اُردو لغت میں مسجد کے معنی ’’سجدہ گاہ‘‘ کے ہیں، لیکن شرعی اصطلاح میں اس سے مراد وہ مخصوص جگہ ہے جو رکوع و سجود کے لیے وقف کر دی جائے یا جہاں مسلمان عبادت کر سکیں۔’’مسجد‘‘ کا لفظ اسی وجہ سے مسلمانوں کی عبادت گاہ کے لیے مخصوص ہے۔ تاریخ اسلام ہمیں بتاتی ہے کہ اولین مساجد ہجرت سے پہلے ہی تعمیر ہونا شروع ہوگئی تھیں ان میں حضرت عماربن یاسر کی مسجد اور حضرت ابوبکر کی مسجد اولین ہیں۔ ہجرت کے بعد چونکہ عبادت گاہ کی ضرورت کعبہ کی دوری کے بعد بڑھ گئی اس لیے مسلمان جس خطہ ٔ ارض پر گئے، وہیں انہوں نے مساجد تعمیر کیں۔ برصغیر پاک و ہند میں ملتان وہ شہر ہے،   تفصیل سے پڑھئے
جہاں پہلی صدی ہجری ہی میں مسلمانوں کے قدموں کے نشان پہنچے۔ یہاں پہلی مسجد 711ء کو محمد بن قاسم نے فتح ملتان کے بعد قلعہ کہنہ پر تعمیر کرائی تھی۔ اس مسجد کو ملتان کے اسماعیلی گورنر جلم بن شعبان نے منہدم کرا دیا تھا، مگر اس کے آثار 19ویں صدی تک قائم تھے 1818ء میں جب سکھوں نے ملتان فتح کیا تو ان آثار پر اسلحہ خانہ تعمیر کرا دیا، جو انگریزوں کے حملہ ملتان 1849ء کے دوران بارود میں آگ لگ جانے کی وجہ سے تباہ ہوگیا۔ اس کے ساتھ مسجد محمد بن قاسم کے آثار بھی مٹ گئے۔ اس کی ایک نشانی تانبے کی ایک لوح کی شکل میں آج کل عجائب گھر لاہور میں دیکھی جا سکتی ہے۔ سلاطین دہلی کے عہد میں یہاں بہت سی خوبصورت مساجد تعمیر کی گئیں، ان مساجد میں سلطان شہاب الدین غوری کی مسجد بھی قابل ذکر تھی۔ درسگاہ حضرت غوث بہائوالدین میں مسجد لازمی تعمیر کی گئی، مگر بدقسمتی سے ملتان کی ان خوبصورت مساجد میں سے کسی کے آثار باقی نہیں رہے، تاہم آج ملتان میں جو تاریخی مساجد موجود ہیں، ان میں سب سے قدیم تعمیر کے لحاظ سے ساوی (سبز) مسجد کوٹلہ تغلق خان ہے جبکہ کئی اور قدیم مساجد بھی موجود ہیں ،مگر انہیں دوبارہ تعمیر کیا گیا ہے اور ان کی اولین تعمیر آج موجود نہیں۔1305ء میں جب غیاث الدین تغلق، ملتان کا گورنر تھا تو اس نے حضرت شاہ رکن عالم کے بے نظیر مقبرے کے علاوہ ایک حویلی بیرون لوہاری دروازہ تعمیر کی تھی۔ اس کے گرد کی آبادی آج بھی کوٹلہ تغلق خان کہلاتی ہے۔ اس کوٹلہ تغلق خان میں یہ ’’ساوی مسجد‘‘ روغنی اینٹوں سے تعمیر شدہ ایک بلند عمارت ہے اس کی اندرونی عمارت پر کچھ فارسی اشعار کندہ ہیں ،جو آج بھی دیکھے جا سکتے ہیں۔ سرایڈوڑ دمیکلگسن نے جنہوں نے ملتان کا بندوست کیا اور بعد میں پنجاب کے گورنر تعینات ہوئے اپنے مرتبہ گزٹیر میں لکھا ہے کہ اس عمارت کے نیچے ایک تہہ خانہ ہے جہاں صندوقیں زنجیروں سے لٹکی ہوئی ہیں۔ عمارت کے شمال میں نواب میر آغا اور نواب اصغر علی کے مزارات ہیں، جو اپنے وقت میں عمائدین ملتان تھے۔ مسجد علی محمد خان( تعمیر 1758ء )یہ مسجد ملتان کے ایک پر رونق بازار چوک بازار میں واقع ہے۔1758ء میں اسے والئی ملتان نواب علی محمد خان نے تعمیر کرایا تھا۔ یہ ایک مرتفع چبوترے پر قائم ہے جس کے نیچے دکانیں ہیں ،جن کی آمدنی مسجد کے لیے وقف ہے۔ عمارت کا دالان17x44 چوڑا ہے۔ دیواریں منقش اور قرآنی آیات سے مزین ہیں۔ اپنی تعمیر کے صرف ساٹھ سال بعد 1818ء میں یہ مسجد سکھوں کے قبضے میں چلی گئی جنہوں نے اسے کچہری میں تبدیل کر دیا۔ اس زبوں حالی میں 34 سال گزرے اور کہیں انگریزی عمل داری میں یہ مسجد دوبارہ مسلمانوں کے حوالے کر دی گئی۔ مسجد پھول ہٹاں چوک بازار تعمیر 1716ء چوک بازار ہی میں جانب حسین آگاہی ایک اور مسجد واقع ہے۔ جو بادشاہ فرخ سیر نے تعمیر کرائی تھی چونکہ پہلے یہاں گل فروشوں کی دکانیں تھیں اس لیے یہ مسجد پھول ہٹیاں بھی (مسجد گل فروشوں کی دکانوں والی )کہلائی آج کل اس مسجد کی تعمیر نو کی گئی ہے۔ کہتے ہیں بادشاہ کو ایک فقیر کی دعا سے اولاد نصیب ہوئی تھی اس کی یاد گار یہ مسجد ہے۔ عید گاہ مسجد تعمیر1735ء ملتان سے لاہور جانے والی شاہراہ پر جو خانیوال روڈ کہلاتی ہے سڑک کے کنارے یہ پرفضا اور پرشکوہ مسجد واقع ہے۔ اسے ملتان کے گورنر عبدالصمد خان نے 1735ء میں تعمیر کرایا تھا۔ حجرہ مسجد 54x240 چوڑا اور لمبا ہے اس کے درمیان میں خوبصورت کلاں پوش گنبد واقع ہے کونوں پر بلند و بالا مینار ہیں۔1961/62ء میں اس مسجد کی پرانی آب و تاب بحال کی گئی تھی سکھوں کے عہد میں اس مسجد کو فوجی ہیڈکوارٹر میں تبدیل کر دیا گیا تھا۔ جو بعدازاں اس مسجد میں دیوان مولراج کے سپاہیوں کے ہاتھوں دو انگریز سفارت کار قتل ہوئے تھے۔ مسجد باقر خان تعمیر 1720ء نیو ملتان کے زیڈبلاک میں مسجد نواب باقر خان واقع ہے اس مسجد کو مغلیہ شہنشاہ محمد شاہ رنگیلا کے عہد میں گورنر ملتان نواب باقر خان نے تعمیر کروایا تھا چونکہ ان دنوں عید گاہ ملتان کا راستہ دریا کی طفیانی سے مسدود ہوگیا تھا اس لیے یہ مسجد بطور عید گاہ تعمیر کی گئی تھی۔ نواب باقر خان کے بعد عبداللہ خان نورانی نے اس مسجد کو ازسرنو تعمیر کروایا تھا۔مسجد حضرت موسیٰ پاک شہید، تعمیر دسویں صدی ہجری، حضرت موسیٰ پاک شہید کے مزار کے متصل یہ مسجد اندرون پاک دروازہ واقع ہے۔ اس مسجد کے تین گنبد ہیں اور مسجد 60x30 فٹ کشادہ ہے اس مسجدکی اولین تعمیر دوسری صدی ہجری میں حضرت موسیٰ پاک شہید کے زمانہ میں ہوئی تھی۔ مسجد شاکر خان تعمیر1753ء میں یہ مسجد کمشنر ملتان کی رہائش گاہ شیش محل کے ساتھ واقع ہے۔ اسے نواب شاکر خان نے تعمیر کرایا تھا۔ مسجد عام خاص باغ مغلیہ عہد کی قدیم مسجد تھی مگر اب اس کی تعمیر نو کر دی گئی ہے۔ جامع مسجد درس والی یہ مسجد بھی ملتان کی قدیم مساجد میں سے ایک ہے۔ کہتے ہیں کہ اس مسجد کی اولین تعمیر بھی 95ء میں ہوئی تھی آج کل اس مسجد کی بھی تعمیر نو کر دی گئی ہے۔ یہ مسجد دولت گیٹ النگ کے قریب باغیچی مرزا جان میں واقع ہے یہاں حضرت حافظ جمال کے خلیفہ اول حضرت مولانا قیصر پوری درس دیا کرتے تھے۔ جامع مسجد کڑہ یہ ایک انتہائی خوبصورت مسجد ہے اس کے جنوب میں حضرت عبدالرشید کرمانی کا مقبرہ ہے۔ آپ اس مسجد میں درس دیا کرتے تھے۔ جامع مرادیہ مسجد مغل شہزادے مراد بخش سے منسوب تھی۔ آجکل اس کی تعمیر نو کر دی گئی ہے اور جامعہ محمدیہ اہلحدیث کہلاتی ہے۔ (شیخ نوید اسلم کی کتاب ’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ ‘‘ سے ماخوذ

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers