کنوارے عینک لگا کے پڑھیں اور شادی شدہ ٹشو پپروں کا ڈبہ پاس رکھ لیں۔ کیوں کہ تحریر تھوڑی درد ناک ھے۔
ہائے یہ بیویاں یہ آواز تو ہر شوہر کے دل کی ھے۔ پر یہ بات سامنے کوئی کہتا نہیں بیوی کے،، وجہ خوف ھے کہ اگر کہہ دیا تو بیگم کی ہیل والی جوتیاں ساری میرے سر پہ ھی ٹوٹنی ھیںکنوارے گرل فرینڈز کو اور شادی شدہ بیویوں کو پیارے کہیں تو غلط نہ ھو گا،لیکن فرق صرف اتنا ھے کہ گرل فرینڈز کو پیاروں کا معیار بدلتا رھتا ھے اور بیویوں کو پیاروں کا سرے سے کوئی معیار ہی نہیں ھوتاجس بھی شوہر کو دیکھو وہ بیگم کے ہاتھوں تنگ آیا ہوا ہی ہوتا کوئی تھوڑا تو کوئی ذیادہ۔ وجہ بڑی معقول ھے کہ بیگم پابندیاں بہت لگاتی ھے۔دوستوں کے ساتھ گھومنے پھرنے نہیں جانے دیتی۔ موبائل فون چیک کرتی ھے لیپ ٹاپ سے چڑتی ھے۔ فیس بک پہ کیوں اتنی دیر بیٹھے رہتے ھو کس سے باتیں کرتے ھو۔ اگر گھر دیر سے آیئں تو شک کرتی ھے ۔ کے کس ماں کے ساتھ تھے۔کون ھے وہ میری سوتن وغیرہ وغیرہ۔     تفصیل سے پڑھئے

ایسے بہت سے سوالوں کے ستائے ہوے شوہر بیچارے جائیں تو کہاں جائیں ،اپنا دکھڑا کس سے کہیں ۔
کوئی راہ دیکھائی نہیں دیتی ۔ کوئی حل سجھائی ہی نہیں دیتا۔اگر دیکھا جائے تو آج کے دور میں شوہروں سے زیادہ کوئی مظلوم نہیں ھے
شوہر بیچارہ تو کسی کو اپنے زخم بھی نہیں دیکھا سکتا کہ لوگ کیا کہیں گے بیگم نے جوتی سے مارا ھے۔ ( مارنا ہی تھا تو کسی فولادی شے سے مارتی کہ ایک ھی بار کام تمام ہوجاتا)
چلیں اب ھم اس پہ تفصیلی روشنی ڈالتے ھیں کہ شوہروں کو مار کن کن طریقوں سے پڑتی ھے
شوہروں کے مار کھانے کے تو کئی طریقے ھیں مگر ھم یہاں تزکرہ صرف دو کا ھی کریں گے
ایک جوتی سے مار اور دوسرا ڈنڈے سے مار
جوتی سے مار وہ لوگ کھاتے ھیں جو بھاگتے نہیں جب بیگم جوتی اٹھاتی ھے اور بلا چوں چراں کے مار کھا لیتے ھیں۔
اور ڈنڈے سے مار وہ لوگ کھاتے ھیں جو بیگم کو برابر جواب دیتے ھیں اور آرام سے مار کھانے کی بجائے بھاگ کھڑے ھوتے ھیں۔ تو پھر ایسے شوہروں کو ڈنڈے سے مارنا بیچاری بیویوں کی مجبوری ھوتی ھے
اچھا شوہر وہ ھوتا ھے جو آرام سے مار کھائے اور بیگم کی خدمت بھی کرے۔
جب بیگم کہے اس کو شاپنگ کروائے ۔۔ جب میکے جانا چاھے تو شوہر ناں صرف بیگم کو خوشی خوشی چھوڑ کے آئے بلکہ اپنے سسرالیوں کے لئے ڈھیر سارے تحائف بھی ساتھ کرے بیگم کے
یہ اور بات ھے کہ شوہر خوشی سے تحائف دے کے کتنی مجبوری سے بیگم کو میکے بھیجتا ھے
اور یہ بھی بہت ضروری ہوتا ھے کہ ساس سسر اور سالے سالیاں جیسے مرضی بی بے عزتی کریں داماد ان سے ہنس ہنس کے ھی پیش آئے۔ برداشت کا دامن ھاتھ سے نا چھوڑے
ورنہ بیگم کی آنکھیں پھر ماتھے پہ آجانی ھیں
بیگم آنکھیں نا پھیرے اس لیئے بھی بچارے شوپر کو سسرالیوں کی ھر بات پہ لبیک کینا پڑتا ھے ۔ اور ھر غلط بات ماننی پڑتی ھے۔
چاھے اس کے لیے شوہر کو کتنی ھی ذلت اٹھانی پڑے
اگر ایسا نہیں کرے گا تو بیگم تو میکے میں رھے گی پر شوہر کو بیگم کے ساتھ ساتھ سسرالیوں کا بھی خرچا اٹھانا ُپڑے گا جو کہ کافی بھاری ھوتا ھے
بیگم چاھے جلا ھوا کھانا پکائے شوھر پہ لازم ھے اس کھانے کی اور کھانا پکانے والی کی تعریف کرنا
شوہر گھر داخل ھو تو مسکراتا ھوا داخل ھو ، چاھے وہ دفتر میں باس کی جھڑکیاں کھا کے آیا ھو یا پھرپرانی محبوبہ کے نئے شوہر سے پٹائی کروا کے ۔
پر بیوی کو شوہر کا موڈ اے ون چاہئے ۔ مطلب شوہر کے روپ میں زر خرید غلام ۔ جس کا کام بس بیوی کا خوش رکھنا ہی ھے۔۔۔شروع میں ھم نے کہا کہ کنوارے عینک لگا کے اور شادی شدہ ٹشو پیپروں کا ڈبہ پاس رکھ لیں تو اس لئے کہ شادی شدہ اپنے دکھ پہ آنسو بہائیں گے جو کہ یقینی ھے تو ٹشو تو ھو گا پونچنے کے لئے
اور کنوارے عینک اس لئے لگایئں تاکہ غور سے پڑھ سکیں اور غور کر سکیں۔ تاکہ شوہر نامدارکا درجہ سمبھالنے سے بچ جایئں
امید ھے آپ لوگ سمجھ گئے ہوں گے ۔۔
سمجھانا ہمارا کام تھا جو ہم نے کر دیا باقی سمجھنا نا سمجھنا آپ کا کام
ہے
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers