اب ھم آتے ھے ابراھیم علیہ سلام کی طرف لیکن بتاتا چلو کہ ابراھیم علیہ سلام کے واقعے کے ساتھ کچھ اور انبیاء کا زکر بھی وابسطہ ھے۔ جیسے لوط علیہ سلام کیونکہ یہ ابراھیم علیہ سلام کے بھتیجے بھی ھے اور پیروکار بھی۔ اسی طرح آپکے صاحبزادوں اسماعیل اور اسحاق علیہ سلام کا زکر بھی ساتھ ساتھ چلتا ھے۔ وجہ یہ ھے کہ سیدنا اسماعیل علیہ سلام کے پیدایش کے وقت ابراھیم علیہ سلام کی عمر ستاسی سال تھی، اور سیدنا اسحاق علیہ سلام کی پیدایئش کے وقت ابراھیم علیہ سلام کی عمر 100 سال تھی۔ اور سیدنا ابراھیم علیہ سلام کی کل عمر 175 سال تھی۔ اس وجہ سے ابراھیم علیہ سلام کے قصے کے ساتھ ان انبیاء کا ذکر بھی آتا ھے،حیر آتے ھے اپنے واقعے کی طرف۔  تفصیل سے پڑھئے
صالح علیہ سلام کے بعد اللہ نے ابراھیم علیہ سلام کو پیغمبر بنایا، ابراھیم علیہ سلام جد انبیا ھے۔ آپکے والاد کا نام "طارح " تھا جبکہ اسکا لقب آزر تھا۔ آزر مدد کرنے والے کو کہتے ھے۔ یہ اپنے قبیلے کی ھر طرح کی مدد کرتا تھا جس کی وجہ سے آزر کے نام سے مشہور تھا۔ قرآن نے ابراھیم علیہ سلام کا قصہ 73 مقامات پر زکر ھوا ھے۔ یہ 73 مقامات 25 سورتوں میں ھے۔ ابراھیم علیہ سلام بھی ثام بن نوح کے حاندان سے ھے۔آپکی پیدایش عراق کے مشہور شہر بابل میں ھوی جو آج بھی موجود ھے، یہاں بت پرستی عام تھی اللہ فرماتا ھے ۔۔۔
وَقَالَ إِنَّمَا اتَّخَذْتُم مِّن دُونِ اللَّهِ أَوْثَانًا مَّوَدَّةَ بَيْنِكُمْ فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا
اور ابراہیم نے کہا کہ تم جو خدا کو چھوڑ کر بتوں کو لے بیٹھے ہو تو دنیا کی زندگی میں باہم دوستی کے لئے معبود بنالیا ھے،

ابراھیم علیہ سلام نے باپ اور سب شہر والوں کو کہا کہ یہ مورتیاں آحر ھے کیا،،،،؟
انھوں نے جواب دیا کہ ھمارے باپ داد کو ھم نے انکی ھی عبادت کرتے پایا ھے،
قَالُوا وَجَدْنَا آبَاءَنَا لَهَا عَابِدِينَ،،، وہ کہنے لگے کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی پرستش کرتے دیکھا ہے

اللہ انکے بارے میں فرماتے ھے، "اے نبی انکو ابراھیم علیہ سلام کا قصہ سنا دو جب انھوں نے اپنی قوم سے کہا کہ تم کس کی عبادت کرتے ھوں ، انھوں نے کہا بتوں کی۔
ابراھیم علیہ سلام نے کہا جب تم انکو پکارتے ھوں تو کیا یہ تم کو جواب دیتے ھے، انھوں نے کہا یہ ھم کچھ نھی جانتے صرف یہ کہ ھم نے اپنے باپ داد کو انکی ھی عبادت کرتے پایا ھے۔، اللہ نے ابراھیم علیہ سلام کی حصوصی رھنمای فرمای تھی جیسا کہ اللہ فرماتا ھے،
وَلَقَدْ آتَيْنَا إِبْرَاهِيمَ رُشْدَهُ مِن قَبْلُ وَكُنَّا بِهِ عَالِمِينَ
اور ہم نے ابراہیمؑ کو پہلے ہی سے ہدایت دی تھی اور ہم ان کے حال سے واقف تھے

ابراھیم علیہ سلام نے کھبی بتوں کی پوجھا نھی کی تھی۔ آپ نے اپنی قوم کو بتوں کی پوجا سے ملامت کی۔ ایک اللہ کی طرف دعوت دی۔ اور اس دعوت کا آغاز انھوں نے اپنے والد سے کی کہ آپ میری اطاعت کریں میں آپکو سیدھا راستہ دکھاونگا، شیطان کی عبادت نہ کریں۔ اور وہ انسان کا کھلا دشمن ھے۔

ابراھیم علیہ سلام کے والد نے کہا کیا تو میرے حداؤں سے پھیرا ھوا ھے، البتہ اگر تو باز نہ آیا تو میں تم کو سنگسار کردونگا، اور تو مجھ سے ایک مدت کے لیے دور ھوجا اور مجھے نظر نہ آ۔۔۔۔

ابراھیم علیہ سلام نے کہا اے میرے باپ آپ پر سلامتی ھوں میں اپنے رب سے آپکے لیے بحشش کی دعا کرتا رھونگا۔ لیکن جب انکو پتہ چلا کہ وہ تو اللہ کا دشمن ھے تو ابراھیم علیہ سلام اپنے باپ سے لاتعلق ھوگیے۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ھے
وَمَا كَانَ اسْتِغْفَارُ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ إِلَّا عَن مَّوْعِدَةٍ وَعَدَهَا إِيَّاهُ فَلَمَّا تَبَيَّنَ لَهُ أَنَّهُ عَدُوٌّ لِّلَّهِ تَبَرَّأَ مِنْهُ إِنَّ إِبْرَاهِيمَ لَأَوَّاهٌ حَلِيمٌ
اور ابراہیم کا اپنے باپ کے لیے بخشش مانگنا تو ایک وعدے کا سبب تھا جو وہ اس سے کر چکے تھے۔ لیکن جب ان کو معلوم ہوگیا کہ وہ خدا کا دشمن ہے تو اس سے بیزار ہوگئے۔ کچھ شک نہیں کہ ابراہیم بڑے نرم دل اور متحمل تھے

کسی ایماندار کے لیے جایز نھی کہ وہ کسی کافر کے لیے رحمت اور بحشش کی دعا کریں۔ بلکہ یہ حرام کر دیا گیا ھے۔

والد کے سحت جواب کے بعد ابراھیم علیہ سلام اپنے باپ سے مستسنا ھوگیے اور اپنے باپ کوکہا کہ میں تم کو چھوڑتا ھوں اور تیرے معبودوں کو بھی چھوڑتا ھوں۔ اور دل میں سوچا کہ پہلے مجھے ان بتوں کا علاج کرنا چاھیے، ایسا کرتا ھوں پہلے انکی ترتیب لگاتا ھوں بعد میں دوسروں کو دیکھتا ھوں۔ آپ نے یہ دھمکی اپنی قوم کو بھی دی تھی۔۔ جیسا کہ اللہ فرماتا ھے۔
وَتَاللَّهِ لَأَكِيدَنَّ أَصْنَامَكُم بَعْدَ أَن تُوَلُّوا مُدْبِرِينَ
اور خدا کی قسم جب تم پیٹھ پھیر کر چلے جاؤ گے تو میں تمہارے بتوں کا علاج کرونگا،

یہ بات آپ نے کسی سے پوشیدہ نھی اعلانیہ کہی تھی۔ آحر انتظار کا وقت حتم ھوا۔ عید کا دن آگیا۔ عید کے دن وہ لوگ کھانا پکا کر بتوں کے سامنے رکھتے اور گاوں سے باھر جاتے اور باھر گھومتے اور حوشی مناتے۔ ناز سے چلتے پھرتے اور کھانے کھاتے۔۔۔شام کو گھروں کی طرف آتے اور وہ کھانا جو بتوں کے سامنے رکھتے اسکو اٹھا کر مبارک سمجھ کر کھاتے۔ اپنے معمول کے مطابق انھوں نے صبح تیاری کی لیکن ابراھیم علیہ سلام تیار نھی ھوے ۔ وہ آپ کے پاس آے اور کہا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کیا آپ ھمارے ساتھ نھی جاوگے۔۔۔۔
ابراھیم علیہ سلام نے آسمان کی طرف نگاہ کی اور فرمایا " میں بیمار ھوں"

وہ لوگ آپ کو چھوڑ کر چلے گیے۔ بعد میں ابراھیم علیہ سلام ان بتوں کے پاس چلے گیے
دیکھا ان کے سامنے کھانا پڑا ھے لیکن ان جھوٹوں حداؤں نے اس کھانا تو دور ٹچ نھی نھی کیا تھا۔ ابراھیم علیہ سلام نے کہا
یہ اتنا کھانا تمھارے سامنے پڑا ھے اسکو کھاتے کیوں نھی۔ تمھیں کیا ھوا ھے کہ بات بھی نھی کرتے۔ پھر پوری قوت سے کلہاڑی مار کر تمام بتوں کو چور چور کردیا۔اور بڑے بت کو چھوڑ دیا۔ تمام چھوٹے بتوں کو تھوڑ کر ایک بڑے بت کو چھوڑا۔ اور کلہاڑا اس بڑے بت کے کندھے پر رکھ دیا،

مشرکین جب موج مستی سے لوٹے۔ تو بتوں کو ٹکڑے دیکھا، وہ حیران تھے کہ یہ کام کس نے کیا۔ ان کے سب حداؤں کو کس نے تھوڑا کہنے لگے یہ کام کس ظالم کا ھے۔ ان میں کچھ نے کہا کہ وہ نوجوان جس کا نام ابراھیم ھے اسکو ھم نے اپنی بتوں کی توھین کرتے سنا ھے۔ اسلیے ابراھیم علیہ سلام کو بھلا لیا گیا اور کہا

اے ابراھیم ۔۔۔! ھمارے بتوں کو تم نے تھوڑا ھے؟؟
ابراھیم علیہ سلام نے کہا۔۔۔ یہ کام تو اس بڑے بت کا لگتا ھے اس سے کیوں نھی پوچھتے۔؟ مجھ سے کیوں پوچھتے ھوں۔۔؟

ابراھیم علیہ سلام کا جواب سن کر انھوں نے کہا کہ ھم نے بڑی علطی کی ھے کہ اپنے حداؤں کی حفاظت کے لیے کسی کو چھوڑا ھی نھی
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers