913ءمیں عبدالرحمان سوم سپین کا سلطان تھا۔ زہد و تقویٰ اور عدل و انصاف کا شیدائی تھا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ ایک کا نام الحکم اور دوسرے کا عبداللہ تھا۔ عبدالرحمان سوم بڑھاپے کی عمر کو پہنچا تو اس نے دونوں بیٹوں میں سے الحکم کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ عبداللہ کی فطری خود سری نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور تخت و تاج کی ہوس نے اسے باﺅلا اور اندھاکر دیا۔ ایک روز وہ گھر سے غائب ہوگیا۔ عبدالدار جو کہ اپنے وقت کے مفتی تھے کے کچھ لوگ معتقد بھی تھے۔ اس نے ان میں سے چند آدمی ساتھ لے لیے                 تفصیل سے پڑھئے
اور اس نے کسی عیسائی قبیلے تک بھی رسائی حاصل کر لی۔ انہیں عبدالدار اور عبداللہ نے بغاوت پر آمادہ کر لیا وہ لوگ اس لیے فوراً آمادہ ہو گئے کہ بادشاہ کا اپنا بیٹا بغاوت میں شریک تھا۔ ایک طرف تو بغاوت شروع کر دی گئی۔ باغیوں نے قرطبہ کے گردونواح میںفوجی چوکیوں پر چھاپے مارے۔ دوسری طرف عبدالرحمان سوم اور الحکم کے قتل کی سکیم بنائی گئی۔ یہ کام ان مسلمانوں کو سونپا گیا جو عبدالدار کے معتقد تھے۔ وہ قتل کیلئے چل پڑے لیکن دن کے وقت عبدالرحمان سوم کے دربار میں جا پہنچے۔ ان میں سے ایک نے عبدالرحمان سوم سے کہا”فرمانروائے ہسپانیہ کا اقبال بلند ہو“.... ” ہم آپ کو اور آپ کے بیٹے ولی عہد الحکم کو قتل کرنے آئے ہیں۔“ دربار پر سناٹا طاری ہوگیا۔ عبدالرحمان سوم دور اندیش انسان تھا۔ وہ سمجھ گیا کہ یہ اس سازش کی ایک کڑی معلوم ہوتی ہے جو سپین کے کسی نہ کسی گوشے سے سر اٹھاتی رہتی ہے اور یہ لوگ کوئی راز فاش کرنے آئے ہیں۔ عبدالرحمن سوم نے پوچھا”تمہیں ہمارے اور ہمارے بیٹے کے قتل کیلئے کس نے بھیجا ہے؟“ اور کیا سبب ہے کہ تم نے بھرے دربار میں آکر ہمیں للکارا ہے؟ اس شخص نے جواب دیا.... ”ہمیں آپ کے بیٹے عبداللہ اور عبدالدار نے بھیجا ہے“ اور ہم نے فرمانروائے ہسپانیہ کو للکارنے کی جرات نہیں کی۔ ہم عبدالدار کو ایک عالم سمجھتے تھے جس کے فتوے مستند ہوتے تھے۔ یہی باعث تھا کہ ہم اس کے معتقد تھے‘ مگر اس نے ہم پر ثابت کر دیا ہے کہ علم اور ایمان کا آپس میں کوئی رشتہ نہیں ہوتا۔ جو علم ایک عادل بادشاہ کو قتل کرنے کی اجازت دے‘ اس سے ہم بے علم اچھے۔ ہم نے آپ کے بیٹے عبداللہ اور عبدالدار سے کہا کہ ہم آپ کو قتل کر آئیں گے لیکن ہم نے دل سے اس اقدام کو مانا نہیں۔ ہم کسی انعام کے لالچ میں مخبری نہیں کررہے۔ ہم اسلام کی عظمت کی خاطر یہ راز فاش کررہے ہیں کہ قرطبہ کے گردونواح میں سلطنت کے خلاف بغاوت شروع ہو چکی ہے اور یہ بغاوت اس تخت کیلئے ہے جس پر آپ بیٹھے ہیں۔ بغاوت ابھی شروع ہی ہوئی تھی۔ باغیوں کی نفری ابھی کم تھی۔ فوج نے انہیں بے خبری میں جا لیا۔ باغیوں نے ہتھیار ڈال دیئے۔ عبداللہ اور عبدالدار پکڑے گئے۔ عبدالرحمن نے دونوں کو قید خانے کے الگ الگ کمروں میں بند کرنے کا اور ان کے جرم کی تحقیقات کا حکم دیا۔ عبدالدار نے قید خانے میں پہلی رات ہی خودکشی کرلی۔ عبداللہ کے خلاف بغاوت اور فوج کے متعدد افراد کے قتل کا جرم ثابت ہو گیا۔ قاضی نے اس کیلئے سزائے موت لکھ دی۔ عبدالرحمن نے اپنے بیٹے کی سزائے موت پر اپنی مہر ثبت کر دی۔ عبداللہ کے چھوٹے بھائی الحکم نے اپنے باپ سے التجا کی کہ وہ آخر آپ کا بیٹا اور میرا بھائی ہے‘ اسے بخش دیا جائے۔ عبدالرحمن سوم نے کہا ،کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ میں اپنے نادان بیٹے کو جلاد کے حوالے کرکے خوش رہوں گا؟“کل جب جلاد کی تلوار اس کا سر اس کے دھڑ سے جدا کر دے گی تو میرا دل کٹ جائے گا‘لیکن اگر میں نے اسے زندہ رہنے دیا تو یہ سلطنت کٹ کر ختم ہو جائے گی۔ عبداللہ کے مرنے پر صرف میں روﺅں گا‘ تم روﺅ گے‘ تمہاری ماں اور تمہاری بہنیں روئیں گی لیکن اگر وہ زندہ رہا تو اسلام کی تاریخ روئے گی۔“ ”اگر میں اسے بخش دوں تو میرے مرنے کے بعد تم دونوں کے درمیان یہ مسند،وجہ پیکار بنی رہے گی۔ تم دونوں کی توجہ ملک اور قوم سے ہٹ جائے گی۔ تم ایک دوسرے کے تختے اُلٹو گے۔ زبردستی ایک دوسرے سے بادشاہی چھینو گے۔ ایسی قومیں ہو گزری ہیں جنہیں چند ایک آدمیوں کی ہوسِ تاج و تخت نے تباہ کیا ہے۔ سزا صرف ان لوگوں کو نہیں ملتی جو حکومت کے لالچی ہوتے ہیں، پوری قوم تباہ ہوتی ہے۔ ان ہوس کاروں کے باہم تصادم میں دشمن بھی درپردہ شامل ہو جاتا ہے اور وہ جلتی پر تیل ڈالتا ہے، ہم کفار میں گھرے ہوئے ہیں۔ پورا عالم اسلام کفار میں گھرا ہوا ہے۔ ”اور پھر الحکم! یہی جرم جو عبداللہ نے کیا ہے‘ کوئی اور کرتا تو اسے فوراً جلاد کے حوالے کر دیا جاتا۔ تو کہتا ہے کہ میں تیرے بھائی کا یہ گناہ معاف کر دوں۔ کیا تو اپنے خاندان کی تاریخ میں یہ ذلت شامل کرنا چاہتا ہے کہ اس خاندان کے ایک بادشاہ نے اپنے بیٹے کو بغاوت کے جرم میں معاف کر دیا تھا؟.... میں ملک اور قوم کی خاطر اپنے بیٹے کو قربان کرتا ہوں۔“ دوسری صبح عبداللہ کو جلاد کے حوالے کر دیا گیا۔ یہ 949ءکا واقعہ ہے۔ یہ اس عبدالرحمان سوم کا فیصلہ تھا جو سپین کا فرمانروا‘ سلطان اور بادشاہ تھا لیکن یہ عبدالرحمان سوم باپ بھی تھا۔ اُس کے بیٹے کا سر جلاد نے تن سے جدا کر دیا تھا۔ اسے اتنا دکھ تھا کہ سلطنت کے کاموں کے سوا خاموش اور اداس رہتا۔ اسے غم نڈھال کرتا گیا۔ گیارہ سال بعد وہ غم سے اتنا نحیف ہو گیا کہ اس نے سلطنت اپنے بیٹے الحکم کے حوالے کر دی اور گوشہ نشین ہوگیا۔ ایک سال بعد 961ءمیں وہ خالقِ حقیقی سے جاملا۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers