کسی بھی طالب علم کی ذہانت کا معیار اس کے سوال پوچھنے کی اہلیت پر منحصر ہے، جو طالب علم جتنے سوال اٹھائے گا، اتنا ہی اس کے علم میں اضافہ ہوتا چلا جائے گا۔ اور سوال اٹھائے جانے کا تعلق سوچ میں پائے جانے والے شکوک و شبہات سے ہے۔ یعنی سوچ میں پائے جانے والے شکوک و شبہات کا اخراج سوال اٹھانے سے ہی ممکن ہے۔ جو طالب علم سوال کرنے کی اہلیت سے محروم ہے، اس کی سوچ ہمیشہ شکوک سے پُر رہے گی اور کبھی بھی سمجھ کا درجہ حاصل نہیں کر پائے گی، جس کا نتیجہ لامحالہ رٹّے کی صورت میں نکلے گا۔ وہ کسی طوطے کی طرح سبق تو سنا سکتا ہے، لیکن اس رٹے رٹائے سبق کو عملی جامہ پہنانے سے یکسر قاصر۔  تفصیل سے پڑھئے
گویا ہر علم اور اس علم پر یقین کی بنیاد شک پر قائم ہے۔ جہاں شک ختم ، وہاں ترقی ناپید۔ کسی بھی علم یا نظریہ کا حتمی قرار دیا جانا گویا اس علم اور نظریہ کی موت ہے۔ لیکن اس حقیقت کے برعکس، ہماری تعلیم کی بنیاد ایمان اور اندھے اعتقاد پر استوار کی گئی ہے۔ گویا، جسے جو بھی پڑھایا جا رہا ہے، وہ اپنی حتمی شکل میں ہے، جس میں کسی تعمیر و ترقی کی کوئی گنجائش سِرے سے ہی موجود نہیں۔ ایسا علم جو طالب کے شکوک کا ازالہ نہ کرسکے، دماغ پر چسپاں تو کیا جاسکتا ہے، لیکن دل میں نہیں اُتر سکتا۔
اسی سوچ کا نتیجہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں پایا جانے والا ہر فرد، اپنے تئیں سُقراط ہے، جس کی سوچ اور حاصل شدہ علم حتمی ہے۔ ہم جوش و جذبے سے بھرپور بحث و تکرار میں اپنا ثانی نہیں رکھتے۔ جبکہ ہماری عملی زندگی ہمارے پیش کیئے جانے والے نظریات اور بحث و تکرار سے یکسر مختلف، اور اکثر و بیشتر ایک متضاد منظر پیش کرتی ہے۔
یہی معاملہ دین کے ساتھ بھی در پیش ہے، دین جو کہ سمجھنے اور دل میں اتارنے کی چیز ہے، اسے محض ایک یاد رکھنے والا معاملہ بنا کر کسی اشتہار کی طرح دماغ پر چسپاں کر دیا گیا ہے۔ جس کا بنیادی سبب یہ ہے کہ، دین کے متعلق سوال اٹھانے کو گناہ کبیرہ قرار دیا جا چکا ہے۔ جبکہ دین کے متعلق سوال اٹھانے والا ہی تو دراصل دین کی جُستجو رکھتا ہے۔ لیکن ہم نے اجتمائی طور پر دین کی جستجو کا راستہ عملاً بند کر دیا ہے۔ ہماری مذہبی اور دینی بحث کا واحد مقصد خود کو مسلمان اور دوسرے کو کافر قرار دینا ہے۔ کولہو میں جُتے ہوئے بیل کی طرح ہمیں عقیدت کی عینکیں پہنا دی گئیں ہیں، جس کے باعث ہمیں ہمارا ہر عمل دین کے مطابق اور دوسروں کا ہر عمل دین کے مُنافی دکھائی دیتا ہے۔ صرف میرا عقیدہ درست ہے، کیونکہ وہ میرا ہے، اور دوسروں کا عقیدہ غلط ہے، کیونکہ وہ دوسروں کا ہے۔ اس کے علاوہ ہمارے پاس نہ تو کوئی منطق ہے اور نہ کوئی دلیل۔ ہم سُنّی، شیعہ، اہل حدیث، دیوبندی وغیرہ کیوں ہیں ؟ کیونکہ ہمارے والدین اس عقیدہ سے تعلق رکھتے تھے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی تحقیق و جستجو کا سوچا ؟ کیا کبھی کسی اہلِ سُنت کے دل میں خیال پیدا ہوا کہ اگر وہ کسی اہل تشعیع گھرانے میں پیدا ہوتا تو کیا ہوتا ؟ اسی طرح کیا کسی اہل تشعیع فرد نے اس بات پر غور کرنے کی ضرورت محسوس کی کہ اگر وہ کسی اہل سُنت گھرانے میں پیدا ہوا ہوتا تو کیسا ہوتا ؟ جس عقیدہ سے تعلق رکھنے والے افراد کو آج وہ کافر قرار دیتے ہوئے خوشی محسوس کرتا ہے، اگر وہ خود اسی عقیدہ سے تعلق رکھنے والے والدین کے گھر پیدا ہوا ہوتا تو ؟
دین جو دراصل انسانوں میں ہر طرح کی تفریق، منافرت اور تعصبات کو ختم کرنے کے لیئے بھیجا گیا ہے، آج ہم نے اسی دین کو تفریق، نفرت اور تعصب کا واحد ذریعہ بنا لیا ہے۔ اس نفرت اور تعصب کو زائل کرنے کا ایک ہی طریقہ ہے، کہ آپ میں جو شکوک و شبہات دوسروں کے نظریات اور عقائد سے متعلق پیدا کیئے گئے ہیں، ان شکوک و شبہات کا رُخ اپنے اندر کی طرف موڑ دیں۔ کیونکہ آپ کا دل ان شکوک و شبہات اور نفرت و تعصب کا گھر بن چکا ہے۔ جس کے باعث آپ کے اندر پائی جانے والی بُرائیاں آپ کو دوسروں میں نظر آتی ہیں۔ جب آپ کی سوچ کا رُخ اپنی ذات کی طرف مُنتقل ہو گا تو آپ کے اندر پائے جانے والے شکوک و شبہات سوالات کی صورت میں خارج ہوں گے۔ اور جیسے جیسے یہ سوالات بخارات کی صورت میں اٹھیں گے ، آپ کا دل ہر طرح کی نفرت اور تعصب سے پاک ہوتا جائے گا۔ پھر دین صرف آپ کے دماغ کے دروازے پر چسپاں اشتہار یا آپ کی آنکھوں پر لگی ہوئی عقیدت کی اندھی عینک کی بجائے ایک نُور کی صورت آپ کے دل میں اُتر جائے گا۔ پھر آپ کے سوالات کا مقصد کسی کو نیچا دکھانے کی بجائے اپنے علم میں اضافہ اور اپنے دل میں پائی جانے والی نفرت و کدورت کا خاتمہ ہو گا۔ اور یہی معاشرے میں بھائی چارے کے فروغ کی بنیاد ہے۔ اور ایک زندہ معاشرے کی پہچان جو اپنے حقیقی مسائل کی بروقت نشاندہی اور ان کا حل پیش کرنے کی اہلیت سے سرفراز ہے۔
دل خُدا کا گھر ہے، جب تک ہم اس گھر کو پاک رکھنا اپنی اولین ترجیح نہیں بنائیں گے، ہمارے اعمال اور عبادات ایک ڈھکوسلے کے سوا کچھ نہیں۔ کیونکہ صرف دل سے کی گئی عبادت ہی نماز کا درجہ رکھتی ہے۔ لیکن اگر دل ہی نفرت اور تعصب سے پاک نہیں، تو ایسی ناخالص عبادات خُدا کے لیئے کیسے قابلِ قبول ہو سکتی ہیں۔
ہمارے دلوں میں پائی جانے والی نفرت ، کدورت اور تعصب ہی ہمارے اجتمائی بانجھ پن کا باعث ہے۔ اور ہمارا خود سے سوال نہ کرنا ہماری اجتمائی خودکشی کی بنیاد۔
ذرا سوچیئے۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers