یہ جو ملکِ خداد میں آجکل “جسکی پارٹی اسکا انقلاب”  والا ڈرامہ چل رہا ہے، یہ کوئی آج کی بات نہیں۔ اقوامِ عالم میں یہ بہت پہلے ہوہوا چکا  ہے۔ ہاں البتہ یہ ضرور ہے کہ پراپر پلاننگ وغیرہ کے بعد ہی ایسی حرکت کی جاتی تھی، پہلےپہل اس میں سیاست کا اتنا عمل دخل نہیں تھا، جدوجہدکامیاب ہوجاتی تو انقلاب وگرنہ بغاوت۔ انقلابیوں کی لمبی لسٹ موجود ہے۔ مشہور انقلابوں میں انقلابِ فرانس، انقلابِ ایران، اور شاید روس کا انقلاب بھی۔ مشہور انقلابیوں میں لینن، چی گویرا، نیلسن منڈیلا، مارٹن لُدرکنگ وغیرہ شامل ہیں۔      تفصیل سے پڑھئے
اپنے یہاں برصغیر میں اگر 1857 ءکی جنگ ِ آزادی جیت جاتے تو سرسید احمد خان بھی انقلابی مشہور ہوتے اور دورِ حاضر کے کئی انقلابیوں نے انکی فوٹو جابجا اپنے فیس بک پر “انقلاب کی علامت” کے طور پر ٹانگی ہوتی جیسے آجکل انڈیا   خوامخواہ گاندھی جی کو قائد اعظم سے بڑا لیڈر اور تحریکِ آزادی کی علامت کے طور پر پورٹرے کررہا ہے۔ حالانکہ معاملہ گاندھی جی پر رہتا تو سارا برصغیر آج بھی بیٹھ کر گاندھی جی کے اُسی چرخے پر کچھے اور بنیان بُن رہا ہوتا۔ پہلے والے انقلاب سبھی بڑے خشک اور خونیں ہوتےتھے۔ اب البتہ زمانے کے انداز بدلے گئے ہیں اور انقلاب لانے کے نئے نئے ٹولز آگئے ہیں جیسے کہ فیس بک  ، جلسہ سیلفیز اور میوزیکل البمز۔
دنیا میں انقلاب مختلف وجوہات کی بناء پر آتے رہے مثلاً
• یکساں حقوق کیلئے
• آزادی کیلئے
• سماجی برابری
• عوام کے استحصال کے خلاف
• ترقی کی خاطر
اور ان تمام انقلابات میں چند قدریں مشترک تھیں۔ ان تمام انقلابات کی بنیاد عوام کی جانب سے رکھی گئی نہ کہ لیڈروں نے باور کرایا کہ بھائیو تمھیں انقلاب چاہیئے، انقلابیوں کو لیڈ کرنے انہی کے بیچ سے لوگ اٹھے انکے اپنے لوگ، کسی نے باہر سے آکر کمان نہیں سنبھالی، انقلابی تحریکیں کسی نہ کسی تھیوری یا سوچ جیسے مارکسسٹ تھیوری وغیرہ کے تحت چلیں نہ کہ “سوچی سمجھی” سکیموں یا بیرونی امداد کے تحت۔ پرانے وقتوں میں لوگ اکثر فارغ ہوتے تھے اسلیئے ہر گلی ہر محلے میں گھروں میں اخباروں میں انقلاب کے تذکرے ہوتے بحثیں ہوتیں عوامی رائے کو زیرِغور لایا جاتا، فیوچر پلاننگ ہوتی سٹریٹجی بنتی وغیرہ وغیرہ، آجکل چونکہ عوام کے پاس اتنا ٹائم نہیں تو یہ تمام کشٹ بھی لیڈر حضرات خود ہی اٹھالیتے ہیں۔ پہلے زمانوں میں قربانیاں لیڈر اور عوام دونوں دیتے تھے، آجکل عوام قربان ہوتی ہے اور لیڈر اس قربانی کے صدقے حکومت کرتے یا انقلاب برپا کرتے ہیں۔ برصغیر کی مختصر سی تاریخ میں قائدِاعظم ایک انقلاب لائے جو پاکستان کی شکل میں ہمیں نصیب ہوا مگر ہم نے الحمدللہ اسکے ساتھ وہ کیا کہ پھر کسی بھی مخلص لیڈر نے ایسی جرات کرنے کی کوشش نہیں کی۔ گزشتہ ایک دہائی سے البتہ  سیاستدانوں نے انقلاب کا بازار گرم کر رکھا ہے۔ آجکل اکثر انقلاب خود لائے یا بلوائے جاتے ہیں، اقتدار حاصل کرنے یا حاصل کیا ہوا اقتدار بچانے کیلئے۔
پاکستان ایک کریٹو ملک واقع ہوا ہے، یہاں آکر تو اسلام میں بھی بدعتیں ہونے لگیں بیچارا انقلاب کس شمار میں، سو ہم اور ہمارے “سیاسی انقلاب کے خواہاں لیڈروں” نے انقلاب میں بہت جدت پسندی لائے ہیں، پاکستان میں مندرجہ ذیل قسموں کے انقلاب لائے جاتے ہیں، خیال رہے کہ کوالٹی کنٹرول تقاضوں کے پیشِ نظر تمام تر انقلاب دساور سے لاکر لوکلائز کیئے جاتے ہیں “میڈ ان پاکستان” انقلاب ابھی تک بنا نہیں۔ دورِ جدید میں ہر انقلاب فیس بک، میڈیا، کرائے کے انقلابیوں اور بھاڑے کے دانشوروں کا مرہونِ منت ہے۔ انکے بغیر انقلاب لانا بالکل ویسی ہے جیسے ناڑا ڈالے بغیر شلوار پہننا۔
پراکسی انقلاب – پراکسی انقلاب ایک ایسا طریقہ انقلاب ہے جسکے ذریعے آپ گھر بیٹھے کسی دوسرے ملک میں انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔ اس میں خرچہ تھوڑا زیادہ آتا ہے اور اتنا دیرپا نہیں ہوتا جیسے مصر، لیبیا وغیرہ میں آیا تھا۔ اس انقلاب میں ٹیکنالوجی اور انٹیلیجنس ایجنسیوں کا کافی دخل ہوتا ہے۔
بوری بند انقلاب – یہ انقلاب تحریکِ نامعلوم افراد نے متعارف کروایا۔ اس کی روح سے جو بھی شخص “تحریک” کے تشخص کیلئے خطرہ سمجھا جائے، سماجی معاشی یا لسانی بنیادوں پر، اسے بوری میں بند کرکے سپردِ سڑک کردیا جاتا ہے۔
میوزیکل انقلاب – یہ طریقہء انقلاب 2011 میں متعارف کروایا گیا اور آج تک کافی مانگ ہے اسکی۔ علاوہ دیگرے یہاں ملک کے نوجوانوں کو مفت تفریح کے مواقع مہیا کیئے جاتے ہیں جس میں کنسرٹ اور آئی کینڈی گیم سرِ فہرست ہیں۔ یہ حصولِ اقتدار کیلئے مجرب نسخہ تصور کیا جاتا ہے۔ اسکا آغاز تلاوت سے اور اختتام گانے پر ہوتا ہے۔ مزید یہ کہ باتیں ٭٭٭٭٭ کے ماہر ہوتے ہیں۔ فیس بک پر چھائے ہوئے ہیں۔ انکا موٹو صاف ہے، جیت گئے تو کیا کہنا، ہارے تو دھاندلی کا شور۔ حسن نثار کے پیرو ہیں تھوڑے بدتمیز ہیں مگر بچے ہیں۔
خاموش انقلاب – یہ طریقہ انقلاب میوزیکل انقلاب کو کاؤنٹر کرنے کیلئے دو مختلف مکتبہ فکر نے اختیار کیا۔ اسکے تحت “وچوں وچوں کھائی جاؤ، اتوں اتوں رولا پائی جاؤ” کا اصول کارفرما ہوتا ہے۔ یہ انقلاب صرف الیکشنوں کے ذریعے آتا ہے اور اکثر فوج کے آنے پر ہی رخصت ہوتا ہے۔
خودکش انقلاب – یہ طریقہ انقلاب ٹی ٹی پی اور ذیلی شاخوں نے متعارف کروایا۔ اسکے تحت جو بات نہ مانے، اچھا نہ لگے یا “ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق” وغیرہ جیسے کاموں کیلئے مخالف کو بمب سے اڑا دیا جاتا ہے۔ یہ اپنی طرز کا واحد انقلاب ہے جو اسلامی نظام کیلئے ہے اور انکے حملے بھی مساجد پر ہوتے ہیں، سینما ڈسکو نائٹ کلبز وغیرہ کو نہیں کچھ کہتے۔ اس طریقہ انقلاب کا صرف ایک فائدہ یہی ہے کہ آبادی کم ہوتی جاتی ہے۔
کنٹینری انقلاب – یہ انقلاب گزشتہ برس ہی بلادِ کینیڈا سے امپورٹ کیا گیا ہے۔ یہ سب سے لیٹسٹ طریقہ انقلاب ہے اور اوپر بیان کیئے گئے تمام تر انقلابوں کی خوصیات برجہ اتم موجود ہیں۔ مثلاً عوامی انقلاب عوام کے پیسوں سے، غریب عوام کی مفت تفریح۔ یہ انقلاب ہانڈی کا ابال ہوتا ہے جیسے کالین بیچنے والے پٹھان 50000 سے شروع ہوکر 2500 میں فائنل کردیتے ہیں ویسی اس طریقہ انقلاب میں کومپرمائز کی بے پناہ گنجائش ہوتی ہے جو منالو مان جاتے ہیں۔ یہ انقلاب تھوڑا بدتمیز ضرور ہوتا ہے اسکی وجہ شاید یہ بھی ہو کہ بیرونِ ملک سے آیا ہے اور یہاں کے طور طریقوں رواجوں موسم وغیرہ سے مانوس نہیں زیادہ۔ اسلامی تڑکے سے لیکر فتوے اور ڈانس سے لیکر آؤٹنگ تک کی تمام سہولیات اس طریقہ انقلاب میں موجود ہیں۔ جیسے برسات میں سیلاب آتا ہے ویسی آجکل ملکِ خدادا میں کنٹینری انقلاب آیا ہوا ہے۔ اسکے آتے ہی بہت سے برساتی ڈڈو بھی نکل آتے ہیں۔ اللہ سے دعا ہے کہ ہمیں ایسے انقلاب سے محفوظ فرمائے۔
اقوام ہر قسم کے حالات میں سے گزرتی ہیں اور پنپتی ہیں ہم بفضلِ خدا اس اصول سے مستثنیٰ ہیں۔ ہم بحیثیتِ قوم تماش بین تھے اور ہیں، ایسے ہی رہیں گے یا نہیں یہ تو وقت ہی بتائے گا۔ 71 میں ملک دولخت ہورہا تھا مگر ہم تماش بینی میں مصروف رہے، سیاست بچانے کے چکر میں ریاست بھینٹ چڑھا دی۔ بیان بازی الزام تراشی۔ سیاستدان تو ایک طرف سونے پہ سہاگہ ہماری قوم کے دانشور۔ انکی سیان پتی ہمیں لے ڈوبی۔ قادری صاحب کی ہی مثال لے لیں سب جانتے ہیں فراڈیئے ہیں پچھلے سال بھی آئے اور سال بھر کا راشن اکٹھا کرکے نکل گئے، یقیناً اس بار بھی ایسا ہی کریں گے، مگر ہم پھر بھی انکو میڈیا پر فل کوریج دے رہے اور ہمارے لیڈر و نام نہاد دانشور بغضِ معاویہ میں انکو گلے لگائے پھرتے ہیں۔
ملک میں لیٹریسی ریٹ آٹے میں نمک کے برابر ہے، کبھی کسی نے ضرورت ہی محسوس نہیں کی، شعور نہیں ادراک نہیں اور رہی سہی کسر ان شعبدہ بازوں نے پوری کردی۔ جس ملک کے عوام انقلاب کیلئے قادری اور دانشوری کیلئے حسن نثار کے مرہونِ منت ہوں اس قوم کا اللہ ہی حافظ ہے وہاں ہر موسم کیساتھ نئے انقلاب کا آجانا کوئی اچھنبے کی بات نہیں۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers