گاؤں میں تراویح بھی ایک تفریحی پروگرام ھوتا ھے !
بڑے بوڑھوں کی الگ تفریح چل رھی ھوتی ھے اور بچے الگ خر مستیاں کر رھے ھوتے ھیں !
جس دن تراویح میں سجدہ تلاوت آ جاتا ھے ،، بس اس دن تو کمال ھو جاتا ھے !
بوڑھے سجدہ تلاوت کرنے کے بعد رکعتوں کا حساب بھول جاتے ھیں اور سمجھتے ھیں تین رکعتیں پڑھ دی ھیں ،،
اب جونہی سلام پھیرا تو ایک سائڈ سے نمبر دار کی آواز آئے گی ،
اوئے ایہہ کتنیاں پڑھا چھوڑیاں نے ؟ ( یہ کتنی رکعتیں پڑھا دی ھیں )- تفصیل سے پڑھئے

میں نے تو دو ھی پڑھائی ھیں ! مولوی صاحب پسینہ صاف کر کے بولے !
اوئے سجدے کر کر کے لک ترُٹ گیا تے ھالیں دو ای ھویاں نے ؟
سجدے کر کر کے کمر ٹوٹ گئ اور آپ کی دو ھی ھوئی ھیں ؟
اب ووٹ آف کانفیڈنس ھو گا !
ھاں بھئ فروزا تو اپنے دین اور ایمان سے بتا کہ کتنی رکعتیں ھوئی ھیں ؟
فیروز گاؤں کا چوکیدار تھا جو نئے پیدا ھونے والے بچوں کے نام یونین کونسل کے ریکارڈ میں رجسٹرڈ کراتا تھا ؛؛
اب مولوی صاحب کی ٹمپریچر کی سوئی اٹھنا شروع ھوتی ھے !
نماز میں پڑھا رھا ھوں فیروز کو کیا پتہ کتنی رکعتیں ھوئی ھیں ؟
کیوں پتہ نہیں جناب ،بچے ھماری بیویاں پیدا کرتی ھیں ، فیروز نے ایک بچہ بھی نہیں جنا مگر سب بچوں کی تاریخ پیدائش اس کو یاد ھے ؟ ایک کونے سے ملک صاحب نے دلیلِ قاطع دے دی !
اب فیروز نے بیچ کی راہ نکالی کہ سجدوں کے حساب سے تو لگتا ھے تین ھوئی ھیں ،مگر میری تجویز یہ ھے کہ دوبارہ پڑھا دیں ، الغرض پندرہ منٹ بحث مباحثے میں لگا دیں گے ،،
ادھر بچوں نے اپنا کام ڈالا ھوا ھوتا ھے ،،
نقلی نیت کر کے کھڑے ھو جاتے ھیں جونہی دوسرا بچہ اصلی نیت کرتا ھے ، کھجور کا کانٹے والا پتہ لے کر اسے زور سے چبھو کر بڑے خلوص سے اللہ اکبر کہہ کر جماعت میں شامل ھو جائیں گے ،، ساتھ والا بچہ بھی رکوع میں تسبیح پڑھنے کی بجائے اسے دھمکی دے رھا ھوتا ھے کہ آج باھر نکل میں تمہیں پتر بناتا ھوں ،،سمع اللہ لمن حمدہ ،،
میرا کزن جسے موتی مسجد پنڈی داخل کرایا تھا ،، کوئی چار پانچ پارے حفظ کر کے واپس آ گیا تھا ،،مگر ظاھر یہی کیا تھا کہ پورا قرآن حفظ کر لیا ھے !
تراویح میں گھوم پھر کے وھی پانچ پارے پڑھ رھا تھا ،، جب دس بارہ دن گزر گئے تو بڑے بوڑھوں کو تشویش ھوئی کہنے لگے کہ ۔۔ اوئے کاکا ! یارا تراویح میں سجدے بھی ھوا کرتے تھے آدھی تراویاں گزر گئ ھیں سجدہ کوئی نئیں آیا ؟
ُاس دن میرے کزن نے کوئی پانچ سجدے کرا دیئے ! پھر منہ پیچھے کر کے کہنے لگا "بس بہوں نے یا ھور وی کڈھا چھوڑاں ؟ بہت ھیں یا اور بھی نکلوا دوں ؟ اصل میں ، میں نے تو سوچا تھا کہ جس دن چھوٹا سپارہ ھوا تو سارے سجدے ایک ھی دفعہ کڈھا دونگا مگر آپ لوگوں کو جلدی پڑی ھوئی ھے !
پوری جماعت نے اتفاقِ رائے سے تسلیم کیا کہ بس بہت ھو گیا اب اگلا ھفتہ ریسٹ دے دو ،کمر درد کرنے لگ گئ ھے !
اپنے حافظ صاحب ذرا موٹے ھو گئے تھے ، سجدے سے اٹھ کر کھڑے ھوئے تو ان کی قمیص لیٹر بکس میں پھنس گئ ،، پیچھے ایک مسکین سا اور با ادب میرپوریا کھڑا تھا ،، وہ حافظ صاحب کا احترام والد کی طرح کرتا تھا اور خدمت بھی ٹوٹ کر کرتا تھا ! پتہ نئیں اس سے حافظ صاحب کی تکلیف برداشت نہ ھوئی یا اسے وہ اس حالت میں اچھے نہ لگے ،، اس نے ھاتھ آگے کر کے پھنسی ھوئی قمیص کھینچ کر باھر نکال دی ،، اب حافظ صاحب کی ٹون تبدیل ھو گئ ، صاف لگ رھا تھا کہ وہ غصے میں آ گئے ھیں ، ان کی سانس پھول گئ تھی ،، مسکین بے چارہ ڈر گیا اور اس ڈر ڈر میں اس سے ایک اور حماقت سر زد ھو گئی ،، اس نے دو بارہ کھڑی ہتھیلی کا وار کر کے قمیص پھر وھیں پھنسا دی ! ساری پہلی صف پریشان ھو گئ کہ اب کیا ھو گا ،، حافظ صاحب نے جونہی سلام پھیرا بلکہ سلام پھینکا ،، اور پیچھے کی طرف مڑے تو مسکین کو دیکھ کر ٹھٹھک گئے ،، وہ اس کے خلوص اور پیار سے واقف تھے ، وہ بےبسی سے رونا شروع ھو گئے ، اگر کوئی اور ھوتا تو شاید وہ اس سے بھڑ جاتے مگر مسکین کا غصہ وہ اپنی جان پر نکال رھے تھے ،، ادھر مسکین بھی رونے لگ گیا اور بار بار پوچھتا کہ آپ کو غصہ قمیص نکالنے پر ھے یا دوبارہ ڈالنے پر ؟
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers