی گئی، تجارت و زراعت اور تہزیب و تمدن میں اسے عالمگیر شہرت حاصل ہوئی. تفصیل سے پڑھئے

15مارچ 44 ق۔ م میں جولیس سیزر جمہوریت پسندوں کے ہاتھوں مارا گیا، ایوان اعلیٰ رومہ کے ساٹھ سینیٹروں نے اس کے قتل کی سازش کی، جولیس سیزر کے اعزاز میں سینیٹ کا اجلاس مقرر کیا گیا تھا سیزر نے کاروائی میں حصہ لیا، اس کے بعد سیزر کو قریبی ملحقہ تھیٹر میں لے جایا گیا جہاں کوئی ڈرامہ پیش کیا جانا تھا، تفصیل سے پڑھئے
گلابی باغ سے شالا مار جاتے ہوئے تھوڑی دور دائیں ہاتھ ایک پٹرول پمپ کے نیچے گنجان آبادی کے درمیان مہابت خان کا مقبرہ ہے کسی زمانے میں یہ مقبرہ ایک وسیع و عریض باغ کے وسط میں واقع تھا جو کہ باغ مہابت خان کہلاتا تھا۔ مہابت خان کا اصلی نام زمانہ بیگ تھا وہ کابل کا باشندہ تھا اس نے نوعمری میں ہی شاہی ملازمت اختیار کرلی اور ترقی کرتے رتے ہفت ہزاروی بن گیا۔ تفصیل سے پڑھئے
 بشیر کو دورے کے موقع پر فورڈ موٹر کمپنی کی طرف سے تحفے کے طور پر ایک ٹرک بھی دیاکیا گیا۔
مجھے نہیں معلوم کہ  بہت سے لوگ سابق امریکی صدر لینڈن بی جانسن اور ایک کراچی سے تعلق رکھنے والی اونٹ گاڑی کے مالک کی غیر معمولی دوستی کے بارے میں جانتے ہیں یا نہیں ۔اس دوستی کا آغاز 1960 کی دہائی میں  تب ہوا جب  اس وقت کے نائب  امریکی صدر لینڈن جانسن نے پاکستان کے سرکاری دورے کے دوران کراچی کی سڑک پر ایک شخص کو اپنے اونٹ کے ساتھ کھڑے امریکی نائب صدر کے قافلے کی جانب ہاتھ لہراتے ہوئے دیکھا۔ تفصیل سے پڑھئے

اس کا شمار پاکستان کے قدیم ترین عجائب گھروں میں ہوتا ہے1906ء میں یہ پہلے سے تعمیر شدہ میموریل ہال میں قائم کیا گیا تھا۔ آثار قدیمہ کے مشہور و معروف ماہر سرارل سٹین اس کے سب سے پہلے مہتمم تھے۔ یہ عجائب گھر گورنمنٹ ہائوس کے قریب اس بڑی شاہرہ پر واقع ہے جو پرانے شہر کو چھائونی ریلوے اسٹیشن سے ملاتی ہے۔ عجائب گھر کے تین مشہور حصے گندھارا، مسلم اور قبائلی ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
گاؤں کے سادہ لوح باسی ابھی اتنے مہذب نہیں ہوئے تھے کہ گھروں کے بیچوں بیچ بہنے والی آبپاشی کی نالیوں کو بطور گٹر استعمال کرتے۔اس لیے گھر کے برتن اور منہ ہاتھ وسط صحن سے گزرنے والی پڑک پڑک کرتی نالی پر ہی پورے اعتماد کے ساتھ دھوئے جاتے تھے۔ اردو میں پانی کی نالی بہت چھوٹی نالی کو کہتے ہیں۔جس نالی کا ہم ذکر کر رہے ہیں وہ نالی نہین ""کٹھی """ تھی۔نالی اور کٹھی کے سائز میں وہی فرق ہوتا ہے جونالی اور نلکی کے سائز میں ہوتا ہے۔چونکہ ہمیں کٹھی کے لیے اردو کا لفظ معلوم نہیں اس لیے گھر کی کٹھی کو نالی ہی کہیں گے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
یہ 1985 یا 1986 کی بات ہے۔یہ وہ زمانہ تھا کہ جب پانچ یا چھ سالہ لڑکے کے لیے پورے کپڑے پہننا اور مٹی نہ کھانا تہذیب کی معراج سمجھی جاتی تھی۔ابھی مٹی کا ذائقہ پھیکا بھی نہ پڑا تھا کہ ہمیں ملیشیا یونیفارم میں ڈال کر پڑوسی گاؤں میں واقع پرائمری اسکول کے قصائی صفت اساتذہ کو ہدیہ کر دیا گیا۔ہمیں ملیشیا کے نئے یونیفارم کو پہننے سے زیادہ سونگھنے میں مزہ آ رہا تھا۔اپنے اسکول کے پہلے دن کو یاد رکھنے کا دعویٰ کوئی جھوٹا ہی کر سکتا ہے۔تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
* حضرت ادریس علیہ السلام کا اصل نام اخنوخ ہے.
* حضرت ادریس علیہ السلام پر 30 صحیفے نازل ہوۓ .
* حضرت ادریس علیہ السلام کا ذکر قرآن پاک میں دو جگہ آیا ہے .
* سب سے پہلے قلم حضرت ادریس علیہ السلام نے لکھا . تفصیل سے پڑھئے
کالاباغ ڈیم یا کالاباغ بند حکومت پاکستان کا پانی کو ذخیرہ کر کے بجلی کی پیداوار و زرعی زمینوں کو سیراب کرنے کے لیے ایک بڑا منصوبہ تھا جو تاحال متنازعہ ہونے کی وجہ سے قابل عمل نہیں ہو سکا۔ اس منصوبہ کے لیے منتخب کیا گیا مقام کالا باغ تھا جو کہ ضلع میانوالی میں واقع ہے۔ ضلع میانوالی صوبہ پنجاب کے شمال مغربی حصے میں واقع ہے۔ یاد رہے کہ ضلع میانوالی پہلے صوبہ خیبر پختونخوا کا حصہ تھا جسے ایک تنازعہ کے بعد پنجاب میں شامل کر دیا گیا۔ تفصیل سے پڑھئے
مرغا نہ بننے پر راجو نے نوید کو تھپڑ مارتے ہوئے جانے کو کہا۔ جواب میں نوید نے کہا کہ کیا مجھے کوئی ڈیپارٹمنٹ چھوڑ آئے گا؟ جس کے جواب میں راجو نے کہا کیا تو اندھا ہے؟۔ جس پر نوید نے اپنی کالی عینک اُتارتے ہوئےکہا کہ جی میں دیکھ نہیں سکتا سَر۔ 
’’اوئے راجو! وہ دیکھ سیکنڈ ائیر کے امجد کو۔۔۔فرسٹ ائیر والے  فولنگ سے بچانے کے لیے اُس کا ہاتھ پکڑ کے لے کر جا رہا ہے‘‘، راجو کے دوست نے راجو سے کہا۔ تفصیل سے پڑھئے
رومہ نہ ایک دن میں تعمیر ہوا تھا اور نہ ایک دن میں فنا کے گھاٹ اترا، لیکن یورپ سے رومی شہنشاہی کا خاتمہ تاریخ کا ایک انتہائی اہم واقعہ ہے، "سقوط رومہ "کا جملہ سنتے ہے چشم تصور کے سامنے ایک خوفناک نقشہ ابھر آتا ہے، گویا بے درد وحشی جرمن قبائل اس شہر کی دولت وحشمت کے انبار سمیٹ کر اسے آگ اور خون کی جولانگاہ بنا رہے ہیں.
حالانکہ کے دراصل رومہ کی عظمت آہستہ آہستہ زائل ہوئی تھی مورخین نے سہولت کے خیال سے اس کی تسخیر کا آخری سال 476ء قرار دیا ہے، کیونکہ اس سال مغربی رومی سلطنت کے شہنشاہ نے اپنا تاج و تخت وحشی سردار آڈواسر (Odoacer) کے حوالے کیا تھا لیکن اس نے شہنشاہ نہیں بلکہ صرف اٹلی کی فرمانروائی پر اکتفا کیا. تفصیل سے پڑھئے

پروفیسر نکلسن اپنی تصنیف "صوفیاۓ اسلام "میں لکھتا ہے کہ دسویں صدی عیسوی کے آغاز میں (۹۲۲ء) میں حلاج کو بغداد میں بڑے وحشیانہ طریق سے قتل کر دیا گیا۔ اس کے قتل کی وجوہ زیادہ تر سیاسی تھیں۔ اس نے دو لفظوں میں ایک ایسا جملہ اپنی زبان سے ادا کیا جسے اسلام نے معاف تو کر دیا مگر فراموش نہیں کیا۔ تفصیل سے پڑھئے
عقلیت پسند، متشکک، اور مذہب میں نئے نئے افکار متعارف کروانے والے عناصر اپنشد عہد سے ہی ہندو دھرم کا حصہ رہے ہیں۔ یہ فکر کا ارتقاء تھا جو وید کے دیومالائ قصوں سے ہوتا ہوا اپنشد کے فلسفیانہ مباحث تک پہنچا۔۔ خود اپنشدوں میں ان عقل پرستوں کے شکوک و شبہات کا تزکرہ موجود ہے جو پروہت کا تمسخر اڑاتے ہیں۔ سو "اسند اپنشد" نے تو یہاں تک کہہ دیا کہ نہ کوئی دیوتا ہے، تفصیل سے پڑھئے
چند دن پہلے کی بات ہے میں اپنے ایک دوست کے ساتھ بیٹھا باتیں کر رہا تھا، باتوں سے باتیں نکل رہی تھیں، نوکری، ملازمت، شادی، والدین کے حقوق ہر چیز پر باتیں ہو رہی تھیں، اچانک میرے دوست کو کچھ خیال آیا اور وہ بولا، ’آج مجھے اپنے سوشل ورکر ہونے کا یقین ہوگیا جب ایک نو سکھیا میرے احترام یا پھر دبدبہ سے تھر تھر کانپ رہا تھا، اور میں اس کو ایونٹ مینجمنٹ سمجھا رہا تھا۔‘ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
خدا نے انسان کو بے بسی کی صلیب عطا کی اور دنیا کی طرف اس وعدے کے ساتھ روانہ کیاکہ میں ہمیشہ تمہارے ساتھ رہوں گا اور تمہاری مدد کو آوں گا۔ تب انسان نے اس وعدے کو سینے سے لگایا اور صلیب کمر پر لادے دنیا کی طرف چل پڑا۔ پہلے چند قدم تو بے بسی کا یہ بوجھ بہت حسین معلوم ہوا، پھر عظیم لگا کہ میں خدا کے دیے جلیل القدر تحفہ کا واحد حق دار ہوں۔۔ اور آخر بوجھ صرف بوجھ رہ گیا۔جب انسان کی کمر صلیب کے بوجھ سے شل اور پاوں راہ کی رکاوٹوں سے لہو لہان ہوئے تو انسان رکا، ٹھٹھکا اور جھجھکتے ہوئے پہلی بار خدا سے مدد کی درخواست کی، ” اے مالک مجھ ناچیز سے تیرے احسان کا بوجھ نہیں سہا جاتا، میری مدد فرما” لیکن دور دور تک خاموشی تھی، کوئی جواب نہیں آیاغیب سے وعدے کے مطابق کوئی مدد نہیں پہنچی۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
میں جس بس میں بیٹھا ہوں ، مقامی لوگ اسے بھٹی ٹائم کہتے ہیں۔ شائد اس کی وجہ یہ ہے کہ آج سے کچھ بیس پچیس سال قبل جب اس طرح کی پہلی ہینو بس “ہمراہی” اس سڑک پہ چلی تھی تو اُس کے مالک کا نام امیر بھٹی تھا۔ یہ بس تو کسی بلوچ کی ہے لیکن کہلاتی ہے “بھٹی ٹائم” ہی۔ خیر، نام میں کیا رکھا ہے۔ ضلع کے صدر مقام سے میرے گاوں کی طرف جانے والی یہ بس ۷۵ کلو میٹر کا فاصلہ تین گھنٹے میں طے کرتی ہے۔اگر سیٹ مل جائے تو ان تین گھنٹوں میں میری کوشش ہوتی ہے کہ مطالعہ ہی کر لیا جائے لیکن آج مجھے جگہ نہیں ملی تھی لہٰذا دروازے کے ساتھ،چھت سے فرش کے درمیان نصب آہنی ڈنڈے سے لگ کے کھڑا چہرے پڑھ رہا ہوں۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
زندگی یوں بھی گزر ہی جاتی
کیوں تیر ا راہ گزر یاد آیا
غالب کا تو پتا نہیں انھوں نے یہ شعر کیوں کہا تھا لیکن سرکاری ملازمت میں آنے کے بعد ہم یہ شعر اکثر گنگناتے ہیں، کہ اچھی بھلی زندگی گزر رہی تھی پتا نہیں کیا سوچ کر اس”کوچہ ملامت” کا رخ کر لیا۔اگر آپ سرکاری ملازم ہیں تو آپ میری کیفیت کو سمجھ سکتے ہیں اگرچہ مجھے پورا یقین ہے کہ آپ کی سوچنے سمجھنے کی صلاحیت وقت کے ساتھ ختم ہوچکی ہے۔بحرحال قصہ مختصر یہ کہ ہم نے بھی باقی لوگوں کی طرح عہد جوانی میں بہت سے سہانے سپنے دیکھے جیسے اعتزاز احسن نے کہا! تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
"لاَ اِلٰہَ اِلَّا اللہ" اور "مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہ "
دونوں میں 12 , 12 حرف ہیں۔ دونوں نقطوں کے بغیر ہیں۔
پہلا حصہ مقصدِ زندگی بتاتا ھے، دوسرا حصہ طرزِ زندگی۔
اور12+12 حروف تقاضہ کرتے ہیں کہ انسان اپنی 12+12 گھنٹے کی زندگی اللہ عزوجل اور اس کے رسول ﷺ کی رضا کے مطابق گذارے۔ پہلے حصے میں نقطے نہ ہونے میں یہ اشارہ ھے کہ اللہ عزوجل کا کویٔ شریک نہیں حتٰی کہ ایک نقطہ بھی نہیں، دُوسرے حصے میں یُوں نقطہ نہیں کہ یہاں بھی کویٔ ثانی نہیں اور ذرا سی بھی نقطہ چینی اسلام سے خارج کر دیتی ھے۔ دنیا کا سَب سے خوبصورت جملہ جِسے بغیر ہونٹ ہِلاۓ ادا کِیا جاسکتا ھے، وہ ھے لَا اِلہَ اِلاَ اللہ -
کلمے کے اِس اوّل حصّے میں یہ حکمت پوشیدہ ھے کہ ایک مَرتا ہوا آدمی بھی جو نقاہت کے باعث اپنے ہونٹوں کو ہِلانے سے قاصر ہو وہ بھی یہ کلمہ آسانی سے ادا کر سکتا ھے..
دو نوجوان عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں “یا عمر یہ ہے وہ شخص”
عمر رضی اللہ عنہ ان سے پوچھتے ہیں ” کیا کیا ہے اس شخص نے ؟”
“یا امیر المؤمنین ۔ اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے” تفصیل سے پڑھئے
جدید سائنسی تحقیق کا حیرت انگیز انکشاف *وطن عزیز کو یہ انوکھا و یکتا اعزازحاصل ہے کہ تقریباً چھ ہزار سال قبل اسی دیس میں بہ لحاظ وسعت انسانی تاریخ کی عظیم ترین تہذیب…ہڑپہ تہذیب کی بنیاد رکھی گئی۔یہ ’’وادی ِسندھ کی تہذیب‘‘بھی کہلاتی ہے۔گو تہذیب کا علاقہ بلوچستان سے لے کر بھارتی ریاستوں راجھستان اور گجرات تک پھیلا ہوا تھا،لیکن اس کی بیشتر بڑی بستیاں…موئن جودڑو،ہڑپہ،مہر گڑھ،چنھودڑو، گانیری والا(چولستان)، امری،کوٹ ڈیجی وغیرہ موجودہ پاکستان ہی میں واقع تھیں۔ہڑپہ تہذیب کی زیادہ تر بستیاں دریائے ہاکڑہ(گھاگرا) اور دریائے سندھ کے کنارے آباد ہوئیں۔ تفصیل سے پڑھئے
ﺍﯾﮏ ﻭﯾﺮﺍﻥ ﺳﯽ ﺟﮕﮧ ﭘﺮ ﻭﺍﻗﻊ ﮐﮭﻨﮉﺭ ﻧﻤﺎ ﻣﮑﺎﻥ ﺳﮯ 19ﻧﻮﻣﺒﺮ 2011ﮐﻮﺍﯾﮏ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺟﻮ ﺍﺱ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﻘﺮﯾﺒﺎ ً ﭘﭽﮭﻠﮯ ﭘﺎﻧﭻ ﯾﺎﭼﮭﮯ ﻣﺎﮦ ﺳﮯ ﭼﮭﭙﺎ ﮨﻮ ﺍ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺍﺗﻨﯽ ﺧﺴﺘﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮞﻨﮧ ﺗﻮ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﮐﺎﻣﻨﺎﺳﺐ ﺍﻧﺘﻈﺎﻡ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﻧﮧ ﮨﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺯﮦ ﮨﻮﺍ ﺁﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﺗﮭﺎ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﮏﮐﮧ ﮐﻤﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺑﺎﺗﮫ ﺭﻭﻡ ﺗﮏ ﮐﯽ ﺳﮩﻮﻟﺖ ﺑﮭﯽ ﻣﯿﺴﺮﻧﮧ ﺗﮭﯽ۔ ﺍُﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﮐﮭﺎﻧﺎ ﭘﯿﻨﺎ ﺳﻮﻧﺎ ﺍﻭﺭ ﭘﯿﺸﺎﺏ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﮐﺮﻧﺎ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ ﺍﺳﯽ ﮐﻤﺮﮮ ﮐﯽ ﭼﺎﺭ ﺩﯾﻮﺍﺭﯼ ﮐﮯ ﺍﻧﺪﺭ ﮨﯽ ﻣﺤﺪﻭﺩ ﺗﮭﺎ۔ ﺟﺐ ﺍﺱ ﺷﺨﺺ ﮐﻮ ﮔﺮﻓﺘﺎﺭ ﮐﯿﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍُﺱ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺍﯾﺴﮯ ﻟﮕﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺟﯿﺴﮯ ﻭﮦ ﮐﺌﯽ ﺩﻧﻮﮞ ﺳﮯ ﺑﮭﻮﮐﺎ ﭘﯿﺎﺳﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﮨﻔﺘﻮﮞ ﺳﮯ ﻧﮩﺎﯾﺎ ﮨﻮﺍ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮞﮩﮯ۔ تفصیل سے پڑھئے
پٹھان کو آفغان کہتے ہین آفغان اسلئے کہتے ہے کہ آفغان سلیمان علیہ السلام کے ایک بیٹے کا نام تھا اور ان کو جننات کی زبان سے پیار ہوگیا تھا تو انہوں نے اپنے والد سلیمان علیہ السلام سے کہا کہ آپ جننات کو کہے کہ مجھے اپنی زبان سیکھائیں سلمیان علیہ اسلام نے اپنے بیٹے کی درخواست قبول کی اور جننات کو حکم دیا کہ آفغان کو جننات کی زبان سیکھائی جائے وہ زبان بعد مین پختنو کی نام سے پہجانا گیا پھٹان کی اصلیت اور قومیت کے بارےمیں جو دلائل ہیں وہ یہ کہ پٹھان حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اولادمیں سے ہیں اور اسحاق علیہ السلام کے اولاد ہیں، اور قومیت سے بنی اسرائیل ہے انگریز مورخین لکتھے ہیں کہ پٹھان قوم ارجینیا کی ایک حصے میں رہتے تھے ارجینیا کے لوگوں کا دعوی ہے کہ افغان یا پٹھان ارجینیا ہم میں سے ہیں کیونکہ البانیہ کے اوغان جو کے بعد مین افغان بنا ارجینیا سے ہندوستان کی طرف چل پڑے ایک اور انگریز مورخ لکھتا ہے کہ اسرائیل قبائیل بہت تکالیف اور مصیبتون کے بعد افغانستان میں آباد ہوگئے ،جب حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلّم نےاسلام کی تبلیغ شروع کی اور لوگ جوق درجوق اسلام مین داخل ہونے لگے تو اس وقت پٹھان قوم کا سردار جس کا نام قیس عبدالرشید تھا اپنے پورے خاندان کیساتھ محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کی حضور میں حاضر ہوااور محمد صلی اللہ علیہ وسلّم کے ہاتھ پر بیعت کر کے مسلمان ہوگئے اس لئے دنیا بھر مین جہاں بھی پٹھان ہونگے مسلمان ہونگے دنیا میں پٹھان ہی واحد قوم ہے جس میں اسلام کے بغیر کوئی مذہب نہیں اگر پٹھان سے پوچا جائے کہ اپ پہلے مسلمان ہے یا پٹھان ؟ تو جواب ہوگا کہ میں پانچ ہزار سال سے پٹھان ہوں اور چودہ سو سال پہلے مسلمان ہوں
یہ اگست1942ء کا واقعہ ہے کہ امریکی بحریہ نے اپنا نیا جنگی بحری جہاز یو ایس ایس سائوتھ ڈکوٹا بحرالکاہل میں اتارا۔ یہ جنگی جہاز نہایت مضبوط دھاتوں سے بنایا گیا تھا۔ نیز اس میں بھاری توپیں اور طاقتور انجن نصب کیے گئے۔
عملۂ جہاز میںاکثریت ’’سبز لڑکوں‘‘ (Green boys) کی تھی۔ یہ نوخیز لڑکے پرل ہاربر میں جاپانی حملے کے بعد بھرتی کیے گئے تھے۔ انھیں پھر ابتدائی فوجی تربیت دے کر جنگ میں بھیج دیا گیا۔ تب دوسری جنگ عظیم زور و شور سے جاری تھی۔ جہاز کا کپتان، تھامس گیچ جاپانیوں سے شدید نفرت کرتا تھا۔ کپتان کی شدید خواہش یہ تھی کہ اس کا عملہ زیادہ سے زیادہ جاپانیوں کو ہلاک کر ڈالے۔ تفصیل سے پڑھئے

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت عبداللہ بن سبّا اورمروان کی شرارتوں سے واقع ہوئی چنانچہ مصریوں کے اصرارپرصحابہ کرام رضی اللہ عنہم اجمعین کی ایک جماعت حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس آئی اورگورنر مصرکی معزولی کامطالبہ کیاآپ نے فرمایاجس کو تم پسندکرتے ہو میں اسکو گورنر بنادیتا ہوں انہوں نے حضرت محمدبن ابوبکر رضی اللہ عنہ کی طرف اشارہ کیا آپ نے محمدبن ابو بکر کو گورنر بنا کر مصرروانہ کردیااور انکے ساتھ مہاجرین وانصارکی بھی ایک کثیر تعداد روانہ ہوئی تاکہ وہاں کے حالات کا جائزہ لیں۔ تفصیل سے پڑھئے
* حضرت آدم علیہ اسلام کو ابو البشر کہا جاتا ہے .
* حضرت آدم علیہ اسلام کی زبان عربی تھی .
* حضرت آدم علیہ اسلام نے دنیا میں سب سے پہلی غذا گندم کی روٹی کھائی .
* حضرت آدم علیہ اسلام کے پہلے بیٹے کا نام قابیل تھا .
* حضرت آدم علیہ اسلام پر دس صحیفے نازل ہوۓ. تفصیل سے پڑھئے

’’تم چپ رہو ماں!‘‘ یزدگرد نے کہا۔’’ اپنے جرنیلوں اور اپنی فوج کی بزدلی دیکھ کر مجھے یہ جھک بھی مارنی پڑی کہ میں نے اپنی آدھی سلطنت عربوں کو پیش کی اور ساتھ ہی یہ درخواست کی کہ وہ دجلہ کے اس کنارے تک رہیں آگے نہ بڑھیں ۔تم سب جانتے ہو کہ ان عربوں نے جنہیں ہم حقیر سمجھتے تھے ہماری اتنی بڑی پیش کش کو رعونت سے ٹھکرا دیا……ہم مدائن کونہیں بچاسکتے۔اب ہم صرفد اپنی جانیں بچا سکتے ہیں،اور ہم اپنی عزتیں بچا سکتے ہیں……میرا فیصلہ یہ ہے کہ شاہی محل کے تمام افراد یہاں سے فوراً نکلیں اور حلوان پہنچ جائیں۔‘‘تفصیل سے پڑھئے
(مسولینی کی شخصیت کسی تعارف کی محتاج نہیں۔ اٹلی کے فسطائی دور میں ۱۹۲۲ سے ۱۹۴۵تک مسولینی اٹلی کا مطلق العنان رہنما رہا۔ دئیے گئے اقتباسات اس کے مقالے “فسطائیت کا نظریہ” سے لئے گئے ہیں جو کہ اطالوی انسائیکلوپیڈیا کے لئے ۱۹۳۲میں لکھا گیا تھا۔ فسطائیت جنگ عظیم اول اور دوم کے درمیان یورپ پر مسلط رہنے والا ایسا سیاسی نظریہ ہے جس کی پرورش نفرت اور پروپیگنڈے سے ہوئی اور جس نے آخر کار پوری دنیا کو جنگ عظیم دوم میں دھکیل دیا۔ امید ہے کہ پاکستان میں مذہبی، نسلی و قومی سیاست کے تناظر میں فسطائیت کے بڑھتے ہوئے رجحان کے پیش نظر یہ مضمون فکری صراحت میں مددگار ثابت ہو گا۔)- تفصیل سے پڑھئے
پچھلےچندسالوں میں الباکستانیوں کی ایک بےمثال اور یکتا قسم وجودمیں آئی ہے جوخودکوروشن خیال کہتی ہے۔ یہ ندرت پسندعام انسانوں کی طرح نظر تو ضرور آتے ہیں مگر خبردار!دھوکےمیں ہرگز مت آئیے گا؛ اپنی ہئیت کذائی سے یہ ہومو سیپین (Homosapien)ہی معلوم ہوتے ہیں مگران کے ڈی این اےمیں نجانےکہاں خرابی آ گئی جو آج یہ اس حالت کوپہنچ گئےہیں۔ دیگر بنی نوعِ انسان کی طرح یہ بھی زمین پرہی چلتے ہیں مگر انکے دماغ سدرۃالمنتہیٰ تک پہنچ چکے ہیں- انکے ہونٹ عام انسانوں جیسے ہوتے ہیں مگر جواول فول یہ بکتے ہیں،اس سےان کے گلابی ہونٹوں کی رنگت سیاہ ہوچکی ہے۔ انکی چال بھی سب سے نرالی ہے، ایسے چلتے ہیں گویا زمین پہ نہیں بلکہ عرشِ بریں پرٹہل رہے ہوں۔ یہ کل کے خود پسند، مغرب زدہ لونڈے، ہمیں سمجھائیں گے کہ اس ملک کی اصلاح کیسےکرنی ہے؟ تفصیل سے پڑھئے
سب خیال اڑتے، بھاگتے، چلتے، رینگتے، گھسٹتے، اٹھتے، گرتے اور تیرتے ہوئے تمام تر ممکنہ تیزی سے اس کے دما غ میں گھس گئے۔ کھلا در اندر سے بند کر لیا گیااور پھر دماغ کی بندر بانٹ بڑی بے دریغی سے کی گئی۔ کچھ نے دیکھتے ہی دیکھتے کئی منزلہ عمارتیں کھڑی کر لیں؛ بڑی بڑٰی کھڑکیوں والی، جن کے رنگین شیشوں پر نظر نہیں ٹھرتی تھی۔ یہ سب ایک دوسرے کو خود سے کمتر سمجھتے تھے اور غرور کے مارے آپس میں بات نہیں کرتے تھے۔ ان عمارتوں میں موت جیسی خاموشی گونجتی اور کانوں کے پردے باہر کو کھنچ جاتے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
توہین مذہب قوانین کے ذریعے جانوں کے ضیاع کے حوالے سے۲۰ مئی کو علی سیٹھی کا مضمون Tyranny of blasphemy نیویارک ٹائمز کے بین الاقوامی ایڈیشن میں شائع ہوا تھا، لیکن ایکسپریس ٹریبیون کے زیر اہتمام پاکستان میں تقسیم کیے گئے پرچوں سے یہ مضمون حذف کر کے اس کی جگہ کو خالی چھوڑ دیا گیا تھا۔ اگرچہ بہت سے لوگ مضمون میں بیان کیے گئے حقائق سے آگاہ ہیں، تاہم روز افزوں سنسرشپ کی مذمت میں لالٹین اس مضمون کا ترجمہ اپنے قارئین کو پیش کر رہا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
آف اسپنرز کے خلاف تازہ بساط میں سعید اجمل کے گرنے کے بعد اب دوسرے مہروں کی خیر نہيں (تصویر: AFP)
بالآخر سعید اجمل کی باؤلنگ پر پابندی کا اعلان ہو ہی گیا۔ پاکستان کرکٹ ٹیم کا پرستار ہوتے ہوئے ظاہر ہے مجھے اس اعلان پر بہت افسوس ہوا ۔ یہ پاکستان کرکٹ بورڈ اور انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کی نااہلیوں کی طویل فہرست میں ایک اور باب کا اضافہ ہے۔ اگلے مہینے 37 ویں سالگرہ منانے والے سعید اجمل نے چھ ساد پہلے 2 جولائی 2008ء کو بھارت کے خلاف کراچی میں اپنے ایک روزہ کیریئر کا آغاز کیا تھا اور اس کے ٹھیک ایک سال بعد 4 جولائی 2009ء کو گال کے میدان پر سری لنکا کے خلاف ٹیسٹ کیریئر کی شروعات کی۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
نیا پاکستان اگست 2014 میں قائد اعظم ثانی کپتان خان کی قیادت میں قائم ہوا۔ نیا پاکستان اسی روز وجود میں آگیا تھا جس روز پرانے پاکستان نےپہلا ورلڈ کپ جیتا تھا۔قائد اعظم ثانی کپتان خان کی ان تھک محنت اور لگن کی وجہ سے پرانے پاکستان کے بلے برداروں کو شریف خاندان کی غلامی سے نجات ملی اور آج وہ آزادی سے ہر طرف انقلاب برپا کرتے پھرتے ہیں۔نئے پاکستان کا خواب حکیم البشارات علامہ طاہرالقادری نے دیکھا اور خطبہ ماڈل ٹاون میں پہلی بار نئے پاکستان کے قیام کا تصور دیا- تفصیل سے پڑھئے
1) مصریوں کا عقیدہ تھا کہ دیوتا سمندر کی گہرائیوں سے باہر آیا۔ اس نے خشک زمین پیدا کی اور پھر ہیلی پولس کی ایک پہاڑی پر بیٹھ گیا جہاں بیٹھ کر اس نے مخلوق پیدا کی۔
2) قدیم عراقیوں کے عقیدے کے مطابق دیوتا نے برائی کی قوتوں کو شکست دے کر زمین اور آسمان پیدا کیے اور پھر اپنی عبادت کے لیئے انسانوں کو پیدا کیا۔ تفصیل سے پڑھئے

یونان میں میں عقلیت پسندی کی تحریک کو نشوونما پانے کے لیے موزوں ماحول تب میسر آیا جب یونان زرعی تہذیب کے غلبہ سے نکل گیا تھا۔ اب یہ شہری ریاستوں پر مشتمل خطہ تھا اور معیشت کا بنیادی انحصار تجارت پر تھا۔ لہذا شہری اور تجارتی تہذیب میں فکری آزادی کے حالات موجود تھے۔ یونانیوں نے عقلیت پسندی کو ایک تحریک بنایا۔ تاریخ انسانی میں ان کا یہ کمال ہے کہ انہوں نے مثالیت پرستی کی آمریت کو چوٹ لگائی۔ یونانیوں نے فکری استدلال کی فضا پروان چڑھائی۔ تفصیل سے پڑھئے
تاریخ نشاندہی کرتی ہے کہ ہندوستان میں عقلیت کی اہمیت یونان سے بھی پہلے تسلیم کر لی گئی تھی۔ تاریخی شواہد کے مطابق ساتویں صدی قبل مسیح میں آریا تہزیب عقلیت پسندی پر کافی بحث کر چکی تھی اس دور میں ہندوستانی فلسفی کپل نے نظریہ سمہ اوست کی نفی کی۔ کپل کے متعلق کہا جاتا ہے کہ وہ پہلا مفکر تھا جس نے علم فلسفہ باقاعدہ تحریر کی شکل میں پیش کیا۔ کپل واقعات و مظاہرات کو عقلی بنیادوں پر پرکھنے کا قائل تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
المامون (۸۱۳-۸۳۳) صحیح معنوں میں تاریخ اسلامی کا ایک روشن خیال، جدت پسند اور اولین سیکولر حکمران تھا۔ جسے ہم عہد اسلامی کا دور زریں (golden age) کہتے ہیں اس کی بنیاد المامون نے ہی رکھی اور یہ عقلی ترقی کا عہد تب تک جاری رہاجب تک ریاست کا نظام المامون کی وضع کردہ پالیسیوں کے مطابق چلایا جاتا رہا۔ اس عہد زریں کی تفصیلات کا زکر یہاں مقصود نہیں بلکہ ایک واقعہ کا بیان کرنا ہے جو اس عہد میں پائی جانے والی رواداری اور آزادی اظہار رائے کا مظہر ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
جارج ولیم فریڈرک کے نام سے برطانیہ کا ایک بادشاہ گذرا ہے ، جو ’’جارج سوئم ‘‘ کے طور پر مشہور تھا ۔ اس نے سلطنت برطانیہ پر طویل حکمرانی کی۔ 25 اکتوبر 1760ء سے 29 جنوری 1820ء تک یعنی 59 سال 96 دن تاج و تخت برطانیہ اس کے حوالے رہا ۔ ایک مرتبہ اس نے اعلان کیا کہ ’’ امریکا میں رہنے والے ہر مرد ریڈ انڈین کی کھوپڑی لانے والے کو 40 پاؤنڈز اور ہر ریڈ انڈین عورت اور 12 سال سے کم عمر بچے کی کھوپڑی لانے والے کو 20 پاؤنڈزبطور انعام دیا جائے گا ۔ تفصیل سے پڑھئے
بعض سچ ادھورے ہوتے ہیں اور اگر انہیں مکمل نہ کیاجائے اوروضاحت نہ کی جائے تو وہ غلط فہمی پیدا کرتے ہیں۔ دوسری بات یہ کہ فکری و نظریاتی ارتقا ہر انسان اورخاص طور مفکرین اور سیاستدانوں کی زندگی کاحصہ ہوتا ہے اورجب تک ان کی تمام تقاریر اور تحریروں کو اپنے پس منظر کے ساتھ نہ پڑھا جائے تو ان کا ویژن واضح نہیں ہوتا۔ علامہ اقبال ؒ جوانی کے د ور میں ہندوستانی قومیت پر نغمے لکھتے تھے لیکن جب ذہنی بلوغت ارتقائی منازل سے گزری تو وہ مسلم قومیت کے موثر علمبرداربن کر ابھرے۔ تفصیل سے پڑھئے
تاریخ میں وہ سب نہیں ہوتا جو ہم چاہتے ہیں۔ تاریخ میں وہ سب ہوتا ہے جو ہو چکا ہوتا ہے۔ تاریخ میں درج ہے ہم سب کے ماضی کا ریکارڈ جو صدیوں پر محیط ہوتا ہے، ہزاروں برسوں کے حوالے ہوتے ہیں تاریخ میں۔ ہم تاریخ سے تب ڈرتے ہیں جب ماضی سے متعلق ہمارے ذہنوں میں پنپنے والے مفروضے ہمیں مستند تاریخ کے اوراق میں نہیں ملتے۔ بغیر کسی سنجیدہ مطالعے کے ہم جب تاریخی واقعات کے بارے میں مخصوص زاویوں سے اپنے ذہن میں ایک عکس بنا لیتے ہیں اور جب وہ عکس ہمیں تاریخ میں نہیں ملتا- تفصیل سے پڑھئے
اپریل فول منانے کی روایت کو بدقسمتی سے اغیار کی اندھی تقلید میں مسلمانوں نے بھی اپنا لیا …ہر سال کچھ لوگ اسے ضرور مناتے ہیں اور پھر اپنی کامیابیوں پر فخرکرتے ہوئے اور اپنے شکار کی بے بسی کو یاد کرکے اپنی محفلوں کو گرماتے رہتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
پشاور کے’’گھنٹہ گھر بازار‘‘ سے چند قدم آگے’’محلہ سیٹھیاں‘‘ ہے جہاں کی عمارات قدیم طرز تعمیر کے حوالے سے ایک تہذیبی اور تاریخی اہمیت کی حامل ہیں۔ محلہ سیٹھیاں کی وجہ تسیمہ قیام پاکستان سے قبل یہاں آ کر آباد ہونے والے سیٹھی خاندان ہے۔ اپنے عہد کے امیر ترین سیٹھیوں نے پشاور میں اپنی رہائش گاہوں کی تعمیر کے لیے دور دراز ریاستوں سے نہ صرف ماہر کاری گروں کو بلوایا بلکہ انہوں نے اپنی رہائش گاہوں کی تزئین و آرائش میں بھی کوئی کسر اٹھا نہ رکھی اور وسط ایشیائی ریاستوں سے آرائش سامان بھی منگوایا۔ تفصیل سے پڑھئے
کتاب “چچنامہ”۔۔۔ اس کے صفح نمبر 242 اور 243 پر ایک واقعہ درج ہے-
راجہ داہر کے مرنے کے بعد اُسکی دو بیٹیوں کو جنگی قیدی بنا لیا گیا یا تحویل میں لے لیا گیا۔۔۔۔ محمد بن قاسم نے اُنہیں دمشق روانہ کر دیا۔ کچھ دنوں بعد خلیفہ اسلام نے دونوں خواتین کو عدالت میں پیش کرنے کا حکم دیا۔۔۔ راجہ داہر کی بڑی بیٹی کا نام “سُوریادیوی” اور جبکہ چھوٹی بیٹی کا نام “پِرمادیوی” تھا۔۔۔ ۔ تفصیل سے پڑھئے

پوری دنیا کا کارپوریٹ میڈیا عام لوگوں کو سنسنی خیز بے مقصد خبروں اور کہانیوں میں الجھائے رکھتا ہے جن کا عام لوگوں کی زندگیوں اور مسائل سے دور کا بھی واسطہ نہیں ہوتا جس کی سب سے بڑی وجہ کارپوریٹ مالکان کامفادات کی خاطر سیاسی ،تجارتی ، اور نظریاتی گروہوں سے وابسطہ ہونا ہے ۔ کارپوریٹ صحافت سے وابسطہ صحافی وہی کچھ لکھتے ، بتاتے اور دکھاتےہیں جو ان کے مالکان انہیں کہتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
مفتی اعظم فلسطین کا قائد اعظم کے نام خط منظر عام پر آ گیا- اردو ترجمہ حاضر ہے
’’عزت مآب جناب محمد علی جناح صاحب!
السلام علیکم و رحمتہ اللہ و برکاتہ، میں پہلی دفعہ آپ کو خط تحریر کررہا ہوں۔ میرا یہ خط آپ کی ان گراں قدر خدمات پر آپ کیلئے اظہار تشکر ہے جو آپ احکام خداوندی کے مطابق اخوت اسلامی اور مسلمانوں کے مابین تعاون کی خاطر ہندوستان میں ہی نہیں بلکہ سارے اسلامی ممالک میں اسلام اور مسلمانوں کیلئے انجام دے رہے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے

عام طور پر خطوط ' دستاویزات اور تحریروں وغیرہ میں بسم اللہ کے بجائے 786 لکھ دیا جاتا ہے.. کہا یہ جاتا ہے کہ ان کاغذات کے زمین پر گرنے سے بسم اللہ کے پاکیزہ حروف کی بے ادبی ہوتی ہے.. ان کو بےادبی سے بچانے کیلئے 786 لکھ دیا جاتا ہے.. تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اگر آپ بلاگنگ کی دنیا سے تعلق رکھتے ہیں تو یقیناً آپ ورڈ پریس کے بارے میں تو ضرور جانتے ہونگے؟ ورڈ پریس Php اور MySQL پر مبنی ایک نظام ہے جسکی مدد سے آپ بلاگ یا کوئی بھی ویب سائیٹ بالکل مفت بنا سکتے ہیں۔ 2003 سے انٹرنیٹ صارفین اور بلاگرز کا پسندیدہ ورڈ پریس آخر کتنا مقبول ہے؟ اس حوالے سے Pingdom کی جانب سے حال ہی میں ایک رپورٹ جاری کی گئی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
مشرق وسطیٰ کی تاریخ اور پچھلی صدی کی نامور شخصیات میں سے شاید ہی کوئی تھامس ایڈورڈ لارنس (لارنس آف عریبیہ) سے زیادہ پراسرار شہرت کا حامل ہو۔ لارنس آف عریبیہ کی حقیقی زندگی سے متعلق عمومی آگہی نہ ہونے کے برابر ہے اور یہی وجہ ہے کہ لارنس کی شخصیت سے متعلق ڈیوڈ لین کی فلم کے سوا معلومات حاصل کرنے کا کوئی اور ذریعہ عوامی سطح پر دستیاب نہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
دوستوں - آج میں آپ لوگوں کے ساتھ ایک گوگل کی دی گئی ایک سہولت شئیر کر رہا ہوں - جس کی مدد سے آپ کسی بھی تصویر خواہ وہ کسی لڑکی کی ہو یا پھر جس تصویر پر آپ کو شک ہو کہ یہ فیک ہے اس کو آسانی سے پکڑ سکتے ہیں کہ وہ تصویر کونسی ویب سائٹ سے اٹھائی گئی ہے تاکہ آپ لوگوں کو کوئی بھی بیوقوف نہ بنا سکے - تفصیل سے پڑھئے
چونکہ نیا پاکستان بن گیا ہے۔ اس لیے اس امر کی شدت سے ضرورت محسوس کی گئی ہے کہ نصاب بھی نیا ہو۔اردو زبان و قواعد کی تدریس کے لئے نئے نصاب کی ضرورت جتنی آج ہے پہلے کبھی نہ تھی۔ اردو قواعدوانشاء کی انقلابی تدریس کے لئے نیا نصاب پیش خدمت ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

بچپن سے ہی شوق تھا ایک دھونس قسم کا عشق لڑانے کا، ویسےیہ تو کوئی بات نہ ہوئی کہ عشق اگر ذوق و شوق اور ارادے سے کیا جائے تو عشق لڑانا کہلائے اور اگر بے وقوفوں کی طرح پہلی نظر میں ہی دل کسی کی زلفوں کا اسیرہو گیا تو اسےنرم روپہلے جذبوں سے گندی محبت قرار دیا۔ تفصیل سے پڑھئے
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ عقل باغ میں بینچ پر بیٹھی تھی کہ اتنے میں وہاں قسمت آ نکلی اور قسمت نے عقل سے کہا ”میرے لئے جگہ خالی کرو۔“ عقل نے گھمنڈ سے کہا ”میں کیوں تمہارے لئے جگہ خالی کروں، تم مجھ سے زیادہ عالی مرتبت ہو؟ قسمت نے تنک کر کہا ”بہتر اور عالی مرتبہ وہی ہوتا ہے جس کے کارنامے زیادہ ہوں، بحث سے کیا فائدہ، ابھی ثابت کر دیتی ہوں، وہ دیکھو سامنے کھیت میں کسان کا بیٹا ہل چلا رہا ہے، تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
عرب سالار قتیبۃ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا، اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔ اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا چل رہا تھا۔ سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبۃ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک پیغامبر کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔ تفصیل سے پڑھئے
سوشل میڈیا ماہر، ونچینزو کوسنزا کی جانب سے ہر 6 ماہ بعد دنیا بھر میں استعمال کیے جانے والے سوشل میڈیا نیٹورکس کا نقشہ پیش کیا جاتا ہے۔ جس میں الیکزا کی رینکنگ کے تحت مختلف ممالک میں زیادہ استعمال ہونے والی سماجی روابط کی ویب سائیٹس کی تفصیل پیش کی جاتی ہے۔
جولائی 2014 کے تازہ ترین اپڈیٹ کے مطابق اس وقت، الیکزا 137 ممالک کا ڈیٹا جمع کرتی ہے اور اس میں سے 130 ممالک میں فیس بک کی سروس سر فہرست ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
مصر کی ایک کہاوت (احنا دافنینہ سوا ۔ ہم نے اکٹھے ہی تو دفنایا تھا اسے) وہاں پر تو ہر زبان پر زد عام ہے مگر اس کہاوت کے پیچھے کیا کہانی ہے اسے بہت ہی کم لوگ جانتے ہیں۔ مصر میں کہیں دو غریب بھائی رہتے تھے جنہوں نے مشترکہ طور پر ایک گدھا خرید رکھا تھا۔ ان دونوں کی گزر بسر کا انحصار اسی گدھے سے حاصل آمدن پر تھا، ایک گاوں سے دوسرے گاوں اس پر سامان لاد کر لے جاتے اور اپنی روزی روٹی کماتے۔ ان دونوں کو اپنے گدھے سے بہت پیار تھا۔ گدھے کے ساتھ ان کا معاملہ بھائیوں جیسا ہی تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
یہ پچھلے سال ماہ جون کی بات ہے، پاکستانیوں نے عالم حیرت و پریشانی میں یہ خبر سنی کہ امریکی حکومت دنیائے نیٹ پر وسیع پیمانے پر ان کی جاسوسی کررہی ہے۔جو پاکستانی گوگل، سکائی پی، ایم ایس این براؤزر، یاہو، ایپل وغیرہ استعمال کرتا، وہ امریکی انٹیلی جنس ایجنسیوں کے ریڈار میں آجاتا۔ تب ایجنسیاں مسلسل باخبر رہتیں کہ فلاں پاکستانی نیٹ یا موبائل پر کس سے ملاقاتیں اور باتیں کررہا ہے،کن ویب سائٹوں پر جارہا ہے اور اس کی کیا سرگرمیاں ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
مچھیرے کی بيوی اپنے شوہر کی شكار كردہ مچھلی كو چھیل كاٹ رہی تھی كہ اس نے ايک حيرت ناک منظر ديكھا۔۔۔ حيرت نے تو اسكو كو دنگ كر كے ركھ ديا تھا۔۔۔ ايک چمكتا دمكتا موتی مچھلی كے پيٹ ميں۔۔۔ سبحان اللہ ۔۔۔ سرتاج، سرتاج، آؤ ديكھو تو، مجھے كيا ملا ہے۔۔۔ كيا ملا ہے، بتاؤ تو سہی۔۔۔ یہ دیکھو اتنا خوبصورت موتی ۔۔۔ كدھر سے ملا ہے۔۔۔ مچھلی کے پيٹ سے۔۔۔ لاؤ مجھے دو ميری پياری بيوی، لگتا ہے آج ہماری خوش قسمتی ہے جو اس كو بيچ كر مچھلی كے علاوہ كچھ اور كھانا کھانے كو ملے گا۔۔۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
آج لاکھوں ڈالرز ارتقاء کی حمایت میں ہونے والے مطالعہ پر خرچ کیے جاتے ہیں۔ ارتقاء کے مطالعہ کا مطلب ہے نئے فریب کی تعمیر اور اسے میڈیا کے ذریعے پھیلانے کی تیاریاں۔ یہ پیسا، جو کہ سائنس کی ترقی ، طبی مقاصد، کینسر کے علاج جیسے کہ الزائمر کی بیماری کے خاتمے کے لئے استعمال ہو سکتا تھا، یا پھر افریقا میں اکال کی وجہ سے لاکھوں افراد کو مرنے سے بچانے کے لئے استعمال ہو سکتا تھا۔پر اس پیسے کو معصوم لوگوں سے دور کر کے ایک فریب میں لگایا جا رہا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
ایک دن سلطان محمود غزنوی حسبِ معمول دربار میں بیٹھے ہوۓ تھے۔ وزراء و امراء دست بستہ حاضر تھے۔ عام لوگ اپنی اپنی عرضیاں اور شکایات پیش کر رہے تھے، ایک شخص نے آکر عرض کی "حضور! میری شکایت نہایت سنگین ہے اور کچھ اس قسم کی ہے کہ میں اسے برسرِ دربار سب کے سامنے پیش نہیں کر سکتا"تفصیل سے پڑھئے
سکندر 350 سے 10 جون 323 قبل مسیح تک مقدونیہ کا حکمران رہا۔ اس نے ارسطو جیسے استاد کی صحبت پائی۔ کم عمری ہی میں یونان کی شہری ریاستوں کے ساتھ مصر اور فارس تک فتح کرلیا۔ کئی اور سلطنتیں بھی اس نے فتح کیں جس کے بعد اس کی حکمرانی یونان سے لیکر ہندوستان کی سرحدوں تک پھیل گئ۔ صرف بائیس سال کی عمر میں وہ دنیا فتح کرنے کے لیے نکلا۔   تفصیل سے پڑھئے
سقراط ماہر القادری sacrates- کہا جاتا ہے کہ یونان کے فلسفی سقراط (469 ق م۔ 399ق م)نے خودکبھی ایک حرف بھی نہیں لکھا لیکن اس کے کہے لفظوں اور تعلیمات نے معاشرہ پر اتنے گہرے نقوش مرتب کیے کہ وہ یونانی ادب کے اہم ترین مشاہیر کی صف میں جگہ پانے کا مستحق ٹھہرا۔ فلسفہ کی تاریخ میں تو ظاہر ہے اسے مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
دوسرے ہی دن شہر کا ایک دروازہ کھلا۔ پانچ چھ گھوڑ سوار باہر آئے۔ سب سے آگے والے گھوڑ سوار کی پوشاک بتاتی تھی کہ اس کا تعلق شاہی خاندان کے ساتھ ہے یا وہ کوئی بڑا افسر ہے۔ اس کے ایک پہلو کے ساتھ والے سوار نے سفید جھنڈا اٹھا رکھا تھا جس سے ظاہر ہوتا تھا کہ وہ صلح اور سمجھوتے کا پیغام لائے ہیں۔ ان کے ساتھ ایک ترجمان بھی تھا جو عرب اور عجم کی زبانیں جانتا تھا۔ گھوڑ سوار کچھ اور آگے آکررُک گئے ۔ترجمان ذرا آگے آگیا:- تفصیل سے پڑھئے
مشاعرہ اردو زبان و تہذیب کی ایک ایسی خوبصورت روایت ہے جس کی مثال دنیا کی دوسری زبانوں کے ادب اور ثقافت میں بمشکل ہی ملے گی۔ زمانہ قدیم سے لے کر آج تک شاعری قلب و ذہن پر گزرنے والی ہر واردات اور کیفیت کے اظہار اور ابلاغ کا سب سے موثر ذریعہ ہے۔ بہ قول شاعر:
جو دل پہ گزرتی ہے رقم کرتے رہیں گے- تفصیل سے پڑھئے
قدیم روایات میں مزکور ہے کہ جب سلیمان کو ملکہ بلقیس اور اس کی شاندار سلطنت کی بابت علم ہوا تو انہوں نے ملکہ کو قبول اطاعت کی غرض سے ایک خط لکھا (یہ خط ہدہد نامی اسی پرندے نے ملکہ تک پہنچایا جس نے سلیمان کو سلطنت سبا کی خبر دی تھی) ۔ تفصیل سے پڑھئے
مشہور مستشرق مصور، تئیس سال کی عمر میں اس نے اپنے وطن انگلستان کو خیر آباد کہا اور خانہ بدوشی کی زندگی اپنا لی جو تادم مرگ قائم رہی۔۔ ایڈورڈ لیر کی پینٹنگ میں "لائن ورک" اپنے حد کمال کو پہنچا ہوا ہے۔ جیسے اس پینٹنگ میں درختوں کی شاخوں کو پینٹ کرتے ہوئے "لائن ورک" کا خوبصورت استعمال کیا گیا ہے۔۔ یہ پینٹنگ، اہرام مصر "گیزا" کی طرف جانے والے رستے کی ہے۔مصور نے انتہائی مہارت اور جزیات کے ساتھ اسے پینٹ کیا ہے۔۔
Painting:-  The Pyramids Road, Gizah' by Edward Lear, British. Oil, 1873

حرم مشرق کے بادشاہوں کے محلات کا ایک لازمی حصہ رہے ہیں۔ ان کی وسعت، خوبصورتی اور ان میں جاری زندگی کی رنگینی اور چکاچوند سے امارت اور اور شوکت کا اظہار ہوتا تھا۔ حرم میں مقیم خواتین کے درمیان، لباس، حسن،اثرورسوخ اور ملکیت، غرض ہر چیز میں مسابقت جاری رہتی۔
گوکہ مستشرق مصوروں کی براہ راست رسائی حرم کی پراسرار دنیا تک نہ تھی، لیکن انہوں نے زبانی تفصیلات اور تخیلات کی بنیاد پر بہت سے ایسے شاہکار فن پارے تخلیق کیے جو حرم کی زندگی کی منظر کشی کرتے ہیں۔ عہد عثمانیہ میں ترکی کے اندر برطانوی سفیر کی بیوی لیڈی میری نے سلاطین عثمانیہ کے احرام تک رسائی حاصل کی اور اس کے رنگ ونور میں ڈوبے رازوں کو 1718ء میں قلمبند کیا۔ اس دور کے یورپ میں اس کتاب کو انتہائی رشک سے پڑھا جاتا تھا۔ بعد میں کئی اور یورپی خواتین نے بھی عوامی مقبولیت کے پیش نظر اس پوشیدہ دنیا کے آنکھوں دیکھے احوال قلمبند کیے۔ ان میں صوفیہ لور کی کتاب کو بھی اٹھارہویں صدی میں کافی شہرت ملی۔
مشہور مستشرق مصور، جین لین جیروم، نے انہی زبانی خاکوں کی مدد سے کئی یادگار تصویریں مصور کیں۔ جیسے کہ یہ تصویر جو آئل پینٹ سے تخلیق ہوئی۔ اس میں رنگوں کا بہترین امتزاج اور منظر کی جزیات کمال فن کا مظہر ہے۔
Painting:
Life in hareem, by
Jean Leon Jerome
صبح آنکھ کھلی تو باوجود سردی  ،  موسم بہار جیسی راحت پائی تو دل باغ باغ ہوگیا۔ کمرے کی لائٹ آن کی تو خلافِ معمول لائٹ آرہی تھی۔ٹی وی آن کیا تو جیو کے علاوہ تمام چینلز آرہے تھے اور ہر ایک چینل پر کوئی نہ کوئی خوشخبری چل رہی تھی، کہیں لوڈشیڈنگ کا خاتمہ تو کہیں ملک بھر میں لاکھوں سکولوں کا قیام، سرکاری ہسپتالوں میں لوگ بیرونِ ملک سے علاج کروانے آرہے تھے تو کہیں نئے پاکستان کی یونیورسٹیوں اور کمپنیوں میں داخلہ اور نوکری کے خواہشمندوں نے ایمبیسی کے سامنے طویل لائن لگائی ہوئی تھی۔ تفصیل سے پڑھئے
خاکسار تحریک کے بانی، ادیب، عالم دین اور ممتاز ریاضی دان علامہ عنایت اللہ مشرقی 25 اگست 1883ء کو امرتسر میں پیدا ہوئے۔انہوں نے کیمبرج یونیورسٹی انگلستان سے ریاضی اور طبعیات کے شعبوں میں اعلیٰ امتیازات حاصل کئے تھے۔ 1926ء میں مصرمیں موتمر اسلامی کی کانفرنس ہوئی، اس میںصاحب تذکرہ علامہ عنایت اللہ مشرقی کو بھی مدعو کیا گیا۔ اس عظیم کانفرنس میں دنیا بھر کے ہوشمند اور صاحب علم مسلمان رہنمائوں نے شمولیت کی ،وہاں پر آپ کو بھی خطاب کی دعوت دی گئی۔ تفصیل سے پڑھئے
الجیریا کا رہنے والا محمد رسیم بیسویں صدی عیسوی کا ایک اعلیٰ پاۓ کا مصور تھا-اسے الجیری منی ایچر پینٹنگ کا باپ کہا جاتا ہے- بارہویں صدی قبل مسیح میں الجیریا پر فونیشیوں نے قبضہ کر لیا تب یہ علاقے کی تجارت کا اہم مرکز بن گیا- اس کی بندرگاہ ایک اہم تجارتی مرکز کے طور پر جانی جاتی رہی ہے_ یہاں کے مقامی باشندے بربر کہلاتے تھے جنہوں نے فونیشیوں کے بعد یہاں نومیڈیا سلطنت کی بنیاد رکھی اور کارتھیجیوں اور رومنوں سے مختلف ادوار میں برسر پیکار رہے_اندلس کی فتح انہیں بربر افواج کی بہادری کی مرہون منت ہے_جب اندلس میں مسلمانوں کی حکومت زوال پزیر ہونے لگی تو الجیریا میں المورید کی سلطنت قائم ہوئی جنہوں نے اندلس پر حملہ کر کہ بنی امیہ کی اسلامی حکومت کو استحکام بخشا-
الجیریا کے باشندے اپنی بحری مہمات کی وجہ سے شہرت رکھتے تھے- اندلس پر بحری مہم جوئی سے لے کر ترک عثمانی سلطنت کی یورپ پر بحری مہمات تک ان بربروں کا کردار لاثانی تھا-
یہ تصویر سترہویں صدی کے ایک بحری کمانڈر کی ہے جسے سونے کی پتریوں سے محمد رسیم نے بنایا_ترک عثمانی خلفاء نے اس کمآنڈر کی خدمات اس وقت طلب کی جب یورپی بحری افواج نے عثمانیہ سلطنت کے کچھ ساحلی شہروں پر قبضہ کر لیا تھا_
شاید ہی کوئی بشر ہو جس نے اپنے آپ سے یا دوسروں سے کبھی یہ سوال نہ کیے ہوں کہ ؛ میں کون ہوں؟ کہاں سے آیا ہوں؟کدھر کو جاؤں گا؟کیا موت پر میری زندگی کا خاتمہ ہو جائے گا؟میرے علم کی رسائی کہاں تک ہے؟ وہ سوالات جن کا فلسفے میں احاطہ کیا جاتا ہے لامتناہی حد تک متنوع ہیں البتہ کچھ سوالات کو ہم مختصراً یوں بیان کر سکتے ہیں:
*کائنات کی بے کراں وسعتوں میں انسان کا مقام کیا ہے؟ تفصیل سے پڑھئے

’’اگر وہ یہ بات مجھ سے کرتا تو میں اسے سمجھاتا۔ ‘‘راہب نے کہا۔’’ وہ خداکا حکم تھاکہ موسیٰ نکل آئے اور فرعون کا لشکر ڈوب جائے……یہاں کون موسیٰ ہے؟ فرعون کون ہے؟ ہم اگر مسلمانوں کے دشمن ہیں تو مسلمان فرعون تو نہیں ہو جاتے۔ فرعونوں والے اوصاف تو ان آتش پرستوں کے ہیں۔ ان کے بادشاہوں کا حکم ہے کہ جو کوئی دربار میں آئے ،پہلے سجدہ کرے۔ مسلمان خدا کے سوا کسی اور کے آگے سجدہ نہیں کرتے نہ ہی یہ بادشاہت کو مانتے ہیں……ہم مسلمانوں کو تباہ و برباد کر کے اسلام کو ختم کرنا چاہتے ہیں۔ لیکن ہمارے چاہنے سے وہ قوت کمزور تو نہیں ہو جاتی جو مسلمانوں کوفتح پر فتح دیتی چلی آرہی ہے۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
جرمنی کا شمار غیرملکی طلباء کے لیے پرکشش ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ انگریزی نہ بولنے والے ممالک میں یہ پہلے نمبر پر آتا ہے۔ یہ جرمنی کی دس مقبول ترین یونیورسٹیاں ہیں۔

وزیراعظم ہاؤس میں میٹنگ جاری تھی۔ اس اعلیٰ سطحی میٹنگ میں زیادہ تعداد قانونی مشیروں کی تھی۔ ہماری جان پہچان والے کچھ دوست بھی اس اہم میٹنگ میں شریک تھے۔ میاں صاحب نے ہر ایک کی بات غور سے سنی اور ماسوائے چند ایک مختصر جملوں کے باقی وقت خاموش رہے۔ سیاسی اور قانونی مشیروں کی یہ میٹنگ ساڑھے تین گھنٹے جاری رہی اور اس میٹنگ کے تقریباً اسی فی صد افراد نے ایک ہی مشورہ دیا- تفصیل سے پڑھئے
حضرت حزیفہ بن یمانؓ حضرت عبداللہ بن جابرؓ کے مزارات کے ساتھ اسی صدی میں ایک عجیب و غریب اور ایمان افروز واقعہ رونما ہوا جو آجکل بہت کم لوگوں کو معلوم ہے۔ یہ واقعہ میں نے پہلی بار جناب مولانا ظفر احمد صاحب انصاری مد ظلہم سے سنا تھا۔ پھر بغداد میں وزارت اوقاف کے ڑائریکٹرتعلقات عامہ جناب خیراللہ حدیثی صاحب بھی اجمالاّ اس کا زکر کیا ۔ تفصیل سے پڑھئے
6 ستمبر 1965ء کا ذکر ہے کہ ہمارے ازلی دشمن بھارت نے رات کے اندھیرے میں چوروں کی طرح پاکستان کے دل لاہور پر حملہ کر دیا”۔ ہم سب بچپن سے ہی اس نصابی جملے سے بہت مانوس ہیں، اور یہ الفاظ ہمارے ذہنوں میں اس وقت تک ایک لازوال تاریخی حقیقت کے طور پر ثبت رہے جب تک ہماری نسل خود جوان ہو کر صحافی، سپاہی اور لکھاری نہ بن گئی۔ ہمیں اس سے ایک پرجوش، محب وطن نوجوان نسل تو مل گئی، لیکن وہ نسل کچھ قیمتی اسباق سے محروم رہ گئی۔ یوم دفاع آج بھی ہمیں چلا چلا کر کہہ رہا ہے کہ ہم اس محرومی کا ازالہ کریں۔ ذیل کے مضمون میں ہم اس تاریخی غلط فہمی سے خصوصی بحث کریں گے کہ جنگ کا آغاز کس جانب سے ہوا اور اس جنگ کے شروع کرنے میں کس فریق کا کتنا کردار رہا۔ ہماری عمومی بحث اس کے نتائج سے متعلق ہو گی۔ تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers