نام ، نسب ، خاندان
---------------
عبدالرحمن نام ، ابومحمد کنیت والد کا نام عوف اور والدہ کا نام شفاء تھا ۔ یہ دونوں زہری خاندان سے تعلق رکھتے تھے ۔ سلسلۂ نسب یہ ہے : عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ بن عبدجوف بن عبد بن الحارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ القرشی الزہری ۔
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا اصلی نام عبد عمرو تھا ۔ ایمان لائے تو رسول اللہ ﷺ نے بدل کر عبدالرحمٰن رکھا ۔ تفصیل سے پڑھئے

-------------------
آپ رضی اللہ عنہ کا حلیہ
-------------------
قد طویل ، رنگ سرخ و سپید ، چہرہ خوبصورت ، داڑھی لمبی ، سر پر کان سے نیچے تک گھنگریالے بال ، کلائی گھٹی ہوئی ، انگلیاں موٹی اور مضبوط ، سامنے کے دو دانت گرگئے تھے اور غزوۂ اُحد میں زخمی ہونے کے باعث پاؤں میں لنگ تھا ۔
---
اولاد
---
حضرت عبدالرحمن رضی الله عنہ کی اولاد نہایت کثیر تھی ۔
-----
اسلام
-----
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ واقعہ فیل کے دسویں سال پیدا ہوئے تھے ، اس لحاظ سے جس وقت رسول اللہ ﷺ نے دعوتِ توحید کی صدا بلند کی اس وقت ان کا سن تیس سال سے متجاوز ہوچکا تھا ۔ حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی دعوت پر آپ رضی اللہ عنہ نے اسلام قبول کیا ۔
----
ہجرت
----
عام مسلمانوں کیطرح پہلے حبشہ تشریف لے گئے ، وہاں سے واپس آئے تو سب کیساتھ مدینہ منورہ کیطرف ہجرت فرمائی ۔ مدینہ پہنچنے کے بعد نبی پاک ﷺ نے حضرت سعد بن الربیع رضی اللہ عنہ سے بھائی چارہ کروایا ۔ وہ انصار مین سب سے مالدار آدمی تھے ۔ انہوں نے کہا کہ میں اپنا آدھا مال تمہیں دیتا ہوں اور میری دو بیویاں ہیں ، تمہیں جو پسند آئے ، میں طلاق دے دونگا ، عدت کے بعد تم نکاح کرلینا ۔
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے مال و متاع میں برکت کی دعا دی اور کہا کہ بھائی مجھے بازار کا دکھا دو ۔ پہلے دن کچھ گھی اور پنیر بطور نفع بچے ، دوسرے روز باقاعدہ تجارت شروع کردی ۔
-----
غزوات
-----
آپ رضی اللہ عنہ غزوۂ بدر میں شریک ہوئے ۔ دو نوجوان انصاری آپ رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور پوچھا : چچا ! ابوجہل کون ہے ؟ آپ رضی اللہ عنہ کی نشاندہی پہ ہی ان دو بھائیوں نے ابوجہل کو جہنم واصل کیا ۔
غزوۂ اُحد میں اس جانبازی و شجاعت سے لڑے کہ بدن پر بیس سے زیادہ زخم شمار کئے گئے ۔ خصوصاً پاؤں میں ایسا کاری زخم لگے تھے کہ صحت کے بعد بھی ہمشہ لنگڑا کر چلتے تھے ۔
----------------
دومة الجندل کی مہم
----------------
چھ ہجری میں دومتہ الجندل کی مہم پر مامور ہوئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے بلا کر اپنے دستِ اقدس سے عمامہ باندھا اور ہاتھ میں علم دے کر فرمایا : اللہ پاک کے نام کیساتھ اللہ پاک کی راہ میں روانہ ہوجاؤ ۔ جو لوگ اللہ پاک کی نافرمانی میں مبتلا ہیں ، ان سے جاکر جہاد کرو لیکن کسی کو دھوکا نہ دینا ، بچوں کو نہ مارنا ، دومة الجندل پہنچ کر قبیلہ کلب کو اسلام کی دعوت دینا ، اگر وہ قبول کریں تو ان کے بادشاہ کی لڑکی سے نکاح کرلینا ۔
وہاں پہنچ کر حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ تین دن تک دعوت و تبلیغ کا فرض سرانجام دیتے رہے ۔ قبیلہ کلب کے سردار اصبغ بن عمرو الکلبی اور اس کی قوم کے بہت سے لوگ دائرہ اسلام میں داخل ہوگئے ۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے حسب فرمان اصبغ کی لڑکی تماضر سے شادی کرلی اور مدینہ ساتھ لائے .
------
متفرق
------
فتح مکہ سے بعد حجۃ الوداع تک جس قدر مہمات اورجنگیں پیش آئیں ، حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سب میں شریک رہے ۔ آخری سفر حج سے واپس آنے کے بعد میں سرورِ کائنات ﷺ نے وفات پائی تو حضرت صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے خلیفہ بننے کے بعد حضرت عبدالرحمن تیسرے شخص تھے جنہوں نے ابوبکر رضی اللہ عنہ کی بیعت کی ۔
----------------
عہد صدیقی و فاروقی
----------------
خلیفہ اول کے عہد میں حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ایک مخلص مشیر اور صائب الرائے رکن کی حیثیت سے ہر قسم کے مشوروں میں شریک رہے ۔ ۱۳ ہجری میں جب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کو اپنا جانشین نامزد کیا تو سب سے پہلے عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو بلا کر مشورہ کیا ۔ انہوں نے کہا کہ عمر رضی اللہ عنہ کی اہلیت میں کوئی شک نہیں مگر مزاج میں سختی ہے ۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ انکی سختی اسلئے تھی کہ میں نرم تھا لیکن جب اس منصب کا بوجھ ان پر پڑے گا تو خود بخود نرم ہوجائیں گے ۔
فاروق اعظم رضی اللہ عنہ نے مسندخلافت پر قدم رکھنے کے ساتھ نظام خلافت کو پہلے سے زیادہ منظم و مرتب کیا ۔ مسائل پر بحث و مباحثہ کیلئے ایک مستقل مجلس شوریٰ قائم کی ۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اس مجلس کے نہایت صائب الرائے ، پرجوش اورسرگرم رکن ثابت ہوئے ۔ بہت سے معاملات میں ان ہی کی رائے پر آخری فیصلہ ہوا ۔ عراق پر مستقل اور باقاعدہ فوج کشی کیلئے جب عمر رضی اللہ عنہ نے فوج کی کمان اپنے ہاتھ میں لینے کا فیصؒہ کیا تو اس بات کی مخالفت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے ہی کی اور سلسلے میں حضرت سعد بن ابی وقاص کا نام پیش کیا ، جس پہ سب حضرات کا اتفاق ہوگیا ۔حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو جب ابولولو مجوسی نےنماز کے دوران زخمی کردیا تو باقی کی نماز عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے مکمل کروائی ۔ عمر رضی اللہ عنہ نے جن چھ لوگوں کو خلافت کیلئے موزوں قرار دیا ، ان میں عبدالرحمن رضی اللہ عنہ بھی شامل ہیں ۔
----
وفات
----
عہد عثمانی رضی اللہ عنہ میں حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے نہایت خاموش زندگی بسر کی اور مہمات ملکی میں انہوں نے کوئی دلچسپی نہیں لی ۔ ۳۱ ہجری میں آپ رضی اللہ عنہ کی وفات ہوئی ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جنازہ پر کھڑے ہوکر کہا :
اے ابن عوف ! تُو نے دنیا کا صاف پانی پایا اور گدلا چھوڑ دیا ۔
حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جنازہ اٹھانے والوں میں شریک تھے اور کہتے جاتے تھے یہ پہاڑ بھی چل بسا ۔ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے نماز جنازہ پڑھائی اورجنت البقیع میں دفن کیا گیا ۔
--------
علم و فضل
--------
گو عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے کبار صحابہ رضی اللہ عنہ کی طرح حدیثیں بہت کم روایت کیں ، تاہم خلفائے راشدین رضی اللہ عنہم کو بہت اہم اورضروری مواقع پر اپنی معلومات سے فائدہ پہنچایا ۔ چنانچہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی خلافت میں جب رسول اللہ ﷺ کی وراثت کی بحث چھڑی تو انہوں نے بلند آہنگی کے ساتھ اس حدیث کی تصدیق کی کہ آنحضرت ﷺ کے متروکہ میں وراثت نہیں ہے ۔
اسی طرح حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے عہد میں جب ایران فتح ہوا اور انہیں فکر لاحق ہوئی کہ آتش پرستوں کے ساتھ کیاسلوک ہونا چاہیئے تو اس وقت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ہی نے اس عقدہ کو حل کیا اور بیان کیا کہ آنحضرت ﷺ نے ان لوگوں کے ساتھ اہل کتاب کی روش اختیار کی تھی اور انہیں ذمی قرار دیا ۔
عمواس میں جب طاعون پھیلا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو بلا کر دریافت کیا کہ طاعون زدہ مقام سے ہٹنا جائز ہے یا نہیں؟ تو کوئی اس کا قطعی جواب نہ دے سکا ۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ اس وقت موجود نہ تھے ، لیکن جب انہیں خبر ملی تو انہوں نے حاضر ہوکر کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے سنا ہے کہ جہاں طاعون ہو وہاں نہ جاؤ ، اگر تم پہلے سے طاعون زدہ مقام میں ہو تو وہاں سے نہ ہٹو ۔
اللہ پاک نے حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کو اصابت رائے اور دُور اندیشی کا نہایت وافر حصہ دیا تھا ۔ چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی شہادت کے وقت فرمایا تھا : عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نہایت صائب الرائے ، ہوشمند اورسلیم الطبع ہیں ، ان کی رائے کو غور سے سننا اور اگر انتخاب میں مخالفت پیدا ہوجائے تو جس طرف عبدالرحمن رضی اللہ عنہ ہوں ان کا ساتھ دینا ۔
-----------
اخلاق و عادات
-----------
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کا دامن فضل و کمال اوراخلاقی جواہر پاروں سے مالا مال تھا ۔ خصوصاً خوفِ خدا ، حب رسول ، فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ ان کے نہایت درخشاں اوصاف تھے ۔
خوفِ کے باعث ہر واقعہ ان کیلیے مرقع عبرت بن جاتا تھا اور اس کی ہیبت و جلال کو یاد کرکے رونے لگتے تھے . ایک دفعہ دن بھر روزہ سے رہے ۔ شام کے وقت کھانا سامنے آیا تو بے اختیار مسلمانوں کا گذشتہ فقر و فاقہ یاد آگیا تو بولے : مصعب بن عمیر رضی اللہ عنہ مجھ سے بہتر تھے ، وہ شہید ہوئے تو کفن میں صرف ایک چادر تھی ، جس سے سر چُھپایا جاتا تھا تو پاؤں کُھل جاتے تھے اور پاؤں چُھپائے جاتے تھے تو سر کھل جاتا تھا ۔ اسی طرح حمزہ رضی اللہ عنہ شہید ہوئے ، حالانکہ وہ مجھ سے بہتر تھے ۔ لیکن اب دنیا ہمارے لیے کشادہ ہوگئی ہے اورہمیں اس قدر دنیاوی نعمتیں دے دی گئی ہیں کہ مجھے ڈر ہے کہ شاید ہماری نیکیوں کا معاوضہ دنیا ہی میں نہ ہوگیا ہو ۔ اس کے بعد اس قدر روئے کہ کھانا بھی نہ کھایا جاسکا ۔
آنحضرت ﷺ کے بعد بھی ہمیشہ آپکی یاد تازہ رہتی تھی ۔ نوفل بن ایاس فرماتے ہیں کہ عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ سے اکثر ملاقات رہتی تھی ، وہ بہت اچھے ہم نشین تھے ۔ ایک روز ہم کو اپنے گھر لے گئے ، کھانا لایا گیا تو روٹی اور گوشت دیکھ کر بے اختیار رونے لگے ۔ میں نے پوچھا : ابو محمد ! یہ گریہ وزاری کیسی ؟ بولے : رسول اللہ ﷺ نے وفات پائی لیکن تمام عمر آپ ﷺ کے اہل و عیال کو پیٹ بھر جو کی روٹی بھی نہ ملی ۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آنحضرت ﷺ کے بعد اتنے دنوں تک دنیا میں رہنا ہمارے لیے بہتر نہیں ہے ۔
آنحضرت ﷺ نے فرمایا تھا کہ میرے بعد جو شخص میری ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم خیال کرے گا ، وہ نہایت صادق اور نیکو کار ہوگا ۔ چنانچہ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ سفر حج کے موقعوں پر ساتھ جاتے تھے ، سواری اور پردہ کا انتظام کرتے تھے ، جہاں پڑاؤ ہوتا تھا وہاں انتظام و اہتمام کے ساتھ اتارتے تھے ۔
---------------
انفاق فی سبیل اللہ
---------------
صحابہ رضی اللہ عنہم کی دولت ذاتی راحت و آسائش کیلئے نہ تھی بلکہ جو جس قدر زیادہ دولت مند تھا ، اسی قدر اللہ پاک کے راستے میں خرچ کرتا تھا ۔ حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کی فیاضی اور انفاق فی سبیل اللہ کا اندازہ اس بات سے ہوتا ہے کہ جب سورہ توبہ نازل ہوئی اور صحابہ رضی اللہ عنہم کو صدقہ و خیرات کی ترغیب دی گئی تو حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ نے اپنا نصف مال یعنی چارہزار پیش کئے ۔ پھر دو دفعہ چالیس چالیس ہزار دینا روقف کئے ۔ اس طرح جہاد کے لیے پانچ سو گھوڑے اورپانچ سواونٹ حاضر کئے ۔
عام خیرات وصدقات کا یہ حال تھا کہ ایک ہی دن میں تیس تیس غلام آزاد کردیتے تھے ۔ ایک دفعہ انہوں نے اپنی ایک زمین چالیس ہزار دینار میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ہاتھ فروخت کی اور تمام رقم اللہ پاک کی راہ میں دےد ی ۔
---------
ذریعۂ معاش
---------
تجارت اصلی ذریعۂ معاش تھا ۔ آخر میں زراعت کا کاروبار بھی نہایت وسیع پیمانہ پر قائم ہوگیا تھا ۔ آنحضرت ﷺ نے خیبر میں ایک وسیع جاگیر مرحمت فرمائی تھی ۔ پھر انہوں نے خود بہت سی قابل زراعت اراضی خرید کر کاشت کاری شروع کی تھی ۔ چنانچہ صرف مقام جرف کے کھیتوں میں بیس اونٹ آب پاشی کا کام کرتے تھے ۔
حضرت عبدالرحمن رضی اللہ عنہ کے کاروبار میں اللہ پاک نے بہت برکت دی تھی ۔ وہ خود فرماتے ہیں کہ اگر میں مٹی بھی اٹھاتا ہوں تو اس کے نیچے سونا نکل آتا ہے ۔ اس قدر فیاضی کے باوجود وہ اپنے وارثوں کیلئے نہایت وافر دولت چھوڑگئے ۔ یہاں تک کہ چاروں بیویوں نے جائیداد متروکہ کے صرف آٹھویں حصہ سے اسی اسی ہزار دینار پائے ۔ سونے کی اینٹیں اتنی بڑی بڑی تھیں کہ کلہاڑی سے کاٹ کاٹ کر تقسیم کی گئیں اور کاٹنے والوں کے ہاتھ میں آبلے پڑ گئے ۔ جائیداد غیر منقولہ اورنقدی کے علاوہ ایک ہزار اونٹ اور سو گھوڑے اورتین ہزار بکریاں چھوڑیں ۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers