عورت ہندو مسلم سکھ عیسائی ہے یا مذہب کی قید سے آزاد سیکولر، وہ حوا کی بیٹی ہے۔ آئین و قانون رکھنے والوں کیلئے وہ اپنے خطے، مذہب، روایات اور تہذیب و تمدن کی آئینہ دار اورمعاشرے کی ہردم رواں گاڑی کا دوسرا لازمی پہیہ ہے۔ تاریخ کی کوئی کہانی اس کے کردار کے ذکر و حوالے کے بنا مکمل نہیں۔ قدیم رومن سلطنت اور مشرق و مغرب کی داستانِ تاج و تخت جوڈتھ و قلوپطرہ اور دنیائے اسلام کے قصائص خدیجہ و فاطمہ کے ذکر سے معتبر ہیں۔ اسلامی ریاست سے جڑی تاریخ کے روشن ابواب کہیں زبیدہ خاتون اور کہیں رضیہ سلطانہ و نورجہاں کی صورت میں عورت کی کہانی بیان کرتے ہیں۔ کہیں یہ سامراجی و مغربی غاصبین کے قبضوں، وسائل کی لوٹ مار، معا شی و معاشرتی استحصال کے خلاف تحریک کا حصہ نظر آتی ہے۔                              تفصیل سے پڑھئے
اورکہیں بھوک و افلاس، مہنگائی، روزگاری اورجنس کی بنیاد پرتفریق و تشدد کے خلاف حصولِ حقوق کیلئے جدو جہد کے مناظر میں نمایاں ہے۔ فلسطین کی لیلی خالد ،الجزائرمیں جمیلہ ،کردستانی س ±میرم اوربرما کی نیلسن منڈیلا کہلانے والی سان سوچی جیسی خواتین کی دیش بھگتی جدوجہد آج کی خواتین کیلئے مشعل راہ ہے۔ ان خواتین نے سامراجی دادا گیری،معاشی و سما جی ناانصافی اورسیاسی ظلم و استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کر کے ایک تاریخ رقم کی ہے۔ وہ امریکی سامراج ہو، مغرب ہو، مشرق بعید ہو یا خطہءعرب، آزادی کی تحریکوں، معاشی و سماجی اور سیاسی جبر و استحصال سے نجات کیلئے خواتین نے مرددوں کے شانہ بشانہ موت کو گلے لگایا ہے۔ تاریخ اسلام بھی خواتین کے عظیم کردار کی گواہ ہے کہ غزوات اورمابعد جنگوں میں خواتین مردوں کے ساتھ شانہ بشانہ شریک رہیں۔ مسلم خواتین نے تلواربھی تھامی ہے اور جنگ کے زخمیوں کی مرہم پٹی کے ساتھ شہیدوں کی میتیںبھی سنبھالی ہیں۔ جنگ طرابلس میں مجاہدین کواپنے مشکیزے پانی پلاتے ہوئے شہادت پانے والی بچی فاطمہ بنت عبدللہ اسلامی تاریخ کا وہ ناقابلِ فراموش وامر کردار ہے جس کی عظمت کی صدا حضرت اقبال کی بانگ درا بھی " فاطمہ تو آبروئے امتِ مرحوم ہے۔ ذرہ ذرہ تیری مشتِ خاک کا معصوم ہے" کی صورت دیتی ہے۔ لیکن آج زمانے کے ارتقا کے ساتھ ساتھ سیاسی عورت کا کردار بھی بدل رہا ہے ۔ آج ایسے عظیم سیرت نسوانی کردار بھی وجودِ ڈائنوسارس کی طرح قصہءقدیم بن چکے ہیں۔ اب منظر اور پس منظر پر جھانسی کی رانی یا محترمہ فاطمہ جناح نہیں ملالہ یوسف زئی جیسی شعبدہ بازیاںدکھائی ہیں۔آج نئی نسل نیٹ سرچ پر ملکہ زبیدہ اور رضیہ سلطانہ نہیں پریٹی زنٹا اورمیڈونا سمرکو ڈھونتی ہے۔ ہرخاص و عام کو شعلہ بدن حسنِ گلرنگ اور ایوانان اقتدار کو مسحور و مسخر کرنے والے جلوہءہوشربا سے “مسلح” ست رنگی شرمیلا فاروقی، حنا کھراورسسی پلیجو جیسی سیاسی مٹیاریں اوران کے عاشقانہ سکینڈل مطلوب ہیں۔ انہیں ماڈرن سیاسی خواتین میں ایک پاکستانی سیاہ ست کی مہان اداکارہ شرمیلا فاروقی بھی ہیں ۔ یہ پاکستان سٹیل ملز کے سابق چیئرمین اور کھاو ¿ پیو مکاو ¿ گروپ کے سرغنہ عثمان فاروقی کی صاحبزادی، مقتول بینظیر،، شہید،، کے بہیمانہ قتل سے لیکر زرداری کرپشن کنگز کی قوم فروشی کی رازدان، پی پی پی لوٹ مار پروگرام کے چیف ماسٹرمائنڈ سلمان فاروقی کی بھتیجی، سابق صدرزرداری کے جرائم کی شریک کار، رحمان ملک کی ملکہءحسن و شباب اور سندھ کے وڈیرہ گروپ کے میکدہءمستاں کی اہم رکن ہیں۔ یہ اسی جیالا فورس کی ڈائی ہارڈ مجاہدہ ہیں جو سپریم کورٹ کا تمسخراڑانے، رینٹل پاور پلانٹس کو جائز قرار دلو کر اربوں روپے کی کمیشن کھری کرنے کیلئے قوم کو لوڈ شیڈنگ کے عذاب میں مبتلا کر حکومت سے رخصت ہوئی تھی۔
تازہ خبر یہ ہے کہ محترمہ اس سال کے آخرمیں اپنے اصلی ساجن کے گھررخصت ہونے والی ہیں۔ خوش قسمت ہیں کہ بھاگتے ہوئے چوروں نے لنگوٹی کستے ہی اپنی شہزادی کے ہاتھوں پر مہندی اور سر پر ست رنگی دوپٹہ رکھنے کا بندوبست کر دیا تھا۔ جی ہاں وہی مقدس دوپٹہ ہے جو پہلے سیف الرحمن کے بیڈ روم کے افسانہءمحبت اور پھرعدالت کی داستان حقیقت کا مرکزی کردار رہنے کے بعد ایوان صدر سے لیکر وائٹ ہاو ¿س امریکہ کی خوابیدہ خلوتوں کی “رازداریوں” کا گواہِ خاص بھی ٹھہرا۔ دوپٹے کے ذکر سے یاد رہے کہ یہ وہی مظلوم حسینہ ہیں جہنوں نے عدالت کے کٹہرے میں باقائدہ حلفیہ بیان دیا تھا کہ سٹیل مل کے غبن کیس کی عدالتی تحقیقات کے دوران اس وقت کے وفاقی محتسب سیف الرحمن نے ان کے عزیزوں کی رہائی اورکیسز ختم کرنے کی سودے بازی میں انہیں جنسی طور پر بلیک میل کیا تھا۔ اس دوران انہوں نے سیف الرحمن صاحب پرمسلسل آبرو ریزی کرنے کا الزام لگاتے ہوئے، ثبوت کے طور پر اپنا پھٹا ہوا دوپٹہ اور “شہید لباسِ” بھی عدالت میں پیش کیا تھا۔ لیکن زرداری دور میں مفلس قوم کی اس خادمہ کا رو ¿سانہ انداز دلربائی یہ رہا کہ ستر لاکھ کی رولیکس ڈایمنڈ گھڑی، دو لاکھ کا بھارتی شاہکار سوٹ اور سات کروڑ روپے کا ہیروں کا ہار پہنے ایوان صدرمیں غیر ملکی مہمانوں کے درمیان یوں گھومتی تھیں کہ گویا ہر روز اپنے خوابوں کا نیا نکور شہزدہ شکار کرنے افلاک کے کوہ قاف سے اتری ہوں۔ کہتے ہیں کہ خدا جب حسن دیتا ہے، نزاکت آ ہی جاتی ہے۔ مگر یہ نزاکت، کن کن ایوانوں سے ہوتی ہوئی کہاں کہاں پہنچتی رہی ہے اس کے بارے پاکستانی خفیہ ایجنسیوں سے بہتر وائٹ ہاو ¿س واشنگٹن اور لندن کے وہ مقدس اہلکار جانتے ہیں جو اسی دوپٹے کی رنگینیوں سے بارہا فیض یاب ہو چکے ہیں۔افسوس کہ ان کو ان کا اصلی جیون ساتھی ہی نہیں، بھٹو صاحب کے سیاسی وارثین سے وفاو ¿ں کا ہر انعام بھی بہت دیر بعد ملا لیکن خیر دیر آید درست آید۔ انہیں بی بی شہید کی “شہادت” کا شکر گذار ہونا چاہیے کہ وہ شہادت ہی ” ان کے زرداری” کی صدارت، ایوان صدر کی خلوتوں تک رسائی اور مابعد اس دیومالائی حسن پر برسنے والی انگنت نوازشات کا سبب بھی بنی۔ یاد رہے کہ 12 مارچ 1998 کو چیئرمین سٹیل مل عثمان فاروقی گرفتار ہوئے تو ان کے ساتھ ان کی شریک جرم بیوی انیسہ فاروقی اور بیٹی شرمیلا فاروقی بھی گرفتارہوئیں تھی۔ اور جب اس حوالے سے ایف آئی اے کے لاک اپ سے لی گئی ایک تصویر تمام قومی اخبارات میں چھپی تو ملک بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں اور قومی لوٹ مار میں سیاسی بھتہ وصول کرنے والی ایک سیاسی جماعت نے آسمان سر پر اٹھا لیا تھا۔ عظیم صحافتی ڈان حسن نثار نے” ناچتی شرمیلا” اور” بلیک میلر شرمیلا ” کے نام سے کالم لکھ مارے تھے۔ اور پھر حسب معمول پاکستان کا عظیم تر سیاسی مفاہمت اور روائتی سیاسی بندربانٹ برانڈ وہی انصاف ہوا۔ جس کے نتیجے میں لٹا ہوا قومی خزانہ اور بھوکے ننگے عوام ہار گئے اورشرمیلا فاروقی اینڈ کمپنی جیسے سب عزت دار نوسر باز لوگ ” باعزت بری” ہو گئے۔ یہ شرمیلا جی اوران کے خاندان کی بھٹو خاندان سے والہانہ محبتوں اور وفاو ¿ں ہی کا صلہ تھا کہ ان کے باپ تایا، چاچا ماموں، بہن بھائی اورکزنز سمیت، وہ سب عزیز و اقارب زرداری حکومت میں اہم اور کلیدی عہدوں پر فائز رہے، جنہیں اعلی عدالتوں نے پاکستان سٹیل مل میں غبن اور دوسرے اہم اداروں کو لوٹنے کا مجرم قرار دیا تھا۔ زرداری صاحب کی فکر کم ہوئی کہ ان کے ولائتی بوتل برانڈ سندھ کارڈ گروپ کی “مقدس محبوبہ” کسی احتسابی ولیمے کی بجائے ناگہانی منگنی کا شکار ہو کر رسمی بینڈ باجے کے انتظارمیں ہیں۔ ان کی خوش قسمتی ہے کہ میاں صاحب نے عظیم تر بھائی چارے اور سیاسی مفاہمت کے نام پر زرداری کرپشن کنگز اینڈ کوئینز کی لوٹی ہوئی دولت واپس لانے کے انتخابی نعرے اور قومی وعدے پر عمل درامد کا ارادہ ترک کر دیا ہے۔ قوم کی بدقسمتی ہے کہ لاکھوں نہیں کروڑوں سفید پوش مہنگائی کے طوفانِ جاں شکن سے تنگ ہیں، لاکھوں مفلس و مزدور فاقوں سے بے حال اور لوڈ شیڈنگ سے بے روزگارہیں۔ اور دوسری طرف ملک و قوم کی دولت لوٹنے والے گروہ کی ایسی پھولن دیویاں وڈیرہ گروپ کی محفلوں میں ہوش ربا رقص کرتی نظر آتی ہیں۔ خوش آئیند ہے کہ “ان کے زرداری ” نے ان کیلئے دولہا بھی ایسا کرپشن پرنس تلاش کیا ہے کہ خوب لوٹیں گے جو مل بیٹھیں گے گھر والے دو۔ سنا ہے کہ ان کے مجازی خدا ہاشم ریاض شیخ، زرداری کرپشن گینگ کے مین گیم پلانر، سابق ایڈیشنل ڈی جی ایف آئی اے ریاض اے شیخ کے صاحبزادے ہیں۔ نیب کے قانونی ماہرین بھی اقرار کرتے ہیں کہ ریاض اے شیخ صاحب کرپشن کیسز اورثبوت مٹاوٹیکنالوجی کے شعبے میں رحمن ملک سے بہتر ایکسپرٹ ہیں۔ سو جیالے بھائی امید رکھیں کہ اب انہیں کوئی احتسابی یا سیف الرحمانی سانحہ درپیش نہ ہو گا۔ ہم دعا گو ہیں کہ اللہ ان کے ست رنگی دوپٹے کوعدالتی رسوائیوں اور سیف الرحمن جیسوں کے ہر شر سے سدا محفوظ رکھے۔ یاد رہے کہ جب حالیہ قحط سالی کا شکار معصوم بچے تھر کے صحراءکرب و بلا میں بھوک اور پیاس سے دم توڑ رہے تھے، تو سندھ دیس کی یہ شہزادی سندھ فیسٹیول شوز میں پی پی پی کے وڈیرے دوستوں اور بلاول زرداری بھٹو کے ساتھ محو رقص تھیں۔ لیکن کیا کیجئے کہ رقص زنجیر پہن کر بھی کیا جاتا ہے اور خاص طور پر اگر زنجیر غلامیءطلسمِ ہوش ربا کی ہو تو ایسے رقص پر قوم کے کروڑوں مفلس بھی قربان ہیں

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers