ترکستان کے مجاہدین وزیرستان میں جسکا سودا وقار‬ نے چین سے کیا ہے- نه جانے یه بات بهت کم لوگوں کو کیوں معلوم هے، چین کا صوبه سنکیانگ ایک اسلامی ملک تھا، "کاشغر" اس کا دارلخلافه هوا کرتا تھا، ١٩ویں صدی کے اواخر میں یه رشیا اور چین (جو که آزاد هوا چاهتا تھا) کے تسلط میں چلا گیا. اس کا نام "مشرقی ترکستان" یعنی East Turkestan تھا، جو که بعد میں چینی قبضے کے بعد سنکیانگ هوگیا، اسلامی شناخت مٹانے کیلئے دارلخلافه کاشغر کا نام "کاشی Kashi" کردیا گیا، مشرقی ترکستان کی تقریبا تمام آبادی اب بھی مسلمان هے، ماضی میں اس کا جھنڈا نیلے رنگ کا اور کلمه لکھا هوتا تھا. بقیه چین جیسی یهاں کوئی ڈیویلمنٹ نهیں ( سمجھ لیں چین کا فاٹا هے). اس صوبے میں حکومت اور عوام کے بڑے بڑے تصادم هوۓ هیں جس میں مسلمان عوام کی بڑی تعداد شهید هوئی، سوشل میڈیا پر پابندی هے. دو تین سال پهلے (یا غالبا اور زیاده پهلے) یهاں تصادم هوۓ اور شهادتیں بھی هوئیں میڈیا میں خبر آنے کے بعد میں نے سوشل میڈیا اور انٹرنیٹ پر یهاں کے مسلمانوں کو تلاش کیا. شدید سوشل میڈیا پر بین کے باوجود ایک سرپھرے کا بلاگ ملا جس نے چین کے مظالم بیان کئےتھے، چینی زبان کو گوگل ٹرانسلیٹ پر ڈال کر تھوڑی معلومات ملی، رابطه کرنا چاها مگر اس سے پھر رابطه نهیں هوسکا.
اس وقت ضروری هے که مشرقی ترکستان (سنکیانگ) جو که مسلمان مقبوضه علاقه هے اس کیلئے بھی کشمیر، فلسطین، برما کے مظالم کی طرز پر میڈیا اور سوشل میڈیا پر کمپین چلائی جائے تاکه زیاده سے زیاده مسلمان اس طرف متوجه هوں اور یه مسئله بین الاقوامی سطح پر سامنے آسکے.
جزاک الله
ایک هوں مسلم حرم کی پاسبانی کیلئے
نیل کے ساحل سے لے کر تابه خاک کاشغر
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers