چین کے دارالحکومت بیجنگ کے وسط میں عظیم الشان اور قدیم عمارتوں کا ایک ایسا مجموعہ واقع ہے جسے ’’ممنوعہ شہر‘‘ (Forbidden City) کا نام دیا جاتا ہے۔
یہ ممنوعہ شہر دنیا میں سب سے بڑا اور سب سے بہتر طور پر محفوظ شاہی محلات اور دیگر عمارات کا ایک کمپلیکس ہے۔ اس کی 800 عمارات میں 9999 کمرے ہیں۔ قدیم چینیوں کا عقیدہ تھا کہ ایک ہزار کا ہندسہ ’’الوہی اکملیت‘‘ کو ظاہر کرتا ہے۔ اسی لیے یہاں کمروں کی تعداد ایک ہزار سے ایک ہندسہ کم رکھی گئی۔                 تفصیل سے پڑھئے
پوری پانچ صدیوں تک یہ محلات اس ملک کا انتظامی مرکز رہے۔ یو آن، ہنگ اور چنگ بادشاہ اور ان کی ملکائیں و شاہی خاندان یہاں رہائش پذیر رہے ہیں۔1421ء میں تعمیر سے لے کر 1925ء تک، جب اسے ایک میوزیم میں تبدیل کر دیا گیا، یہ حکومتی و انتظامی مرکز ہونے کے ساتھ ساتھ 24 مینگ اور چنگ حکمرانوں کی پرائیویٹ رہائش گاہ رہا۔ چین کا آخری بادشاہ آئسن گیارو پوئی (1908-11ء) یہاں رہتا رہا جب 1911ء میں چین جمہوریہ بنا۔ اس کے بعد اس بادشاہ کو 1924ء تک اسی رہائش گاہ میں نظر بند رکھا گیا۔ اس سے اگلے سال 1925ء میں ممنوعہ شہر ایک میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔
ممنوعہ شہر آج دنیا کا سب سے بڑا میوزیم ہے جو دنیا کی سب سے بڑا آبادی والی قوم کی ملکیت ہے۔ یہاں چینی آرٹ کے نادر اور قیمتی خزانے موجود ہیں۔ قدیم نوادرات، مصوری اور بادشاہوں کے استعمال میں رہنے والی قیمتی اشیاء اور اس کا تعمیراتی حسن دیکھنے کے لیے ہر سال لاکھوں لوگ یہاں آتے ہیں۔ 1987ء میں یونیسکو (Unesco) نے ممنوعہ شہر کو دنیا کے عظیم، قومی اور ثقافتی ورثوں میں شامل کر لیا۔
ممنوعہ شہر جسے اب پیلس میوزیم کہا جاتا ہے اب ممنوعہ نہیں رہا۔ اس کا نام ممنوعہ شہر اس لیے پڑا تھا کہ عام لوگوں کو خصوصی اجازت کے بغیر یہاں داخلے کی اجازت نہیں تھی۔ 74 ایکڑ رقبے پر پھیلا ہوا یہ شہر اپنے اردگرد 10 میٹر اونچی دیوار یا فصیل میں محصور ہے۔ اس دیوار کے چاروں کونوں پر منفرد تعمیر کے حامل ٹاور کھڑے ہیں۔ ان ٹاوروں پر سے محلات اور بیرونی شہر دونوں کا منظر بخوبی دیکھا جاسکتا ہے۔ ممنوعہ شہر دو حصوں میں منقسم ہے۔ جنوبی حصے یا بیرونی کورٹ میں بادشاہ اپنے اعلیٰ ترین اختیارات استعمال کرتا تھا اور شمالی حصے میں اپنے شاہی خاندان کے ساتھ رہائش رکھتا تھا۔
اس کمپلیکس کی تعمیر روایتی چینی طرز کے مطابق ہوئی ہے۔ لکڑی کے فریم چھتوں کو سہارا دیتے ہیں۔ چونکہ ان عمارتوں میں لکڑی کا استعمال نہایت کثرت سے کیا گیا تھا اس لیے کئی بار یہاں آگ لگنے سے تباہی ہوئی لیکن اس کی 600 سالہ تاریخ میں ہر بار اس کی تعمیر نو اور مرمت کا کام اس کی اصل شکل و صورت کو برقرار رکھتے ہوئے کیا گیا۔ مثلاً شاہ چیانگ لانگ (1736-95ء) کے دور میں اس کی اکثر عمارتیں دوبارہ تعمیر ہوئیں اور کچھ نئی عمارتوں کا بھی اضافہ کیا گیا۔ اس کے ولی عہد جیاکنگ نے بھی 1797ء اور 1799ء کے دوران تین مرکزی پرائیویٹ ہال دوبارہ تعمیر کیے جو اس سے پہلے تباہ ہوچکے تھے۔
جدید محلات اور عمارتوں کے مقابلے میں ممنوعہ شہر شوخ اور رنگارنگ ڈیزائنوں سے آراستہ ہے۔ سرخ دیواریں، سبز ستون، درمیان سے اونچی چھتیں جن میں چمکتے ہوئے زرد رنگ کی ٹائلیں لگائی گئی ہیں ان پر آرائشی تصاویر کندہ کی گئی ہیں چونکہ زرد رنگ شاہی خاندان کی خصوصی علامت تھا اس لیے ممنوعہ شہر میں یہ رنگ سب سے حاوی ہے۔ چھتیں چمکتی زرد ٹائلوں سے بنی ہیں۔ محل کی تزئین و آرائش بھی زرد رنگ میں کی گئی ہے۔ حتیٰ کہ فرش کی اینٹوں کو بھی ایک خاص عمل کے ذریعے زردی عطا کی گئی ہے تاہم اس میں ایک بات یہ ہے کہ یہاں کی شاہی لائبریری کی چھت سیاہ ہے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ چینیوں کے عقیدے کے مطابق سیاہ رنگ پانی کی نمائندگی کرتا ہے اور پانی آگ کو بجھا دیتا ہے۔
ممنوعہ شہر کی تعمیر کا آغاز 1406ء میں ہوا اور 14 سال بعد 1420ء میں اس کی تکمیل ہوئی۔ تاریخ دانوں کے مطابق 10 لاکھ کاریگروں اور مزدوروں نے یہاں کام کیا تھا جن میں ایک لاکھ آرٹسٹ اور دستکار شامل تھے۔ یہاں کے لیے پتھر بیجنگ کے قریبی قصبوں سے لایا جاتا تھا اور کہا جاتا ہے کہ ہر 50 میٹر بعد سڑک کے ساتھ کنویں کھودے گئے تھے جن کا پانی سردیوں میں سڑکوں پر چھڑک کر یہاں کی برف پر پڑے چٹانی پتھروں کو پھسلا کر یہاں لایا جاتا تھا۔
(عجائبات عالم کا انسائیکلوپیڈیا از عبدالوحید)
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers