کچھ ہو نہ ہو یہ بات تو ماننی پڑے گی کہ خان صاحب کو پبلک کی نفسیات کا اچھی طرح پتہ ہے-
جناب پشاور آل سینٹ چرچ پر دہشتگردوں نے حملہ کیا ہے-
خان صاحب: میرے چار حلقے!
خان جی بچے خسرہ ویکسین کے بغیر مر رہے ہیں-
خان صاحب: میرے چار حلقے!
صاحب وینا ملک نے شادی کرلی-
خان صاحب : میرے چار حلقے!!!
بہت برا ہوا جناب پشاور ائیرپورٹ میں ہوائی جہاز پر لینڈ کرتے وقت فائرنگ کی گئی ہے-
خان صاحب: ارے بھائی، میرے چار حلقے!!!
خان صاحب فوج نے دہشتگردوں کے خلاف آپریشن شروع کردیا ہے!
میرے چار حلقے! میرے چار حلقے! میرے چار حلقے!!!                       تفصیل سے پڑھئے


گیارہ مئی سنہ دو ہزار تیرہ کو وہ ہوا جسکی خان صاحب کو امید قطعاً نہ تھی، وہ تخت لاہور حاصل کرتے کرتے رہ گۓ- ایک سال ہونے کو آگیا لیکن وہ اب تک اس صدمے سے باہر نہیں نکل پاۓ، ایک ایک کو پکڑ کر کہتے ہیں ان کے ساتھ دھاندلی ہوئی ہے اور جب صدمے کا شدید دورہ اٹھتا ہے تو خیبر پختون خواہ اسمبلی تحلیل کرنے کی دھمکی دینے لگتے ہیں (کس حق سے یہ بات سمجھ سے باہر ہے)-
خیبر پختون خواہ کی 'حکمران' پارٹی, پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان صاحب، صوبہ پنجاب کے مختلف شہروں میں جلسے کر کے وہاں کی عوام کو یہ باور کروانا چاہتے ہیں کہ ان کے ساتھ نون لیگ نے سخت دھوکا کیا ہے، وفاقی حکومت کے اصل حقدار وہی ہیں اور یہ نون لیگ قطعاً اس لائق نہیں کہ یہ ذمہ داری اٹھا سکے-
اپنے ساتھ ہونے والی مبینہ دھاندلی ثابت کرنے کے لئے وہ اندھیرے میں تیر پر تیر چلا رہے ہیں اسکی زد میں چاہے کوئی بھی ادارہ، جماعت، مرد، عورت، ہاتھی، بندر، گھوڑی آجاۓ- مقصد بس کسی طرح سال دو ہزار تیرہ کے الیکشنز کو ناقص قرار دینا ہے-
حضرت ان عناصر سے اس حد تک نالاں ہیں کہ بات بے بات الزام تراشی سے بھی باز نہیں آتے، جو الزامات وہ عائد رہے ہیں ان کے ثبوت ہم سے نہ مانگیں کیونکہ خود خان صاحب کے پاس بھی کوئی ٹھوس ثبوت موجود نہیں-
بہاولپور جلسے سے چند روز پہلے ایک ٹاک شو کی میزبان نے جب ان الزامات کی بابت خان صاحب سے دریافت کیا تو جواب میں انہوں نے کسی قسم کے ثبوت کی بجاۓ اپنی سیاسی بصیرت کا حوالہ دیا-
کچھ ہو نہ ہو یہ بات تو ماننی پڑے گی کہ خان صاحب کو پبلک کی نفسیات کا اچھی طرح پتہ ہے- کیا بات عوام کو کلک کرتی ہے، کیسا لہجہ انکی سمجھ میں آتا ہے- اپنے جلسوں میں وہ اسکا خوب فائدہ اٹھاتے دکھائی دیتے ہیں- مخالفین کی تضحیک سے لے کر دھونس دھمکی تک ہر حربہ استعمال کرتے ہیں، ان کے نوجوان چاہنے والے اس انداز سے خوب محظوظ ہوتے ہیں اور یوں خان صاحب کا کاروبار چلتا رہتا ہے- اپنے بہاولپور جلسے میں بھی کپتان نے اپنی اس خوبی کا بھرپور مظاہرہ کیا اور حاضرین کی داد وصول کی-
لاہور کے سانحہ سترہ جون کو تحریک انصاف نے جتنا اپنے مفاد میں استعمال کرنے کی کوشش کی کسی اور پارٹی نے نہیں کی (نوٹ: لکھاری ن-لیگ کی حمایتی نہیں ہے)- اس میں کوئی شک نہیں کہ واقعہ افسوسناک اور قابل مذمت ہے اور اس حوالے سے کارروائی بھی ہونی چاہیے لیکن کاش جس گھن گرج کے ساتھ خان صاحب نے لاہور واقعہ کی مذمت کی، دہشتگردوں کے ہاتھوں پاکستانیوں کی ہلاکتوں پر بھی ایسے ہی جذبات کا اظہار کرتے-
کاش جس طرح انہوں نے ہاتھ لہرا لہرا کر پنجاب پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکی دی اسی طرح دہشت گردوں کو بھی للکارتے اور کہتے اب اگر کسی پاکستانی کا ایک بال بھی بیکا ہوا تو میں اپنے ہاتھوں سے تم لوگوں کے خلاف کارروائی کروں گا-
لیکن نہیں! یہ جذبات صرف ن-لیگ کے ہاتھوں ہونے والی نا انصافیوں کے لئے مخصوص ہیں، ملک دشمن عناصر کو تنبیہ کرنا خان صاحب کے وسیع مفادات میں نہیں-
بہاولپور کے جلسے میں وزیر اعظم میاں نواز شریف کو آئی ڈی پیز کے مصائب پر سیاست کھیلنے سے باز رہنے کی ہدایت کرتے قومی لیڈر کپتان خان خود سانحہ ماڈل ٹاؤن کے متاثرین کے دکھ پر تالیوں، نعرے بازیوں اور انقلابی گانوں کے بیچ اپنی سیاست چمکاتے دکھائی دیے-
نوے دن میں تبدیلی دعویٰ کرنے والے عوام کے لیڈر کپتان خان کو پاکستان کی بھلائی سے زیادہ حکومت کی چاہ ہے اسی لئے بجاۓ صوبے میں اصلاحات نافذ کرنے کے بجاۓ بار بار خیبر پختون خواہ اسمبلی تحلیل کرنے کی دھمکی دیتے نظر آتے ہیں-
ہمارے یہ عظیم لیڈر ایک طرف تو آئی ڈی پیز ریلیف کے لئے حکومت سے فنڈز طلب کرتے ہیں جبکہ دوسری جانب خود پارٹی کا پیسا جلسوں اور ریلیوں پر پانی کی طرح بہا رہے ہیں-
خود پسندی کا یہ عالم ہے کہ آئی ڈی پیز کی امداد میں پارٹی اور خیبر پختون خواہ گورنمنٹ کی نمائندگی سے زیادہ عمران خان فاؤنڈیشن کا نام نظر آرہا ہے- گرینڈ جرگہ کی طرف سے وزیر اعظم کی بجاۓ خود کو ترجیح دینا بڑی کامیابی سمجھتے ہیں، کیا واقعی یہ ایک عوامی لیڈر کی نشانی ہے؟
خان صاحب کو یہ سمجھنا چاہیے کہ اس وقت قوم کڑے امتحان سے گزر رہی ہے، اپنی بچکانہ حرکتوں اور بیانات سے اسے حکومت اور آپریشن ضربِ عضب کی طرف سے بدگمان نہ کریں-
فوج اور حکومت نے ملک دشمن عناصر کے خلاف کارروائی کا آغاز کر کے بڑی جرات کا مظاہرہ کیا ہے اور عوام کو ان پر بھرپور اعتماد ہے، اس صورت حال کو اپنے سیاسی جوڑ توڑ کے لئے استعمال نہ کریں، یہ بات تو طے ہے کہ اگر آپ کی حکومت ہوتی تو شاید ابھی بھی یہ سب ممکن نہ ہوتا. آپ اپنے 'ناراض بھائیوں' پر کوئی آنچ تھوڑی آنے دیتے-
آپ الیکشن اصلاحات کروانا چاہتے ہیں، ضرور کروایں یہ وقت کی ضرورت ہے لیکن اس کے لئے ایوان میں جا کر اپنا موقف پیش کریں سٹریٹ پولیٹکس کھیل کر ملک میں مزید انتشار نہ پھیلائیں-
خیبر پختون خواہ کی پوری ذمہ داری آپ کی پارٹی کے کاندھوں پر ہے اسے پانچ سالوں میں ایک مثالی صوبہ بنا کر دکھائیں کاغذی منصوبوں کو عملی جامہ پہنائیں اور سنجیدگی سے صوبے کی اصلاح پر کام کریں پھر اگر اگلے الیکشنز میں آپ کے ساتھ دھاندلی ہو تو پوری قوم آپ کے ساتھ ہوگی-
اب ارسلان کے سوالوں کا جواب نہیں ، خاموش ہو گئے ہیں ، پھر جب وزیراعظم بنے گے تو پوری دنیا میں میڈیا یہ کہے گا کے اسلامیہ جمہوریہ پاکستان کا زانی وزیراعظم عمران خان کی ایک ناجائز بیٹی بھی ہے ، کتنا برا لگے گا ، کتنی پاکستان کی جگ ہنسائی ہوگی ، اور کوئی الزام لگے نہ یا لگے لکن یہ زانی والا داغ کیسے دھوے گا ، پہلے یہ تو دھاندلی ختم کر لے .
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers