images 

 خواتین  و حضرات میں ہوں جاوید چودری۔ خواتین  و حضرات اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے اور انکے استعمال کا اختیار انسان کو دیدیا ہے۔
خواتین  و حضرات میں آج کا پروگرام انہی صلاحیتوں میں سے ایک کے بارے میں ہے۔ لیکن موضوع کی طرف جانے سے پہلے میں آپکو ایک کہانی سناتا چلوں۔ کوئی 2000 سال پہلے ایک بادشاہ تھا طورتمش جو بہت رحمدل تھا عوام کی خدمت کرتا اور فلاح کے منصوبے بناتا مگر کبھی عوام کا دل نہ جیت سکا اور عوام ہمیشہ اس سے خائف رہے۔ اسی وقت میں کسی اور ملک میں ایک بادشاہ ہوا کرتا تھا فتوربش بہت ہی ظالم جابر اور کرپٹ حکمران تھا، عوام کی اینٹ سے اینٹ بجا کر رکھی ہوئی تھی اس نے مگر پھر بھی عوام کا پسندید لیڈر تھا اور عوام کے دلوں پر راج کرتا تھا۔ تفصل سے پڑھئے
کیا کیوں اور کیسے جانئیے گا پروگرام کے آخر میں۔ فی الوقت ہم واپس موضوع کی طرف آتے ہیں۔  اللہ تعالیٰ نے انسان کو بے پناہ صلاحیتوں اور خوبیوں سے نوازا ہے جن میں سے ایک تُھک بھی ہے۔ خاتین و حضرات تاریخِ انسانی گواہ ہے کہ کتنےمشکل کٹھن اور بظاہر ناممکن نظر آنے والے کام بھی اسی دوا نما خوبی کی بدولت نکلے۔
تُھک دو طرح کی ہوتی ہے، ایک لگائی جاتی ہے اور دوسری لگانی پڑتی ہے۔ اسکے استعمال کا اختیار قدرت نے انسان کے ہاتھ دیا ہے۔ چاہے تو مینارِ پاکستان پہ چڑھ کے شرطیں لگا کے کہ کس کی تھوک پہلے زمین پر پہنچے گی اور چاہے تو تُھک لگا کر لاکھوں اربوں کمائے۔ جیسے فزکس میں لیور ہے جس سے آپ بڑے بڑے کام سرانجام دے سکتے ہیں، احرامِ مصر کو ایک ڈنڈے کے سہارے ہلا سکتے ہیں، ایفل ٹاور کو سرکا سکتے ہیں، فیری میڈوز کو لیور کے ذریعے اٹھا کر اسلام آباد کی طرف سرکا سکتے ہیں، احتجاجوں اور دھرنوں سے حکومت گرا سکتے ہیں  ویسے ہی کارپوریٹ، گورنمنٹ اور راج نیتی میں تھک بھی ایک لیور ہے جس کے ذریعے آپ بڑے سے بڑے کام نکلوا سکتے ہیں۔
ماضی قریب میں اسکی کئی کامیاب مثالیں ہیں۔ یہ رواج دنیا بھر میں عام ہے، بارک اوباما بھی امریکی عوام اور پارٹی کو تُھک لگا کر ہی اقتدار میں آئے۔ پاکستان جیسے ملک میں تو خیر اس ٹیلنٹ کی قدر بھی بہت ہے۔ آپ عامر لیاقت کو دیکھ لیں، محلے کی پنکچرڈ  سائیکلوں کے پیڈل مار مار شوق پورے کرتا تھا، آج اسی تُھک کے سر پہ ایک چینل کا پریزیڈنٹ بن گیا ہے، ہر رمضان گھر میں پھینیاں آئیں نا آئیں یہ ضرور آتا ہے۔ 20 کروڑ عوام کو 30 دن تُھک لگاتا ہے، جتنی مومن اپنی طرف سے نیکیاں کماتے ہیں یہ پیسے کمالیتا ہے۔
آپ عمران خان کو دیکھ لیجئے، 15 سال لور لور پھرتے رہے انقلاب لانے کو جگہ نہ ملی اور پھرموقف میں ذرا سی “تبدیلی” اور لہجے کی ذرا سی تلخی نے تُھک کی ایسی نہریں بہائیں کہ نونہالانِ انقلاب ایسے برآمد ہونے لگے جیسے ہاجوج ماجوج۔
آپ قادری جگر کو دیکھ لیں، محلے کی مسجد سے ایز خطیب اپنے کیریئر کا آغاز کرنیوالا یہ نوجوان آج شیخ الاسلام ہے، کرائے کی سائیکل لے کر پتوکی سے لاہور اکیلے آتے تھے آج   علامہ صاحب  ایمرٹس کی بزنس کلاس سے سفر کرتے ہیں اور انقلاب ساتھ لیئے گھومتے ہیں، پہلے یہ گھر کی گھنٹی بجاتے تھے تو اندر سے سڑا جواب آتا تھا “جا اوئے مولوی فیر آویں” اب یہ ملک کی اعلیٰ قیادت کو للکارتے ہیں اور اپنے ستقبال کے لیئے عوام حکومت اور آرمی قیادت کو طلب کرتے ہیں۔ یہ سب اسی تُھک کی برکتیں ہیں۔
آپ چاچا تیتری کو دیکھ لیجئے پہلے محلے کے نان والا بھی اسکی گرائمر اور مشکل پسند  مہمل و بے مطلب کی مدح سرائی پر بے عزتی کردیتا تھااور ادھار نان دینے سے انکاری ہوجاتا کجا اب چاچا تیتری فوج سے لے کر سیاست اور پھل سبزیوں سے لے کر انقلاب سب موضوعات پر قلم کشائی کرتا ہے، یہی حال حسن نثار کا ہے۔
آپ دور کیوں جاتے ہیں۔ آپ میری یعنی جوید چوہدری کی ہی مثال لے لیں۔ ساری گرمیاں عین درمیان سے پھٹی نیکر پہن کے نہرمیں دوپہریں غارت کرنیوالا آج برینڈڈ سوٹ پہنتا ہے، بغیر گدی سائیکل چلانے والا آج 50 لاکھ کی گاڑی چلاتا ہے۔ محلے کے پارک کے علاوہ جس نے کبھی کچھ نہیں دیکھا آج وہ ورلڈ ٹور کرتا ہے، سب اسی تُھک کے صدقے۔ جب تک دنیا میں ملک ساب جیسے نیک پارسا خدا ترس لوگ ہیں آپ کا بھائی ورلڈ ٹور کرتا رہے گا۔
خاتین و حضرات آپ سوچ رہے ہوں گے کہ یہ تُھک کیسے کام کرتی ہے۔ ملکی سطح ہر تُھکیا بننے کیلئے آپکے پاس مندرجہ ذیل میں سے کوئی ایک ہونا لازم ہے:
  • وقار – تُھک کا  لا ئسنس  ہے یہ  اوروں کو بھی لائسنس دیتا ہے
  • سیاست – سیاست تو خیر سے تُھک کی فیکٹری ہے جس سے دیگر صنعتیں بھی مستفید ہوتی ہیں
  • میڈیا – چاند کی مانند اسکی اپنی تُھک نہیں ہوتی یہ سیاست اور وقار کی تُھک عوام کو لگا کر دونوں طرف سے لوٹتے ہیں
  • سوشل ورک – یہ انٹرنیشنل تُھک ایجنسی ہے
خاتین و حضرات یہ جو ورلڈ ہے اس میں دو ٹائپ کے لوگ ہوتے ہیں ایک وہ جن کو تُھک لگتی ہے اور دوسرے وہ جو تُھک لگاتے ہیں، اب یہ بتانے کی تو ضرورت نہیں کہ کونسے کامیاب ہوتے ہیں۔ اور جو کہانی شروع میں بیان کی تھی اس میں بھی ہمارے سیاستدانوں اور انقلاب نوردوں کی طرح تُھک بندی ہی وہ گیدڑ سنگھی تھی جسکی وجہ سے فتور بش عوام کا پسندیدہ اور من بھاتا لیڈر تھا۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers