پاکستان جس خطے میں واقع ہے اس کی تاریخ بہت قدیم ہے انسانی تاریخ کے کئی ایک واقعات کا تو آغاز ہی یہاں سے ہوا تب سے یہ سرزمین مسلسل آباد ہے ملک کے طول و عرض میں بے شمار ایسے مقامات بکھرے ہوئے ہیں جو گزشتہ ادوار کی تہذیب و تمدن اور وقار کا ثبوت فراہم کرتے ہیں۔ اوکاڑہ کے نزدیک دریائے راوی کے کنارے پر ایک گائوں ستگھرہ آباد ہے۔ ستگھرہ کی وجہ شہرت عظیم بلوچ سردار میر چاکررند کا قلعہ اور مقبرہ ہے تاریخ سے دلچسپی رکھنے والے سیاحوں کے علاوہ بلوچ رہنما اکثر یہاں آتے رہتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
حضرت نظام الدین اولیاءؒ اکثر ایک جملہ کہا کرتے تھے کہ ’’ہم سے تو دھوبی کا بیٹا ہی خوش نصیب نکلا، ہم سے تو اتنا بھی نہ ہو سکا‘‘۔ پھر غش کھا جاتے- ایک دن ان کے مریدوں نے پوچھ لیا کہ حضرت یہ دھوبی کے بیٹے والا کیا ماجرا ہے؟
آپؒ نے فرمایا ایک دھوبی کے پاس محل سے کپڑ ے دھلنے آیا کرتے تھے اور وہ میاں بیوی کپڑ ے دھو کر پریس کر کے واپس محل پہنچا دیا کرتے تھے- تفصیل سے پڑھئے
قائد اعظم ، پچھلی صفوں میں عید کی نماز پڑھتے ہوے(کراچی 1948)- عید گاہ میں نماز عید کی تمام تیاریاں مکمل ہیں۔ چاق و چوبند نوکر شاہی انتہائی مستعدی سے نماز عید کے حتمی انتظامات کا جائزہ لے رہے۔ نماز کا وقت قریب آرہا ہے۔ سربراہ مملکت کا انتظار ہے جن کی آمد میں تاخیر ہوتی جارہی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
یونانی عقلی فلسفہ افلاطون اور ارسطو کی صورت میں اپنے منتہیٰ کمال کو پہنج گیا _افلاطون نے دو عالموں کا تصور پیش کیا_ یہ نظریہ تاریخِ فلسفہ میں افلاطونیت یا مثالیت (idealism ) کہلاتا ہے،ایک ظاہری عالم جس کا ادراک ہم اپنے حواس سے کرتے ہیں اور دوسرا عالم امثال جس تک رسائ صرف فکر اور عقلِ استدلالی سے ہی ممکن ہے -  کائنات میں جو کچھ بھی موجود ہے وہ اس عالم امثال کا عکس ہے - تفصیل سے پڑھئے
پرانے دور کی عمارت جدت پسندی کی راہ میں غبار خاک ہوئیں تو ان سے وابستہ گئے دنوں کا پورا طرز زندگی بھی قصہ پارینہ ٹھہرا۔ ان عمارات سے صرف یادیں ہی وابستہ نہ تھیں بلکہ ان کا قدیم طرز تعمیر بھی ہمارے لیے ایک انتہائی قیمتی سرمایہ تھا۔ آج بہت کچھ بدل چکا ہے نہ وہ صاف ستھرا کراچی ہے- تفصیل سے پڑھئے
قلعہ بالا حصار، پشاور کا سب سے قدیم اور تاریخی مقام ہے یہ قلعہ اتنا پرانا ہے جتنا کہ پشاور کا شہر، قلعہ کی زمین سے مجموعی بلندی بانوے فٹ ہے اس کی دیواریں پختہ سرخ اینٹوں سے تعمیر کی گئی ہیں قلعہ کی اندرونی دیوار کی بلندی پچاس فٹ ہے۔ دوہری دیواروں والے اس قلعہ کا کل رقبہ سوا پندرہ ایکڑ رقبہ پر محیط ہے- تفصیل سے پڑھئے
آپ نے مشہور کھیل "شطرنج یا Chess" کا نام تو سنا ہی ہوگا۔ اِس کھیل کا آغاز چھٹی صدی عیسوی میں ہندوستان سے ہوا تھا۔ اس کا اصل نام "چت رنگا" تھا۔ کیونکہ اس میں چار قسم کے مہرے استعمال ہوتے تھے، لیکن ایرانیوں نے اس کو بدل کر شطرنج کر دیا اور آج اسی نام سے مشہور ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
تاریخی طور پر لاہور شہر کی قدامت کا قطعی اور حتمی تعین کرنا مشکل ہے، بعض روایات کے مطابق یہ شہر راما کے بیٹے "لوہ" نے آباد کیا اس لحاظ سے اس کی قدامت تقریباً چار ہزار سال بنتی ہے، البتہ جدید تاریخی تحقیق کے مطابق یہ شہر تقریباً دو ہزار سال پہلے آباد ہوا۔ تفصیل سے پڑھئے
کتب تاریخ میں ’جاہلیت‘ کا مفہوم:- اسلام سے پہلے عرب معاشرے کی تاریخ بیان کرتے ہوئے مؤرخین اور سیرت نگار ’جاہلیت‘ کا تذکرہ کرتے ہیں لیکن ایسی کتابوں میں عربوں کی چند رسومات کو بیان کرنے پر اکتفا کیا گیا ہے۔نیز مورخین اور سیرت نگار جاہلیت کے بیان میں قدیم عرب معاشرے میں پائے جانے والے ظاہری انحراف کو ہی بیان کرتے ہیں ۔جاہلیت کے شرعی مفہوم اور معنی کو بیان کرنے میں ان کی دلچسپی زیادہ نہیں رہی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ایک حسین عورت جس کے نرم ہاتھوں کی انگلیاں ستار بجاتی تھیں، کیا اس کے بارے میں سوچا جاسکتا ہے، اسے دشمن فوج کے ہاتھوں قتل کیا جائے گا مگر ایسا ہوا، تاریخ ہمیں اس کی کہانی سناتی ہے۔ دوسری جنگ عظیم میں جب جرمنی کے نازیوں نے فرانس پر قبضہ کیا، تو برطانیہ نے دشمن پر نظر رکھنے اور خفیہ اطلاعات حاصل کرنے کے لیے اس عورت کو جاسوس بناکر فرانس کے مقبوضہ علاقے میں بھیجا تاکہ وہ انھیں دشمن کی خبریں دے سکے۔ تفصیل سے پڑھئے
’’عبرت پھر بھی کسی نے حاصل نہ کی۔‘‘ سفید ریش بزرگ نے کہا۔ ’’جس نے انسانیت کو اپنا غلام بنایا اس کا انجام یہی ہوا……انسان کی یہ فطرت ہے کہ وہ گزرے ہوئے وقت کی لغزشوں اور نادانیوں کو بھول کر گزرے ہوئے وقت کو ہی سب کچھ سمجھتا ہے ۔ماضی سے عبرت حاصل نہ کرنے والوں کا یہی حشر ہوتا ہے۔ عیش و عشرت میں جو پڑ جاتے ہیں وہ چڑھتے سورج کے پجاری ہوتے ہیں اور یہ نہیں دیکھتے کہ یہ سورج ڈوب بھی جایا کرتا ہے ……تم ان کھنڈروں کے اندر آؤ‘ تمہیں فارس کی بادشای کے محافظ سِسکتے اور کراہتے نظر آئیں گے۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے

وادئ سوات اپنی فطری خوب صورتی، دل کشی اور رعنائی کی وجہ سے بِلا شبہ پاکستان کا ایک حسین ترین خِطہ ہے۔ اس کے قدرتی مناظر، شفاف ندیاں، طلسماتی جھیلیں، بلند آبشار، پُر شور دریا اور با رونق میدانی علاقے ہر شخص کا دِل موہ لیتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
’’اٹک‘‘ کا نام پنجاب اور سرحد کے سنگھم پر اکبری دور میں تعمیر کیے گئے قلعہ اٹك بنارس کی وجہ سے آغاز ہوا۔ اس بات کا ثبوت اس سے بڑھ کر اور کیا ہو سکتا ہے کہ قلعہ’’اٹک بنارس‘‘ کی تعمیر سے پہلے اس علاقہ کو ’’اٹک‘‘ کے نام سے پکارے جانے کی کوئی شہادت نہیں ملتی۔ قلعہ ’’اٹک بنارس‘‘ جی ٹی روڈ پر دریائے سندھ کے کنارے موجودہ ’’اٹک خورد‘‘ کے مقام پر واقع ہے۔ اس قلعے کو ۱۵۸۱ میں مغل بادشاہ اکبر اعظم نے اپنے سوتیلے بھائی مرزا حکیم(گورنر کابل) کو شکست دینے کے بعدواپس ہندوستان آتے ہوئے بنوایا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
تمام کچے پکے اصلی نقلی کالے پیلے سیکولرز لبرلز اور ملحد حضرات سے گزارش ہے میری پوسٹ پڑھنے سے پہلے منہ میں ہاجمولہ رکھ لیں ورنہ اپنی ذمہ داری پر پڑھیں۔ کیوں کہ میری اطلاعات کے مطابق ہر جگہ مرچیں موسم کے حساب سے لگتیں ہیں لیکن لبرلز کے ہاں جب سچ بولو تب ہی لگ جاتی ہیں۔ آخر ''فریڈم آف سپیچ'' کا زمانہ ہے بئی۔ تفصیل سے پڑھئے
اگر چہ اس افسوس ناک حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ اسلام سے قبل کے ان آسمانی مذاہب میں بھی خود ان کے ماننے والوں اور دینی رہنماؤں کی دست اندازیوں کے سبب رفتہ رفتہ اس خدائے واحد کو شرک آمیز خرافاتی تصویر کے قالب میں ڈھالنے کی کوشش کی گئی ہے ۔چنانچہ ہم یہاں، دنیا کے مشہور و معروف ادیان و مذاہب خدا کے بارہ میں کس کس طرح کا عقیدہ و تصور رکھتے ہیں ان کی طرف اجمالی طور پر اشارہ کر رہے ہیں ۔پہلے ہم ہندو مذہب میں خدا کا تصور پیش کرتے ہیں ۔  تفصیل سے پڑھئے

یہ ہے تاریخ کا سب سے پہلا کیمیا دان اور عظیم مسلمان سائنسدان جابر بن حیان ۔ دنیا آج تک اسے بابائے کیمیا کے نام سے جانتی ہے ۔ اہل مغرب ’’Geber ‘‘کے نام سے جانتے ہیں ۔ جابر بن حیان کو کیمیا کا بانی مانا جاتا ہے ۔وہ کیمیا کے تمام عملی تجربات سے واقف تھا۔ تفصیل سے پڑھئے

سعد ؓبن ابی وقاص نے مجاہدین کی ایک جماعت الگ کر کے اسے ساتھ لیا اور وہاں لے گئے جاں عورتیں اور بچے تھے۔ جماعت کا امیر مقرر کیا اور اسے بتایا کہ وہ اپنی جماعت کے ساتھ عورتو ں اور بچوں کی حفاظت کیلئے یہیں رہے گا۔ عورتوں نے سعدؓ کو اپنے گھوڑے بلقاء پر سوار آتے دیکھا تو انہوں نے مسرت و شادمانی کا ہنگامہ بپا کر دیا۔ انہوں نے تو سنا تھا کہ سعد ؓبالا خانے میں معذور پڑے ہیں ۔سلمیٰ عورتوں میں جاتی رہتی اور انہیں ہر بار یہی بتاتی تھی کہ سعدؓ روز بروز زیادہ ہی معذور ہوتے جارہے ہیں مگر سعدؓ کو عورتیں گھوڑے پر آتا دیکھ رہی تھیں ۔وہ سب باہر آگئیں۔ تفصیل سے پڑھئے

ہمیں تو ہماری نصابی کتابوں نے بہت پہلے ہی مار ڈالا۔ کتنے بچے جانتے ہیں کہ پاکستان بنانے والے محمد علی جناح شیعہ خوجہ تھے۔ کس اسکول میں یہ پڑھایا جاتا ہے کہ پاکستان کی آئین ساز اسمبلی کا پہلا اسپیکر اور پہلا وزیرِ قانون و انصاف ایک نچلی ذات کا بنگالی ہندو جوگندر ناتھ منڈل تھا۔ تین سال تک لیاقت کابینہ میں شامل رہا اور پھر دل برداشتہ ہو کر پاکستان سے ہی چلا گیا۔ تفصیل سے پڑھئے
احتجاج، توڑ پھوڑ ، حملے، الزامات اور شرانگیز تقاریر کے ذریعے آنے والا ’’انقلاب‘‘ میری سمجھ سے بالاتر ہے۔
پاکستان عوامی تحریک کے کارکنوں اور پولیس کے درمیان دھواں دار جھڑپیں، کارکن جاں بحق، پولیس اہلکار زخمی۔ میں نے آنکھیں جھپکائیں اور دوبارہ خبر پر اپنی نگاہیں مرکوز کردیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری کے جذبانی کارکنوں نے ماڈل ٹاؤن کے مرکز سے نکل کر خود سے کنٹینرز کو ہٹایا - تفصیل سے پڑھئے
کوئی اس کو فرشتہ سمجھ رہا ہے، کسی کے نزدیک یہ کوئی بھوت ہے جبکہ کچھ سیانے اسے خلائی مخلوق کا زمینی ورژن سمجھ رہے ہیں۔ فوٹو فیس بک
ترقی کے آسمان پر ہلکورے لیتا مغرب ہو یا پسماندگی کے گٹر میں کسمساتا مشرق توہم پرستی نوعِ انسانی کا وہ مشترکہ دائمی مرض ہے جسے علم و آگہی کی صدیوں پر پھیلی جدوجہد بھی کمزور نہ کر سکی۔ وہم کی فیکڑیوں اور کارخانوں سے نکلنے والے وائرس کے سامنے دانش وروں کی دانش، سائنس دانوں کی سائنس، فلسفیوں کا فلسفہ اور عالموں کا علم سب ہیچ ہیں۔صدیوں سے وہم کی آندھیاں یقین کی کھیتیوں کو اجاڑتی ،تفصیل سے پڑھئے
اللہ تعالیٰ نے اپنے محبوب حضرت محمد مصطفےٰ ﷺ کی دنیا میں تشریف آوری بھی قانوں فطرت کے مطابق کروائی ۔یعنی ماں باپ کے ذریعے۔ حضور سرورِ کائنات ﷺ کے والد گرامی کا اسم مبارک سیدنا عبد اللہ ،کنیت ابو محمد اور لقب ذبیح ہے ۔ آپ کی ولادتِ پاک مکہ میں ہوئی ۔آپ دوسرے بھائیوں میں حسن و جمال کے لحاظ سے لاثانی تھے ۔ تفصیل سے پڑھئے
نام سلطان صلاح الدین ایوبی تاریخ پیداش 1156ئ- وہ کرد نسل سے تھا۔ تاہم سلطان کا باپ نجم الدین آذربائیجان کار ہنے والا تھا۔وہ جوانی میں بغداد سے چلا آیا جہاں اپنی ذہنی صلاحیت اور جسمانی قابلیت سے اسے قلعہ تکر یت کی قلعداری کا منصب مل گیا۔ لیکن اسے قلعہ داری چھوڑنی پڑی اور وہ مصیبت اور پریشانی کے عالم میں اپنے چھوٹے بھائی اسدالدین شیر کوہ کوساتھ لے کر موصل کے حاکم اتابک شہید زنگی کے پاس چلا گیا۔ تفصیل سے پڑھئے
سقراط کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ یونان کے روایتی شہریوں کی طرح خوبصورت اور پر کشش نہ تھا بلکہ وہ جسمانی لحاظ سے بھدا اور بدصورت تھا۔ اس لیے بچپن میں اس کے اسکول کے ساتھی اسے مینڈک کہا کرتے تھے۔ اس کے قریبی دوست کرائیٹو نے اس کا حلیہ بیان کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ ہمیشہ ہی سے بے فکرہ اور لاپرواہ تھا۔ اس کے چھوٹے قد پر بے ترتیب شکنوں سے پُر لباس ہوتا۔ اس کے ہونٹ موٹے اور کھردرے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
طارق بن زیاد بن عبداللہ ہسپانیہ کے پہلے فاتح اور اسلام کے پہلے والی تھے۔ دنیا کے بہترین سپہ سالاروں میں سے ایک تھے۔ طار قبن زیاد نے ایک مختصر فوج کے ساتھ یورپ کے عظیم سپین کو فتح کیا تھا۔ اور یہاں دین اسلام کاعلم بلند کیا تھا۔ اسپین کی فتح اور یہاں پراسلامی حکومت کا قیام ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس نے یورپ کو سیاسی‘ معاشی اور ثقافتی پسماندگی سے نکال کر ایک نئی بصیرت فکر عطا کی تھی۔ اور اس پر ناقابل فراموش اثرات مرتب کیے تھے۔
طار ق بن زیاد ایک متقی، فرض شناس اور بلندہمت انسان تھے۔ ان کے حسن اخلاق کی بنیاد پر عوام اور فوجی سپاہی انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے


بھارت کا نام سنیں تو سب سے پہلا خیال تاج محل کا آتا ہے اس کے مینار محراب اور ونیلایعنی مخروطی گنبد اپنے دیکھنے والے کو سحر انگیز کردیتے ہیں۔ ایک ایسا جادو بھرا منظر کہ سیاح دنیا ہی بھول جائیں۔ یہ عجوبہ اپنی بناوٹ میں کہیں بھی جھوٹ بولتا نظر نہیں آتا۔ اس کے چاروں طرف عشق رقصاںہے اور شاہ جہاں کی پر سرور روح لوگوں کے تاثرات دیکھ کر چار سو سال قبل تعمیر ہونے والے اس شاہکار پر فخر محسوس کر رہی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

18 جون1815ء کی شام کے چھ بجے تھا۔ ڈیوک آف ولنگٹن نے واٹرلو کی جنگ ہار رہا تھا۔ وہ اپنے افسروں پر برس رہا تھا۔ وہ کہہ رہا تھا مجھے جنرل بلوشر پکڑ کر لا دو یا پھر تم سب برباد کر دیئے جائو گے۔ دراصل وہ بہت حیران ہو رہا تھا کہ جنرل بلوشر روسی فوج کی کمان کرتا ہوا اچانک وارد ہوا اور فرانسیسی فوج کو تہس نہس کرکے رکھ دیا تھا۔ جنرل بلوشر کے حملے سے فرانسیسی فوج بہت بری حالت میں تھی۔ تفصیل سے پڑھئے
ڈیل کارنیگی جان ڈی راک فیلر سینئر 33 سال کی عمر میں لکھ پتی بن چکا تھا اور 43 سال کی عمر میں اس نے دنیا میں تیل کی سب سے بڑی کمپنی، سٹینڈرڈ آئل کمپنی، قائم کرلی تھی۔ لیکن 53 ویں سال وہ کہاں تھا؟ 53 سال کی عمر میں پریشانیاں اس پر غالب آچکی تھیں۔ تفکرات اور اعصاب زدگی کی زندگی اس کی صحت کا پہلے ہی دیوالیہ نکال چکی تھی۔ اس کے ایک سوانح نگار جان کے ونکر کے الفاظ میں،’’53 سال کی عمر میں وہ ایک حنوظ شدہ نعش کی مانند نظر آتا تھا۔‘‘ 53 سال کی عمر میں ہاضمے اور معدے کی عجیب و غریب اور پراسرار بیماریوں نے راک فیلر پر حملہ کیا اور پلکوں سمیت اس کے سارے بال گرادیئے۔ صرف اس کی بھنوؤں کی ہلکی سی لکیر باقی رہ گئی۔ ونکر لکھتا ہے،’’اس کی حالت اس قدر خطرناک ہوچکی تھی کہ وہ صرف دودھ پر گزارہ کرنے پر مجبور ہوگیا۔‘‘تفصیل سے پڑھئے
’’بے شک امیرالمومنین !‘‘سب نے کہا۔’’ ان کا انجام یہی ہوتا ہے۔‘‘
’’خدا کی قسم!‘‘حضرت عمرؓ نے کہا ۔’’یہ کارنامہ ہمارے مجاہدین کا ہے۔ انہوں نے اﷲ اور رسول() کی لاج رکھ لی ہے، اور کفار پر ثابت کر دیا ہے کہ اسلام سچا دین ہے۔ عمرو بن معدی کرب اور بشر بن ربیعہ انہی مجاہدین میں سے ہیں۔ مجھے مشورہ دو میرے عزیزوں‘ کیا میں سعد کو اجازت دے دوں کہ وہ ان دونوں کو کچھ فالتو رقم دے دے؟‘‘
’’ابنِ الخطاب !‘‘ایک ضعیف العمر صحابی ؓبولے ۔’’جہاں تو نے خمس بھی مجاہدین میں تقسیم کرا دیا۔ وہاں ان دونوں کو تھوڑا سا حصہ فالتو مل گیا تو اﷲ تجھ سے باز پرس نہیں کرے گا۔ یہ نہ دیکھ کہ انہوں نے فالتو حصہ کس طرح مانگا ہے ،یہ دیکھ کہ انہوں نے کیا کارنامہ کیا ہے۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے

ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻦ ﺩﯾﻨﺎﺭ ﺭﺣﻤﺘﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐى ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺎ ﺳﺒﺐ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ .. “ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﮏ ﺳﭙﺎﮨﯽ ﺗﮭﺎ ﺍﻭﺭ ﺷﺮﺍﺏ ﮐاﺭﺳﯿﺎ ﺗﮭﺎ . ﻣﯿﮟ ﻧﮯﺍﯾﮏ ﻧﻔﯿﺲ ﺑﺎﻧﺪﯼ ﺧﺮﯾﺪﯼ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺧﺎﺹ ﻣﻘﺎﻡ ﮐﯽ ﻣﺎﻟﮏ ﺑﻦ ﮔﺌﯽ . ﺍﺱ ﺳﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﯾﮏ ﺑﭽﯽ ﭘﯿﺪﺍﮨﻮﺋﯽ . ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺑﭽﯽ ﮐﻮ ﺣﺪ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﺎ ﺗﮭﺎ. ﺟﺐ ﻭﮦ ﺯﻣﯿﻦ ﭘﺮ ﮔﮭﺴﭧ ﮐﺮ ﭼﻠﻨﮯ ﻟﮕﯽ ﺗﻮ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﺍﻭﺭ ﺑﮍﮪ ﮔﺌﯽ.ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻣﺎﻧﻮﺱ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﮐﮯ ﺳﺎﻣﻨﮯ ﺟﺐ ﺷﺮﺍﺏ ﻻﮐﺮ ﺭﮐﮭﺘﺎ ﺗﻮ ﻭﮦ ﺁﮐﺮ ﮐﮭﯿﻨﭽﺎ ﺗﺎﻧﯽ ﮐﺮ ﮐﮯ ﻣﯿﺮﮮﮐﭙﮍﻭﮞﭘﺮ ﺷﺮﺍﺏ ﺑﮩﺎ ﺩﯾﺘﯽ ﺟﺐ ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺩﻭﺳﺎﻝ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺮ ﮔﺌﯽ ﻣﯿﺮﮮ ﺩﻝ ﮐﻮ ﺍﺱ ﮐﮯ ﻏﻢ ﻧﮯ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ . تفصیل سے پڑھئے
کہتے ہیں کہ ایک بادشاہ نے اپنے ملک کے سارے عقلمند اور دانا لوگ اکٹھے کئے اور اُن سے کہا: میں چاہتا ہوں کہ تم لوگ ایک ایسا نصاب ترتیب دو جس سے میرے ملک کے نوجوانوں کو کامیابی کے اصولوں کا پتہ چل جائے، میں ہر نوجوان کو اُسکی منزل کا کامیاب شخص دیکھنا چاہتا ہوں۔ یہ دانا لوگ مہینوں سر جوڑ کر بیٹھے اور ہزاروں صفحات پر مشتمل ایک کتاب لکھ کر بادشاہ کے پاس لائے۔ کتاب اپنے آپ میں ایک خزانہ تھی جس میں کامیابی کیلئے اصول و ضابطے، حکمت و دانائی کی باتیں، کامیاب لوگوں کے تجربات و قصے اور آپ بیتیاں و جگ بیتیاں درج تھیں۔ تفصیل سے پڑھئے
میرابڑا بیٹاچونکہ پڑھائی کے معاملے میں بہت اچھا جارہا ہے اس لیے طے پایا کہ اسے مزید ’’ارسطو‘‘ بنایا جائے اور ٹیوشن رکھی جائے۔میں نے دبا دبا سا احتجاج کیا کہ بچے کو کھیلنے کے لیے بھی کچھ ٹائم ملنا چاہیے‘ لیکن بیگم نے غصے سے دیکھا اور کڑک کر بولی ’’آپ تو چاہتے ہی یہ ہیں کہ بچہ کچھ نہ پڑھے اور آپ کے ساتھ بیٹھ کر سارا سارا دن ’’ٹام اینڈجیری ‘‘اور ’’ڈورے مان ‘‘دیکھتا رہے‘‘۔ میں نے کھسیانی آواز میں کہا’’یاروہ کارٹون تو میں صرف بچے کی دلچسپی کے لیے دیکھتا ہوں ورنہ اللہ جانتا ہے مجھے تو صرف نیشنل جیوگرافک چینل اچھا لگتاہے‘‘ ۔ تفصیل سے پڑھئے
حضرت علی رضی اللہ تعالی فرماتے ھے " کہ نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلام نے فرمایا کہ عنقریب لوگوں پر ایسا زمانہ آے گا کہ اسلام کا صرف نام رہ جاے گا۔ اور قرآن کی صرف رسم رہ جاے گی ان لوگوں کی مسجدیں  ٹایلز نقش و نگار برقی پنکھوں سے آباد ھوگی۔ اور ھدایت کے اعتبار سے وہ مسجدیں ویران ھوگی۔انکے علماء آسمان کے نیچھے رھنے والوں میں سب سے زیادہ برے ھونگے، ان کے علماء سے فتنے پیدا ھونگے اور پھر ان میں واپس آجاینگے،" تفصیل سے پڑھئے
اسپین کے رسام اور ارٹسٹ Bartolommeo Esteban Murillo بارٹولوم ایسٹیبن موریلو- یورپ کا بہت مشہور آرٹسٹ مانا جاتا ہے .اس کی یہ پینٹنگ مصوری کے لحاظ سے اتنی مشہور نہیں جتنی اس پینٹنگ میں دیکھایا گیا موضوع اور پس منظر مشہور و منفرد اور حیران کن ہے ...تفصیل سے پڑھئے
یہ واقعہ ہے "شریف" دور کا ذکر ہو رہا ہے شریف مکّہ کے دور کا جب سرزمین عرب سونا نہیں اگلتی تھی غربت کا دور تھا اور انارکی پھیلی ہوئی تھی جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے بعد سورج برطانیہ غروب کے قریب تھا شیخ الحدیث مولانا زکریا رح کی جوانی کا دور تھا آپ سرزمین عرب میں مکّہ اور مدینہ کے درمیان محو سفر تھے عرب بدوی اس وقت کے واحد زریعہ سفر اونٹوں کے مالک تھے اور جب انسے انکے کسی ظلم پر کہا جاتا تمہاری شکایات شریف سے کر دی جاۓ گی تو وہ جواباً کہتے ،، تفصیل سے پڑھئے
ٹھیک آٹھ سو سال پہلےایک عجیب و غریب واقعہ رونما ہوتا ہے اٹلی کے شمالی کوہستانوں سے بچوں کے جلوس گروہ در گروہ وادیوں میں پھیلتے گئے،،وہ اپنے معصوم ہاتھوں میں لکڑی کی صلیبیں اٹھائےاور اونچی آواز میں حمد کے گیت گاتے شہروں اور دیہاتوں سے گزرے۔جب بھی کوئی ان سے پوچھتا کہ تم کہاں جارہے ہو وہ کہتے"خدا کے پاس"دراصل وہ وینڈوم کے کی وادی کے غریب چرواہوں کی اولاد تھے - تفصیل سے پڑھئے
علم جغرافیہ کی اہمیت کے پیش نظر مسلمان اہل علم نے اس پر بہت زیادہ توجہ دی۔ پہلے زمانے کے مسلمان دنیا بھر میں تبلیغ، جہاد، حصول علم، سیاحت اور تجارت کے لیے آتے جاتے رہتے تھے۔انہوں نے طرح طرح کے جغرافیائی اکتشافات کیے اور اس فن میں اپنا بھر پور حصہ ڈالا۔ اس کا فائدہ پوری امت مسلمہ بلکہ پوری دنیا کے اہل علم مجاہدین اور تاجروں کو ہوا۔ ذیل میں چند مشہور مسلمان جغرافیہ دانوں کا مختصر تعارف دیا جاتا ہے تاکہ آج کے مسلمانوں کو معلوم ہو کہ ہمارے اکابر کیا تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
سعدؓ کو رستم بھی دکھائی دیا۔ وہ چارگھوڑوں کی بگھی پر نصب شدہ تخت پر بیٹھا تھا۔ یہ تخت ایک کرسی تھی جس میں ہیرے اور جواہرات جڑے ہوئے تھے ۔رستم قلب کے دستوں کے درمیان تھا اور ا س کے اردگردمحافظ دستے کا حصار تھا۔
’’سلمیٰ !‘‘سعد ؓبن ابی وقاص نے اپنی بیوی سے کہا۔’’ فارسیوں کی پیش قدمی کا انداز دیکھ رہی ہو؟ کیا بدمست سانڈ اسی طرح پھنکارتا اور ڈکارتا نہیں آیا کرتا؟‘‘
’’ہاں ابی وقاص کے بیٹے! ‘‘سلمیٰ نے کہا۔’’ صحرا کی آندھی اسی طرح آیا کرتی ہے۔ اپنے لشکر کو دیکھتی ہوں تو ہاتھ اﷲ کی طرف اُٹھ جاتے ہیں۔‘‘تفصیل سے پڑھئے

سندھ میں ’’سام‘‘ کی رسم صدیوں سے رائج ہے۔ اس رسم کے تحت کسی شخص (چاہے وہ مخالف ہی کیوں نہ ہو) کی گزارش پر اس کے خاندان کو پناہ دی جاتی ہے اور مرتے دم تک اس فرد یا خاندان کی حفاظت کی جاتی ہے۔ یہ رسم خصوصاً قبائلی اور جاگیردارانہ معاشروں کی پیداوار ہے، سام یعنی پناہ دینا وسیع القلبی اور جرأت مندی کا کام ہوتا ہے۔ اس میں بہت سارے خطرات مول لینے پڑتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
برمنگھم: آج بھی دنیا میں ایسے توہمات پائے جاتے ہیں کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے۔
1۔ جنوبی کوریا میں یہ بات عام پائی جاتی ہے کہ اگر آپ کمرے میں پنکھا چلا کر سوئیں تو نیند کے دوران آپ کو نیند آجائے تو آپ موت کا شکار ہو جاتے ہیں۔
2۔ اسپین اور جنوبی امریکا کے لوگ سال کے آغاز میں 12 انگور کھاتے ہیں تاکہ سارا سال (12 مہینے) بد قسمتی سے محفوظ رہیں۔
3۔ اٹلی میں یہ سمجھا جاتا ہے کہ اگر آپ کھانا کھانے کے تین سے چار گھنٹے کے دوران نہائیں تو موت واقع ہو سکتی ہے۔
4۔ تھائی لینڈ میں مرد جنسی صحت کی حفاظت کے لیے تعویز پہنتے ہیں یا مخصوص تعویزات سے بنا ہوا ہار پہنتے ہیں۔
5۔ چین میں عدد 4 کو سخت منحوس سمجھا جاتا ہے اور اس کے تلفظ کی موت کے لیے استعمال ہونے والے لفظ سے مشابہت کی وجہ سے اس سے ہر صورت بچا جاتا ہے یہاں تک کہ عمارتوں میں چار کے عدد والی منزلیں بھی نہیں ہوتیں یعنی 3 کے بعد 5 منزل آجاتی ہے۔
6۔ ترکی میں لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ اگر رات کے وقت چیونگم چبائی جائے تو آپ زومبی (زندہ لاش) بن جاتے ہیں۔
7۔ قرون وسطیٰ کے انگلینڈ میں عورتیں حمل شروع ہوتے ہی پنیر کا ایک بڑا سا چھلا تیار کرتیں تھیں جو نو مہینوں تک پختگی کے مراحل سے گزرتا تھا اور بچے کی پیدائش کے بعد بچے کو اس میں سے گزارا جاتا تھا اور خاندان کے لوگ اس پنیر کو کھاتے تھے۔
آپ فرض کیجیے‘ آپ بہت بڑی کمپنی کے مالک ہیں‘ کمپنی کے اثاثوں کی مالیت اربوں کھربوں ڈالرہے‘ دس بیس ہزار لوگ کام کرتے ہیں لیکن کمپنی چاروں اطراف سے دشمنوں میں گھری ہے‘ انتظامیہ کرپٹ ہے‘ یہ روزانہ کروڑوں ڈالر چرا لیتی ہے‘ ورکرز کام چور ہیں‘ کمپنی کے گرد و نواح میں حریفوں نے ڈیرے ڈال لیے ہیں‘ یہ روزانہ عمارت کو آگ لگانے کی کوشش کرتے ہیں اور کمپنی کی فلاسفی‘ طریقہ کار اور مشینری بھی پرانی ہو چکی ہے‘ آپ صورتحال سے پریشان ہیں اور سمجھتے ہیں‘ کمپنی کی ری سٹرکچرنگ کے لیے نئی ٹیم‘ نئی انتظامیہ اور نئے سربراہ کی ضرورت ہے۔تفصیل سے پڑھئے


 ایک عورت نے اپنے شوہر کو آفس فون کیا اور پوچھا کہ آپ مصروف تو نہیں‘ شوہر نے دانت پیس کر کہا ’’میں اس وقت میٹنگ میں ہوں کیوں فون کیا ہے؟ ‘‘جواب آیا’’آپ کو ایک اچھی اور ایک بُری خبر سنانی تھی‘‘۔شوہر گرجا’’خبردار جو کوئی بری خبر سنائی‘ بتاؤ اچھی خبر کیا ہے؟؟؟‘‘ بیوی چہک کر بولی’’وہ جو ہم نے نئی گاڑی لی تھی ناں‘ اُس کے ائیر بیگز بالکل ٹھیک کام کر رہے ہیں‘‘۔ تفصیل سے پڑھئے
مشہور تابعی سعید بن مسیّب کی لڑکی کی شادی کا واقعہ نہایت سبق آموز اور اسلامی تاریخ میں ایثار، ھمدردی، غربت پسندی اور سادگی کی شاندار مثال ھے، ان کی لڑکی انتہائی حسین و جمیل اور تعلیمی یافتہ تھی، خلیفہ عبدالملک اس کو اپنی بہو بنانا چاھتا تھا، اس نے اپنے ولی عہد کے ساتھ اس کی نسبت کا پیغام بھیجا، ابن مسیّب نے انکار کردیا، خلیفہ نے بہت دباؤ ڈالا اور مختلف قسم کی سختیاں کیں لیکن ابن مسیّب اپنے انکار پر برابر قائم رھے، اور چند دنوں کے بعد قریش کے ایک نہایت معمولی آدمی ابو وداعہ کے ساتھ اس کی شادی کردی جو ان کے ایک ادنیٰ شاگرد تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
بیت المقدس مسلمانوں کا قبلہ اول ہے۔ آنحضرت ﷺ نے ہجرت کے بعد سولہ یا سترہ ماہ بیت المقدس کیطرف منہ کر کے نماز پرھی۔اس کے بعد تحویل قبلہ کا حکم آیا۔ یہ بیت المقدس انبیاء ؑ کی سر زمین ہے۔ اسلام کے فاتح سیدنا عمر ؓ اس کو فتح کرنے والے سب سے پہلے مسلم جرنیل تھے۔ حضرت ابوبکر ؓ کے دور خلافت میں حضرت عمرو بن العاص ؓ نے فلسطین کے بعض مقامات فتح کرلیے تھے۔ تفصیل سے پڑھئے
سورج کا طلوع ہو کر روشنی اور حرارت پہنچانا، چاند کی کرنوں سے تاریک راتوں کا منور ہونا، برسات، زمین کی زرخیزی، سمندر کی تہہ میں پوشیدہ خزانے، سنگلاخ چٹانوں میں چھپی معدنیات، صحراؤں میں سطح زمین کے نیچے سیال سونا یعنی پیٹرولیم کے اُبلتے چشمے، غرضیکہ دنیا کے سارے وسائل نوعِ انسانی کی بھلائی کے لیے موجود ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
1940ء میں ایک سکھ بوٹا سنگھ نے "انڈیا ٹی ہاؤس" کے نام سے یہ چائے خانہ شروع کیا بوٹا سنگھ نے 1940ء سے 1944ء تک اس چائے خانہ و ہوٹل کو چلایا مگر اس کا کام کچھ اچھے طریقے سے نہ جم سکا بوٹا سنگھ کے چائے خانہ پر دو سکھ بھائی سرتیج سنگھ بھلا اور کیسر سنگھ بھلا جو گورنمنٹ کالج کے سٹوڈنٹ تھے اپنے دوستوں کے ہمراہ اکثر چائے پینے آتے تھے 1940ء میں یہ دونوں بھائی گورنمنٹ کالج سے گریجوایشن کر چکے تھے اور کسی کاروبا ر کے متعلق سوچ رہے تھے کہ ایک روز اس چائے خانہ پر بیٹھے، اس کے مالک بوٹا سنگھ سے بات چل نکلی اور بوٹا سنگھ نے یہ چائے خانہ ان کے حوالے کر دیا- تفصیل سے پڑھئے
کراچی اصل میں مکران سے بلوچ قبائل پر مشتمل ایک چھوٹا سا مچھیروں کی بستی پر قائم ایک گاؤں کی حیثیت رکھتا تھا۔ اس کی پہلی حیثیت " کلاچی " کے نام سے ہوئی تھی۔ جو کہ دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے قریب تھا۔ کراچی پہلے بلوچستان میں شامل تھا ۔ اصل کمیونٹی کے لوگ اب بھی کراچی پورٹ کے قریب عبداللہ نامی گاؤں میں رہتے ہیں ۔ پڑوس کے علاقے اب بھی مائی کلاچی کی یاد دلاتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
اسٹیٹ بنک آف پاکستان کا جاری کردہ یہ نوٹ 1960 سے 1969 تک پاکستانی حاجی دوران حج سعودی عرب میں استعمال کرتے تھے

افغانستان میں 1793ء سے آج تک انگریزوں نے آٹھ ، روس نے ایک جب کہ امریکا نے چار حکمران بنا ڈالے۔ امیر عبدالرحمان نے انگریزوں سے وفاداری اور دوستی کا حق ادا کرنے کے لیے انگریزمخالف دشمنوں پر بے پناہ ظلم ڈھائے، جس کی مثال نہیں ملتی ۔ نادرشاہ اور عبدالرحمان خان کے بدترین مخالفوں میں اتفاق سے قبیلہ غلزئی اور ہزارہ قوم تھی ۔ اگر غازی ایوب خان حکمران ہوتا تو Fire in Afghanistan لکھنے کی نوبت نہ آتی اور یقینا آج افغانستان کی تاریخ اور جغرافیہ مختلف بلکہ بہتر ہوتے اور معاہدہ گندمک ، نہ ڈیورنڈ لائن کے قضیے ہوتے۔ تفصیل سے پڑھئے
سرزمین پوٹھوہار کا قدیم قلعہ دان گلی کی بنیادیں چند دیواریں، قلعے کے تراشے ہوئے پتھر دور دور تک بکھرے پڑے ہیں۔ یہ قلعہ اب گکھڑوں کی عظمت رفتہ کی صرف نشانی رہ گئی ہے۔ قلعہ دان گلی کے چند کمرے صحیح حالت میں ہیں جن پر مقامی آبادی نے رہائش اختیار کر رکھی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
1:پاکستان میں پارلیمانی نظام حکومت ہو گا وزیراعظم حکومت کا سربراہ ہوگا اور اسے اکثریتی جماعت منتخب کرے گی۔
2:اسلام پاکستان کا سرکاری مذہب ہے اور صدر اور وزیراعظم کا مسلمان ہونا ضروری ہے۔
3:پاکستان کا نام اسلامی جمہوریہ پاکستان ہے۔
4:آئین میں ترمیم کے لیے ایوان زیریں میں دو تہائی اور ایوان بالا میں بھاری اکثریت ہونا ضروری ہے۔
5:اردو پاکستان کی قومی زبان ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

’’خارجی ‘‘ کے بعداب پیش ہے ٹیلی شاپنگ سنٹر کی نئی اپ گریڈ پراڈکٹ ’’غدار‘‘۔۔۔ آپ کی منگنی ٹوٹ جائے، واپڈا والوں سے جھگڑا ہوجائے، ویگن والا کرایہ زیادہ مانگ لے، مالک مکان گھر خالی کرنے کا نوٹس دے دے،ٹریفک پولیس والا چالان کردے،دھوبی کپڑے ٹھیک سے نہ دھوئے،کیبل صاف نہ آرہی ہو،وغیرہ وغیرہ۔۔۔ توہماری پراڈکٹ’’غدار‘‘ استعمال کریں ، پہلی خوراک اثر نہ کرے تو پیسے واپس۔تفصیل سے پڑھئے
مسجد قرطبہ کو چرچ میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔۔۔ یہ خبر پڑھنے کے بعد پہلا خیال میرے ذہن میں یہ آیا کہ ان احباب کا ردعمل کیا ہے جو پاکستان کے نامساعد حالات میں حقوق انسانی کا علم پورے جذبے سے تھامے ہوئے ہیں اور اٹھتے بیٹھتے مذہبی آزادیوں کی مالا یوں جپتے ہیں کہ گاہے آدمی کو ان پر رشک آنے لگتا ہے۔عالی مرتبت اعتزاز احسن، جناب قبلہ امتیاز عالم ، محترمہ عاصمہ جہانگیر، محترمہ طاہرہ عبد اللہ، محترمہ ثمر من اللہ۔۔۔ فہرست بہت طویل ہے مگر سوال مختصر،حقوق انسانی اور احترام مذہب کے یہ جملہ علمبردار اس وقت رخصت پر کیوں چلے جاتے ہیں جب ظلم اور نا انصافی کا شکار مسلمان بن رہے ہوتے ہیں؟ تفصیل سے پڑھئے
عید الفطر کی چاندنی رات تھی، ہر سو خوشیاں بکھر رہی تھیں ، گھر گھر عید کی تیاریاں ہو رہی تھیں ، ہر چہرہ خوشی سے دمک رہا تھا،  روزہ دار خدا کا شکر ادا کررہے تھے، کہ انہیں رمضان المبارک کے روزے رکھنے کی سعادت نصیب ہوئی ، بچے صبح عید کا انتظا رکر رہے تھے، ان کے چہرے خوشی وشادمانی سے دمک رہے تھے، ابھی سے صبح عید کے لیے نئے نئے کپڑوں کو ترتیب دیا جارہا تھا، محلہ میں خوشی ومسرت کا ایک شور تھا، شہر دمشق روشنیوں سے جگ مگا رہا تھا، ہر دکان ومکان مسرت وشادمانی کا گہوارہ بنا ہوا تھا، کہ ایسے میں امیر المومنین اور مسلمانوں کے بادشاہ کا معصوم وخوب صورت بچہ دوڑتا ہوا حرم سرا میں آیا اور اپنی ماں سے لپٹ کر، پھوٹ پھوٹ کر رونے لگا۔تفصیل سے پڑھئے
حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو خطاب کرنے کے لئے کھڑے ہوئے تو ان سے سوال کیا گیا کہ لوگوں میں سب سے زیادہ علم کس کے پاس ہے؟
حضرت موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا میرے پاس، تو اللہ تعالیٰ نے ان پر عتاب کیا کہ علم کو اللہ کی طرف منسوب کیوں نہیں کیا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے وحی بھیجی کی بحرین جہاں دو دریا ملتے ہیں وہاں میرے بندوں میں سے ایک بندہ ایسا ہے جس کے پاس آپ سے زیادہ علم ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے عرض کیا:
اے رب ! میں کس طرح اس کے پاس پہنچوں گا؟ تفصیل سے پڑھئے

امیر المومنین نے بھی حکم بھیج دیا ہے کہ دائیں بائیں حملے شروع کر دو تاکہ لوگوں پر ہمارا خوف بیٹھ جائے۔ پھر وہ غداری اور دھوکا دہی کی جرأت نہیں کریں گے……میرے رفیقو ! ان لوگوں پر خوف اور اپنی دھاک بٹھانے کا یہ مطلب نہیں کہ ان پر ظلم و تشدد کیا جائے اور ان کی جوان عورتوں کو اٹھا لیا جائے۔ ہمارا دین اس کی اجازت نہیں دیتا۔ کسی بوڑھے، بچے،عورت،معذور اور مریض پر ہاتھ نہیں اٹھانا۔ اگر کوئی مقابلہ کرتا ہے تو اسے قتل کر دو۔ ان کے گھروں سے کام کی اور قیمتی چیزیں اٹھانی ہیں۔ اندھا دھند لوٹ مار نہیں کرنی۔ سونا چاندی اٹھا لانا ہے……تفصیل سے پڑھئے
 جو لوگ اس غلط فہمی میں ہیں کہ اسرائیل کی غزہ پر بمباری ایک اچانک عمل ہے اور یہ چند دنوں تک جاری رہے گا اور پھر عالمی طاقتیں بیچ بچائو کروا دیں گی۔ اس دوران غزہ کے مسلمانوں کو کافی سبق سکھایا جا چکا ہو گا۔ ایسے افراد کو ایک دفعہ گزشتہ پندرہ سالوں کے دوران یہودی دانشوروں‘ سیاستدانوں اور خصوصاً صیہونی لٹریچر کا مطالعہ کر لینا چاہیے جو ان سالوں میں ایک مستقل موضوع کی حیثیت سے شایع ہوتا رہا ہے۔ جن ’’عظیم‘‘ دانشوروں کو یہ غلط فہمی ہے کہ اسرائیل دنیا میں موجود قومی ریاستوں کی طرح کی ایک ریاست ہے جس کی متعین حدود ہیں‘ اقتدار اعلیٰ ہے‘ جمہوری حکومت ہے تو انھیں بھی اس خوش فہمی کو دل سے نکال دینا چاہیے۔ تفصیل سے پڑھئے
  ’’زیورخ کی ایک بات سمجھ میں نہیں آئی کہ اس جنت نما شہر کی وجہ شہرت سودی بینکاری نظام ہے۔ ہمارے مذہبی دانشوروں کی منطق کی رو سے تو اب تک اس شہر کا دیوالیہ نکل جانا چاہیے تھا مگر یہ شہر دنیا کے بہترین شہروں میں شمار ہوتا ہے‘‘ یہ الفاظ ایک معروف کالم نگار کے ہیں جو اپنی زیورخ یاترا کے بعد علم کی ایک نئی دنیا سے آگاہ ہو کر آئے ہیں۔ اگر لفظ ’’سودی ‘‘استعمال نہ ہوتا تو پھر بھی میرے لیے گنجائش تھی کہ میں حسن ظن سے کام لیتا کہ شاید موصوف کو بینکاری کے خون چوسنے والے نظام سے عشق ہے۔ لیکن سود کا دفاع اور اس قدر واضح اور کھل کر… اس امت کی تاریخ میں شاید ہی کوئی مثال ایسی موجود ہو۔ تفصیل سے پڑھئے
اس کا نام جبلہ بن الایہم تھا ۔ وہ غسان کا بادشاہ تھا...... اس کے دل میں ایمان کی شمع جگمگا اٹھی۔ اس نے اسلام کے بارے میں سنا، اس پر غور و فکر کیا، پھر اسلام قبول کر لیا۔ یہ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دور کی بات ہے۔ مسلمانوں کو اس کے اسلام لانے کی خبر ملی تو بہت خوش ہوئے۔ جبلہ نے سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ وہ مدینہ طیبہ آنے کی اجازت چاہتا ہے۔ اسے اجازت دے دی گئی کہ تم مدینہ طیبہ آ سکتے ہو،   "تمھارے لیے وہی کچھ ہے جو ہمارے لیے ہے اور تم پر وہی کچھ واجب ہے جو ہم پر واجب ہے۔"تفصیل سے پڑھئے
یعقوب بن جعفر بن سلیمان بیان کرتے ہیں کہ عموریہ کی جنگ میں وہ معتصم کے ساتھ تھے۔ عموریہ کی جنگ کا پس منظر بھی انتہائی دلچسپ ہے۔ ایک پردہ دار مسلمان خاتوں عموریہ کے بازار میں خریداری کے لیے گئی۔ ایک عیسائی دوکاندار نے اسے بےپردہ کرنے کی کوشش کی اور خاتوں کو ایک تھپڑ رسید کیا۔۔ لونڈی نے بے بسی کے عالم میں پکارا۔۔۔ تفصیل سے پڑھئے
اترپردیش میں 1963 میں نچلی ذات میں پیدا ھونے والی پھولن کی زندگی جبر،سامراج اور وڈیروں کے خلاف بغاوت کی داستان ھے بزبان پھولن "میں لکھنا جانتی ھوں نه پڑھنا،یهی میری کهانی ھے"
11 سال کی عمر میں باپ نے غربت کی وجه سے اس کی شادی ایک گاۓ اور بائیسکل کے عوض 40 ساله پتی لال سے کردی جس کی پهلے ھی دو بیویاں تھیں.سوتنیں سارا دن کام لیتیں اور تشدد کرتیں اور شوهر رات کو غصه نکالتا.اک دن سوتنوں نے مار پیٹ کر نکالا تو دو ٹھاکروں کے هاتھ لگ گئ اور ان کے جنسی جنون کا نشانه بنتی رهی .خوش نصیبی که اک دن کوٹھڑی کا تالا کھلا ره گیا اور پھولن بھاگ کر چمبل کی گھاٹیون میں روپوش بابا مستقیم کے ڈاکوؤں کے گروه میں شامل ھو گئ جن کی دهشت سے برهمن بھی خوف کھاتے تھے.تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
یہودی دو ہزار سال سے دنیا میں پروپیگنڈہ کر تے رہے ہیں کہ فلسطین ان کا آبائی وطن ہے یہ بات ہم سب کو معلوم ہونی چاہیے کہ فلسطین یہودیوں کا آبائی وطن نہیں ہے۔ تیرہ سو برس قبل مسیح میں بنی اسرائیل فلسطین میں داخل ہوئے تھے۔ اس وقت فلسطین کے اصل باشندے دوسرے لوگ تھے جن کا ذکر خود بائیبل میں تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔بائیبل سے معلوم ہوتا ہے کہ یہودیوں نے فلسطین کے اصل باشندوں کو قتل کیا اوراس سر زمین پر قبضہ کیا تھا۔ اسرائیلیوں کا یہ دعویٰ تھا کہ خدا نے یہ ملک ان کو میراث میں دیا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
1737 میں مرہٹے دہلی پر حملہ آور ہوئے.. بادشاہوں کی کمزوری اور امراء کی خود غرضی کے باعث مرہٹوں کو قتل و غارت گری اور لوٹ مار کا موقع مل گیا.. مرہٹوں کے مظالم نے شاہ ولی اللہ دہلوی ' شاہ عبدالعزیز کے دل دہلادیئے.. ان مظالم کی ایک طویل و شرمناک داستان ہے.. بنگال کے مشہور شاعر گنگا رام نے لکھا..
"برگیوں (مرہٹوں) نے دیہاتیوں کو لوٹنا شروع کردیا.. کچھ لوگوں کے انہوں نے ہاتھ ' ناک اور کان کاٹ لئے.. خوبصورت عورتوں کو وہ رسیوں میں باندھ کر لے گئے.. عورتیں چیخیں مارتی تھیں.. انہوں نے ہر طرف آگ لگادی اور ہر طرف لوٹ مار کرتے ہوئے گھومے.."تفصیل سے پڑھئے

ايک دفع كا ذكر ہے كہ عربوں كے ايک اصطبل ميں بہت سے گدھے رہتے تھے ، اچانک كيا ہوا كہ ايک نوجوان گدھے نے كھانا پيناچھوڑ ديا، بھوک اور فاقوں سے اسكا جسم لاغر و كمزور ہوتا گيا، كمزوری سے تو بيچارے كے كان بھی لٹک كر رہ گئے۔ گدھے كا باپ اپنے گدھے بيٹے كی روز بروز گرتی ہوئی صحت كو ديكھ رہا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
1973ء میں عین اس وقت جب عرب اور اسرائیل میں جنگ چھڑنے والی تھی،
امریکی سنیٹر اور اسلحہ کمیٹی کا سربرا اسرائیل آیا، اور اسرائیلی وزیراعظم "گولڈہ مائر" سے ملاقات کی _ گولڈہ مائر نے بڑی چالاکی سے اسلحہ خریدنے کا معاھدہ کرلیا_ اس کے بعد اسلحہ خرید لیا اور عربوں سے جنگ شروع ھوگئ.  چنانچہ عرب اس خاتون وزیراعظم کے ھاتھوں شکست کھاگۓ_ بعد میں کسی نے اسرائیلی وزیراعظم سے پوچھا کہ امریکی اسلحہ خریدنے کیلۓ آپ کے ذھن میں جو دلیل تھی وہ فورا آپ کے ذھن میں آئ یا پھلے سے حکمت عملی تیار کررکھی تھی؟ تفصیل سے پڑھئے

دنیا میں جن قوموں اور جن لوگوں نے اللہ جل شانہ کی نافرمانی کی ان کا انجام یقینا اچھا نہیں ہوا۔ کوئی فرعون کوئی ہامان، کوئی قارون، کوئی شداد اور کوئی ابوجہل بچا اور نہ ہی ان کے نقش قدم پر چلنے والے لوگ اللہ جل شانہ کے فیصلوں سے بچ سکے۔ اللہ کے فیصلے ان کے حق میں نہایت بھیانک ثابت ہوئے۔ تفصیل سے پڑھئے
یہود کی سیرت و فطرت جو قرآن نے سورہ البقرہ سے شروع کر کے پورے قرآن میں جگہ جگہ بیان کی ھے وہ غداری و بد عہدی کی شرمناک داستان ھے جو انہوں نے حضرت موسی علیہ السلام کے ساتھ بھی بار بار کی جبکہ ان پر ایمان بھی رکھتے تھے اور ان کے معجزوں کا کمایا کھا بھی رھے تھے،طعن تشنیع بھی کرتے جا رھے تھے یہانتک کہ جب انہیں بیت المقدس میں داخل ھونے کے لئے آگے بڑھنے کو کہا گیا تو انہوں نے صاف جواب دے دیا کہ " اِذھب انت و ربک فقاتلا انا ھٰھنا قاعدون،، جا تو اور تیرا خدا جا کے لڑ لو ھم یہاں بیٹھے ھیں، تفصیل سے پڑھئے
وہ عبداﷲ بن زید تھا جو جسر کی لڑائی سے نکل کر مدینہ پہنچا، اور وہ پہلا شخص تھا جس نے مسلمان لشکر کی تباہی اور پسپائی کی تفصیل امیر المومنین حضرت عمرؓ کو سنائی تھی۔ حضرت عمرؓ نے یہ روح فرسا تفصیل مسجد کے دروازے میں کھڑے کھڑے سنی تھی۔ ’’خدا کی قسم!‘‘حضرت عمر ؓنے کہا تھا۔’’ میں نے ابو عبید کو صحابیوں پر سپہ سالار مقرر کر کے غلطی تو نہیں کی تھی۔‘‘تفصیل سے پڑھئے
فارس کے دارالحکومت مدائن کے محل کے ایک کمرے میں فارس کا نامور جرنیل رستم تیز تیز ٹہل رہا تھا۔ وہ ایک دیوار سے دوسری دیوار تک جاتا اور واپس آجاتا تھا۔ کبھی چلتے چلتے رک جاتا اور ایک ہاتھ کا گھونسہ دوسرے ہاتھ کی ہتھیلی پر مارتا۔ کبھی رک کر سر جھکا لیتا۔ کسی سوچ میں محو ہو جاتا اور اچانک چل پڑتا ۔ اس کے انداز میں عتاب تھا۔
اس کی رہائش شاہی محل سے کچھ دور تھی۔ تفصیل سے پڑھئے

اشتہار بڑا دلچسپ تھا، میں رکشے کے قریب ہوکر غور سے پڑھنے لگا۔۔۔لکھا تھا ’’چھوٹے قد، کینسر، ہپاٹائٹس، گرتے بالوں، بے اولادی، موٹاپے، جوڑوں کے درد، امراضِ مخصوصہ، کالی کھانسی، گردن توڑ بخار، جسمانی کمزوری، پٹھوں کے کھنچاؤ ،دل کے امراض اور کسی بھی بیماری میں مبتلا افراد پریشان نہ ہوں ، ہر مرض کا شافی علاج موجود ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
خدیجہ نام، امّ ہند کنیت اور طاہرہ لقب ہے۔حضرت خدیجہ کے والد خویلد بن اسد ایک کامیاب تاجر تھے اور نہ صرف اپنے قبیلے میں بڑی باعظمت شخصیت کے مالک تھے بلکہ اپنی خوش معاملگی اور دیانتداری کی بدولت تمام قریش میں بیحد ہر دلعزیز اور محترم تھے۔
حضرت خدیجہ الکبریٰ رضی اللہ عنہا عام الفیل سے پندرہ سال قبل سنہ 555 عیسوی میں پیدا ہوئیں، بچپن ہی سے نہایت نیک اور شریف الطبع تھیں، جب سن شعور کو پہنچیں تو ان کی شادی ابو ہالہ بن نباش (زرارہ) تمیمی سے ہوئی ، ابو ہالہ سے ان کے دو لڑکے ہوئے، ایک کا نام ہالہ تھا جو زمانہ جاہلیت ہی میں مر گیا دوسرے کا نام ہند تھا، بعض روایتوں کے مطابق ان کو شرف صحابیت حاصل ہوا۔ تفصیل سے پڑھئے
چوراہوں پر نصب اشتہاری تختے ملاحظہ کیجیے تو یہ دردناک احساس ہوتا ہے کہ کس بے دردی اور دھڑلّے سے اردو کا دھڑن تختہ ہورہا ہے۔ Pyo aur jiyoپیو اور جیو، Sub keh do سب کہہ دو، No Sumjhotaنو سمجھوتا، Thund Program ٹھنڈ پروگرام،  Healthy hoga Pakistan ہیلدی ہوگا پاکستان، Aur Sunao اور سنا، وغیرہ۔ حالانکہ اب سنانے کے لیے کیا رہ گیا ہے؟  تفصیل سے پڑھئے
(1) کسی گاؤں میں شنکر نامی ایک کسان رہتا تھا۔ سیدھا سادا غریب آدمی تھا۔ اپنے کام سے کام، نہ کسی کے لینے میں، نہ کسی کے دینے میں، چھکاپنجا نہ جانتا تھا۔ چھل کپٹ کی اسے چھو ت بھی نہ لگی تھی۔ ٹھگے جا نے کی فکر نہ تھی۔ ود یانہ جانتا تھا۔ کھانا ملا تو کھا لیا نہ ملا تو چربن پر قنا عت کی۔ چر بن بھی نہ ملا تو پانی لیا اور راما کا نام لے کر سو رہا۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اسد الصحرا(صحرائی شیر) کے نام سے جاننے والے بوڑھے مگر جوان حوصلہ عمر مختار نے دو دہایوں تک اٹلی کے طاقتور ترین استعمار کا وہ مقابلہ کیا جسے رہتی دنیا تک یاد رکھا جائے گا۔ مسجد و مدرسے میں بچوں کو قرآن کی تعلیم دینے والے اس شخص کے وطن اور دین پر جب برا وقت آیا تو اس نے سب کچھ چھوڑ کر صحرا اور پہاڑوں کا رخ کیا۔ تفصیل سے پڑھئے
ہماری قومی زبان اُردُو بہت ہی پیاری زبان ہے۔ یہ اپنے اندر مختلف زبانوں کے الفاظ محاورے، حکایتیں اور نصیحتیں سمیٹے ہوئے ہے۔ ہم اپنی زندگی میں مختلف مواقع پر مختلف محاوروں کا استعمال کرتے ہیں جن سے درست صورت حال فوراً سمجھ میں آ جاتی ہے۔ ذیل میں چند محاوروں کا برجستہ استعمال اور ان کا پس منظر پیش خدمت ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
حضرت مصعب رضی اللہ عنہ بن عمیر مکے کے ایسے حسین و جمیل اور خوشرو نوجوان تھے.. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ واصحابیہ وسلم بھی ان کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ:.. ’’ مکے میں مصعب سے زیادہ کوئی حسین و خوش پوشاک اور پروردۂ نعمت نہیں ہے..‘‘ ان کے والدین کو ان سے شدید محبت تھی.. خصوصاً ان کی والدہ خناس بنت مالک نے مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے جگر گوشے کو نہایت ناز و نعم سے پالا تھا.. وہ اپنے زمانہ کے لحاظ سے عمدہ سے عمدہ پوشاک پہنتے اور لطیف سے لطیف خوشبو استعمال کرتے تھے.. حضرمی جوتا جو اس زمانے میں صرف امرائ کے لئے مخصوص تھا.. وہ ان کے روزمرہ کے کام آتا تھا.. اور ان کے وقت کا اکثر حصہ آرائش و زیبائش میں بسر ہوتا تھا.. اللہ تعالیٰ نے جہاں انہیں انتی نعمتوں سے نوازا تھا.. وہاں ان کے آئینۂ دل کو بھی نہایت صاف و شفاف بنایا تھا.. جس پر صرف ایک عکس کی دیر تھی..     تفصیل سے پڑھئے

بائیس لاکھ مربع میل کا عادل حکمران مغرب کے نام نہاد مفکرین نے مقدونیہ کے الیگزینڈرکو سکندراعظم کا لقب دیا ہے جو تاریخ کے ساتھ ناانصافی ہے ، اگر تعصب کا عینک ہٹا کرتاریخ کا مطالعہ کیا جائے تو ہم یہ فیصلہ کرنے پر مجبور ہوںگے کہ دنیا کا سکندراعظم عمربن خطاب رضى الله عنه ہے۔ الیگزینڈربادشاہ کا بیٹا تھا،دنیا کے بہترین لوگوں نے اس کوگھوڑسواری سکھائی ،جب وہ بیس سال کا ہوا تو اس کو تخت وتاج پیش کیا گیا ۔  تفصیل سے پڑھئے

افلاطون اپنے اُستاد سقراط کے پاس آیا اور کہنے لگا ’’آپ کا نوکر بازار میں کھڑے ہو کر آپ کے بارے میں ہرزہ سرائی کر رہا تھا۔‘‘ سقراط نے مسکرا کر پوچھا ’’وہ کیا کہہ رہا تھا۔‘‘ افلاطون نے جذباتی لہجے میں جواب دیا ’’آپ کے بارے میں کہہ رہا تھا…‘‘ سقراط نے ہاتھ کے اشارے سے اسے خاموش کروایا اور کہا ’’تم یہ بات سنانے سے پہلے اسے تین کی کسوٹی پر رکھو، اس کا تجزیہ کرو اور اس کے بعد فیصلہ کرو کیا تمھیں یہ بات مجھے بتانی چاہیے۔‘‘ افلاطون نے عرض کیا ’’یا استاد تین کی کسوٹی کیا ہے؟ تفصیل سے پڑھئے
حضرت حمزہ رضی اللہ عنہہ کے اسلام لانے کے بعد ابو جہل ، ابو لہب ، امیہ ، عتبہ سب لوگ سناٹے میں آگئے تھے ان کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب مسلمانوں سے کیسے نمٹا جاۓ، بازار میں بھی جہاں دو آدمی کھڑے ہوتے گفتگو کا موضوع یہی ہوتا کبھی باآواز بلند ، کبھی سرگوشیوں کے انداز میں ۔ کسی میں ھمت نہیں تھی کہ وہ حمزہ جیسے بہادر سے ٹکر لے، تین روز ہو چکے تھے حمزہ کو اسلام لاۓ ، یہ مسلمانوں کے لیئے سکون کے دن تھے ...مگر انہیں پتا تھا کہ یہ دور رھے گا نہیں، ھمارے دشمن ضرور کویئ نہ کویئ چال سوچ رھے ہوں گے مگر اس وقت طوفان تھم گیا تھا ، اگر کویئ راہ میں مل بھی جاتا ، منہ پھیر لیتا ، ناک بھوں چڑھا لیتا مگر کہتا کچھ نہیں ۔ تفصیل سے پڑھئے
عاصمہ جس کام کیلئے آئی تھی وہ کر کے چلی گئی ۔ اس شخص نے ایک گھوڑا خریدا اور اصطبل سے نکل گیا۔باہر اس کا گھوڑا کھڑا تھا۔ اس نے نئے گھوڑے کی رسی اپنے گھوڑے کی پچھاڑی سے باندھی اور سوار ہو کر چلا گیا، وہ اِدھر اُدھر مڑ مڑ کر پیچھے دیکھتا جا رہا تھا۔ جیسے وہ کسی کی تلاش میں ہو ۔ گھوڑے کی ر فتار بہت ہی آہستہ تھی۔
وہ شہر سے نکل گیا۔ اب وہ بار بار پیچھے دیکھتا تھااور گھوڑا چلا جا رہا تھا۔  تفصیل سے پڑھئے

میں اطمینان سے بیٹھا سگریٹ کے کش لگا رہا تھا کہ اچانک ڈرائنگ روم کا دروازہ کھلا اور میرے دوست کے والد صاحب کی شکل نظر آئی۔میں نے جلدی سے سگریٹ ایش ٹرے میں بجھا دیا اورسلام لیتے ہوئے کھڑا ہو گیا۔ وہ مسکرا دیے اور اپنے نحیف بدن کو لاٹھی کے زور پر چلاتے ہوئے میرے قریب آگئے۔ میں نے احتراماً پاس پڑی صوفے کی گدی ایک طرف کر دی۔ وہ میرے سر پر پیار بھرا ہاتھ پھیرتے ہوئے بیٹھ گئے۔   تفصیل سے پڑھئے
ربیع الاوّل کے بابرکت مہینے میں ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم اس دنیا میں تشریف لائے(تاریخ میں اختلاف ہے اور متعدد اقوال ہیں)۔ مشیتِ الٰہی کے تحت اس دنیا سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی واپسی بھی اسی ماہ میں ہوئی۔ الله تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے دین کی تکمیل کی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پیغامِ رسالت پہنچا دیا تو بارہ ربیع الاوّل 11ھ میں سوموار کے دن آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے وفات پائی۔   تفصیل سے پڑھئے
عرب سالار قتیبۃ بن مسلم نے اسلامی لشکر کشی کے اصولوں سے انحراف کرتے ہوئے سمرقند کو فتح کر لیا تھا، اصول یہ تھا کہ حملہ کرنے سے پہلے تین دن کی مہلت دی جائے۔ اور یہ بے اصولی ہوئی بھی تو ایسے دور میں جب زمانہ بھی عمر بن عبدالعزیز کا چل رہا تھا۔ سمرقند کے پادری نے مسلمانوں کی اس غاصبانہ فتح پر قتیبۃ کے خلاف شکایت دمشق میں بیٹھے مسلمانوں کے حاکم کو ایک پیغامبر کے ذریعہ خط لکھ کر بھجوائی۔ پیغامبر نے دمشق پہنچ کر ایک عالیشان عمارت دیکھی جس میں لوگ رکوع و سجود کر رہے تھے۔ اُس نے لوگوں سے پوچھا: کیا یہ حاکمِ شہر کی رہائش ہے؟ لوگوں نے کہا یہ تو مسجد ہے، تو نماز نہیں پڑھتا کیا؟ پیغامبر نے کہا نہیں، میں اھلِ سمرقند کے دین کا پیروکارہوں۔ لوگوں نے اُسے حاکم کے گھر کا راستہ دکھا دیا۔  تفصیل سے پڑھئے
سلطان عمر علی سیف الدین مسجد برونائی کے دارالحکومت بندری سری بیگوان میں واقع شاہی مسجد ہے۔ یہ خطۂ ایشیا بحر الکاہل کی خوبصورت ترین مساجد اور ملک کے معروف سیاحتی مقامات میں سے ایک ہے۔ یہ مسجد برونائی کی پہچان سمجھی جاتی ہے۔ یہ مسجد برونائی کے 28 ویں سلطان سے موسوم ہے۔ اس کی تعمیر 1958ء میں مکمل ہوئی اور یہ جدید اسلامی طرز تعمیر کا شاندار نمونہ سمجھی جاتی ہے جس پر اسلامی اور اطالوی طرز تعمیر کی گہری چھاپ ہے۔ یہ مسجد دریائے برونائی کے کناروں پر واقع ایک مصنوعی تالاب پر تعمیر کی گئی۔ مسجد سنگ مرمر کے میناروں، سنہرے گنبدوں، صحنوں اور سر سبز باغات پر مشتمل ہے۔ مسجد کا مرکزی گنبد پر خالص سونے سے کام کیا گیا ہے۔ مسجد 52 میٹر بلندی پر واقع ہے اور بندر سری بیگوان شہر کے کسی بھی حصے سے با آسانی دیکھی جا سکتی ہے۔ میناروں میں جدید برقی سیڑھیاں نصب ہیں جو اوپر جانے کے کام آتی ہیں۔ مسجد کے میناروں سے شہر کا طائرانہ منظر قابل دید ہے۔

رات کی تاریکی میں چاروں طرف سناٹا چھا چکا تھا۔ وہ رات کی تاریکی میں چلتا چلتا تین میل دور نکل آیا تھا۔ اچانک اسے ایک طرف آگ جلتی نظر آئی تو وہ اسی طرف ہو لیا۔ قریب جا کر دیکھا تو ایک عورت چولہے پر ہنڈیا رکھے کچھ پکا رہی ہے اور قریب دو تین بچے رو رہے ہیں۔ عورت سے صورت حال دریافت کرنے پر اسے علم ہوا کہ یہ اس عورت کے بچے ہیں جو اشیا خوردو نوش کی عدم دستیابی کے باعث کئی پہر سے بھوکے ہیں اور وہ محض ان کو بہلا کر سلانے کے لیے ہنڈیا میں صرف پانی ڈال کر ہی ابالے جا رہی ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
ٹیپو سلطان (10 نومبر 1750 ~ 4 مئی 1799) ہندوستان میں انگریزوں کے خلاف جدوجہد کرنے والے آخری حکمران تھے۔ آپ کا پورا نام فتح علی ٹیپو تھا۔ آپ نے اور آپ کے والد سلطان حیدر علی نے جنوبی ہند میں 50 سال تک انگریزوں کو روکے رکھا اور کئی بار انگریزی افواج کو شکست فاش دی۔ آپ کا قول تھا- شیر کی ایک دن کی زندگی ، گیدڑ کی سو سالہ زندگی سے بہتر ہے۔  تفصیل سے پڑھئے

مسجد جہاں نما، جو جامع مسجد دہلی کے نام سے مشہور ہے، بھارت کے دارالحکومت دہلی کی اہم ترین مسجد ہے۔ اسے مغل شہنشاہ شاہجہاں نے تعمیر کیا جو 1656ء میں مکمل ہوئی۔ یہ بھارت کی بڑی اور معروف ترین مساجد میں سے ایک ہے۔ یہ پرانی دلی کے مصروف اور معروف ترین مرکز چاندنی چوک کے آغاز پر واقع ہے۔ مسجد کے صحن میں 25 ہزار سے زائد نمازی عبادت کرسکتے ہیں۔ شاہجہاں نے اپنے دور حکومت میں دہلی، آگرہ، اجمیر اور لاہور میں بڑی مساجد تعمیر کرائیں جن میں دہلی کی جامع مسجد اور لاہور کی بادشاہی مسجد کا طرز تعمیر تقریباً ایک جیسا ہے۔
مسجد کے صحن تک مشرقی، شمالی اور جنوبی تین راستوں سے بذریعہ سیڑھیاں رسائی حاصل کی جاسکتی ہے۔ مسجد کے شمالی دروازے میں 39، جنوبی میں 33 اور مشرقی دروازے میں 35 سیڑھیاں ہیں۔ مشرقی دروازہ شاہی گذر گاہ تھی جہاں سے بادشاہ مسجد میں داخل ہوتا تھا۔ مسجد 261 فٹ طویل اور 90 فٹ عریض ہے، اس کی چھت پر تین گنبد نصب ہیں۔ 130 فٹ طویل دو مینار بھی مسجد کے رخ پر واقع ہیں۔ مسجد کے عقبی جانب چار چھوٹے مینار بھی واقع ہیں۔

مدینہ سے تیس پینتیس میل دور شمال مشرق میں ایک ہرا بھرا نخلستان تھا۔ چھوٹی سی ایک جھیل، جھیل کے کنارے کھجور کے پیڑوں کے جھنڈ اور صحرائی پودے لق و دق تپتے ہوئے اس صحرا میں جنت کا سماں پیدا کیے ہوئے تھے۔ یہ نخلستان ایک ریگزار میں یوں لگتا تھا جیسے دہکتے ہوئے انگاروں میں ایک پھول کھلا ہو۔ اس کے اردگرد صحرا ایسا بھیانک تھا کہ مسافر اُدھر سے گزرتے گھبراتے تھے اور اگر کوئی بھولا بھٹکا مسافر اُدھر جا بھی نکلتا تو دور سے نخلستان کو دیکھ کر یقین نہیں کرتا تھا کہ یہ نخلستان ہے۔ بلکہ وہ اسے سراب سمجھتا تھا۔ نظر کا دھوکا! تفصیل سے پڑھئے

ثمامہ بن اثال، یمامہ کے علاقے کا حکمران تھا، ثمامہ اسلام دشمنی میں پیش پیش تھا۔ اس نے الله کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو معاذ الله قتل کرنے کا چیلنج دے رکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی الله سے اس پر قابو پانے کی دعا فرمائی تھی۔ ایک مرتبہ ثمامہ عمرہ کرنے کے ارادے سے نکلا۔ اس کی خوش قسمتی کہ وہ راستہ بھول کر مدینہ طیبہ کے قریب آ نکلا اور مسلمان سواروں کی گرفت میں آ گیا۔ چونکہ یہ شخص اپنے کفر میں معروف تھا اور اسلام دشمنی میں اس کے عزائم ڈھکے چھپے نہ تھے، اس لیے اسے گرفتار کر کے مسجد نبوی کے ستوں سے باندھ دیا گیا۔ تفصیل سے پڑھئے
عرب میں ایک عورت تھی اس کا نام اُم جعفر تھا۔ انتہائی سخی تھی۔ لوگوں میں ایسے تقسیم کرتی تھی کہ دائیں کو بائیں ہاتھ کا پتا نہ چلے۔ کچھ دنوں سے وہ ایک راستے سے گزرنے لگی۔ اس راستے پر دو اندھے بیٹھے ہوتے۔ یہ دونوں صدائیں لگاتے۔ ایک کی صدا ہوتی: "الٰہی! مجھے اپنے فضل و کرم سے روزی عطا کر۔ " دوسرا اندھا کہتا: "یا رب مجھے ام جعفر کا بچا ہوا عطا کر۔" تفصیل سے پڑھئے
حضرت سعد الاسودؓ کا اصل نام تو سعد تھا لیکن ان کی غیر معمولی سیاہ رنگت کی وجہ سے لوگ ان کو ’’سعد الاسود‘‘ یا ’’اسود‘‘ کہا کرتے تھے۔ حضرت سعد الاسودؓ نے بارگاہِ رسالت میں عرض کیا: ’’یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں نکاح کرنا چاہتا ہوں لیکن کوئی شخص میری بدصورتی کے سبب مجھ کو رشتہ دینے پر راضی نہیں ہوتا۔ میں نے بہت سے لوگوں کو پیام دیے لیکن سب نے رد کر دیے۔ ان میں سے کچھ یہاں موجود ہیں اور کچھ غیر حاضر ہیں۔‘‘ رحمت ِعالم صلی اللہ علیہ وسلم جانتے تھے کہ اس سیاہ فام شخص کو اللہ تعالیٰ نے نورانی جبلت عطا کی ہے اور جوشِ ایمان اور اخلاص فی الدین کے اعتبار سے اس کا مرتبہ بہت بلند ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
’’مت خون گرما ہمارا اے سالار!‘‘ ایک سوار نے بڑی ہی بلند آواز میں کہا۔’’کیا تو سمجھتا ہے کہ ہم لڑنے سے منہ موڑ رہے ہیں؟ کیاتجھے ہماری جرات اور غیرت پر شک ہے؟‘‘ ’’اے تن ومند گھوڑے کے بہادر سوار!‘‘ منیاس نے کہا۔’’ میں شک کیوں نہ کروں؟ ہمارا کون سا سالار ہے جو میدان سے نہیں بھاگا یامارا نہیں گیا؟ اطربون جو ہرقل کا ہم پلہ تھا کتنے دعوے کرتا تھا مسلمانوں کو کچل دینے کے، اب وہ کہاں ہے؟ ایک دن بھی نہیں لڑا اور ایلیا (بیت المقدس) سے بغیر لڑے بھاگ گیا۔ کیا اسقفِ اعظم سفرینوس کو تم اپنامذہبی پیشوا مانو گے جس نے قلعے سے باہر جاکر مسلمانوں کے خلیفہ کا استقبال کیا اور اسے کہا کہ کلیسائے قیامت میں نماز پڑھو۔ تفصیل سے پڑھئے

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers