حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ میں اکثر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم سے یہ بات سنا کرتی تھی کہ کسی نبی کی وفات اس وقت تک نہیں ہوتی جب تک کہ خود اس سے دنیا یا آخرت میں رہنے کے بابت اسکی راۓ معلوم نہ کر لی جاۓ ـ چنانچہ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا جبکہ آپکا سر مبارک میری گود میں تھا تو آپکا سانس تیز چلنے لگا اور آپ نے فرمایا:
مع الذین انعم اللہ علیھم من النبیین
یعنی میں نے ان لوگوں کے ساتھ رہنا پسند کر لیا ہے جن پر اللہ تعالی نے انعام فرمایا ہے ــــ تو میں سمجھ گئ کہ اب آپ نے آخرت کو اختیار فرما لیا ہے ــ بخاری شریف ۶۳۸/۲تفصیل سے پڑھئے

آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے دنیاوی زندگی میں سب سے آخری عمل جو انجام فرمایا وہ مسواک کے زریے پاکیزگی حاصل کرنا تھا، چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں کہ مرض الوفات میں آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم میری گود میں آرام فرما رہے تھے، اسک درمیان میرے بھائی عبدالرحمن بن ابی بکر اس حال میں آۓ کہ انکے ہاتھ میں ایک تازہ مسواک تھی جس سے وہ مسواک کر رہے تھے ، آپ نے اس مسواک کو نظر جما کر دیکھا لہزا میں نے وہ مسواک ان سے لیکر اچھی طرح چبا کر ملایم کر کے آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی خدمت میں پیش کی ـ اور ابھی آپ فارغ ہی ہوۓ تھے کہ آپ نے اپنا دست مبارک یا انگلی آسمان کی طرف اٹھائی اور تین مرتبہ یہ الفاظ دہراۓ ـــ
فی الرفیق الاعلی
پھر میری گود میں ہی انتقال فرما گۓ ـــ
انا للہ وانا الیہ راجعون
بخاری شریف ۶۳۸/۲
ایک اور روایت میں ہے کہ آپ نے وفات کے وقت یہ دعا فرمائی:ـ
اے اللہ! مجھے معاف فرما اور مجھ پر رحم فرما، اور اعلی درجہ کے رفیق کے ساتھ مجھے لاحق فرماـ
بخاری شریف ۶۳۹/۲


آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ وسلم کی وفات کی خبر سے مدینے میں کہرام مچ گیاـ
سچے جانثاروں کا آسرا چلا گيا، محبان نبوت کا سب سے بڑا محبوب خود اپنے محبوب یعنی رب العالمین سے وصال کی سعادت سے بہرہ ور ہو گیا، مدینہ میں ہر طرف سسکیاں اور آہیں تھیں ـ جنکا اظہار زبان سے کم اور آنکھوں سے بہنے والے گرم گرم آنسوؤں کے سیل رواں سے زیادہ ہو رہا تھا، مسجد نبوی میں موجود حضرات صحابہ رضی اللہ تعالی عنہ کی حالت عجیب تھی، کوئی بھی اس المناک حادثہ پر اپنے ہوش میں معلوم نہ ہوتا تھا، کسی کی زبان گنگ تھی تو کوئی آنسوؤں کے سیلاب میں تصویر غم بنا ہوا تھا ـ
لوگ حیران تھے کہ اب کیا ہو گا؟؟؟؟
نظریں اس نازک موقع پر آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے سب سے قریبی رفیق سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالی عنہ کو ڈھونڈ رہی تھیں کچھ دیر بعد حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ بھی نڈھال قدموں سے تشریف لاۓ، پہلے سیدھے حجرۂ مبارک میں تشریف لے گۓ جہاں آپ صلی اللہ علیہ والہ وسلم کا جسد خاکی یمنی چادر میں ڈھکا ہوا رکھا تھا، حضرت ابوبکر ر نے چادر ہٹائی اور روتے ہوۓ پیشانی کا بوسہ لیا اور فرمایا :ــــ
میرے ماں باپ آپ پر قربان!! اللہ تعالی آپ پر دو موتوں کو جمع نہیں فرماۓ گاـ
اور جو موت آپکے لیے مقدر تھی آ چکی(یعنی آپ اب دوبارہ تشریف نہ؛ں لائيں گے کہ پھر موت آۓ) ـــــ بخاری شریف مع حاشیہ۶۴۰/۲

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers