دائی لاڈو جہانگیر بادشاہ کے حرم میں دائی تھی ۔شاہ جہاں اس کیے ہاتھ سے پیدا ہوا تھا لیکن ایک جگہ دائی لاڈو کا دودھ شہنشاہ جہانگیر نے بھی پیا ظاہر کیا گیا ہے۔ جہانگیر کے زمانے میں اس نے خوب رتبہ پایا۔ بادشاہ اس کو مائی لاڈو کہہ کر پکارتا تھا۔ یہ مسجد شہنشاہ شاہ جہاں کے چوتھے سن میں تعمیر ہوئی اس کے خاوند کا نام محمد اسماعیل تھا دونوں میاں بیوی عابد و شب کے دار تھے اس محلے کو مغلوں کے زمانے میں ملا کہتے تھے اور یہاں اس کی حویلیاں اور باغ بھی تھا شاہ جہاں نامہ میں تحریر ہے کہ یہ مائی لاڈو فیض یافتہ خدمت بابرکت حضرت سلیم چشتی کی تھی اور یہ نہایت باخدا عورت مشہور ہے مائی لاڈو نے اپنی قبر اپنی زندگی ہی میں یہاں بنوائی تھی اس نے حج بھی کیا تھا۔ اس مسجد نے کافی انقلابات زمانہ دیکھے ہیں۔ رنجیت سنگھ کے عہد میں یہاں ہندو رہتا تھا اس میں ایک کنواں ہندو نے بنوایا تھا۔ اس مسجد کو انگریزوں کے زمانے میں سید قطب شاہ نے ہندو سے خالی کروایا مسجد کے صحن میں ایک کنواں اور قبر تھی جوکہ مسجد کے صحن کو چوڑا کرنے کے لیے ختم کر دیئے گئے۔ مسجد کا دروازہ مشرقی جانب ہے اندر داخل ہوتے ہی دائیں طرف وضو کے لیے نل ہیں۔ مسجد کے گنبد کے ارد گرد چھوٹے چھوٹے مینار ہیں۔ اس سے نیچے تین بڑے محرابی دروازے میں مسجد کے اوپر کوئی بھی ایسا نشان نہیں کہ جس سے ظاہر ہو کہ کسی زمانے میں یہاں کسی قسم کا مصوری کا کام کیا گیا ہوگا کیونکہ دائی انگہ کی مسجد پر بھی مصوری کا کام ہوا ہے۔ لازماً یہاں بھی اس قسم کا کام کیا گیا ہوگا ۔اس مسجد کے ساتھ بہت وسیع زمین تھی اور اس زمین پر سرائے رتن چند، رنجیت سنگھ کے بہادر جرنیل ہری سنگھ نلوہ کا باغ بنائے گئے۔ (کتاب’’ پاکستان کے آثارِ قدیمہ‘‘ مطبع: بُک ہوم سے مقتبس)

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers