کئی دفعہ کا ذکر ہے کہ کسی ملک کا بادشاہ سیر و سیا حت کے نکلا۔ چلتے چلتے وہ فقیرون کے ایک قبیلے کی طرف جا نکلا ۔ اسے وہاں ایک لڑکی بھا گئی۔ لڑکی تھی تو میلی کچیلی اور پھٹے پرانے لباس میں ملبوس لیکن نہ جانے بادشاہ کو اسکی کیا چیز بھا گئی،کہ بادشاہ اپنا دل ہار بیٹھا۔ اسنے اپنے وزیر سے کہا کہ وہ فقیروں سے وہ لڑکی مانگ لے وہ اسے اپنی ملکہ بنائے گا۔وزیر نے اسے بہتیرا سمجھایا، حسب نسب ، ذات پات ، سماجی مقم و مرتبے کی اہمیت سمجھائی لیکن بادشاہ کسی طرح نہ ٹلا۔ چنانچہ وزیر نے فقیروں کو درھم و دینار دیکر لرکی کو خرید لیا ۔ بادشاہ اسے محل میں لے آیا اور اس سے شادی کر لی۔                               تفصیل سے پڑھئے
چند دن تو خیریت سے گذرے، پھر وہ لڑکی شاہی ادب و آداب اور طرز رہن سہن سے اکتا گئی،اسے یوں لگنے لگا جیسے اسکی ازادی سلب کر لیگئی ہو ،وہ بادشاہ سے بھی بیزار ہوگئی اور ہر وقت افسردہ رہنے لگی، اسکی بھوک مر گئی، نیند اڑ گئی اور وہ حسن و شباب کا جنگلی پھول کمھلانے لگا۔ یہ دیکھ کر بادشاہ بہت پریشان ہوا، شاہی طبیب طلب کیے گئے لیکن کسی کو معاملہ سمجھ میں نہ آیا نہ کوئی تدبیر کار گر ہوئی۔بادشاہ پر سے ابھی عشق کا بھوت نہیں اترا تھا سو وہ بھی بہت پریشان تھا ، کیا کرے کیا نہ کرے، اسے کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا۔چنانچہ وہ بھی پریشان رہنے لگا ۔ اسکو پریشان دیکھ کر رازدار وزیر نے عرض کی کہ اگر بادشاہ سلامت اجازت دیں تو مین ملکہ عالیہ کا علاج کروں؟ بادشاہ نے بخوشی اجازت دے دی۔
وزیر نے شاہی محل کی ایک بلڈنگ خالی کروائی اور اسے اس طرح کی شکل دی کہ وہ ایک بلڈنگ کی بجائے ایک محلے کی گلی لگے جسکے دونوں طرف اہل محلہ کے گھروں کے دروازے ہوں ۔ پھر وہ کہیں سے ڈھونڈ ڈھانڈ کر کچھ فقیرنیاں اجرت پر لایا اور انہیں اس خود ساختہ محلےلے میں ٹھہرا دیا اور پھر بیمار ملکہ کو بھی اسی جگہ لا ٹھہرایا گیا ، فقیرنیون کو اجازت دی گئی کہ وہ جس طرح چاہیں وہاں رہیں، گھومیں پھریں اور ملکہ کی خدمت کریں ۔ کچھ ہی دنون میں ملکہ عالیہ کی ساری بیماری کا فور ہوگئی اور وہ خوش باش نظر آنے لگی ۔
بادشاہ بہت حیران ہوا کہ ایسا کیا ہوا کہ جس بیماری کو نامور طبیب ٹھیک نہ کر سکے ایک وزیر نے دور کردی ؟
بادشاہ کے استتفسار پر وزیر ایک مخصوص وقت پر بادشاہ کو خفیہ اسکی ملکہ کی قیام گاہ پر لے گیا۔ ملکہ اس وقت اپنی فقیر ملازماؤں کے ساتھ کھیل میں مشغول تھی۔ بادشاہ اور وزیر نہائت خاموشی سے انکا کھیل دیکھنے لگے۔کھیل یہ تھا کہ فقیر ملازمائیں گھروں کی مالکنیں بنتیں اور ایک ایک دروازے کے پیچھے کھڑی ہو جاتیں، اور ان میں سے ایک فقیرنی کا رول ادا کرتی اور ہر دروازے پر جا کر بھیک مانگتی، اور دروازے کے پیچھے کھڑی،، مالکن،، جو چاہے اسے جواب دیتی یا کیرات میں کچھ دیتی۔ اس وقت فقیرنی بننے کی باری ملکہ کی تھی اسنے سو اس نے ہر در پہ جا کر صدا بلند کی جیسا کہ وہ ماضی میں کیا کرتی تھی، اسے کسی در سے جلی کٹی سننی پڑیں، کہیں سے خیرات ملی۔ جب وہ اس کھیل سے تنگ آ گئیں تو کھلکھلا کر ہنستی ہوئی نیچے زمین پر بیٹھ کر کھانے پینے کی اشیا ء کھانے لگیں۔ ملکہ بہت خوش اور مطمئن نظر آرہی تھی۔ وزیر نے بادشاہ سے کہا ،، باد شاہ سلامت ! مین نے اسے وہ ماحول دے دیا ہے جو آپ نے اس سے چھین لیا تھا ۔ آپ فطرت کو بدلنے کی کوشش کر رہے ہیں جو کہ کبھی نہیں بدلتی، ایک کوا کبوتروں کے غول میں آکر کبھی خوش نہیں رہ سکتا ۔وہ عادات و اطوارجو نسل در نسل سے اسکے خون میں شامل ہیں وہی اسکے لیے باعث مسرت شادمانی بن چکی ہیں۔ یاد رکھیے کہ ایک مردار خور کو سیب ،انار، آم انگور اور دیگر انواع و اقسام کے میوے اور پھلوں میں وہ لزت نہیں ملتی جو ایک گلی سڑی لاش کو نوچنے سے ملتی ہے۔ ایک گندے تالاب میں پلنے والی مچھلی صاف و شفاف دریا میں کبھی زندہ نہیں رہ سکتی
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers