یہ بات کم لوگ ہی جانتے ہیں کہ دور جدید میں سیالکوٹ پورے جنوبی ایشیا میں پہلا صنعتی مرکز ہونے کا اعزاز رکھتا ہے ۔ شہر میں جدید صنعت کا آغاز1849ء سے ہوا جب انگریزوں نے یہاں کنٹونمنٹ تعمیر کیا۔جلد ہی شہر میں کئی انگریز مع خاندان چلے آئے۔انہوں نے پھر تفریح و ورزش کی خاطر کرکٹ ،ہاکی،اسکوائش ،فٹ بال ،ٹینس،پولو وغیرہ کھیلنے کے میدان تیار کرائے اور من پسند کھیلوں میں مگن ہو گئے۔    تفصیل سے پڑھئے

ان کھیلوں کا سامان برطانیہ سے آتا تھا۔جب کوئی بیٹ ،ریکٹ یا چھڑی ٹوٹ جاتی، تو مرمت کی خاطر انگریز مقامی ترکھانوں سے بھی رجوع کرتے ۔چمڑے کی گیندیں پھٹتی، تو موچیوں سے سلوائی جاتیں۔جلد ہی سیالکوٹ کے ہونہار اور ذہین ہنر مند مقامی لکڑ ی سے کرکٹ بیٹ،ریکٹ اور ہاکیاںبنانے لگے۔ابتدا میں وہ خام تھیں مگر تجربے و مشق سے سیالکوٹی سامان سپورٹس میں نفاست و خوبصورتی آتے لگی۔ مگر غریب مسلمان ہنر مندوں کے پاس اتنا سرمایہ نہیں تھا کہ وہ وسیع پیمانے پر کھیلوں کا سامان بنانے کی خاطر کارخانہ بنا سکیں۔سردار گنڈا سنگھ اوبرائے علاقے کا بڑا زمیندار تھا۔ پہلی بار اسے احساس ہوا کہ انگریزوں کو درکار سامان سپورٹس بنانے والی فیکٹری کھولی جائے تو وہ خاصا پیسا کما سکتا ہے۔ سو 1883ء میں سردار نے ’’اوبرائے سپورٹس کمپنی‘‘ کی بنیاد رکھ دی۔ اوائل میں وہاں کرکٹ بیٹ،ہاکیاں ،مختلف اقسام کے ریکٹ ،پولوں کی چھڑیاں بننے لگیں۔یہ سامان بنانے والے سبھی ہنر مند سیالکوٹی مسلمان تھے۔ حسب توقع اوبرائے سپورٹس کا کاروبار چمک اٹھا ہندوستان بھر میں پھیلے انگریز کمپنی سے سامان سپورٹس منگوانے لگے کیونکہ یہ برطانیہ کی نسبت سستا پڑتا تھا۔سیالکوٹ کے محنتی ہنر مندوں کا تیار کردہ سامان سپورٹس اتنا معیاری،عمدہ اور پائیدار تھا کہ صرف دو سال بعد 1885ء سے وہ بیرون ممالک بھجوایا جانے لگا۔چناں چہ سامان سپورٹس ہی برآمد ہونے والی پہلی ہندوستانی مصنوعہ قرار پایا۔گویا جدید ہندوستانی صنعت نے سیالکوٹ میں جنم لیا اور اس کا سبب مسلمان ہنر مندوں کی کمال مہارت و ندرت تھی۔ یہ 1918ء کی بات ہے ،ایک انگریز فوجی افسر اپنا پھٹا فٹ بال مرمت کرانے اوبرائے سپورٹس آیا۔تب ’’سید صاحب‘‘ کے لقب سے مشہور ایک تجربے کار موچی وہاں کام کرتے تھے ۔انہوں نے اس خوبی سے پھٹا فٹ بال سیا کہ انگریز افسر دنگ رہ گیا۔اس نے پھر سید صاحب کو منہ مانگا انعام دیا۔ اس واقعے سے سید صاحب کو احساس ہوا کہ اگر وہ فٹ بال تیار کر کے انگریزوں کو فروخت کرنے لگیں تو ان کی آمدن میں خاطر خواہ اضافہ ہو سکتا تھا۔چناں چہ وہ فٹ بال تیار کرنے کے سلسلے میں گھر پر تجربے کرنے لگے۔ایک سال کی محنت شاقہ اور ناکامیوں کے بعد آخر وہ ایسا فٹ بال بنانے میں کامیاب ہو گئے جس سے کھیلا جا سکتا تھا۔ اس دوران مقامی انگریز سید صاحب کے واقف کار بن چکے تھے سو انہیں برائے جانچ پڑتال ہندوستان میں بنا پہلا فٹ بال دیا گیا۔انگریزوں نے مقامی فٹ بال کو ہر لحاظ سے معیاری پایا۔وہ بہت حیران ہوئے اور خوش بھی !انہوں نے سید صاحب کی فن کاری کو داد و دہش سے نوازا۔ اس کامیابی سے سید صاحب کا حوصلہ بلند ہو گیا۔ انہوں نے اوبرائے سپورٹس کی ملازمت کو خیر باد کہا‘چند موچی ساتھ ملائے اور گھر میں فٹ بال تیار کرنے لگے ۔محنت و مہارت کے باعث ان کا کاروبار چمک اٹھا۔سید صاحب کے بنے فٹ بال ہندوستان ہی نہیں بیرون ممالک بھی مقبول ہوئے۔چناں چہ انہوں نے ہی سیالکوٹ میں فٹ بال بنانے کی روایت قائم کی اور اسے پروان بھی چڑھایا۔سید صاحب کی خدمات کے پیش نظر سیالکوٹ میں ایک سڑک کا نام ان سے منسوب ہے۔ اولیّں ہنر مندوں سے شاگردوں نے فٹ بال بنانا سیکھا۔ ان سے اگلی نسل میں منتقل ہوا اور یوں سیالکوٹ میں کئی ہنر مند فٹ بال تیار کرنا سیکھ گئے۔1947ء کے بعد جب تمام ہندو صنعت کار بھارت چلے گئے تو مسلم ہنر مندوں کو کاروبار کرنے کا بھی موقع ملا۔انہوں نے اپنی کمپنیاں کھول لیں اور بیرون ممالک کی سپورٹس کمپنیوں سے کاروبار کرنے لگے سیالکوٹ میں فٹ بال کی تیاری سے منسلک ہنر مندوں اور صنعت کاروں کو 1982ء میں عالمی شہرت ملی اور ان کی عزت و دولت میں بھی اضافہ ہوا۔تب اسپین میں ہونے والے ورلڈ کپ میں ’’ٹانگو ہسپانیہ‘‘( Tango España) نامی فٹ بال سیالکوٹ ہی میں تیار ہوا۔ یہ پہلا فٹ بال ہے جس میں پولی پور تھرین تہ استعمال کی گئی تاکہ اسے نمی سے بچایا جا سکے۔یہی چمڑے سے بنا آخری فٹ بال ہے جو فٹ بال کپ میں استعمال ہوا۔ اب پولی پورتھرین سے گیندیں بنتی ہیں۔ اس زمانے کے مایہ ناز فٹبالروں کو ٹانگو ہسپانیہ بہت بھایا۔ان کی پسندیدگی دیکھ کر آسٹریلیا سے لے کر برازیل اور ارجنٹائن تک شائقین فٹ بال پاکستان ساختہ گیندیں خریدنے لگے۔یوں ہزار ہا میل دور بیٹھے سیالکوٹ کے ہنر مندوں نے اپنی صلاحیتوں کی دھاک دنیا بھر میں بٹھا دی۔ ایک وقت ایسا آیا کہ دنیا میں ہر سال جتنے فٹ بال بنائے جاتے،ان میں 80فیصد پاکستان سے آتے۔ سبھی فٹ بال دستی بنائی کے فٹ کا شاہکار اور مضبوطی و پائیداری میں اپنی مثال آپ ہوتے۔ تاہم 2000ء کے بعد چین،تھائی لینڈ،انڈونیشیا وغیرہ میں مشینوں سے فٹ بال بننے لگے تو پاکستانی گیندوں کی مانگ کم ہو گئی۔ بڑی وجہ یہ ہے کہ مشین سے بنے فٹ بال سستے ہوتے ہیں ،اسی باعث پاکستانی فٹ بالوں کی مارکیٹ سکڑنے لگی۔لیکن ہاتھ سے بنے فٹ بال معیاری و دیرپا تھے،سو تمام بین الاقوامی میں پاکستانی گیندوں کا استعمال جاری رہا۔ سیالکوٹ کے ہنر مندوں اور صنعت کاروں کو 2010ء میں سخت ضرب لگی جب ورلڈ کپ میں چین کی بنی گیند،جوبلانی استعمال ہوئی مگر یہ فٹ بال کسی کو پسند نہ آیا۔ اسی باعث لندن اولمپکس میں فٹ بال مقابلے پاکستانی گیند البرٹ ہی سے کھیلے گئے اور ورلڈ کپ 2012ء کے بیشتر میچ بھی پاکستانی فٹ بال ،برازو کا سے کھیلے جائیں گے۔ یہ اہل سیالکوٹ کی خوبی ہے کہ وہ نئے وقت کے تقاضے سمجھ کر خود میں تبدیلیاں لے آتے ہیں۔اگر وہ دستی بنائی کی قدیم روایات ہی سے چمٹے رہتے،تو شاید ان کے بنے فٹ بالوں کی مانگ کم ہوتی چلی جاتی۔مگر اب انسانی دماغ اور مشین کے اشتراک سے وہ بہتر اور مقبول عام فٹ بال تخلیق کرنے پر قادر ہو چکے ۔اسی باعث آج بھی دنیائے فٹ بال میں سیالکوٹ کے قابل ہنر مندوں کی اہمیت کم نہیں ہوئی۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers