آتا ہے یاد مجھ کو گزرا ہوا زمانہ
وہ لڑکیوں کی رونق، وہ میرا چہچہانا
آزادیاں کہاں اب وہ اپنے گھر کی جانا
اپنی خوشی سے آنا، اپنی خوشی سے جانا
لگتی ہے چوٹ دِل پر آتا ہے یاد جس دم
بستی کی لڑکیوں میں وہ اپنا آنا جانا
اِک پیاری پیاری صورت، اِک کامنی سی مورت
آباد جن کے دم سے تھا میرا وہ زمانہ
آتی نہیں صدائیں جن کی مرے قفس میں
ہوتی جو میری بیوی اے کاش میرے بس میں
بستی کی رونقیں ہیں ، میں قید میں پڑا ہوں
کیا بد نصیب ہوں میں اُن کو ترس رہا ہوں
بیوی کا خوف دِل میں لے کر میں جی رہا ہوں
کیا بدنصیب ہوں میں آنسو ہی پی رہا ہوں
بستی جو یوں چھٹی ہے ، کچھ ایسا ہوگیا ہے
روٹی پکا رہا ہوں ہانڈی جلا رہا ہوں
بستی کی لڑکیوں میں بدنام ہورہا ہوں
پچھلی محبتوں میں ناکام ہورہا ہوں
آئی تھی جوہی اِک دِن بس دیکھنے تماشا
بیوی نے میری اُس کو کچھ اِس طرح سے ڈانٹا
وہ سب حسین یادیں جیسے کہ ڈر گئی ہیں
میرے شکستہ دِل کو ویران کرگئی ہیں
شادی ہوئی ہے جب سے یہ حال ہوگیا ہے
بیوی کی ڈانٹ سن کر غم دِل کو کھارہا ہے
گانا اِسے سمجھ کر خوش ہوں نہ سننے والے
مظلوم شوہروں کی فریاد یہ صداہے
جانے دے مجھ کو باہر ، او قید کرنے والی!
سمجھوں گا لڑکیوں کی تو نےہے یوں دُعالی
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers