آپ ھندوستان کی تاریح پر نظریں ڈالیں،یہاں ایک وقت ایسا آگیا تھا کہ اسلام کا چراغ بجھتا ھوا محسوس ھو رھا تھا۔
دین اکبری ایجاد ھو رھا تھا،
حنزیر اور کتے کی پاکی کا حکم دیا جا رھا تھا۔
سود شراب جوا حلال سمجھا گیا۔
برھما مھا دیو اور کشن کی تعظیم کی جانے لگی۔
کلمہ تک بدل دیا گیا لا الہ الا اللہ اکبر حلیفۃ اللہ کردیا گیا۔
بادشاہ کو سجدہ کرنا لازمی تھا۔
اسلامی ناموں سے منع کیا گیا۔
فرمان جاری کیا گیا کہ عربی علوم کا پڑھنا اور پڑھانا ممنوع ھے۔
صحابہ پر کھلے عام تنقید کیا جانے لگا۔
گاے کی اکبر حود پوجا کرنے لگا اور لوگوں کے زھن میں یہ بات ڈالنے کی پوری پوری کوشیش کی گی کہ ھمارے نبی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا دین اسلام صرف 1000 سال کے لیے تھا، یہ سارے حالات دیکھ کر یوں محسوس ھوتا تھا کہ اب کم سے کم ھندوستان میں دین اسلام مکمل حتم ھو جاے گا ۔۔۔۔ لیکن۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ جانتے ھے کہ اس پر آشوب دور میں کونسا مرد درویش تھا جس نے دین اسلام کی تبلیغ کا فریضہ سرانجام دیا ، جماعتیں بنای ،؟
آپ یقین کریں وہ کوی سائنس دان نہ تھا انجینئر یا کوی جدید علوم کا سکالر نہ تھا،
بلکہ ننگے فرشوں پر اللہ کو سجدے کرنے والا اور مدرسوں کی چٹایئوں پر بیٹھ کر قرآن اور احادیث سنانے والا ایک مولوی تھا وہ شیح احمد سر ھندی امعروف مجددالف ثانی تھے جنھوں نے فتنہ اکبری کا جرت سے مقابلہ کیا ،
بحوالہ ایمان افروز واقعات
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers