امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی روشن شخصیت اور مقام (محمود اشرف عثمانی غفرلہ)
امام مالک رحمتہ اللہ علیہ جب طلبہ میں سے کسی کو الوداع کہتے تو ان سے فرماتے۔ دیکھو اس علم کے بارے میں اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا، اسے ضائع نہ کرنا، اسے پھیلانا اسے نہ چھپانا۔ ٭ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ فرماتے جو شخص یہ بات سمجھ لے گا کہ اس کی گفتگو بھی اس کے اعمال میں داخل ہے (جن کی قیامت کے دن باز پرس ہو گی) تو اس کی گفتگو کم اور محتاط ہو گی۔ ٭ ابو قرہ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کا یہ قول نقل کرکے فرماتے کہ گفتگو کا معاملہ عام اعمال سے زیادہ سخت ہے کیونکہ ایمان اور کفر کا دارومدار زبان پر ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

٭ ناتجربہ کاری فقر و فاقہ سے بھی زیادہ بری ہے۔ ٭ جب کوئی شخص خود اپنی تعریف کرے تو اس کا وقار ختم ہو جاتا ہے۔ ٭ زیادہ گفتگو کی عادت یا تو عورتوں میں ہوتی ہے یا کمزور مردوں میں۔ ٭ علم فقر و فاقہ کے بغیر حاصل نہیں ہوتا۔ ٭ ہر چیز سیکھو یہاں تک کہ جوتے پہننا بھی سیکھو۔ ٭ مسجد میں آواز بلند کرنے میں کوئی خیر نہیں۔ ٭ تمہارے ظالم ہونے کی یہی علامت کافی ہے کہ تم ہمیشہ جھگڑا کرتے رہو۔ ٭ عیسی بن عمر المدنی سے پوچھا گیا کہ کیا امام مالک رحمتہ اللہ علیہ حکام کے پاس جایا کرتے تھے۔ فرمایا نہیں! البتہ اگر انہیں بلایا جاتاتو چلے جاتے۔ ٭ امام سے پوچھا گیا کہ آپ ان کے پاس جاتے ہیں؟ فرمایا پھر حق بات کون کرے گا؟ ٭ امام مالک کا خلیفہ رحمتہ اللہ علیہ وقت کے پاس جانا ہوا، پانی پینا چاہا تو ایک ایسے خوبصورت پیالہ میں پانی لایا گیا جس پر چاندی کا حلقہ تھا۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے اس میں پانی پینے سے انکار کر دیا تو دوسرا پیالہ مٹی کا لایا گیا جس سے امام مالک رحمتہ اللہ علیہ پانی پیا۔ ٭ ابراہیم بن یحییٰ العباس گورنر مدینہ نے امام مالک سے ایک دینی تحریر لکھوائی۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے لکھ کر دیدی۔ کچھ عرصہ بعد ابراہیم نے عرض کیا کہ وہ تحریر گم ہو گئی ہے آپ دوبارہ لکھدیں۔تو امام نے دوبارہ لکھنے سے انکار کر دیااور فرمایا یہ بھی گم ہو جائے گی۔ پرانی تحریر ہی تلاش کرو۔....(کچھ عرصہ بعد وہ تحریر مل بھی گئی)۔ ٭ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ زبردست صاحب فراست تھے، ایک نظر میں آدمی کو پہچانتے تھے۔ امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ ان کی خدمت میں حاضر ہوئے تو فرمایا، اللہ تعالیٰ سے ڈرتے رہنا اور گناہوں سے بچتے رہنا کیونکہ تمہارا دنیا میں ایک مقام ہوگا۔ اپنے تین شاگردوں کی طرف دیکھ کر فرمایا یہ ابن غانم اپنے علاقہ کے قاضی ہوں گے، بہلول کے بارے میں فرمایا یہ اپنے شہر کے عبادت گزار لوگوں میں ہوں گے اور ابن فروخ کے بارے میں فرمایا کہ یہ اپنے علاقہ کا قفیہ ہو گا۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی سوانح حیات کے چند پہلو امام مالک کے پڑدادا سیدّنا ابو عامر صحابی رضی اللہ عنہ تھے، ان کے دادا مالک بن ابی عامر علماءتابعین میں سے تھے اور جن چند لوگوں نے سیدنا عثمان غنی رضی اللہ عنہ کو غسل دیا اور تدفین کی یہ ان میں سے ایک تھے۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے والد تاجر تھے مگر چچا نافع ابو سہیل علماءمیں سے ہیں اور موطا میں ان کی روایت موجود ہے۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کو امام دارالہجرہ اور امام اہل المدینہ بھی کہاجاتا ہے اور یہ بات معروف ہے کہ سیدنا حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی ایک حدیث میں جس عالم بے بدل کا ذکر کیا گیا ہے بظاہر اس کا مصداق امام مالک رحمتہ اللہ علیہ ہی ہیں۔ یہ حدیث مو طا امام مالک، مسند احمد، جامع ترمذی اور سنن نسائی میں موجود ہے کہ: ”رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ قریب ہے کہ لوگ سواریوں اور اونٹوں پر لمبا سفر کرکے علم کی تلاش میں نکلیں گے تو مدینہ کے عالم سے بڑھ کر وہ کوئی عالم نہیں پائیں گے۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نسبتاً دراز قد تھے، سر بڑا تھا، رنگ بھورا تھا، کان کچھ بڑے تھے۔ ڈاڑھی گھنی تھی۔ مونچھیں رکھنے کی عادت تھی۔لباس اچھا استعمال فرماتے۔ عمدہ خوشبو لگاتے اور فرماتے کہ تواضع تقویٰ اور دین میں ہونی چاہیے، نہ کہ ظاہری لباس میں۔ گوشت بھی مرغوب تھا اور پھلوں میں کیلا پسند کرتے۔ فرماتے کہ اس پھل پر مکھیاں نہیں بیٹھتیں۔ گرمیوں میں وہ شربت پسند تھا جس میں کھجوریں ہوں اور سردیوں میں پانی میں شہد ملا کر بھی استعمال فرماتے۔اپنے زمانہ کے خلوت نشین بزرگ حضرت عبداللہ العمری الزاہد رحمتہ اللہ علیہ نے ایک مرتبہ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کو خط لکھا جس میں انہیں ترغیب دی کہ وہ لوگوں سے میل جول ترک کر دیں اور زہد و عبادت کی طرف توجہ زیادہ دیں۔ تو امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے انہیں جواب تحریر کیا۔ بیشک اللہ تعالیٰ نے جس طرح لوگوںمیں رزق تقسیم کیے ہیںاسی طرح نیک اعمال بھی تقسیم کیے ہیں۔ کسی کونمازکی اتنی توفیق ہے جتنی روزوں کی نہیں، کسی کو صدقہ کی خوب توفیق ہوتی ہے مگر نفلی روزوں کی نہیں۔ کسی کو جہاد کی وہ رغبت ہوتی ہے جو نفل نمازوں کی نہیں ہوتی اور علم دین کی نشر و اشاعت تمام اعمال صالحہ میں سب سے افضل عبادت ہے، اور اللہ تعالیٰ نے مجھے جس عبادت کی توفیق دی ہے میں اس پرراضی ہوں اور میرا خیال ہے کہ یہ عبادت آپ کی عبادت سے کم درجہ کی نہیں ہے اور ہم سب اللہ تعالیٰ سے ثواب کی امید رکھتے ہیں اور اللہ تعالیٰ جس نیک عمل کی توفیق دیدیں اس پر ہمیں راضی رہنا واجب ہے۔ (والسلام)“ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے اساتذہ میں حضرت عبداللہ بن الحسن رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت جعفر صادق رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبداللہ بن فضل بن عباس رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبدالرحمان القاسم بن محمد بن ابی بِکر رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت ہشام بن عروہ رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت زید بن اسلم رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت محمد بن المنکدر رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت محمد بن ابی ذئب رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت عبداللہ بن یزید بن ہرمز رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت نافع بن ابی ذئب رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت نافع بن ابی نعیم رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت نافع مولی عبداللہ بن عمر رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت ربیعہ الرای رحمتہ اللہ علیہ ، حضرت ابن شہاب زہری رحمتہ اللہ علیہ جیسے اکابر شامل ہیں۔امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کے شاگردوں میں امام شافعی رحمتہ اللہ علیہ ، امام محمد بن الحسن الشیبانی رحمتہ اللہ علیہ ، لیث بن سعد رحمتہ اللہ علیہ ، عبدالرحمان الاوزاعی رحمتہ اللہ علیہ ، سفیان ثوری رحمتہ اللہ علیہ ، سفیان بن عینیہ رحمتہ اللہ علیہ ، اسد بن الفرات رحمتہ اللہ علیہ ، عامر بن محمد رحمتہ اللہ علیہ ، یحییٰ بن یحییٰ اللیئی رحمتہ اللہ علیہ ، عبداللہ بن المبارک رحمتہ اللہ علیہ ، شعبہ بن الحجاج رحمتہ اللہ علیہ جیسے نامور اہل علم شامل ہیں۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ کی اپنی کتاب موطا تو معروفِ زمانہ ہے البتہ ان کے فقہی مسائل چار اہم کتابوں میں جمع کیے گئے۔ اسدیہ جسے ان کے شاگرد فاتح صقلیہ اسد بن الفرات رحمتہ اللہ علیہ نے تحریر کیا۔ واضح جسے ان کے شاگرد عبدالمالک بن حبیب الاندلسی رحمتہ اللہ علیہ نے مرتب کیا، اور مدون اور مختلطہ جسے ان کے شاگرد سحنو القیرانی رحمتہ اللہ علیہ نے جمع کیا۔ اپنے زمانہ میں انہوں نے محمد بن عبداللہ کامل (محمد نفس زکیہ) کے انقلاب میںان کی مدد کی جیسے امام ابوحنیفہ نے بھی عراق میں ان کی پوری مدد کی تھی لیکن امامین جلیلین کے پورے تعاون کے باوجود یہ کوشش کامیاب نہ ہو سکی بلکہ بعد میںامام ابوحنیفہ رحمتہ اللہ علیہ اور امام مالک رحمتہ اللہ علیہ دونوں کو طرح طرح کے مصائب کا سامنا کرنا پڑا۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ مذہب فقہی کا اندلس، مراکش، الجزائر، تیونس،لیبیا اورپرتگال وغیرہ کے علاقوں میں بڑا شیوع ہوا۔ اور عرب دنیا میں بھی قابل احترام علماءمالکین کی ایک بڑی تعداد پائی جاتی ہے۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers