نام و نسب
--------
ارقم نام ، ابوعبداللہ کنیت ، والد کا نام عبدمنافاور ابوالارقم کنیت ۔ والدہ کا نام امیمہ تھا ۔
حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کا خاندان ایامِ جاہلیت میں مخصوص عزت و اقتدار کا مالک تھا ۔ ان کے دادا ابو جندب اسد بن عبداللہ اپنے زمانہ میں مکہ کے بااثر رئیس تھے ۔            تفصیل سے پڑھئے

اولاد
----

حضرت ارقم رضی اللہ عنہ نے دو لڑکے عبیداللہ ، عثمان اور تین لڑکیاں امیہ ، مریم اورصفیہ یادگار چھوڑیں ۔
-----
اسلام
-----

حضرت ارقم رضی اللہ عنہ گیارہ یا بارہ اصحاب کے بعد ایمان لائے ، اس وقت آنحضرت ﷺ اور باقی مسلمانوں کی زندگی نہایت خطرہ میں تھی ۔ قریش یہ چاہتے تھے کہ اس تحریک کو بااثر ہونے سے پہلے ختم کردیں لیکن اسلام ختم ہونے کیلئے نہیں آیا تھا بلکہ وہ تو دلوں کو جیتنے آیا تھا ۔ نبی پاک ﷺ ایک عرصہ تک آپ ﷺ کے مکان میں رہے جہاں مسلمانوں کو اسلام کی تعلمیات دی جاتی تھی ۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی گھر میں اسلام لائے ، ان کے اسلام لانے کے وقت کم و بیش چالیس لوگ مسلمان ہوچکے تھے ۔ آپ رضی اللہ عنہ کے اسلام لانے سے مسلمانوں میں قوت پیدا ہو گئی ۔ اس کے اعلانیہ عبادات شروع ہوگئیں ۔
----
ہجرت
----

بعثت کے تیرہویں سال ہجرت کا حکم ہوا تو حضرت ارقم رضی اللہ عنہ بھی دوسرے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کیساتھ مدینہ پہنچے ۔ یہاں حضرت ابو طلحہ زیدبن سہل رضی اللہ عنہ سے مواخات ہوئی اور آنحضرت ﷺ نے مستقل رہائش کیلئے بنی زریق کے محلہ میں ایک قطعہ زمین عطا فرمایا ۔
-----
غزوات
-----

غزوۂ بدر میں شریک تھے، اس جنگ میں حضرت سرورِکائنات ﷺ نے ان کو ایک تلوار عنایت فرمائی تھی ۔ اُحد ، خیبر اور تمام دوسرے اہم معرکوں میں بھی دلیری سے لڑے ۔
----
عہدہ
----

زمانۂ رسالت میں تحصیل زکوٰۃ کی خدمت پر مامور تھے ۔
----
وفات
----

۸۳ برس کی عمر پاکر ۵۳ ہجری میں وفات ہوئی ۔ انہوں نے وصیت فرمائی تھی کہ حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ جنازہ کی نماز پڑھائیں ، لیکن وہ مدینہ سے کچھ فاصلہ پر مقام عقیق میں رہتے تھے ۔ انکے آنے میں دیر ہوئی تو مروان بن حکم والی مدینہ نے کہا کہ ایک شخص کے انتظار میں جنازہ کب تک پڑا رہے گا ؟ اور چاہا کہ خود آگے بڑھ کر امامت کرے ۔ لیکن عبید اللہ بن ارقم رضی اللہ عنہ نے اجازت نہ دی ۔ اسی اثناء میں حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ تشریف لے آئے اور انہوں نے نماز پڑھائیاور آپ رضی اللہ عنہ کو بقیع میں دفن کیا ۔
-----
اخلاق
-----

تقویٰ و زہد حضرت ارقم رضی اللہ عنہ کے نمایاں اوصاف تھے ۔ رات کی عبادات کاب بہت اہتمام کرتے تھے ۔ ایک دفعہ انہوں نے بیت المقدس کا قصد کیا اور رسول اللہ ﷺ کے پاس اجازت لینے کو آئے ۔ آپ ﷺ نے پوچھا کہ تجارت کے خیال سے جاتے ہو یا کوئی خاص ضرورت ہے ؟ بولے : میرے ماں باپ آپ ﷺ پر فدا ہوں یارسول اللہ ﷺ ! کوئی ضرورت نہیں ہے ، صرف بیت المقدس میں نماز پڑھنا چاہتا ہوں ۔ ارشاد ہوا کہ میری اس مسجد کی ایک نماز مسجد حرام کے سوا تمام مساجد کی ہزار نمازوں سے بہتر ہے ۔ حضرت ارقم رضی اللہ عنہ یہ سنتے ہی بیٹھ گئے اور ارادہ منسوخ کردیا ۔
---------
ذریعۂ معاش
---------

مختلف جاگیروں کے علاوہ اصلی ذریعۂ معاش تجارت تھا ۔
---------------
مکہ کا تاریخی مکان
---------------

ہجرت کے بعد مدینہ وطن ہوگیا تھا ، اسلئے انہوں نے مکہ کے مکان کو جو اپنی تاریخی عظمت کے لحاظ سے بہت اہم تھا ، وقف الاولاد کردیا تاکہ بیع و وراثت کے جھگڑوں سے محفوظ رہے ۔
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers