نام ، نسب ، خاندان
--------------

سعد نام ، ابو اسحاق کنیت ، والد کا نام مالک اور ابو وقاص کنیت ، والدہ کا نام حمنہ تھا . سلسلہ نسب یہ ہے سعد بن مالک بن وہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بن غالب بن فہر بن نضر بن کنانہ القریشی الزہری . چونکہ آنحضرت ﷺ کی ننھیال زہری خاندان تھا ، اسلئے حضرت سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ رشتہ میں آپ کے ماموں تھے ۔ سرور کائنات ﷺ نے خود بھی بارہا اس رشتہ کا اقرار فرمایا تھا ۔   تفصیل سے پڑھئے

آپ رضی اللہ عنہ کا حُلیہ
-----------------

قد بلند و بالا ، جسم فربہ ، ناک چپٹی ، سر بڑا اور ہاتھ کی انگلیاں موٹی اور مضبوط ۔
---
اولاد
---

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے چونتیس بچے تھے ۔ ان میں سے لڑکے سترہ تھے اور لڑکیاں بھی اسی قدر تھیں ۔
-----
اسلام
-----

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ سے پہلے چھ یا سات لوگ مسلمان ہوئے تھے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کی ماں نے اپنے بیٹے کا تبدیلئی مذہب کا حال سنا تو بات چیت ، کھانا پینا سب چھوڑ بیٹھیں ۔ چونکہ وہ اپنی ماں کے حد درجہ فرماں بردار اور اطاعت شعار تھے ، اسلئے یہ سخت آزمائش کا موقع تھا ۔ لیکن جو دل توحید کی لذت کا آشنا ہوچکا تھا وہ پھر کفر و شرک کی طرف کس طرح رجوع کرتا ۔ ماں مسلسل تین دن تک بھوکی پیاسی رہی لیکن بیٹے کے استقلال میں کوئی کمی نہ دیکھی ۔ اللہ پاک کو یہ بات اتنی پسند آئی کہ معصیت الٰہی میں والدین کے عدم اطاعت کو قانون بنادیا ۔
اگر والدین تجھ کو میرے ساتھ شرک پر مجبور کریں جن کا کوئی علم و یقین تیرے پاس نہیں ہے تو اس میں اُن کی اطاعت نہ کر ۔ ( العنکبوت : ۸ )
-----------
مکہ کی زندگی
-----------

اسلام قبول کرنے کے بعد ہجرت نبوی ﷺ تک مکہ میں ہی مقیم رہے . گو عام مسلمانوں کی طرح ان کو بھی بہت سے مصائب کا سامنا رہا مگر سب سختیوں کو بلند ہمتی سے برداشت کیا ۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ عموماً مکہ کی ویران و سنسنان گھاٹیوں میں چُھپ کر عبادت کرتے تھے ۔ ایک دفعہ کفار کی ایک جماعت اس طرف آنکلی اور اسلام کا مذاق اڑانے لگی ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ کو جوش آگیا اور اونٹ کی ہڈی اٹھا کر اس زور سے ماری کہ ایک مشرک کا سر پھٹ گیا اور خون بہنے لگا ۔ اسلام کی حمایت میں یہ پہلی خونریزی تھی جو حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے ہاتھ سے عمل میں آئی ۔
-----
ہجرت
-----

مکہ میں جب کفار کے ظلم و ستم سے مسلمانوں کا صبر و تحمل کا پیمانه لبریز ہوگیا تو آنحضرت ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو ہجرت مدینہ کا حکم دیا ۔ اس حکم عام کی بنا پر حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی راہ لی اور اپنے بھائی عتبہ بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے مکان میں رہنے لگے ۔ عتبہ رضی اللہ عنہ نے ایام جاہلیت میں ایک خون کیا تھا اور انتقام کے خوف سے مدینہ میں سکونت اختیار کر لی تھی ۔
-----
غزوات
-----

-== غزوۂ بدر ==-
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے اس جنگ مین غیر معمولی شجاعت و جان بازی کے جوہر دکھائے اور سعید بن العاص کو قتل کیا ۔ اس جنگ میں حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے بھائی عرمی رضی اللہ عنہ شہید ہوئے .
-== غزوۂ اُحد ==-
اس جنگ میں اکثر غازیوں کے پاؤں اکھڑ گئے لیکن حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ان ثابت قدم اصحاب کی صف میں تھے جنکے پائے استقلال کو اخیر وقت تک لغزش نہ ہوئی ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ تیر اندازی میں کمال رکھتے تھے ، اسلئے جب کفار کا نرغہ ہوا تو آنحضرت ﷺ ان کو اپنے ترکش سے تیر دیتے جاتے اور فرماتے :
اے سعد ! تیر چلا ۔ میرے باپ ماں تجھ پر فدا ہوں ۔
اثنائے جنگ میں ایک مشرک سامنے آیا جس نے اپنے تیز و تند جملوں سے مسلمانوں کو پریشان کر رکھا تھا ۔ آنحضرت ﷺ نےاس کو نشانہ بنانے کا حکم دیا لیکن اس وقت ترکش تیروں سے خالی ہو چکا تھا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے تعمیل ارشاد کیلئے ایک تیر اٹھایا جس میں پھل نہیں تھا ، اس صفائی کیساتھ اس کی پیشانی پر مارا کہ وہ بدحواسی کے ساتھ برہنہ ہوکر گر گیا ۔ آنحضرت ﷺ ان کی تیر اندازی اور اس کی بد حواسی پر بے اختیار ہنس پڑے ، یہان تک کہ دندان مبارک نظر آنے لگے ۔
اسی طرح طلحہ بن ابی طلحہ کے حلق میں تاک کر ایسا تیر مارا کہ زبان باہر نکل پڑی اور تڑپ کر داخل جہنم ہوا ۔
-----
متفرق
-----

اُحد سے فتح مکہ تک جس قدر معرکے پیش آئے ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ بہادری و جانبازی کیساتھ سب میں پیش پیش رہے ۔ حنین کے موقع پہ بھی آپ نے بہادی کا مظاہرہ کیا ۔
طائف اور تبوک کی فوج کشی میں بھی شریک تھے ۔ حجة الوداع میں بھی ہمراہ تھے لیکن مکہ پہنچ کر سخت علیل ہو گئے ، یہاں تک کہ جب آنحضرت ﷺ عیادت کیلئے تشریف لائے تو زندگی سے مایوس ہو گر عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ﷺ ! میں مالدار آدمی ہوں لیکن ایک لڑکی کے سوا کوئی وارث نہیں ہے ، اسلئے اگر اجازت ہو تو اپنا سارا مال کارِ خیر میں لگادوں ؟ ارشاد ہوا : نہیں ! پھر عرض کیا : دو تہائی نہیں تو نصف سہی ۔ حکم ہوا : نہیں صرف ایک تہائی اور یہ بھی بہت ہے ۔ تم اپنے وارثوں کو مالدار و تونگر چھوڑ کر جاؤ کہ وہ لوگوں کے سامنے دست سوال نہ کریں ۔ تم جو کچھ بھی خدا کی رضا جوئی کیلئے صرف کروگے ، اس کا اجرملے گا ، یہاں تک کہ اپنی بیوی کے منہ میں جو لقمہ ڈالتے ہو اس کا بھی ثواب پاؤ گے ۔
-----------------
خلافت صدیقی و فاروقی
-----------------
نبی پاک ﷺ کے وصال کے بعد حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بلا توقف بیعت کر لی ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ کے بعد جب عمر رضی اللہ عنہ امیر بنے تو انہوں نے ایران پہ چڑھائی کا ارادہ کیا کہ تاکہ سر زمین ایران سے بت پرستی کا خاتمہ ہو ۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تمام عاملین کو خطوط ارسال کئے اور لکھا کہ جس کے پاس اسلحہ ، گھوڑے یا جو کچھ بھی جنگی سامان ہو ، اسے فوراً میری طرف روانہ کردو ۔ آپ رضی اللہ عنہ کا حکم ملتے ہی مجاہدین کے قافلے مدینہ منورہ پہنچنا شروع ہوگئے ۔ جب سب قافلے پہنچ چکے تو مشورہ کیا گیا کہ لشکر اسلام کا سالار کسے بنایا جائے ؟ تمام نے یک زبان ہوکر کہا : سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کو ۔
سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنے پاس بلایا اور لشکر اسلام کا جھنڈا ان کے سپرد کردیا ۔ جب لشکر روانہ ہونے لگا تو عمر رضی اللہ عنہ الوداع کہنے کیلئے اٹھے اور سپہ سالار کو وصیت فرمائی :
" اے سعد رضی اللہ عنہ ! دیکھنا کہیں اس غرور مین نہ آجانا کہ رسول اقدس ﷺ کا ماموں اور جانثار صحابی ہوں ۔ میری بات اچھی طرح ذہن نشین کرلو کہ اللہ پاک کبھی بھی برائی کو برائی سے نہیں مٹاتا بلکہ ہمیشہ برائی کو نیکی سے مٹاتا ہے ۔
اے سعد رضی اللہ عنہ ! یاد رکھنا کہ اللہ پاک کے ہاں خاندانی برتری کوئی حیثیت نہین رکھتی ، وہاں تو اطاعت کو ہی بلند مقام حاصل ہے ۔ دنیاوی اعتبار سے معزز اور کمتر لوگ اللہ پاک کے ہاں بالکل برابر ہیں ۔ اللہ پاک ان سب کا رب ہے اور وہ سبھی اسی کے بندے ہیں ۔ وہاں تو فضیلت تقوی کی بیناد پر ملتی ہے ۔ اطاعت و فرمانبرداری سے ہی بلند مقام حاصل ہوتا ہے ۔ ہمیشہ اس کام پر نگاہ رکھنا جسے رسول اللہ ﷺ نے سر انجام دیا ہو ۔ اس مقصد کو آگے بڑھانا ہمارا اجتماعی فرض ہے جسے نبی پاک ﷺ نے جاری کیا تھا ۔"
اس لشکر میں ننانوے بدری صحابہ رضی اللہ عنہم ، تین سو دس بیعت رضوان میں شریک ہونے والے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم ، تین سو فتح مکہ میں شرکت کا اعزاز رکھنے والے صحابہ رضی اللہ عنہم اور تقریباً سات سو صحابہ رضی اللہ عنہم کے نوجوان بیٹے شامل تھے ۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے قادسیہ کے مقام پر پڑاؤ کرنے کا حکم دیا ۔وہیں لشکر کو ترتیب دیا اور دشمن سے زوردار مقابلہ کیا ۔ اس جنگ میں تیس ہزار ایرانی ہلاک ہوئے ۔

--------------------------------
حضرت سعد رضی اللہ عنہ کی گوشہ نشینی
--------------------------------

جب خلیفۂ ثالث حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور کے آخری حصہ میں فتنہ و فساد کا بازار گرم ہوا تو آپ رضی اللہ عنہ اس وقت گوشۂ نشین ہوچکے تھے ، البتہ جب مفسدین نے کاشانۂ خلافت کا محاصرہ کر لیا ، تو ان کو سمجھانے کی کوشش کی مگر ناکام رہے ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی شہادت کے بعد حضرت علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی لیکن معاملات ملکی سے بے تعلق رہنے کی روش پر اس وقت بھی قائم رہے ۔
----
وفات
---

حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے مدینہ سے دس میل کے فاصلہ پر مقام عقیق میں اپنے لئے ایک گھر تعمیر کرایا تھا ۔ چنانچہ گوشہ نشینی کی زندگی اسی میں بسر ہوئی ۔ آخر عمر میں آنکھوں کی بصارت بھی جاتی رہی تھی ۔ آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ۵۵ ہجری میں ہوئی ۔
حضرت سعد رضی اللہ عنہ نے وصیت کی تھی کہ جنگ بدر میں جو اُونی کپڑا میرے جسم پر تھا ، اس سے کفن کا کام لیا جائے ، چنانچہ اس پر عمل کیا گیا ۔ بقیع میں مدفون ہوئے ۔ ستر برس سے زیادہ عمر پائی اور اس عرصہ میں اپنے عظیم الشان کارناموں کی یادگار چھوڑ گئے ۔
--------
علم و فضل
--------

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کا علمی پایہ نہایت ارفع تھا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جب سعد رضی اللہ عنہ ، رسول اللہ ﷺ سے کوئی حدیث روایت کریں تو پھر اس کے متعلق کسی دوسرے سے نہ پوچھو ۔
----------
اخلاق و عادات
----------

حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے مصحفِ اخلاق میں خشیت الہٰی ، حب رسول ﷺ ، تقویٰ ، زُہد ، بے نیازی اور خاکساری سب سے روشن ابواب ہیں ۔ خوفِ خدا اور عبادت گزاری کا یہ حال تھا کہ عموماََ رات کے اخیر حصے میں مسجد نبوی ﷺ میں آکر نماز پڑھا کرتے تھے ۔ طبیعت رہبانیت کی طرف بہت مائل تھی لیکن اسلام میں ممنوع ہونے کی وجہ سے مجبور تھے ۔ چنانچہ فرمایا کرتے تھے کہ رسول اللہ ﷺ نے رہبانیت سے منع نہ فرمایا ہوتا تو میں اس کو اختیار کر لیتا ۔
رسول اللہ ﷺ کے ساتھ محبت و جان نثاری کا صرف اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ جب غزوۂ اُحد میں شکست رونما ہوئی اور تمام صحابہ رضی اللہ عنہم پریشانی اور گھبراہٹ میں منتشر ہو گئے تو اس وقت تھوڑی دیر تک تنہا انہوں نے اور حضرت طلحہ رضی اللہ عنہ نے نبی کریم ﷺ کی حفاظت کا فرض سر انجام دیا تھا ۔
سفر میں عموماََ خود شوق سے رسول اللہ ﷺ کےخیمے کے گرد رات رات بھر پہرہ دیتے تھے ۔ ایک دفعہ رسول اللہ ﷺ کسی غزوہ سے واپس تشریف لارہے تھے ۔ رات کے وقت ایک جگہ قیام ہوا ۔ یہاں دشمنوں کا سخت خطرہ تھا ، آنحضرت ﷺ دیر تک جاگتے رہے اور فرمانے لگے کہ کاش ! میرے اصحاب میں سے کوئی مرد صالح آج پہرہ دیتا ۔ اماں عائشہ رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ ابھی یہ جملہ تمام بھی نہیں ہوا تھا کہ اسلحہ کی جھنکار سننے میں آئی ۔ آنحضرت ﷺ نے پوچھا : کون ہے ؟ عرض کی سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ ۔ ارشاد ہوا : تُم کیسے آئے ؟ عرض کیا : خود بخود یہ خیال پیدا ہوا کہ آج رسول اللہ ﷺ کی حفاظت کرنی چاہیئے ، اس خیال کے آتے ہی چلا آیا ہوں ۔ آنحضرت ﷺ اس جانثاری سے نہایت خوش ہوئے اور دُعا دی ۔

عتبہ بن ابی وقاص ، حضرت سعد رضی اللہ عنہ کے حقیقی بھائی تھے ۔ انہوں نے حالت کفر میں غزوۂ اُحد میں رسول اللہ ﷺ کے چہرۂ مبارک کو زخمی کیا تھا ۔ حضرت سعد رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے : اللہ کی قسم ! میں عتبہ سے زیادہ کبھی کسی شخص کے خون کا پیاسا نہیں ہوا ۔
--------------
ذریعۂ معاش و جاگیر
--------------

ایک زمانہ وہ تھا کہ حضرت سعد رضی اللہ عنہ درخت کے پتے کھا کھا کر رسول اللہ ﷺ کے ساتھ غزوات میں جانبازی دکھاتے تھے ۔ لیکن اسلام کی برکت سے یہ تنگی بہت جلدی فراخی میں بدل گئی ۔ خیبر کی مفتوحہ اراضی میں جاگیر ملی ، ایران کے مال غنیمت میں حصہ ملا ۔ اسی طرح دور فتنہ و فساد میں ایک غیر آباد زمین خرید کرزراعت کا مشغلہ اختیار کیا ۔ غرض اخیر زندگی میں ایک بڑی دولت کے مالک ہوئے ۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers