چاند ہمیں ہمیشہ سے اچھا لگتا ہے۔ چونکہ ہماری والدہ کسی حقیقی بھائی سے محروم ہیں، اس لیے انہوں نے بچپن سے ہی چاند کو ہمارا ماموں بنا دیا تھا۔ اُس دور میں ریڈیو پاکستان لاہور کے سٹوڈیو نمبر دو سے روزانہ شام کو بچوں کی کہانی اور نغمہ نشر ہوتا تھا، جس میں بچوں کا معروف نغمہ  "چندا ماما دور کے، بڑے پکائے بور کے" اکثر چلایا جاتا تھا، جسے ہم بچے بہت شوق سے سنتے تھے۔ مجھے یاد ہے کہ ہمارے گھر میں شام سات بجے سے پہلے بچوں میں مقابلہ ہوتا تھا کہ کون ریڈیو کو گود میں لے کے بیٹھے گا۔ ہمارے شاعروں نے چاند پر ایسی ایسی  شاعری  لکھ دی ہے کہ انہیں سن کر چاند خود بھی شرمائے۔ ابنِ انشاء نے چودھویں کی رات کے فسوں خیز ماحول کے پسِ منظر میں اپنی محبوب کا ایسا تذکرہ کیا ہے کہ وہ غزل اردو شاعری کی کلاسیکل غزلوں میں شمار ہوتی ہے۔                 تفصیل سے پڑھئے
کل چودھویں کی رات تھی، شب بھر رہا چرچا تیرا
کچھ نے کہا یہ چاند ہے، کچھ نے کہا چہرا تیرا
ہم بھی وہیں موجود تھے، ہم سے بھی سب پُوچھا کیے
ہم ہنس دیئے، ہم چُپ رہے، منظور تھا پردہ تیرا
اس شہر میں کِس سے مِلیں، ہم سے تو چُھوٹیں محفلیں
ہر شخص تیرا نام لے، ہر شخص دیوانہ تیرا
کُوچے کو تیرے چھوڑ کے جوگی ہی بن جائیں مگر
جنگل تیرے، پربت تیرے، بستی تیری، صحرا تیرا
تُو باوفا، تُو مہرباں، ہم اور تجھ سے بدگماں؟
ہم نے تو پوچھا تھا ذرا، یہ وصف کیوں ٹھہرا تیرا
بے شک اسی کا دوش ہے، کہتا نہیں خاموش ہے
تو آپ کر ایسی دوا، بیمار ہو اچھا تیرا
ہم اور رسمِ بندگی؟ آشفتگی؟ اُفتادگی؟
احسان ہے کیا کیا تیرا، اے حسنِ بے پروا تیرا
دو اشک جانے کِس لیے، پلکوں پہ آ کر ٹِک گئے
الطاف کی بارش تیری اکرام کا دریا تیرا
اے بے دریغ و بے اَماں، ہم نے کبھی کی ہے فغاں؟
ہم کو تِری وحشت سہی ، ہم کو سہی سودا تیرا
ہم پر یہ سختی کی نظر، ہم ہیں فقیرِ رہگُزر
رستہ کبھی روکا تیرا دامن کبھی تھاما تیرا
ہاں ہاں تیری صورت حسیں، لیکن تُو اتنا بھی نہیں
اس شخص کے اشعار سے شعر ہوا کیا کیا تیرا
بے درد، سُنتی ہو تو چل، کہتا ہے کیا اچھی غزل
عاشق تیرا، رُسوا تیرا، شاعر تیرا، اِنشا تیرا

وہ لطیفہ تو آپ نے یقیناً سن رکھا ہو گا جس میں ماں اپنے نوجوان بیٹے کو آواز دے کر بلاتی ہے۔ "بیٹا ! نیچے آجاؤ ! اتنی رات گئے تک چھت پر کیا کر رہے ہو؟" بیٹا جواب دیتا ہے "امی ! چاند دیکھ رہا ہوں۔ " سمجھ دار ماں جواباً کہتی ہے "بیٹا !بہت دیر ہوگئی ہے ۔تم بھی نیچے آجاؤ اور چاند سے بھی کہو اپنے گھر چلا جائے ۔"   چاند ہمارے ہاں محاورے میں اس قدر مستعمل ہے کہ ماؤں کو جب بھی اپنے بچوں پر لاڈ آتا ہے تو یہی کہتی ہیں کہ "ماں صدقے، میں تمہارے لیے چاند سے دلہن لاؤں گی۔"  بچے تو بیچارے معصوم ہوتے ہیں۔ انہیں کیا پتہ کہ وہی چاند سی بنو شادی کی کچھ ہی عرصہ بعد ہی ماؤں کو چڑیل لگنا شروع ہو جاتی ہیں۔ خیر خواتین کا رشک و حسد کا جزبہ آفاقی ہے۔ یہ ہمیشہ سے ہے اور ہمیشہ ہی رہے گا۔  

ہماری موسیقی بھی چاند سے اس قدر متاثر ہے کہ چاندنی راتوں کے لیے الگ راگ ہیں اور اماوس کے الگ راگ۔ چاندنی راتیں  جیسے سمندر میں جوار بھاٹے کا باعث بنتی ہیں اسی طرح جزبات کو بھی ابھارتی ہیں۔ جو کمی رہ جاتی ہے وہ موسیقی پورا کر دیتی ہے۔ اسی لیے تو اپنے محبوب سے بچھڑی سہاگن چاندنی راتوں کو رو رو کر گاتی ہے۔

چندا توری چاندنی میں، جیا جلا جائے رے!!
برہا کی ماری رین، بیتے نہیں، ہائے رے!!

ایک گانا جو ہمیں بھی بہت پسند ہے "انوکھا لاڈلا کھیلن کو مانگے چاند رے"۔ ویسےیہ گانا ہماری سیاست میں بھی استعمال ہوتا ہے۔ سیاست سے یاد آیا کہ چاند جہاں ہمارے لیے خوشیوں، محبت، لطافت اور حسن کا استعارہ ہے وہاں ہر سال چاند معاشرے میں فتور، تقسیم، انتشار اور افتراق کا بھی باعث بنتا ہے۔ اسی چاند کے جھگڑے کے بناء پر دو دو رمضان اوردو دو عیدیں منائی جاتی ہیں۔ تین تین عیدوں کا واقعہ بھی پیش آ چکا ہے۔ غیر مسلم اقوام کے لیے چاند کی بنیاد پر مسلمانوں میں تقسیم ایک لطیفے سے کم نہیں ہوتی۔ وہ اسے بھی مسلمانوں کی جہالت اور ہٹ دھرمی کا شاہکار سمجھ کر لطف اندوز ہوتے ہیں۔
نظامِ شمسی میں کئی ایسے سیارے ہیں جن کے گرد ایک سے زیادہ چاند گھومتے ہیں۔ کہنے کو تو زمین کا ایک ہی چاند ہے لیکن ہمارے علماء نے بغیر علمِ فلکیات کے زمین کے گرد تین تین چاند پیدا کر دیے ہیں۔ بجائے اس کے کہ وہ چاند زمین کے گرد گھومیں، پوری قوم کو ان چاندوں کے گرد گھما دیا جاتا ہے۔ انتشار سا انتشار ہے۔
لطیفہ یہ ہوتا ہے کہ ایک شخص لاہور سے اٹھائیس روزے رکھ کر پشاور جاتا ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ باقی روزے رکھے گا تو وہاں اسے پتہ چلتا ہے کہ روزے کی جگہ اسے عید منانی پڑے گی۔ وہی پریشان حال سوچتا ہی رہ جاتا ہے کہ اس کا رمضان پورا ہوا ہے کہ نہیں۔ یہ تو چلیں اس کو کچھ روزوں کی بچت ہو جاتی ہے۔ ایسی صورتحال بھی پیش آ جاتی ہے کہ پشاور سے ایک شخص تیس روزے رکھ کر عید منانے کے لیے لاہور آتا ہے تو اسے پتہ چلتا ہے کہ ہنوز دلی دور است۔ اس کو اب اکتیسواں روزہ بھی رکھنا پڑے گا۔ 

رویتِ ہلال کے حوالے سے ہمارے ہاں علماء کے دو مکاتبِ فکر پائے جاتے ہیں۔ ایک گروہ وہ ہے جو چاند کو آنکھوں سے دیکھ کر اسلامی کیلنڈر طے کرتا ہے۔ اسی کو سنت سمجھتا ہے کہ واضح احادیث اس ضمن میں موجود ہیں جس میں رویتِ ہلال کو شرط قرار دیا گیا ہے۔ دوسرا گروہ ہے جو سعودی کیلنڈر کے اتباع میں چلنے کو اولیٰ گردانتا ہے۔ دنیا کے بہت سے مسلم ممالک سعودی ہجری کیلنڈر کو ہی فالو کرتے ہیں۔ ہمارے علماء کا یہ گروہ بھی سعودی کیلنڈر کے مطابق رمضان اور عید کا اعلان کرتے ہیں۔

بد دیانتی صرف وہ اتنی سے کرتے ہیں کہ چاند کے حق میں جھوٹی شہادتیں پیدا کر دیتے ہیں۔ اس ضمن میں چند سال پہلے ایک لطیفہ تو یہ بھی ہوا کہ چاند ابھی پیدا ہی نہیں ہوا تھا لیکن ہمارے شمالی علاقے کے کسی گُل خان اور اس کے تمام بھائی بندوں کا چاند نظر بھی آ گیا تھا۔ ہماری رویتِ ہلال کمیٹی نے خلائی محکمے کی رصد گاہ کی گواہی کی بنیاد پر گُل خوانین کی گواہی کو غیر معتبر قرار دے دیا تھا۔

 زیادہ افسوس ناک صورتحال تب نظر آتی ہے جب مغربی ممالک میں موجود مسلمان چاند کے مسئلے پر تقسیم ہو کر مغربی اقوام کی تفریح کا سبب بنتے ہیں۔ کئی ممالک میں تین تین عیدیں بھی منائی جا چکی ہیں۔ سچ تو یہ ہے کہ اسلام سے اچھا دین کوئی نہیں ہے اور مسلمانوں سے بدتر قوم کوئی نہیں ہے۔ بے شمار لوگ مسلمانوں کے اعمال کو دیکھ کر ہی اسلام سے متنفر ہو جاتے ہیں۔ 

رویتِ ہلال کے ضمن میں دونوں مکاتبِ فکر کے درمیان نظریاتی اختلاف تو ہے ہی لیکن اس پر مستزاد سیاسی اور ذاتی اناؤں کا اختلاف بھی ہے۔ ان اختلافات کا نتیجہ یہ ہے کہ علماء نے قوم کو تقسیم کر کے رکھ دیا  ہے۔ علماء وہ ہستیاں ہیں جن سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ "اللہ کی رسی کو مضبوطی سے تھامے رکھو" والے حکمِ الہٰی کو قائم کرنے والے بنیں گے۔ لیکن ان کا عمل اس کے برعکس ہوتا ہے اور وہ قوم کو تقسیم کرنے والے بن جاتے ہیں۔ اللہ اور اس کے رسول کے حکم سے زیادہ انہیں اپنی انائیں عزیز ہیں۔ اگر ایسا نہیں ہے تو پھر ان کی وجہ سے یہ انتشار و افتراق کیوں ہے؟ کیا وہ قران کی اس آیت کو بھول گئے ہیں جس میں فتنہ و فساد کو قتل سے بھی بڑھ کر جرم قرار دیا گیا ہے؟

جہاں تک دلائل کا معاملہ ہے، دونوں گروہ دلائل سے مالا مال ہیں۔ دلائل کا انبار ہے کہ سنبھالے نہیں سنبھلتا ہے۔ ایک دلیل کے جواب میں دوسری دلیل ہے۔ نہیں ہے تو عقل و فہم نہیں ہے۔ سمجھ بوجھ نہیں ہے۔ قوم کو جوڑنے اور مضبوط کرنے کا داعیہ نہیں ہے۔ تدبر اور تفکر نہیں ہے۔ دعا ہے کہ اللہ انہیں جوڑنے والا بنائےنہ کہ توڑنے والا۔ 

پہلا مکتبہ فکر:
ایک گروہ یہ کہتا ہے۔ احادیث اور آثارِ صحابہ میں رویتِ ہلال کی شرط عائد کی گئی ہے لہٰذا اس سے روگردانی نہیں کی جا سکتی۔ ہر علاقے کے رہنے والوں کو رویتِ ہلال کرنی چاہیئے اور اسی کی بنیاد پر اسلامی کیلنڈر کا فیصلہ کرنا چاہیئے۔ بہرحال۔۔ شرعی طور پر یہ دلیل بہت مضبوط ہے کہ اس کو سپورٹ کرنے کے لیے احادیث اور آثارِ صحابہ موجود ہیں۔

دوسرا مکتبہ فکر:
اس کے برعکس دلیل یہ ہے کہ سعودیہ میں جب رویتِ ہلال ہو جائے تو پوری دنیا کے مسلمان اس کو اپنا لیں کہ حرم  تمام مسلمانوں کا مرکز اور قبلہ ہے۔ دور نبوی میں ایک جگہ کی اطلاعات دوسرے علاقوں میں کئی کئی ماہ بعد پہنچتی تھیں۔ اسی لیے اپنے اپنے علاقوں میں رویتِ ہلال کی شرط عائد کی گئی تھی۔  کسی دور دراز جنگل یا پہاڑ پہ رہنے والا قبیلہ خلیفہ کے اعلان کا انتظار نہیں کرتا تھا (جو کہ عملاً ممکن ہی نہیں تھا) بلکہ خود ہی چاند دیکھ کر اسلامی مہینوں کا حساب رکھ لیتا تھا اور اسی حساب سے اسلامی تہوار منا لیتا تھا۔ اب جبکہ سائینسی ترقی نے اطلاعات کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی اتنی آسان کر دی ہے کہ برازیل میں کھیلا جانے والا ورلڈ کپ کا فٹ بال میچ براہ راست پوری دنیا میں دیکھا جا رہا ہوتا ہے تو گویا اب وہ رکاوٹ باقی نہیں رہی۔ لہٰذا چاند کے معاملے سعودیہ میں ہونے والی رویت پر کفایت کرنی چاہیئے۔ مختلف ممالک کی سرحدیں تو ایک سیاسی معاملہ ہے اور اس میں ہمیشہ تبدیلی ہوتی رہی ہے، اس لیے رویتِ ہلال کو ملکی سرحدوں سے محدود نہیں کیا جا سکتا۔ پوری امت کو ایک وحدت سمجھتے ہوئے اور سرحدوں کی تقسیم سے بالا تر ہوتے ہوئے حرم کعبہ کی مرکزی حیثیت کے پیش نظر وہاں ہونے والی رویتِ ہلال کو پوری دنیا کے لیے کافی سمجھا جانا چاہیئے۔ یہ بھی بلاشبہ بہت موثر دلیل ہے۔ اس سوچ کے رکھنے والوں سے گزارش یہی ہے کہ وہ صاف صاف اعلان کریں کہ وہ سعودیہ کی تقویم کے تحت رمضان اور عید منائیں گے اور خوامخواہ گواہوں کا کھڑاگ نہ رچائیں۔ اپنے موقف کے لیے اخلاقی جرات بھی ہونی چاہیئے، جھوٹ سے اس کو تقویت دینا کوئی احسن طریقہ نہیں ہے۔

آج کل کے حالات کو سامنے رکھیں تو شہروں اور دیہاتوں میں تو ایک آدھ عشرہ پہلے چھت پہ جا کے چاند دیکھنے کا رواج موجود تھا۔ لوگ مغرب کی نماز پڑھتے ہی کھلے میدانوں اور چھتوں کا رخ کرتے اور چاند کو دیکھنے کا جتن کرتے تھے۔ لیکن اب کچھ سالوں سے یہ رواج ختم ہو چکا ہے۔ مغرب کی نماز کے بعد لوگ ٹی وی سکرین کا رخ کرتے ہیں یا خبروں کا انتظار کرتے ہیں۔ ٹی وی بریکنگ نیوز کی صورت پل پل کی خبروں کا پتہ چلا رہا ہوتا ہے۔ کئی دفعہ تو اعلان میں اتنی دیر ہو جاتی ہے کہ لوگ عشاء کے بعد رمضان کے چکر میں تراویح بھی پڑھ لیتے ہیں، بعد میں اعلان ہوتا ہے کہ رمضان کا چاند نظر نہیں آیا۔

شہروں میں ایک بڑا مسئلہ یہ بھی ہے کہ دھوئیں اور گردوغبار سے پیدا ہونے والی فضائی آلودگی کے سبب پہلی تاریخوں کا چاند نظر ہی نہیں آتا۔ آپ جتنا بھی جتن کر لیں، چاند دیکھ ہی نہیں سکتے۔ اب لامحالہ آپ کو رویتِ ہلال کمیٹی کے اعلان کا ہی انتظار کرنا پڑَے گا۔

چونکہ یہ مسئلہ قوم اور امت میں انتشار کا باعث بن رہا ہے اور فی الواقع لوگ متذبذب ہیں کہ کس دلیل کو مانیں اور کس کو رد کریں کہ دونوں میں دم ہے۔ سوچ سوچ کر میں جن تنائج پر پہنچا ہوں وہ آپ دوستوں سے شئیر کیے دیتا ہوں۔

چونکہ یہ مسئلہ دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے اہم ہے اور اس مسئلے کی بنیاد پر انہیں تقسیم ہونے سے بچانا بھی مقصود ہے تو میری پہلی گزارش یہ ہے کہ او-آئی-سی اس مسئلے کے حل کے لیے ایک خصوصی کمیٹی بنائے جس میں عالمِ اسلام کے چنے ہوئے ماہرینِ علوم کو شامل کرے جو تمام مسلمانوں کے لیے رویتِ ہلال کا ایک طریقہ وضع کر دیں، جسے سب فالو کریں۔

ممکنہ تین حل میرے ذہن میں آتے ہیں، دو حل تو وہی ہیں جو پہلے سے مستعمل ہیں، یعنی سعودیہ کو فالو کیا جائے یا اپنا اپنا چاند دیکھا جائے۔ میں ایک تیسرا حل پیش کرنا چاہوں گا جو ان دونوں کے بین بین ہے اور میرے گمان میں اس میں مسلمان امت کی مرکزیت بھی قائم رہے گی اور رویتِ ہلال کی شرائط بھی پوری ہوں گی۔

تیسرا طریقہ:
پوری دنیا چوبیس ٹائم زونوں میں تقسیم کی گئی ہے اور ایک ہی ساعت میں پوری دنیا میں چوبیس مختلف گھنٹے موجود ہوتے ہیں۔ لیکن یہ تقسیم انتہائی سائینسی طریقے سی کی گئی ہے۔ روس جیسے بڑے ملک میں نو مختلف ٹائم زون پائے جاتے ہیں۔ امریکہ میں بھی نو مختلف ٹائم زون ہیں۔ اسی طرح سے پورے گلوب کو رویتِ ہلال کے حوالے سے مختلف زونوں میں تقسیم کر دیا جائے۔ یہ اب سائینسی ماہرین ہی طے کر سکتے ہیں کہ پورے گلوب کے کتنے ہلالی زون ہونے چاہیئں۔ ہر زون میں شامل علاقوں کا کیلنڈر اس زون میں کسی بھی جگہ رویتِ ہلال سے مشروط ہو۔

فرض کریں، اگر پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش اور افغانستان ایک ہی زون میں شامل ہوں تو یہاں پہ کسی جگہ بھی چاند دیکھنے کی شرط پوری ہونے پر پورے زون میں رمضان کا اعلان کر دیا جائے۔ یہ سرحدیں وغیرہ تو ہماری اپنی بنائی ہوئیں ہیں، چاند ان سرحدوں کو کیا جانے۔ فرض کریں کل کو یہ تمام ممالک مل جائیں اور ایک ہی ملک بن جائے تو کیا تب بھی تو ہم ایک جگہ چاند کی گواہی ملنے پر پورے ملک میں رمضان کا اعلان نہیں کریں گے۔ سعودیہ کو فالو کرنے والے یہ فرض کر لیتے ہیں کہ پوری دنیا ایک وحدت ہے۔ چونکہ حرمِ کعبہ زمین کا مرکز ہے لہٰذا وہاں چاند دیکھا جانا پوری دنیا کے لیے کافی ہو گیا۔

ہمارا تجویز کردہ طریقہ سرحدوں سے بالاتر بھی ہے اور رویت کی شرط کو پورا بھی کرتا ہے۔ میرے نزدیک یہ ایک نہایت عملی حل ہے۔

آپ سب کے لیے یہ فورم کھلا ہے، اس میں اگر رویتِ ہلال میں اختلاف کا کوئی شافی حل تجویز کر سکیں تو نہایت خوشی ہو گی۔ بس اتنی گزارش ہے کہ آپ کی دی ہوئی تجویز میں شریعت کے تقاضے بھی پیش نظر رہیں اور ملت میں پیدا ہونے والے انتشار کو ختم کرنا مقصود ہو۔

Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers