نام و نسب
--------
سالم نام ، ابو عبداللہ کنیت ، والد کے نام میں اختلاف ہے ۔ بعض عبید بن ربیعہ اوربعض مغفل لکھتے ہیں ۔ یہ ایرانی الاصل ہیں ۔ حضرت ثبیتہ بنت یعار انصاریہ رضی اللہ عنہا کی غلامی میں مدینہ پہنچے ، انہوں نے آزاد کردیا تو حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے ان کو اپنا متبنیٰ بنالیا ۔ اس لحاظ سے ان میں انصار و مہاجرین دونوں کی حیثیتیں مجتمع ہیں ۔
وہ عموماً سالم بن حذیفہ رضی اللہ عنہما کے نام سے مشہور تھے ۔ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ بھی ان کو اپنے لڑکے کی طرح سمجھتے تھے اور ان کی شادی اپنی بھتیجی فاطمہ بنت ولید سے کردی لیکن جب قرآن میں یہ آیت نازل ہوئی :
لوگوں کو اپنے نسبی آباء کے انتساب سے پکارا کرو تو حضرت سالم رضی اللہ عنہ بھی ابن کے بجائے مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہ کے لقب سے مشہور ہوئے ۔                 تفصیل سے پڑھئے

-----------
اسلام و ہجرت
-----------
حضرت سالم رضی اللہ عنہ مکہ میں موجود تھے جب اسلام کی دعوت کی صدا بلند ہوئی تو انہوں نے ابتداء ہی میں اسلام قبول کرلیا ۔ آنحضرت ﷺ نے حضرت ابوعبیدہ بن الجراح رضی اللہ عنہ سے مواخات کرادی ۔
ہجرت کے موقع پر حضرت ابو حذیفہ رضی اللہ عنہ کے ہمراہ تھے ۔ مدینہ پہنچ کر حضرت عباد بن بشر رضی اللہ عنہ کے مہمان ہوئے اور حضرت معاذ انصاری رضی اللہ عنہ سے مواخات ہوئی ۔
-----
غزوات
-----
غزوۂ بدر ، اُحد ، خندق اور عہدِ نبوی ﷺ کی تمام جنگوں میں موجود رہے ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے دور میں یمامہ کی مہم پر بھیجے گئے ۔ مہاجرین کا علم ان کے ہاتھ میں تھا ۔ ایک شخص نے اس پر نکتہ چینی کی اور کہا : ہم کو تمہاری طرف سے اندیشہ ہے ۔ اسلئے ہم کسی دوسرے کو علمبردار بنائیں گے ۔ بولے : اگر میں بزدلی دکھاؤں تو میں سب سے زیادہ بدبخت حاملِ قرآن ہوں ۔ یہ کہہ کر نہایت جوش کیساتھ حملہ آور ہوئے اور درحقیقت انہوں نے اپنے آپ کو بہترین حاملِ قرآن ثابت کیا ۔ جنگ کے دوران ان کا داہنا ہاتھ قلم ہوا تو بائیں ہاتھ سے علم کو تھام لیا جب بایاں ہاتھ بھی شہید ہوگیا تو دونوں بازوؤں سے حلقہ بنا کر علم کو سینہ سے چمٹا لیا ۔
------
شہادت
------
زخموں سے چُور ہوکر گرے تو پوچھا : ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ نے کیا کیا ؟ لوگوں نے کہا : شہید ہوئے ۔ بولے : اس شخص نے کیا کیا جس نے مجھ سے اندیشہ ظاہر کیا تھا ؟ جواب دیا گیا کہ وہ بھی شہید ہوئے ۔ فرمایا : مجھے ان دونوں کے درمیان دفن کرنا ۔
جنگ یمامہ میں پر جب مسلمانوں کے پاؤں پیچھے پڑنے لگے تو حضرت سالم رضی اللہ عنہ نے کہا افسوس ! نبی پاک ﷺ کیساتھ تو ہمارا یہ حال نہ تھا ۔ انہوں نے ایک گڑھا کھودا اور اس میں کھڑے ہوگئے اور علم سنبھالے ہوئے آخری لمحات تک بہادری سے لڑتے رہے ۔ جنگ کے خاتمہ پر دیکھا تو سالم رضی اللہ عنہ کا سر اپنے منہ بولے باپ حضرت ابوحذیفہ رضی اللہ عنہ کے پاؤں پر تھا ۔
---------
فضل و کمال
---------
حضرت سالم رضی اللہ عنہ ان بزرگوں میں تھے جو طبقہ صحابہ رضی اللہ عنہم میں فنِ قرأت کے امام سمجھے جاتے تھے ۔ آنحضرت ﷺ فرمایا کرتے تھے کہ قرآن کی تعلیم چار آدمیوں سے حاصل کرو :
عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ
سالم مولی ابی حذیفہ رضی اللہ عنہما
ابی بن کعب رضی اللہ عنہ
اور معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ سے ۔
اللہ پاک نے خوش گلو اسقدر بنایا تھا کہ جب آیاتِ قرآنی تلاوت فرماتے تو لوگوں پر ایک محویت طاری ہوجاتی اور راہ گیر ٹھٹک کر سننے لگتے ۔ ایک دفعہ ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہونے میں دیر ہوئی ۔ آپ ﷺ نے توقف کیوجہ پوچھی تو بولیں کہ ایک قاری تلاوت کررہا تھا ، اسکے سننے میں دیر ہوگئی اورخوش الحانی کی اس قدر تعریف کی کہ آنحضرت ﷺ خود چادر سنبھالے ہوئے باہر تشریف لے آئے ۔ دیکھا تو سالم مولیٰ ابی حذیفہ رضی اللہ عنہما ہیں ۔ آپ ﷺ نے خوش ہوکر فرمایا : اللہ پاک کا شُکر ہے کہ اُس نے تمہارے جیسے شخص کو میری امت میں بنایا ۔
حضرت سالم رضی اللہ عنہ اپنی خوش الحانی و حفظِ قرآن کے باعث صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں نہایت عزت کی نظر سے دیکھے جاتے تھے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کی تشریف آوری سے پہلے جس قدر مہاجرین مدینہ پہنچے تھے ، حضرت سالم رضی اللہ عنہ مسجد قبا میں ان کی امامت کرتے تھے ۔
وہ مسجد قباء کے امام تھے ۔ مہاجرین اولین جن میں حضرت ابوبکر و حضرت عمر رضی اللہ عنہما بھی شامل تھے ، اکثر ان کے پیچھے نمازیں پڑھتے تھے ۔ غرض قرآنِ پاک کی برکت اور علم و فضل نے ان کو غیر معمولی عظمت وشرف کا مالک بنادیا تھا ۔
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ ان کی بہت تعریف کیا کرتے تھے ۔ جب عمر رضی اللہ عنہ کی شہادت کا وقت قریب آیا تو خلافت کیلئے موزوں لوگوں کو یاد کرتے ہوئے فرمایا : اگر سالم رضی اللہ عنہ یا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ موجود ہوتے تو میں اس مسئلہ کو مجلس شوریٰ میں پیش ہونے نہ دیتا ۔ یعنی وہ ان دونوں میں سے ایک کو اپنا جانشین بناتے ۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers