ایک یا ایک سے زیادہ حل کے ساتھ پہیلی یا معمہ بنانے کیلئے جس درجہ کی ذہانت درکار ہے اس کے پیش نظر یہ نتیجہ اخذ کیا جا سکتا ہے کہ یہ ایک ترقی یافتہ انسانی ذہن کی پیداوار ہے۔ دنیا کی قدیم ترین پہیلیوں یا معموں کے شواہد سے یہ بات پایہ ثبوت کو پہنچ جاتی ہے کیونکہ ان سب کا تعلق دنیا کی بڑی تہذیبوں کے ساتھ ہے۔ پہیلی یا معمہ، خواہ زبانی ہو یا عملی، ایک بنیادی خصوصیت کا حامل ہوتا ہے اور وہ یہ کہ اسے حل کرنے کیلئے عام طور پر مطلوبہ معلومات اس کے اندر ہی موجود ہوتی ہیں۔               تفصیل سے پڑھئے
عملی پہیلیوں کو حل کرنے کیلئے شاذونادر ہی کسی خصوصی علم ، زبان یا تعلیم کی ضرورت ہوتی ہے۔ انہیں ہر کوئی ایک ہی سطح سے شروع کر سکتا ہے۔ قدیم ترین پہیلیوں کے جو شواہد ملے ہیں وہ سبھی عملی معموں کی شکل میں ہیں۔ آج ہم اس طرح کی چیزوں کو میکینکل پزلز کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔ عام طور پر سٹومیکین ( Stomachion یا (Ostomachion کو دنیا کا قدیم ترین پزل سمجھا جاتا ہے ۔ اس پزل کو عظیم یونانی ریاضی دان، طبیعات دان، فلکیات دان، انجینئر اور موجد ارشمیدس سے منسوب کیا جاتا ہے اور اس مناسبت سے یہ لوکلس آرکمیڈیئس(Loculus Archimedius) بھی کہلاتا ہے۔ اس لاطینی نام کا مطلب ’ارشمیدس کا ڈبہ‘ ہے۔ تیسری صدی قبل مسیح میں تخلیق کیا جانے والا یہ معمہ دراصل 14 ٹکڑوں پر مشتمل ایک ڈائی سیکشن پزل ہے جنہیں ترتیب سے لگایا جائے تو یہ ایک مربع شکل اختیار کرلیتے ہیں۔ کلاسیکل تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ اسے کس طرح کھیلا جاتا تھا اور ان ٹکڑوں کو مختلف انداز میں ترتیب دے کر کیسے مختلف چیزوں، جانوروں اور پودوں کی شکلیں بنائی جاتی تھیں، جیسے کہ ان ٹکروں سے ہاتھی، درخت، بھونکتا ہوا کتا، بحری جہاز، تلوار اور مینار وغیرہ بنانے کا سراغ ملتا ہے۔ یہ بھی اندازہ لگایا گیا ہے کہ یہ معمہ نوعمر لوگوں میں یادداشت کی صلاحیت کو بڑھانے کیلئے تیار کیا گیا۔ 1884ء میں ’’شارٹ ہسٹری آف گریک میتھ میٹکس‘‘ کے نام سے شائع ہونے والی اپنی کتاب میں جیمز گائو (James Gow) نے اس کھیل کا مقصد ان ٹکڑوں کو مختلف ترتیب سے مربع شکل دینا بتایا ہے۔ بل کٹلر (Bill Cutler) نامی امریکی ریاضی دان، جو باکس فلنگ پزلز کے حوالے سے خاص شہرت رکھتے ہیں، نومبر 2003ء میں ان ٹکڑوں کو مربع شکل میں 536 طریقوں سے ترتیب دینے میں کامیاب ہوئے۔ انیسویں صدی عیسوی کے شروع میں مغربی دنیا میں متعارف جانے والا چینی ڈائی سیکشن پزل ’’ٹینگرم‘‘ بھی سٹومیکین سے مماثلت رکھتا ہے۔ ٹینگرم کی طرز پر بنائی جانے والی کمپیوٹر پزل گیمز آج بھی بچوں اور بڑوں میں یکساں مقبول ہیں۔ چینی ٹینگرم سات ہموار شکلوں پر مشتمل تھی جنہیں ٹینز (tans) کہتے تھے۔ انہیں جوڑنے پر ایک مربع شکل بنتی ہے لیکن ان سے کئی دیگر طرح کی شکلیں بھی بن سکتی ہیں۔ سات ٹکڑوں کی مدد سے مختلف شکلیں بنانا ہی اس پزل کا مقصد ہے اور ان ٹکڑوں کو کسی مخصوص شکل پر اس طرح ترتیب دینا ہوتا ہے کہ یہ اس سے باہر نہ جائیں۔ یہ پزل اصل میں ’’ٹین کی آٹھویں کتاب‘‘ (The Eighth Book of Tan) کی وجہ سے مقبول ہوئی۔ ٹینگرم کی افسانوی تاریخ پر مشتمل اس کتاب میں پزل حل کرنے کیلئے 700 شکلیں دی گئی ہیں اور یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہے کہ یہ پزل چار ہزار سال پہلے ٹین نامی دیوتا نے ایجاد کیا تھا۔ لیکن عام طور پر یہ مشہور ہے کہ یہ معمہ چین کے سونگ خاندان کے دور میں تخلیق کیا گیا اور اس خاندان کا دور 960ء سے 1279ء ہے۔ اس لحاظ سے تو یہ قطعی طور پر دنیا کی قدیم ترین پہیلی نہیں کہلا سکتی۔ ایک میکینکل پزل ایسا بھی ہے جو دنیا کا قدیم ترین پزل کہلانے کا حقیقی دعویدار ہو سکتا ہے اور جو کہ اب بھی اپنی اصل شکل میں موجود ہے۔ یہ پزل کہیں اور نہیں بلکہ نیشنل میوزیم کراچی میں رکھا گیا ہے۔ موہنجودڑو سے ملنے والا یہ پزل 2550 قبل مسیح سے 2250 قبل مسیح کی وادی سندھ کی تہذیب سے تعلق رکھتا ہے۔ پزلز کی یہ قسم ڈیکسٹیرٹی پزل (Dexterity puzzle) یا مہارت کی پہیلی کہلاتی ہے۔ اِنڈس ویلی کا پزل گول اور قدرے مخروطی شکل کا ہے جس کا قطر 11.5 سنٹی میٹر اور اونچائی 1.8 سنٹی میٹر ہے۔اس میں اس چھوٹی سی گیند کو رخنے کے اندر رکھتے ہوئے چوٹی تک پہنچایا جاتا تھا۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers