آپ کو اگر سفر کا موقع ملے تو آپ دنیا کو تین حصوں میں تقسیم کر لیں‘ غریب دنیا‘ امیر دنیا اور حیران کن دنیا۔ یہ تین دنیائیں ہیں‘ یہ تینوں نظروں‘ کانوں‘ قدموں اور شعور کا مطالعہ ہیں‘ آپ غریب دنیا میں غربت‘ پسماندگی‘ انسانی بے چارگی اور معاشرتی بے بسی کا مطالعہ کر سکتے ہیں‘ وہ کون سے حالات ہیں جو انسان کو بے بس کر دیتے ہیں‘ جو دھڑکتے مچلتے انسان کو بے چارہ بنا دیتے ہیں اور جو اسے پسماندگی اور غربت کے اندھے کنوئیں میں پھینک دیتے ہیں‘ میں نے اب تک غریب ملکوں میں چار مشترک خرابیاں دیکھی ہیں‘ خانہ جنگی‘ کرپشن‘ جہالت اور بے ایمان لیڈر شپ۔ آپ ایتھوپیا سے افغانستان تک دنیا کے غریب خطے دیکھ لیجیے‘ آپ کو وہاں خانہ جنگی بھی ملے گی۔ تفصیل سے پڑھئے
کرپشن بھی‘ جہالت بھی اور بے ایمان لیڈرشپ بھی اور دنیا کا ہر وہ ملک جو چاروں خامیوں پر قابو پاتا جا رہا ہے‘ جس نے ایماندار لیڈرشپ کا بندوبست کر لیا‘ جس نے تعلیم عام کر لی‘ جس نے کرپشن کے جن کو بوتل میں بند کر لیا اور جس نے فرقہ واریت‘ نسل پرستی‘ طالبانائزیشن‘ فوجی آمریت اور قتل و غارت گری روک لی‘ وہ ملک پسماندگی سے خوش حالی کے راستے پر آ گیا‘ دنیا کی جو قوم ان چار خامیوں پر قابو پا لیتی ہے اور اس کے بعد وہ ملک میں میرٹ‘ انصاف اورلاء اینڈ آرڈر لے آتی ہے وہ دس سال میں دنیا کی بیس بڑی معیشتوں میں شامل ہو جاتی ہے‘ دنیا میں ایسے درجنوں ملک ہیں۔
آپ غریب دنیا کے بعد امیر دنیا کے سفر کریں‘ یورپ جائیں‘ امریکا‘ کینیڈا‘ جاپان‘ آسٹریلیا اورسنگا پور دیکھیں‘ آپ کو معلوم ہو گا امیر دنیا میں قانون کی حکمرانی ہے‘ صدر اور عام مزدور برابر ہیں‘ آپ پہاڑ پر ہوں یا سمندر کے کنارے آپ کو سڑک‘ بجلی‘ گیس‘ ٹیلی فون اور پبلک ٹرانسپورٹ ضرور ملے گی‘ حکومت آپ کو تعلیم اور صحت کی سہولت مفت دے گی‘ ماحول صاف ستھرا ہو گا‘ معاشرے میں سلیقہ اور نظم و ضبط ہو گا‘ لوگ آہستہ آہستہ بولیں گے‘ وقت کی پابندی ہو گی‘ قطار کا احترام کیا جائے گا‘ پروٹوکول نہیں ہو گا‘ بے ایمانی اورچوری نہیں ہو گی‘ لوگ واک اور ایکسرسائز کریں گے‘ اپنے کام سے کام رکھیں گے‘ اپنے وسائل کے اندر رہ کر زندگی گزاریں گے‘ کوئی دوسرے کی ناک کی حدود پامال کرنے کی کوشش نہیں کرے گا‘ یہ دنیا کتابوں‘ لائبریریوں‘ چاندی جیسے ساحلوں‘ پارکوں‘ جھیلوں‘ ریستورانوں‘ یونیورسٹیوں‘ لیبارٹریوں اور سڑکوں‘ ائیرپورٹس اور بندر گاہوں کی دنیا ہو گی‘ اس میں مستی میں ناچتے نوجوان بھی ہوں گے اور کافی شاپس میں بیٹھے دانشور بھی اور پارکوں میںسائیکل چلاتے‘ دوڑتے‘ جاگنگ کرتے جوان بھی اور میلوں ٹھیلوں کو انجوائے کرتے خاندان بھی۔
آپ کو امیر دنیا میں ہر طرف دولت اور خوش حالی کے انبار ملیں گے‘ آپ کو خوشیاں اور مسرتیں دکھائی دیں گی‘ آپ اس کے بعد حیران کن دنیا کی تلاش میں نکلیں‘ یہ حیرتوں کی دنیا ہے‘ قدرت اور انسان کی تخلیق کردہ حیرتوں کی دنیا۔ آپ پہاڑوں پر جائیں‘ دیوسائی اور فیری میڈوز کوتلاش کریں‘ کے ٹو‘ نانگاپربت اور ماؤنٹ ایورسٹ کے بیس کیمپ تک جائیں‘ سری لنکا کے اس پہاڑ کی زیارت کریں جہاں حضرت آدم ؑ  نے پہلا قدم رکھا تھا اور کنوؤں سے پانی نکالنے کاطریقہ وضع کیا تھا‘ برف کے ان غاروں میں جھانک کر دیکھیں جہاں صدیوں سے برف کی مورتیاں ایستادہ ہیں اور موسموں کی تبدیلیاں چپ چاپ ان کے قریب سے گزر جاتی ہیں‘ کیپری کے جزیرے پر جائیں‘ پمپئی کے اس شہر میں گھومیں جو حضرت داؤد ؑ کے دور میں آباد ہوا اور حضرت عیسیٰ ؑ  کے انتقال (عیسائی عقیدے کے مطابق‘ ہم مسلمان اس عقیدے کو نہیں مانتے) کے 67 سال بعد آتش فشاں کی اڑائی راکھ میں دفن ہو گیا‘ تبت کے پہاڑوں پر جائیں جہاں دنیاکی ضخیم ترین مذہبی کتاب رکھی ہے۔
بودھ مت کی مذہبی کتاب کی 108 جلدیں ہیں اور ہر جلد ہزار صفحوں پر مشتمل ہے‘ چنائی کے اس مندر میںجائیں جہاں دنیا کے ہر شخص کی جنم کنڈلی موجود ہے‘ حضرت عیسیٰ  ؑ کی جائے پیدائش پر جائیں‘ حضرت موسیٰ  ؑ کے سینا اور کوہ طور کی زیارت کریں‘ فرعون کے اہراموں میں جھانکیں‘ موہن جو ڈارو‘ ہڑپہ اور جولیاں کے شہروں میں گھومیں‘ ماسکو سے لہاسا تک ٹرین کا سفر کریں‘ سائبیریا کی سفاری ٹرین لیں‘ کینیا کی جنگل سفاری کریں‘ میامی بیچ پر جائیں‘ آرلینڈو کا انسانی معجزہ اور ورلڈ ڈزنی دیکھیں‘ ارارات کے پہاڑ پر حضرت نوح  ؑ کی کشتی کی باقیات کی زیارت کریں۔
امیر تیمور کا ازبکستان دیکھیں‘ چنگیز خان کا منگولیا دیکھیں‘ سکندر اعظم کا مقدونیہ دیکھیں‘ آسٹریا کے پہاڑوں کے اندر دو غاروں میں چھپی جھیلیں دیکھیں‘ سوئٹزرلینڈ کی جھیلیں‘ جنگل اور گلیشیئر دیکھیں‘ دیوار چین پر چہل قدم کریں‘ اوساکا شہر کا سمندر پر بنا ائیرپورٹ دیکھیں‘ آئفل ٹاور پر کھڑے ہو کر کافی پئیں‘ واٹر لو کے میدان میں کھڑے ہو کر نپولین کی فوجوں کو ہارتے ہوئے دیکھیں‘ وینس کے گنڈلوں میںبیٹھ کر مارکو پولو کے گھر کا چکر لگائیں‘ رات کے آخری پہر قرطبہ شہر کی خاموشی اور چڑھتے سورج کے ساتھ غرناطہ کے کنگ چیمبر میں فواروں کی پھڑپھڑاہٹ سنیں اور دنیا کے اس کونے میں جہاں پہاڑ‘ صحرا اور سمندر تینوں گلے ملتے ہیں وہاں خیمے میں لیٹ کر رات کو دن میں ڈھلتے ہوئے دیکھیں‘ حیرتوں اور معجزوں کا یہ سفر اللہ تعالیٰ پر آپ کا یقین مضبوط کردے گا‘ آپ اس کی بندگی کی پناہ میں آ جائیں گے۔
یہ دنیا ’’بودو ‘‘ شہر پر جا کر ختم ہو جاتی ہے‘ یہ ناروے اور دنیا کا آخری ٹاؤن ہے‘ اس ٹاؤن میں دنیا ختم ہو جاتی ہے‘ یہ دنیا کا وہ مقام ہے جہاں 20 جون سے 20 جولائی تک سورج غروب نہیں ہوتا‘ آپ رات کے بارہ بجے بھی سورج کو چمکتے دیکھتے ہیں یا پھر یہاںسے تھوڑی دور قطب شمالی کی ہزاروں برس بوڑھی برفیں ہیں‘ یہ شہر‘ یہ مقام قدرت کی صناعی کا عجیب شاہکار ہے اور میں اس شاہکار کی تلاش میں نکلا ہوں‘ میں ایک دن پیرس رک کر بودو چلا جاؤں گا‘ بودو جہاں دنیا ختم ہو جاتی ہے‘ جہاں رات نہیں ہوتی اور جہاں سورج مہینہ بھر کے لیے ڈوبنا بھول جاتا ہے‘ یہ بودو شہر میری منزل ہے۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers