دوست بہت سے سوال کرتے ہیں، بہت سی باتیں پوچھتے ہیں۔ اوران کی گفتگو میں جو سب سے اہم سوال ہوتا ہے وہ یہ کہ ہمیں پتا چل گیا کہ اردو بہت ضروری ہے، یہ ترقی اور خوشحالی کے لئے ضروری ہے علم، سائنس ، ٹیکنالوجی اور معیشت کے فروغ کے لئے ضروری ہے۔ یہ سب باتیں ٹھیک مگر یہ بتاؤ کہ اردو نافذ کیسے ہوگی ؟ اردو کے نفاذ کے لئے کیا لائحہ عمل اختیار کرنا ہوگا؟                                 تفصیل سے پڑھئے
دیکھیں1973 کے آئین کی دفعہ 251 میں یہ بات طے کر دی گئی تھی کہ اردو کو 1988 تک پاکستان کی سرکاری زبان بنا دیا جائے گا، اس 15 سالہ مدت کے دوران جو 1973 سے 1988 تک بنتی ہے وہ تمام اقدامات کئے جائیں گے جن کے ذریعے اردو کو پاکستان کی سرکاری زبان بنا دیا جائے۔ اس ضمن میں کئی ادارے قائم کئے گئے جن کا کام ہی یہ تھا کہ اردو کو سرکاری زبان بنانے کے لئے تمام انتظامات کئے جائیں۔
مثلا" مقتدرہ قومی زبان، اردو سائنس بورڈ، مجلس زبان دفتری، اردو لغت بورڈ وغیرہ۔ اب حکومت کو چاہئیے کہ ان اداروں کے کام کا جائزہ لے اور اس سلسلے میں دو اقدامات کرے
1۔ یکم جنوری 2015 سے تمام دفتروں، عدالتوں اور انتظامی شعبوں میں اردو کے نفاذ کا اعلان کرے اور
2۔ یکم اپریل 2015 سے تمام سطحوں پر اردو کو ذریعہ تعلیم اردو بنانے کا اعلان کرے۔
اگر یہ اعلان یکم اگست سے پہلے کر دیا جائے تو حکومتی اداروں، ناشرین، مترجمین اور انتظامی عہدے داروں کے پاس اتنا وقت ہوگا جس دوران وہ اردو کے نفاذ کے حوالے سے تمام امور سر انجام دے لیں۔
یہ تو ہو گئی حکومت کی بات اور اگر وہ یہ کام کر گزرتی ہے تو یہ ایک بہترین راستہ ہوگا۔
اگر حکومت یہ کام نہیں کرتی تو پھر عوامی سطح پر ایسے اقدامات کئے جا سکتے ہیں جس سے اس ملک سے انگریزی کا بوریا بستر گول ہو جائے۔ اب اس کا کیا طریقہ ہوگا ؟ اس کا طریقہ یہ ہوگا کہ تمام طلبا تنظیمیں، اساتذہ کی تنظیمیں، وکلا کی تنظیمیں، کلرکوں کی تنظیمیں، مزدوروں کی تنظیمیں، کسانوں کی تنظیمیں، تاجر تنظیمیں، ڈاکٹروں اور انجینئرز کی تنظیمیں صحافی، دانشور، شاعر ، ادیب اور زندگی کے دیگر شعبوں سے تعلق رکھنے والے لوگ ایک جگہ اکٹھے ہوں اور وہ یہ اعلان کر دیں کہ کسی خاص تاریخ سے (مثلا" یکم اپریل 2015 سے) انگریزی پڑھی جائے گی نہ انگریزی میں کچھ پڑھا جائے گا۔ وکلا عدالتوں میں مقدمات اردو میں لڑنے کا اعلان کر دیں اور اسی طرح سرکاری اور غیر سرکاری تمام شعبوں میں اردو میں معاملات چلائے جائیں گے۔ اب یہاں پر جو بات مجھے سمجھ آتی ہے وہ یہ ہے کہ اگر حکومت اس بات کو سمجھ جاتی ہے تو وہ ایسی نوبت آنے سے پہلے ہی ملک بھر میں ہر شعبہ زندگی میں ہر سطح پر اردو نافذ کر دے گی۔ اوراگر وہ ایسا نہیں کرتی تو بات بڑی سیدھی سی ہے اور وہ یہ کہ مقررہ تاریخ کو تمام شہروں ،قصبوں اور دیہات میں بڑے اور چھوٹے چوکوں میں انگریزی کی کتابوں کو ڈھیر لگا کر آگ لگا دی جائے اور اس کے بعد انگریزی پڑھنے یا انگریزی میں پڑھنے سے انکار کر دیا جائے۔
اب میری اس بات سے کئی لوگ سوال کریں گے بھلا یہ کیسے ممکن ہے اب اس پر مجھے ایران کا وہ بادشاہ یاد آ جاتا ہے جس کو ایک صبح جب تمباکو پینے کو نہ ملا تو وہ سخت جھنجلایا اس نے پوچھا کہ مجھے تمباکو کیوں نہیں ملا تو اس کے مصاحب کا جواب تھا جناب مفتی اعظم نے تمباکو نوشی پر پابندی لگا دی ہے، اس لئے آپ کو بھی تمباکو نہیں مل سکتا۔
تو جب پوری قوم مل کر انگریزی پڑھنے یا انگریزی میں پڑھنے سے انکار کر دے گی تو حکومت کو اس کے آگے گھٹنے ٹیکنے پڑیں گے۔
اگلا سوال ہوگا کہ یہ جو بڑے بڑے انگریزی میڈیم اسکول ہیں ان کا کیا بنے گا، تو جناب یہ سب اردو میڈیم ہوجائیں گے۔ جس قدر پاپڑ یہ انگریزی میں پڑھانے کے لئے بیلتے ہیں، جس قدر اپنے آپ کو یہ مصیبت میں ڈالتے ہیں کیا جب ان کو اپنی زندگی آسان ہوتی نظر آئے گی اور ہر شعبہ زندگی میں اردو کی کارفرمائے نظر آئے گی تو یہ کیوں انگریزی پر اصرار کریں گے۔ اور پھر جب پاکستان میں تمام ملازمتیں ، اعلیٰ تعلیم اور مقابلے کے امتحان اردو میں ہوں گے تو ان کو کیا ضرورت ہوگی کہ یہ انگریزی میں پڑھائیں۔ ابھی تو سب ایک بھیڑ چال چل رہے ہیں، ذرا انگریزی کا پردہ اٹھنے دیں پھر تعلیم کا مطلب واقعی علم کا حصول ہو جائے گا اور یہ سب اسکول اس سے کہیں بہتر نتائج ظاہر کریں گے جتنے یہ اس وقت پیش کر رہے ہیں۔ اس کے ساتھ ساتھ کچھ مزید اقدامات بھی اٹھانا ہوں گے۔ ایک تو او لیول اور اے لیول کا خاتمہ دوسرے پاکستان سے باہر جا کر تعلیم حاصل کرنے پر پابندی۔ سیدھی سی بات ہے جس قدر زر مبادلہ نوجوانوں کو ملک سے باہر بھیج کر تعلیم حاصل کرنے میں صرف ہوتا ہے اسی رقم سے ہم اپنے ملک کے اداروں میں بہترین تعلیمی سہویات فراہم کر سکتے ہیں۔معاملہ یہ ہے کہ پاکستان کی جامعات میں اعلیٰ معیار کی تحقیق کا بندوبست ہو، ان میں تمام ضروری سازوسامان موجود ہو، ان کی تجربہ گاہیں بہترین سامان سے آراستہ ہوں اور پھر یہ کہ دنیا بھر سے اپنے اپنے شعبوں کے تعلیمی ماہرین کو پاکستان میں لا کر اس تعلیم کو دینے کا بندوبست کیا جائے جو کہ دنیا بھر میں دی جا رہی ہے۔ تو پاکستان علم اور آگہی کا ایک روشن استعارہ بن جائے گا۔ اس اقدام سے پاکستان میں علم فراواں ہو جائے گا، وہ تمام جوہر قابل جو ہم انگریزی میں تعلیم دے کر ضائع کر دیتے ہیں، بیرون ملک برآمد کر دیتے ہیں وہ پاکستان کو میسر ہوگا اور یہ ملک زیادہ نہیں یہی کوئی 4، 5 سالوں میں ترقی کی دوڑ میں کئی ملکوں کو پیچھے چھوڑ جائے گا۔
عروج آدم خاکی سے انجم سہمے جاتے ہیں
کہ یہ ٹوٹا ہوا تارا مہ کامل نہ بن جائے
جو لوگ اس ٹوٹے ہوئے تارے کو مہ کامل بننے سے روکنے کے لئے یہاں انگریزی کو نافذ کئے بیٹھے ہیں ان کو پتا چل جانا چاہئیے کہ پاکستانی قوم اب بیدار ہو چکی ہے اور اب وہ کسی بھی طور انگریزی کی جہالت اور اندھیروں کو اس ملک کے دروبام کو تاریکیوں میں ڈبوئے رکھنے کی اجازت نہیں دے گی۔
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers