ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺍﯾﻮﺑﯽ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﮐﻮ ﺻﻠﯿﺒﯿﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮﯾﮟ۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﮨﻮﮔﺌﯽ۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺩﻭﺳﺮﯼ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﯾﮧ ﺗﮭﯽ ﮐﮧ ﻓﺘﺢ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﮐﮯ ﻓﺮﯾﻀﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻓﺮﯾﻀﮧﺀ ﺣﺞ ﺍﺩﺍﮐﺮﮮ ﻣﮕﺮ ﺍﺱ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺧﻮﺍﮨﺶ ﭘﻮﺭﯼ ﻧﮧ ﮨﻮﺳﮑﯽ۔۔۔۔
ﺍﺱ ﮐﯽ ﻭﺟﮧ ﺑﯿﻤﺎﺭﯼ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﯽ ﺑﻠﮑﮧ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺍﺱ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺍﺗﻨﮯ ﭘﯿﺴﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﮯ۔۔۔۔ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺫﺍﺗﯽ ﺟﯿﺐ ﺧﺎﻟﯽ ﺗﮭﯽ۔۔۔۔ ﺑﻼﻝِ ﻧﻮ ﮐﯽ ﺩﺭﺍﻧﺘﯽ ﺳﮯ ﻓﺼﻞِ ﺻﻠﯿﺒﯽ ﮐﺎﭨﻨﮯ ﻭﺍﻻ ﻣﺮﺩِ ﻣﺠﺎﮨﺪ، ﻣﺼﺮ، ﺷﺎﻡ ﺍﻭﺭ ﻓﻠﺴﻄﯿﻦ ﮐﺎ ﺳﻠﻄﺎﻥ ﺟﺲ ﮐﮯ ﻗﺪﻣﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺳﻠﻄﻨﺖ ﮐﮯ ﺧﺰﺍﻧﮯ
ﺗﮭﮯ، ﻭﮦ ﺍﺗﻨﺎ ﻏﺮﯾﺐ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺣﺞ ﮐﻮ ﻧﮧ ﺟﺎﺳﮑﺎ ﺍﻭﺭ جب اسے بیت المال سے پیسے دییے گے تو اس نے کہا کہ یہ عوام کا پیسہ ہے میرا نہیں.اسے جو کفن دیا گیا۔۔ ﻭﮦ ﻗﺎﺿﯽ ﺑﮩﺎﺅﺍﻟﺪﯾﻦ ﺷﺪﺍﺩ، ﻗﺎﺿﯽ ﺍﻟﻔﻀﻞ ﺍﺑﻦ ﺫﮐﯽ ﻧﮯ ﺩﺭﭘﺮﺩﮦ ﭘﯿﺴﮯﺟﻤﻊ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﺗﮭﺎ...
ان حکمرانوں کے کیے لمحہ فکریہ جو حج و عمرہ عوام کے پیسوں سے کرتے ہیں- 


سلطان ایوبی نے اپنے آقائے نامدار کے شہر مقدس پر حملے کی ناپاک جسارت کرنے والے صلیبی لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ پھینکوایا کہ جس سے میدان جنگ کی زمین پر چاروں طرف بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس خوفناک آتشیں ماحول اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کے درمیان 1187ء کو حطین کے مقام پر تاریخ کی اس خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا جس کے انجام کو یاد کر کے آج بھی صلیبی حکمرانوں کے کانوں سے تپتا ہوا دھواں برامد ہوتا ہے۔ اس تاریخی جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار سے زیادہ عیسائی حملہ آور جہنم واصل ہوئے اور اتنے ہی قیدی بنا لیے گئے۔ بدبخت ریجنالڈ کو زندہ گرفتار کیا گیا اور پھر سلطان نے مدینۃ النبوی پر حملے کی ناپاک جسارت کرنے والے اس گستاخ صلیبی سالار کا سر اپنے ہاتھ سے قلم کیا۔ اس فتح کے بعد اسلامی افواج چاروں طرف عیسائی علاقوں پر پوری طرح چھا گئیں۔ جنگ حطین کی شاندار فتح کے فوری بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا۔ سات دن کی خونریز جنگ کے بعد عیسائیوں نے ہتھیار ڈال کر سلطان سے رحم کی اپیل کی۔ اور یوں پورے اکانوے برس کے بعد قبلہ اول بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا۔ بیت المقدس کی فتح مبارک سلطان صلاح الدین ایوبی کا ناقابل فراموش اورعظیم الشان کارنامہ تھا -
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers