جس نے اپنی محنت و ذہانت سے پاکستان کے سب سے بڑے شہر کی کایا پلٹ ڈالی * یہ 1873ء کی بات ہے،لندن میں جنم لینے والے ایک انجینئر،جیمز سٹریچن کو بلدیہ کراچی کا سیکرٹری(یا منتظم)مقرر کیا گیا۔تب شہریوں کے وہم و گمان میں نہیں تھاکہ یہ گورا کراچی کی تعمیر وترقی میں اتنی زبردست سرگرمی دکھائے گا کہ سب حیران رہ جائیں گے۔ حقیقتاً یہ جیمز سٹریچن جیسے مٹھی بھر انگریز افسر ہی ہیں جو ہندوستان پہنچ کر دیگر افسروں کے مانند لوٹ مار میں شریک نہیں ہوئے ،بلکہ ہندوستانیوں کی بہتری کی خاطر کئی کام کر گئے۔جیمز صاحب ہی کو لیجیے جنھوں نے اپنے کاموں سے کراچی کے پسماندہ نگر کو ایک جدید ساحلی شہر میں بدل ڈالا۔ 1873ء میں کراچی کی آبادی تقریباً اسّی ہزار پہنچ چکی تھی۔شہر میں تجارت پیشہ مسلمان، ہندو، یورپی، پارسی،یہودی اور ایرانی آباد تھے۔تاہم شہر میں بنیادی سہولتوں کا فقدان تھا۔ جیمز سٹریچن نے عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے شہر میں اسپتالوں اور تعلیمی اداروں کے ڈیزائن تیار کیے اور انھیں تعمیر بھی کرایا۔پھر مارکیٹیں بنوائیں اور جا بجا باغ بھی لگوائے۔پھر ڈینسو ہال کے نام سے ایک لائبریری بنوائی۔آپ کی ڈیزائن کردہ عمارات میں ڈائو میڈیکل کالج، سندھ مدرسہ اسلام،ایمپریس مارکیٹ اور میری ویدر ٹاور نمایاں ہیں۔ وہ پھر ٹرانسپورٹ کے مسائل کی طرف متوجہ ہوئے۔انھوں نے شہر میں ٹرام چلانے کا منصوبہ بنایا۔پٹڑی بچھانے کا کام 1881ء سے شروع ہوا۔1885ء سے ٹرام چلنے لگی اور 1975ء تک اہل کراچی کو سفری سہولت فراہم کرتی رہی۔ سفر کی آسانی مہیا کرنے کے بعد جیمز صاحب نے اہل کراچی کو بذریعہ پائپ پینے کا صاف پانی مہیا کیا۔ورنہ پہلے شہری کنوئوں کا پانی پیتے تھے ،یا پھر تالابوں کا جہاں بارش کی بوندیں جمع کر لی جاتی تھیں۔ جیمز سٹریچن نے گھر گھر پائپوں کے ذریعے پانی پہنچانے کا منصوبہ تیار کر بمبئی حکومت کے سامنے پیش کیا۔(تب سندھ اور کراچی بمبئی حکومت کا حصہ تھے)۔چونکہ اس پہ لاگت زیادہ آ رہی تھی،سو حکومت نے مسترد کر دیا۔ تب سیکرٹری بلدیہ نے اپنی حکومت کو دھمکی دی کہ اگر منصوبہ منظور نہیں ہوا ،تو وہ فوجی و سرکاری گاڑیوں پہ ٹیکس بڑھا دیں گے اور اسی قسم کے دیگر اقدام بھی کریں گے۔یوں وہ منصوبہ انجام دینے کی خاطر رقم اکٹھی کرنا چاہتے تھے۔حکومت نے آخر منصوبہ پاس کر دیا۔ منصوبے کے مطابق دریائے ملیر کے اطراف کنوئیں کھودے گئے۔1883ء سے ان کا پانی براہ پائپ سیدھا شہریوں کے گھر تک پہنچنے لگا۔ تب کراچی کی اسّی ہزار آبادی کو فی کس ’’45‘‘گیلن پانی میسّر تھا۔اس کے بعد اہل کراچی کو اتنا وافر پانی کبھی دستیاب نہیں ہو سکا۔ اس انقلابی منصوبے کی تکمیل کے بعد جیمز صاحب نے شہر میں سیوریج نظام بھی بچھایا۔پھر مختلف ’’238‘‘ مقامات پہ عوامی نلکے لگوائے۔ موزوں جگہ فوارے بھی نصب ہوئے۔یہ جیمز سٹریچن ہی ہیں جھنوں نے باشندگان کراچی کو بجلی اور ٹیلی فون کی سہولتیں دینے کے منصوبے بنائے۔گو وہ اواخر انیسویں صدی میں ان کے واپس لندن جانے کے بعد پایہِ تکمیل کو پہنچے۔ غرض کراچی اور اس کے باسیوں پہ جیمز صاحب کے بڑے احسانات ہیں۔افسوس کہ شہر کی بیشتر نئی نسل ان کے نام و کام سے بالکل ناواقف ہے۔ بلدیہ کراچی کو یہ توفیق تک نہیں ہوئی کہ کوئی معروف شاہراہ اس گورے افسر کے نام سے معنون کر دیتی جو کئی دیسی افسروں سے زیادہ قابل،محنتی اور انسان دوست ثابت ہوا۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ کراچی کے قلب، علاقہ صدر میں ایک سڑک جیمز سٹریچن کے نام سے موسوم ہے۔مگر قیام پاکستان کے بعد اس کام دین محمد وفائی روڈ رکھ دیا گیا۔یہ اقدام غلط تھا یا صحیح،اس سے قطع نظر بے غرض جیمز صاحب نے کراچی کی تعمیر و ترقی میں جو بے مثال کردار ادا کیا،اسے کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers