حضرت سلیمان بن داود (920-990 ق م) کا زمانہ یہود کی تاریخ میں سب سے زیاده با عظمت زمانہ ہے-اس زمانہ میں فلسطین اور اطراف کے علاقوں میں ان کی مضبوط اور شاندار سلطنت قائم تهی-حضرت سلیمان کے بعد یہودیوں میں دینی اور اخلاقی زوال شروع هوا-وه خدا سے بے خوف هو کر سطحی اعمال میں مبتلا هو گئے اور آپس میں ایک دوسرے سے لڑنے لگے- اس زمانہ میں یہود کے مصلحین اور انبیاء نے ان کو زبردست تنبیہات کیں جو آج بهی کثرت سے بائبل میں موجود ہیں-یہاں مثال کے طور ہر ایک جز نقل کیا جاتا ہے:-     تفصیل سے پڑھئے
رب الافواج یوں فرماتا ہے کہ میں ان پر تلوار اور کال اور وبا بهیجوں گا اور ان کو خراب انجیروں کی مانند بناوں گا جو ایسے خراب ہیں کہ کهانے کے قابل نہیں-اور میں تلوار اور کال اور وبا سے ان کا پیچها کروں گا اور میں ان کو زمین کی سب سلطنتوں کے حوالے کروں گا کہ دهکے کهاتے پهریں اور ستائے جائیں اور سب قوموں کے درمیان جن میں میں نے ان کو ہانک دیا ہے لعنت اور حیرت اور سسکار اور ملامت کا باعث هوں-اس لئے کہ انهوں نے میری باتیں نہیں سنیں-خداوند فرماتا ہے کہ جب میں نے اپنے خدمت گزار نبیوں کو ان کے پاس بهیجا،ہاں میں نے ان کو بروقت بهیجا،پر تم نے نہ سنا ( یرمیاه 18:29 )
اس بگاڑ اور اختلاف کا نتیجہ یہ هوا کہ ان کی سلطنت ٹوٹ کر دو حصوں میں بٹ گئ-ایک،یہودیہ جو جنوبی فلسطین اور ادوم کے علاقہ میں تهی،اس کا پایہ تخت یروشلم تها-دوسرے،اسرائیل جو شمالی فلسطین اور شرق اردن کے علاقہ میں قائم هوئی اس کا پایہ تخت سامریہ قرار پایا-حضرت داود اور حضرت سلیمان کی قائم کی هوئی عظیم ریاست ٹکڑے ٹکڑے هو کر صرف دو کمزور حکومتوں کی صورت میں باقی ره گئ-
یہودیوں کے اخلاقی زوال اور باہمی اختلاف سے فائده اٹها کر اطراف کی سلطنتوں نے ان پر حملے شروع کر دئے-721 ق م میں اشور کے حکمران سارگون نے سامریہ کو فتح کر کے اسرائیل کو اپنی سلطنت میں شامل کر لیا-اس کے بعد 598 ق م بابل کے بادشاه بنو کد نضر نے یروشلم کو مسخر کر کے سلطنت یہودیہ پر قبضہ کر لیا-
خدا کے خاص لوگوں کے اوپر غیر قوم کا قبضہ یہود کے لئے باقابل برداشت تها-ان کے اندر شدت سے مخالفانہ جذبات جاگ اٹهے-ان کے درمیان وه قومی رہنما ابهرے جن کو بائبل میں " جهوٹے نبی " یا " جهوٹی نبوت کرنے والے لوگ " کہا گیا ہے-یہ لوگ اگر چہ دینی الفاظ بولتے تهے-مگر حقیقتہ جو چیز ان کی رہنما تهی وه صرف ان کے رومانی تخیلات تهے جو اسرائیل کی عظمت رفتہ کو جلد از جلد واپس لانے کے لیے وقت کے حالات کے اثر سے ان کے اندر پیدا هو گئے تهے-وه نبوت کی زبان میں کلام کرتے تهے مگر حقیقتہ وه جهوٹے نبی تهے-بائبل کے الفاظ میں وه خدا کے نام پر اپنی بات کہتے تهے-وه لوگوں کو جهوٹی امیدیں دلاتے تهے (یرمیاه 28:15م29:32) ان رہنماوں کی جذباتئ باتوں کے زیر اثر یہودیوں میں آزادی اور احیاء نو کی تحریکیں شروع هوئیں-وه بابل کی حکومت کے خلاف بغاوت کر کے دوباره اپنی گزری هوئی عظمت کو واپس لانے کا خواب دیکهنے لگے-
اس موقع پر ان کے نبی حضرت یرمیاه اٹهے اور یہودیوں سے کہا کہ تم کو دوسروں کے خلاف مہم چلانے سے پہلے خود اپنی اصلاح کی فکر کرنی چاہئے-غیر قوم کا غلبہ تمہارے اوپر خدا کے حکم سے ہے-وه اس لئے ہے کہ تم خدا کے رستہ سے ہٹ گئے هو-اب اپنے آپ کو خدا کی طرف واپس لاکر ہی تم اس مغلوبیت سے نجات پا سکتے هو نہ کہ محض دنیوی قسم کی کارروائی کرکے-اسرائیلی پیغمبر کی زبان سے خدا کی تنبیہات بائبل کی کتاب یرمیاه (باب 27-30) میں موجود ہیں
اسباق تاریخ
مولانا وحیدالدین خان
Labels: ,
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers