دوستو!۔۔
میں اس ٹاپک کو چھیڑنا نہیں چاہتا تھا۔۔۔۔
لیکن افسوس کے ساتھ مجھے یہ سلسلہ شروع کرنا پڑ رہا ھے ۔
جس کی وجہ ،ایک اسلام کے خلاف کی جانی والی نئی سازش بنی ۔۔
ایک رپورٹ شائع ھوئی جس میں گھٹنوں کے درد کی وجہ نماز کو بتایا گیا ھے ۔۔۔
میں اپنی پوسٹ کی شروعات ایسی جھوٹی رپورٹ شائع کرنے والوں پر لعنت کے ساتھ کرتا ھوں ۔۔۔  تفصیل سے پڑھئے

اور پوری دنیاء سے یہ میرا چیلنج ھے ۔۔۔
جس میں ھمت ھو آ کر سامنا کر سکتا ھے ۔۔۔
اگر یہ اسلام کے خلاف سازش نا ھوتی تو میں اسے چیلنج کبھی نا بناتا ۔۔۔
سب سے پہلے ھم دیکھتے ہیں کہ گھٹنوں کی درد کی اصل وجہ نماز ھے یا نہیں ۔۔
تو میں اس بارے مختصراّ اتنا ھی کہوں گا کہ ۔ اگر اس کی وجہ نماز ھی ھے تو ۔۔ یہ مرض صرف اور صرف نمازیوں کو ھی ھونی چاہیئے ۔۔۔ جو نماز نہیں پڑتے انہیں پھر اس مرض سے دوچار نہیں ھونا چاہیئے ۔۔۔
کیا ایسا ھی ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
نہیں ایسا نہیں ھے ۔۔ نماز صرف مسلمان ھی پڑتے ہیں ۔۔۔۔
جب کہ یہ مرض ان مسلم ممالک کی بنسبت یورپ میں بہت ھی زیادہ ھے ۔
اور وہ نماز بھی نہیں پڑتے ۔۔۔۔۔۔۔۔
جیسا کہ لندن وغیرہ جیسے شہروں میں ۔۔ جہاں زندگی کی سہولیات وافر موجود ہیں ۔۔۔ ایسے علاقوں میں سب سے زیادہ گھٹنوں کے آپریشن کیئے جا رہے ہیں ۔۔۔۔۔
جو کہ سرا سر غلط علاج ھے ۔۔۔ اور مرض دوبارہ پھرسے ھو جاتا ھے ۔
دوسری طرف ۔۔۔
اس کا جائزہ مسلم ممالک میں لیں تو ۔۔ لوگ 1400 سال سے نماز پڑ رہے ہیں ۔۔۔
اور آج بھی الحمد للہ بہت سے ایسے علاقے ہیں مسلمانوں کے جہاں یہ مرض یا تو ھے نہیں یا بہت کم ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خاص کر جن علاقوں میں آج بھی جو لوگ ''سائیکل '' چلاتے ہیں ۔۔ ان کے گھٹنے میرا نہیں خیال کہ خراب ھو سکتے ہیں ۔۔۔
اگر ایسا ھے بھی تو اس کی پرسنٹیج۔ ایک یا دو فیصد سے بھی کم ھی ھو گی ۔۔
اس کے مقابلے میں یورپ میں یہ بیماری کیوں عام ھے ۔۔
اس کی وجہ ۔۔
اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں سہولیات کے ساتھ لوگ گھروں ، یا آفس ، وغیرہ میں سیڑھیوں کے استعمال کی بجائے ،'لفٹ' کا استعمال کرتے ہیں ۔
جس وجہ سے آپ کے گھٹنوں کی ایکسر سائز بہت کم ھو کر رہ جاتی ھے ۔
اور یورپ کے ٹھنڈے علاقوں میں لوگوں کو پسینہ نہیں آتا ۔۔ اور اس وجہ سے وہ لوگ ورزش ضرور کرتے ہیں ۔۔ تا کہ جسم کو ایکسر سائز کے ذریعے اس کو طاقت پہنچا سکیں ۔۔۔
کیوں کہ جو انسان بہت زیادہ آرام طلب ھو گا اس کا جسم سست ھو کرناکارہ ھونا شروع ھو جاتا ھے ۔
اور کمزوری کی طرف بڑھتا رہتا ھے ۔
یہی وجہ ھے کہ جب سے سائیکل کا دور ختم ھوا ، اس کے بعد موٹر بائیک کا دور اور پھر گاڑیوں تک بات پہنچ گئی ۔۔۔
جب تک یہ سہولیات نہیں تھی ،،، لوگ تب بھی نماز پڑھتے تھے لیکن اس مرض کا نام و نشان نہیں تھا ۔
جیسے جیسے سائنس ترقی کر رہی ھے اور ھم سہولیات کی وجہ سے آرام طلب ھو رہے ہیں ، اسی تناسب سے ھمارے جسم میں بیماریوں میں اضافہ ھوتا چلا جا رہا ھے ۔۔۔
آج بھی ھم پہاڑی علاقوں میں سفر کر کے دیکھیں تو ھم جوان ھو کر سیڑھیاں چڑھتے ھوئے ھی تھک جاتے ہیں اور ھماری سانس پھول جاتی ھے ، جبکہ پہاڑی علاقوں میں بوڑھی عورتیں ھم سے کہیں تیزی سے اونچے اونچے پہاڑوں پرتیزی سے چڑھ جاتی ہیں ۔۔۔
وجہ کیا ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔؟
اس کی وجہ ھے کہ ان کی پریٹکس یعنی روز کے معمول کی وجہ سے یہ ورزش ھے ۔۔
اور ھم سہولیات کی وجہ سے آرام طلب ھو چکے ہیں ۔۔۔۔
جس کی وجہ سے ۔ یہی گھٹنو کا درد ھی نہیں ۔۔
اس سے کہیں زیادہ کمر کے درد کا مرض تیزی سے پھیل رہا ھے ۔
اور آج تک سائنس کی اتنی ترقی کے باوجود سائنس ان کا علاج کرنے سے قاصر ھے ۔۔ بس ٹیکہ اور آپریشن ۔۔۔
جو کہ دونوں ھی مریض کے لیئے نقصان دہ ہیں ، کے علاوہ ان کے پاس کوئی حل نہیں ۔۔
ابھی تک تجربات کیئے جارے ہیں ان پر ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آخر میں پھر اس جھوٹے پراپیگنڈا کی طرف اگر دیکھا جائے تو جو لوگ ویٹ لفٹنگ کر کے خود کو اتنی اذیئت دے کر صرف اپنا ھی نہیں ، بلکہ اپنے وزن کے ساتھ کئی سو کلو کا وزن بھی ان گھٹنوں پر ڈالنے کی کوشش کرتے ہیں ۔۔۔ جو کہ دن میں پانچ بار نماز پڑھنے سے کئی گناہ زیادہ گھنٹوں کی صورت میں انہیں اپنے آپ کو مقابلے کے لیئے تیار کرنے کے لیئے ان گھٹنوں کو اذیئت دینی پڑھتی ھے ۔۔۔۔
تو ان ورزش کرنے والوں کو یہ بیماری کیوں نہیں ھوتی ۔۔۔۔۔۔؟
آخر میں میرا چیلنج
اگر اس کے حل کے لیئے کوئی مدد چاہیئے تو بندہ حاضر ھے
جب کہ سائنس کے پاس جس کا علاج نہیں اس بارے رپورٹ کیا شائع کرے گی ۔۔۔۔
بس ان کی رپورٹ ایک تکے کے سوا کچھ نہیں ۔۔۔۔۔۔۔
شکریہ ۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔-۔—
مینٹل کر کے جیو!

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers