۱۔ عالم موجودات کی یہ عظیم ترین مسجد ہے جس میں ہر صلوٰۃ کا اجرو ثواب اللہ تبارک تعالیٰ کی طرف سے ایک لاکھ گنا بڑھا دیا جاتاہے۔یعنی کسی بھی مسجد میں ادا کی جانے والی نماز سے لاکھ گنا زیادہ ثواب اس مسجد کی نماز میں عطاکیا جاتا ہے۔
۲۔ مسجد الحرام کے عین وسط میں بیت اللہ یعنی اللہ کا گھر ،کعبہ ہے جو ساری دنیا کے مسلمانوں کا قبلہ ہے۔تو ہر مسلمان دنیا کے کسی بھی حصّے یا گوشے میں ہو اسی جانب رُخ کرکے اپنی صلوٰۃ اداکرتا ہے اور اللّہ سبحانہٗ تعالٰی کو سجدہ کرتا ہے۔
۳۔ اس جہان میں صرف تین مساجد ایسے ہیں جن کی فضیلت بیان فرماتے ہوئے نبی اکرم صلی اللہ علیہِ وسلم نے زیارت اور صلوٰۃ کی ادائیگی کی تاکید کی ہے۔ (الف) مسجدالحرام یا بیت اللہ شریف، مکّہ (ب) مسجد نبوی ، مدینہ منوّرہ اور (ج) مسجد اقصیٰ ،یروشلم۔                                   تفصیل سے پڑھئے

’’مسجدالحرام میں ہمہ وقت کل ایک سو بیس رحمتیں نازل ہوتی رہتی ہیں۔ان میں سے ساٹھ ان کے لیے جو کعبہ کے طواف میں مشغول رہتے ہیں، چالیس ان کے لیے جو اپنی صلوٰۃ ادا کرتے ہیں اور بیس ان کے لیے مخصوص ہیں جو پورے احترام کے ساتھ کعبہ کے دیدار میں مصروف ہوتے ہیں‘‘۔ یہ تعداد اکائی میں نہیں بلکہ تناسب میں ہے۔
۴۔ یہ مسجد فن تعمیر کے اعتبار سے بھی بے مثال اور واحد ہے۔یہ اتنا عظیم ہے کہ بہ یک وقت چالیس لاکھ کی تعداد میں حجّاج کرام جمع ہوکر نماز ادا کرسکتے ہیں۔ لاؤڈاسپیکر سسٹم دنیا کا بہترین عظیم ترین نمونہ ہے جس کے ذریعے قرآن پاک کی آیتیں سیدھے دلوں پر اثرانداز ہوتی ہیں کہ آنکھوں سے جذبات کے آنسو چھلک پڑیں۔ہر طرف روشنی کا انتظام بھی لاجواب ہے ۔
۵۔مسجدالحرام کے کل ۹۵ دروازے ہیں ، جن میں ۵ شاہ صدر دروازے ہیں۔
۶۔ مکمل مسجدالحرام کے لیے مرکزی ایئر کنڈیشننگ سسٹم ہے جو گوشے گوشے کو بقدر ضرورت کم و بیش درجۂ حرارت مہیا کرتا ہے۔
۷۔ مختلف منازل اور چھت تک رسائی کے لیے جگہ جگہ لفٹ اور چلتی سیڑھیوں کا بہترین انتظام ہے۔زیرِ سطح بھی ایک منزل کی تعمیر کی گئی ہے۔مسجد کے فرش پر کلی طور پر غالیچے بچھے ہوئے ہیں۔زم زم کے ہزاروں مُبرِّد(کولر) جگہ جگہ سجائے گئے ہیں جو اس کی شان کو دوبالا کردیتے ہیں۔حرم شریف کے بیرونی خطّے میں چاروں اطراف میں حالیہ تعمیرشدہ فرش مسجد میں نمازیوں کی گنجائش کو اتنا بڑھا دیتا ہے کہ لاکھوں لوگ جگہ کی قلت کی وجہ سے مایوسی کا شکار خود کو نہ محسوس کریں اور بہ اطمینان اپنی صلوٰۃ ادا کرسکیں۔حرم شریف کے باہر ہزاروں کی تعداد میں جدیدترین قسم کے حمام ، وضو خانے اور بیت الخلاء کا بہترین انتظام ہے کہ ہزاروں حجاج کرام ان کا استعمال ہر وقت بہ آسانی کر سکتے ہیں۔
۸۔ شاہ صدر دروازوں کی پیشانی پر ان کی شناخت کے لئے جگہ جگہ مندرجہ ذیل نام چسپاں و آویزاں ہیں۔
بابِ ملک عبدا لعزیز،بابِ فتح،بابِ صفا،بابِ عمرۃ،بابِ فہد (حالیہ تعمیر)
۹۔ مسجدالحرام کا رقبہ کل تین لاکھ چھپّن ہزار آٹھ سو (3,56,800) مربع میٹرہے
۱۰۔ نمازیوں کی گنجائش کل آٹھ لاکھ بیس ہزار(8,20.000) ہے۔
۱۱۔ کل دروازے 95ہیں۔
۱۲۔ چلتی سیڑھیاں(Escalator)کل 5ہیں
۱۳۔ لفٹ: بابِ صفا کے نزدیک
۱۴۔ منارے:کل 9 (بابِ فہد،بابِ عبدالعزیز، بابِ عمرہ پر دو دو منار ے لیکن بابِ صفا میں صرف ایک منارہ ہے۔
۱۵۔ مناروں میں سے ہر ایک کی اونچائی کل92 میٹر (تقریباً 302فِٹ )ہے
۱۶۔ گوگل نقشہ (map) میں اس کا مقام 21.421881176 N, 39.825182176 E ہے۔
بیت اللہ (کعبہ) اللہ کاگھر
۱۔ یہ ایک چوکور عمارت ہے جو مسجد الحرام کے مرکز میں واقع ہے۔ ساری دنیا کے مسلمان اسی کعبہ کی جانب رخ کرکے اپنی نماز میں اللہ کو سجدہ کرتے ہیں۔
۲۔ لوگوں کاسلسلہ وار طواف ساری دنیا کے سامنے ایک عجوبہ ہی ہوگا۔بارش، طوفان یا دھوپ کچھ بھی ہوطوافِ کعبہ(اللہ کے گھرکے طواف)کو کبھی روکنے میں کامیاب نہ ہوسکی۔
۳۔اس مختصرعمارت کی تعمیر اور تعمیرِ نو کا اعزاز حضرت آدم علیہ السلام، سیدنا ابراہیم علیہ السلام، حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اورحضور اکرم محمد مصطفےٰ ﷺکو حاصل ہو اہے۔
سیدنا ابراہیم علیہ السلام اور ان کے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام نے مشترکہ طور پر خانۂ کعبہ یعنی بیت العتیق کی تعمیر اللہ کی مرضی سے کی۔ بیت العتیق کا ایک مفہوم اوَّلین یا قدیم ترین مانا جاتا ہے۔اس کے دوسرے مفہوم خود مختاری اور حریت یا آزادی کے ہیں۔دونوں ہی معانی یہاں قابل قبول ہو سکتے ہیں۔
۴۔ اس عمارت کو بیت الحرام یا حرم شریف بھی کہتے ہیں جس کے مطلب ہیں نہایت قابلِ احترام گھر۔
مورخین کی رائے میں پانچ سے بارہ بار اس کی تعمیر یا تعمیرنو کی گئی ہے۔پہلی دفعہ کعبہ کی تعمیر حضرت آدم علیہ السلام کے ذریعے ہوئی۔اللہ تعالیٰ قرآنِ کریم میں ارشاد فرماتا ہے کہ یہی خدا کا وہ پہلا گھر ہے جو زمین پر اللہ کی عبادت کے لئے انسانوں کو عطا کیا گیا۔بعد میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کے ساتھ دوبارہ اس کی تعمیر کی۔
کعبہ کا ریاضی طول و عرض:۔
الف۔ بیرونی دیواروں کی لمبائی: حجرِ اسود سے رکن عراقی تک کل 37 فٹ 6انچ،
رکنِ عراقی سے رکنِ شامی تک۔ کل 31 فٹ6 انچ
رکنِ شامی سے رکنِ یمانی تک کل 37 فٹ6 انچ،
رکنِ یمانی سے حجرِ اسود تک کل30 فٹ
خانۂ کعبہ کی موجودہ اونچائی کل 39فٹ 6 انچ ہے اور کل رقبہ627 مربع فٹ ہے۔
کعبہ کی دیواروں کی موٹائی کل3.28فٹ ہے۔ کعبہ کا اندرونی فرش بیرونی فرش سے، جہاں لوگ طواف کرتے ہیں ، 7.22 فٹ بلندی پر واقع ہے۔داخلی اور بیرونی چھت لکڑی سے بنی تھی جسے ساگوان کی لکڑی سے تعمیرِ نو کی گئی پھرجسے اسٹین لیس اسٹیل سے مڑھ دیا گیا ہے۔
دیواریں پتھر سے بنی ہوئی ہیں جو اندر سے کھردری مگر باہر سے چمکدار اور جلا آمیز ہیں۔عربی زبان میں کعبہ کا لفظی معنیٰ بلند اور باوقار مقام ہوتا ہے۔اسے کعب یعنی شش پہل(Cube) چھ سطحوں والا مربع نما،سے موضوع بھی سمجھا جاتا ہے۔
دنیا کی کرید اس سلسلے میں جاری ہے ۔اس کی تمامترباتوں کو اچھی طرح سمجھنے اور ہر ممکن سوال کا فوری جواب مہیا کرنے کے لئے ایک طویل مضمون کی ضرورت ہے۔انشاء اللہ پھر کبھی۔۔۔۔
مشرقی دروازہ اس وقت 48 فٹ6 انچ کا تھا۔حطیم (کعبہ کے بظاہر باہر نظر آنے والی خستہ جیسی دیوار)کی طرف اس کی لمبائی 33فٹ تھی۔حجرِ اسود سے خط یمانی کے گوشے تک لمبائی 30 فٹ تھی۔مغربی سمت میں اس کی لمبائی 46.5فٹ تھی۔اس کے علاوہ آں حضرت ؐ کی آمدکے قبل کئی اور تعمیرات موجود تھیں۔
قریش کے ذریعے کعبہ کی تعمیر نو: حضور اکرم ﷺ بعثت سے پہلے ہی اس کی تعمیر نو میں ایک دفعہ شامل ہوئے۔ایک اچانک سیلاب کی وجہ سے اس کی دیواروں میں دراریں پڑ گئیں اور دوبارہ تعمیر کی ضرورت پڑ گئی۔یہ ذمہ داری قریش کے چار قبیلوں میں بانٹ دی گئی۔حضوراکرمؐ نے اس کی تعمیر میں مدد پہنچائی۔ دیواروں کی تعمیر کے بعد حجرِ اسود کو اس کی مقررہ جگہ یعنی مشرقی دیوارپر لانا مقصود تھا۔حجت تکرار اس بات پر ہونے لگی کہ کون اس پتھر کو اٹھانے کا صحیح حقدار ہے؟نوبت فساد تک پہنچتی، اس سے قبل مکہ کے سب سے عمر رسیدہ بزرگ ابو امیّہؔ نے مشورہ دیا کہ دوسرے دن سب سے پہلے مسجد کے دروازے میں داخل ہونے والا شخص اس بات کا فیصلہ کرے گا۔ شانِ خداوندی سے یہ شخص اور کوئی نہیں حضور اکرمؐ تھے مکہ والوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی کہ یہی شخص امین و صادق ہے۔آپؐ جب ان کے درمیا ن آئے تو انہیں اس کا فیصلہ کرنے کو کہا گیا۔ آپ تیار ہوگئے۔ایک چادر رکھی ، اور پتھر جو تقریباً 30سنٹی میٹر(12انچ)قطر کاہے اور اب زمین سے 1.5میٹر(لگ بھگ5 فٹ) زمین سے اونچا ہے، کو چادر پر رکھ کر قبیلے کے سرداروں کو کہا کہ مل کر اس کی جگہ پر رکھ دیں۔ چنانچہ ویسا ہی کیا گیا۔
جہاں تک اس کی دینی اہمیت کا تعلق ہے ، اس سلسلے میں حضرت عمر فاروقؓ کی گفتگو کادرج ذیل حصہ ہی کافی ہوگا:
’’ بلا شبہ میں جانتا ہوں کہ تو ایک پتھر ہے اور تو نہ تو میرا نقصان کرسکتا ہے اور نہ ہی مجھے فائدہ پہنچا سکتا ہے۔ اگر میں نے اللہ کے رسولؐ ( محمد ﷺ) کو تجھے بوسہ لیتے نہ دیکھا ہوتا،تومیں تجھے کبھی نہ چومتا‘‘
(۔۔۔حضرت عمر فاروقؓ)


Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers