الیگزیانڈر برزن پنانگ- ملائشیا، جولائی ۱۹۸۷ء- چینی سامعین سے خطاب

زندگی کے مسائل

آج شام جو موضوع زیربحث ہے وہ ہے "جذبات سے نبرد آزمائی: غصے کا علاج"۔ میرا خیال ہے کہاس موضوع پر ہم اس لئے بات کر رہے ہیں کہ ہم میں سے ہر کوئی یہ محسوس کرتا ہے کہ ہمیں اپنی زندگی میںکئ مسائل درپیش ہیں۔ ہم خوش رہنا چاہتے ہیں۔ ہم نہیں چاہتے کہ ہمیں کوئی مسٔلہ پیش آئے لیکن ہمیں مسلسلکئ تکالیف کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ کبھی ہم افسردہ ہو جاتے ہیں، ہمیں مشکلات پیش آتی ہیں اور ہمیں اپنےکام میں احساس مایوسی ہوتا ہے، معاشرے میں ناکامی، اپنی زندگی کے حالات اور خاندانی صورت حال پرپریشانی ہوتی ہے۔      تفصیل سے پڑھئے
ہمیں اپنے حسب منشا کچھ پانے میں مشکلات پیش آتی ہیں۔ ہم کامیاب ہونا چاہتے ہیں۔ ہمچاہتے ہیں کہ ہمارے گھرانوں اور ہمارے کاروبار میں صرف اچھی باتیں واقع ہوں لیکن ہمیشہ ایسا نہیں ہوتا۔پھر جب ہمیں ایسے مسائل پیش آتے ہیں تو ہم ناخوش ہو جاتے ہیں۔ بعض اوقات ہمارے ساتھ وہ کچھ واقع ہوجاتا ہے جو ہم نہیں چاہتے کہ ہو، جیسے بیمار ہو جانا، یا بڑھاپے کی وجہ سے شدید نقاہت، یا قوت سماعت یابصارت کا کھو دینا۔ یقیناً کوئی شخص نہیں چاہتا کہ اس کے ساتھ ایسا ہو۔
ہمیں اپنے کام کاج میں مسائل پیش آتے ہیں۔ بعض دفعہ حالات ایسے خراب ہوتے ہیں کہ کاروبارمیں انحطاط آ جاتا ہے یا وہ ختم ہو جاتا ہے۔ ظاہر ہے کہ ہم نہیں چاہتے کہ ایسا ہو مگر پھر بھی ہو جاتاہے۔ بعض دفعہ ہمیں کوئی تکلیف پیش آتی ہے، ہم اپنا کوئی نقصان کر بیٹھتے ہیں، ہمیں کوئی حادثہ پیشآجاتا ہے، ہم بیمار ہو جاتے ہیں۔ ایسی باتیں مسائل بن کر واقع ہوتی رہتی ہیں جن کا ہم سامنا کرتےہیں۔
ان کے علاوہ ہمیں کئی جذباتی اور نفسیاتی مسائل کا بھی سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ مسائل ایسےہو سکتے ہیں جن کے بارے میں ہم دوسروں سے ذکر کرنا مناسب نہ سمجھیں۔ مگر اپنے اندر ہم دیکھیں گے کہ کچھایسی باتیں ہیں جو ہمیں اپنے بچوں سے وابسطہ توقعات کے حوالے سے پریشان کر رہی ہیں، ہماری فکرمندی،ہمارے خوف ہمارے لئے بہت سی مشکلات پیدا کر رہے ہیں۔ اسے ہم کہتے ہیں "بے قابو، مائل بہ تکرار مسائل"(سنسار)۔

قابو سے باہر مائل بہ تکرار مسائل ہی سنسار ہیں

میرا پس منظر اور میری تربیت بطور ایک مترجم کے ہے۔ ایک مترجم کے طور پر میں پوری دنیامیں گھوما ہوں، کئ ملکوں میں گیا ہوں، بدھ مت کی ترجمانی کی ہے اوراس پر لیکچر دئے ہیں۔ میں نے دیکھاکہ بدھ مت کے بارے میں بہت غلط فہمیاں پائی جاتی ہیں۔ بدھ مت کے بارے میں غلط فہمی کی بڑی وجہ وہانگریزی الفاظ ہیں جو اصلی اصطلاحات اور نظریات کا ترجمہ کرنے کے لئے منتخب کئے گئے۔ ان میں سے بہت سےالفاظ کا انتخاب جن کے بڑے وزنی معانی و مطالب ہیں جو کہ اصلی ایشیائی زبانوں میں نہیں پائے جاتے،گذشتہ صدی کے وکٹورین مبلغوں نے کیا۔ مثلاً ہم مسائل کی بات کر رہے تھے۔ اس کا ترجمہ عموماً "دکھ" کیاجاتا ہے۔ اگر ہم دکھ کی بات کریں تو بیشتر لوگ یہ سمجھیں گے کہ بدھ مت ایک نہائت یاسیت پسند مذہب ہےکیونکہ یہ بتاتا ہے کہ ہر انسان کی زندگی دکھوں سے بھری ہوئی ہے۔ اس سے یہ لگتا ہے کہ ہمیں خوش رہنے کاکوئی حق نہیں۔ اگر ہم کسی شخص سے جس کی زندگی میں آرام و آسائش ہو، جو دولتمند ہو یہ کہیں کہ "تمہاریزندگی دکھوں سے بھری ہوئی ہے" تو وہ یقیناً بہت مدافعت کرے گا۔ یہ شخص مدافعانہ طور پر کہے گا" آپ کاکیا مطلب ہے؟ میرے پاس ویڈیو ریکارڈر ہے، عمدہ گاڑی ہے، میرا خاندان بہت اچھا ہے۔ مجھے کوئی دکھنہیں"۔
لفظ "دکھ" جو کہ بڑا وزنی لفظ ہے کی وجہ سے اس کا جواب بجا ہو گا۔ اس کی بجائے اگر ہم اسکا ترجمہ بدھ مت کے تصور کے مطابق یعنی "مسائل" کریں اور پھر کسی سے ہم یہ کہیں "آپ خواہ کوئی بھی ہوں،کتنے ہی دولتمند ہوں، آپ کی کتنی ہی اولاد ہو، پر ہر شخص کی زندگی میں کچھ مسائل ہوتے ہیں"۔ تو یہ ایسیبات ہے جسے ہر کوئی تسلیم کرنے کو تیار ہو گا۔ لہٰذا میں ان بدھ مت کی تشریحات کو تبتی روائت میں مروجمعانی سے قدرے مختلف اصطلاح میں بیان کروں گا۔
بے قابو، رو بہ تکرار مسائل کا نام سنسار ہے۔ یہ ایسے حالات ہیں جو ہمارے اختیار سے باہرہیں اور یہ بار بار وقوع پذیر ہوتے ہیں۔ مثلاً ہر دم احساس شکست خوردگی یا ہمیشہ کا فکر اور خوف۔ ابدیکھنا یہ ہے کہ ان کی "حقیقی وجوہات" کیا ہیں؟ مہاتما بدھ نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ کس طرح نہ صرف"حقیقی مسائل" ہوتے ہیں جن کا ہمیں سامنا کرنا پڑتا ہے بلکہ ان کی حقیقی وجوہات بھی ہوتی ہیں اور ان کاتدارک بھی ممکن ہے۔ ان کے "حقیقی تدارک" کا طریقہ ""سچے راستہ" پر چلنا ہے جس کا مطلب ہے "سچے راستےوالے من" پیدا کئے جائیں، ایسے سوچ کے انداز جو وجوہات کا خاتمہ کر دیں۔ ایک بار ہم وجوہات سے نجات پالیں تو ہمیں مسائل سے بھی چھٹکارا مل جائے گا۔

مسائل کی جڑ: ایک ٹھوس شناخت کا اصرار

ان بے قابو، رو بہ تکرار مسائل جن سے ہمیں زندگی میں پالا پڑتا ہے کی حقیقی وجہ ہماریحقیقت سے لاعلمی ہے۔ ہم اپنی اصل پہچان سے ناواقف ہیں، ہم دوسروں کی صحیح شناخت سے ناآشنا ہیں، زندگیکے معنی کیا ہیں، دنیا میں درحقیقت کیا ہو رہا ہے۔ میں جہالت کی بجائے "عدم آگہی" کا لفظ استعمال کروںگا۔ لفظ جہالت یہ عندیہ دیتا ہے جیسے کوئی یہ کہ رہا ہو کہ تم احمق ہو اور کچھ نہیں سمجھتے۔ اس کیبجائے ہم تو محض بے بہرہ ہیں اور چونکہ ہم بے بہرہ ہیں اس لئے ہم نفسیاتی طورپر عدم تحفظ کا شکار ہوتےہیں۔ اس عدم تحفظ کی بنا پر ہم کسی قسم کی ٹھوس شناخت کے اصرار کی جانب مائل ہوتے ہیں، کسی قسم کی"میں"۔ "میں نہیں جانتا کہ میں کون ہوں یا میرا وجود کیا ہے، اور یوں میں اپنی ذات کے بارے میں کسیایسے تصور کا سہارا لوں گا جو صحیح بھی ہو سکتا ہے یا محض خیالی صورت گری بھی، اور ایسے کہوں گا کہ یہہوں میں، حقیقت میں میں یہ ہوں"۔
ہم اپنی شناخت ایک باپ کے روپ میں کر سکتے ہیں، مثلاً "میں یہ ہوں، میں باپ ہوں، میرے گھرمیں میرا احترام ہونا چاہئے۔ میرے بچوں کو میرے ساتھ احترام اور اطاعت کا ایک خاص رویہ اختیار کرناچاہئے۔" اگر زندگی میں ہماری تمام توجہ ایک باپ ہونے کی حیثیت پر مرکوز ہے تو صاف ظاہر ہے کہ یہ رویہہمیں کسی مشکل میں ڈال سکتا ہے۔ یہ اس لئے کہ اگر ہمارے بچے اس پر قائم نہیں رہتے تو مسٔلہ کھڑا ہوجائے گا۔ اگر ہم کسی دفتر میں کام کرتے ہیں تو لوگ وہاں ہمیں ایک "باپ" کے نہیں جانتے، نہ ہی اس قسم کیعزت کے قابل۔ یہ بات بڑی پریشان کن ہو گی۔ گھر کے اندر تو میرا حکم چلتا ہے، لیکن اس وقت کیا ہو گا جبمیں دفتر میں جاتا ہوں۔ دفتر میں موجود دوسرے لوگ مجھے کسی قابل نہیں سمجھتے، مجھے گھٹیا جانتے ہیں اورمجھے ان کا احترام کرنا ہے؟ اگر ہم باپ ہونے کی شناخت کو زیادہ سنجیدگی سے اختیار کر لیتے ہیں اوراحترام کروانا چاہتے ہیں تو دفتر میں ہمیں بہت ناخوش ہوں گے جب لوگ ہمارے ساتھ عزت سے پیش نہیں آئیںگے۔
ہم یہ شناخت اپنا سکتے ہیں کہ ہم ایک کامیاب تاجر ہیں۔ "میں ایک کامیاب تاجر ہوں، میںایسا ہی ہوں، مجھے ایسے ہی ہونا ہے"۔ لیکن اگر ہمارا کاروبار ختم ہو جائے یا ہمیں کاروبار میں بہتنقصان ہو جائے تو ہم ٹوٹ پھوٹ کر رہ جاتے ہیں۔ بعض لوگ کاروبار کی ناکامی پر خود کشی کر لیتے ہیں یاکئی طرح کی بھیانک حرکتیں کرتے ہیں کیونکہ وہ زندگی کو بغیر اس ٹھوس شناخت کے جسے انہوں نے پکڑ رکھا ہےرواں دواں دیکھ ہی نہیں سکتے۔
یا ہم اپنی شناخت کو مردانہ خصوصیات سے منسوب کر لیتے ہیں۔ "یہ ہے میری پہچان۔ میں ایکخوب رو، جاذب نظر مردانہ شخصیت کا حامل ہوں"۔ لیکن جب ہم پر بڑھاپے کی آمد آمد ہوتی ہے اور مردانگی کیروانگی، تو ہم پر دیوانگی طاری ہو سکتی ہے۔
بعض لوگ جنہوں نے اسے اپنی ذات کی حتمی پہچان بنا رکھا ہو وہ تو بری طرح سے شکستہ خاطر ہوجائیں گے۔ وہ یہ دیکھنے کو تیار ہی نہیں کہ زندگی میں ہر شے تغیر پذیر ہے اور یہ شناخت بھی دائمینہیں۔
ہم یہ بھی سوچ سکتے ہیں کہ میں ایک روائتی انسان ہوں اس لئے ہر کام روائتی طریقوں سے ہوناچاہئے۔ جب سماج بدلتا ہے اور نوجوان ان روایات پر نہیں چلتے جو ہماری پہچان کی بنیاد ہیں تو ہم اشتعالمیں آ جاتے ہیں، بہت پریشان اور دکھی ہو جاتے ہیں۔ ہم اس بات کا تصور بھی نہیں کر سکتے کہ ہم ایک ایسیدنیا میں کیسے رہ سکتے ہیں جو ہمارے چینی رسم و رواج، جن پر ہم پروان چڑھے تھے، پر نہیں چل رہی۔
دوسری طرف بطور ایک نوجوان کے ہم اپنی شناخت ایک جدت پسند کی حیثیت میں قائم کرتے ہیں۔"میں دنیا کا ایک ماڈرن آدمی ہوں، مجھے ان روائتی اقدار کی ضرورت نہیں"۔ اگر ہم اس کا مظبوطی سے اتباعکریں اور اس کے بعد ہمارے والدین شدت سے اصرار کریں کہ ہم روائتی قدروں پر چلیں اور ان سے روائتی رویہاختیار کریں تو ایک ماڈرن نوجوان ہونے کی حیثیت سے ہم عدو اور اشتعال کے احساسات محسوس کر سکتے ہیں۔ ہوسکتا ہے ہم اس کا اظہار نہ کریں مگر اندر ہی اندر ہم یہ محسوس کریں گے کہ ایک ماڈرن انسان ہونے کی وجہسے ہمیں چینی نئے سال کے دن پر اپنے والدین سے جا کر ملنے کی ضرورت نہیں۔ ہمیں یہ سب روایات نبھانے کیضرورت نہیں۔ اس صورت میں بھی ہمیں کئی مسائل پیش آئیں گے۔
ہم اپنے پیشے کے ساتھ بھی اپنی شناخت قائم کر لیتے ہیں۔ اور پھر اگر ہمارا کاروبار ناکامہو جاۓ اور ہم اپنے بارے میں صرف اس ایک کاروبار کے حوالے سے سوچتے ہوں جو ہم نے اپنا رکھا تھا تو ہممیں لچک برقرار نہیں رہے گی۔ جب ہم وہ کام نہ کر پائیں جو پہلے کرتے تھے تو ہمیں لگتا ہے کہ ہماری دنیاختم ہو گئی۔ ہم یہ نہیں دیکھتے کہ ایک نیا پیشہ اختیار کرنا بھی ممکن ہے اور ہمیں ہمیشہ ایک ہی پیشے پرتکیہ کرنے کی ضرورت نہیں۔
ہم شناخت کی ان مختلف شکلوں کو اس لئے مظبوطی سے پکڑے رکھتے ہیں کیونکہ یہ ہمیں تحفظ کااحساس دلاتی ہیں۔ ہم اپنے بارے میں کہ ہم کون ہیں،ہم کس قسم کے ضوابط کے پابند ہیں اور ہم زندگی میں کسقسم کی چیزوں کے خواہاں ہیں کچھ تصورات قائم کر لیتے ہیں۔ ہم اس سوچ کی طرف مائل ہو جاتے ہیں کہ یہتصورات دائمی اور مستحکم ہیں اور فی الحقیقت یہی میری شخصیت ہے۔ ہوتا یہ ہے کہ اپنے بارے میں اس تصور،اس ذاتی شبیہ کی بنیاد پر ہمارے اندر طرح طرح کے پریشان کن احساسات جنم لیتے ہیں جو اس شناخت کیپذیرائی کرتے ہیں۔ اس کی وجہ اپنی شناخت کے بارے میں ہمارا عدم تحفظ ہے، تو ہم یہ محسوس کرتے ہیں کہہمیں اسے ثابت کرنا ہے اور اس کا پرزور اصرار کرنا ہے۔
مثال کے طور پر اگر ہم یہ محسوس کریں کہ"میں خاندان میں باپ کا مقام رکھتا ہوں"تو ہمارےلئے محض یہ احساس ہی کافی نہیں کہ میں خاندان میں باپ کا مقام رکھتا ہوں، مجھے اس اختیار کو پورے زورسے جتانا بھی ہے۔ ہمیں اپنے خاندان پر اپنی اس رتبہ کا زوردار اظہار بھی کرنا ہے اور یہ یقینی بنانا ہےکہ ہر کوئی ہمیں سجدہء تعظیمی کرتا ہے، کیونکہ ہم نے ہر ایک پر ثابت کرنا ہے کہ ہم آج بھی ایک مقتدرباپ ہیں۔ ہمارے لئے محض یہ جاننا کافی نہیں۔ اگر ہم یہ محسوس کریں کہ ہماری یہ شناخت خطرے میں ہے تو ہممدافعت پر اتر آتے ہیں۔ یا کچھ ثابت کرنے کی خاطر ہم نہائت معاندانہ اور جارحانہ رویہ اختیار کر سکتےہیں۔ "مجھے ثابت کرنا ہے کہ میں کون ہوں۔ مجھ میں ابھی بھی مردانگی اور کشش موجود ہے"۔ تو ہم باہر جاکر ایک اور بیوی لے آتے ہیں یا کسی جوان عورت کے ساتھ معاشقہ کرتے ہیں یہ ثابت کرنے کے لئے کہ ہم کونہیں، اور اس طرح اپنے وجود کا احساس دلاتے ہیں۔

پریشان کن جذبات اور رویّے

جاذبیت اور شدید آرزو

پریشان کن جذبات اور رویّے ابھرتی ہوئی من کی وہ کیفیات ہوتی ہیں جن کی مدد سے ہم اپنیشناخت کی پختگی کو ثابت کرنے اور قائم رکھنے کا اہتمام کرتے ہیں۔ یہ پریشان کن جذبات کئی قسم کے ہوسکتے ہیں مثلاً کشش اور شدید آرزو۔ شدید آرزو اس وقت پیدا ہوتی ہے جب ہم اپنی شناخت کے تحفظ کی خاطرکسی چیز کو پانے یا اس سے قربت رکھنے کی ضرورت محسوس کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر اگر میری شناخت اپنےخاندان کے باپ یا سربراہ کے طور پر ہے تو میں سوچ سکتا ہوں"مجھے احترام ملنا چاہئے، نئے سال کے موقع پربچوں کو میرے پاس آنا چاہئے اور جو میں کہتا ہوں ان سے اس کی اطاعت کروانی چاہئے"۔ بہر طور مجھے یہاحساس ہوتا ہے کہ اگر میں کافی احترام حاصل کر سکتا ہوں تو اس سے میرے اندر احساس تحفظ پیدا ہو گا۔ اورظاہر ہے کہ جب مجھے وہ احترام نہیں ملے گا تو مجھے صدمہ پہنچے گا اور بہت غصہ بھی آئے گا۔
میں یہ بھی سوچ سکتا ہوں کہ میری شناخت یہ ہے کہ میں ایک خوش قسمت انسان ہوں:"میرا مقدراور میرا نصیب ہمیشہ اچھا ہونا چاہئے۔ اور مجھے ماجونگ میں ہمیشہ جیتنا چاہئے"۔ اگر یہ میری پہچان ہےتو میں یہ محسوس کرتا ہوں کہ اگر میں ماجونگ اور جوۓ کی مختلف قسموں میں ہمیشہ جیتتا ہوں تو اس سے مجھےتحفظ کا احساس ہوتا ہے۔ یا میں ہر وقت کسی جوتشی کے پاس چلا جا رہا ہوں، یا چینی بدھ مت مندر میں جاکرقسمت کی تیلیاں پھینک کر صحیح جواب حاصل کرتا ہوں تا کہ میں اپنے آپ کو اپنی کامیابی اور اپنے ٹھیکہونے کا یقین دلا سکوں۔ میں اپنی کاروباری صلاحیتوں میں نوع غیر محفوظ ہوں اور مجھے اپنی کامیابی کایقین نہیں۔ مجھے ہمیشہ مزید نشانیاں حاصل کرنی ہیں، دیوتاؤں سے ایسی نشانیاں، یا جس کسی سے بھی جو مجھےتحفظ فراہم کر سکیں۔ لہٰذا مجھے مجبوراً یہ سب کچھ کرنے کی کوشش کرتے رہنا چاہئے۔
میں یہ بھی محسوس کر سکتا ہوں کہ "میں اپنے کاروبار میں بااختیار شخص ہوں۔ قوت و اختیارمیری طرف کھینچا چلا آتا ہے اور یہ قوت مجھے تحفظ دے گی"۔ اس قسم کا رویہ متنوع نفسیاتی صورت حالات سےپیدا ہوتا ہے۔ یہ اس احساس پر مبنی ہو سکتا ہے کہ میں ایک طاقتور شخص ہوں یا اس احساس پر کہ میںحقیقتاً زیادہ طاقت اور اختیار نہیں رکھتا لیکن تائید حاصل کرنے کی خاطر مجھے اس کی ضرورت ہے۔ تب ہممحسوس کرتے ہیں کہ "اگر میں اپنے دفتر کے ہر آدمی کو اپنی اطاعت پر مجبور کر دوں، وہ ویسے ہی کریں جیسےکہ میں چاہتا ہوں تو اس طرح میں اپنے آپ کو محفوظ تصور کروں گا"۔ یا اگر گھر میں نوکر رکھے ہوں تو یہثابت کرنے کے لئے کہ اصل اختیار مجھے حاصل ہے، مجھے یہ خیال پر کشش لگے گا کہ وہ اس طرح کام کریں جیسےمیں چاہتا ہوں یہاں تک کہ انہیں غیر ضروری کام کرنے کو کہوں محض یہ ثابت کرنے کے لئے کہ اختیار کس کےہاتھ میں ہے۔
کوئی شخص توجہ حاصل کرنے پر بھی فریفتہ ہو سکتا ہے۔ ایک جوان آدمی ہونے کی صورت میں ہم یہمحسوس کر سکتے ہیں "میری شناخت ایک ماڈرن، جدید طرز کا مروج لباس پہننے والے نوجوان کی ہے اور اگر میںجدید ترین فیشن کے ساتھ ساتھ چلوں، جدید ترین ویڈیوز اور سی ڈیز اور فیشن کے رسالوں میں چھپنے والےتمام مواد پر نظر رکھوں تو اس سے میری شناخت کو تحفظ ملے گا"۔
ایسے بے شمار طریقے ہیں، ایسی بے شمار چیزیں ہیں جن پر توجہ مرکوز کرنے سے ہم یہ محسوس کرسکتے ہیں کہ اگر میں اپنے گرد موجود تمام چیزیں حاصل کر لوں اور اس پر مزید ذخیرہ کر لوں، بہت سا روپیہپیسہ، بہت سی املاک، بہت قوت و اختیار، بہت ساری توجہ اور پیار، تو اس سے مجھے تحفظ مل جاۓ گا۔ یہ امریقینی ہے کہ اس سے کام نہیں بنے گا۔ اگر یہ حقیقتاً کارگر ہوتا تو ہم کسی نہ کسی مقام پر یہ محسوس کرتےکہ ہمارے پاس بہت کچھ ہے اور ہم پوری طرح مطمٔن ہیں۔ لیکن ہم نے کبھی ایسا محسوس نہیں کیا اور ہمیںہمیشہ مزید کی طلب رہتی ہے۔ اور جب ہمیں یہ نہیں ملتا تو ہم غصے میں آ جاتے ہیں۔ غصہ کئی روپ دھارتاہے۔

کراہت اور عداوت

اک بظاہر ٹھوس شناخت کو تحفظ دینے کی خاطر ایک اور حربہ جو ہم استعمال کرتے ہیں وہ ہےکراہت، عداوت اور غصہ کا۔ "اگر میں کسی طرح ان چند چیزوں سے جو مجھے ناگوار ہیں،جو میری شناخت کے لئےخطرہ بنی ہوئی ہیں پیچھا چھڑا لوں تو اس طرح میں محفوظ ہو جاؤں گا"۔ لہٰذا اگر میں اپنی شناخت کو اپنےسیاسی نظریات، اپنی نسل یا ثقافت پر استوار کروں:"تواگر میں ہر اس شخص سے گریز کروں جس کے نظریات، چمڑیکا رنگ یا مذہب مجھ سے مختلف ہے تو اس طرح مجھے تحفظ مل جاۓ گا"۔ یا اگر میرے ملازم اس طریقہ سے ذرامختلف انداز میں کام کر رہے ہیں جیسے کہ میں چاہتا ہوں، یا میرے دفتر میں کام کرنے والے لوگ اس سے ذرامختلف طریقہ سے کام کر رہے ہیں جس طرح سے میں چاہتا ہوں کہ وہ کریں تو ہم محسوس کرتے ہیں کہ"اگر میں انکا رویہ درست کر سکتا، اگر میں اس کو تبدیل کر سکتا تو اس طرح میں محفوظ ہو جاتا"۔ "میں چاہتا ہوں کہمیری میز پر کاغذات ایک خاص انداز سے ترتیب دئیے جائیں مگر دفتر میں وہ دوسرا شخص انہیں مختلف طریقے سےترتیب دے رہا ہے"۔ کسی وجہ سے ہم محسوس کرتے ہیں کہ یہ ہمارے لئے خطرہ کا باعث ہے۔ "اگر میں اپنے طریقےسے ان سے ایسا کروا سکوں تو اس طرح میں محفوظ محسوس کروں گا"۔ اس سے کیا فرق پڑتا ہے؟ اس طرح ہم اپنیعداوت کو دوسروں کے خلاف اس کوشش میں لگا دیتے ہیں کہ ہر وہ چیز جو ہمارے لئے خطرے کا باعث ہے اسے اپنےسے دور کر دیں۔
یا اگر ہم اپنی پہچان ایسے انسان کی بنا لیں جو ہمیشہ صحیح ہوتا ہے تو جب کوئی شخص ہماریبات کو رد کرتا ہے یا اسے ہدف تنقید بناتا ہے تو ہم شدید مدافعت کرتے ہیں، عداوت دکھاتے ہیں یا غصے کااظہار کرتے ہیں۔ ایسے شخص کی تنقید کو اس خیال سے کہ اس سے ہماری نشوونما ہوگی اور ہم ترقی کریں گے یااگر یہ تنقید غیرمنصفانہ ہے ہم اس موقع کو اپنا تنقیدی جائزہ لینے کے لئے استعمال کریں اور یہ یقینیبنائیں کہ ہم کسی بےاحتیاطی یا غلطی کے مرتکب تو نہیں ہو رہے، اس کی بجاۓ ہم اس شخص پر سخت الفاظ کیبوچھاڑ کر دیں گے یا عدم تعاون کی صورت میں دشمنانہ رویہ اختیار کرتے ہوۓ اس کو نظر انداز کریں گے اوراس سے بات بھی نہیں کریں گے۔ ہم ایسا رویہ اس لئے اختیار کرتے ہیں کیونکہ ہم خیال کرتے ہیں کہ ہم غیرمحفوظ ہیں اور خطرے میں ہیں۔ ہم سوچتے ہیں کہ یہ شخص مجھے مسترد کر رہا ہے "میں" جو ہمیشہ درست ہوتاہوں، اور اس ٹھوس "میں" کی حفاظت کی خاطر ہم اس شخص کو مسترد کر دیتے ہیں۔

تنگ نظر بھولپن

ایک اور طریقہ تنگ نظر بھولپن ہے جو محض اپنے گرد حصار تعمیر کرنا ہے:" اگر مجھے کسی چیزسے خطرہ درپیش ہے، میری شناخت کے لئے خطرہ پیدا کر رہی ہے، تو میں یہ ظاہر کروں گا کہ اس کا کوئی وجودنہیں۔"۔ ہمیں اپنے خاندان میں، کام میں مشکلات پیش آسکتی ہیں مگر ہم بے حسی کا تاثر چہرے پر لئے گھرآتے ہیں جیسے کچھ ہوا ہی نہیں۔ ہم اس کے بارے میں بات ہی نہیں کرنا چاہتے۔ ہم ٹیلیویژن لگا لیتے ہیںاور یہ ظاہر کرتے ہیں کہ سرے سے کوئی مسٔلہ ہے ہی نہیں۔ یہ تنگ نظر رویہ ہے۔ ہمارے بچے خود کو درپیشمسائل پر بات کرنا چاہتے ہیں مگر ہم انہیں دور بھگا دیتے ہیں۔ "میری شناخت یہ ہے کہ ہمارا خاندان مسائلسے مبرّا اور باکمال ہے، اس نے تمام روائیتی قدروں کو اپنا رکھا ہے۔ آپ کیسے کہ سکتے ہیں کہ ہمیں کوئیمسٔلہ در پیش ہے اور اس طرح ہم اپنا توازن برباد کر دیں، ہم آہنگی ختم کر دیں؟" ہمارا خیال ہے کہ کسیمسٔلہ سے نبردآزما ہونے کا ایک ہی طریقہ ہے، یہ سوچا جاۓ کہ اس کا کوئی وجود نہیں۔ اس قسم کے رویہ کوذہن کی نادان بندش کہتے ہیں۔

محرکات جو من میں جنم لیتے ہیں وہ کرم کے اظہارات ہوتے ہیں

جب ہم پر مختلف قسم کے پریشان کن جذبات طاری ہوتے ہیں تو اس کے بعد ہمارے من میں مختلفمحرکات جنم لیتے ہیں۔ اسی کو کرم کہتے ہیں۔ کرم سے مراد قسمت یا مقدر نہیں۔ بدقسمتی سے بہت سےلوگ اس کایہی مطلب لیتے ہیں۔ اگر کسی کا کاروبار ڈوب جاۓ یا وہ گاڑی سے ٹکرا جاۓ تو ہم یوں کہیں گے"یہ قسمت ہے۔یہ ان کا کرم تھا"۔ ایسا کہنا یوں ہی ہے جیسے "یہ خدا کی مرضی تھی"۔
کرم کے بارے میں گفتگو میں ہم یہاں خدا کی مرضی یا مقدر کی بات نہیں کر رہے۔ ہم محرکات کیبات کر رہے ہیں، وہ مختلف محرکات جو کچھ کرنے کی خاطر ہمارے من میں پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً ہمارے کاروبارکے اندر کوئی فیصلہ کرنے کے لئے ہمارے من میں جو محرک پیدا ہوا، جو کہ ایک برا فیصلہ ثابت ہوا۔ یا میںبچوں سے یہ تقاضا کروں کہ وہ میرا احترام کریں۔ یا یہ تحریک کہ میں دفتر میں کام کرنے والوں کو چلا کرڈانٹوں کہ وہ اپنے طریقے سے کام نہ کریں بلکہ میرے طریقے سے کام کریں۔ میرے من میں ایک اور محرک یہ آسکتا ہے کہ میں پتھر جیسا چہرہ بنا لوں، ٹیلیویژن لگا لوں اور کسی کی بات تک نہ سنوں۔ ایسے محرکات -کرم – ہمارے من میں پیدا ہوتے ہیں، ہم انہیں عملی جامہ پہناتے ہیں جس سے بےقابو، مائل بہ تکرار مسائلپیدا ہوتے ہیں۔ یہ ہے وہ طرز عمل۔
ہمیں کام پر ہماری حیثیت یا خاندانی مسائل کی وجہ سے مستقل پریشانی اور بے چینی کا مسٔلہدرپیش ہو سکتا ہے۔ اپنی پختہ شناخت کے اصرار پر مبنی خیال " مجھے کامیابی حاصل کرنا ہے اور اس سے اپنےوالدین اور سماج کو خوش کرنا ہے"۔ ہم اس شناخت کا دفاع پریشانی کے وجود کا انکار کر کے کرتے ہیں۔ ہمارامن اور دل بند ہو جاتا ہے۔ پھر ہمارے خاندان اور ہمارے کام میں ہر طرح کے مسائل کی موجودگی کے باوجودوہ زیر سطح چلے جاتے ہیں اور ہر کوئی اچھا مصنوعی چہرہ لئے پھرتا ہے۔ اندر ہی اندر اگرچہ ہر طرح کیپریشانیاں اور تناؤ قائم رہتے ہیں جو ہو سکتا ہے بعد از آں پھٹ کر کسی پُر تشدد منظر کا محرک بنیں۔ اوراس کا رخ خاندان یا دفتر کے کسی ایسے شخص کی جانب ہو جس کا اس مسٔلے سے کوئی تعلق ہی نہیں۔ اس سے بہتبڑے مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
یہ وہ مختلف طریقہ ہاۓ کار ہیں جو بےقابو، رو بہ تکرار مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ہم دیکھ سکتےہیں کہ یہ ہماری مختلف جذبات کے ساتھ نبرد آزمائی ہے۔ تو لازماً سوال پیدا ہوتا ہے، کیا تمام جذباتمصیبت کا باعث ہوتے ہیں؟ کیا تمام جذبات ایسی چیزیں ہیں جو ہمارے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں؟

تعمیری جذبات

ہمیں ان جذبات کے درمیان یہ امتیاز پیدا کرنا ہو گا جو مثبت اور تعمیری ہوتے ہیں جیسےمحبت، انس، برداشت، صبر اور مہربانی – اور منفی اور تباہ کن جذبات جیسے شدید آرزو، دشمنی اور عداوت، منکی بندش، غرور، تکبر، حسد وغیرہ۔ پالی، سنسکرت اور تبتی زبانوں میں جذبات کے لئے کوئی لفظ نہیں۔ ہممثبت یا منفی جذبات کے بارے میں بات کر سکتے ہیں مگر ایسا کوئی عمومی لفظ نہیں جو مثبت اور منفی دونوںکو بیان کرتا ہو جیسا کہ انگریزی میں۔
جب ہم ان چند جذبات یا رویّوں کے بارے میں بات کرتے ہیں کہ اگر وہ پیدا ہوں تو ہم بے آرامو بے چین ہو جاتے ہیں تو ایسے رویّے اور جذبات پریشان کن ہوتے ہیں۔ مثال کے طور پر ہم کسی چیز یا کسیشخص پر فریفتہ ہوتے ہیں یا ان کی چاہت ذہن پر مسلط ہو جاتی ہے تو اس سے ہمیں بہت بے چینی ہوتی ہے۔ ہمیںبڑی فکر لاحق ہوگی کہ ہمیں احترام ملے یا ہمیں کسی شخص کی محبت، توجہ یا قبولیت حاصل کرنے کی بہت حسرتہو گی کیونکہ اس شخص کے ساتھ ہماری گہری وابستگی ہوتی ہے یا ہمیں شدت کے ساتھ اس کی حمائت درکار ہوتیہے یا کچھ اور بھی تا کہ ہم اپنے آپ کو کسی قابل یا محفوظ سمجھ سکیں۔ یہ سب ایسی مشکلات ہیں جو پریشانکن جذبات یا شدید خواہشوں کی شکل میں آتی ہیں۔ ہم جب بھی معاندانہ رویہ اپناتے ہیں ہم بہت بے چینیمحسوس کرتے ہیں، یا اگر ہم اپنے من کو بند کر لیں تو یہ احساس بھی آسان نہیں ہوتا۔ یہ تمام رویّےمشکلات پیدا کرنے والے ہوتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں مثبت اور منفی جذبات میں امتیاز لازم ہے مثلاً محبت۔
بدھ مت روایات میں محبت کو مثبت جذبہ قرار دیا جاتا ہے جس کی مدد سے ہم دوسروں کے لئےخوشی اور خوشی کے اسباب کی آرزو کرتے ہیں۔ اس جذبہ کا انحصار اس دلیل پر ہوتا ہے کہ ہم سب برابر ہیںاور ہر شخص خوش ہونے کا برابر کا حقدار ہے اور کوئی نہیں چاہتا کہ اسے مسائل کا سامنا ہو۔ ہر شخص کوخوش رہنے کا برابر کا حق حاصل ہے۔ دوسروں کی اس طرح نگہداشت کرنا اور ان کا خیال رکھنا جس طرح ہم اپنےساتھ کرتے ہیں محبت کہلاتا ہے۔ دوسروں کی خوشی کی فکر اس بات پر منحصر نہیں کہ وہ کیا کرتے ہیں۔ یہ ماںکی محبت جیسا ہے جو اپنے بچے کے ساتھ اس وقت بھی محبت کرتی ہے جب وہ اس کے کپڑے گندے کر دیتا ہے یا اسپر قے کر دیتا ہے۔ اس سے کچھ فرق نہیں پڑتا۔ ماں اس بنا پر اپنے بچے سے محبت ختم نہیں کر دیتی کہ بچےنے بیماری کی حالت میں اس کے کپڑوں پر قے کر دی۔ ماں پھر بھی ویسی ہی فکرمند ہوتی ہے، بچے کی خوشی کیویسے ہی خواہشمند۔ اس کے برعکس ہم جس چیز کو محبت کہتے ہیں وہ ہماری ضرورت یا اس شے یا شخص پر انحصارکا اظہار ہوتا ہے۔ "مجھے تم سے محبت ہے" کا مطلب ہے "مجھے تمہاری ضرورت ہے، مجھے کبھی چھوڑ کر مت جانا،میں تمہارے بغیر زندہ نہیں رہ سکتا،اور بہتر ہو گا کہ تم ایسا کرو اور ویسا کرو۔ تم اچھی بیوی یا اچھےخاوند بنو۔ ویلنٹائن ڈے پر ہمیشہ مجھے پھول پیش کرو اور صرف وہی کام کرو جو مجھے اچھا لگے۔ اور اگر تمنے ایسا نہ کیا تو پھر میں تم سے نفرت کروں گا کیونکہ تم نے وہ کچھ نہیں کیا جو میں چاہتا تھا، جب مجھےتمہاری ضرورت تھی تو تم غائب تھے"۔
اس طرح کا رویہ ایک پریشان کن جذبہ ہے اور یہ بدھ مت کا محبت کا تصور نہیں۔ محبت تو کسیکے ساتھ تعلق ہوتا ہے خواہ وہ ہمیں پھول بھیجیں یا نہ بھیجیں، خواہ وہ ہماری بات مانیں یا نہمانیں،خواہ وہ ہمارے ساتھ مہربانی اور خوش اخلاقی سے پیش آئیں یا بد سلوکی کریں، حتیٰ کہ ہمیں مسترد کردیں۔ فکر تو اس بات کی ہے کہ وہ خوش رہیں۔ ہمیں یہ احساس کرنا چاہئے کہ جب ہم محبت یا اس جیسے جذبات کےبارے میں بات کرتے ہیں تو وہ مثبت بھی ہو سکتے ہیں اور پریشانی والے بھی۔

غصہ ہمیشہ ایک پریشان کن جذبہ ہوتا ہے

اب آخرکار ہم غصہ کے متعلق بات کرنے کے مقام تک آ پہنچے ہیں۔ غصہ کے ساتھ کیا معاملہ ہے؟غصہ ایک ایسی حالت ہے جو ہمیشہ پریشان کن ہوتی ہے۔ کوئی آدمی غصے میں آکر خوش نہیں رہ سکتا۔ غصے میںآکر کوئی بھی بہتر محسوس نہیں کرتا۔ غصے کی حالت میں خوراک کا ذائقہ بھی اچھا نہیں لگتا۔ جب ہم غصے میںہوں اور پریشان ہوں تو ہم نہ تو آرام میں ہوتے ہیں اور نہ ہی سو سکتے ہیں۔ غصے کے اظہار کے لئے ہمیںچیخنے چلانے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر ہم دفتری یا خاندانی حالات کی وجہ سے اندر ہی اندر کڑھ رہے ہوں تواس سے ہمیں بد ہضمی اور ناسور کی شکائت ہو سکتی ہے یا ہماری نیند حرام ہو سکتی ہے۔ غصہ اندر دباۓ رکھنےسے ہمیں کئی مشکلات پیش آتی ہیں۔ اور اگر ہم اس غصہ کا اظہار کریں اور دوسروں کو دشمنانہ نظر سےدیکھیں، انہیں اپنی دشمنی کا احساس دلائیں تو کتے اور بلیاں بھی ہمارے قریب نہیں پھٹکیں گے۔ وہ آہستہآہستہ دور کھسک جائیں گے کیونکہ وہ ہمارے غصے اور ہماری موجودگی سے پریشان ہوتے ہیں۔
غصہ ایک ایسی حالت ہے جس کا کوئی حقیقی فائدہ نہیں۔ اگر ہمارا غصہ بہت بڑھ جاۓ، ہم بہت دلبرداشتہ ہو جائیں اور بے قابو ہو کر پھٹ پڑیں، کسی کو لعنت ملامت کریں یا کسی کو بری نظر سے دیکھیں تواس طرح کیا ہم واقعی بہتر محسوس کریں گے؟ کیا ہم کسی کو دکھی اور پریشان دیکھ کر خوش ہوتے ہیں؟ یا ہماتنے غصے میں ہوں کہ ہم دیوار پر مکے ماریں۔ کیا دیوار پر مکے مار کر ہم بہتر محسوس کریں گے؟ نہیں، صافظاہر ہے کہ ایسا قطعی نہیں ہوتا بلکہ اس سے الٹی تکلیف ہوتی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ غصے کا کوئی بھی فائدہنہیں ہوتا۔ اگر ہم ٹریفک میں پھنس جائیں اور ہم اس قدر غصے میں آجائیں کہ ہم ہارن بجانا شروع کر دیں،لوگوں پر چلائیں اور انہیں گالیاں دیں، تو اس سے کیا حاصل؟ کیا اس سے ہم نے بہتر محسوس کیا؟ کیا ایساکرنے سے گاڑیوں کی رفتار تیز ہو گئی؟ نہیں، اس سے ہم سب کے سامنے شرمندہ ہوں گے، کیونکہ وہ کہیں گے "یہکون احمق ہارن بجا رہا ہے؟" اس صورت میں یہ رویہ ہماری کوئی مدد نہیں کرے گا۔

کیا غصہ کرنا ضروری ہے؟

اگر پریشان کن جذبات جیسے غصہ، اور اس سے پیدا ہونے والا اضطراری رویہ، مثلاً کسی پرچیخنا چلانا، یا دشمنی کی بنا پر کسی سے تعلق توڑ دینا، یا کسی کو رد کر دینا، ہمارے مسائل کی وجوہاتہیں، تو کیا ان کی وجہ سے ہمیں ہمیشہ مسائل پیش آئیں گے؟ کیا یہ کوئی ایسی چیز ہے جس سے ہمیں ہمیشہواسطہ پڑے گا؟ نہیں، ایسا نہیں کیونکہ پریشان کن جذبات من کا فطرتی حصہ نہیں۔ اگر ایسا ہوتا تو ہمارامن ہمیشہ بے چین رہتا۔ حتیٰ کہ غصے کے سنگین مریضوں پر بھی ایسے لمحات آجاتے ہیں جب غصہ پریشان نہیں کررہا ہوتا۔ مثلاً جب ہم آخرکار سو جاتے ہیں توغصہ غائب ہو جاتا ہے۔
اس طرح یہ ممکن ہے کہ بعض ایسے لمحات ہوتے ہیں جب پریشان کن جذبات جیسے غصہ، عداوت اورناراضگی کا وجود نہیں ہوتا۔ اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ یہ تخریبی جذبات دائمی نہیں، وہ ہمارے من کی فطرتکا حصہ نہیں۔ لہٰذا وہ ایسی کیفیات ہیں جن سے چھٹکارا ممکن ہے۔ اگر ہم غصہ کی بنیادی وجوہات، نہ کہسطحی وجوہات کو ختم کر دیں تو پھر یقیناً رنجش پر قابو پانا اور من کا سکون حاصل کرنا ممکن ہو گا۔
اس کا یہ مطلب نہیں کہ ہمیں ہر قسم کے جذبات اور احساسات سے عاری ہو جانا چاہئے سٹار ٹریککے ڈاکٹر سپاک کی طرح، ایک روباٹ یا کمپیوٹر کی مانند جس کے کوئی جذبات نہیں ہوتے۔ بلکہ ہم یہ چاہتےہیں کہ ہم اپنے پریشان کن جذبات سے جان چھڑا لیں اور ان تنگ کرنے والے رویوں سے جو ذہنی انتشار اورحقیقت سے ہماری عدم آگہی پر مبنی ہوتے ہیں کہ ہم ہیں کیا۔ بدھ مت کی تعلیمات میں یہ کام کرنے کے کئیطریقے بیان کئے گئے ہیں۔

غصے پر قابو پانا: اپنی زندگی کے معیار میں تبدیلی لانا

سب سے پہلے ہمارے لئے کسی ترغیب یا محرک کا ہونا ضروری ہے جو ہمیں راغب کرے کہ ہم اپنیذات پر کچھ کام کریں تا کہ ہم اپنے غصے اور اپنے تمام پریشان کن جذبات اور رویّوں سے چھٹکارا حاصل کرلیں۔ اگر ہمارے پاس ایسا کرنے کی کوئی وجہ نہ ہو تو ہم ایسا کیوں کریں گے؟ پس کسی محرک کا ہونا لازمہے۔
ہم ایسی ترغیب اس سوچ کے ساتھ تشکیل دے سکتے ہیں:" میں خوش اور مسائل سے مبرّا رہنا چاہتاہوں، میں اپنی زندگی کا معیار بلند کرنا چاہتا ہوں۔ میری زندگی خاص خوشگوار نہیں کیونکہ میں ہر وقتاپنے اندر ناراضگی اور عداوت محسوس کرتا ہوں۔ مجھے اکثر غصہ آ جاتا ہے۔ ہو سکتا ہے کہ میں اس کا اظہارنہیں کرتا لیکن یہ موجود تو ہوتا ہے اور اس کی وجہ سے بہت اذیت محسوس کرتا ہوں۔ ہر وقت بہت مضطرب رہتاہوں اور یہ کوئی معیاری زندگی نہیں۔ اس کے علاوہ اس کی وجہ سے میرا ہاضمہ خراب رہتا ہے، اور میں اپنےآپ کو بیمار محسوس کرتا ہوں۔ میں اپنی مرغوب غذا سے بھی لطف اندوز نہیں ہوتا"۔
ہماری زندگی کا معیار بہرحال ایسی چیز ہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے۔ مہاتما بدھ نے جو عظیمتعلیمات دیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ ہم اپنی زندگی کے معیار کے بارے میں کچھ کر سکتے ہیں۔ ہمیں ہر گزیہ سزا نہیں دی گئی کہ ہم ہر وقت اپنی زندگی اذیت میں گزاریں۔ ہم اس کا تدارک کر سکتے ہیں۔
پھر ہم یوں سوچیں گے "میں نہ صرف اب، فی الحال، تھوڑی مدت کے لئے اپنی زندگی کا معیاربہتر بنانا چاہتا ہوں بلکہ طویل المیعاد بنیاد پر بھی۔ میں چیزوں کو اس حد تک بگڑنے نہیں دوں گا کہ وہبد تر صورت اختیار کر لیں۔ مثلاً اگر میں اپنے معاندانہ رو ناراضگی کے رویہ سے اب جان نہیں چھڑاؤں اورانہیں اپنے اندر چھپاۓ رکھوں تو یہ بد تر شکل اختیار کر لیں گے۔ میرے اندر ناسور بن جاۓ گا۔ ہو سکتا ہےکہ میں پھٹ پڑوں اور کوئی بھیانک کام کر گزروں اور کسی کو لعنت ملامت کروں اور فی الواقع کسی کو بربادکرنے کی کوشش کروں۔ اس سے دوسرا شخص بدلہ لینے پر اتر آۓ اور مجھ پر اور میرے خاندان پر لعنت ملامتبھیجے تو اس طرح اچانک ویڈیو یا فلم کے لئے نئ کہانی تیار ہو جاۓ گی"۔
ہم اگر یہ خیال کریں کہ یہ ایسی بات ہے جسے ہم ہرگز نہیں ہونے دیں گے تو پھر ہم اس پر کامکریں گے اور اپنے غصے سے جان چھڑانے کی کوشش کریں گے تا کہ مسائل میں اضافہ نہ ہو۔ ہم یہ بھی تمنا کریںگے کہ نہ صرف اپنے مسائل کو کم سے کم کریں بلکہ اس سے بھی بڑھ کر کہ تمام مسائل کا سرے سے خاتمہ کر دیںکیونکہ تھوڑی سی عداوت اور رنجیدگی برداشت کرنا بھی کوئی مذاق نہیں ہوتا۔ " مجھے تمام مسائل سے آزادیحاصل کرنے کا پختہ عزم کرنا ہو گا"۔
خود کو آزاد کرنے کے مصمم ارادے
عموماً جسے میں "خود کو آزاد کرنے کے مصمم ارادے" کہتا ہوں اس کا ترجمہ"تیاگ" کیا جاتا ہےجو کہ کسی حد تک گمراہ کن ترجمہ ہے۔ اس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ ہمیں سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی غار میں جابسنا چاہئے۔ یہاں اس کا قطعی طور پر یہ مطلب نہیں۔ یہاں یہ بات کی جا رہی ہے کہ ہم اپنے مسائل کاایمانداری اور دلیری سے جائزہ لیں اور دیکھیں کہ ان کے ساتھ زندگی گزارنا کس قدر مضحکہ خیز ہے اور یہفیصلہ کرنا:"میں ایسے حالات نہیں رکھنا چاہتا۔ میں بہت کچھ بھگت چکا ہوں۔ میں ان سے بیزار آ گیا ہوں۔میں ان سے تنگ آ چکا ہوں۔ مجھے ان سے باہر نکلنا ہے"۔
یہاں یہ رویہ استوار کرنا ہے کہ ہم اس بات کا مصمم ارادے کریں کہ ہم نے آزاد ہونا ہے اوراس کے ساتھ ساتھ اس بات پر آمادہ ہونا ہے کہ پرانے پریشان کن انداز فکر، گفتگو اور اور رویہ کو ترک کردیں۔ یہ انتہائی اہم بات ہے۔ جب تک ہم مصمم ارادہ نہیں کریں گے ہم اس پر اپنی پوری توانائی خرچ نہیںکریں گے۔ جب تک ہم اس پر پورا زور نہیں لگائیں گے تو ہماری آزاد ہونے کی خواہش نیم دلانہ ہو گی اور ہمکبھی کچھ حاصل نہیں کر پائیں گے۔ ہم خوشی پانا چاہیں گے مگر اس کے لئے کوئی بھی چیز مثلاً اپنی منفیعادات اور جذبات کو اگر ترک نہیں کریں گے تو یہ طریقہ کبھی کامیاب نہیں ہو گا۔ اس لئے یہ بات بہت اہمہے کہ ہم بہت پختہ عزم کریں کہ ہمیں اپنے مسائل کی روک تھام کرنی ہے اور انہیں اور ان کی وجوہات کو ترککرنا ہے۔
اس سے اگلی اونچی سطح پر ہمیں یہ سوچنا ہے:"مجھے اپنے غصے سے صرف اپنے لئے جان نہیںچھڑانی بلکہ اپنےارد گرد ہر شخص کی خاطر ایسا کرنا ہے۔ اپنے خاندان، دوستوں، ساتھ کام کرنے والوں اورسماج کی خاطر مجھے اپنے غصہ سے نجات حاصل کرنی ہے۔ مجھے دوسروں کی بہتری کی خاطر اس پر قابو پانا ہے۔میں انہیں کوئی تکلیف نہیں دینا چاہتا، انہیں دکھی نہیں کرنا چاہتا۔ اگر میں اپنے غصہ کا اظہار کروں تواس سے نہ صرف میری جگ ہنسائی ہو گی بلکہ میرے پورے خاندان کو شرمندگی اٹھانا پڑے گی۔ اس سے میرے تمامہمکار بھی نادم ہوں گے۔ وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا ان کے بھلے کی خاطر مجھے اپنے غصہ پر قابو پانا، اور اس سےنجات حاصل کرنا سیکھنا ہو گا"۔
اس بات پر غور کرنے سے اس سے بھی زیادہ مظبوط ترغیب ملے گی:"مجھے غصہ سے جان چھڑانی ہو گیکیونکہ یہ مجھے دوسروں کی مدد کرنے سے روک دیتا ہے۔ اگر دوسروں کو میری مدد کی ضرورت ہے مثلاً میرےبچے، میرے ہمکار یا میرے والدین؛ اور اگر میں غصہ کی وجہ سے مکمل طور پر پریشان اور مضطرب ہوں تو میںکس طرح ان کی مدد کر سکوں گا؟ یہ ایک بہت بڑی رکاوٹ ہے اور اس لئے یہ نہائت اہم ہے کہ ہم اپنے آپ پرکام کریں اور خلوص دل سے ترغیب کے مختلف درجات کو ترقی دیں۔
غصے سے نبرد آزما ہونے کا طریقہ خواہ کتنا ہی نفیس کیوں نہ ہو اگر ہم اس کے استعمال پرزور شور سے راغب نہیں ہوں گے تو ہم کچھ نہیں کر پائیں گے۔ اور اگر وہ طریقہ ہاۓ کار جو ہم نے سیکھے ہیںان پر عمل نہ کریں تو پھر اس سے کیا حاصل؟ لہٰذا پہلا قدم یہ ہو گا کہ ہم ترغیب کے حوالے سے غوروفکرکریں۔

غصہ پر قابو پانے کے طریق کار

ایسے کونسے حقیقی طریق کار ہیں جن کی مدد سے ہم غصے پر قابو پا سکتے ہیں؟ غصہ کی تعریف یہبیان کی گئ ہے کہ یہ من کی ایک مشتعل کیفیت ہے جو کسی جاندار یا بے جان چیز کے خلاف مائل بہ تشدد ہوتیہے۔ اگر ہم کسی شخص، جانور، صورت حال یا چیز پر، جسے ہم ناپسند کرتے ہیں، توجہ مرکوز کریں اور یہ چاہیںکہ اس کے خلاف تشدد کا اظہار کریں اور اسے پر تشدد طریقے سے تبدیل کرنا چاہیں تو یہ غصہ کہلاۓ گا۔چنانچہ غصہ عدم برداشت اور صبر کے فقدان کی ایک ایسی کیفیت ہے جو اس خواہش سے متصل ہوتی ہے کہ ہم اسےنقصان پہنچائیں جو ہمارے لئے ناقابل برداشت ہے۔ اس کے برعکس ایک طرف تو صبر ہے جو عدم برداشت کے بالکلبرعکس ہے اور دوسری طرف محبت۔ چونکہ محبت دوسروں کو خوش دیکھنے کی خواہش ہے، محبت کسی کو نقصان پہنچانےکی خواہش کے بالکل برعکس جذبہ ہے۔
بالعموم ہم حالات کی ان صورتوں پر غور کرتے ہیں جن میں ہمارے ساتھ وہ واقع ہوتا ہے جو ہمنہیں چاہتے کہ (ایسا) ہو۔ لوگ اس طرح نہیں کر رہے جیسا ہم چاہتے ہیں کہ وہ کریں۔ مثلاً وہ ہمارا احترامنہیں کر رہے، وہ کام ہمارے احکامات کے مطابق نہیں کر رہے، یا انہوں نے کاروبار کے سلسلہ میں ہمارے ساتھکوئی وعدہ کیا تھا کہ وہ ایسے کریں گے مگر وہ نہیں کر رہے۔ چونکہ وہ ایسا نہیں کرتے جیسا کہ ہم توقع کررہے تھے کہ وہ کریں گے تو ہمیں ان پر بہت غصہ آتا ہے۔ ایک اور مثال یہ ہے کہ اگر کوئی شخص ہمارے ساتھخواہ مخواہ الجھے تو ہم اس پر ناراض ہو جاتے ہیں کیونکہ یہ ایسی بات ہے جو ہم نہیں چاہتے کہ واقع ہو۔ایسے حالات کے ساتھ، غصہ کھاۓ بغیر، نم ٹنے کے کئی طریقے ہیں۔

صبر پیدا کرنے کے لئے شانتی دیو کی نصیحت

آٹھویں صدی کے ایک عظیم بدھ مدبر شانتی دیو نے ہماری مدد کے لئے فکروتفکر کی کئ راہیںدکھائیں۔ جو کچھ انہوں نے لکھا اس کو عام زبان میں بیان کروں تو ان کا کہنا ہے کہ "اگر کسی مشکل حال کوتبدیل کرنے کی کوئی صورت موجود ہے تو پھر فکر اور غصے کی کیا بات ہے، بس اسے تبدیل کر دو۔ اگر اس کاکوئی مداوا نہیں تو پھر پریشان ہونے اور غصہ کرنے سے کیا حاصل؟ اگر وہ تبدیل نہیں ہو سکتی تو غصہ کارگر نہیں ہو گا"۔
مثلاً ہم یہاں پنانگ سے سنگاپور بذریعہ ہوائ جہاز سفر کرنا چاہتے ہیں مگر جب ہم ہوائ اڈےپر پہنچتے ہیں تو پتہ چلتا ہے کہ جہاز پہلے ہی مسافروں سے بھر چکا ہے۔ اب غصے کا کوئی مقام نہیں۔ غصہہمیں جہاز میں جگہ نہیں دلا سکتا۔ تاہم اس صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے ہم کچھ نہ کچھ کر سکتے ہیں – ہم اگلی پرواز لے سکتے ہیں۔ تو پھر غصہ کیوں کریں؟ اگلی پرواز کا ٹکٹ خرید کر سنگاپور میں دوستوں کوٹیلیفون کر دیں کہ ہم دیر سے آرہے ہیں، اور کہانی ختم۔ اس طرح ہم مسٔلے کو حل کر سکتے ہیں۔ اگر ہماراٹیلیویژن کام نہیں کر رہا تو غصے میں آکر اسے ٹھوکر کیوں ماریں یا اسے گالی کیوں دیں؟ بس اسے مرمت کرالیں۔ یہ بڑی ظاہر بات ہے۔ اگر کوئی ایسی صورت حال ہے جسے ہم بدل سکتے ہیں تو پھر غصہ کرنے کی ضرورتنہیں۔ بس اسے تبدیل کر دیں۔
اگر ہم صورت حال کو تبدیل کرنے کے لئے کچھ نہیں کر سکتے مثلاً جیسے ہم بھیڑ کے وقت ٹریفکمیں پھنس گۓ ہوں تو پھر ہمیں اسے قبول کر لینا چاہئے۔ ہماری گاڑی کے آگے کوئی لیزر بیم والی گن تو لگینہیں ہوئی جو آگے کی تمام گاڑیوں کو بھسم کر دے یا آگے والی گاڑیوں کے اوپر سے اڑ کر نکل جاۓ جیسا کہجاپانی کارٹونوں میں دکھاتے ہیں۔ لہٰذا ہمیں نہائیت وقار کے ساتھ اسے یہ سوچ کر قبول کرنا ہو گا:"ٹھیکہے میں ٹریفک میں پھنس گیا ہوں۔ میں ریڈیو لگا سکتا ہوں یا کیسٹ ریکارڈر چلا کر بدھ مت کی تعلیمات یادلکش موسیقی سن سکتا ہوں"۔ بیشتر اوقات ہمیں معلوم ہوتا ہے کہ ہم کب بھیڑ میں پھنس جائیں گے تو ہم ایسےموقع پر سننے کے لئے پہلے سے ٹیپ ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ اگر ہم جانتے ہیں کہ ہمیں ایسی ٹریفک میں گاڑیچلانا ہے تو ہم اس وقت کو بہتر طریقے سے استعمال کر سکتے ہیں۔ ہم اپنے دفتری، خاندانی یا دوسرے مسائلکے بارے میں سوچ کر ان کے موزوں حل نکال سکتے ہیں۔
اگر ہم کسی مشکل حالت کو تبدیل نہیں کر سکتے تو ہمیں اس کی اچھی سے اچھی صورت کو اپناناچاہئے۔ اگر ہم اندھیرے میں اپنے انگوٹھے کو زخمی کر لیں اور پھر اوپر نیچے اچھلیں کودیں یا چیخیںچلائیں تو کیا اس سے اسے کچھ آرام ملے گا؟ امریکہ کی عام زبان میں ہم اسے "زخمی کا ناچ کرنا" کہتے ہیں۔آپ کو چوٹ لگ گئ، آپ اوپر نیچے ناچ رہے ہیں، اوپر نیچے اچھل کود رہے ہیں مگر اس سے کوئی افاقہ نہیںہونے والا۔ ہم اس کا کچھ نہیں کر سکتے۔ ہم صرف اتنا کر سکتے ہیں کہ وہی کچھ کرتے رہیں جو پہلے کر رہےتھے۔ یہ درد عارضی ہے جو گزر جاۓ گا۔ یہ دائمی نہیں اور اچھل کود اور چیخ و پکار سے ہم بہتر محسوس نہیںکریں گے۔ ہم کیا چاہتے ہیں؟ کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ لوگ آئیں اور کہیں "اوہ بیچارا! تم نے اپنا انگوٹھازخمی کر لیا ہے"۔ اگر کوئی بچہ خود کو چوٹ لگا لیتا ہے تو اس کی ماں آ کر اسے چومتی ہے اور وہ بہترمحسوس کرتا ہے۔ تو کیا ہم یہ چاہتے ہیں کہ لوگ ہمارے ساتھ ایسے ہی بچے کی طرح کا سلوک کریں؟
ایک لمبی قطار میں کھڑے اپنی باری یا بس کا انتظار کرتے ہوۓ اگر ہم اس کے عارضی پن کاسوچیں کہ میں ہمیشہ بتیسویں یا نویں نمبر پر نہیں رہوں گا اور آخر کار میری باری آۓ گی تو اس سے ہمیںاس صورت حال کو برداشت کرنے میں مدد ملے گی اور ہم اس وقت کا مناسب تصرف کر سکیں گے۔ ہندوستان میں ایککہاوت ہے "انتظار کا اپنا مزہ ہوتا ہے"۔ یہ بالکل صحیح بات ہے کیونکہ اگر ہمیں قطار میں اپنی باری یابس کا انتظار کرنا ہے تو ہم اس وقت کو قطار میں کھڑے دوسرے لوگوں یا بس سٹاپ پر موجود لوگوں سے آگاہہونے کے لئے استعمال کر سکتے ہیں۔ یا دفتر کے معاملات کیسے چل رہے ہیں یا کسی اور چیز کے متعلق۔ اس سےہمیں دوسروں کے لئے فکر اور ہمدردی کا احساس اجاگر کرنے میں مدد ملتی ہے۔ اگر ہم وہاں موجود ہیں تو ہماس وقت کو تعمیری طور پر استعمال کر سکتے ہیں بجاۓ اس کے کہ آدھ گھنٹہ گالیاں دیتے رہیں۔
شانتی دیو کی نصیحت کا ایک اور پہلو یہ ہے:" اگر کوئی ہمیں چھڑی سے مارتا ہے تو ہم کس پرغصہ کریں گے؟ اس شخص پر یا چھڑی پر؟" اگر ہم اس پر منطقی انداز سے غور کریں تو ہمیں چھڑی پر غصہ کرناچاہئے کیونکہ ہمیں تو چھڑی نے ضرر پہنچائی ہے! مگر یہ احمقانہ بات ہو گی۔ کوئی شخص بھی چھڑی پر غصہنہیں کرتا۔ ہم اس شخص پر غصہ کرتے ہیں۔ ہم اس شخص پر غصہ کیوں کرتے ہیں؟ کیونکہ چھڑی کو تو اس شخص نےاستعمال کیا تھا۔ اسی طرح اگر ہم مزید غور کریں تو اس شخص کو اس کے پریشان کن جذبات نے استعمال کیاتھا۔ پس ہم نے اگر غصہ کرنا ہی ہے تو اس شخص کے پریشان کن جذبات سے کریں جنہوں نے اسے ہمیں چھڑی سےمارنے پر اکسایا۔
پھر ہم سوچتے ہیں کہ:"یہ پراگندہ جذبہ کہاں سے آیا؟ یہ کہیں غیب سے نہیں آیا۔ اسے حرکتمیں لانے کے لئے میں نے ہی کچھ کیا ہو گا۔ میں نےضرور کچھ کیا ہو گا جس کی وجہ سے وہ شخص مجھ سے ناراضہوا اور اس نے مجھے چھڑی ماری۔ اسی طرح میں نے کسی شخص سے کوئی مدد مانگی ہو گی اور جب اس نے انکار کیاتو میں غصے میں آ گیا۔ میں اس وجہ سے بہت دکھی ہوا۔ اچھا تو اگر میں اس کے بارے میں سوچوں تو در حقیقتمیں ہی غلطی پر تھا۔ میں نے سستی دکھائی اور یہ کام خود نہیں کیا۔ میں نے دوسرے شخص سے کہا کہ وہ میرےساتھ یہ مہربانی کرے اور جب اس نے انکار کر دیا تو میں غصے میں آ گیا۔ اگر میں ایسی سستی نہ کرتا تومیں اس شخص سے کبھی کچھ نہ کہتا اور یہ سارا مسٔلہ کھڑا ہی نہ ہوتا۔ اگر مجھے غصہ کرنا ہی ہے تو اپنےآپ پرکرنا چاہئے کہ میں نے کیوں اتنی سستی اور حماقت دکھائی کہ اس شخص سے مدد طلب کی"۔
اگر کسی حد تک ہماری غلطی نہ بھی ہو تو بھی ہمیں دیکھنا چاہئے کہ کیا ہم اس پراگندہ جذبےسے مبرّا ہیں جو اس شخص کو پریشان کر رہا ہے۔ مثال کے طور پر، خودغرضی۔ "اس نے میری مدد سے کرنے سےانکار کردیا۔ کیا میں ہمیشہ دوسروں کے کام آتا ہوں؟ کیا میں ایسا شخص ہوں جو ہمیشہ دوسروں کی مدد کرنےپر تیار ہوتا ہے اور فوراً اس پر عمل پیرا ہوتا ہے؟ اگر ایسا نہیں تو پھر میں دوسروں سے کیوں یہ توقعکروں کہ وہ اپنے معمول سے ہٹ کر ہمیشہ میری مدد کریں گے"۔ یہ بھی غصہ سے نبرد آزمائی کا ایک اور طریقہہے۔
میں نے پہلے ذکر کیا ہے کہ غصہ کا اظہار صرف چیخ پکار اور کسی کو مارنے سے ہی نہیں ہوتا۔غصہ ایک ایسا پریشان کن جذبہ ہے جو تعریف کے مطابق جب طاری ہوتا ہے تو ہمیں بے چین کر دیتا ہے۔ چنانچہاگر ہم اسے اندر دباۓ رکھیں اور کبھی اس کا اظہار نہ کریں تو بھی غصہ ہمارے اندر تخریبی انداز سے کارفرما ہو گا اور ہمارے اندر ہیجان برپا کرے گا۔ بعد میں یہ کسی نہائت تباہ کن انداز میں سامنے آۓ گا۔ہمیں وہ طریقے جو میں نے ابھی بیان کئے اس اندر دبے ہوۓ، غیر اظہار شدہ غصے سے نمٹنے کے لئے استعمالکرنے چاہئیں۔ ہمیں اپنا رویہ بدلنا چاہئے۔ ہمیں صبر پیدا کرنا چاہئے۔

صبر کی مختلف قسمیں

ہدف کی نوعیت والا صبر

صبر کی کئ قسمیں ہیں۔ پہلی قسم ہدف کی نوعیت والا صبر ہے۔ اس نظریہ کے مطابق اگر آپ نےہدف طے نہیں کیا تو کوئی بھی اس پر نشانہ نہیں لگاۓ گا۔ امریکہ میں بچے ایک چھوٹا سا کھیل کھیلتے ہیں۔وہ اپنے دوست کی پتلون کی پیٹھ والی جگہ پر ایک کاغذ گوند یا پنوں سے چپکا دیتے ہیں اور اس کاغذ پر لکھدیتے ہیں"مجھے کک مارو"۔ اسے "کک می" کا نشان کہتے ہیں۔ تو جو کوئی بھی اس چھوٹے بچے کی پیٹھ پر یہ "ککمی" کا نشان دیکھتا ہے وہ اسے کک ماردیتا ہے۔ اسی طرح، ایسی ہی قسم کے صبر کے ساتھ، ہم خیال کرتے ہیںکہ ہم نے کس طرح اپنے پیچھے ماضی کے منفی اور تباہ کن اعمال کی بدولت ایک "کک می" کا نشان لگا دیا ہے،جو ہمارے موجودہ مسائل کا موجب ہے۔
مثال کے طور پر ہمیں گلی میں لوٹ لیا جاتا ہے۔ ہم یہ خیال کریں گے، "اگر میں نے ماضی میںیا اپنے گزشتہ جنموں میں منفی اور تخریبی اعمال کر کے یہ ہدف نہ بنایا ہوتا تو میرے من میں یہ تحریکپیدا نہ ہوتی کہ میں اس اندھیری گلی میں عین اس وقت جاؤں جس وقت کہ وہاں ایک لٹیرا مجھے لوٹنے اور مجھےمارنے کے لئے میرا انتظار کر رہا ہے۔ عموماً میں
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers