برہمنوں اور غیر مسلموں کا مقدس مقام ہے ایک روایت تو یہ بھی ہے کہ زمانہ قبل ازاسلام میں چند غیر مسلم ایک بہت بڑا بت خانہ کعبہ سے ہندوستان لائے کہ جس کا نام سومنات تھا‘ اسے جس مقام پر نصب کیاگیا اس کا نام اس بت کے نام پر رکھ دیاگیا۔ محمود غزنوی نے سومنات پر چڑھائی سے پہلے ہندوستان پر اپنے کئی حملوں کے دوران کافی بت پاش پاش کئے تھے-                                 تفصیل سے پڑھئے
اسے اس کے چند قابل اعتبار دوستوں نے بتایا تھا کہ ہندو کہتے ہیں کہ محمود نے جو بت گرائے تھے وہ ایسے بت تھے کہ جن سے سومنات ناراض تھا لہٰذا اس نے اس لئے ان بتوں کی طرف داری نہیں کی تھی اسے یہ بھی بتایا گیا کہ ہندو یہ بھی کہتے ہیں کہ سومنات کے پاس اتنی طاقت ہے کہ وہ جسے چاہے ایک لمحے میں تباہ کردے اس قسم کی بے معنی باتیں سن کر محمود غزنوی نے یہ فیصلہ کیا کہ اب کی دفعہ وہ سومنات کو مزہ چکھانے ایک مرتبہ پھر ہندوستان پر حملہ آور ہوگا چنانچہ 30ہزار سپاہیوں کے ساتھ وہ 20شعبان 415ھ کو سومنات کی مہم پر نکلا

جب اس کا لشکر سومنات کے قریب دریا کے کنارے پر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ سومنات کا قلعہ بہت بلند ہے اور دریا کا پ
انی قلعہ کی فصیل تک پہنچا ہوا ہے اہل سومنات قلعے کی دیوار پر کھڑے چلا چلا کر مسلمانوں سے یہ کہہ رہے تھے کہ ہمارا معبود سومنات تم کو یہاں کھینچ کر لایا ہے تاکہ ایک ساتھ ہی تم سب کو ہلاک کردے اور تم سے وہ ان تمام بتوں کا بدلہ لے گا کہ جن کو تم نے گرایا ہے اس کے بعد وہاں گھمسان کا رن پڑا اس جنگ میں 9ہزار کے قریب سومناتی ہلاک ہوئے۔ محمود نے جب سومنات کا قلعہ فتح کیا تووہ اس کے اندر واقع سومنات کے مندر میں گیا کہ جہاں سومنات کا بت رکھا ہوا تھا جب وہ سومنات کے ٹکڑے کرنے لگا تو وہاں موجود ہندو پجاریوں نے اسے کہا کہ وہ اس بت کے ٹکڑے نہ کرے وہ اس کے بدلے اس کے سامنے سونے اور ہیروں کے ڈھیر لگا دیں گے

اس پر محمود نے ان سے کہاکہ وہ اس بات کا خواہش مند ہے کہ تاریخ داں اسے محمود بت شکن کے نام سے یاد رکھیں نہ کہ محمود بت فروش کے نام سے ۔جب اس نے سومنات کے ٹکڑے کئے تو اس کے پیٹ کے اندر سے اس کو سونے اور ہیروں کے وہ انبار ملے کہ جن کی مالیت اس سونے سے دس گنا زیادہ تھی جس کی پیشکش اسے ہندو پجاریوں نے سومنات کونہ توڑنے کی صورت میں کی تھی۔

سومنات مندر سے ملنے والا سونا ٹکڑوں کی صورت میں محمود غزنوی اپنے ساتھ افغانستان لے گیا‘ افغان حکمران اپنے اسلاف کی فتوحات کے نتیجے میں حاصل ہونے والی قیمتی نوادرات کو کہ جو تاریخی اہمیت کی حامل تھیں اپنے قومی میوزیم کی زینت بناسکتے تھے پر وہ ہندوستان پر اتنے مہربان تھے کہ انہوں نے خاموشی سے سومنات کے ٹکڑے کہ جو سینکڑوں برس افغانستان میں موجود رہے ہندوستان کو واپس کردیئے ظاہر ہے کہ بادشاہوں کے احکامات کو کون چیلنج کرسکتا ہے۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers