اصطلاحی اعتبار سینعت حضورِ اکرم ﷺ کی منظوم تعریف و توصیف کو کہتے ہیں۔ حضوراکرم ﷺ کی تعریف و توصیف سب سے پہلے کرنے والا خود خدائے برتر ہے۔قرآن کے صفحات حضوراکرم ﷺ کی مدحت و تعریف سے مالا مال ہیں۔
’’اور ہم نے تم کو جہانوں کے لئے رحمت بنا کر بھیجا ہے۔‘‘ (.......سورۂ انبیا)
’’آپ فرما دیجئے اگر تم اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری اتباع کرو۔ خدا تم سے محبت کرنے لگے گااور تمہارے سب گناہوں کو معاف کردے گا۔کیونکہ اللہ معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔‘‘ (.......سورۂ آلِ عمران)
’’اور ہم نے تمہارے لئے ذکرکوبلند کیا۔‘‘ (.......سورۂ الم نشرح)
’’ اور ہم نے تمہیں انسانوں کے لئے نبی بنا کر بھیجا ہے اور اللہ اس پر گواہ ہے۔ (......سورۂ النساء)
اتنا ہی نہیں،واضح طور پر ہدایت دی گئی:-                   تفصیل سے پڑھئے

’’بے شک اللہ اور اس کے فرشتے نبی ﷺ پر درود بھیجتے ہیں۔ اے مومنو، تم بھی ان پر درود اور سلام بھیجو۔ ‘‘
جب خدائے برتر جو ہر تعریف کا اکیلا مستحق ہے خود نبی اکرم ﷺ کی تعریف کرے اور مومنوں سے تعریف کرنے کو کہے تو اس فعل کے مقدس اور با برکت ہونے میں کسی شک کی کوئی گنجائش ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حضور ﷺ کے نبوی زندگی کے ابتدائی دور میں ہی صحابۂ کرام میں سے انہوں نے جنہیں خدا نے صلاحیت عطا فرمائی تھی، حضور ﷺ کے حضور میں منظوم قصیدے لکھے۔سب سے پہلے نعتیہ قصیدہ میمون بن قیسؓ کا ہے۔ ان کے علاوہ حضرت حسان بن ثابت، عبداللہ بن رواحؓ، کعب بن مالکؓ، ضرار بن ازورؓ، اور زیدؓ نے بھی نعتیہ اشعار کہے۔اہلِ بیت میں نعتیہ شاعری کرنے والوں میں حضرت علیؓ، حضرت حمزہؓ،اورحضرت فاطمۃ الزہرہؓ کے نام سرِ فہرست ہیں۔ اپنے ان بزرگوں کی تقلید میں تقریباً تمام عربی شعرأ نے ضرور نعتیہ اشعار لکھے۔ عربی کا شعری ذخیرہ نعتیہ کلام کا خزانہ سموئے ہوئے ہے۔
جب اسلام کی روشنی ایران کی سرزمین پر پہنچی تو فارسی شعرأ نے بھی بڑھ چڑھ کر اس بابرکت عمل میں حصہ لیا۔اور نعت گوئی کے فن کو درجۂ کمال تک پہنچادیا۔جامیؔ ، سعدیؔ ،رومیؔ ، سنائیؔ ، عطارؔ ، شمس تبریزؔ ،نظامیؔ ، قدسیؔ ، عرشیؔ ، عرفیؔ اور امیرخسروکی نعتیں نعتیہ شاعری کے کمال کی آئینہ دار ہیں۔ سعدیؒ کاقطعہ:
بلغ العلیٰ بکمالہٖ کشف الدجیٰ بجمالہٖ
حسنت جمیع خصالہٖ صلو علیہِِ وآلہٖ
یا حضرتِ جامی ؒ کے یہ اشعار ؂
یا صاحب الجمال و یا سیّدالبشر
من وجہک المنیرلقد نیّرالقمر
لا یمکن الثناء کما کان حقہٗ
بعد از خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
آج بھی دینی محفلوں میں لوگ جھوم جھوم کر پڑھتے ہیں۔
عرفی نامِ محمد ﷺ کی عظمت کچھ یوں بیان کتے ہیں ۔
ہزار بار بشویم دہن ز مشک و گلاب
ہنوز نامِ تو گفتن کمالِ بے ادبیست
(ہزار بار مشک اور گلاب سے وضوٗ کرلوں، تب بھی تیرا نام لینا بڑی بے ادبی ہے)
عرشی شہر مدینہ کی رفعت کا ذکر یوں فرماتے ہیں: ؂
ادب گاہیست زیرِ آسماں از عرشِ نازک تر
نفس گم کردہ می آید جنید و بایزید ایں جا
(آسمان کے نیچے یہ مقام عرش کی نزاکت سے زیادہ ادب کی جگہ ہے، جنیدؔ و بایزید بھی یہاں ہوش کھو بیٹھتے ہیں)
مرزا غالب جیسے حریفِ ئے مردافگنِ عشق جو خدا کے حضور اپنی شوخی کے لئے مشہور ہیں۔ جب دربارِ نبی کے تصور کو پہنچتے ہیں تو زبان لکنت زدہ ہوجاتی ہے اور حضورؐ کی تعریف کا کام اپنی کم مایگی کے تحت خدا کے سپرد کردیتے ہیں: ؂
غالبؔ ثنائے خواجہ بہ یزداں گزاشتیم
کاں ذاتِ پاک مرتبہ دانِ محمدؐاست
اردو زبان جب گھٹنیوں کے بل چل رہی تھی اور توتلی بولی میں باتیں کر رہی تھی تو اسی دور میں اس نے نعت گوئی کی ابتدا کردی تھی۔شمالی ہند میں اردو کے پہلے صاحبِ دیوان شاعرولی ؔ دکنی کے محبت اورعقیدت سے لبریز یہ اشعار ملاحظہ فرمائیں : ؂
آرزوئے چشمۂ کوثر نہیں
تشنہ لب ہوں شربتِ دیدار کا
کیا کرے تعریف دل ،ہے بے نظیر
حرف حرف اس مخزنِ اسرار کا
بعد کے شعرأ میں شاید ہی کوئی ایسا ہوگا جس نے دو چار نعتیں نہ کہی ہوں ۔ جن شاعروں نے اپنی نعتیہ شاعری سے لوگوں سے خراجِ تحسین حاصل کیا ان میں رفیع سوداؔ ، خواجہ میر دردؔ ، نظیر ؔ اکبرآبادی، امیر مینائی، محسنؔ کاکوروی، احمد رضا خان بریلوی، حسرت موہانی، شادؔ عظیم آبادی، علامہ اقبال وغیرہ اہم ہیں۔ علامہ اقبالؔ کے کچھ نعتیہ اشعار پیش کرنا چاہوں گا۔ علامہ اقبال نے اپنی شوکتِ الفاظ اور بلند یِ فکر سے نعت کو جمال کے ساتھ جلال بھی بخش دیا: ؂
وہ دانائے سبل ، مولائے کُل، ختمِ رسل جس نے
غبارِ راہ کو بخشا فروغِ وادیِ سینا
نگاہِ عشق ومستی میں وہی اول وہی آخر
وہی قرآں وہی فرقاں وہی یٰسیں وہی طہٰ
یا یہ اشعار: ؂
شوکتِ سنجر وسلیم تیرے جلال کی نمود
فقرِ جنید و بایزید تیرا جمالِ بے نقاب
شوق اکر ترا نہ ہو میری نماز کا امام
میرا قیام بھی حجاب میرے سجود بھی حجاب
گزشتہ نصف صدی یا ماقبل کے دوران جن شعرائے کرام نے نعتیہ شاعری میں خراجِ تحسین حاصل کیا ہے ان میں جمیل مظہری، حفیظ جالندھری، ماہرالقادری، ظفرعلی خاں، حمید صدیقی، بیکل اتساہی، شکیل بدایونی،عمیق حنفی، مظفروارثی، واجد سحری، قمر سنبھلی، کوثر نیازی، شاعر لکھنوی،بے دم وارثی، رفعت سروش، وغیرہ کے نام گنائے جاسکتے ہیں۔ اس عرصہ میں نعت گوئی کے فن میں بڑے عمدہ تجربات کئے گئے ہیں۔ مظفرؔ وارثی کے یہ اشعار نئے لہجے کی بہترین نمائندگی کرتے ہیں ؛ ؂
جاتا ہوا وقار ملا ان کے نام پر
سر سے گری تو ہاتھ پہ دستار رک گئی
جب ذہن سب بلندیاں تسخیر کر چکا
غارِ حراپہ رفعتِ افکار رک گئی
عشقِ نبی نے مجھ کو مظفر بچالیا
جو مجھ میں گر رہی تھی وہ دیوار رک گئی
اس معاملے میں اپنی ہیچمدانی کا اعتراف کرتے ہوئے ذاتی تجربہ دہرانے میں قباحت اور شرمندگی محسوس نہیں کرتا کہ اکثر میں علامہ اقبالؔ کے ایک شعر کو جسارت سے تعبیر کرتا تھا:
در دشتِ جنونِ من جبریل زبوں صیدے
یزداں بہ کمند آور اے ہمت ہمت مردانہ
لیکن اس شعر کا راز مجھ پراس وقت واضح ہوا، جب جبل نور کی بلندی پر غار حرا کا دیدار نصیب ہوا۔وہیں اس شعر کی اہمیت بھی سمجھ میں آئی۔
نعت گوئی کا کینوس بظاہر بہت چھوٹا نظرآتا ہے۔ بعض بزرگوں نے تو نعت گوئی کو چاول کے دانے پر قُل ھواللہ احد۔۔۔۔الخ (سورۃ اخلاص) لکھنے سے تعبیر کیا ہے۔حضوراکرمؐ کی تریسٹھ سالہ دنیاوی زندگی کے واقعات وسوانح سے ہی شاعر کو اپنی شاعری کے لئے رنگ و روغن حاصل کرنا پڑتا ہے۔ اب اسے حضوراکرم ﷺ کی حیاتِ طیبہ کا معجزہ نہیں تو اور کیا کہا جائے گا کہ چودہ سو برسوں سے شعرائے کرام مسلسل نعت گوئی فرمارہے ہیں ، اورنہ کہنے والے کی سیری ہوتی ہے نہ سننے والا سیر ہوتا ہے۔ اصل میں اگر شاعر کے دل میں عشقِ رسو ل ﷺ کا جذبہ موجزن ہو تو یہ کینوس بہت وسیع و عریض نظر آنے لگتا ہے۔اور حضوراکرم ﷺ کی تریسٹھ سالہ دنیاوی زندگی ہزاروں صدیوں پر محیط نظر آنے لگتی ہے۔
ایک اور معجزاتی حقیقت یہ بھی ہے کہ انسانی تواریخ میں اور کوئی دوسرا نام دور دور تک نظر نہیں آتا جس کے سوانح حیات اس قدر معتبر اور مفصل طور پر تواریخ کے صفحوں پر سیرتِ پاک کے طور پر محفوظ ہوں۔ احادیث نبوی کے نام پر آپ کی کہی ہوئی ایک ایک بات ،ایک ایک واقعہ کی تفصیل موجود ہے۔ شاعر کے سامنے مضامینِ نو کا ایک انبار آ کھڑا ہوتا ہے۔عشقِ رسول اس کے آہنگ اور لہجہ میں ایک انوکھا پن پیدا کردیتا ہے۔قرآنِ کریم میں اللہ تعالیٰ نے اپنے اور اپنے رسولؐ کے رتبہ کے درمیان ایک خط فاصل قائم کردیا ہے اور اس کو ’قاب قوسینِ اوادنی‘ کے لطیف اشارے سے واضح کیا ہے۔ مولانا جامیؒ نے اس خط فاصل کو یوں بیان فرمایا ہے۔
؂ بعدا خدا بزرگ توئی قصہ مختصر
جذبات کی رو میں اکثر نعت گو رسولؐ کی محبت کے جوش میں اس خط سیمیں کا خیال نہیں رکھ پاتے اور اپنے ایمان کے لئے خطرہ مہیا کرلیتے ہیں۔اس بات کو زیادہ آسانی سے سمجھنے کے لئے کلمۂ شہادت کا سہارا لیا جاسکتا ہے جس میں اول تو یہ کہا گیا ہے کہ’ میں گواہی دیتا ہوں کہ نہیں ہے کوئی معبود سوائے اللہ کے،‘ اور پھر یہ بھی کہاگیا ہے کہ’ اور یہ بھی گواہی دیتا ہوں کہ محمّد ؐ ان کے(اللہ کے) بندہ اور ان کے(اللہ سبحانہٗ تعالیٰ کے) رسول ہیں۔‘اسی حد سے آگے بڑھنا دراصل ایمان کو خطرے میں ڈالنا ہے۔ علامہ اقبالؔ نے اس بات کو بڑی خوبصورتی کے ساتھ یوں ادا کیا ہے کہ روح الامین جبرئیل علیہ السلام بھی لاہوت کے آخری مقام پر پہنچ کر حضورِ اکرم ؐسے یہ کہہ کرآگے جانے سے معذوری ظاہر کرتے ہیں اور حضور اکرم ؐمعراج میں اکیلے آگے تشریف لے جاتے ہیں: ؂ اگر یک سرِ موئے برتر پرم
فروغِ تجلیٰ بسوزد پرم
کہ اس سے آگے اگر وہ ایک بال کی نوک کے برابر بھی قدم بڑھاتے ہیں تو تجلی کے فروغ سے ان کے بال و پر جل جائیں گے۔
اس پوری گفتگو سے یہ اندازہ ہو گیا ہوگا کہ نعتِ پاک کا اصل موضوع رسولِ اکرم محمّدؐ مصطفےٰ کی تعریف بیان کرنا ہے نہ کہ کچھ اور۔ کچھ مبتدی اور جوشیلے نعت گو نعت جیسی مقدس صنف میں مناظرانہ نونک جھونک اور مسلکی نعرہ بازی شامل کر دیتے ہیں جس سے نعت کا تقدّس مجروح ہو سکتا ہے۔ انہیں میرا پرخلوص اور مفید مشورہ ہے کہ وہ ایسا کرنے سے گریز کریں تو بہتر ہے۔
خدائے برتر نے قرآن میں جب بھی حضور ﷺ کو مخاطب کیا ہے یا ان کا ذکر کیا ہے تو محمّد ﷺ کہہ کر نہیں بلکہ اسمائے صفات ہی استعمال کیا ہے۔ ( قرآن میں صرف چار بار محمد اور ایک بار احمد کا نام آیا ہے) کبھی مزمل، کبھی مدثر، کبھی بشیر تو کبھی نذیر ، طہٰ یایٰسین کہا گیا ہے۔ اللہ اپنے بندوں کو یہ بتانا چاہتے ہیں کہ وہ بھی اپنی تقریر یا تحریر میں اسم محمّدؐ کے استعمال میں احتیاط برتیں۔ یوں بھی ہم اپنے کسی بزرگ کو ان کے نام لے کر مخاطب نہیں کرتے اور اسے بے ادبی سمجھتے ہیں۔ ایک سچا مومن بھلا یہ کیسے گوارہ کرسکتا ہے کہ وہ حضورِ پاکؐکو بے باکی سے نام لے کر مخاطب کرے۔ جب بھی رسول پاک ﷺکا نام آتا ہے تو ہم دل کی گہرائی سے درود شریف بھی پڑھتے ہیں۔ عرفی ؔ نے کیا خوب کہا ہے:
؂ ہزار بار بشویم دہن بہ مشک و گلاب
ہنوز نام تو گفتن کمالِ بے ادبیست
یعنی اگر ہزار بار بھی اپنا منہ مشک اور گلاب سے دھولوں پھر بھی آپ کا نام لینا بے ادبی کی انتہا ہوگی۔ نعت پڑھتے وقت بھی ادب اور احترام کا پاس رکھنا چاہئے۔ عشقِ رسولؐ کے جذبات کو پیش کرنے کے لئے کچھ نعت گو حضرات ترنم کا بھی سہارا لیتے ہیں۔ایسا کرتے وقت کیا یہ اچھا نہ ہوگا کہ وہ اس فن کی سنجیدگی کا بھی دھیان رکھیں اور سوچیں کہ آج کل کچھ لوگ جو سستی سوقی اور فلمی طرزوں کا استعمال کرتے ہیں ،کہیں وہ اس پاک صنعت کی پیش کش میں تکریم و تحریم کی سطح سے نیچے تو نہیں آرہے ہیں۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers