تاریخ کے اوراق پلٹیے یا پھر دیگر مذاہب کی مقدس و مشہور کتابیں کھولیے۔ تہذیب کے شواہد زیادہ تر دریائوں کے کنارے ہی پائے گئے ہیں اور یہی وادی ہاکڑہ کے قدیم ہونے پر صادق آتی ہے۔ وادی ہاکڑہ اس دور کے بہت بڑے دریا ہاکڑا(دوسرا نام گھاگرا) کے کنارے آباد تھی۔ یہ علاقہ اپنی زرخیزی اور خوشحالی کے لحاظ سے ایک مستحکم ترین علاقہ تھا۔ یہاں پر باقاعدہ بندرگاہیں بنی ہوئیں تھیں اور یہاں کا مال بحری جہازوں سے دجلہ اور فرات کی وادیوں کے لیے تجارت کیا جاتا تھا۔ آج کی وادی ہاکڑہ اور فورٹ عباس تحصیل اور صحرائے چولستان کے مجموعے کا نام ہے قیام پاکستان سے پہلے اور بعد میں اس سرزمین کی بارہا کھدائی کروائی گی یہاں کئی ایک پرانی تہذیبوں کے آثار ملے۔ تفصیل سے پڑھئے
سرزمین ہاکڑا جن محقق لوگوں کے مشاہدات زیر غور رہی ان میں سر ارل اسٹائن، ہنری فلیڈ، سرموٹیمز کرنل منچن، مرزا شاہ گردیزی اور ڈاکٹر تشاوی قابل ذکر ہیں۔ ان سب نے اس سرزمین سے ملنے والے نوادرات کا طبعی اور کیمیائی مشاہدہ کیا۔ اپنے ان تجربات اور مشاہدات سے اس کو 5000 ق م تک پرانا علاقہ ثابت کیا لیکن حالیہ چند دہائیوں کی تحقیق جوکہ ڈاکٹر محمد رفیق مغل سابق سربراہ نیشنل میوزیم کراچی نے کی اس کو بالکل درست تسلیم کیا ہے بہت سے قدیم نوادرات اس وقت بھی نیشنل میوزیم کراچی میں موجود ہیں۔ پانی اس سرزمین کی زرخیزی اور نوخیزی کے لیے بہت اہم رہا لیکن یہی وہ راستہ اور وجہ بھی رہا اسے زمانہ قدیم میں بار بار جنگی حالات کا سامنا کرناپڑا۔ تقریباً3000 ق م اور 3500 ق م کے درمیان کہیں یہ علاقہ آریائی قوم نے بہت زیادہ جنگ و جدل کے ساتھ حاصل کیا اور محکوم قوموں کو شودر کا نام دیا جوکہ پورے ہندوستان میں پھیل گئے۔ شودر قوم صدیوں سے آج بھی ہندوئوں کے ہاں گندی اور ذلیل قوم تصور کی جاتی ہے۔ یہ خطہ اس کے بعد سکندر اعظم کے ہاتھوں فتح ہوا۔ پھر کئی حکمرانوں کے زیرنگیں آباد اور بہت سے لوگوں سے چھنتا رہا۔ پھر یہ سب دریا دوسرے راستوں پر بہہ نکلے۔ کچھ سوکھ گئے اور یہ زرخیز ترین علاقہ خشک سالی کا شکار ہوا۔ لوگ بھی دوسرے علاقوں کو ہجرت کر گئے۔ صدیوں بعد یہ پھر آباد ہوا۔ چولستان کے نام سے مشہور اس خطہ ارض میں زرخیزی کی رمق نظر آئی لیکن اپنی گزشتہ زرخیزی کے سامنے یہ اب بھی شرمندہ ہے۔ اکثر و پیشتر خشک سالی کا شکار رہتا ہے۔ وادی ہاکڑا کو قلعوں کی سرزمین بھی کہا جاتا ہے جن میں قابل ذکر نام سردار گڑھ پھول نگر (پھولڑہ فورٹ عباس) قلعہ میر گڑھ، قلعہ جام گڑھ اور قلعہ مروٹ سے ہوتے ہوئے قلعہ دراوڑ سے جا ملتے ہیں۔ بغداد میں ہلاکو خان کے ہاتھوں شکست پا کر عباسی خاندان ہندوستان میں پناہ گزین ہوا اور یہاں ریاست بہاولپور کا قیام عمل میں آیا۔ بہاولپور ریاست کے بانی نواب محمد صادق عباسی اول تھے۔ ریاست کی زرخیزی سے اناج، وافر مقدار میں پیدا ہونے لگا تو خرید و فروخت کے لیے یہاں منڈیاں بنائی گئیں۔ 1927ء میں بستی پھولڑہ کو منڈی فورٹ عباس کا نام دے کر تحصیل کا درجہ دیا گیا۔ فورٹ عباس میں ایک دفعہ عباسیہ (پھولڑہ) کے نام سے مشہور تھا اس لیے نواب محمد صادق پنجم نے اس شہر کا نام فورٹ عباس(اپنے بڑے بیٹے محمد عباس کے نام پر) رکھا یعنی عباس کا قلعہ 1955ء تک اس علاقے میںریاست بہاولپور کے ڈاک ٹکٹ اسٹامپ اور سیاہ تکونی پرچم(ریاست بہاولپور کا جھنڈا) جن پر ریاست بہاولپور کے نوابین کی تصویریں پرنٹ تھیں چلتے رہے پھر جب مغربی پاکستان کو ون یونٹ کا درجہ دیدیا گیا اور بہاولپور کو کمشنری کا درجہ حاصل ہوگیا تو پہلی بار قومی پرچم لہرایا گیا۔ 1969ء میں ایک عجیب واقعہ رونما ہوا۔ صدیوں پہلے روٹھ کر سونے والا دریائے گھاگرا(ہاکڑا) ایک بار پھر غضب بن کر اٹھا اور سیلاب برپا کر دیا پانی نے فورٹ عباس کو تین اطراف سے گھیر لیا۔ شہر تو ریلوے لائن کی وجہ سے بچ گیا لیکن اردگرد کے علاقے کو خاصہ نقصان پہنچا۔ اب بھی ہر سال دریا اپنے ہونے کا احساس ضرور دلاتا ہے۔ لیکن 1979ء میں پاک فوج کی مدد سے فلڈ چینل پر سائفن قائم ہونے سے سیلاب کے خدشات بہت کم ہوگئے ہیں۔ قلعہ فورٹ عباس (قلعہ پھولڑہ) فورٹ عباس کے نواحی علاقے میں واقع ہے۔ جہاں فورٹ عباس کی قدیم آبادی مقیم ہے۔ اس کے قیام کا بالکل درست وقت تو معلوم نہیں لیکن اندازاً یہ 3000 ق م یا سکندریہ دور کا بتایا جاتا ہے۔ (’پاکستان کے آثارِ قدیمہ )

Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers