پنسلین کے موجد‘ الیگزینڈر فیلمنگ خاصے غائب دماغ شخص تھے اور مردم بیزار بھی۔
وہ گھنٹوں لیبارٹری میں تنہا بیٹھے کام میں محو رہتے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اسی قسم کے ’’سرپھرے‘‘ لوگ ملتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے نام بھی کمایا۔ ایسے ہی چند سرپھروں کا تذکرہ پیش ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
بھائی یوسف
---------
فن خوش نویسی کے امام، خطاط اعظم اور دہلوی طرز کتابت کے بانی حافظ محمد یوسف دہلوی ادبی و سماجی حلقوں اور دوست احباب میں بھائی یوسف کے نام سے پکارے جاتے۔
موصوف غضب کے سرپھرے اور بددماغ تھے‘ بدلحاظ نہیں!
ان کا آبائی تعلق جنڈیالہ شیرخان (ضلع گجرانوالہ) سے تھا۔
والد منشی محمد دین جنڈیالوی اعلیٰ درجے کے خوش نویس تھے جو انیسویں صدی کی آٹھویں دہائی میں دہلی چلے گئے۔
اسی شہر میں 1894ء میں یوسفؔ دہلوی کی ولادت ہوئی۔ ممتاز مورخ اور ادیب ضیاء الدین برنی ان کے بڑے بھائی تھے جو 1889ء میں پیدا ہوئے۔
بھائی یوسفؔ سے چھوٹے منشی عبدالقدیر تھے جنھوں نے سیاست میں بڑا نام کمایا۔
وہ 1930ء سے تادم مرگ انڈین نیشنل کانگریس کی مرکزی مجلس عاملہ کے رکن رہے۔ قیام پاکستان کے بعد ضیاء الدین برنی تو فوراً یہاں آ گئے۔
لیکن بھائی یوسف اور منشی عبدالقدیر‘ دونوں کانگریس کے وفادار اور طرف دار تھے‘ اسی لیے انھوں نے بھارت ہی میں رہنے کا فیصلہ کیا۔
بھائی یوسف نے 1914ء میں سینٹ اسٹیفن کالج دہلی سے بی۔اے کیا۔ یہ وہ دور تھا جب مسلمان گریجوایٹ خال خال ہی دستیاب ہوا کرتے۔
بھائی یوسفؔ اگر چاہتے تو بآسانی کوئی اعلیٰ سرکاری ملازمت اختیار کر لیتے مگر انھوں نے اپنے خاندانی فن کو سرکاری منصب پر ترجیح دی۔ اُنھوں نے چند برس مولانا محمد علی جوہر کے روزنامہ ’’ہمدرد‘‘ اور کانگریسی علما کی جماعت یعنی جمعیت علمائے ہند کے اخبار’’الجمعیتہ‘‘ سے وابستگی اختیار کر لی۔
بعد ازاں ذاتی کام شروع کیا اور دیکھتے ہی دیکھتے اُن کی شہرت دنیا کے ایک سرے سے دوسرے سرے تک جا پہنچی۔ آپ ماشا اللہ حافظ قرآن اور قاری بھی تھے مگر اُن کی اس خصوصیت سے بہت کم لوگ واقف ہوئے۔
پاکستان کے پہلے وزیراعظم‘ شہید ملت لیاقت علی خان آپ کی صلاحیتوں کے بڑے معترف تھے۔ بینک دولت پاکستان قائم ہونے کے بعد جب ملک میں اپنے زر کاغذی (کرنسی نوٹ) جاری کرنے کا مرحلہ درپیش ہوا تو اُس پر تحریری کلمات لکھنے کے لیے کسی اعلیٰ درجے کے خطاط کی ضرورت پڑی۔
لیاقت علی خان اور وزیر خزانہ غلام محمد کے روبرو متعدد خطاطوں کے نمونہ فن پیش کیے گئے مگر وہ کسی سے بھی مطمئن نہ ہوئے۔
آخرکار قرعہ انتخاب بھائی یوسف کے نام پر جا ٹھہرا۔ لیاقت علی خان نے بھائی یوسف کو بذریعہ سرکاری خط دعوت دی کہ وہ محض چند روز کے لیے پاکستان آکر یہ کام انجام دے ڈالیں مگر وہ آمادہ نہ ہوئے۔آخر لیاقت علی خان نے اُس وقت کے وزیرتعلیم ہند‘ ڈاکٹر ذاکر حسین سے ذاتی حیثیت میں یہ درخواست کی کہ وہ بھائی یوسف کو آمادہ کریں۔
بھائی یوسف کے دل میں ڈاکٹر ذاکر حسین کے لیے بڑا احترام تھا۔
اس لیے اُن کی فرمائش رد نہ کرسکے اور پندرہ یوم کے لیے کراچی آگئے جو اُن دنوں پاکستان کا دارالحکومت تھا۔
بھائی یوسف کے بھتیجے علائو الدین خالد کراچی میں معروف ناشر و تاجر کتب تھے۔ بھائی یوسف نے بندر روڈ (موجودہ ایم-اے-جناح روڈ) پر واقع اُن کے فلیٹ میں قیام کیا۔ اُس دور کا کراچی انتہائی صاف ستھرا، ہرا بھرا اور دل کش شہر تھا۔
بھائی یوسف نے کام کاج تو رکھا ایک طرف اور کراچی کے گلی کوچوں اور مضافات کی تفریح میں مگن ہوگئے۔ وہ مچھلی کا شکار کرنے کے شوقین تھے‘ سو کئی روز تک کراچی کے قریبی ضلع ٹھٹھہ کی جھیلوں اور ندیوں میں اپنی صیادی کا شوق پورا کرتے رہے۔
اس دوران کئی بار وزیر اعظم بذات خود ان کے پاس آئے اور نوٹوں پر لکھنے کا کام جلد انجام دینے کی درخواست کی۔ مگر بھائی یوسف ٹالتے چلے گئے۔
تاہم ایک روز جب ذوق کتابت اچُھلا تو پھر محض چند گھنٹوں کے دوران ایک، دو ، پانچ، دس اور سو روپے کے نوٹوں پر کتابت لکھ ڈالی۔ اُن کی لکھائی آج بھی’’ کاغذی زر‘‘ پر نظر آتی ہے۔ پھر مزے کی بات یہ کہ اُنھوں نے اس خدمت کا معاوضہ بھی قبول نہیں کیا۔
اُنھیں کراچی اور پاکستان اس حد تک پسند آیا کہ پھر بھارت جانے کاارادہ ترک کر یہیںکے ہو رہے۔ اُنھوں نے بے شمار کتب کے سرورق لکھے اور اعلیٰ درجے کی خطاطی کی۔
بھائی یوسف کے سر پھرے پن کا ایک ’’تاریخی‘‘ واقعہ اور پڑھ لیجیے۔ برصغیر کے ممتاز ادبی صحافی ظفرنیازی مرحوم نے کراچی سے’’ نقاد‘‘ نامی جریدے کا اجراکیا۔ وہ بھی بھائی یوسف کے بے تکلف دوست تھے۔
اُنھوں نے بھائی یوسف سے درخواست کی کہ وہ اُن کے جریدے کی لوحِ سرورق لکھ دیں۔ بھائی یوسف نے حسبِ عادت کام کو تعطل میں ڈال دیا۔
ظفر نیازی نے بھی قسم کھالی تھی کہ وہ یہ کام بھائی یوسف ہی سے کروا کر دم لیںگے۔
یوں تین ماہ تک پرچے کی پہلی اشاعت معرض التوا میں رہی۔ ظفر نیازی مرحوم کی یہ خواہش بھی تھی کہ پرچے کے دفتر کا سائن بورڈ بھی بھائی یوسف اپنے دست مبارک سے لکھ دیں۔ مگر اُن کی یہ آرزو پوری ہونے کے آثار دور دور تک دکھائی نہ دیتے۔
البتہ ظفر نیازی نے ایک خوبصورت بالکل سادہ تختہ رنگ و روغن سے مزین کراکر دفتر کے باہر نصب کررکھا تھا۔
وہ سادہ تختہ تین ماہ تک یوں ہی معلق رہا۔
بھائی یوسف کا فلیٹ ’’نقاد‘‘ کے دفتر سے چند گز کے فاصلے پر واقع تھا۔ ایک شام وہ چہل قدمی کرتے دفتر نقاد کے سامنے سے گزرے۔ نہ معلوم اُنھیں کیا سوجھی؟ اُس وقت دفتر بند تھا۔ بھائی یوسف نے وہیں نزدیک واقعہ اسٹیشنری کی دکان سے ایک چاک خریدا۔
پھر اُسی دکان کے مالک سے اسٹول لے کر دفتر کی سیڑھیوں پر رکھا اور اُس پر کھڑے ہوکر خالی بورڈ پر ماہنامہ نقاد کراچی کے الفاظ کا دل کش خاکہ بنایا، اسٹول سے اترے، مالک کے حوالے کیا اور پھر ہاتھ جھاڑ تے خراماں خراماں اپنی منزل کی طرف گامزن ہوگئے۔
اگلی صبح جب ظفر نیازی مرحوم دفتر آئے تو خالی بورڈ کو ’’بھرا ‘‘ دیکھ کر اُن کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئیں۔ اُنھوں نے فوراً ایک ماہر پینٹر بلا کر خالی جگہوں کو پُر کروایا۔
پھر اس تیار شدہ بورڈ کی مختلف زاویوں سے عکاسی کی گئی۔ ایک بہترین تصویر کا انتخاب کرکے اُس کا گٹکا (Block)بنوایا اور یوں صاحب!…دن کے دن سرورق کے لیے بہترین لوح تیار ہوگئی۔
باقی سب کام تو تیار ہی تھا۔ نیازی صاحب نے جھٹ پٹ سرورق بنواکر پرچہ چھپنے بھیج دیا۔ یوںنقاد کا پہلا شمارہ مُنصّۂِ شہود پر آگیا۔
لیکن جناب!…کہانی ختم نہیں ہوئی‘ یہاں سے تو اصل داستان شروع ہوتی ہے۔
پرچہ شائع ہوتے ہی مرحوم نیازی اُس کی ایک کاپی لیے بھائی یوسف کی خدمت میں حاضر ہوئے اور نہایت ادب کے ساتھ نذر گزاری۔ مگر یہ کیا؟…
جیسے ہی بھائی یوسف کی نظر پرچے کی لوحِ پیشانی پر پڑی تو اپنی ’’خطاطی ‘‘دیکھ کر چراغ پا ہوگئے۔ اُنھوں نے رسالہ ایک طرف پھینکا اور نیازی مرحوم کو کمرے سے نکل جانے کا حکم دیا۔
اگلے ہی دن اُنھوں نے نیازی صاحب مرحوم پر مبلغ پانچ ہزار روپے ہرجانہ ادا کرنے کا عدالتی دعویٰ دائر کردیا۔
بھائیو! اُس دور کے پانچ ہزار سکہ رائج الوقت 32لاکھ روپے سے بھی زائد ہیں۔ یہ سر پھرا پن نہیں تو اور کیا ہے کہ جس فن کار نے سرکار سے ایک پیسا بھی نہ لیا‘ وہ دیرینہ دوست سے پانچ ہزار روپے طلب کررہا تھا۔
مرحوم نیازی نے بڑی معافی تلافی کے بعد مبلغ پانچ سوروپے دے کر اپنی جان چھڑائی۔ چند روز بعد بھائی یوسف نے نہایت بے نیازی کے ساتھ وہ رقم اُنھیں واپس کردی۔ دوستی پھر بحال ہوچکی تھی۔
ریڈیو پاکستان کا علامتی نشان (LOGO) ’’وقول للناس حسنا‘‘ بھی بھائی یوسف کے فن کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یہ اُس وقت کے ڈائریکٹر جنرل ریڈیو پاکستان، ممتاز شاعر اور صدا کار مرحوم زیڈ-اے-بخاری کا دل گردہ ہی تھا کہ وہ بھائی یوسف سے یہ خدمت لینے میں کامیاب ہوگئے۔ ورنہ تو وہ پُٹھے پر ہاتھ ہی نہ رکھنے دیتے تھے۔
بھائی یوسف کے تحریر کردہ طغرے اور الواح آج بھی دیکھنے والوں کی نگاہیں خیرہ کرتی ہیں۔
بھائی یوسف نے تقریباً 83برس کی عمر پائی لیکن تمام زندگی درویشانہ، قلندرانہ اور بے نیازانہ گزار دی۔ وہ شادی سے ہمیشہ مجتنب رہے۔ اُن کی بے نیازی محض ازدواجی جھمیلوں سے بچنے تک ہی محدود نہ تھی بلکہ وہ لباس تبدیل کرنے حتیٰ کہ منہ ہاتھ دھونے اور دانتوں کی صفائی کرنے سے بھی بچے رہنے کی کوشش کیا کرتے۔
اس کے باوجود حیرت انگیزطور پر اُن کی بینائی آخر عمر تک سلامت رہی۔ یہی نہیں بلکہ وقت رحلت اُن کے منہ میں تقریباً تمام دانت مضبوطی سے جڑے ہوئے تھے۔
وہ بوڑھے ضرور تھے‘ دبُلے پتلے، لیکن ضعیف یا نحیف ونزار نہیں۔ پیرانہ سالی کے باجود بھائی یوسف کئی کئی میل پیدل چلتے۔ اُنھیں کبھی عصائے پیری کی ضرورت پیش نہیں آئی۔ ایک مرتبہ وہ منہ ہاتھ دھوئے بغیر اور میلا کچیلا قمیص پاجامہ پہن کر بخاری صاحب کے دفتر جا دھمکے ۔
جب وہ چند منٹ بیٹھ کر وہاں سے رخصت ہونے لگے تو بخاری صاحب نے کہا: ’’بھائی یوسف!…اگر آپ بُرا نہ مانیں تو ایک عرض کروں؟
بھائی صاحب بولے: ’’ہاں بھئی!…کہو…کیا بات ہے؟
زیڈ-اے بخاری نے بڑے ادب کے ساتھ جواب دیا: ’’بھائی یوسف!…کبھی کبھی نہا بھی لیا کرو…اللہ تعالیٰ تمھیں اور میل عطا کردے گا۔ ‘‘
بھائی یوسف یہ بات سُن مسکرائے اور کوئی جواب دیے بغیر باہر چلے گئے۔
بھائی یوسف کے صرف تین شوق تھے: سیر و تفریح، شکار اور کثرتِ چائے نوشی۔ اور وہ جو کہا جاتا ہے کہ ’’سیاح اور شکاری حضرات بڑی مبالغہ آرائی کرتے ہیں۔‘‘ یہ مثال بھائی یوسف پر صادق آتی تھی۔
اُن کے بقول اُنھوں نے انسانوں کے علاوہ ہر ذی روح کا شکار کیا۔ اُنھوں نے پچیس فٹ لمبا شیر بھی مارا اور پندرہ فٹ اونچے گینڈے کو بھی نشانہ بنا ڈالا۔ جانوروں کے اس ’’حجم‘‘سے بھائی یوسف کی شکاری داستانوں کی ’’صداقت‘‘ کا اندازہ خود لگا لیجیے۔
یہ لطیفہ بھی اُنھیں سے منسوب ہے کہ ایک بار اُنھوں نے شیر کے سر پر گولی ماری‘ تو وہ اُس کے ایک پچھلے پنجے سے ہو کر باہر نکلی۔ بعد میں اُن کے کسی مصاحب نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا: دراصل شیر اپنے پچھلے پنجے سے اپنا سر کھجا رہا تھا۔‘‘
قیامِ پاکستان سے کئی برس پہلے بھائی یوسف نے ہندوستان کے ایوان پارلیمان کو اپنی خطاطی سے مزین کیا۔ اُنھوں نے پورا قرآن کریم دہلوی خط نستعلیق میں کتابت کیا تھا۔ وہ نسخہ شائع بھی ہوا لیکن چند علما کرام کی مذمت اور مخالفت کے سبب عام نہ ہوسکا۔
آج وہ نادر نسخہ نایاب ہے۔
گیارہ مارچ 1977ء کو اس نابغہ روزگار ہستی کا سڑک کے حادثے میں انتقال ہو گیا۔ ایک ظالم اور سنگ دل بس ڈرائیور نے اس شمعِ علم و فن کو اُن کی رہائش گاہ کے سامنے ہی گُل کردیا۔ حق مغفرت کرے عجب آزاد مرد تھا
استاد حمید
_____
کراچی کے دل ’’صدر‘‘کا محلہ رتن تلائو ایک دور میں خود کار گاڑیوں کی مرمت کا سب سے بڑا مرکز تھا۔ اب وہاں موٹر سائیکلوں کی خرید و فروخت ہوتی ہے جن کی سیکڑوں دکانیں وہاں قائم ہیں۔ مگر 60ء کی دہائی تک وہاں موٹر گاڑیوں کے مستریوں کا راج تھا۔
انہی میں ایک سر پھرے اور بد دماغ کاری گر عبدالحمید بھی تھے جنھیں عرف عام میں اُستاد حمید کہا جاتا۔ بھائی یوسف کی طرح اُن کا تعلق بھی دہلی سے تھا۔
اُستاد کی زندگی میں اُن سے بڑا موٹر میکینک کم از کم کراچی میں تو کوئی نہ تھا۔ وہ بہت دور سے آتی یا جاتی ہوئی گاڑی کی محض آواز سُن کر بتادیتے کہ اس کے فلاں پرزے یا حصہ میں کوئی خرابی ہے۔
وہ اس حدتک سر پھرے تھے کہ کسی بڑے سے بڑے آدمی کی گاڑی مرمت کرنے اُس کے محل یا کوٹھی میں نہ جاتے۔
اُنھیں گورنرجنرل حضرت قائد اعظمؒ اور وزیر اعظم لیاقت علی خان کی سرکاری کاروں کی مرمت کرنے کا شرف حاصل رہا۔ مگر یہ گاڑیاں بھی اُن کے کارخانے ہی میں لائی جاتیں۔ وہ اپنے شاگردوں سے بے انتہا پیار کرتے مگر اُن کی خوب ٹھکائی بھی لگایا کرتے گالم گلوچ اس پر مستزاد۔ یہ اُن کے تھپڑوں اور مغلظات ہی کا ثمر ہے
کہ اُن کے شاگردوں کے شاگرد بھی آج گاڑیوں کے شو روم اور مرمت کے کارخانوں کے مالک ہیں۔
اُستاد حمید کے ایک شاگرد نے دوران کار بیرونی امیدوار کی حیثیت سے دسویں جماعت کا امتحان پاس کرلیا۔ اُستاد حمید اُس کی کامیابی سے بہت خوش ہوئے۔
اُنھوں نے لڑکے کو اپنے ایک دوست‘ محمد عثمان آزاد کے مشہور اخبار روزنامہ انجام میں بحیثیت پروف خواں ملازم کرادیا۔ دو، تین برس بعد وہ سب ایڈیٹر بن گیا۔
بعدازاں اُ س نے یہ ملازمت چھوڑی اور فاضل پر زہ جات کا کاروبار کرنے لگا۔ پھر نجانے اُسے کہاں سے گیدڑ سنگھی ہاتھ لگی کہ موٹر سائیکل بنانے کا بہت بڑا کارخانہ قائم کرلیا۔ آج اُس ’’لڑکے‘‘ کی عمر 80برس کے لگ بھگ ہے اور وہ ایک مشہور کارخانے کا مالک ہے۔
اب یہ تو اللہ بہتر جانتا ہے کہ اُسے اُستاد حمید یاد بھی ہے یا نہیں؟
پیشہ ورانہ دیانت تو استاد پر ختم تھی۔ ایک بار ایک مشہور تاجر اپنی قیمتی کار بغرضِ مرمت استاد کے پاس لے کر آئے۔ اُن کا کہنا تھا کہ میل دو میل چل کر یہ گاڑی خود بخود بند ہوجاتی ہے۔ پھر دھکے دے کر اسٹارٹ کرنا پڑتا ہے۔
اُن کے بقول وہ اس کار کی مرمت پر اُس دور میں ہزاروں روپے خرچ کرچکے تھے۔ اُستاد نے اُن سیٹھ صاحب سے کہا کہ گاڑی میں کوئی خرابی نہیں۔ سائلنسر کی نالی میں کوئی چیز پھنسی ہوئی ہے۔
ساتھ ہی اُنھوں نے اپنے ایک شاگرد کو اشارہ کیا۔ اُس نے منٹوں میں دھوئیں کی نالی کھول کر زمین پر پٹخی تواُس میںسے ایک مردہ چوہا نکلا۔
وہ صاحب بڑے حیران ہوئے۔ اُنھوں نے استاد کو بطور انعام دو سو روپے کی خطیر رقم (اُس دور کے اعتبار سے) دینی چاہی تو استاد نے شانِ استغنا کے ساتھ یہ پیش کش مسترد کرتے ہوئے اُن امیر زادے سے کہا:
’’بس میاں بھائی…لمڈے (لڑکے) کو ایک اٹھنی پکڑادو۔ ‘‘
اُستاد کا ایک اہم قومی کارنامہ یہ ہے کہ اُنھوں نے لانڈھی (کراچی) میں ریڈیو پاکستان کراچی کے ٹرانسمیٹر نصب کیے۔
اُن دنوں وزارت اطلاعات و نشریات کی ایک برطانوی کمپنی سے بات چیت چل رہی تھی جو یہ کام انجام دینے کا معاوضہ پانچ لاکھ روپے طلب کررہے تھے۔
ریڈیو پاکستان کے ڈائریکٹر جنرل زیڈ-اے بُخاری استاد حمید کی صلاحیتوں سے بہ خوبی واقف تھے۔ اُنھوں نے یہ خدمات استاد حمید کے سپرد کردیں۔
اُستاد نے اپنے دس بارہ ’لمڈوں‘‘ کے ساتھ مل کر محض چند روز کے اندر اندر ٹرانسمیٹرز نصب کرڈالے اور اتنے بڑے کام کا معاوضہ صرف پندرہ ہزار روپے طلب کیا…
جی ہاں!…صرف پندرہ ہزار۔
اور وہ بھی اُستاد کی جیب میں نہ گئے۔ اُنھوں نے دوہزار تو خود رکھے اور باقی ایک ایک ہزار شاگردوں میں تقسیم کردیا۔
استاد حمید جیسے لوگ ملک کو بنانے والے تھے اور آج؟…صرف بگاڑنے والے ہیں۔ مجھے کامل یقین ہے کہ رحلت کے بعد اُستاد حمید داخلِ بہشت ہوئے ہوں گے۔
آغا جی
_____
دہلی کے پُشتی رئیس اور ممتاز ترین شاعر آغاقزلباش کے صاحب زادے آغا سر خوشی قزلباش نے قیام پاکستان کے بعد کراچی کی معروف شاہراہ کلفٹن اسٹریٹ موجودہ شارع زیب النسائ) پر کتب کی ایک شان دار دکان کھولی جس کا نام ’’کتابستان‘ تھا۔ آغا سر خوشی قزلباش جو اپنے حلقہ احباب میں صرف آغاجی کہلاتے تھے۔
اپنی دکان سے بھی زیادہ ’’شاندار‘‘ تھے۔ سرخ و سفید رنگت، دراز قامت اور تیکھے نقوش والے آغا جی ماضی کے ممتاز فلم اسٹار موسیٰ رضا (سنتوش کمار) سے غضب کی مشابہت رکھتے تھے۔
میں نے جب غالباً 1970ء میں اُنھیں دیکھا‘ تو اُن کی عمر پچاس برس سے زائد نہ تھی۔ چہرہ بالکل جوانوں والا لیکن سر کے بال تو کجا بھنویں تک برف کی طرح سفید ہوچکی تھیں۔
غالباً یہ کوئی خاندانی عارضہ تھا۔ اس پر مستزادیہ کہ وہ سرتا پا سفید لباس میں ملبوس تھے۔ اُن کے انگریزی بوٹ بھی سفید تھے۔ حُسن اور سپیدی کا یہ امتزاج بہت کم لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ اُن دنوں کتب بینی کا ذوق عام تھا اس لیے آغا جی کی دکان پر بھی کتب خریدکر پڑھنے کے شوقین خواتین و حضرات اچھی خاصی تعداد میں آیا کرتے۔
آغا صاحب کے لیے کتب فروشی کاروبار نہیں بلکہ ذوق کی تسکین کا ذریعہ تھا۔ وہ تو ’’صاحبوں‘‘ کے مانند گھومنے والی کرسی پر بیٹھ کر کسی کتاب کے مطالعہ میں غرق رہتے جب کہ اُن کے دوملازمین گاہکوں کو بھگتاتے۔
البتہ خاص خاص گاہکوں یا احباب سے خود آغا صاحب لین دین کیا کرتے۔
آغا صاحب ’’کتب فروشی‘‘ سے زیادہ اُن کے آداب کا خیال رکھتے ۔ بسااوقات کسی کتاب کے دکان میں موجود ہونے کے باوجود’’ خریدار‘‘ کو اس لیے ٹکا سا جواب دے دیتے کہ بقول اُن کے:
یہ کندہ ناتراش اس کتاب کے معنی و مفہوم ہی سمجھ نہیں سکتا۔‘‘
ایک بار کراچی کے ایک علم دوست کمشنر تقریباً دس ہزار روپے کی کتب خریدنے کتابستان آئے۔ اُنھوں نے اپنی سرکاری گاڑی سڑک کی ایک جانب کھڑی کی اور پھر خود تو اُس یخ بستہ گاڑی میں بیٹھے رہے،
ڈرائیور کو فہرست کتب اور رقم دے کر کتابستان کی طرف روانہ کردیا۔ آغا صاحب نے ڈرائیور کے ہاتھوں کتب فروخت کرنے سے انکار کرتے ہوئے کہا:
’’کیا تمھارے صاحب کے پیروں میں منہدی لگی ہے جو خود نہیںآسکتے؟ ‘‘
ڈرائیور نے ’’صاحب‘‘ کو آغا صاحب کا پیغام پہنچایا، تو وہ گاڑی سے اتر کر تِیر کے مانند آغا صاحب کے پاس پہنچے اور معذرت کرتے ہوئے کتب طلب کیں۔ آغا صاحب نے اُن کی اس سعادت مندی پر خوش ہوکر کتب بغیر کسی منافع کے یعنی صرف قیمت خرید پر اُن کے حوالے کر دیں۔
ایک مرتبہ کسی بڑے خاندان کی دل کش خاتون کتب خریدنے آئیں۔ اُنھوں نے آغا صاحب سے کہا کہ وہ کتب کا انتخاب کرے گی۔ آغا جی نے اُنھیں دکان کے اندر آکر انتخاب کتب کی اجازت دے دی۔
اُن محترمہ نے سیکڑوں کتب مختلف خانوں سے نکال کر ڈھیر کر دیں اور پھر ہر ایک کی درمیانی پشت کو دیکھ دیکھ کر اُس ڈھیر سے الگ کرنا شروع کردیا۔
آغا صاحب یہ منظر بڑی خاموشی اور دلچسپی سے دیکھ رہے تھے۔ اُنھوں نے جب یہ دیکھا کہ خاتون صرف اُن کتب کا انتخاب کر رہی ہیں جن کی جلد بندی فیروزی رنگ کے کپڑے سے کی گئی ہے،
تو اُنھوں نے خاتون سے اس بات کا سبب دریافت کیا۔
محترمہ نے بتایا کہ اُن کے ڈرائنگ روم میں موجود ہر’’شے‘‘ فیروزی رنگ کی ہے۔ وہاں کتب کے تین خانے بھی ہیں جِن میں صرف ایسی کتب کو جگہ دی گئی ہے جن کی بندش فیروزی رنگ کے کپڑے یا ریگزین سے کی گئی ہو۔
اب اُن خانوں میں چند کتب کی کمی ہے اس لیے وہ اُس خلا کو پُر کرنے کے لیے فیروزی جلد بند کتب خریدنے آئی ہیں۔ یعنی اس کا مقصد صرف ’’میچنگ‘ ہے۔ خاتون کی یہ بات سُن کرآغا جی ہتھے سے اکھڑ گئے اور پھر خاتون مذکور کو یہ کہہ کر کتب فروخت کرنے سے انکار کردیا:
’’کتابیں پڑھنے کے لیے ہوتی ہیں۔آرائش یا سجاوٹ کے لیے نہیں۔‘‘
آغا جی نے دکان کے اوقات صبح 10تا شام4 بجے مقرر کیے تھے۔ اس کے بعد اُن کا ’’کتابستان‘‘ ’’محفل دوستاں‘‘بن جاتا۔ شہر کے کئی ممتاز ادیب بلاناغہ آغا جی کی محفل شام و شب میں شرکت کیا کرتے۔
اگرچہ دکان اُس وقت بھی کھلی ہوتی مگر آغا جی شام چھ بجے کے بعد کتب فروخت کرنا حرام سمجھتے۔
ہائے افسوس! اب نہ آغا صاحب ہیں اور نہ کتابستان۔ اُس کی جگہ کمپیوٹر، موبائل فون، سی -ڈیز اور ایزی لوڈ‘‘کی ایک دکان ہے۔ رہے نام اللہ کا۔
تائو پو ربیاــ
اُس بوڑھے ہندو اچھوت کا نام رام دیال تھا جو انیسویں صدی کے اواخر میں مشرقی یو-پی (بھارت) کے کسی شہر سے کراچی کی گودی پر پلے داری کرنے (بوجھ اُٹھانے ) کے لیے کراچی میں آیا اور پھر یہیں کا ہورہا۔
قیامِ پاکستان سے پہلے شہر کراچی میں اُس کی عام شہرت تھی۔ وہ اپنی بزرگی اور پیرانہ سالی کے سبب تائو‘‘(تایا، بڑے چچا) کہلاتا۔ جب کہ ’’پوربیا‘‘ کا مطلب ہے ’’ پورب یعنی مشرق، کا رہنے ولا۔ اُس کی زبان ٹھیٹھ ہندی تھی۔ وہ قریباً ساٹھ برس تک کراچی رہا مگر ہمیشہ اپنے مخصوص لہجے ہی میں بات کیا کرتا۔
تائوپوربیا ماہر جراح اور غضب کا اعضا بند تھا، مگر وہ یہ کام فی سبیل اللہ کیا کرتا۔ وہ صبح تڑکے گودی پر مزدوری کرنے جاتا جہاں سے اُسے دو روپے ملتے۔
سہ پہر تین بجے وہ کام ختم کرکے شہر کے مشہور بری وبدر ٹاور کے فٹ پاتھ پر آ بیٹھتا۔ اُس کی ادویہ اور آلات کی صندوقچی اُس کی بغل میں ہوتی اور درجنوں مرد، عورتیں اور بچے اُس کے منتظر ہوتے۔
وہ کسی کا پھوڑا چیرتا، تو کسی کی ہڈی جوڑتا۔ ٹوٹی ہڈیاں جوڑنے اور اترے ہوئے ہاتھ پیر بٹھانے میں اُسے کمال حاصل تھا۔ خدا جانے اُسے کون سی غیبی امداد ملا کرتی کہ وہ بلا معاوضہ سب کا علاج کیا کرتا۔
اگر کوئی مریض یا متاثرہ شخص اُسے معاوضہ یا انعام دینے کی پیش کش کرتا، تو وہ جھڑک کر اُسے بھگا دیتا۔
تائو پوربیا نہایت ہنس مکھ اور بے لوث انسان تھا۔ وہ رات گئے تک اپنی خدمات میں مگن رہا کرتا مگر کبھی کسی نے اُسے ناراض ہوتے یا غصہ کرتے نہیں دیکھا۔
سندھ کے ممتاز سیاست دان، سفارت کار اور صحافی پیر علی محمد راشد کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ وہ تفریحاً پوربیا کے ٹھئے پر جاکر بیٹھ گئے۔
یہ غالباً1935کی بات ہے اور تائو پوربیا اُس وقت بھی خاصا بوڑھا تھا۔ اُس نے راشدی صاحب کو دیکھا تو مسکراکر کہا:
’’تہار کاہ ٹوٹت ہے؟‘‘ (تمھارا کیا ٹوٹا ہے؟)
راشدی صاحب نے ٹھنڈی سانس بھر کر اُس کے لہجے میں جواب دیا:
’’ہمارا من ٹوٹت ہے‘‘ (ہمارا دل ٹوٹ گیا ہے۔)
اس پر تائو پوربیا نے حسب معمول تبسم کے ساتھ کہا:
’’ اوپر والے کے ہوجئے‘‘ (اوپر والے کے ہوجائو۔)
اور پھر اپنے کام میں مصروف ہوگیا۔
کراچی کے مشہور سول اسپتال کے انگریز سول سرجن اور میڈیکل سپرنٹنڈنٹ کا بارہ سالہ بیٹا اپنے مکان کی چھت
سے گر کر ہڈی پسلی تڑوا بیٹھا۔
پورے ہندوستان میں اُس کا کہیں علاج نہ ہوسکا اور وہ بچہ معذور ہوکر رہ گیا۔ کسی کے مشورے پر’’ سرجن‘‘صاحب نے تائو پوربیا سے رجوع کیا۔ اُس کی ’’جکڑ بندیوں‘‘ نے بچے کو اس اذیت اور معذوری سے نجات دلادی۔
وہ بچہ صرف ایک ماہ کے اندر اندر ہی بھلا چنگا ہوکر چلنے پھرنے لگا۔ انگریز بہادر کی خوشی کا تو ٹھکانہ نہ رہا۔
اُس نے بطور انعام تائو پوربیا کو پیش کش کی کہ وہ ہسپتال کے’’ شعبہ امراضِ استخواں‘‘ میں نائب سرجن ہوجائیں۔ اُنھیں مبلغ آٹھ سو روپے ماہ وار (آج کے 10لاکھ سے زیادہ) تنخواہ ملے گی۔
لیکن تائو پوربیا نے اس خدمت سے معذرت کرلی اور تادمِ مرگ بنا تفریق امیر ،غریب، لوگوں کی مفت خدمت بجا لاتا رہا۔ قیامِ پاکستان کے بعد بھی تائو پوربیا یہیں مقیم رہا۔ اب وہ کراچی میں اچھوت ہندوئوں کے ایک قبرستان (واقع پرانا گولی مار کراچی) میں مدفون ہے۔
چریا
____
لفظ ’’چریا‘‘ تو اب اردو اور پنچابی زبانوں میں بھی مستعمل ہے لیکن دراصل یہ سندھی زبان کا لفظ ہے جس کے معانی ہیں’’ پاگل، دیوانہ یا مجنوں‘‘۔
ظاہر ہے کہ معنوی اعتبار سے یہ کوئی اچھا کلمہ نہیں لیکن پاکستان میں ایک معروف شخص ایسا بھی ہے جو فخر سے خود کو چریا کہتا اور سمجھتا ہے۔
یہ ہے حیدرآباد سندھ کی مشہور سیاسی و سماجی شخصیت عبدالقیوم قریشی جو1985ئسے 1988ئکے لیے سندھ کی صوبائی اسمبلی کا رکن رہا۔ لیکن کچھ بنانے کے بجائے اپنا بنا بنایا بھی بگاڑدیا۔ تو ہوانا چریا!۔
عبدالقیوم قریشی عرف چریا حیدرآباد کے ایک غریب علاقے، حالی روڈ (سابق کالی روڈ) کا رہائشی ہے۔ ایک نوجوان غریب مزدور، چوڑی کے کارخانے کا کاریگر اور معروف مزدور راہنما تھا۔ 1985ء میں جب جنرل ضیاالحق مرحوم کی مارشل لاء حکومت نے غیر جماعتی بنیاد پر قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات منعقد کرائے،
تو اپنے محلے والوں اور بے شمار مزدوروں کے اکسانے پر وہ بھی اس ’’یُدھ‘‘ میں کود پڑا۔
اس کے انتخابی اخراجات بھی مزدور و ں اور اہل محلہ ہی نے برداشت کیے۔ قیوم قریشی گلی گلی محلے محلے جلسے کرتا پھرتا۔
اُس کا اسٹیج اس کے گھر کی ایک چارپائی ہوتی۔ وہ جہاں جاتا وہاں اُسے بچھاتا اور پھر محو تقریر ہوجاتا۔ ایک موقع پر ’’تقریر‘‘ کرتے ہوئے اُس نے کہا:
’’بھائی‘‘ بہنو! پاکستان میں صرف 2’’چرئیے‘‘ ہیں۔ ایک صدر ضیاء الحق اور دوسرا میں۔ ایک کو تم نے صدر بنا رکھا ہے، تو کیا مجھے ایم-پی-اے بھی نہیں بناسکتے۔‘‘
لوگ اُس کی تقاریر سن کر ہنستے مسکراتے اور کچھ اُس کا مذاق بھی اڑاتے۔مگر اسی مذاق ہی مذاق میں’’چریا‘‘ بھاری اکثریت کے ساتھ کامیاب ہوگئے۔
اُس کے مقابل سات امیدوار تھے جن میں ایک بڑے صنعت کار اور دوسرا بہت بڑا زمیندار تھا، مگر قیوم قریشی کے رائے دہندگان نے اُن کی ضمانتیں ضبط کرادیں۔
صوبائی اسمبلی کا رکن منتخب ہو کر بھی ’’چریا‘‘ کے مکان پر ٹاٹ کا پردہ ہی پردہ اڑا۔ سینٹ کے انتخابات کے دوران جب اکثر ارکان صوبائی اسمبلی گھوڑے گدھوں کی طرح بک رہے تھے،
تو اُس وقت اُس نے50,50لاکھ روپے سے بھرے ہوئے صندوقوں کو ٹھوکر ماردی اور اُنھیں پیش کرنے والوں کو گالیاں بک کر بھگا دیا۔ وہ بڑی بے نیازی اور جرأت کے ساتھ عوامی بس میں بیٹھ کر صوبائی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کرنے کے لیے کراچی آیا کرتا۔
اُسے حکومت کی طرف سے 50لاکھ روپے کا جو صوابدیدی فنڈ ملا وہ اُس نے اپنے حلقے کے چند مسائل حل کرنے پر صرف کردیا۔ ایک ایک پیسا…جی ہاں…
ایک ایک پیسا ۔
آج حالی روڈ کی سڑکیں اور محلے کے گلی کوچوں میں بجلی اور گیس اُس کے حسن عمل کا سلوک ہے۔ افسوس!صدافسوس! ایسا مخلص راہنما 1988ء کے انتخابات میں اپنی ضمانت ضبط کرا بیٹھا۔ ’’لسانیت‘‘ کاسیلاب اُس آزاد منش آزاد امیدوار کو بھی بہالے گیا۔ کاش! پاکستان کے سیاسی راہنمائوں میں قیوم قریشی جیسے بہت سے ’’چرئیے‘‘ ہوتے
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers