اصل چیز سیرت ہے صورت نہیں کسی بادشاہ کا ایک بیٹا ٹھنگنا اور بد شکل تھا۔ اس کے دوسرے بھائی خوب قدآور اور خوبصورت تھے۔ ایک مرتبہ باپ نے اس کی طرف ناپسندیدگی اور حقارت سے دیکھا۔ شہزادہ اپنی عقل اور دانائی سے باپ کو کہنے لگا، اے باپ چھوٹے قد والا دانا بھلا یا لمبا تڑنگا بیوقوف۔ ضروری نہیں کہ جو چیز قد کاٹھ میں بڑی ہو قیمت میں بھی زیادہ ہو۔ بکری چھوٹی ہے، مگر پاکیزہ وحلال اور ہاتھی بڑا ہے-       تفصیل سے پڑھئے
مگر مردار۔ باپ ہنس پڑا۔ امیروں وزیروں کو یہ بات پسند آئی ،مگر بھائیوں کو دُکھ پہنچا۔ انہی دنوں میں بادشاہ پر کسی زبردست دشمن نے چڑھائی کر دی، جب لشکر آمنے سامنے ہوئے تو سب سے پہلے میدان جنگ میں کودنے والا وہی ٹھنگنا شہزادہ تھا۔ کہنے لگا: ’’میں لڑائی کے دن پیٹھ دکھانے والا نہیں ہوں خاک وخوں میں لت پت ہونے اور سر دھڑ کی بازی لگانے والا بہادر ہوں۔ میدان جنگ میں ڈٹ کر لڑنے والا اپنی جان کی بازی لگاتا ہے اور میدان سے منہ موڑکر بھاگنے والا پورے لشکرکے خون سے کھیلتا ہے۔‘‘ یہ کہہ کر دشمن کی فوج پرٹوٹ پڑا اور چند تجربہ کار فوجی نوجوانوں کو موت کے گھاٹ اتار ڈالا۔ جب لوٹ کر باپ کی خدمت میں پہنچا تو زمین بوس ہو کر آداب بجا لایا اور کہا: ’’اے باپ میرا قد کاٹھ تیری نظروں میں حقیر تھا، موٹا پے اور چوڑے چکلے پن ہی کو ہنر نہ سمجھئے۔ میدانِ جنگ میں موٹا تازہ بھاری بھر کم بیل نہیں دُبلا پتلا گھوڑا ہی کام آتا ہے۔‘‘ کہتے ہیں کہ دشمن کی ان گنت فوج کے مقابلے میں ان کی تعداد بہت کم تھی۔ ان میں سے ایک گروہ راہ فرار اختیار کرنے کا سوچ رہا تھا کہ شہزادے نے للکار کر کہا مرد ہو تو مردانگی کے جوہر دکھائو تاکہ عورتوں کا ملبوس نہ پہننا پڑے۔ اس کے اس بول سے سواروں کی غیرت حرکت میں آگئی اور جوش بڑھ گیا۔ یکبارگی دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ میں نے سنا کہ وہ اسی روز دشمن پر غالب آگئے۔بادشاہ نے شہزادے کے سر اور آنکھوں کو چُوما اور سینے سے لگا لیا اور روز بروز زیادہ مہربان ہوتا گیا حتیٰ کہ اسے اپنا ولی عہد نامزد کر دیا۔ دوسرے بھائی حسد کی آگ میں جلنے لگے، انہوں نے کھانے میں زہر ڈلوادیا، اتفاق سے شہزادے کی بہن بالا خانے سے یہ ماجرا دیکھ رہی تھی۔ اس نے کھڑکی کا پٹ کھٹکھٹایا، شہزادہ بھانپ گیا اور کھانے سے ہاتھ کھینچ کر کہنے لگا، یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ عقلمند تو مر کھپ جائیں اور نالائق ان کے مسند پر قبضہ جمائیں۔ بادشاہ کو اس صورت حال سے آگاہ کیا گیا تو اس نے اپنے دوسرے بیٹوں کو بلا کر ان کی مناسب گوشمالی کی، ہر کسی کو اسکی من پسند، جاگیر عطا کر دی۔ فتنہ دب گیا اور جھگڑا ختم ہو گیاکیونکہ دس درویش ایک گڈری میں سو سکتے ہیں، مگر دو بادشاہ ایک ملک میں نہیں سما سکتے۔ بن بلائو اور شیر کی صحبت بن بلائو سے لوگوں نے پوچھا کہ تو نے شیر کی صحبت کس لیے اختیار کی۔ کہنے لگا میں اس کے شکار کا بچا کھچا کھا کر گزر بسر کر لیتا ہوں اور اُس کی ہیبت کی پناہ میں دشمنوں کے شرسے محفوظ رہ کر زندگی گزارتا ہوں۔ لوگوں نے کہا اب جب تم اُس کی عاطفیت کے سایہ تلے آگئے اور اس کی عطا کردہ نعمتوں کا بھی اعتراف کرتے ہو تو اس کے قریب کیوں نہیں چلے جاتے تاکہ تمہیں بھی اپنے مخلص غلاموں اور خاصوں کے حلقہ میں شمار کرے۔ کہنے لگااس کی چیرہ دستی سے بھی تو محفوظ نہیں ہوں۔ آتش پرست خواہ سو سال تک آگ کی پرستش کیوں نہ کرتا رہے اگر پل بھر کے لیے اس میں گر جائے تو اسے بھی بھسم کر کے رکھ دے۔ ہوسکتا ہے کہ درباری مسخرہ مالا مال ہو کر دربار سے لوٹے یا پھر گردن کٹوا بیٹھے۔ دانائوں نے کہا ہے کہ بادشاہوں کی متلون مزاجی سے ڈرتے ہی رہنا چاہیے، کبھی تو وہ سلام کرنے پر بھی رنجیدہ ہو جاتے ہیں اور کبھی گالی دینے پہ خلعت بخش دیتے ہیں۔ اسی لیے دانائوں نے کہا ہے کہ تمسخر وظرافت مسخروں کے لیے تو یقینا ہنر ہے ،مگر دانائوں کے لیے اک عیب ہے۔ تو اپنی عزت ووقار کو مدنظر رکھ اور ہنسی مذاق اور تمسخر کو ندیموں پہ چھوڑ دے۔
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers