نام ، نسب ، خاندان
--------------
سعید نام ، ابو الاعور کنیت ، والد کا نام زید اور والدہ کا نام فاطمہ بنت بعجہ تھا ۔ سلسلہ نسب یہ ہے ، سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بن عبدالعزی بن ریاح بن عبداللہ بن قرظ بن زراح بن عدی بن کعب بن لوی القرشی العددی ۔ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ کا سلسلہ نسب کعب بن لوی پر آنحضرت ﷺ سے مل جاتا ہے ۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے والد زید ان سعادت مند بزرگوں میں تھے جن کی آنکھوں میں اسلام سے پہلے ہی کفر و شرک کے ظلمت کدہ میں توحید کا جلوہ دکھتا تھا اور ہر قسم کے فسق و فجور یہاں تک کہ مشرکین کے ذبیحہ بھی نہیں کھاتے تھے ۔                             تفصیل سے پڑھئے
زید کا دل کفر و شرک سے متنفر ہوا تو حق کی تلاش میں دور دراز ممالک کے سفر کئے اور شام پہنچ کر ایک یہودی عالم سے رہبری چاہی ۔ اس نے کہا اگر اللہ کے غضب میں حصہ لینا ہے تو ہمارا مذہب حاضر ہے ۔ زید نے کہا : میں اسی سے بھاگا ہوں ، پھر اس میں گرفتار نہیں ہوسکتا ۔ البتہ کوئی دوسرا مذہب بتا سکتے ہو تو بتاؤ ؟ اس نے دین حنیف کا بتایا ۔ انھوں نے پوچھا : دین حنیف کیا ہے ؟ بولا : دین حنیف حضرت ابراہیم علیہ السلام کا مذہب ہے ، جو نہ یہودی تھے نہ عیسائی بلکہ صرف خدائے واحد کی پرستش کرتے تھے ۔ یہاں سے بڑھے تو ایک عیسائی عالم کے پاس گئے اور اس سے مشورہ چاہا ۔ اس سے نے کہا : اگر خدا کی لعنت کا طوق چاہتے ہو تو ہمارا مذہب موجود ہے ۔ زید نے کہا : خدارا کوئی ایسا مذہب بتاؤ جس میں نہ خدا کا غضب ہو نہ لعنت ، میں ان دونوں سے بھاگتا ہوں ۔ بولا : میرے خیال میں ایسا مذہب صرف دین حنیف ہے ۔ غرض جب ہر جگہ سے دین ابراہیم کا پتہ ملا تو شام سے واپس ہوئے اور دونوں ہاتھ اٹھا کر کہا : خدایا ! تجھے گواہ بناتا ہوں کہ اب میں دین حنیف کا پیرو ہوں ۔
حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کی بڑی صاحبزادی حضرت اسماء رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں نے ایک دفعہ زید کو دیکھا کہ کعبہ سے پشت ٹیک کر کہہ رہے تھے : اے گروہ قریش ! خدا کی قسم ! میرے سوا تم میں کوئی بھی دین ابراہیم پر قائم نہیں ہے ۔
ایام جاہلیت میں اہل عرب عموماً اپنی لڑکیوں کو زندہ دفن کردیتے تھے ، لیکن خدائے واحد کے اس تنہا پرستار کو ان معصوم ہستیوں کے بچانے میں خاص لطف حاصل ہوتا تھا اور جب کوئی ظالم باپ اپنی بیگناہ بچی کے حلق پر چھری پھیرنا چاہتا تھا تو اس کی کفالت اپنے ذمہ لے لیتے اور جب جوان ہوجاتی تو اس کے باپ سے کہتے : جی چاہے لے لو یا میری ہی کفالت میں رہنے دو ۔
------------------
آپ رضی اللہ عنہ کا حُلیہ
------------------
قد لمبا ، بال بڑے بڑے اور گھنے تھے ۔
----
اولاد
----
حضرت سعید رضی اللہ عنہ کثیر الاولاد تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اٹھائیں بچوں کا تذکرہ ملتا ہے اور ان میں سے اکثر لاولد ہی فوت ہوئے ۔
-------------------
آپ رضی اللہ عنہ کا اسلام
-------------------
جب رسول الله ﷺ نے دین حنیف کو زیادہ مکمل صورت میں دوبارہ دنیا کے سامنے پیش کیا اور دعوت توحید شروع کی ، تو گو اس وقت اس کے سچے شیدائی زید صفحہ ہستی پر موجود نہ تھے تاہم ان کے فرزند حضرت سعید رضی اللہ عنہ کیلئے یہ آواز بلکل مانوس تھی ۔ انہوں نے جوش کے ساتھ لبیک کہا اور اپنی نیک بخت بیوی کے ساتھ حلقہ بگوش اسلام ہوئے ۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا حضرت عمررضی اللہ عنہ کی حقیقی بہن تھیں ۔ لیکن وہ خود اس وقت تک اسلام کی حقیقت سے ناآشنا تھے ، بہن اور بہنوئی کے مذہب تبدیل کرنے کا حال سن کر نہایت برہم ہوئے اور دونوں میں بیوی کو اس قدر مارا کہ وہ لہو لوہان ہوگئے . یہاں تک کہ ان بزرگوں کی اسی استقامت و استقلال نے خود حضرت عمررضی اللہ عنہ کو بھی اسلام کی حقانیت کا جلوہ دکھادیا ، اور بالآخر عمر بن الخطاب سے فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بنادیا ۔
------------
ہجرت اور غزوات
------------
حضرت سعید رضی اللہ عنہ مہاجرین اولین کے ساتھ مدینہ پہنچے اور حضرت رفاعہ بن عبدالمنذر رضی اللہ عنہ انصاری کے مہمان ہوئے ۔ کچھ دنوں کے بعد رسول الله ﷺ نے ان میں اور حضرت رافع بن مالک رضی اللہ عنہ انصاری میں بھائی چارہ کرادیا ۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر میں شامل نہ ہوسکے کہ نبی پاک ﷺ نے انکو اور طلحہ رضی اللہ عنہ کو ایک مہم کے سلسلے میں بھیجا ہوا تھا ۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ مدینہ پہنچے تو نبی پاک ﷺ نے ان کو بدر کے مال غنیمت میں حصہ مرحمت فرمایا اور جہاد کے ثواب سے بھی بہرہ ور ہونے کی بشارت دی ۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ جنگ بدر کے سوا تمام غزوات میں مردانگی و شجاعت کے ساتھ آنحضرت ﷺ کے ساتھ ہمرکاب رہے ۔ عہد فاروقی میں جب شام پر باقاعدہ فوج کشی ہوئی تو حضرت سعید رضی اللہ عنہ حضرت ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ کے ماتحت پیدل فوج کی افسری پر متعین ہوئے ۔ دمشق کے محاصرہ اور یرموک کی فیصلہ کن جنگ میں نمایاں شجاعت و جانبازی کے ساتھ شریک کارزار تھے ۔ اثنائے جنگ میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کو لکھا کہ میں ایسا ایثار نہیں کرسکتا کہ آپ لوگ جہاد کریں اور میں اس سے محروم رہوں ۔ اس لئے خط پہنچنے کے ساتھ ہی کسی کو میری جگہ بھیج دیجئے ، میں عنقریب آپ کے پاس پہنچتا ہوں ۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے مجبور ہوکر حضرت یزید بن ابی سفیان رضی اللہ عنہ کو دمشق پر متعین کیا اور حضرت سعید رضی اللہ عنہ پھر میدان رزم پہنچ گئے ۔
-----
وفات
-----
فتح شام کے بعد حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی تمام زندگی نہایت سکون و خاموشی سے بسر ہوئی ۔ آپ رضی اللہ عنہ ۵۰ یا ۵۱ ہجری میں ستر برس کی عمر میں آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی . چونکہ نواح مدینہ میں بمقام عقیق آپ کا مستقل مسکن تھا ، اسلئے وہیں وفات پائی ۔ جمعہ کا دن تھا ، عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نماز جمعہ کی تیاری کررہے تھے کہ وفات کی خبر سنی ، اسی وقت عقیق کی طرف روانہ ہوگئے ۔ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ نے غسل دیا ، حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اور مدینہ لاکر سپرد خاک کیا ۔
-----------------------
ذاتی حالات اور اخلاق و عادات
-----------------------
حضرت سعید رضی اللہ عنہ کا دل دنیاوی جاہ و حشمت سے مستغنی تھا ۔ صرف مقام عقیق کی جاگیر پر گزر اوقات تھی ۔ آخر میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے عراق میں بھی ایک جاگیر دی تھی ۔
امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کے عہد میں اروی نامی ایک عورت نے دعوی کیا کہ حضرت سعید رضی اللہ عنہ نے اسکی زمین غصب کرلی ہے ۔ اس نے مدینہ کے عامل مروان بن حکم کے دربار میں شکایت کی ۔ مروان نے تحقیقات کیلئے دو آدمی متعین کئے ۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ کو خبر ہوئی تو انہوں نے کہا : کیا تم خیال کرتے ہو کہ میں نے اس کے ساتھ ظلم کیا ہے ؟ حالانکہ میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ اگر کوئی شخص کسی کی ایک بالشت زمین بھی ظلم و زبردستی سے لے گا تو قیامت کے دن ساتوں زمینوں کا طوق اس کے گلے میں ہوگا ۔ مروان نے قسم کھانے کو کہا ۔ یہ اپنی زمین سے باز آگئے اور اس عورت کے حق میں بددعا کے طور پر فرمایا : اے اللہ ! اگر یہ جھوٹی ہے تو اندھی ہوکر مرے اور اس کے گھر کا کنواں خود اس کیلئے قبر بنے ۔ اللہ کی قدرت بددعا کا تیر ٹھیک نشانے پر لگا ، وہ عورت بہت جلد بصارت کی نعمت سے محروم ہوگئی اور ایک روز گھر کے کنویں میں گر کر مرگئی اور اسطرح حضرت سعید رضی اللہ عنہ کی سچائی ثابت ہوگئی ۔
حضرت سعید رضی اللہ عنہ کے سامنے بہت سے انقلابات برپا ہوئے ۔ خانہ جنگیاں بھی پیش آئیں ۔ گو وہ اپنے زہد و اتقاء کے باعث ان جھگڑوں سے ہمیشہ کنارہ کش رہے ، تاہم جس کی نسبت جو رائے رکھتے تھے اس کو آزادی کے ساتھ ظاہر کرنے میں تامل نہیں کرتے تھے ۔
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ شہید ہوئے تو عموماً کوفہ کی مسجد میں فرمایا کرتے تھے : تم لوگوں نے عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ جو سلوک کیا ، اس سے اگر اُحد پہاڑ تم پر پھٹ پڑے تو کچھ عجب نہیں ۔
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ ، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کیطرف سے کوفہ کے گورنر تھے ۔ ایک روز وہ جامع مسجد میں عوام کے ایک حلقہ میں بیٹھے تھے کہ حضرت سعید بن زید رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو انھوں نے نہایت تعظیم و تکریم کے ساتھ ان کا استقبال کیا اور اپنے پاس بٹھایا ۔ اسی اثناء میں ایک دوسرا آدمی اندر آیا اور حضرت علی رضی اللہ عنہ کی شان میں گستاخانہ بول بولنے لگا ۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ سے ضبط نہ ہوسکا بولے : مغیرہ ! مغیرہ ! لوگ تمہارے سامنے رسول ﷺ کے جان نثاروں کو گالیاں دیتے ہیں اور تم منع نہیں کرتے ۔ اس کے بعد اصحاب عشرہ مبشرہ رضی اللہ عنہم میں سے آٹھ آدمیوں کا نام لے کر فرمایا کہ رسول ﷺ نے ان کو جنت کی بشارت دی ہے اور اگر چاہوں تو میں نویں آدمی کا نام بھی لے سکتا ہوں ۔ لوگوں نے اصرار کیا تو فرمایا نواں میں ہوں ۔ حضرت سعید رضی اللہ عنہ بالاتفاق ان صحابہ کرام رضی اللہ عنہ میں ہیں جو آسمان اسلام کے مہر و ماہ ہیں ۔ وہ لڑائیوں میں آنحضرت ﷺ کے آگے رہتے تھے اور نماز میں پیچھے ۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers