تاریخ میں پہلا شخص جس نے زیارت قبر رسول کے قصد کو حرام اور بدعت قرار دیا وہ شیخ ابن تیمیہ تھا جس کی کتب کی بنیاد پر امام الاوہابیہ محمد بن عبدالوہاب نجدی نے اپنے تکفیری اور خوارجی نظریات پھر سے ترتیب دئے اور عجیب و غریب عقائد توحید و رسالت ایجاد کئے جن کی نظیر نہ تو محمد رسول اللہ کے ہاں ملتی ہے نہ ہی اہل بیت اطہار ،نہ ہی اصحاب رسول کے ہاں ملتی ہے-   تفصیل سے پڑھئے
شیخ ابن تیمیہ ، محمد بن عبدالوہاب نجدی ، شیخ اسماعیل دہلوی کے عقائد اور جملہ امت مسلمہ کو مشرک و بدعتی قرار دینے والے نظریات کے خلاف علمائے اہل سنت و اہل تشیع نے ہزاروں کتب تحریر کیں اور خلافت عثمانیہ کے زمانے تک اور ہندوستان میں مغلیہ دور تک ان کے گمراہ نظریات کی پیروی کرنے والوں کا قلع قمع کردیا گیا تھا یہ بہت تھوڑی تعداد میں رہ گئے تھے- لیکن پہلی جنگ عظیم میں جب سلطنت عثمانیہ نے جرمنی کا ساته دیا اور جرمنی شکست کها گیا تو برطانیہ اور فرانس کے درمیان سلطنے عثمانیہ کی تقسیم کا ایک معاہدہ طے پاگیا جس کی رو سے حجاز ،میسیپوٹیمیا ،مصر برطانیہ کے حصے میں آگیا جبکہ اردن ،شام ،لبننان فرانس کے قبضے میں گئے اور اسرائیل کے نام سے نئی ریاست تخلیق کی گئی برطانوی سامراج نے حجاز کو ابن سعود کو دینےکا فیصلہ کیا اور ابن سعود کی وہابی فورسز کو مدد فراہم کی جس نے پورے حجاز پر 1925ء کو قبضہ کرلیا اور وہابی ازم کو حجاز پر زبردستی مسلّط کردیا
یہ وہی دور ہے جب ہندوستان میں تحریک خلافت کو چلے پانچ سال ہوچلے تهے اور جب حجاز پر ویابیہ کے قبضے کی خبر ہندوستان آئی اور اس دوران وهابی تحریک کی شعائر اسلام سے دشمنی کا خود مفتی ہند دارالعلوم دیوبند کے مہتمم محمود حسن بانی جمعیت العلمائے ہند کو بھی بخوبی علم تھا جو جب حجاز میں تھے اور وہابی تحریک کا پہلا حملہ ہوا تو ان سے کہا گیا کہ وہ عثمانیوں کے خلاف وہابی تحریک کے حق میں فتوی دیں تو انہوں نے ایسا کرنے سے انکار کیا اور اس تحریک کو سامراج کی پٹھو قرار دیا اور اسلام دشمن بھی
تحریک خلافت حجاز میں وہابیت قبضے کے بعد تحریک تحفظ مقامات مقدسہ حجاز میں بدل گئی کیونکہ وہابی فوجوں نے پھرسے حجاز میں اور مکہ میں جنت معلی میں قبور کو زمین بوس کیا ،کئی اصحاب رسول ،امھات المومنین کے مکانات گرادئے گئے ،قصیدہ بردہ شریف نذر آتش کردیا گیا
پھر 1926ء میں ایک وفد سعودیہ عرب مولانا محمد علی جوہر کی قیادت میں حجاز گیا اور ابن سعود سے ملاقات کی ابن سعود سے وہاں پر پوری دنیا کے نمائندہ مسلم علماء کے وفود سے ایک معاہدہ ہوا کہ مکہ میں جنت معلی میں قبور کوپھر سے تعمیر کیا جائے گا ،جنت البقیع کے مزارات گرائے نہیں جائیں گے اور دیگر ثقافتی اہمیت کی حامل عمارتوں کو بھی برقرار رکھا جائے گا اور مکہ و مدینہ کا انتظام و انصرام مسلمانوں کی ایک نمائیندہ کونسل چلائے گی جس مین تمام مکاتب فکر کی نمائیندگی ہوگی لیکن ابن سعود نے ایک وعدہ بھی ایفاء نہ کیا اور خود 1960ء میں جب شبیر عثمانی نے دیوبندی مولویوں کے ایک وفد کے ساتھ سعودی عرب کا دورہ کیا تو واپسی پر ہی دیوبندی مولویوں کا سعودی عرب کی حکومت کے بارے میں موقف بدل گیا اور 80ء میں یہ تعلق سٹریٹجک تعلق میں بدل گیا
ہندوستان میں وہابی ازم کی پرورش ایسٹ انڈیا کمپنی نے پنجاب ،اس سے ملحقہ سرحدی پٹھانوں اور افغانستان کو کالونی بنانے کے لئے کی اور اس نقصد کے لئے شاہ اسماعیل دہلوی اور سید احمد بریلوی اس کے لئے بہت کاآمد ہوئے جن کی وہابی نظریات پر مبنی تحریک جہاد کا رخ انگریزوں نے پنجاب اور سرحد کی طرف کیا لیکن پنجاب و سندھ و سرحد پر برطانوی قبضے کے بعد وہابی عقائد و نظریات تحریک جہاد سے غائب ہوگئے اور اس روایت کو مفتی محمود حسن ،ان کے شاگرد عبیداللہ سندھی ،شیخ الاسلام حسین احمد مدنی نے جدید بنیادوں پر سامراج مخالف ،سوشلسٹ و ہندوستانی قوم پرستی کی شکل دے ڈالی لیکن دیوبندی تحریک میں تکفیری خارجی وہابی جراثیم موجود رہے اس کی وجہ یہ تھی کہ شاہ اسماعیل اور سید احمد کی پرستش جاری رہی تو یہی جراثیم 80ء کی تاریخ میں بہت وسعت کے ساته پھیلے اور آج کی دیوبندیت اوروہابیت میں عقائد کے باب میں تکفیری و خارجی سوچ کا غلبہ اور پھیلا وا بہت زیادہ ہے اور اس میں سعودی امداد کا فنڈنگ کا ہاتھ بہت زیادہ ہے
اور آج اس کے سب سے زیادہ تباہ کن ماڈل آئی ایس ، طالبان ، لشکر جھنگوی، القائدہ و نصرہ وغیرہ ہیں اور ان سے خود ان کے مربّیوں کے اقتدار خطرے میں پڑگئے ہیں - میں کہتا ہوں کہ دیوبندی مکتبہ فکر میں جن جید علماء سے یہ توقع کی جاسکتی تھی کہ وہ اپنے نوجوانوں کو ایک بے مقصد خونی جنگ کا ایندهن بنانے کی بجائے ان کو اس آگ سے بچائیں گے وہ بھی سعودی عرب کی پراکسی وار کے پروموٹر بن گئے اور اس کے پیچھے معاشی فوائد اور مراعات کارفرما ہیں اور وہ اس آگ کو سرد کرنے کی بجائے اس پر مزید تیل ڈال رہے ہیں اور ان کی اس کوشش سے ہزاروں دیوبندی نوجوانوں کا مستقبل تاریک ہوگیا ہے جس پر تاریخ ان کو معاف نہیں کرے گی ان کو مصلحت ،خوف اور مفاد پرستی کے دائرے کو توڑ کر باہر آنا چاہئیے اور سچے دل سے واعتصموا بحبل اللہ ولاتفرقوا پر عمل کرتے ہوئے تکفیر و خارجیت کے خلاف سچ بولنا چاہئیے اور ہر ایک سپاہ کو اپنی صف سے باہر نکال دینا چاہئیے......

بشکریه عبدالمجید بخاری
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers