میں دروازے کے اندر داخل ہوا تو سامنے قطب مینار تھا جو قوت الا سلام مسجد کا ایک ایسا بچا ہوا انگ ہے جو کافی حد تک سالم ہے۔ مسجد کا باقی جسم کئی صدیوں کے گزرنے کے دوران کمزور ہونے کی وجہ سے گر تے گرتے لگ بھگ کھنڈروں میں تبدیل ہو گیا تھا۔اسی احاطے میں گھومتے ہوئے مجھے وہ ادھورا مینار دکھائی دیا جو تو دے کی شکل میں تھا۔ یہ مینار علاؤالدین خلجی نے بنوانا شروع کیا تھا۔ اس کے ذہن میں ابھر کر آسمان چھوتا ہوا تصور پوری طرح مجسم ہونے سے رہ گیا تھا۔ لیکن یہ سین آم کی کسی ایسی گٹھلی کی طرح لگ رہا تھا - تفصیل سے پڑھئے
جس میں انکور ایک لمبی سانس روکے اس موسم کے انتظار میں ہو جو اس کی معنویت اور چہرے کو پہچانتا ہو۔وہ تو دہ سامینار وہاں جوں کا توں تھا، جب کہ اس کے روبرو کھڑے قطب مینار کا اوپری حصہ ٹوٹ کر کہیں تاریخ کے ملبے میں گر گیا تھا۔ یہ نامکمل مینار جس کا قدصرف ساڑھے چوبیس میٹر ہے، اس کے نقشے کا تصور کرتے ہوئے اس کی اندرونی عظمت ہمارے تخیل کے اندر آسمان چھوتی ہے۔میں وہاں سے باہر سڑکوں پر آیا تو کچھ بدل گیا تھا۔ مجھے بار بار یہ احساس ہونے لگا کہ میرے اندر بھی تو دہ کی طرح کوئی چیز موجود ہے۔ کچھ دنوں بعد یہ احساس شدت اختیار کرنے لگا اور میں اس پر سنجیدگی سے غور کرنے پر مجبور ہو گیا۔ چونکہ میرے اندر موجود اس تودے میں اور قطب مینار کے احاطے میں موجود اس تودے میں کوئی مماثلت تھی اس لیے میں اپنے اندر کے اس معاملے کو سمجھنے کے لیے اس تودے کے معاملے پر ذہن کو مر کوز کرکے غور کرنے لگا کہ جس معمار نے اس مینار کا نقشہ بنایا ہوگا اس نے اپنے سامنے ایک عریض و طویل کینوس بچھایا ہوگا اور اس پر ایک پتھر سے دوسرے پتھروں کے جڑنے کے امکانات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایک ایسی تصویر بنائی ہوگی جس کا پتھر وں کے جسم میں وجود میں آنا عین ممکن تھا۔ تو کیا وہ نقشہ بھی ادھورا تھا؟علاؤالدین خلجی کی اچانک موت اور کسی بادشاہ کے اس بلندی کے تصور تک نہ پہنچ پانے کے معنی یہ ہرگز نہیں کہ یہ نقشہ ادھورا تھا۔جس معمار نے نقشہ بنایا ہوگا اس کے دل کو ایک چوٹ ضرور لگی ہوگی اور اسے محرومی کا احساس ضرور ہوا ہوگا کہ علاؤالدین خلجی کی موت اس کے تصورات کو کیسے مسمار کر گئی۔ اس معمار کی محرومی میں اور میرے اندر موجود زخم کے اس ٹیس میں کیا کوئی فرق ہے جو ٹیس مجھے بار بار تلملا دیتی ہے۔میرا جسم اپنے پورے وجود کے ساتھ ایک ایسا قطب کمپلکس بن گیا ہے جس میں سربلند میناروں کے ساتھ ساتھ بے شمارتودوں کے نقشے بنانے والے معمار مایوس فقیروں کی طرح بیٹھے ہیں اور ان کے ہاتھ آسمان کی طرف دعاؤں کے لیے اٹھے ہوئے ہیں۔ یہ تودے معنی کا لباس پہننے کے لیے بیقرار ہیں۔ میں اب تو دوں کونہ کھوٹا ماننے کے لیے تیار ہوں نہ ادھورا۔ یہ تودے وقت کی زمین میں پڑے ہوئے وہ بیج ہیں جو مناسب موسموں میں پیڑ بن کر وقت ہی کی پہاڑیوں پر لہلہاتے ہیں۔ اسی احاطے میں جو مینار مکمل شکل میں دکھائی دیتا ہے یعنی قطب مینار وہ مکمل، قابل دیداور جیتا جاگتا ہے۔ اور اس کی تصویریں لی جاتی ہیں، لیکن در حقیقت اب اس کے اندر دیکھنے کو بچا ہی کیا ہے۔ دیکھنے کو جو کچھ بچا ہے وہ تو اس تودے کے اندر پوشیدہ ہے جو ابھی سامنے نہیں آ سکا، لیکن جو اپنے اندر ہاتھی کے پاؤں جیسے حوصلے لیے کھڑا ہے۔مجھے لگنے لگا کہ نا مکمل رہ جانا مکمل ہونے سی زیادہ اہم بات کی نشاندہی کرتا ہے۔مجھے وہ لوگ سطحی لگنے لگے جو تکمیل کو ہی کامیابی کی نشانی سمجھتے ہیں۔ مجھے لگا کہ لوگ میری ذات کو بھی اسی طرح دیکھتے ہیں۔وہ میری نوکری ، میرے گھر، میری اور کئی چیزوں کا، جو مجھے حاصل ہوئی ہیں، ذکر کرتے ہیں۔ لیکن میرے اندر جو تو دہ ہے اس کا کوئی ذکر نہیں۔ وہ خاموش بھی ہے اور نظروں سے اوجھل بھی۔ وہ کھردرا بھی ہے اور بدہیت بھی۔ لیکن وہ ان سب باتوں کے باوجود ذات سے ابھرنے والی ہر چیز کی ان داتا کو کھ کی طرح ہے۔میری زندگی کے سب مینار پتھروں کے ہیں۔ لیکن یہ تو دہ زندہ ہے اور مسلسل بڑھتا اور پھلتا پھولتا رہتا ہے۔ مجھے یقین ہو گیا ہے کہ قطب مینار ایک ایسی پر فریب حقیقت ہے جو طوفانوں سے ٹوٹ کر گر جاتی ہے اور اس کی مرمت کرنی پڑتی ہے۔ اسی لیے ہر چند کہ آپ کے سامنے جو مینار ہے اس پر آسمانی آیتیں لکھی ہوئی ہیں اور میرے اندر کا تودہ بے لباس ہے، لیکن میرا بے لباس ہونا میرے اندر موجود امکانات کی گواہی دیتا ہے۔قطب کمپلکس کا احاطہ میرے جذبہ ارتقا کے لیے نشان راہ کی حیثیت اختیار کر گیا تھا، اینٹ اور پتھروں سے کھیلنے والے معمار بھی کبھی کبھی جانے انجانے کچھ کچھ ایسا چھوڑ جاتے ہیں جو کبھی مینار نور کی صورت میں ہماری رہ نمائی کرتا ہے اور کبھی ملبہ امکان کی صورت میں ہمیں متحرک کرتا ہے۔ میں وہاں سے نکل کر دلی کے گلی کوچوں میں گھومتا ہوا میناروں اور ادھورے جسموں، دونوں قسم کے لوگوں کا بغور مطالعہ کرتا رہا۔ اس سے میں دھیرے دھیرے اپنے بہت سارے دوستوں سے کٹتا چلا گیا۔ خصوصاً ان سے جن کو میرا تنہا بیٹھے کچھ کچھ سوچنا اٹ پٹا سا لگتا تھا۔ ان کو میں نے دیکھا کہ وہ ہر بات کو کھنکھناتے سکوں کے الفاظ میں سننا چاہتے تھے۔ جو بات صرف لکھی جا سکتی ہو ، اس کا ان کے نزدیک گویا کوئی وجود ہی نہیں ۔ یہ سوچ ایک وبا بن چکی تھی۔ میں نے دیکھا کہ پتھروں کے ترشے تر شائے ٹکڑوں کی قیمت مقرر ہے، لیکن تودے کی کوئی قیمت نہیں۔ ایسے میں ناکامیوں کی قدرو قیمت کو پہنچاننے والے جو ہری چراغ لے کر ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے۔میں نے ان دنوں میں یہ دیکھا کہ تمام دیے بجھے پڑے ہیں۔ عظیم رہ نماؤں کے تصور کوغیر حقیقی بات سمجھ کر رد کیا جا چکا ہے۔ بڑے بڑے ذمہ دار افراد بھی اب محض قطب مینار بننے کے چکر میں گرفتار ہیں۔ ہر اونچا اور کامیاب شخص پتھر کے ٹکڑوں پر اپنا نام لکھوانے میں مصروف ہے اور ان کی آنکھوں کے سامنے آزادی برصغیر کی قوت الا سلام مسجد ٹوٹ ٹوٹ کر گر رہی ہے۔ اور داہنی طرف وہ جگہ خالی ہے، جہاں کبھی ایک تودہ ہوا کرتا تھا۔میرے ذہن و روح پر ایک سوال کوڑے کی طرح برستا رہا کہ کیا کوئی علاؤالدین خلجی اب پیدا ہو گا؟ کوئی جو بڑے خواب دیکھ سکے اور جو اس خواب کی تعبیر کا آغاز کر دے۔ اس بے حد حقیقت پسند دنیا میں151 قطب مینار سے تین گنا اونچا 151 اور کم از کم ایک ملبہ ہی چھوڑ کر مر جائے۔سوال اٹھتے رہے ۔کیا یہ سچ نہیں ہے کہ ہم سب نا کامیوں سے ڈرتے ہیں؟محض اس لیے کہ کوئی ناکامیامیوں کی تصویریں نہیں لیتا....اور ہم سب کچھ تصویریں کھنچوانے کے لیے کرتے ہیں؟ہمیں ہمارے اندر کا کوئی درد پریشان نہیں کرتا بلکہ ہم باہر کے کیمروں کے تقاضوں سے پریشان ہو اٹھتے ہیں۔اور کیمرے ہیں کہ امکانات کی تصویر نہیں کھینچ سکتے۔مجھے لگا کہ ہماری مہم جوئی میں کچھ کمی ہے۔ ہمارے یہاں کی سیاحت گری میں کچھ کھوٹ ہے۔ ہماری نگاہیں تکمیل کی تلاش میں رہتی ہیں اور ان چیزوں کو قطعی نہیں دیکھتیں جو اپنے اندر بڑی بڑی دھڑکنیں دبائے بیٹھی ہیں۔ اس سے تاریخی معاملات کے بارے میں اندازہ لگانے میں بھی غلطیاں سرزد ہوتی ہیں۔ کیوں کہ جو کچھ تو دہ رہ گیا وہ ابھی تاریخ کاحصہ نہیں بناہے اور وہ کسی بھی وقت ابھر کر سامنے آسکتا ہے اور حقیقت میں سر گرمِ تخلیق انکوروں جیسے ان تودوں کا خاتمہ ممکن ہی نہیں کیوں کہ وہ تو معماروں کے ذہن کی پیداوار ہیں اور معماروں کے ذہن خاموشی کے ساتھ اپنے علاؤالدین کے انتظار میں رہتے ہیں۔ یہ ایک عجیب بات ہے کہ طوفانوں سے قطب مینار ٹوٹ کر گرتے تو ہیں، لیکن اگر کوئی ان تودوں کو توڑ پھوڑ کر ان کے ٹکڑوں کو ادھر ادھر بکھیر دے تو بھی معمار ذہنوں پر ان کا کوئی اثر نہیں پڑتا کیوں کہ ان کی جبلت مسلسل متحرک اور زندہ رہتی ہے۔ مجھے لگا کہ ہم زوال کا شکار ہیں۔ یہاں جہاں سیاست دانی سیاست بازی میں بدل گئی ہے، دنیا کے بڑے بڑے مذہب زندگی کی بازی کے مہرے بن گئے ہیں، جہاں بادشاہ موقع ملنے پر پیدل کی چال چلنے میں بالکل نہیں ہچکچاتے۔جہاں بوتا ہونا آئیڈیل بن گیا ہے۔ اور جہاں علاؤالدین خلجی کی طرح آسمان کی طرف نگاہیں اٹھا کر دیکھنے کا کسی کو شوق نہیں ہے۔ اسی ماحول کا پیدا کر دہ ہے وہ درد جو میں اپنے اندر کے تودے میں محسوس کر رہا ہوں۔اس دن کے بعد جس دن میں اچانک قطب کمپلکس میں داخل ہوا تھا تو سامنے قطب مینار تھا، میں کئی بار اس تودے کی زیارت کو جا چکا ہوں کیوں کہ اس سے میرا قطب کمپلکس منور ہوتا ہے۔ لیکن چند روز پہلے جو کچھ ہوا وہ میں آپ کو بتاؤں گا151 ہوا یہ کہ اس دن جب میں اپنے کچھ مہمانوں کے ساتھ قطب کمپلکس میں گیا تو مجھے لگا کہ قطب مینار تو اپنی تکمیل کو پہنچ کر اپنے زوال کا انتظار کر رہا ہے۔یہ میرے لیے ایک عجیب وغریب احساس تھا۔گیٹ کے اندر داخل ہونے سے پہلے ہی میری نگاہوں کے سامنے کا سارا منظر بدل گیا تھا اور مجھے پہلی بار محسوس ہوا کہ میرا کیمرہ بیکار ہی میرے کندھے پر لٹک رہا ہے کیوں کہ اب میں جوکچھ دیکھ رہاہوں اس کے لیے کیمرہ کی نہیں قلم کی ضرورت تھی۔میں پیچھے مڑ کر دہ کیمرہ گاڑی میں رکھ آیا۔ اس کے بعد کافی دیر تک ہم لوگ قطب کمپلکس میں گھومتے رہے۔وہاں سے آنے کے بعد میں اپنے ماحول میں ٹٹول ٹٹول کر چھونے کی کوشش کرتا ہوں اس معمار کو جولامتنا ہی فضاؤں میں مسلسل بنتے بگڑتے میناروں کے ڈرافٹ بناتا ہے۔اور میری سیاحت گری میں تبدیلی آ گئی ہے۔ اب میرے کندھے میں کیمرے کے بجائے ایک چھوٹا سا تھیلا لٹکتا ہے جس میں ایک نوٹ بک ہے اور ایک ننھا سا قلم ہے جو داہنے، بائیں دونوں جانب سے روانی سے چلتا ہے اور مسلسل اس معمار کی تصویر بناتا ہے جو ہے تو لیکن پتہ نہیں کدھر ہے۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers