ان سے تنگ آئی ہوئی رعایا ان کا ساتھ دے گی جو باہر کے حملہ آور ہوں گے۔میری عمر ابھی اتنی زیادہ نہیں کہ تجربے کی بناء پر بات کروں لیکن میں محسوس کر رہا ہوں کہ آنے والا وقت فارس کیلئے اپنے ساتھ کیا لارہا ہے۔‘‘اب عبدالمسیح کی عمر اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ کمر جھک گئی تھی۔کندھے سکڑ گئے تھے ۔رعشہ ایسا کہ اس کا سر ہلتا اور ہاتھ کانپتے تھے،نوشیرواں عادل کی دوسری نسل کا شہنشاہ شکست کے صدمے سے مرچکا تھااور فارس کا زوال شروع ہوچکاتھا۔خالدؓ کے لشکر نے آج عبدالمسیح اور اس کے سرداروں کے قلعوں کو محاصرے میں لے رکھا تھااور اس کی قلعہ بند فوج کا حوصلہ کمزور ہوتا جا رہا تھا۔              تفصیل سے پڑھئے
اس میں اتنی طاقت نہیں رہی تھی کہ دیوار پر جا کر دیکھتا کہ محاصرے کی اور مسلمانوں کی کیفیت کیا ہے اور مسلمانوں کی نفری کتنی ہے۔اسے شاید مسلمانوں کی نفری کا اندازہ نہیں تھا۔مسلمان صرف اٹھارہ ہزار تھے اور انہوں نے چار قلعوں کو محاصرے میں لیا ہوا تھا بلکہ بڑھ بڑھ کر حملے کررہے تھے۔عبدالمسیح اپنے محل میں گیا تو دو پادری اس کے انتطار میں کھڑے تھے۔’’کیا گرجے میں اپنی فتح اور دشمن کی تباہی کی دعائیں ہو رہی ہیں؟‘‘عبدالمسیح نے پادریوں سے پوچھا۔’’ہورہی ہیں۔‘‘بڑے پادری نے جواب دیا۔’’اور تم یہاں کیوں آگئے ہو؟‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’ جاؤاور گرجے کے گھنٹوں کو خاموش نہ ہونے دو۔‘‘’’ہم اپنی فوج اور لوگوں کو قتلِ عام سے اور ان کے گھروں کو لٹ جانے سے بچانے آئے ہیں۔‘‘بڑے پادری نے کہا۔’’کیا آپ نہیں دیکھ رہے کہ ہمارے کتنے سپاہی زخمی اور ہلاک ہو چکے ہیں؟کیا آپ دشمن کی للکار اور اس کے نعرے نہیں سن رہے ہیں؟‘‘’’کیا تم مجھے یہ کہنے آئے ہو کہ میں ہتھیار ڈال دوں؟‘‘’’آپ کی جگہ کوئی اور قلعہ دار ہوتا تو ہم ایسا مشورہ کبھی نہیں دیتے۔‘‘دوسرے پادری نے کہا۔’’لیکن آپ دانشمند اور تجربہ کار ہیں۔جو آپ سمجھ سکتے ہیں وہ کوئی اور نہیں سمجھ سکتا۔حقیقت کو دیکھیں۔اس سے پہلے کہ مسلمان قلعہ سر کر لیں اور قلعے میں داخل ہوکر قتلِ عام اور لوٹ مار کریں اور ہماری عورتوں کو اپنے ساتھ لے جائیں،آپ قلعہ کچھ شرائط پیش کرکے ان کے حوالے کر دیں۔یہ بہت بڑی نیکی ہوگی۔‘‘’’مجھے سوچنے دیں۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’سوچنے کا وقت کہاں ہے!‘‘پادری نے کہا۔’’اوپر دیکھیں۔مسلمانوں کے تیر دیواروں کے اوپر سے اندر آرہے ہیں……اور وہ دیکھیں۔زخمیوں کوکندھوں پر اٹھا کر اوپر سے نیچے لا رہے ہیں۔کیا آپ دیکھ نہیں رہے کہ دیوار پر اور برجوں میں ہمارے تیر اندازوں کی تعداد کس تیزی سے کم ہوتی جا رہی ہے؟ناحق خون نہ ہونے دیں۔‘‘قلعے کے باہر مسلمانوں کے ہلّے اور تیروں کی بوچھاڑیں تیز ہو گئی تھیں۔حالانکہ ان کے زخمیوں اور شہیدوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔عبدالمسیح نے پادریوں کی موجودگی میں قاصد کو بھیجا کہ وہ قلعے کے دفاع کی صورتِ حال معلوم کرکے فوراًآئے۔قاصد نے واپس آکر جو صورتِ حال بتائی وہ امید افزا نہیں تھی،دوسرے قلعوں کی کیفیت بھی ایسی ہی تھی جو عیسائیوں کے حق میں نہیں جاتی تھی۔قلعے کا دروازہ کھل گیا۔ایک ضعیف العمر آدمی گھوڑے پر سوار باہرنکلا۔اس کے ساتھ دو تین سردار تھے۔ان میں سے ایک سردار نے بلند آواز سے کہا کہ وہ دوستی کا پیغام لے کر باہر نکلے ہیں۔
ان کے پیچھے قلعے کا دروازہ بند ہو گیا۔’’ہم تمہارے سالار سے ملنا چاہتے ہیں۔‘‘عبدالمسیح­کے اس سردار نے بلند آوازسے کہا۔دیوار سے تیر آنے بند ہو گئے تھے ۔مسلمانوں نے بھی تیر اندازی روک لی ۔خالدؓ کو کسی نے بتایا کہ دشمن باہر آگیا ہے۔’’کون ہیں وہ؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’قلعہ دار عبدالمسیح خود آیا ہے۔‘‘خالدؓ کو جواب ملا۔’’اسے کہو مجھے اس سے ملنے کی کوئی خواہش نہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں جانتا ہوں وہ ان سب کا سردار ہے۔اسے کہو کہ شام تک باقی تینوں قلعہ داروں نے بھی ہتھیار نہ ڈالے تو ہم انہیں اس حال تک پہنچا دیں گے جس میں وہ ہماری ہرشرط قبول کرنے پر مجبور ہو جائیں گے ۔کسی ایک کو بھی زندہ نہیں چھوڑا جائے گا۔‘‘جب عبدالمسیح کوخالدؓ کایہ پیغام ملا تو وہ جان گیا کہ فتح آخر مسلمانوں کی ہی ہوگی۔اس نے اسی وقت اپنے سرداروں کو دوسرے قلعوں کی طرف دوڑایا،دوسرے قلعوں کے اندر بھی یہی کیفیت تھی جو عبدالمسیح کے قلعے کے اندر تھی۔فوجوں کا حوصلہ کمزور پڑ گیا تھا اور لوگوں پر خوف و ہراس طاری تھا ۔ان قلعوں کے سردار ہتھیار ڈالنے کیلئے تیار تھے لیکن کوئی قلعہ دار یہ نہیں چاہتا تھا کہ ہتھیار ڈالنے میں وہ پہل کرے اور یہ تہمت اس پر لگے کہ ہتھیار سب سے پہلے اس نے ڈالے تھے ورنہ کوئی بھی ہتھیار نہ ڈالتا۔عبدالمسیح کا پیغام ملتے ہی انہوں نے تیر اندازی بند کر دی اور تینوں قلعہ دار باہر آگئے۔انہیں خالدؓ کے سامنے لے گئے۔اس وقت خالدؓ ایک گھنے درخت کے نیچے کھڑے تھے۔’’کیا تم نے ہمیں کمزور سمجھ کر ہمارا مقابلہ کیاتھا؟‘‘خالدؓ نے ان قلعہ داروں سے کہا۔’’کیا تم بھول گئے تھے کہ تم عربی ہو؟کیا تمہیں یہ بھی یاد نہیں رہا کہ ہم بھی عربی ہیں؟اگر تم عجمی ہوتے تو بھی تمہیں یہ امید نہیں رکھنی چاہیے تھی کہ تم اس قوم کو شکست دے سکو گے جو عدل و انصاف میں یکتا ہے اور جس کی تلوار کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے۔‘‘’’تو جو کچھ بھی کہنا چاہتا ہے کہہ سکتا ہے۔‘‘ضعیف العمر عبدالمسیح نے کہا۔’’تو فاتح ہے۔ہمیں کچھ کہنے کا حق حاصل نہیں کیونکہ ہم نے تیرے آگے ہتھیار ڈال دیئے ہیں۔‘‘مشہور مؤرخ ابو یوسف نے خالدؓ اور عبدالمسیح کے مکالمے لکھتے ہوئے یہ بھی لکھا ہے کہ عبدالمسیح اس قدر بوڑھا ہوچکا تھا کہ اس کی بھنویں دودھ کی مانند سفید ہو چکی تھیں اور اتنی نیچے آگئی تھیں کہ ان سے اس کی آنکھیں ڈھک گئی تھیں ۔اسی مؤرخ کے مطابق خالدؓ عبدالمسیح سے متاثر ہوئے۔’’تمہاری عمر کتنی ہے؟‘‘خالدؓ نے عبدالمسیح سے پوچھا۔’’دوسوسال۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔خالدؓ یہ جواب سن کر بہت حیران ہوئے۔انہوں نے اس بوڑھے قلعہ دار کو اور زیادہ غور سے دیکھا جیسے انہیں یقین نہ آرہا ہو کہ یہ شخص دوسوسال سے زندہ ہے۔کسی بھی مؤرخ نے عبدالمسیح کی صحیح عمر نہیں لکھی۔واقعات سے پتا چلتا ہے کہ اس کی عمر ایک سو سال سے کچھ اوپر تھی۔’’تونے بڑی لمبی عمر پائی ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہ بتا کہ اتنی لمبی زندگی میں تم نے سب سے زیادہ عجیب چیز کیا دیکھی ہے؟‘‘
’نوشیرواں کا عدل و انصاف۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’اس دور میں حکومت اس کی ہوتی ہے جس کے بازو میں طاقت اور ہاتھ میں تلوار ہوتی ہے ،لیکن نوشیرواں نے عدل و انصاف کے ذریعے لوگوں کے دلوں پر فتح پائی۔تم کہتے ہو کہ مسلمان عدل و انصاف میں یکتا ہیں……نہیں۔میں نوشیرواں کو عادل مانتا ہوں۔‘‘’’تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘خالدؓ نے عبدالمسیح سے پوچھا۔’’کہاں کے رہنے والے ہو؟‘‘’’ایک گاؤں ہے۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’جہاں تک کوئی عورت بھی سفر کرے تو اس کیلئے ایک روٹی کا ایک ٹکڑہ بھی کافی ہوتا ہے۔‘‘’’کیا تم احمق نہیں ہو؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں پوچھ کیا رہا ہو ں اور تم جواب کیا دے رہے ہو؟……میں نے پوچھا تھا کہاں سے آئے ہو؟‘‘’’اپنے با پ کی ریڑھ کی ہڈی سے۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’تم قلعہ دار بننے کے قابل کب ہوئے تھے؟‘‘خالدؓ نے جھنجھلا کرکہا۔’’میں نے پوچھا ہے تم کہاں سے آئے ہو؟‘‘
’’اپنی ماں کے رحم سے۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔خالدؓ نے جب دیکھا کہ اس بوڑھے کا بولنے کا سوچنے کا اور جواب دینے کا انداز مضحکہ خیز سا ہے تو انہوں نے تفریح طبع کیلئے اس سے ویسے ہی سوال کرنے شروع کردیئے۔یہ سوال و جواب تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھے ہیں۔’’تم کہاں جاؤ گے؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’آگے کو۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’تمہارے آگے کیا ہے؟‘‘’’آخرت۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔’’تم جانتے ہو کہاں کھڑے ہو؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’زمین پر۔‘‘عبدالمسیح نے جواب دیا۔خالدؓ اس کی بے رخی اور لا پرواہی دیکھ کر اسے یہ احساس دلانا چاہتے تھے کہ وہ فاتح سالارِاعلیٰ کے سامنے کھڑا ہے۔خالدؓ نے معلوم نہیں کیا سوچ کر اس سے پوچھا۔’’تم کس چیز کے اندر ہو؟‘‘’’اپنے کپڑوں کے اندر۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔اب خالدؓ کو غصہ آنے لگا۔انہوں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔’’دنیا کم عقلوں کو تباہ کرتی ہے۔لیکن دانالوگ دنیا کو تباہ کرتے ہیں۔مجھے معلوم نہیں کہ تم کم عقل ہو یا دانا ۔مجھے صحیح جواب تمہارے لوگ ہی دے سکتے ہیں۔‘‘’’اے فاتح سالار!‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’چیونٹی بہتر جانتی ہے کہ اس کے بل کے اندر کیا کچھ رکھا ہے ۔اونٹ نہیں بتا سکتا۔‘‘خالدؓ نے چونک کر عبدالمسیح کی طرف دیکھا۔ان کا غصہ ختم ہو گیا۔انہوں نے محسوس کر لیا کہ یہ شخص احمق یا کم عقل نہیں۔خالدؓ نے اسے اپنے برابر میں بٹھا لیا۔اب خالدؓ کے انداز میں احترام تھا۔
’’اے بزرگ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کوئی ایسی بات بتا جو تو ہمیشہ یاد رکھناچاہتا ہے۔‘‘
مؤرخ لکھتے ہیں کہ عبدالمسیح گہری سوچ میں کھوگیا۔اس کے چہرے پر اداسی آگئی۔اس نے قلعے کی طرف دیکھا۔’’میں اس وقت کو یاد کیا کرتا ہوں۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’جب ان قلعوں کے عقب میں بہتے ہوئے فرات میں چین کے بحری جہاز بادبان پھیلائے آیا کرتے تھے ،پھر مجھے جووقت یاد ہے وہ نوشیرواں کا عہد حکومت ہے۔رعایا خوشحال اور مطمئن تھی ۔کوئی جھونپڑی میں رہتا تھا یا محل میں ،نوشیرواں کا انصاف سب کیلئے ایک تھا۔‘‘’’محترم بزرگ!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’خدا کی قسم!تو مسلمانوں کے عدل و انصاف کو بھی یاد رکھے گا……اگر تو اپنے لوگوں کے ساتھ اسلام قبول کرلے تو تیری اور تیرے لوگوں کی حفاظت ہمارے ذمے ہوگی۔تم سب کو وہی حقوق ملیں گے جو دوسرے مسلمانوں کو ملتے ہیں۔اگر اسلام قبول کرنے کیلئے تو اپنے آپ کوآمادہ نہیں کرسکتا تو تجھے اور ان تما م قلعہ داروں کو وہ جزیہ ادا کرناہوگا جو میں مقررکروں گا ۔اگرتجھے یہ بھی قبول نہیں تو پھر تم نے دیکھ ہی لیا ہے کہ مسلمان قلعوں کو کس طرح سرکرتے ہیں اور ان کی تلوار کی کاٹ کیسی ہے۔‘‘
’’ہم سے کچھ اور مانگ ہم دیں گے۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’اپنا مذہب نہیں چھوڑیں گے،بتا جزیہ کتنا ہوگا۔‘‘’’تجھ جیسے داناسے مجھے اس جواب کی توقع نہیں تھی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کفر نے تجھے شکست تک پہنچایا ہے ۔اس عربی کو میں کم عقل سمجھتا ہوں جو عربی راستے سے ہٹ کرعجمی راستہ اختیارکرلے۔‘‘خالدؓ کے ان الفاظ نے نہ عبدالمسیح کو متاثر کیا نہ دوسرے کسی قلعہ دار یاسردار کو۔وہ اپنے انکار پر قائم رہے جب خالدؓ نے انہیں جزیہ کی رقم بتائی تو انہوں نے اسے فوراً قبول کر لیا۔یہ رقم ایک لاکھ نوے ہزار درہم تھی۔جو عہد نامہ تحریر کیا گیا اس کے الفاظ یہ تھے:
بسم اﷲالرحمٰن الرحیم
’’یہ عہد نامہ خالد بن ولیدنے حیرہ کے سرداروں عدی بن عدی ،عمرو بن عدی،عمرو بن عبدالمسیح ،ایاس بن قبصیہ الطانی اور حیری بن اکال سے کیا ہے۔اس عہد نامے کو حیرہ کے لوگوں نے قبول کرلیاہے اور اپنے سرداروں کو اس کی تکمیل کا ذمہ دار ٹھہرایا ہے۔اس عہد نامے کے مطابق اہلِ حیرہ خلافتِ مدینہ کو ایک لاکھ نوے ہزار درہم سالانہ ادا کیا کریں گے۔یہ جزیہ حیرہ کے پادریوں اور راہبوں سے بھی وصول کیا جائے گا۔صرف اپاہجوں ،نادار افراد اور تارک الدنیا راہبوں کویہ جزیہ معاف ہوگا……
اگر یہ جزیہ باقاعدگی سے ادا کیا جاتا رہا تو اہلِ حیرہ کے تحفظ کے ذمہ دار مسلمان ہوں گے۔اگر مسلمانوں نے اس ذمہ داری میں کوتاہی کی تو جزیہ نہیں لیا جائے گااور اگر اہلِ حیرہ نے اس عہد نامے کی خلا ف ورزی کی تو مسلمان اپنی ذمہ داری سے بری سمجھے جائیں گے۔یہ معاہدہ ربیع الاول ۱۲ ہجری میں تحریر ہوا-

حیرہ پر مسلمانوں کے قبضے کی تکمیل ہو گئی۔معاہدے کے بعد تمام قلعہ داروں اور امراء نے خالدؓ کی اطاعت قبول کرلی۔یہ دراصل خلیفۃ المسلمین حضرت ابو بکرؓ کی اطاعت تھی۔خالدؓ نمائندگی کر رہے تھے۔اس کے بعد خالدؓ نے اپنی تمام تر فوج کے ساتھ آٹھ رکعت نفل شکرانے کے پڑھے۔فارغ ہونے کے بعد خالدؓ نے اپنی فوج سے مختصر سا خطاب کیا۔’’مُوتہ کی لڑائی میں میرے ہاتھ میں نَو تلواریں ٹوٹی تھیں لیکن آتش پرستوں نے جس جوانمردی سے مقابلہ کیا ہے اسے میں ہمیشہ یادرکھوں گا۔انہوں نے الیّس میں ہم سے جو لڑائی لڑی ہے ایسی لڑائی میں نے پہلے نہیں دیکھی……اسلام کے پاسبانو!فتح و شکست اﷲکے اختیارمیں ہے۔اس کے نام کو اس کی نعمتوں کو اور اس کے رسولﷺ کو ہر وقت دل میں رکھو۔حیرہ بہت بڑی نعمت ہے جو اﷲتعالیٰ نے ہمیں عطا کی ہے۔یہ بھی دل میں رکھو کہ ہمارا جہاد ابھی ختم نہیں ہوا۔جب تک کفر کا فتنہ باقی ہے جہاد ختم نہیں ہوگا۔‘‘خالدؓ نے شہیدوں کیلئے دعائے مغفرت کی ،پھرزخمیوں کی عیادت کوگئے۔شہیدوں کی نمازِ جنازہ بڑا ہی رقت آمیز منظر تھا۔وطن سے اتنی دور جاکر شہید ہونے والوں کیلئے ہر آنکھ میں آنسو تھے۔شہیدوں کو قبروں میں اتارا گیا تو یہ قبریں تاریخ کے سنگ ہائے میل بن گئیں ۔خالدؓ جب حیرہ کا نظم و نسق سنبھالنے کیلئے اس محل نما مکان میں گئے جو ازادبہ کا رہائشی مکان تھا تو بے شمار رؤسا ء اور امراء تحفے لئے کھڑے تھے جو انہوں نے خالدؓکو پیش کیے۔ان میں بیش قیمت اشیاء تھیں ہیرے اور جواہرات بھی تھے۔مدینہ کے مجاہدین حیران ہو رہے تھے کہ کوئی قوم اتنی دولت مند بھی ہو سکتی ہے۔خالدؓنے یہ تحفے قبول تو کر لیے لیکن بوریا نشینوں کی قوم کے اس سالارِ اعلیٰ نے اپنے لیے ایک بھی تحفہ نہ رکھا۔تمام تحفے مالِ غنیمت کے ساتھ امیر المومنینؓ کی خدمت میں پیش کرنے کیلئے مدینہ بھیج دیئے۔مالِ غنیمت زیادہ نہیں تھا کیونکہ حیرہ والوں نے جزیہ تسلیم کرلیا اور اطاعت بھی قبول کرلی تھی۔ایک دلچسپ او رعجیب واقعہ ہو گیا۔کچھ برس پہلے کی بات ہے۔رسولِ کریمﷺ صحابہ کرامؓ میں بیٹھے تھے اور اِدھر اُدھر کی باتیں ہو رہی تھیں۔باتوں کا رخ کفار کے علاقوں کی طرف مڑ گیااور ذکر فارس کی شہنشاہی کا چل نکلا۔حیرہ اس شہنشاہی کا بڑا ہی اہم مقام تھا۔کسی صحابیؓ نے کہا کہ حیرہ ہاتھ آجائے تو اسے فوجی اڈا بنا کر کسریٰ پر کاری ضربیں لگائی جا سکتی ہیں۔دو مؤرخوں بلاذری اور طبری نے لکھا ہے کہ رسولِ کریمﷺ نے فرمایا کہ تھوڑے عرصے بعد حیرہ ہمارے قبضے میں ہوگا۔یہ دونوں مؤرخ لکھتے ہیں کہ اس محفل میں حیرہ کی اہمیت اور اس علاقے کی خوبصورتی کی باتیں ہونے لگیں۔عبدالمسیح مشہور آدمی تھا۔اس کی ایک بیٹی تھی جس کا نام کرامہ تھا۔اس کے حسن کے چرچے تاجروں وغیرہ کی زبانی دور دور تک پہنچے ہوئے تھے۔اس کے اپنے ملک میں اس کا حسن و جمال ضرب المثل بن گیا تھا۔
بلا ذری اور طبری نے لکھاہے کہ رسولِ کریمﷺ کی اس محفل میں سیدھا سادہ اور عام سا ایک آدمی شویل بھی موجود تھا۔’’یا رسول اﷲ!‘‘شویل نے عرض کی۔’’اگر حیرہ فتح ہوگیا تو عبدالمسیح کی بیٹی کرامہ مجھے دے دی جائے۔‘‘رسولِ کریم ﷺ مسکرائے اور ازراہِ مزاق کہا۔’’حیرہ فتح ہو گیا تو کرامہ بنتِ عبدالمسیح تیری ہوگی۔‘‘ان مؤرخوں نے یہ نہیں لکھا کہ حیرہ کی فتح سے کتنا عرصہ پہلے یہ بات ہوئی تھی۔اب حیرہ فتح ہوگیا ۔خالدؓ کی فوج کا ایک ادھیڑ عمر سپاہی اس وقت ان کے سامنے جا کھڑا ہوا جب کچھ شرائط عبدالمسیح اور خالدؓ کے درمیان طے ہو رہی تھیں’’کیا نام ہے تیرا؟‘‘خالدؓ نے اپنے اس سپاہی سے پوچھا۔’’اورمیرےپاس کیوں آئے ہو؟‘‘’’سالارِاعلیٰ!‘‘سپاہی نے کہا۔’’میرا نام شویل ہے۔خدا کی قسم!رسول اﷲﷺنے مجھ سے وعدہ فرمایا تھا کہ عبدالمسیح کی بیٹی کرامہ تجھے دے دی جائے گی۔آج حیرہ فتح ہوگیا ہے ۔شہزادی کرامہ مجھے دی جائے۔‘‘’’کیا تو کوئی گواہ پیش کر سکتا ہے؟‘‘خالدؓنے کہا۔’’خدا کی قسم! میں رسول اﷲ ﷺ کے وعدے کی خلاف ورزی کی جرات نہیں کر سکتا لیکن گواہ نہ ہوئے تو میں تیری بات کو سچ نہیں مان سکتا۔‘‘شویل کو دو گواہ مل گئے۔وہ حیرہ کی فاتح فوج میں موجود تھے۔انہوں نے تصدیق کی کہ رسول اﷲ ﷺنے ان کی موجودگی میں شویل سے یہ وعدہ فرمایا تھا۔’’رسول اﷲﷺ کا وعدہ میرے لیے حکم کا درجہ رکھتا ہے۔‘‘خالدؓ نے عبدالمسیح سے کہا۔’’تجھے اپنی بیٹی اس شخص کے حوالے کرنی ہو گی۔‘‘’’یہ بھی شرائط میں لکھ لو۔‘‘عبدالمسیح نے کہا۔’’کہ میری بیٹی کرامہ اس سپاہی کو دے دی جائے۔‘‘یہ حکم عبدالمسیح کے گھر پہنچا کہ کرامہ مسلمانو ں کے سالارِ اعلیٰ کے پاس آجائے۔کرامہ نے پوچھاکہ اسے کیوں بلایا جا رہاہے؟اسے بتایاگیا کہ ایک مسلمان سپاہی نے اس کی خواہش کی ہے اور اسے اس سپاہی کے حوالے کیا جائے گا۔’’ایسا نہ ہونے دو۔‘‘گھر میں جو ایک محل کی مانند تھا ،دوسری عورتوں کا شور اٹھا۔’’ایسا نہ ہونے دو۔شاہی خاندان کی ایک عورت کو حوالے نہ ہونے دو جو عرب کا وحشی بدو ہے۔‘‘’’مجھے اس کے پاس لے چلو۔‘‘کرامہ نے کہا۔’’اس مسلمان سپاہی نے میری جوانی کے حسن کی باتیں سنی ہوں گی۔وہ کوئی جاہل اور احمق لگتا ہے ۔اس نے کسی سے یہ نہیں پوچھا ہوگا کہ یہ کب کی بات ہے کہ جب میں جوان ہوا کرتی تھی۔‘‘بلاذری کی تحریر کے مطابق کرامہ کو خالدؓ کے سامنے لے جایا گیا۔شویل موجود تھا۔اس نے ایک ایسی بڑھیا دیکھی جس کے چہرے پر جھریاں تھیں اور بال سفید ہو چکے تھے۔مؤرخ طبری نے کرامہ کی عمر اسّی سال لکھی ہے۔اس کے باپ عبدالمسیح نے خالدؓ کو اپنی عمر دو سو سال بتائی تھی۔بعض مؤرخ ان عمروں کو تسلیم نہیں کرتے۔عبدالمسیح کی عمر ایک سو سال سے ذرا ہی زیادہ تھی اور کرامہ کی عمر ساٹھ ستر سال کے درمیان تھی۔بہرحال کرامہ ضعیف العمر تھی۔شویل نے اسے دیکھا تو اس کے چہرے پر جو خوشی کے آثار تھے وہ اڑ گئے اور وہ مایوس ہو گیا۔اچانک اسے ایک خیال آگیا۔
’’امیرِ لشکر!‘‘شویل نے کہا۔’’یہ شرط لکھ لی گئی ہے کہ کرامہ بنتِ عبدالمسیح میری لونڈی ہے۔اگر یہ مجھ سے آزادی چاہتی ہے تو مجھے رقم ادا کرے۔‘‘’’کتنی رقم؟‘‘کرامہ نے پوچھا۔’’ایک ہزار درہم!‘‘شویل نے کہا۔’’میں اپنی ماں کا بیٹا نہیں ہوں گا کہ ایک درہم بھی بخش دوں۔‘‘
کرامہ کے بوڑھے ہونٹوں پر مسکراہٹ آگئی۔اس نے اس خادمہ کو جو اس کے ساتھ آئی تھی ،اشارہ کیا۔خادمہ دوڑی گئی اور ایک ہزار درہم لے آئی۔کرامہ نے یہ درہم شویل کے حوالے کردیئے اور آزاد ہو گئی۔شویل کا یہ عالم تھا کہ ایک ہزار درہم دیکھ کر حیران ہو رہا تھا جیسے اس کے ہوش گم ہو گئے ہوں۔اس نے اپنے ساتھیوں کو جاکر فاتحانہ لہجے میں بتایا کہ اس کے ساتھ دھوکا ہوا تھا کہ اس نے ایک ضعیف العمر عورت کو جوان سمجھ لیا تھا لیکن اس نے اس سے ایک ہزار درہم کما لیے۔’’صرف ایک ہزار درہم؟‘‘اس کے ساتھی نے اسے کہا۔’’تو ساری عمر احمق ہی رہا۔کرامہ شاہی خاندان کی عورت ہے۔اس سے تو کئی ہزار درہم لے سکتا تھا۔‘‘’’اچھا؟‘‘شویل نے مایوس ہو کر کہا۔’’میں تو سمجھتا تھا کہ ایک ہزار درہم سے زیادہ رقم ہوتی ہی نہیں۔‘‘اس کے ساتھیوں کے ایک زور دار قہقہے نے اسے اور زیادہ مایوس کر دیا۔خالدؓنے مالِ غنیمت کے ساتھ تمام تحفے مدینہ بھیج دیئے۔مدینہ سے خالدؓ کیلئے امیر المومنینؓ نے پیغام بھیجاکہ یہ تحفے اگر مالِ غنیمت میں شامل ہیں یا جزیئے میں تو قابلِ قبول ہو سکتے ہیں،اگر نہیں تو جنہوں نے یہ تحفے دیئے ہیں ان سے ان کی قیمت معلوم کرکے جزیئے میں شامل کر لو۔اگر تم جزیہ وصول کر چکے ہو تو تحفوں کی رقم ان لوگوں کو واپس کردو۔خالدؓ نے ان سب کو بلا کر انہیں تحفوں کی قیمت ادا کر دی۔حیرہ کی فتح کے بعد چند دنو ں میں خالدؓ نے وہاں کا نظم و نسق رواں کر دیا اور حیرہ کے امراء کو ہی انتظامیہ کا ذمہ دار بنا دیا۔’’میرے بھائیو!‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’میرے پاس وقت نہیں کہ میں یہاں بیٹھا رہوں لیکن نظم و نسق کی بحالی بہت ضروری ہے۔اس سے زیادہ ضروری یہ ہے کہ نظم و نسق کو اس بنیاد پر رواں کیا جائے کہ لوگوں کو فائدہ پہنچے۔وہ سکون اور اطمینان محسوس کریں کہ ان کی جان و مال اور ان کی عزت و آبرو کو تحفظ حاصل ہے ۔خدا کی قسم!میں ان لوگوں پر، عیسائیوں پر اور ان آتش پرستوں پر ثابت کروں گا کہ اسلام وہ مذہب ہے جو ظلم کو بہت بڑا گناہ سمجھتا ہے۔رعایا کو اپنی اولاد سمجھو۔کیا تم نے نہیں دیکھا کہ میں نے نظم و نسق انہی لوگوں کے سپرد کر دیا ہے ؟رب ِ کعبہ کی قسم!میں ان پر اپنا حکم نہیں ٹھونسوں گا۔‘‘اپنا حکم نہ ٹھونسنے کے نتائج چند دنوں میں سامنے آگئے۔اسلام کا بنیادی اصول یہی تھا کہ لوگوں کے دل جیتو مگر دل جیت کر انہیں دھوکا نہ دو۔انہیں ان کے حقوق دو۔خالدؓ اسلام کے پہلے سالار تھے جنہوں نے مدینہ سے نکل کر کسی دوسری قوم کے علاقے فتح کیے اور انہیں اسلام کے اس بنیادی اصول پر عمل کرنے کا موقع ملا ۔مصر کے محمد حسین ہیکل نے بہت سے مؤرخوں کا حوالہ دے کر لکھا ہے کہ خالدؓ نے دشمنوں کے سر اڑانے شروع کیے تو فرات کو لال کر دیا اور ایسے کسی آدمی کو زندہ نہ چھوڑا جس کی طرف سے دینِ اسلام کو ذرا سا بھی خطرہ تھا۔
خالدؓ ذاتی دشمنی کے قائل نہیں تھے ۔متعصّب تاریخ دانوں نے خالدؓ کو ظالم سالار کہا ہے لیکن خالدؓ نے جو بھی علاقہ فتح کیا وہاں کا انتظام مفتوحہ امراء و رؤسا کے سپرد کر دیا۔البتہ ان کے نگران یعنی بالائی حکام مسلمان مقرر کیے جاتے تھے۔حیرہ کو فتح کر کے خالدؓ نے سارے فارس کو فتح نہیں کر لیا تھا۔بلکہ خالدؓ خطروں میں گھر گئے تھے۔آتش پرست ان پر چاروں طرف سے حملے کر سکتے تھے۔اگر بڑے پیمانے پر حملہ نہ کرتے تو شب خون مار مار کر مسلمانوں کی فوج کو نقصان پہنچا سکتے تھے لیکن آتش پرستوں نے ایسی کوئی کارروائی نہ کی۔اس کی اور کئی وجوہات تھیں جن میں ایک یہ تھی کہ مفتوحہ علاقوں کے لوگ مسلمانوں کے سلوک سے متاثر ہوکر ان کے حامی اور معاون بن جاتے تھے۔
حیرہ اور نواحی علاقے میں دیر ناطف نام کی ایک بستی تھی جو عیسائیوں کی بستی کہلاتی تھی ۔وہاں ایک بہت بڑا گرجا تھا جس کے پادری کا نام صلوبابن نسطوناتھا۔وہ عیسائیوں کا مذہبی پیشوا ہی نہیں ان کا عسکری قائد بھی تھا۔وہ میدان ِ جنگ میں کبھی نہیں گیا تھا لیکن جنگ و جدل کے فن میں مہارت رکھتا تھا۔فارس کے عیسائی للکار کر مسلمانوں کے مقابلے میں آئے تھے اور مسلمانوں کی تلواروں او برچھیوں سے بری طرح کٹے تھے۔ایسے عیسائیوں کی تعداد خاصی کم ہو گئی تھی جو لڑنے کے قابل تھے۔بوڑھے زندہ رہ گئے تھے یا عورتیں زندہ تھیں،صلوبابن نسطونا اکثر کہا کرتا تھا کہ مذہب صرف ایک زندہ رہے گا اور یہ عیسائیت ہوگی۔’’زرتشت رہے گا نہ مدینہ کا اسلام!‘‘اس نے اپنے وعظ میں کئی بار کہا تھا۔’’سب مٹ جائیں گے اور زمین پر یسوع مسیح کی حکومت ہوگی۔‘‘حیرہ فتح ہونے تک لڑنے والے ہزار ہا عیسائی مٹ گئے تھے،باقی مسلمانوں کے ڈر سے بھاگ کر اِدھر اُدھرجا چھپے تھے۔ان کے سرکردہ افراد نے پادری صلوبابن نسطونا کے ساتھ رابطہ رکھا ہوا تھا۔صلوبا نے کوشش کی تھی کہ عیسائیوں کو یکتا اور متحد کرکے مسلمانوں پر شبخون مارنے کیلئے تیار کرے لیکن عیسائیوں پر مسلمانوں کی ایسی دہشت بیٹھ گئی تھی کہ وہ شب خون اور چھاپہ مار جنگ کیلئے تیار نہ ہوئے۔’’مقدس باپ!‘‘ایک رات ایک نامور جنگجو عیسائی شمیل بورزانہ نے پادری صلوبابن نسطونا سے کہا۔’’کیا تم اس پر یقین رکھتے ہو کہ گرجے کی گھنٹیاں اور تمہارے وعظ اس تباہی کو روک لیں گے جو ہماری طرف تیزی سے بڑھی آرہی ہے؟‘‘’’نہیں!‘‘ پادری صلوبا نے کہا۔’’میرے وعظ اور گرجے کے گھنٹے کی آوازیں اب اس تباہی کو نہیں روک سکتیں۔‘‘’’پھر تم ہمیں اجازت کیوں نہیں دیتے کہ ہم مسلمانوں کی فوج پر ہر رات شبخون ماریں؟‘‘شمیل بورزانہ نے کہا۔’’مدینہ کے مسلمان جن نہیں، بھوت نہیں، انسان ہیں۔ہماری طرح کے انسان ہیں۔‘‘’’شمیل!‘‘پادری صلوبا نے کہا۔’’بے شک وہ انسان ہیں لیکن تمہاری طرح نہیں۔میں نے ان میں کچھ اور ہی بات دیکھی ہے……وہ فتح کا عزم لے کرآئے ہیں۔اگر انہوں نے اپنے جسموں کے متعلق یہی رویہ رکھا توآخری فتح بھی انہی کی ہوگی۔‘‘

’’مقدس باپ!‘‘شمیل نے کہا۔’’میں جسموں والی بات نہیں سمجھا۔‘‘’’سمجھنے کی کوشش کرو۔‘‘پادری صلوبا نے کہا۔’’یہ لوگ جنہیں کسریٰ اُردشیر عرب کے بدُّو کہتا رہا ہے، جسمانی آسائشوں اور لذتوں کو قبول نہیں کرتے۔‘‘’’مقدس باپ کی زبان سے دشمن کی تعریف اچھی نہیں لگتی۔‘‘شمیل نے کہا۔’’اگر تم اپنے آپ میں دشمن کے اچھے اوصاف پیدا کرلوتو تم شکست سے بچ سکتے ہو۔‘‘پادری صلوبا نے کہا۔’’کیا تمہارے دوستوں نے مسلمانوں کو جال میں پھانسنے کیلئے پندرہ حسین لڑکیاں نہیں بھیجی تھیں؟کیا تم یہ سمجھتے ہو کہ تم لوگ جو کچھ کرتے ہو اس کا مجھے علم نہیں ہوتا؟تمہاری تلواروں کی دھار کند ہو چکی ہے اس لیے تم لوگوں نے عورتوں کو استعمال کیا ہے۔کیا تم انکار کرو گے؟‘‘’’نہیں مقدس باپ!‘‘شمیل نے شرمسار سا ہوکہ کہا۔’’ہمارے ایک بزرگ نے کہا تھا کہ ایک تلوار ایک وار میں ایک آدمی کو کاٹ سکتی ہے لیکن ایک حسین عورت کا ایک وار ایک سو آدمیوں کو گھائل کر دیتا ہے۔مسلمان سوار گھوڑوں کو جھیل سے پانی پلانے لایا کرتے ہیں۔وہ چار چار چھ چھ کی ٹولیوں میں آتے ہیں۔جھیل کے اردگرد اونچی چٹانیں اور گھنا جنگل ہے۔ہماری لڑکیوں نے مسلمان سواروں کو اپنی طرف کھینچنے کی بہت کوشش کی لیکن ان پر کچھ اثر نہ ہوا۔ہماری بعض لڑکیاں نیم برہنہ ہر کر انہیں چٹانوں کے پیچھے چلنے کے اشارے کرتی رہیں لیکن ہوا یہ کہ بعض سوار منہ پھیر لیتے اور بعض ہنس پڑتے تھے۔‘‘’’اور مجھے یہ بھی معلوم ہے شمیل!‘‘پادری صلوبا نے کہا۔’’کہ تم لوگوں نے مسلمانوں کے گشتی سنتریوں کو بھی پھانسنے کی کوشش کی تھی اور تم لوگوں نے یہ بھی سوچا تھا کہ مسلمانوں کے سالاروں اور خالدبن ولید کو قتل کرنے کیلئے لڑکیوں کو استعمال کیاجائے۔‘‘’’ہاںمقدس باپ!‘‘شمیل نے کہا۔’’ہم نے ایسا سوچا تھا۔‘‘’’پھر اس سوچ پر عمل کیوں نہ کیا؟‘‘’’اس لیے نہ کیا کہ جس فوج کے سپاہیوں کا کردار اتنا مضبوط ہے اس کے سالار تو فرشتوں جیسے ہوں گے۔‘‘شمیل نے جواب دیا۔’’اب ہمارے سامنے یہی ایک صورت رہ گئی ہے کہ مسلمان فوج پر شب خون مارنے شروع کر دیں اور انہیں اتنا نقصان پہنچائیں کہ یہ پسپائی پر مجبور ہو جائیں۔‘‘’’کیا تم کسریٰ کی فوج سے زیادہ طاقتور ہو؟‘‘پادری صلوبا نے کہا۔’’وہ جو کہتے تھے کہ زمین پرکوئی طاقت ان کے مقابلے میں اٹھنے کی جرات نہیں کر سکتی اب کہاں ہیں۔ آگ کو پوجنے والوں کے تمام نامور سالار مسلمانوں کے ہاتھوں کٹ گئے ہیں ۔ہم نے ان کی خاطر مسلمانوں سے لڑکر غلطی کی ہے۔‘‘’’تو کیا مقدس باپ!تم یہ کہنا چاہتے ہو کہ ہم مسلمانوں کے ساتھ دشمنی نہ رکھیں؟‘‘شمیل نے حیران سا ہو کر پوچھا۔’’ہاں!‘‘پادری صلوبا نے جواب دیا۔’’میں یہی کہنا چاہتا ہوں۔بلکہ میں مسلمانوں کے ساتھ دوستی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘’’مقدس باپ!‘‘شمیل نے کہا۔’’پھر تم کہو گے کہ مسلمانوں کے مذہب کو بھی قبول کرنا چاہتے ہو۔‘‘
’’نہیں !ایسانہیں ہوگا۔‘‘پادری صلوبا نے کہا۔’’جب سے حیرہ پر مسلمانوں کا قبضہ ہوا ہے۔میں یہی دیکھ رہا ہوں کہ ان سے ہمارے مذہب کو کتنا کچھ خطرہ ہے۔میں نے دیکھ لیا ہے کہ عیسائیت کو کوئی خطرہ نہیں۔مسلمان اپنا مذہب قبول کرنے کی دعوت دیتے ہیں ،وہ زبردستی اپنا مذہب مفتوحہ لوگوں پر نہیں ٹھونستے……کیا انہیں معلوم نہیں کہ یہاں ایک گرجا ہے۔جس میں مجھ جیسا جہاندیدہ اور مذہب پر مر مٹنے والا پادری موجود ہے؟……انہیں معلوم ہے شمیل!میں دو اتوار گرجے میں آنے والے عیسائیوں کے ہجوم میں دو اجنبی آدمیوں کو دیکھتا رہا ہوں۔میں نے ان کے گلوں میں صلیبیں لٹکتی دیکھی تھیں۔وہ ہر لحاظ سے عیسائی لگتے تھے لیکن میری دوربین نگاہوں نے بھانپ لیا تھا کہ وہ دونوں مسلمان ہیں اور وہ مدینہ کے نہیں فارس کے رہنے والے ہیں۔وہ ولید کے بیٹے خالد کے جاسوس تھے ۔میں اپنے وعظ میں محتاط رہا۔‘‘
’’مقدس باپ!‘‘شمیل نے کہا۔’’اگر تم مجھے اشارہ کر دیتے تو وہ دونوں زندہ واپس نہ جاتے۔‘‘
’’پھر اس گرجے کی اینٹ سے اینٹ بج جاتی۔‘‘پادری صلوبانے کہا۔’’عقل اور جوش میں یہی فرق ہے شمیل!تم میں جوش ہے اور میں عقل سے کام لے رہا ہوں……میں تم لوگوں کو مسلمانوں پر شب خون مارنے اور لڑنے کی اجازت نہیں دوں گا۔‘‘دو تین روز بعد پادری صلوبابن نسطوناگرجے میں تمام عیسائی سرداروں سے کہہ رہا تھا’’ ……حقیقت کو دیکھو۔کسریٰ کی اتنی زبردست فوج مدینہ کی قلیل سی فوج کے مقابلے میں نہیں ٹھہر سکی۔تم نے بھی مسلمانوں کا مقابلہ کرکے دیکھ لیا ہے۔اب مسلمانوں سے ٹکرا کرتم تباہ ہوجانے کے علاوہ اور کچھ نہیں کر سکتے۔وقت کا ساتھ دو۔مسلمانوں نے تمہارے مذہب کیلئے کوئی خطرہ پیدا نہیں کیا۔انہوں نے ہمیں اور آتش پرستوں کو بھی اپنی اپنی عبادت گاہوں میں عبادت کی اجازت دے رکھی ہے ۔مسلمانوں نے عدل وانصاف میں جو مساوات قائم کی ہے وہ تم خود دیکھ رہے ہو……اور تم یہ بھی دیکھ رہے ہو کہ تم ان کے خلاف آتش پرستوں کے دوش بدوش لڑے تھے لیکن مسلمانوں نے تمہارے خلاف کسی قسم کی انتقامی کارروائی نہیں کی۔انہوں نے کاشتکاروں کی زمینوں پر قبضہ نہیں کیا۔ان کی فصلوں میں اپنے گھوڑے او ر اونٹ نہیں چھوڑے بلکہ آتش پرست حاکم ان غریب کسانوں پر جو ظلم و تشدد کرتے اور ان کی کھیتیوں کی پیداوار اٹھالے جاتے تھے۔یہ لوٹ کھسوٹ ختم ہو گئی ہے۔اس حقیقت سے انکار نہ کرو کہ مسلمان رعایا کو پورے حقوق دے رہے ہیں۔‘‘’’تم پر خدائے یسوع مسیح کی رحمت ہو!‘‘ایک سردار نے پادری صلوبا کو ٹوکتے ہوئے کہا۔’’کیا تم ہمیں یہ ترغیب دے رہے ہو کہ ہم مسلمانوں کی اطاعت قبول کر لیں؟‘‘’’کیا یہ ہماری بے عزتی نہیں؟‘‘ایک اور سردار نے کہا۔’’مسلمانوں نے تمہاری عزت کی طرف آنکھ اٹھا کر بھی نہیں دیکھا۔‘‘پادری صلوبا نے کہا۔’’کیا تم نے انہیں پھانسنے اور گمراہ کرنے کیلئے اپنی لڑکیوں کو نہیں بھیجا تھا؟کیا وہ تمہاری لڑکیوں کو اٹھا کر نہیں لے جا سکتے تھے؟……اور مت بھولو کہ کسریٰ کے حاکموں نے تمہاری کتنی لڑکیوں کے ساتھ زبردستی شادی کی تھی۔جسے جو لڑکی اچھی لگی، وہ اسے حکماً لے گیا……
اور یہ بھی سوچو کہ فارس کے وہ سالار اور کماندار کہاں ہیں جن کے ساتھ مل کر تم مسلمانوں کے خلاف لڑے تھے ؟کیا انہوں نے تم سے پوچھا ہے کہ تم کس حال میں ہو؟کیا انہوں نے آکر دیکھا ہے کہ تم میں سے جو مارے گئے ہیں ان کی بیویاں کس حال میں ہیں؟ان کے بچے کس حال میں ہیں؟اور مسلمان تمہیں سزا تو نہیں دے رہے؟‘‘’’بے شک وہ ہمیں بھول گئے ہیں۔‘‘ایک بوڑھے سردار نے کہا۔’’تو بجا کہتا ہے مقدس باپ!‘‘ایک اور سردار بولا۔’’اب بتا ہمیں کیا کرنا چاہیے۔تم ہمیں کس راستے پر لے جانا چاہتا ہے؟‘‘’’یہ تمہاری سلامتی کا راستہ ہوگا۔‘‘پادری صلوبا نے کہا۔’’اس میں تمہارے جان و مال کی اور تمہارے مذہب کی سلامتی ہے……میں مسلمانوں کی اطاعت قبول کر رہا ہوں اور میں بانقیا اور بسما کے علاقے کی تمام قابلِ کاشت اراضی کا لگان وصول کرکے مسلمانوں کو ادا کیا کروں گا۔‘‘تقریباً تمام مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کے حسنِ سلوک ،عدل و انصاف اور اسلوبِ حکومت سے متاثر ہو کر دیرناطف کے پادری صلوبا بن نسطونانے سب سے پہلے خالدؓکے سامنے جاکر اطاعت قبول کی اور دس ہزار دینار خالدؓ کو پیش کیے۔اس رقم کے ساتھ وہ ہیرے اور بیش قیمت موتی بھی تھے جو کسریٰ اُردشیر نے پادری صلوبا کو تحفے کے طور پر دیئے تھے ۔یہ موتی دراصل رشوت تھی جو اُردشیر نے عیسائیوں کو مسلمانوں کے خلاف لڑانے کیلئے پادری صلوبا کو دی تھی۔
خالدؓ کے حکم سے ایک معاہدہ لکھا گیا:’’یہ معاہدہ مدینہ کے سالار خالد بن ولید اور صلوبا بن نسطونا کی قوم کے ساتھ طے ہوا اور تحریر کیا جاتا ہے۔اس کے مطابق صلوبابن نسطونا عیسائی قوم کی طرف سے دس ہزار دینار سالانہ بطور جزیہ ادا کرے گااور کسریٰ کے ہیرے اور موتی اس رقم کے علاوہ وصول کیے جائیں گے۔جزیہ کی رقم صرف ان عیسائیوں سے ہر سال وصول کی جایا کرے گی جو اس کی استطاعت اور توفیق رکھتے ہیں اور جو کمانے کے قابل ہوں گے۔ہرکسی کو جزیہ کا اتنا ہی حصہ دینا پڑے گا جتنا وہ آسانی سے ادا کرسکے گا۔اس معاہدہ کے رُو سے مسلمانوں پر یہ فرض عائد ہوتا ہے کہ وہ عیسائیوں کی بستیوں بانقیا اور بسما کو ہر طرح کا تحفظ مہیا کریں۔پادری صلوبا بن نسطونا کو اس کی قوم کا نمائندہ تسلیم کیا جاتا ہے جیسا کہ اسے اس کی قوم نے تسلیم کیا ہے۔اس معاہدے پر جو خالد بن ولید نے کیا ہے،تمام مسلمان رضا مند ہیں اور وہ اس پر عمل کریں گے۔‘‘پادری صلوبا اس علاقے کی نامور شخصیت تھی۔اردگرد کے بڑے بڑے سرداروں اور سرکردہ افراد نے جب دیکھا کہ صلوبا نے خالدؓ کی اطاعت قبول کرلی ہے تو وہ سب حیرہ پہنچے اور خالدؓ کی اطاعت قبول کرنے لگے۔انہوں نے جو نقد جزیہ ادا کیا وہ بیس لاکھ درہم تھا۔مسلمانوں کی شجاعت کی دھاک دور دور تک بیٹھ گئی۔بڑا ہی وسیع علاقہ مسلمانوں کے زیرِ نگین آگیا۔خالدؓ نے وقت ضائع کیے بغیر اس علاقے میں اسلامی حکومت قائم کردی اور انہی سرداروں میں امراء منتخب کرکے مختلف علاقوں میں مقررکر دیئے۔اس کے ساتھ ہی اپنی فوج کے کچھ دستے اس مقصد کیلئے سارے علاقے میں پھیلا دیئے کہ کہیں سے اسلامی حکومت کے خلاف بغاوت نہ اٹھ سکے۔یہ دستے گھوڑ سوارتھے اور برق رفتار۔
خالدؓ نے اپنے تین بڑے ہی تیز اور پھرتیلے سالاروں ضرار بن الازور، قعقاع اور مثنیٰ بن حارثہ کو ان دستوں کے ساتھ بھیجاتھا۔ان تینوں کا انداز ایسا جارحانہ تھا کہ جدھر جاتے تھے اُدھر لوگ دبک جاتے اور ان کے سردار آگے آکر اطاعت قبول کرلیتے تھے۔اس طرح جون ۶۳۳ء (ربیع الآخر ۱۲ہجری)میں دجلہ اور فرات کے درمیانی علاقے اسلامی سلطنت میں آگئے۔تخت و تاج کے ہوس کاروں نے اپنی قوموں کو تاریخ کی تاریکیوں میں گم کیااور اپنے ملک دشمن کے حوالے کیے ہیں۔فارس کی شہنشاہی جو ناقابلِ تسخیر سمجھی جاتی تھی اور جس کی فوج زرہ پوش تھی ،اب زوال پزیر تھی۔مسلمانوں کی فوج کی نفری فارس کی فوج کے مقابلے میں کچھ بھی نہیں تھی۔یہ نفری زرہ پوش بھی نہیں تھی اور آتش پرستوں کی فوج کی طرح اتنی زیادہ مسلح بھی نہیں تھی مگر آتش پرست شکست پہ شکست کھاتے چلے گئے اور فارس کے دارالحکومت مدائن کو خطرہ پیدا ہو گیا،وہاں اب کسریٰ اُردشیر نہیں تھا وہ صدمے سے مر گیا تھا۔تاریخ گواہ ہے اور یہ قرآن کا فرمان ہے کہ’’ اﷲجس قوم کو اس کے اعمالِ بد کی سزا دینے پر آتا ہے اس پر نااہل اور خود غرض حکمران مسلط کر دیتاہے جو اسی قوم کے افراد ہوتے ہیں ۔‘‘اﷲکا یہ قہر آتش پرستوں پر گرنا شروع ہر گیا تھا ۔مدائن میں اُردشیر کی موت کے بعد اس کے خاندان میں تخت و تاج کی جنگ شروع ہر چکی تھی۔خالدؓ کے جاسوس مدائن میں ہی نہیں،کسریٰ کے محل میں بھی پہنچ چکے تھے۔وہ جو خبریں بھیج رہے تھے وہ خالدؓ کے لیے امید افزاء تھیں۔
’’مدائن کا تخت اب وہ تختہ بن چکا ہے جس پر میت کو غسل دیا جاتاہے۔‘‘ایک جاسوس نے مدائن سے آکر خالدؓ کو بتایا۔’’یہ تخت کسریٰ کے تین شہزادوں کی جانیں لے چکا ہے۔اُردشیر کی متعدد بیویاں ہیں اور ہر بیوی کے جوان بیٹے ہیں۔ہر بیوی اپنے بیٹے کے سر پر کسریٰ کا تاج رکھنا چاہتی ہے۔اُردشیر کے مرنے کے بعد ایک شہزادے کو تخت پربٹھایا گیا،دو روز بعد وہ اپنے کمرے میں اس حالت میں مردہ پایا گیا کہ اس کا سر اس کے دھڑ سے الگ تھا۔دو نہایت خوبصورت اور جوان لڑکیوں کو ،دربان کواور دو پہرہ داروں کو جلاد کے حوالے کر دیا گیا۔اس شہزادے کے قتل کے شبہے میں ان سب کے سر قلم کر دیئے گئے……اس کی جگہ اُردشیر کی ایک اور بیوہ کے بیٹے کے سر پر کسریٰ کا تاج رکھا گیا۔تیسرے دن اس نے شراب پی اور بے ہوش ہو گیا اور ذرا دیر بعد مر گیا۔اب سات آٹھ آدمیوں اور تین جوان عورتوں کو شہزادے کو شراب میں زہر پلانے کے شبہے میں قتل کر دیا گیا……سالارِ اعلیٰ!تیسرا شہزادہ تخت پر بیٹھا ۔دوسرے روز وہ محل کے باغ میں ایک بڑی دلکش رقاصہ کے ساتھ ٹہل رہا تھا ،کہیں سے بیک وقت دو تیر آئے ۔ایک اس کی آنکھ میں اور دوسرا اس کی شہ رگ میں اتر گیا۔ کسریٰ کا تخت پھر خالی ہو گیا……
تخت ابھی تک خالی ہے۔کسریٰ کے وزیر اور دو سالاروں نے تاجپوشی کا سلسلہ روک دیا ہے۔انہوں نے فیصلہ کیا ہے کہ جو علاقے فارس کی شہنشاہی میں رہ گئے ہیں،انہیں مسلمانوں سے بچایا جائے۔
انہوں نے دجلہ کے پار اپنی فوج کو اس طرح پھیلا دیا ہے کہ ہم جس طرف سے بھی پیش قدمی کریں ،ہمیں روک لیا جائے۔‘‘’’ان کی اس فوج کی نفری کتنی ہوگی؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’ہم سے دگنی ہوگی۔‘‘جاسوس نے جواب دیا۔’’اس سے زیادہ ہوگی کم نہیں ہو سکتی۔مدائن دجلہ کے پار ہے۔آتش پرست ہمیں دریا پار نہیں کرنے دیں گے۔‘‘’’اﷲکے دریا اﷲکی راہ میں لڑنے والوں کو نہیں روک سکتے۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’آتش پرست ہمیں روکنے کے قابل نہیں رہے۔جس قوم کے سرداروں میں پھوٹ پڑ جاتی ہے اس قوم کی قسمت میں تباہی کے سوا کچھ نہیں رہتا۔‘‘
’’ہم مدائن کی طرف کوچ کر رہے ہیں۔‘‘خالدؓ نے اپنے سالاروں سے کہا۔’’ہم دشمن کو سنبھلنے کی مہلت نہیں دیں گے۔‘‘خالدؓاپنے سالاروں کو کوچ کے احکام دے ہی رہے تھے کہ انہیں اطلاع دی گئی کہ مدینہ سے خلیفۃ المسلمینؓ کا قاصد آیا ہے ۔خالدؓنے فوراً قاصد کو اندر بلا لیا۔
’’کیا مدینہ کے لوگ ہمیں اچھے نام سے یاد کرتے ہیں؟‘‘خالدؓنے قاصد سے پوچھا۔’’خدا کی قسم!مدینہ کی ہوائیں بھی آ پ کو یاد کرتی ہیں۔‘‘قاصد نے کہا۔’’امیر المومنین ؓمسجد میں آپ کا ذکر کرتے ہیں۔وہ کئی بار کہہ چکے ہیں کیا اب مائیں خالد جیسا ایک اور بیٹا جَن سکیں گی؟لوگ ہر روز آپ کی خبر کا انتظار کرتے ہیں۔‘‘’’پیغام کیا ہے؟‘‘قاصد نے پیغام خالدؓ کو دے دیا۔خالدؓ پڑھتے جا رہے تھے اور ان کے چہرے کا تاثر بدلتا جا رہا تھا۔وہاں جو سالار موجود تھے وہ پیغام سننے کیلئے بیتاب ہو گئے۔’’امیر المومنین کے سوا مجھے کون روک سکتا تھا؟‘‘خالدؓ نے کہا اور سالاروں سے مخاطب ہوکر بولے۔’’امیرالمومنین نے حکم بھیجا ہے کہ عیاض بن غنم دومۃ الجندل میں لڑ رہا ہے۔اﷲاسے فتح عطا فرمائے۔اُدھر سے فارغ ہوکر وہ ہمارے پاس آجائے گا۔امیرالمومنین نے کہا ہے کہ جب عیاض اپنی فوج لے کر ہمارے پاس آجائے تو ہم آگے بڑھیں ۔اُس کے آنے تک ہم جہاں ہیں وہیں رکے رہیں۔‘‘خالدؓ کے چہرے پر جو رونق اور آنکھوں میں فتح و نصرت کی جو چمک ہر وقت رہتی تھی وہ بجھ گئی اور وہ گہری سوچ میں کھو گئے،سالاروں کے اس اجلاس پر سناٹا طاری ہو گیا جس کی وجہ یہ نہیں تھی کہ خلیفۃ المسلمینؓ نے پیش قدمی روک دی تھی بلکہ وجہ یہ تھی کہ خالدؓ کے چہرے پر ایسا تاثر کبھی کبھی آیا کرتا تھا اور یہ تاثر ایک طوفان کا پیش خیمہ ہوا کرتا تھا۔کسی بھی سالار کو خلیفہ کے اس حکم کے متعلق کوئی بات کہنے کی جرات نہ ہوئی۔چند منٹ بعد خالدؓ گہری سوچ سے بیدار ہوئے اور قاصد کی طرف دیکھا۔’’اﷲتجھے سفر میں سلامتی اور رحمت عطا کرے!‘‘خالدؓنے کہا۔’’آرام کرنا چاہتا ہے تو کرلے اور واپسی کا سفر اختیار کر……امیر المومنین سے میرا اور میرے ساتھیوں کا سلام کہنا، پھر کہنا کہ جنگ کے حالات کو وہی بہتر سمجھتے ہیں جو میدانِ جنگ میں ہوتے ہیں۔محاذ سے اتنی دور بیٹھ کر کوئی فیصلہ کرنا لڑنے والوں کیلئے نقصان دہ بھی ہو سکتا ہے……پھر کہنا کہ ولید کا بیٹا خلافت کی حکم عدولی کی جرات نہیں کرے گالیکن حالات نے مجبور کیا اور اسلام کو خطرہ لاحق ہوا تو میں حکم کی پرواہ نہیں کروں گا۔میں خلافتِ مدینہ کا امین اور اسلام کا پاسبان ہوں۔میں دشمن کو اپنے اوپر آتا دیکھ کر ایک شخص کے حکم کو ایک طرف رکھ دوں گا۔مجھے خوشنودی اﷲکی درکار ہے اﷲ کے کسی بندے کی نہیں۔

میں معلوم کروں گا کہ سالار عیاض کے محاذ کی صورتِ حال کیا ہے،ہو سکتا ہے اسے مدد کی ضرورت ہو، اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ وہ اپنے محاذ سے جلدی فارغ نہ ہو سکے اور آتش پرست اس عرصے میں سنبھل جائیں۔اور خلیفۃ المسلمین سے کہنا کہ ہم نے زرتشت کی آگ کو سرد کر دیا ہے اﷲنے ہمیں ایسی فتح عطا کی ہے کہ جس نے کسریٰ کے محل کو شیطان کا بسیرا بنادیا ہے۔اُردشیر کے تخت پر جو کوئی بیٹھتا ہے وہ دو روز بعد اپنے بھائیوں کے ہاتھوں قتل ہو جاتا ہے۔فارس کی شہنشاہی اور اس کی شان و شوکت کو ہم نے دجلہ اور فرات میں ڈبو دیا ہے۔حیرہ جسے فارس کا ہیرا کہتے ہیں ،ہمارا فوجی اڈہ ہے، ہمارے لیے دعاکرتے رہیں۔‘‘قاصد کی روانگی کے بعد خالدؓ نے ایک کماندار کو بلا کر کہا کہ اپنے ساتھ دو بڑے تیز اور توانا سپاہی لے کر بہت تیز رفتار سے دومۃ الجندل جائے اور غور سے دیکھے کہ وہاں کیا صورتِ حال ہے اور سالار عیاض بن غنم کب تک فارغ ہو سکیں گے اور کیا ان کے جلدی فارغ ہونے کا امکان ہے بھی یا نہیں۔کماندار اسی وقت روانہ ہو گیا۔’’خلیفۃ المسلمین کے اس حکم کو جو تم نے سنا ہے، ذہن سے اتار دو۔‘‘خالدؓنے اپنے سالاروں سے کہا۔’’دل میں خلافتِ مدینہ کا پورا احترام رکھتے ہوئے ان حالات کو دیکھوجو ہم نے آتش پرستوں کیلئے پیدا کر دیئے ہیں۔اگر ہم عیاض کے انتظار میں یہیں بیٹھے رہے تو کسریٰ کی فوج کے سنبھلنے کا موقع مل جائے گا۔خدا کی قسم!تم سب یقین کے ساتھ کہہ سکتے ہو کہ کسریٰ کی فوج پر تم نے جو خوف طاری کر دیا ہے وہ انہیں کسی میدان میں تمہارے مقابلے میں نہیں ٹھہرنے دے گا……اور مدائن کے محلات میں تخت نشینی پر جو قتل و غارت ہو رہی ہے وہ ہمارے حق میں جاتی ہے۔قوم کے سرداروں میں جب تخت نشینی وجہ پیکار بن جاتی ہے تو فوج ایسی تلوار کی مانند ہو جاتی ہے جو بڑے ہی ڈھیلے اور کمزورہاتھوں میں ہو۔‘‘’’ہاں ابنِ ولید!‘‘سالار عاصم بن عمرو نے کہا۔’’کسریٰ کے جن سالارں نے فارس کے بچے ہوئے علاقوں میں اپنی فوج پھیلا دی ہے وہ سالار بھی تخت کے خواہشمند ہوں گے ۔وہ ہم پر فتح حاصل کرکے فارس کے تخت پر قابض ہونا چاہتے ہیں۔‘‘’’اگرایساہوا تو فارس جلدی تباہ ہوگا۔‘‘سالار عدی بن حاتم نے کہا۔’’سالاروں کے دماغوں پر جب تخت و تاج سوار ہو جاتا ہے تو وہ اپنے ملک اور قوم کو بڑی جلدی تباہ کر دیتے ہیں۔‘‘’’جب توجہ تخت کے لفظ اور اپنی ذات پر مرکوزہو جاتی ہے تو نگاہیں دشمن سے ہٹ جاتی ہیں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں ان حالات سے فائدہ اٹھاؤں گا۔اپنی فوج کو تیاری کی حالت میں رکھو۔ہم آخری فیصلہ دومۃالجندل کی صورتِحال معلوم ہو جانے پر کریں گے۔‘‘دومۃ الجندل کی صورتِ حال سالار عیاض بن غنم کیلئے مخدوش تھی۔دومۃ الجندل اس دور کا مشہور تجارتی مرکز تھا۔آج کے عراق اور شام کی شاہراہیں یہیں آکر ملتی تھیں۔رسولِ اکرمﷺنے تبوک پو چڑھائی کی تھی تو اس دوران خالدؓدومۃ الجندل تک پہنچے اور یہاں کے قلعہ سے قلعہ دار
اُکیدربن مالک کو گرفتار کرکے رسولِ اکرمﷺ کے حضور پیش کیا تھا۔
اُکیدر بن مالک نے اسلام تو قبول نہ کیا، رسول اﷲﷺ کی اطاعت قبول کر لی تھی لیکن حضور ﷺ کی وفات کے بعد ارتدار کا فتنہ اٹھا تو اس شخص نے مدینہ کی وفاداری ترک کردی اور عیسائیوں اور بت پرستوں کو ساتھ ملا کر اس کا سردار بن گیا تھا۔ابو بکرؓ نے اُکیدر بن مالک کی سرداری کو ختم اور اس کے زیرِ اثر غیر مسلم قبائل کو اپنے زیرِ نگیں کرنے کیلئے سالار عیاض بن غنم کو بھیجا تھا۔عیاض تجربہ کار سالار تھے لیکن دومۃ الجندل پہنچے تو دیکھا کہ عیسائیوں کا ایک بہت بڑا قبیلہ جو کلب کہلاتا تھا ،اپنے علاقے کے دفاع کیلئے تیار تھا۔یہ قبیلہ جنگ و جدل میں شہرت رکھتا تھا ۔عیاض نے قلعے کو محاصرے میں لے لیا لیکن عیسائیوں نے باہر سے مسلمانوں کو محاصرے میں لے لیا۔عیاض کی فوج کو آگے بھی اور عقب میں بھی لڑنا پڑا۔اس صورتِ حال نے جنگ کو ایسا طول دیا جوختم ہوتا نظر نہیں آتا تھا۔اور یہ صورتِ حال عیاض کیلئے روز بروز مخدوش ہوتی جا رہی تھی۔خالدؓ کا بھیجا ہوا کماندار واپس آیا تو اس نے خالدؓکو بتایا کہ عیاض بن غنم کیسے آئے گا؟اسے تو خود مدد کی ضرورت ہے۔کماندار نے دومۃ الجندل میں عیاض اور دشمن کی فوجوں کی پوزیشنیں تفصیل سے بیان کیں۔’’خدا کی قسم! میں یہاں انتظا رمیں فارغ نہیں بیٹھ سکتا۔‘‘خالدؓنے پر جوش آواز میں کہا۔’’پیشتر اس کے کہ دشمن آگے آجائے۔میں آگے بڑھوں گا۔مدائن کی شہر پناہ مجھے پکار رہی ہے……کوچ کی تیاری کرو۔‘‘مشہور مؤرخ طبری ار بلاذری نے لکھا ہے کہ خالدؓ کی خود سری اور سرکشی مشہور تھی ۔وہ چَین سے بیٹھنے والے سالار نہیں تھے۔اس صورت میں کہ دشمن چار شکستیں کھا چکا تھا اور اس کا نظام درہم برہم ہو گیا تھا اور مدائن کے شاہی ایوان میں ابتری پھیلی ہوئی تھی ،خالدؓ فارغ بیٹھ ہی نہیں سکتے تھے۔خالدؓکا جاسوسی نظام بڑا تیز اور ذہین تھا۔اس میں زیادہ تر وہ مسلمان تھے جو فارس میں غلاموں جیسی زندگی بسر کر رہے تھے۔وہ ان علاقوں سے واقف تھے اور مختلف قبیلوں کی ذبانیں بول سکتے تھے اور ان کا بہروپ دھار سکتے تھے۔وہ مدائن کے محلات کے اندر کی خبریں لے آئے تھے۔ انہوں نے خالدؓ کو خبریں دینی شروع کر دیں کہ فارس کی فوج کہاں کہاں موجود ہے اور کس جگہ کیا کیفیت ہے۔ان کی اطلاعوں کے مطابق ایرانیوں کی فوج کی زیادہ تر نفری دو شہروں میں تھی۔ایک تھا عین التمر اور دوسرا انبار۔عین التمرحیرہ کے قریب تھا اور انبار اس سے دگنے فاصلے پر آگے تھا،عین التمر دریائے فرات سے دور ہٹ کر واقع تھا اور انبار فرات کے کنارے پر تھا۔خالدؓنے فیصلہ کیا کہ پہلے انبار پرحملہ کیاجائے،یہ بھی تجارتی شہر تھاجس میں غلّے کے بہت بڑے بڑے ذخیرے تھے۔
جون ۶۳۳ء کے آخر (ربیع الاول ۱۲ ھ کے وسط)میں خالدؓ نے حیرہ سے کوچ کیا۔ان کے ساتھ ان کی آدھی فوج یعنی نو ہزار نفری تھی جو حملے کیلئے بہت ہی تھوڑی تھی لیکن خالدؓکو اﷲپر اور اپنی جنگی فہم و فراست پر بھروسہ تھا۔وہ مفتوحہ علاقوں کو فوج کے بغیر نہیں چھوڑ سکتے تھے ۔عیسائی اور دیگر قبیلوں نے اطاعت تو قبول کر لی تھی لیکن مسلمانوں کو بڑے تلخ تجربے ہوئے تھے۔اطاعت قبول کرنے والے موقع ملتے ہی اطاعت سے منکر اور باغی ہو جاتے تھے۔حیرہ میں خالدؓ نے قعقاع بن عمرو اور اقرع بن حابس کو چھوڑا تھا۔
یہاں ایک غلطی کی وضاحت ضروری ہے۔دو چار تاریخ دانوں نے لکھاہے کہ خالدؓحیرہ میں سالار عیاض بن غنم کے انتظار میں ایک سا لارکے رہے۔یہ غلط ہے،اس دور کی تحریروں سے صاف پتا چلتا ہے کہ خالدؓنے حیرہ میں پورا ایک مہینہ بھی انتظار نہیں کیا نہ انہوں نے امیر المومنینؓ کو یہ پیغام بھیجا کہ وہ ان کے حکم کے خلاف سالار عیاض بن غنم کا انتظار کیے بغیر مدائن کی طرف پیش قدمی کر رہے ہیں۔خالدؓ اپنی نَو ہزار سپاہ کے ساتھ فرات کے کنارے کنارے بڑی تیزی سے بڑھتے گئے ۔ان کے جاسوس مختلف بہروپوں میں دریا کے دوسرے کنارے پر آگے آگے جا رہے تھے۔انبار سے تھوڑی دور رہ گئے تو خالدؓ نے فرات عبور کیا اور اس کنارے پر چلے گئے جس پر انبار واقع تھا۔وہاں انہوں نے مختصر سا قیام کیا اور دو خط تحریر کرائے۔ایک کسریٰ کے نام اور دوسرا مدائن کے حکام اور امراء وغیرہ کے نام۔کسریٰ کے نام خالدؓ نے لکھوایا:’’بسم اﷲ الرحمٰن الرحیم۔خالد بن ولید کی جانب سے شاہِ فارس کے نام۔میں شکر ادا کرتا ہوں اﷲکا جس نے تمہاری بادشاہی کو تہہ و بالا کر ڈالا ہے اور تہاری عیاریوں کو کامیابی سے محروم رکھا ہے اور تم آپس میں ہی دست و گریبان ہو رہے ہو۔اﷲاگر تمہیں مذید مہلت دیتا تو بھی گھاٹے میں تم ہی رہتے۔اب تمہاری نجات کا ایک ہی راستہ ہے ۔مدینہ کی اطاعت قبول کر لو۔اگر یہ منظور ہے تو میں شرائط طے کرنے کیلئے دوستوں کی طرح آؤں گا۔پھر ہم تمہارے علاقے سے آگے نکل جائیں گے۔اگر پس و پیش کرو گے تو تمہیں ایسی قوم کے آگے ہتھیار ڈالنے پڑیں گے جسے موت اتنی عزیز ہے جتنا تم زندگی کو عزیز رکھتے ہو۔‘‘خالدؓ نے مدائن کے حکام اور امراء کے نام لکھوایا:’’بسم اﷲالرحمٰن الرحیم۔خالد بن ولید کی جانب سے فارس کے امراء کے نام۔تمہارے لیے بہتر صورت یہی ہے کہ اسلام قبول کر لو۔ہم تمہاری سلامتی اور تحفظ کے ذمہ دار ہوں گے ۔اسلام قبول نہ کرو تو جزیہ ادا کرو ،ورنہ سوچ لو کہ تمہارا سامنا ایک ایسی قوم سے ہے جو موت کی اتنی ہی شیدائی ہے جتنے فریفتہ تم شراب پر ہو۔‘‘
خالدؓ نے شاہِ فارس کے نام حیرہ کے رہنے والے ایک آدمی کے ہاتھ بھیجا اور امراء وغیرہ کے نام خط لے جانے والا انبار کا رہنے والا ایک آدمی تھا۔کسی بھی مؤرخ نے ان دونوں آدمیوں کے نام نہیں لکھے۔انبار جس علاقے میں تھاوہ ساباط کہلاتا تھا۔ساباط آج کل کے ضلعوں کی طرح تھا اور انبار اس ضلعے کا سب سے بڑا شہر تھا۔ساباط کا حاکم یا امیر شیر زاد تھا جو اس وقت انبار میں مقیم تھا۔وہ دانشمند اور عالم تھا۔اس میں عسکری صلاحیت ذرا کم تھی ،لیکن انبار میں فوج اتنی زیادہ تھی کہ اسے عسکری سوجھ بوجھ کی ضرورت ہی نہیں تھی۔وہ اپنی فوج کے علاوہ اسے ساتھ عیسائیوں کی بے شمار نفری تھی۔اتنی زیادہ فوج کے علاوہ انبار کی شہر پناہ بڑی مضبوط تھی اور دفاع کا یہ انتظام بھی تھا کہ شہر کے اردگرد گہری خندق تھی جس میں پانی تھا۔اس طرح انبار کو ناقابلِ تسخیر شہر بنا دیا گیا تھا۔خالدؓکیلئے تو یہ اس لئے بھی ناقابلِ تسخیر تھا کہ ان کی فوج کی کل نفری نو ہزار تھی۔انبار کے جاسوسوں نے مسلمانوں کی فوج کو شہر کی طرف آتے دیکھا تو انہوں نے شیرزاد کو جا بتایا، پھر سارے شہر میں خبر پھیل گئی کہ مدینہ کی فوج آ رہی ہے۔
شیرزاد دوڑاگیا اور دیوار پر جا چڑھا۔اسے جاسوسوں نے مدینہ کی فوج کی نفری دس ہزار بتائی تھی۔’’نہیں!یہ دھوکا ہے۔‘‘دیوارپر کھڑے شیرزاد نے مسلمانوں کی فوج کو دیکھ کر کہا۔’’جنہوں نے ہماری اتنی زبردست فوج کو یکے بعد دیگرے چار لڑائیوں میں شکست دی ہے وہ اتنے احمق نہیں ہو سکتے کہ اتنے بڑے قلعے بند شہر پر حملہ کرنے کیلئے اتنی قلیل فوج لائیں۔یہ ان کی فوج کا ہراول ہوگا۔اگر ہراول نہیں تو اتنی ہی فوج پیچھے آرہی ہو گی یا کسی اور سمت سے آرہی ہوگی۔‘‘شہر کے لوگوں میں افراتفری مچ گئی تھی۔انہوں نے مسلمانوں کے بڑے دہشت ناک قصے سنے تھے۔انہوں نے اپنی شکست خوردہ فوج کے زخمیوں کو اور میدانِ جنگ سے بھاگ کر آنے والوں کو دیکھا تھا۔ان کا خوف و ہراس بھی دیکھا تھا۔پسپائی میں اپنے آپ کو حق بجانے ظاہر کرنے کیلئے انہوں نے لوگوں کو جنگ کے ایسے واقعات سنائے تھے جیسے مسلمان جن بھوت ہوں۔اب وہ مسلمان ان کے اتنے بڑے شہر کو محاصرے میں لینے آئے تھے۔انہوں نے اپنے زیورات اور رقمیں اور اپنی جوان لڑکیا ں چھپانی شروع کر دیں۔شہر میں خوف و ہراس اور بھگدڑ زیادہ دیر نہ رہی کیونکہ دیوار کے اوپر سے بلند آوازیں سنائی دینے لگی تھیں کہ مسلمانوں کی تعداد اتنی تھوڑی ہے کہ وہ ساری عمر شہر کی دیوار تک نہیں پہنچ سکیں گے ۔پھر دیوار کے اوپر قہقہے بلند ہونے لگے۔’’مسلمانو!‘‘آتش پرست مسلمانوں پر آوازے کَس رہے تھے ۔’’تمہیں موت یہاں تک لے آئی ہے۔‘‘’’زندہ رہنا ہے تو مدینہ کو لَوٹ جاؤ۔‘‘شہرِ پناہ پر تیر اندازوں کا ہجوم کھڑا تھا۔مسلمانوں نے شہر کو محاصرے میں لے لیا تھااور خندق نے انہیں روک لیا۔طبری اور یاقوت لکھتے ہیں کہ خندق دیوار کے اتنا قریب تھی کہ اس کے قریب آنے والے اوپر سے چھوڑے ہوئے تیروں کی زد میں آجاتے تھے۔ایسا نہ ہوتا تو بھی خندق کو پھلانگنا ممکن نہ تھا۔یہ بہت چَوڑی تھی۔تیر انداز مسلمانوں پر ہنس رہے تھے اور وہ ہزاروں کی تعداد میں دیوار پر یوں کھڑے تھے جیسے مسلمانوں کا تماشہ دیکھ رہے ہوں۔
’’خدا کی قسم!‘‘خالدؓنے بڑی بلند آواز سے کہا۔’’یہ لوگ نہیں جانتے جنگ کیا ہے اور کس طرح لڑی جاتی ہے۔‘‘مؤرخ لکھتے ہیں کہ انبار ہر لحاظ سے ناقابلِ تسخیر تھا لیکن خالدؓ کے چہرے پر پریشانی کاہلکاسا بھی تاثر نہیں تھا۔وہ پر سکون تھے۔رات کو انہوں نے اپنے خیمے میں اپنے سالاروں کو یقین دلایا کہ فتح انہی کی ہوگی لیکن قربانی بہت دینی پڑے گی۔انہیں صرف یہ بات فتح کی امید دلا رہی تھی کہ شہر کی دیوار اتنی اونچی نہیں تھی جتنی قلعوں کی ہوا کرتی ہے۔صبح طلوع ہوتے ہی خالدؓ گھوڑے پر سوار ہوئے اور شہر کے اردگرد گھوڑا دوڑانے لگے۔وہ دیوار اور خندق کا جائزہ لے رہے تھے ۔انہوں نے اپنے سالاروں سے کہا کہ انہیں ایک ہزارایسے تیر اندازوں کی ضرورت ہے جنہیں اپنے نشانے پر پورا پورا اعتماد ہو اور جن کے بازوؤں میں اتنی طاقت ہو کہ کمانوں کو کھینچیں تو کمانیں دوہری ہو جائیں اور عام تیر اندازوں کی نسبت ان کے تیر بہت دور جائیں۔

’’جلدی۔‘‘ خالدؓنے کہا۔’’بہت جلدی ہمیں شام تک اس شہر میں داخل ہونا ہے ۔‘‘تھوڑی سی دیر میں ایک ہزار تیر انداز آگئے۔یہ چُنے ہوئے تھے اور سب کے سب جوان اور بڑے مضبوط جسموں والے تھے۔’’تم سب خندق تک اس طرح ٹہلتے ہوئے جاؤ کہ کمانیں تمہارے ہاتھوں میں لٹک رہی ہوں۔‘‘خالدؓنے کہا۔’’ایسا لگے کہ تم ٹہلتے ٹہلتے خندق کے قریب چلے گئے ہو۔جوں ہی خندق کے قریب جاؤ،نہایت تیزی سے ترکشوں سے تیر نکالو ،کمانوں میں ڈالو اور دیوار پر کھڑے دشمن کے تیر اندازوں کی آنکھوں کا نشانہ لے کر تیر چلاؤ۔پیشتر اس کے کہ وہ جان سکیں کہ یہ کیا ہو گیا ہے۔ایک ایک، اس کے بعد پھر ایک ایک تیر چلاؤ۔‘‘مورخ طبری کے مطابق خالدؓنے حکم دیاتھا۔’’صرف آنکھیں ……صرف آنکھیں۔‘‘ایک ہزار تیر انداز خالدؓ کے حکم کے عین مطابق آہستہ آہستہ خندق تک گئے۔دیوار پر دشمن کے سپاہی ہنس رہے تھے اور بے پروائی سے کھڑے تھے ۔انہیں مسلمانوں کا کوئی ارادہ نظر نہیں آ رہا تھا کہ وہ خندق کو پھلانگنے کی کوشش کریں گے۔خندق کے قریب پہنچ کر ان ایک ہزار تیر اندازوں نے اوپر دیکھا،اِدھر اُدھر دیکھا،خندق میں دیکھا اور احمقوں کی سی حرکتیں کیں۔آتش پرستوں کے تیر اندازوں نے ان پر تیر چلانے کی ضرورت محسوس نہ کی حالانکہ مسلمان تیر انداز ان کی زد میں تھے۔اچانک مسلمان تیر انداز وں نے ترکشوں میں سے ایک ایک تیر نکالا ،پلک جھپکتے تیر کمانوں میں ڈالے، کمانیں آگے ر کھ کے دشمن کی آنکھوں کے نشانے لیے اور تیر چھوڑ دیئے۔ایک ہزار تیروں سے بیشتر آتش پرستوں کے تیر اندازوں کی ایک ایک آنکھ میں اتر گئے۔معاًبعد مسلمان تیر اندازوں نے ایک ہزار تیر چھوڑے ،پھر ایک ہزار اور……‘‘یہ کہنا صحیح نہیں ہو سکتا کہ مسلمانوں کا کوئی بھی تیر خطا نہیں گیا تاریخوں میں لکھاہے کہ زیادہ تیر دشمن کی آنکھوں میں لگے اور شہر میں یہ خبر تیز ہوا کی طرح پھیل گئی ہمارے سینکڑوں سپاہیوں کی آنکھیں ضائع ہو گئی ہیں۔اب ان سینکڑوں سپاہیوں کو شہرِپناہ سے اتارا گیا تو شہر کے لوگوں نے ہر ایک کی ایک ایک آنکھ میں تیر اترا ہوا اور ان زخمیوں کو کرب ناک آہ و زاری کرتے دیکھا۔ایک انگریز مبصر سر والٹر نے متعدد مؤرخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ مسلمانوں کی طرف سے تین ہزار تیر اتنی تیزی سے چلے کہ آتش پرست اپنے آپ کو بچا ہی نہ سکے اور تیر جن کی آنکھوں میں نہ لگے ان کے چہروں میں اتر گئے چونکہ فارس کے یہ سپاہی اور ان کی مدد کو آئے ہوئے عیسائی شہر پناہ پر گھنے ہجوم کی طرح کھڑے تھے اس لئے کوئی تیر ضائع نہ گیا ہو۔تیر نے ایک ایک آدمی کو زخمی کیا۔طبری کی تحریر کے مطابق انبا ر کے محاصرے کو ’’ذات العیون‘‘ یعنی آنکھوں کی تکلیف بھی کہا جاتا رہا ہے۔
مسلمانوں کے اس وار نے شہر کے لوگوں پر ہی نہیں فارس کی فوج پر بھی خوف طاری کر دیا۔ مسلمانوں نے تو جادو کاکرتب دکھا دیا تھا۔ساباط کا آتش پرست حاکم شیرزاد دانش مند اور دور اندیش آدمی تھا۔اس نے بھانپ لیا کہ اس کی فوج میں جو لڑنے کا جذبہ موجو دتھا وہ ماند پڑ گیا ہے۔اسے یہ بھی احساس تھا کہ اس کی فوج پہلی شکستوں کی بھی ڈری ہوئی ہے۔چنانچہ مزید قتل و غارت کو روکنے کیلئے اس نے خالدؓ سے صلح کرنے کا فیصلہ کرلیا۔اس نے دو امراء کو قلعے کے باہر بھیجا۔خندق کے قریب آکر ان دو امیروں نے مسلمانوں سے پوچھا کہ ان کا سالارِ اعلیٰ کہاں ہے ۔خالدؓ کو اطلاع ملی تو وہ آگئے۔’’ہمارے امیر شیر زاد نے ہمیں بھیجا ہے۔‘‘شیر زاد کے بھیجے ہوئے دو آدمیوں میں سے ایک نے خالدؓ سے کہا۔’’ہم آپ سے صلح کرنا چاہتے ہیں لیکن ایسی شرائط پر جو ہمارے لیے قابلِ قبول ہوں۔اگر صلح ہوجائے تو شیرزاد اپنی فوج کو ساتھ لے کر انبار سے چلا جائے گا۔‘‘’’شیر زاد سے کہو کہ شرطیں منوانے کا وقت گزر گیا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اب شرطیں ہماری ہوں گی اور تم لوگ ہتھیار ڈالو گے۔‘‘دونوں آدمی واپس چلے گئے اور شیرزاد کو خالدؓ کا پیغام دیا،شیرزاد نے اپنے سالاروں کی طرف دیکھا۔’’ہم اتنی جلدی ہتھیار نہیں ڈالیں گے۔‘‘ایک سالارنے کہا۔’’ہمارے پاس فوج کی کمی نہیں۔‘‘دوسرے سالارنے کہا۔’’مسلمان خندق سے آگے نہیں آسکتے۔‘‘شیرزاد نے سر ہلایا۔یہ ایسا اشارہ تھا جس سے پتہ نہیں چلتا کہ وہ شہر کا دفاع جاری رکھنا یا خالدؓ کے پیغام پر غور کرکے کوئی اور فیصلہ کرنا چاہتا ہے۔اس کے سالاروں نے اس کے اشارے کو جنگ جاری رکھنے کا حکم سمجھا اور وہ شہرِ پناہ پر آگئے۔ایک ہزار مسلمان تیر اندازجنہوں نے انبار کے دوہزار سے زائد سپاہیوں کی آنکھیں نکال دی تھیں ،پیچھے ہٹ گئے۔خالدؓ نے شہر کے اردگرد ایک اور چکر لگایا۔اب وہ صرف خندق کو دیکھ رہے تھے ۔انہوں نے خندق پار کرنے کا تہیہ کرلیا تھا۔ایک جگہ خندق کی چوڑائی کم تھی لیکن اتنی کم نہیں تھی کہ دور سے گھوڑا دوڑاتے لاتے اور وہ خندق پھاند جاتا۔خالدؓ کے دماغ میں ایک طریقہ آگیا۔انہوں نے حکم دیا کہ اپنی فوج کے ساتھ جتنے اونٹ کمزور یا بیمار ہوگئے ہیں انہیں آگے لے آؤ۔ایسے بہت سے اونٹ تھے جو پورا سامان اٹھانے کے قابل نہیں رہے تھے۔خالدؓ کے حکم سے ان اونٹوں کو ذبح کرکے خندق میں اس جگہ پھینکتے گئے جہاں خندق کم چوڑی تھی۔اتنے اونٹ ذبح کرکے خندق میں ترتیب سے پھینک دیئے گئے کہ ایک پُل بن گیا۔’’اﷲنے تمہارے لیے گوشت اور ہڈیوں کا پُل بنا دیا ہے۔‘‘خالدؓ نے بلند آواز سے کہا ۔’’اب ہم خندق کے پار جا سکتے ہیں۔‘‘اونٹوں کا یہ پل ہموار نہیں تھا۔ان کے ڈھیر پر چلنا خطرناک تھا۔پاؤں پھسلتے تھے لیکن گزرنا بڑی تیزی سے تھا۔اشارہ ملتے ہی پیادہ مجاہدین کودتے پھلانگتے س عجیب پُل سے گزرنے لگے۔چند ایک مجاہدین پھسلے اور گِرے اور وہ پانی میں سے نکل کر اونٹوں کی ٹانگیں گردنیں وغیرہ پکڑتے اوپرآگئے۔شہرِ پناہ سے دشمن کے تیر اندازوں نے تیروں کا مینہ برسا دیا۔ادھر ’’آنکھیں پھوڑنے والے‘‘مسلمان تیر اندازوں نے بڑی تیزی اور مہارت سے تیر اندازی جاری رکھی۔اب ان کی تعداد ایک ہزار نہیں خاصی زیادہ تھی۔
اونٹوں کے پل سے گزرنے والوں میں سے کئی مجاہدین تیروں سے زخمی ہو رہے تھے لیکن وہ رُکے ہوئے سیلاب کی طرح خندق سے پار جاتے اور پھیلتے رہے۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مسلمانوں کا یہ اقدام غیر معمولی طور پر دلیرانہ تھا۔ وہ زخمی تو ہوئے، شہید بھی ہوئے ۔لیکن انبار کی فوج پر اس اقدام کا جو اثر ہوا وہ اس کے سپاہیوں کے لڑنے کے جذبے کیلئے مہلک ثابت ہو رہا تھا۔ان پر مسلمانوں کی دہشت پہلے ہی غالب تھی،اب انہوں نے مسلمانوں کا یہ عجیب طریقہ دیکھا کہ اپنے اونٹ ذبح کرکے پُل بنا دیا اور تیروں کی بوچھاڑوں میں اس پُل سے گزرنے لگے تو دیوار سے برسنے والے تیروں میں کمی آگئی۔دشمن کے تیر انداز زخمی ہو کر کم ہو رہے تھے اور ان میں بھگدڑ کی کیفیت بھی پیدا ہو گئی تھی۔خندق پھلانگنے والا صرف ایک دستہ تھا۔اس دستے کا جوش و خروش اس وجہ سے بھی زیادہ تھا کہ خود خالدؓ ان کے ساتھ تھے اور سب سے پہلے مرے ہوئے اونٹوں پر سے گزرنے والے خالدؓ تھے۔تیر ان کے دائیں بائیں سے گزر رہے تھے اور ان کے قدموں میں زمین میں لگ رہے تھے۔مگر خالدؓ یوں بے پرواہ تھے جیسے ان پر بارش کے قطرے گر رہے ہوں۔اﷲاکبر کے نعروں کی گرج الگ تھی اور اس کی گرج میں اﷲکی رجعت اور برکت تھی۔
شہر کے لوگوں کا یہ عالم تھا کہ بھاگتے دوڑتے پھر رہے تھے۔شہرِ پناہ سے ان کے زخمی سپاہیوں کو اتارتے تھے تو لوگ ان کی گردنوں میں ،چہروں میں اور سینوں میں ایک ایک ،دودو اور تین تین تیر اترے ہوئے دیکھتے تھے۔زخمیوں کی تعداد بڑھتی جا رہی تھی اور شہر میں خوف و ہراس زیادہ ہوتا جا رہا تھا۔لوگوں نے چلّانا شروع کر دیا ۔سمجھوتہ کرلو۔صلح کرلو،دروازے کھول دو۔شیرزاد کیلئے صورتِ حال بڑی تکلیف دہ تھی۔وہ دانشمند آدمی تھا۔اس نے جب لوگوں کی آہ و زاری سنی اور جب بچوں اورعورتوں کو خوف کی حالت میں پناہوں کی تلاش میں بھاگتے دوڑتے دیکھا تو اسے احساس ہوا کہ یہ معصوم بے گناہ مارے جائیں گے۔انہیں بچانے کا اس کے پاس ایک ہی ذریعہ تھا کہ ہتھیار ڈال دے۔اس نے اپنے سالارِ اعلیٰ کو بلا کر کہا کہ وہ مزید خون خرابہ روکنا چاہتا ہے۔’’نہیں!‘‘سالارِ اعلیٰ نے کہا۔’’ابھی کوئی فیصلہ نہ کریں ۔مجھے ایک کوشش کر لینے دیں۔‘‘شیرزاد خاموش رہا۔سالارِ اعلیٰ شہرِ پناہ کے اوپر اپنی سپاہ کی کیفیت دیکھ رہا تھاجو بڑی تیزی سے مخدوش ہوتی چلی جا رہی تھی۔اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ مسلمان خندق عبور کر آئے ہیں۔اس نے ایک جرات مندانہ فیصلہ کیا۔اس نے ایک دستہ چنے ہوئے سپاہیوں کا تیار کیا اور قلعے کا دروازہ کھول کر اس دستے کو باہر لے آیا۔اس دستے نے ان مسلمانوں پر ہلّہ بول دیا جو خندق عبور کر آئے تھے۔خندق کے دوسرے کنارے کھڑے مسلمانوں نے دشمن کے اس دستے پر تیر چلانے شروع کر دیئے ۔اس دستے کا مقابلہ مسلمانوں کے ایسے دستے کے ساتھ تھا جس کے قائد خالدؓ تھے۔مسلمانوں کے تیروں کی بوچھاڑوں سے آتش پرستوں کے دستے کی ترتیب اور یکسوئی ختم ہو گئی۔خالدؓ نے اس دستے کو اس طرح لیا کہ اپنے دستے کو دیوار کی طرف رکھا تاکہ خندق کی طرف سے مسلمان تیر اندازدشمن پر تیر برساتے رہیں۔
خالدؓ اس دستے کو خندق کی طرف دھکیلنا چاہتے تھے۔گھمسان کا معرکہ ہوا۔آتش پرستوں کے کئی سپاہی خندق میں گرے اور باقیوں کے قدم اکھڑ گئے۔اس دستے کے سالار نے اس ڈر سے دروازہ بند کرادیا کہ مسلمان اندر آجائیں گے۔دروازہ بند ہوتے ہوتے دشمن کے اس دستے کے بچے کھچے سپاہی بھاگ کر اندر چلے گئے۔خالدؓ شہرِ پناہ کا جائزہ لینے لگے۔وہ مجاہدین کو اس دیوار پر چڑھانا چاہتے تھے جو آسان نظر نہیں آتا تھا۔انہیں معلوم نہ تھا کہ دیوار کی دوسری طرف ایرانی فوج اور شہر کے لوگوں کی حالت کیا ہوچکی ہے۔قلعے کا دروازہ ایک بار کھلا۔اب دروازے میں صرف ایک آدمی نمودار ہوا۔اس کے پیچھے دروازہ بند ہو گیا۔اس نے ہاتھ اوپر کرکے بلند آواز سے کہا کہ وہ شہر کا ایلچی ہے اورصلح کی بات کرنے نکلا ہے۔اس کے ساتھ ہی شہرِ پناہ سے تیر برسنے بند ہو گئے۔’’اے آگ کے پوجنے والے!‘‘جب اسے خالدؓ کے سامنے لے گئے توخالدؓ نے اس سے پوچھا۔’’اب تو کیا خبر لایا ہے؟کیا زرتشت نے تم لوگوں سے نظریں پھیر نہیں لیں؟کیا اب بھی تم لوگ اﷲکو نہیں مانوگے؟‘‘’’اے اہلِ مدینہ !میں کسی اور سوال کا جواب نہیں دے سکتا۔‘‘ایلچی نے کہا۔’’میں حاکم ِ ساباط شیرزاد کا ایلچی ہوں۔شیرزاد نے کہا ہے کہ تم لوگ اسے اور اہلِ فارس کو شہر سے چلے جانے کی اجازت دے دو تو شہر تمہارے حوالے کر دیا جائے گا۔‘‘طبری اور واقدی لکھتے ہیں کہ خالدؓ یہ شرط بھی ماننے کیلئے تیار نہیں تھے۔انہوں نے ایک بار پھر شہر کی دیوار کی بلندی دیکھی اور سوچا کہ اس پر کس طرح چڑھا جا سکتا ہے لیکن بہت مشکل تھا۔’’حاکمِ ساباط شیرزاد سے کہو کہ خالد بن ولید اس پر رحم کرتا ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اسے کہو کہ وہ فارس کے فوجیوں کو ساتھ لے کر شہر سے نکل جائے لیکن وہ ان گھوڑوں کے سوا جن پر وہ سوار ہوں گے،اپنے ساتھ کچھ نہیں لے جا سکیں گے۔وہ اپنا سب مال اموال پیچھے چھوڑ جائیں گے اور وہ ہماری فو ج کے سامنے سے گزریں گے……اگر اسے یہ شرط منظور نہ ہوتو اسے کہنا کہ تیار ہوجائے اسی تباہی کیلئے جو اس نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔‘‘ایلچی واپس چلا گیا۔خالدؓ نے شہر کے اردگرد اپنا حکم پہنچا دیا کہ تیر اندازی روک لی جائے۔کچھ دیر بعد شہر کا دروازہ ایک بار پھر کھلا۔بہت سے سپاہی بڑی موٹی لکڑی کا ایک پانچ چھ گز چوڑااور بہت لمبا تختہ اٹھائے باہر نکلے۔تختے کے ساتھ رسّے بندھے ہوئے تھے ،انہوں نے تختہ خندق کے کنارے پر کھڑا کیا اور رسّے پکڑ لیے۔پھر یہ رسّا آہستہ آہستہ خندق پر گرنے لگااور اس کا اوپر والا سرا خندق کے باہر والے کنارے پر جا پڑا۔یہ پُل تھا جو شیرزاد اور اس کی فوج کے گزرنے کیلئے خندق پر ڈالا گیا تھا۔سب سے پہلے جو گھوڑا باہر آیا اس کی سج دھج بتاتی تھی کہ شاہی اصطبل کا گھوڑا ہے۔اس کا سوار بلا شک و شبہ حاکمِ ساباط شیرزاد تھا۔اس کے پیچھے اس کی بچی کچھی فوج باہر نکلی۔پیادے بھی تھے سوار بھی۔ان میں زخمی بھی تھے جو اپنے ساتھیوں کے سہارے چل رہے تھے۔وہ اپنے مرے ہوئے ساتھیوں کی لاشیں جہاں تھیں وہیں چھوڑ گئے تھے ۔یہ شکست خوردہ فوج ماتمی جلوس کی طرح جارہی تھی اور مسلمان خاموشی سے اس جلوس کو دیکھ رہے تھے۔کسی نے ان کا مزاق نہ اڑایا،پھبتی نہ کسی،فتح کا نعرہ تک نہ لگایا۔

خالدؓگھوڑے پر سوار ایک طرف کھڑے دیکھ رہے تھے۔وہ تھکے ہوئے نظر آتے تھے لیکن چہرے پر فتح کی رونق اور زبان پر اﷲکے شکرانے کے کلمات تھے۔یہ جولائی ۶۳۳ء کا ایک دن تھا۔جب آخری سپاہی بھی نکل گیا تو خالدؓ مجاہدین کے آگے آگے شہر کے دروازے میں داخل ہوئے ۔آگے شہر کے امراء اور روسا دست بستہ کھڑے تھے۔شہر کے لوگوں کا شوروغل سنائی دے رہا تھا ۔اس طرح کی آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔’’وہ آگئے ہیں……مسلمان آگئے ہیں……بھاگو……چھپجاؤ۔‘‘خالدؓ گھوڑے سے اترے،انبار کے امراء وغیرہ نے انہیں تحفے پیش کیے۔’’شہر کے لوگ ہم سے ڈر کیوں رہے ہیں؟‘‘خالدؓنے امراء سے کہا۔’’انہیں کہوکہ ان پر کوئی الزام نہیں۔ہم نے اس شہر کو فتح کیا ہے۔شہر کے لوگوں کو نہیں۔انہیں کہو کہ ہم امن اور دوستی لے کر آئے ہیں۔ہم جزیہ ضرور لیں گے لیکن بلاوجہ کسی کی جان نہیں لیں گے۔ہم کسی کی بیٹی پر اپنا حق نہیں جتائیں گے۔کسی کے مال و دولت کو ہاتھ نہیں لگائیں گے۔ہم صرف ان کے مال اموال کو اپنے قبضے میں لیں گے جو ہم سے شکست کھا کر چلے گئے ہیں……جاؤ۔اپنے لوگوں کو ہماری طرف سے امن اور سکون کا پیغام دو۔‘‘خالدؓ نے اپنی فوج کو ایک حکم تو یہ دیا کہ جو لوگ ان کے خلاف لڑ کر چلے گئے ہیں۔ان کے گھروں سے قیمتی سامان اٹھا کر ایک جگہ اکٹھا کر لیا جائے اور دوسرا حکم یہ کہ شہر میں گھوم پھر کر یہیں کے لوگوں کو دوستی اور امن کا تاثر دیا جائے اور یہ بھی کہ لوٹ مار نہیں ہوگی۔شہر پناہ پر گدھ اتر رہے تھے۔وہاں آتش پرست سپاہیوں کی لاشیں پڑی تھیں۔شدید زخمی بیہوشی کی حالت میں اِدھر اُدھر پڑے ہوئے تھے۔شہر کی فضا میں موت کی بو تھی۔خالدؓ اس مکان میں گئے جس میں شیر زاد رہتا تھا۔وہ تو محل تھا،دنیا کی کون سی آسائش و زیبائش تھی جو اس محل میں نہیں تھی۔خالدؓجو زمین پر سونے کے عادی تھے ،حیران ہو رہے تھے کہ ایک انسان نے اپنے آپ کو دوسرے سے برتر سمجھنے کیلئے کتنی دولت خرچ کی ہے۔خالدؓ نے حکم دیا کہ بیش قیمت اشیاء کو مالِ غنیمت میں شامل کر لیا جائے اور خزانہ ڈھونڈا جائے۔خزانہ ملتے دیر نہ لگی۔اس میں سونے اور ہیرے جواہرات کے انبار لگے ہوئے تھے۔اردگرد کے قبیلوں کے سردار اطاعت قبول کرنے کیلئے خالدؓکے پاس آنے لگے۔خالدؓنے جزیہ کی رقم مقرر کرکے اس کی وصولی کا حکم دیا۔اسدوران جاسوس نے آکر بتایا کہ فارس کی فوج عین التمر میں اکٹھی ہوگئی ہے اور اب مقابلہ بڑا سخت ہوگا۔مدائن میں آتش پرست شہنشاہت کا محل اسی طرح کھڑا تھا جس طرح اپنے شہنشاہوں کی زندگی میں کھڑا رہتا تھا۔یہ کسریٰ کا وہ محل تھا جسے جنگی طاقت کی علامت سمجھا جاتا تھا۔اس کے باہر والے دروازے کے دائیں بائیں دو ببر شیر بیٹھے رہتے تھے۔یہ کسریٰ کی ہیبت اور دہشت کی علامت تھے لیکن یہ گوشت پوست کے نہیں پتھروں کے تراشے ہوئے مجسمے تھے۔ان مجسموں اور محل کے درمیان ایک مینار کھڑا تھا جو اوپر سے گول اور مینار کی گولائی سے زیادہ بڑا تھا ۔اس جگہ الاؤہر وقت دہکتا رہتا تھا ۔جب یہ مینار تعمیر ہوا تھا اس کے اوپرپروہتوں نے یہ آگ جلائی تھی ،کئی نسلیں پیدا ہوئیں اور اگلی نسلوں کو جنم دے کر دنیا سے رخصت ہو گئیں۔یہ الاؤ دہکتا رہا۔
اس سے اٹھتا ہوا دھواں محل کی فضاء میں یوں منڈلاتارہتا تھاجیسے زرتشت نے اس محل کو اپنی پناہ میں لے رکھا ہو۔الاؤ اب بھی دہک رہا تھا اس کا دھواں اب بھی کسریٰ کے محل کی فضا میں منڈلا رہاتھا۔لیکن ایسے لگتا تھا جیسے یہ دھواں محل کو پناہ میں لینے کے بجائے خود پناہ ڈھونڈ رہا ہو۔محل جو دوسروں کیلئے کبھی ہیبت کا نشان تھا ،اب خود اس پر ہیبت طاری تھی۔اس کی شان وشوکت پہلے جیسی ہی لگتی تھی، جاہ و جلال بھی پہلے جیسا تھا مگر اس کے مکین اب صاف طور پر محسوس کرنے لگے تھے کہ اس محل پر آسیب کا اثر ہو گیا ہے،موت کی دبی دبی ہنسی کی سِس سِس دن رات سنائی دیتی تھی۔ایک غیبی ہاتھ کسریٰ کے زوال کی داستان اس کے خاندان کے خون سے لکھ رہاتھا۔کہاں وہ وقت کہ اس تخت سے دوسروں کی موت کے پروانے جاری ہوتے تھے ۔کہاں یہ وقت کہ اردشیر کے مرنے کے بعد اس تخت پر جو بیٹھتا تھا وہ پراسرار طور پر قتل ہو جاتا تھا۔دو چار سالار تھے جو فارس کی لرزتی ہوئی ڈولتی ہوئی عمارت کو کچھ دیر اور تھامے رکھنے کی کوشش کر رہے تھے۔ایران کی نو خیز حسینائیں اب بھی اس محل میں موجود تھیں مگر رقص کی ادائیں نہیں تھیں۔ساز خاموش تھے، نغمے چپ تھے، شراب کی بو پہلے کی طرح موجود تھی مگر اس میں خون کی بو شامل ہو گئی تھی۔پہلے یہاں عیش و عشرت کیلئے شراب پی جاتی تھی اب اپنے آپ کو فریب دینے کیلئے اور تلخ حقائق سے فرار کی خاطر جام پر جام چڑھائے جا رہے تھے۔اب مدائن کا محل تخت و تاج کے حصول کا میدانِ جنگ بن گیا تھا۔درپردہ جوڑ توڑ ہو رہے تھے۔اسی محل سے خالدؓ اور ان کی سپاہ پر طنز کے یہ تیر چلے تھے کہ عرب کے بدوؤں اور لٹیروں کو فارس کی شہنشاہی میں قدم رکھنے کی جرات کیسے ہوئی؟وہ کبھی واپس نہ جانے کیلئے آئے ہیں،انہیں موت یہاں لے آئی ہے،مگر اب فارسیوں کو خود اپنی شہنشاہی میں قدم جمائے رکھنے کی جرات نہیں ہو رہی تھی۔دوسروں پر دہشت طاری کرنے والے تخت و تاج پر خالدؓ کی اور مدینہ کے مجاہدین کی دہشت طاری ہو گئی تھی۔مدائن میں اب شکست اور پسپائی کے سوا کوئی خبر نہیں آتی تھی۔جولائی ۶۳۳ء کے ایک روز مدائن میں آتش پرستوں کو اپنی ایک اور شکست کی خبر ملی۔خبر لانے والا کوئی قاصد نہیں بلکہ حاکم ساباط شیرزاد تھا اور اس کے ساتھ ا س کی شکست خوردہ فوج کے بے شمار سپاہی تھے،ان کے استقبال کسریٰ کے نامور سالار بہمن جاذویہ نے کیا۔ان کی حالت دیکھ کر ہی وہ جان گیا کہ وہ بہت بری شکست کھا کر آئے ہیں۔’’شیرزاد!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’تمہارے پاس ہتھیار بھی نہیں،میں تم سے کیا پوچھوں؟‘‘
’’تمہیں پوچھنا بھی نہیں چاہیے۔‘‘شیرزاد نے تھکی ہاری آواز میں کہا۔’’تم بھی تو ان سے لڑے تھے۔کیا تم پسپا نہیں ہوئے تھے؟‘‘’’کیا تم قلعہ بند نہیں تھے؟‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’قلعے کے اردگرد خندق تھی ۔مسلمان اُڑ تو نہیں سکتے ۔اتنی چوڑی خندق انہوں نے کیسے عبور کرلی؟‘‘
شیرزاد نے اسے تفصیل سے بتایا کہ مسلمانوں نے اسے کس طرح شکست دی ہے۔’’میرے سالار نا اہل اور بزدل نکلے۔‘‘شیرزاد نے کہا۔’’اور مجھ سے یہ غلطی ہوئی کہ میں نے عیسائیوں پر بھروسہ کیا۔
مجھے بتایا گیا تھا کہ یہ زبردست لڑاکے ہیں۔لیکن انہیں معلوم ہی نہیں کہ لڑائی ہوتی کیا ہے۔‘‘’’تم شاید یہ نہیں دیکھ رہے کہ تم پسپا ہو کر مسلمانوں کو اپنے پیچھے لا رہے ہو۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’اور تمہیں یہ نہیں معلوم کہ مدائن میں کیا ہو رہا ہے……شاہی خاندان تخت کی وراثت پر آپس میں لہولہان ہو رہا ہے،فارس کی آبرو کے محافظ ہم چار سالار رہ گئے ہیں۔‘‘’’اور جب تخت سالاروں کی تحویل میں آ جائے گا تو وہ شاہی خاندان کی طرح ایک دوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔‘‘شیرزاد نے کہ۔اور رازداری کے لہجے میں کہنے لگا ۔’’کیا تم ابھی تک محسوس نہیں کر سکے کہ فارس کی شہنشاہی کا زوال شروع ہو چکا ہے؟کیا ہمارا سورج ڈوب نہیں رہا؟‘‘’’شیرزاد!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’اس حلف کو نہ بھولو جو ہم نے زرتشت کے نام پر اٹھایا تھا کہ ہم فارس کو دشمن سے بچانے کیلئے اپنی جانیں قربان کر دیں گے……تم نے غلطی کی ہے جو یہاں چلے آئے ہو۔‘‘’’کہاں جاتا؟‘‘’’عین التمر!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’عین التمر ابھی محفوظ ہے۔بلکہ یہ ہمارا ایک محفوظ اڈا ہے۔قلعہ دار مہراں بن بہرام لڑنا اور لڑانا جانتا ہے۔اطلاع ملی ہے کہ اس نے چند ایک بدوی قبیلوں کو بھی عین التمر میں اکٹھا کر لیا ہے ۔اگر مسلمانوں نے اُدھر رخ کیا تو ایسے ہی ہوگا جیسے وہ پہاڑ سے ٹکرائے ہوں۔ان میں پسپا ہونے کی بھی ہمت نہیں ہوگی۔وہ مسلسل لڑتے آرہے ہیں۔وہ جنات تو نہیں،آخر انسان ہیں۔ان میں پہلے والا دم خم نہیں رہا۔‘‘’’لیکن میں نے انہیں تازہ دم پایا ہے۔‘‘شیرزاد نے کہا۔’’میں نے ان میں تھکن اور کم ہمتی کے کوئی آثارنہیں دیکھے……اور بہمن!مجھے شک ہوتا ہے جیسے وہ نشے میں بد مست تھے ۔ایسی بے جگری سے وہی لڑ سکتا ہے جس نے کوئی نشہ پی رکھا ہو۔‘‘’’میں یہ نہیں کہوں گا کہ ان کا عقیدہ صحیح ہے۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’لیکن میں یہ ضرور کہوں گا کہ ان پر اپنے عقیدے کا نشہ طاری ہے۔ہم اپنی سپاہ میں یہ ذہنی کیفیت پیدا نہیں کر سکتے۔‘‘’’تم کہہ رہے تھے کہ مجھے عین التمر چلے جانا چاہیے تھا۔‘‘شیر زاد نے کہا۔’’کیا یہ بہتر نہیں ہوگا کہ میں تمہارے ساتھ رہوں اور اپنی سپاہ کو منظم کرلیں۔پھر مسلمانوں پر جوابی حملے کی تیاری کریں؟‘‘
’’اب تمہارا عین التمر جانا بھی ٹھیک نہیں۔‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’ہمیں سوچ سمجھ کر قدم اٹھانا پڑے گا۔‘‘عین التمر انبار کے جنوب میں فرات کے مشرقی کنارے سے کئی میل دور ہٹ کر انبار کی طرح ایک بڑا تجارتی مرکز ہوا کرتا تھا۔آج صرف ایک چشمہ اس کی نشانی رہ گئی ہے۔اس زمانے میں اس شہر کا تجارتی رابطہ دنیا کے چند ایک دوسرے ملکوں کے ساتھ بھی تھا۔قلعہ مضبوط اور شاندار تھا۔وہاں کا حاکم اور قلعہ دار ایک فارسی سالار مہراں بن بہرام چوبین تھا۔مہراں دیکھ رہا تھا کہ مسلمان فارس کی فوج کو ہر میدان میں شکست دیتے آ رہے ہیں اور جو قلعہ ان کے راستے میں آتا ہے وہ ریت کا گھروندا ثابت ہوتا ہے۔اس نے تہیہ کر لیا تھا کہ مسلمانوں کو شکست دے کر فارس کی تاریخ میں نام پیدا کرے گا۔
اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ فارس کی فوج مسلمانوں کو روکنے میں نہ صرف ناکام رہی ہے بلکہ سپاہیوں نے اپنے اوپر مسلمانوں کی دہشت طاری کرلی ہے۔اس خطرے کو ختم کرنے اور اپنی نفری بڑھانے کیلئے اس نے عیسائی اور دیگر عقیدوں کے قبیلوں کو عین التمر میں اکٹھا کرلیاتھا۔
ان میں بنی تغلب ،نمر اور ایاد کے قبیلے خاص طور پر قابلِ ذکر تھے ۔یہ سب عرب کے بدو تھے۔ان کے سردار عقہ بن ابی عقہ اور ہذیل تھے۔یہ دونوں اس وقت کے مانے ہوئے جنگجو تھے،یہ قبیلے کسریٰ کی رعایا تھے۔ایک تو وہ خود اپنے آقاؤں کو خوش کرنا چاہتے تھے ،دوسرے یہ کہ مہراں بن بہرام نے انہیں بہت زیادہ مراعات اور انعامات دینے کا وعدہ کیا تھا اور فارس سے وفاداری کی تیسری وجہ یہ تھی کہ ان قبیلوں کے سرداروں اور دیگر بڑوں کو احساس تھا کہ مسلمان صرف ملک فتح کرنے نہیں آئے بلکہ وہ ان کے عقیدوں پر حملہ کرنے آئے ہیں اور ان پر اپنا عقیدہ مسلط کریں گے۔اس رات عین التمر میں بہت بڑی ضیافت دی گئی،یہ جشن کا سماں تھا،ایران کی بڑی حسین ناچنے اور گانے والیاں اپنے فن کا مظاہرہ کر رہی تھیں۔یہ ضیافت ان بدوی قبیلوں کے سرداروں اور سرکردہ افراد کے اعزاز میں دی گئی تھی۔شراب پانی کی طرح بہہ رہی تھی۔ان بدوؤں نے ایسی ضیافت اور ایسی عیاشی کبھی خواب میں بھی نہیں دیکھی تھی۔بڑی خوبصورت اور جوان عورتیں انہیں شراب پلا رہی تھیں اور ان کے ساتھ فحش حرکتیں بھی کر رہی تھیں۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ اس کیفیت میں جب ان پر شراب اور عورت کا نشہ طاری تھا ،بدوی قبیلوں کے ایک سردار عقہ بن ابی عقہ نے مہراں بن بہرام سے کہا کہ وہ اپنی فوج کو پیچھے رکھے اور بدوی قبیلے آگے جا کر مسلمانوں کو عین التمر سے دور جا کر روکیں گے۔’’اگر تم ایسا ہی بہتر سمجھتے ہو تو میں اعتراض نہیں کروں گا۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’لیکن مجھے ڈر ہے کہ تمہارے قبیلے ہماری فوج کے بغیر نہیں لڑ سکیں گے۔‘‘’’ہم عربی ہیں۔‘‘عقہ نے کہا۔’’عربوں سے لڑنا صرف ہم جانتے ہیں۔عرب کے ان مسلمانوں سے ہمیں لڑنے دو۔فارسیوں نے ان کے مقابلے میں آکر دیکھ لیا ہے۔‘‘مشہور مؤرخ طبری نے مہراں اور عقہ کی یہ گفتگو ان ہی کے الفاظ میں اپنی تاریخ میں شامل کی ہے۔’’میں تسلیم کرتا ہوں۔‘‘مہراں بن بہرام نے کہا۔’’تمہاری بہادری کو میں تسلیم کرتا ہوں عقہ!جس طرح ہم عجمیوں کے خلاف لڑنے کے ماہر ہیں اسی طرح تم عربوں کے خلاف لڑنے میں مہارت رکھتے ہو۔تم ان عربی مسلمانوں کو کاٹ پھینکنے کیلئے آگے چلے جاؤ۔میری فوج تمہارے قریب ہی کہیں موجود ہوگی۔جوں ہی ضرورت پڑی ہم تمہاری مدد کو پہنچ جائیں گے۔‘‘رات گزر گئی۔صبح فارس کی فوج کے دو سالار مہراں بن بہرام کے پاس گئے۔’’رات کو ہم نے آپ کی اور عقہ کی بات چیت میں دخل دینا مناسب نہ سمجھا۔‘‘ایک سالار نے کہا۔’’ہم نے بولنے کی ضرورت اس لئے بھی نہ سمجھی کہ رات کی یہ بات چیت نشے کی حالت میں ہو رہی تھی۔‘‘
’’میں پوری طرح ہوش میں تھا۔‘‘مہراں نے کہا۔’’کہو،کیا کہنا چاہتے ہو؟‘‘’’آپ نے جو ان بدوی قبیلوں کو اہمیت دی ہے یہ ہمارے لیے اچھی نہیں۔‘‘سالار نے کہا۔’’کیوں اچھی نہیں؟‘‘’’اس سے ان قبیلوں کو یہ تاثر ملا ہے کہ ہم مسلمانوں سے ڈرتے ہیں۔‘‘سالار نے جواب دیا۔’’یا یہ کہ ہم کمزور ہیں۔یہ لوگ اتنی اہمیت کے قابل نہیں۔‘‘’’اگر بدوی قبیلوں نے مسلمانوں کو شکست دے دی۔‘‘دوسرے سالار نے کہا۔’’تو کہا جائے گا کہ یہ فتح ان قبیلوں کی ہے اور اگر یہ نہ ہوتے تو ہم ایک اور شکست سے دوچار ہوتے۔‘‘’’میں نے انہیں جو اہمیت دی ہے یہ آخر تمہیں ملے گی۔‘‘مہراں نے کہا۔’’کیا تم تسلیم نہیں کرتے کہ ہم پر حملہ کرنے وہ شخص آرہا ہے جس نے ہمارے نامور سالاروں کو موت کے گھاٹ اتار دیا ہے،اور اُس (خالدؓ)نے فارس کی شہنشاہی کی بنیادیں ہلاڈالی ہیں؟میں اس اعتراف سے نہیں شرماؤں گا کہ تم خالد کا مقابلہ نہیں کر سکتے۔میں نے کچھ سوچ کر ان بدوی قبیلوں کو آگے جانے کی اجازت دی ہے۔اگر انہوں نے مسلمانوں کو شکست دے دی تو یہ تمہاری فتح ہوگی۔یہ بدوی قبیلے ہماری رعایا ہیں،اگر یہ مسلمانوں کو شکست نہ دے سکے اور پسپا ہو گئے تو ہم مسلمانوں پر اس حالت میں حملہ کریں گے کہ وہ تھک کر چور ہو چکے ہوں گے اور ہماری فوج تازہ دم ہوگی۔‘‘دونوں سالاروں نے ایک دوسرے کی طرف دیکھا ۔ان کے چہروں پر رونق آگئی تھی۔اپنے حاکم کی یہ چال انہیں بہت پسند آئی تھی۔خالدؓ مجاہدین کے لشکر کو لے کر عین التمر کی طرف جا رہے تھے۔انہوں نے دریائے فرات عبور کیا اور بڑی تیزرفتار سے دریا کے کنارے پیشقدمی جاری رکھی۔انہوں نے دیکھ بھال کیلئے جوآدمی آگے بھیج رکھے تھے ،وہ اپنی اطلاعیں قاصدوں کے ذریعے بھیج رہے تھے۔انبار میں خالدؓ اپنے ایک نائب سالار زبرقان بن بدر کو چھوڑ آئے تھے۔عین التمر دس میل دور رہ گیا تھا ۔جب جاسوس اور دیکھ بھال کرنے والے دوسرے آدمی پیچھے آگئے۔انہوں نے خالدؓ کو اطلاع دی کہ ذرا ہی آگے ایک بہت بڑا لشکر پڑاؤڈالے ہوئے ہے اور یہ لشکر فارس کانہیں بلکہ بدوی قبیلوں کا ہے۔اس لشکر کا سالارِ اعلیٰ عقہ بن ابی عقہ اور اس کا نائب ہذیل ہے۔خالدؓ نے اپنے لشکر کو روک لیااور خود آگے دیکھنے گئے۔انہوں نے چھپ کر دیکھا۔انہیں کسریٰ کی فوج کہیں بھی نظر نہیں آئی۔یہ لشکر بدوی قبیلوں کا تھا ۔خالدؓ کا لشکر ابھی کوچ کی ترتیب میں تھا۔جو دراصل ترتیب نہیں تھی ۔منزل ابھی دس میل دور تھی۔ابھی لشکر قافلے کی صورت میں چلا آرہا تھا،عین التمر پہنچ کر شہرکو محاصرے میں لینا تھا لیکن راستے میں ایک انسانی دیوار آگئی جو مسلمانوں کیلئے غیر متوقع تھی۔مؤرخوں نے ان قبیلوں کی تعداد نہیں لکھی سوائے اس کے کہ وہ تعداد میں مدینہ کے مجاہدین سے خاصے زیادہ تھے۔عین التمر کی اپنی فوج اس تعداد کے علاوہ تھی۔اس طرح مسلمانوں کا مقابلہ کم از کم تین گناطاقتور دشمن سے تھا۔خالدؓ نے فوراً اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کیا۔پہلے کی طرح وہ خود قلب میں رہے اور اپنے دونوں تجربہ کار سالاروں عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم کو دائیں اور بائیں پہلوؤں میں رکھا۔خالدؓ نے تمام سالاروں کو اپنے پاس بلایا۔
’’ہماری ترتیب وہی ہے جو آمنے سامنے کے ہر معرکے میں ہواکرتی ہے۔‘‘خالدؓ نے سالاروں سے کہا۔’’لیکن لڑنے کا طریقہ مختلف ہوگا۔اب قلب سے حملہ نہیں ہوگا۔میرا اشارہ ملتے ہی دونوں پہلو دشمن کے پہلوؤں پر ہلّہ بول دیں اور وہاں دشمن کو پوری طرح الجھا لیں۔تھوڑی دیر بعد اس طرح پیچھے ہٹیں کہ دشمن کو یہ تاثر ملے کہ تم پسپا ہو رہے ہو۔تھوڑا سا پیچھے آکر پھر آگے بڑھواور پھر پیچھے ہٹو،اس طرح دشمن کے پہلوؤں کو آپس میں الجھائے رکھنا کہ اپنے قلب کی انہیں ہوش نہ رہے۔میں سیدھا دشمن کے قلب پر حملہ کروں گا لیکن کچھ دیر بعد۔تم دونوں اس کوشش میں رہنا کہ دشمن کے پہلوؤں سے اس کے قلب کو مدد نہ مل سکے۔
‘‘’’ولید کے بیٹے!‘‘دشمن کی طرف سے للکار سنائی دی۔’’آنکھیں کھول……دیکھ تیری موت تجھے کس کے سامنے لے آئی ہے……میں عقہ ہوں ……عقہ بن ابی عقہ!‘‘’’ولید کا بیٹا دیکھ چکا ہے!‘‘خالدؓنے گھوڑے پر سوار ہو کر اور رکابوں میں کھڑے ہوکر للکار کاجواب دیا۔’’تیری مکروہ آواز سنے بغیر دیکھ لیا ہے……کیا کسریٰ کے سالاروں نے محل میں ناچنا اور گانا شروع کر دیا ہے کہ ان کی لڑائی تم لڑنے آگئے ہو؟‘‘’’ابن ولید!‘‘عقہ کی للکار بلند ہوئی۔’’کیا توزندہ واپس جانے کا خواہش مند نہیں؟‘‘’’میں زندہ واپس جاؤں گا۔‘‘خالدؓنے گلا پھاڑ کر کہا۔’’خدا کی قسم!تیرے سر کو تیرے جسم سے الگ کرکے جاؤں گا۔‘‘خالدؓ اپنے سالاروں کی طرف متوجہ ہوئے۔’’ربِ کعبہ کی قسم!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں عقہ کو زندہ پکڑوں گا پھر اسے زندہ نہیں رہنے دں گا……تم سب اپنے اپنے دستوں تک پہنچو اور سب کو بتاؤ کہ آج تمہارا مقابلہ دو فوجوں کے ساتھ ہے۔ایک یہ فوج ہے جو تمہارے سامنے سیاہ پہاڑ کی مانند کھڑی ہے اور ایک وہ فوج ہے جو شہر کے اندر ہے یا کہیں روپوش ہے اور نہ جانے کی طرف سے تم پر حملہ کر دے گی۔سب کو بتا دو کہ آج جس نے پیٹھ دکھائی وہ اﷲ کو منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے گا۔‘‘مؤرخ لکھتے ہیں کہ مدینہ کے مجاہدین مسلسل لڑ رہے تھے اور کوچ کر رہے تھے،اور ان کی تعداد بھی کم تھی۔عین التمر میں دشمن کو للکار کر خالدؓ بظاہر غلطی کر رہے تھے لیکن خالدؓکے چہرے پرسنجیدگی ضرور تھی،پریشانی کی ہلکی سی بھی جھلک نہیں تھی۔انہیں دشمن للکار رہا تھا۔خالدؓ نے اشارہ دے دیا۔ایک پہلو سے سالار عاصم بن عدی اور دوسرے پہلو سے سالار عدی بن حاتم نے بدوی قبیلوں لے لشکر کے پہلوؤں پر حملہ کر دیا۔عقہ بن ابی عقہ اپنے لشکر کے قلب میں تھا اور اس کی نظر مسلمانوں کے قلب پر تھی جہاں خالدؓ تھے ،اسے توقع تھی کہ دستور کے مطابق سامنے سے قلب کے دستے حملہ کریں گے مگر خالدؓ دستور سے ہٹ گئے تھے،دونوں فوجوں کے پہلو جب گتھم گتھا ہوئے تو تھوڑی دیر میں اپنی اڑائی ہوئی گرد میں چھپ گئے تھے۔اس گرد سے گھوڑوں کے ہنہنانے ،تلوار اور ڈھالوں کے ٹکرانے کی مہیب آوازیں اور زخمیوں کی کرب ناک صدائیں اٹھ رہی تھیں۔ایک قیامت تھی جو گرد کے اندر بپا تھی۔پہلوؤں کے دونوں سالاروں نے خالدؓ کی ہدایت کے مطابق اپنے دستے پیچھے ہٹائے ۔بدوی قبیلے اس خوش فہمی میں مسلمانوں کے پیچھے گئے کہ مسلمان پسپا ہو رہے ہیں۔وہ جوش و خروش سے نعرے لگا رہے تھے لیکن مسلمان رک گئے اور انہوں نے دشمن پر ایسا دباؤ ڈالا کہ وہ پیچھے ہٹنے لگے۔
مسلمان ایک بار پھر پیچھے ہٹنے لگے۔بدوی پھر ان کے پیچھے آگئے۔اس طرح مسلمانوں نے دشمن کے پہلوؤں کو ایسا الجھایا کہ انہیں اپنے قلب کی ہوش نہ رہی،گرد اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ پتا ہی نہیں چلتا تھا کہ اس کے اندر کیا ہو رہا ہے۔خالدؓ بڑی غور سے دیکھ رہے تھے ۔ان کی نظر عقہ پر تھی جو(مؤرخ بلاذری اور طبری کے مطابق)یہ دیکھ دیکھ کر پریشان ہو رہا تھا کہ مسلمانوں کا قلب کیوں آگے نہیں بڑھتا۔مسلمانوں کے قلب کے دستوں کا انداز کچھ ایسا ڈھیلا ڈھالا سا تھا جیسے وہ حملہ نہیں کرنا چاہتے۔عقہ بن ابی عقہ نے جب مسلمانوں کے قلب کے دستوں کو اس لاتعلقی کی سی حالت میں دیکھا تو اس نے مسلمانوں کے پہلوؤں کے دستوں کو کچلنے کیلئے قلب سے خاصی نفری اپنے پہلوؤں کی مدد کیلئے بھیج دی۔خالدؓ اسے اسی دھوکے میں لانا چاہتے تھے جس میں وہ آگیا۔خالدؓ نے اپنے محافظوں کو ساتھ رکھا۔انہیں وہ بتا چکے تھے کہ عقہ کو زندہ پکڑنا ہے۔خالدؓ نے قلب کے دستوں کو دشمن کے قلب پر حملے کا اشارہ دے دیا۔عقہ کیلئے حملہ اچانک اور غیر متوقع تھا۔خالدؓ نے اپنے محافظوں سے عقہ اور اس کے محافظوں کو گھیرے میں لے لیا،عقہ کے محافظ بے جگری سے لڑ رہے تھے ۔مسلمانوں کو وہ قریب نہیں آنے دے رہے تھے۔عقہ ان کے درمیان میں تھا،مسلمانوں کے دستوں نے بدوی قبائلیوں کے پاؤں اکھاڑ دیئے۔عقہ بھاگ نکلنے کی کوشش کر رہا تھا۔’’سامنے آ عقہ!‘‘خالدؓ نے اسے للکارا۔’’تو مجھے قتل کرنا چاہتا تھا۔‘‘بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓنے کمند پھینک کر عقہ کو پکڑ لیا۔لیکن مؤرخوں کی اکثریت کی تحریروں سے پتہ چلتا ہے کہ عقہ خالدؓ کی للکار پر مقابلے میں آگیا۔دونوں گھوڑوں پر سوار تھے۔عقہ کو تاریخ کے ماہر جنگجو اور تیغ زن قرار دیا ہے۔مستند یہی ہے کہ خالدؓ اور عقہ کے درمیان بڑا سخت مقابلہ ہوا۔خالدؓ کو اﷲکے رسولﷺ نے اﷲکی تلوار کا خطاب عطا کیا تھا۔انہوں نے عقہ کا ہر وار بچایااور موقع کی تلاش میں رہے۔انہیں جوں ہی موقع ملا،عقہ کو گھوڑے سے گرادیا۔خالدؓ اپنے گھوڑے سے کود کر اترے۔عقہ ابھی سنبھل ہی رہا تھا کہ خالدؓکی تلوار کی نوک عقہ کے پہلو کے ساتھ لگ چکی تھی۔اس کے ساتھ ہی خالدؓ کے تین چار محافظوں نے برچھیوں کی انّیاں عقہ کے جسم کے ساتھ لگا دیں۔عقہ نے ہتھیار ڈال دیئے۔اس کے کئی محافظ ہلاک اور زخمی ہو چکے تھے۔جو بچ گئے وہ بھاگ اٹھے۔فوراًیہ خبر بدوی قبائل تک پہنچ گئی کہ ان کا سردارِ عالیٰ ہتھیار ڈال چکا ہے۔یہ افواہ بھی پھیل گئی کہ عقہ مارا گیا ہے۔اِدھر مسلمانوں کے سالار عاصم اورعدی دشمن کے پہلوؤں کے دستوں کا بہت نقصان کر چکے تھے۔اس خبر کے ساتھ ہی کہ عقہ مارا گیا یا پکڑا گیا ہے ،پہلوؤں کے سپاہی پسپا ہونے لگے۔تھوڑی دیر تک صورتِ حال یہ ہو گئی کہ بدوی ایک ایک دو دو،عین التمر کی طرف بھاگے جا رہے تھے۔
عقہ خالدؓ کا قیدی تھا لیکن وہ پریشان نہیں تھا۔اسے توقع تھی کہ عین التمرکی فارسی فوج اس کی مدد کیلئے پا بہ رکاب ہوگی،اور آہی رہی ہوگی۔وہ مسلمانوں کی حالت دیکھ دیکھ کر خوش ہو رہاتھا،مسلمان تھک کر نڈھال ہو چکے تھے،خالدؓ نے اپنے قاصدوں کو بلایا۔
’’تمام سالاروں اور کمانداروں کو پیغام دو کہ بدوی لشکر کی پسپائی کو ابھی اپنی فتح نہ سمجھیں۔‘‘خالدؓ نے قاصدوں سے کہا۔’’ابھی مالِ غنیمت کی طرف بھی نہ دیکھیں،ایک اور فوج آرہی ہے۔وہ تازہ دم ہوگی۔اس کے مقابلے کیلئے تیار رہو۔‘‘یہ تو معلوم ہی نہیں تھا کہ مہراں بن بہرام کی فوج کس طرف سے آئے گی یا وہ عین التمر میں قلعہ بند ہو کر لڑے گی۔اس فوج پر نظر رکھنے کیلئے مثنیٰ بن حارثہ اپنے چھاپہ مار دستے کے ساتھ عین التمر تک کے علاقے میں موجود اور متحرک تھا،اس نے خالدؓ کو بار بار یہی پیغام بھیجا تھا کہ آتش پرستوں کی فوج کہیں بھی نظر نہیں آرہی۔پھر اس کا یہ پیغام خالدؓ تک پہنچا کہ عقہ کے قبائلی خوف و ہراس کی حالت میں بھاگ بھاگ کر عین التمر میں پناہ لے رہے ہیں۔مثنیٰ بن حارثہ کے چھاپہ مار بھاگنے والے بدوی قبیلوں کا تعاقب کرکے انہیں مار رہے تھے۔جب عقہ کے پہلے چند ایک آدمی عین التمر میں داخل ہوئے تو انہیں مہراں کے پاس لے گئے۔’’تم موت سے بھاگ کر آئے ہو۔‘‘مہراں نے انہیں کہا۔’’کیا تم نہیں جانتے کہ یہاں بھی تمہارے لیے موت ہے؟اس نے حکم دیا۔لے جاؤان بزدلوں کو اور انہیں قتل کر دو۔‘‘’’کس کس کو قتل کرو گے؟‘‘ایک بدوی نے پوچھا۔’’پہلے عقہ کو قتل کرو۔‘‘جس نے ہتھیار ڈال کر سارے لشکر میں بزدلی پھیلائی۔‘‘دوسرےنے کہا۔’’مسلمانوں نے جس طرح حملے کیے انہیں ہمارے سردار سمجھ ہی نہ سکے۔‘‘ایک اور نے کہا۔انہوں نے میدانِ جنگ کی صورتِ حال ایسے رنگ میں پیش کی کہ مہراں گھبرا گیا۔مسلمانوں کے لڑنے کے جذبے اور جوش و خروش کو انہوں نے مبالغے سے بیان کیا اور بتایا کہ اپنا جو لشکر مسلمانوں کے ہاتھوں کٹنے سے بچ گیا ہے ،شہر کی طرف بھاگا آرہا ہے۔
’’تو کیا ہمارے لیے یہ بہتر نہیں ہو گا کہ ہم مسلمانوں کو وہاں لے جا کر کاٹیں جہاں ان کا دم ختم ہو چکا ہو؟‘‘مہراں بن بہرام نے اپنے سالارں سے کہا۔’’پھر وہ پسپا ہونے کے بھی قابل نہیں رہیں گے۔‘‘’’کیا سوچ کر آپ نے یہ بات کہی ہے؟‘‘ایک سالار نے کہا۔’’اتنا بڑا شہر چھوڑ کر ہم چلے جائیں گے تو یہ پسپائی ہوگی،یہ کہیں کہ آپ پر مسلمانوں کا خوف طاری ہو گیا ہے اور آپ یہاں سے بھاگنا چاہتے ہیں۔‘‘’’جو میں سوچ سکتا ہوں وہ تم نہیں سوچ سکتے۔‘‘مہراں نے شاہانہ رعب سے کہا۔’’میں یہاں کا حاکم ہوں۔جاؤ،میرے اگلے حکم کا انتظار کرو۔‘

سالار خاموشی سے چلے گئے۔وہ سالار تھے۔شہر کا دفاع ان کی ذمہ داری تھی۔وہ مسلمانوں کو شہر پیش کرنے کے بجائے لڑ کر مرنا بہتر سمجھتے تھے۔انہوں نے آپس میں طے کر لیا کہ وہ مہراں کا یہ حکم نہیں مانیں گے ،لیکن میدانِ جنگ سے بھاگ کر آنے والے بنی تغلب،نمر اور ایادکے آدمی ٹولیوں میں شہر کے دروازے میں داخل ہو رہے تھے ،وہ دس میل کی مسافت طے کر کے آئے تھے جو انہوں نے خوف اور بھگدڑ کی کیفیت میں طے کی تھی۔ان میں بعض زخمی تھے۔’’کاٹ دیا……سب کو کاٹ دیا۔‘‘وہ گھبراہٹ کے عالم میں کہہ رہے تھے۔’’ان کا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا۔بڑے زبردست ہیں۔‘‘’’عقہ بن ابی عقہ مارا گیا ہے۔‘‘وہ شہر پر خوف طاری کر رہے تھے۔’’ھذیل لا پتہ ہے۔‘‘’’دروازے بند کر دو۔‘‘بعض چلّا رہے تھے۔’’وہ آرہے ہیں۔‘‘مؤرخوں نے لکھا ہے کہ زرتشت کے پجاریوں پر پہلے ہی مسلمانوں کی دہشت طاری تھی۔مسلمانوں نے ان کے بڑے نامور سالار مار ڈالے تھے،اب عین التمر والے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے تھے کہ یہ جنگجو قبیلے کس حالت میں واپس آرہے ہیں۔دیکھتے ہی دیکھتے اس شہر پر خوف و ہراس طاری ہو گیا۔شہر میں جو فوج تھی اس کی ذہنی حالت ایسے کمزور بزدل کتے جیسی ہوگئی تھی جو دُم پچھلی ٹانگوں میں دبا لیا کرتا ہے۔ان کے سالا روں نے جب اپنی فوج کو اس ذہنی کیفیت میں دیکھا تو انہیں شہر کے حاکم اور سالارِ اعلیٰ مہراں کے اگلے حکم کی ضرورت نہ پڑی۔انہیں یہ اطلاع بھی ملی کہ مہراں خزانہ مدائن بھجوا رہا ہے اور شہر کے لوگ بھی اپنے اموال چھپا رہے تھے یا ساتھ لے کر شہر سے نکل رہے تھے۔خالدؓ کے فن ِ حرب و ضرب کا کمال یہ تھا کہ انہوں نے میدانِ جنگ میں تو دشمن کو شکست دی ہی تھی ۔دشمن کو انہوں نے نفسیاتی لحاظ سے اتنا کمزور کر دیا تھا کہ اس کے لڑنے کا جذبہ مجروح ہو گیا تھا۔آتش پرستوں کی نفسیاتی کیفیت تو یوں ہو گئی تھی کہ خالدؓ کا یا مسلمانوں کا نام سن کر ہی وہ پیچھے دیکھنے لگتے تھے کہ کمک آ رہی ہے یا نہیں۔یا پسپائی کا راستہ صاف ہے یا نہیں۔پھر وہ وقت جلدی آگیا جب میدانِ جنگ میں لاشیں اور بے ہوش زخمی رہ گئے اور انہیں کچلنے کیلئے وہ گھوڑے رہ گئے جو سواروں کے بغیر بے لگام دوڑتے پھر رہے تھے۔بدوی قبیلے اپنے سرداروں کے بغیر عین التمر جا پہنچے اور شہر کے دروازے بند کر لیے۔انہوں نے شہر میں واویلا بپا کیا کہ مہراں کی فوج وعدے کے مطابق ان کی مدد کو نہیں آئی لیکن وہاں ان کا واویلا سننے والا کوئی نہ تھا۔خوف و ہراس کے مارے ہوئے شہری تھے جو بھاگ نہیں سکتے تھے۔مہراں بن بہرام اپنی فوج سمیت شہر سے جا چکا تھا۔وہ فوج کو مدائن لے کر جا رہا تھا۔وہ عقہ اور ھذیل اور دوسرے قبائلی سرداروں کو کوس رہا تھا۔
’’دشمن کا تعاقب کرو۔‘‘خالدؓ نے اپنی سپاہ کو حکم دیا۔’’زخمیوں کو سنبھالنے کیلئے کچھ آدمی یہیں رہنے دو اور بہت تیزی سے عین التمر کا محاصرہ کرلو۔‘‘عین اس وقت مثنیٰ بن حارثہ گھوڑا سر پٹ دوڑاتا آیا اور خالدؓ کے پاس گھوڑا روک کر اترا۔وہ خالدؓسے بغلگیر ہو گیا۔
’’ولید کے بیٹے!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’قسم رب العالمین کی!دشمن عین التمر سے بھاگ گیا ہے۔‘‘’’کیا تیرا دماغ اپنی جگہ سے ہِل تو نہیں گیا؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’یوں کہہ کہ دشمن میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے خالدؓکو بتایا کہ اس نے جو جاسوس عین التمر کے اردگرد بھیج رکھے تھے ،انہوں نے اطلاع دی ہے کہ فارس کی جو فوج شہر میں تھی ،شہر سے نکل گئی ہے۔’’کیا تو نہیں سمجھ سکتا کہ یہ فوج ہمارے عقب پر اس وقت حملہ کرے گی جب ہم عین التمر کو محاصرے میں لیے ہوئے ہوں گے؟‘‘خالدؓنے کہا۔’’ابنِ ولید!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’مہراں اپنی فوج کے ساتھ جا چکا ہے۔اگر وہ فوج یہاں کہیں چھپی ہوئی ہوتی تو میرے چھاپہ مار اسے چَین سے نہ بیٹھنے دیتے۔آگے بڑھ اور اپنی آنکھوں سے دیکھ۔عین التمر تیرے قدموں میں پڑا ہے۔‘‘یہ خبرجب مجاہدین کے لشکر کو ملی تو ان کے جسم جو تھکن سے ٹوٹ رہے تھے تروتازہ ہوگئے۔انہوں نے فتح و نصرت کے نعروں کی گرج میں عین التمر تک کے دس میل طے کر لیے۔مثنیٰ کے جو آدمی پہلے ہی وہاں موجودتھے ،انہوں نے بتایا کہ شہر کے تمام دروازے بند ہیں۔خالدؓکے حکم سے شہر کا محاصرہ کر لیا گیا۔بدوی عیسائی اور ان کے دیگر ساتھی جو شہر میں پناہ لینے آئے تھے، مقابلے پر اتر آئے۔انہوں نے شہرِ پناہ کے اوپر جا کر مسلمانوں پر تیر برسانے شروع کر دیئے۔’’عقہ بن ابی عقہ کو اور تمام جنگی قیدیوں کو آگے لاؤ۔‘‘خالدؓ نے حکم دیا۔ذرا سی دیر میں تام بدوی قیدیوں کو سامنے لے آئے۔خالدؓ نے عقہ کو بازو سے پکڑ ا اور اسے اتنی آگے لے گئے جہاں وہ شہرِ پناہ سے آنے والے تیروں کے زد میں تھے۔’’یہ ہے تمہارا سردار!‘‘خالدؓنےبڑی بلند آوازسے کہا۔’’تم اسے بہادروں کا بہادر سمجھتے تھے،اسی نے تمہاری دوستی فارس والوں سے کرائی تھی۔کہاں ہیں تمہارے دوست؟‘‘خالدؓ نے عقہ کو آگے کرکے کہا۔’’اس سے پوچھومہراں اپنی فوج کو بچا کر کہاں لے گیا ہے؟‘‘پھر بے شمار قیدیوں کو آگے کر دیاگیا۔’’یہ ہیں تمہارے بھائی!‘‘خالدؓنے­کہا۔’’چلاؤتیر!سب ان کے سینوں میں اتریں گے۔‘‘یہ خبر کسی طرح شہر میں پھیل گئی کہ قلعے کے باہر مسلمان بنی تغلب اور دیگر قبیلوں کے قیدیوں کو لائے ہیں۔ان قیدیوں میں سے کئی ایک کے بیوی بچے اور لواحقین شہر میں تھے۔ان کی بستیاں تو کہیں اور تھیں لیکن ان کی سلامتی کیلئے انہیں عین التمر میں لے آئے تھے ۔جنگ کی صورت میں وہ انہیں اپنی بستیوں میں محفوظ نہیں سمجھتے تھے۔ان عورتوں اور بچوں کو جب پتا چلا کہ ان کے قبیلوں کے قیدی باہر آئے ہیں تو مائیں اپنے بچوں کو اٹھائے شہر کی دیوار پر آگئیں۔میدانِ جنگ میں جانے والوں میں سے جو واپس نہیں آئے تھے ،ان کی بیویاں ،بہنیں،مائیں اور بیٹیاں اس امید پر دیوار پر آئی تھیں کہ ان کے آدمی قیدیوں میں ہوں گے۔
ان عورتوں نے دیوار کے اوپر ہنگامہ بپا کر دیا۔وہ اپنے آدمیوں کر پکار رہی تھیں۔جنہیں اپنے آدمی قیدیوں میں نظر نہیں آرہے تھے ،وہ آہ و زاری کر رہی تھیں،تیر انداز انہیں پیچھے ہٹا رہے تھے مگر عورتیں پیچھے نہیں ہٹ رہی تھیں۔’’ہم تمہیں زیادہ مہلت نہیں دیں گے۔‘‘خالدؓ کے حکم سے ان کے ایک محافظ نے بلند آواز سے کہا۔’’ہتھیار ڈال دو اور دروازے کھول دو۔اگر ہمارے مقابلے میں تم ہار گئے اور دروازوں میں ہم خود داخل ہوئے تو تم سب کا انجام بہت برا ہوگا۔‘‘’’ہم اپنی دو شرطوں پر دروازہ کھولنے پر آمادہ ہیں۔‘‘دیوار کے اوپر سے آواز آئی۔’’تمہاری کوئی شرط نہیں مانی جائے گی۔‘‘خالدؓ کی طرف سے جواب گیا۔’’ہتھیار ڈال دو۔دروازے کھول دو،تمہاری سلامتی اسی میں ہے۔‘‘بنی تغلب اور ان کے اتحادی قبیلے جانتے تھے کہ ان کی سلامتی اسی میں ہے کہ ہتھیار ڈال دیں اور مسلمانوں سے رحم کی درخواست کریں چنانچہ انہوں نے دروازے کھول دیئے اور مسلمان شہر میں داخل ہوئے۔اس وقت کی تحریروں سے پتہ چلتاہے کہ مسلمانوں نے کسی شہری کو پریشان نہیں کیا ،البتہ مسلمانوں کے خلاف جو بدوی لڑے تھے،ان سب کو قیدی بنا لیا گیا۔یہ ان قیدیوں کے لواحقین پر منحصر تھا کہ وہ خالدؓ کا مقرر کیا ہوا فدیہ ادا کرکے اپنے قیدیوں کو رہا کرالیں۔تمام شہر کی تلاشی لی گئی۔شہر میں ایک عبادت گاہ یا درس گاہ تھی جس میں پادری بننے کی تعلیم دی جاتی تھی۔اس وقت چالیس نو عمر لڑکے زیرِ تعلیم تھے۔ان سب کو پکڑ لیا گیا۔ان میں سے اکثر نے بعد میں اسلام قبول کر لیا تھا اور ان میں سے ایک کو تاریخ ِ اسلام کی ایک نامور شخصیت کا باپ ہونے کا شرف حاصل ہوا۔اس لڑکے کا نام نصیر تھا۔ا س نے اسلام قبول کیااور ایک مسلمان عورت کے ساتھ شادی کی جس نے موسیٰ بن نصیر کو جنم دیا۔یہ موسیٰ بن نصیر شمالی افریقہ کے امیر مقرر ہوئے۔انہوں نے ہی طارق بن زیاد کو اندلس فتح کرنے کو بھیجا تھا۔دو تین متعصب مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ نے بنی تغلب ،نمر اور ایاد کے ان تمام آدمیوں کو قتل کر دیا جو ان کے خلاف لڑے تھے ۔یہ ایک مفروضہ ہے جو خا لدؓکو بدنام کرنے کیلئے گھڑا گیا تھا۔مؤرخوں کی اکثریت نے ایسے قتلِ عام کا ہلکا سا بھی اشارہ نہیں دیا۔محمد حسین ہیکل نے متعدد تاریخوں کے حوالے سے لکھا ہے کہ عقہ بن ابی عقہ کو کھلے میدان میں لا کر خالدؓنے اپناعہد پورا کرتے ہوئے اس کا سر تن سے کاٹ ڈالا۔خالدؓنے اعلان کیا تھا کہ بدوی غیر مشروط طور پر ہتھیار ڈال دیں تو وہ بڑے برے انجام سے محفوظ رہیں گے ۔دشمن نے مسلمانوں کی شرائط پر ہتھیا ر ڈالے تھے۔ان کے قتلِ عام کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا۔
عین التمر کی فتح کے بعد خالدؓ نے سب سے پہلا کام یہ کیا کہ انبار اورعین التمر کا مالِ غنیمت اکٹھا کرکے مجاہدین میں تقسیم کیا اور خلافت کا حصہ الگ کرکے ولید بن عقبہ کے سپرد کیا کہ وہ مدینہ امیرالمومنینؓ کو پیش کریں۔انہوں نے امیر المومنینؓ کیلئے ایک پیغام بھی بھیجا۔ولید بن عقبہ نے مدینہ پہنچ کر امیرالمومنین ابوبکرؓ کو انبار اور عین التمر کی لڑائی اور فتح کی تفصیل سنائی ،مالِ غنیمت پیش کیا پھرخالدؓ کا پیغام دیا۔پہلے سنایا جا چکا ہے کہ خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ نے خالدؓ کے لیے حکم بھیجا تھا کہ وہ عیاضؓ بن غنم کے انتظار میں حیرہ میں رُکے رہیں۔اس وقت عیاضؓ دومۃ الجندل میں لڑ رہے تھے لیکن لڑائی کی صورتِ حال عیاضؓ کیلئے اچھی نہ تھی۔خالدؓ نے خلافت کے حکم کو نظر انداز کر دیا اور حیرہ سے کوچ کرکے انبار کو محاصرے میں لے لیا۔فتح پائی پھر عین التمر کا معرکہ لڑا اور کامیابی حاصل کی۔خالدؓنے اپنے پیغام میں کہا تھا کہ وہ حیرہ میں بیٹھے رہتے تو فارس والوں کو اپنی شکستوں سے سنبھلنے کا اور جوابی حملے کی تیاری کا موقع مل جاتا۔خالدؓکی کوشش یہ تھی کہ دشمن کو کہیں بھی قدم جمانے کا اور جوابی وار کرنے کا موقع نہ مل سکے۔انہوں نے آتش پرستوں کی فوج کو نفسیاتی لحاظ سے کمزور کر دیا۔خالدؓنے امیر المومنینؓ کی حکم عدولی تو کی تھی لیکن عملاًثابت کر دیا تھا کہ یہ حکم عدولی کتنی ضروری تھی۔عیاضؓ بن غنم ابھی تک دومۃ الجندل میں پھنسے ہوئے تھے اور ان کی کامیابی کی توقع بہت کم تھی۔خالدؓ نے جو مناسب سمجھا وہ کیا۔خیفہ ابو بکرؓ نے ولیدبن عقبہ سے کہا۔’’اس نے جو سوچا تھا وہی ہوا۔عیاض کی طرف سے اطلاعیں آرہی ہیں وہ امید افزاء نہیں ۔دومۃ الجندل پر ہمارا قبضہ بہت ضروری تھا لیکن اب مجھے عیاض کے متعلق تشویش ہونے لگی ہے……ابنِ عقبہ!تم عین التمرواپس نہ جاؤ۔دومۃ الجندل چلے جاؤاور وہاں کی صورتِ حال دیکھ کہ خالد کے پاس جاؤ اور اسے کہو کہ عیاض کی مدد کو پہنچے۔‘‘ولید بن عقبہ روانہ ہو گئے۔عیاضؓ بن غنم خود بھی پریشان تھے۔اس کے ساتھ جو سالار تھے ،وہ انہیں کہہ رہے تھے کہ اس صورتِ حال سے نکلنے کیلئے مدد کی ضرورت ہے ورنہ شکست کا خطرہ صاف نظر آرہا تھا۔آخر(مؤرخ طبری اور ابو یوسف کی تحریروں کے مطابق)عیاضؓ بن غنم نے خالدؓ کو ایک تحریری پیغام بھیجا جس میں انہوں نے اپنی مخدوش صورتِحال اور اپنی ضرورت لکھی۔ولید بن عقبہ بھی عیاضؓ کے پاس پہنچ گئے۔ان کا جلدی پہنچنا آسان نہ تھا۔مدینہ سے دومۃ الجندل کافاصلہ تین سو میل سے کچھ کم تھااور زیادہ ترعلاقہ صحرائی تھا۔پہنچنا جلد تھا۔ولید جب عیاضؓ کے پاس پہنچے تو وہ جیسے ہوش و حواس میں نہیں تھے۔انہوں نے آرام کی نہ سوچی،عیاضؓ کی صورتِ حال دیکھی۔’’میں نے خالدکو مدد کیلئے کل ہی پیغام بھیجا ہے۔‘‘عیاضؓ بن غنم نے ولید بن عقبہ سے کہا۔’’معلوم نہیں وہ خود کس حال میں ہے،لیکن میرے لیے اور کوئی چارا نہیں،تم دیکھ رہے ہو۔‘‘

’’الحمدﷲ!‘‘ولیدنے کہا۔’’خالد نے آتش پرستوں کی شہنشاہی اور ان کی جنگی طاقت کو جڑوں سے اکھاڑ پھینکا ہے۔امیر المومنین نے مجھے تمہارے پاس بھیجا ہے کہ تمہاری ضرورت کا جائزہ لے کر انہیں بتاؤں لیکن تمہیں فوری مدد کی ضرورت ہے۔میں مدینہ جانے کے بجائے عین التمر چلا جاتا ہوں ۔خالدتمہاری مدد کو آئے گا۔‘‘یہ اس دور کی فرض شناسی اور جذبہ تھا جس میں خوشامد، دکھاوے اور کام چوری کا ذرا سا بھی عمل دخل نہ تھا،ولید بن عقبہ نے یہ نہ سوچا کہ وہ واپس مدینہ جائیں اور خلیفہ کے حکم کے مطابق انہیں اپنی کار گزاری بڑھا چڑھا کر سنائیں اور ساتھ یہ کہیں کہ حضور عیاض تو بڑا نالائق سالار ہے۔اگر اس کی جگہ میں ہوتا تو یوں کرتا مگرولید نے دیکھا کہ صورتِ حال مخدوش ہے تو وہ اپنے حاکم خود بن گئے اور مدینہ کے بجائے عین التمر کو گھوڑا دوڑادیا۔ان کے سامنے پورے تین سو میل صحرائی مسافت تھی۔عراق اور شام کے صحرا اسی علاقے میں ملتے اور مسافروں کیلئے جان کا خطرہ بن جاتے۔ولید نے اپنے گھوڑے پر ،اپنے آپ پر،اپنے چار محافظوں اور ان کے گھوڑوں پر یہ ظلم کیا کہ کم سے کم آرام کیلئے کہیں رُکے۔وہ موسم گرمی کے عروج کا تھا۔ مہینہ اگست ۶۳۳ء تھا۔دومۃ الجندل بہت بڑا تجارتی شہر تھا،دور دراز ممالک کے تاجر یہاں آیاکرتے تھے،تجارت کے علاوہ یا تجارت کی بدولت ،اس شہر کو دولت اور زروجواہرات کا مرکز سمجھا جاتا تھا۔رسولِ اکرمﷺ نے اس شہر اور اس سے ملنے والی شاہراہوں کی جغرافیائی پوزیشن دیکھ کر اس پر فوج کشی کی تھی۔یہ مہم غزوہ تبوک کے نام سے مشہور ہوئی،اس وقت دومۃ الجندل کا حاکم اور قلعہ دار اُکیدر بن عبدالملک تھا۔ اس نے مسلمانوں کا مقابلہ بے جگری سے کیا تھا۔خالدؓبھی اس معرکے میں شریک تھے۔انہوں نے اُکیدر کو غیر معمولی شجاعت کا مظاہرہ کرتے ہوئے زندہ پکڑ لیا تھا اور اس کی سپاہ نے ہتھیار ڈال دیئے تھے۔اُکیدر بن عبدالملک نے رسولِ کریم ﷺ کی اطاعت قبول کرلی اور وفاداری کا حلف اٹھایا۔اس نے اسلام بھی قبول کرلیا تھا،اس طرح یہ اتنا بڑا شہر مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگیا تھا۔رسول اﷲﷺکی وفات کے ساتھ ہی ارتداد کا فتنہ طوفان کی طرح اٹھاتھا۔ اُکیدر بھی مدینہ سے منحرف ہو گیااور اس نے اطاعت اور وفاداری کے معاہدے کو الگ پھینک دیا۔اس نے دومۃ الجندل کو ایک ریاست بنالیا جس کے باشندے بھی عیسائی تھے اور بت پرست بھی۔عیسائیوں کا سب سے بڑا اور طاقتور قبیلہ کلب تھا۔امیرالمومنینؓ نے اُکیدر بن عبدالملک کی سرکوبی کیلئے اور اسے اپنی اطاعت میں لانے کیلئے عیاضؓ بن غنم کو ایک لشکر دے کر بھیجا تھا۔وہاں جا کر عیاضؓ نے دیکھا کہ ان کا لشکر تو بہت تھوڑا ہے،اور دشمن کئی گنا طاقتور ہے لیکن مدینہ سے تقریباًتین سو میل دور آکر واپس چل پڑنا تو مناسب نہ تھا۔دومۃ الجندل کی دیوار اونچی اور مضبوط تھی۔پورا شہر بڑا مضبوط قلعہ تھا۔
عیاضؓ نے شہر کا محاصرہ کیا جو مکمل نہ تھا۔ایک طرف راستہ کھلا تھا،اکیدر کی سپاہ کی کچھ نفری خالی طرف سے باہر آتی اور مسلمانوں پر حملہ کرتی،کچھ دیر لڑائی ہوتی ،اور یہ نفری بھاگ کر قلعے میں چلی جاتی،ان حملوں کے علاوہ قلعے کی دیواروں سے مسلمانوں پر تیروں کا مینہ برستا رہتا اور اس کے جواب میں مسلمان تیر اندازدیواروں پر تیر پھینکتے رہتے۔انہوں نے قلعے کے دروازوں پربھی ہلّے بولے مگر قلعے کا دفاع توقع سے زیادہ مضبوط تھا۔مسلمانوں کے خلاف جنگ کا پانسہ اس طرح پلٹ گیا کہ قبیلہ کلب کے عیسائیوں نے عقب سے آکر مسلمانوں کو گھیرے میں لے لیا۔وہ مسلمانوں پر بڑھ بڑھ کر حملے کرتے تھے اور مسلمان جان کی بازی لگا کر حملوں کو روکتے اور پسپا کرتے تھے،مسلمانوں کی اس بے خوفی کو دیکھ کر عیسائیوں نے حملے کم کر دیئے۔مگر مسلمانوں کو گھیرے میں رکھا تاکہ وہ پسپا نہ ہو سکیں،اور رسد وغیرہ کی کمی سے پریشان ہوکر ہتھیار ڈال دیں۔عیاضؓ نے یہ انتظام کر رکھا تھا کہ ایک جگہ راستہ کھلا رکھا اور اس کی حفاظت کیلئے آدمی مقرر کر دیئے تھے،یہ صورتِحال مسلمانوں کیلئے بڑی خطرناک تھی۔ان کا جانی نقصان خاصہ ہو چکا تھا۔زخمیوں اور شہیدوں کی تعداد بڑھتی جارہی تھی۔مسلمان زندہ رہنے کیلئے لڑ رہے تھے ،صاف نظر آرہاتھا کہ شکست انہی کی ہوگی۔دن پہ دن گزرتے جا رہے تھے۔خالدؓعین التمرکو اپنے انتظام میں لانے کے کام سے فارغ ہو چکے تھے ۔انہوں نے عمال مقرر کر دیئے تھے۔دوچار دنوں میں ہی وہاں کے شہریوں کو یقین ہو گیا تھا کہ مسلمان نہ انہیں زبردستی مسلمان بنا رہے ہیں نہ ان کے حقوق پامال کر رہے ہیں،نہ ان کی عورتوں پر بُری نظر رکھتے ہیں اور ان کے گھر اور اموال بھی محفوظ ہیں۔اس لیے وہ اسلامی حکومت کے وفادار بن گئے۔خالدؓکے پاس عیاضؓ بن غنم کا قاصد پہنچااور ان کا تحریری پیغام دیا۔عیاضؓ جس مصیبت میں پھنس گئے تھے وہ لکھی تھی۔تفصیل قاصد نے بیان کی۔دوسرے ہی دن ولید بن عقبہ پہنچ گئے۔انہوں نے خالدؓ سے کہا کہ ایک گھڑی جو گزرتی ہے وہ عیاض اور اس کے مجاہدین کو شکست اور موت کے قریب دھکیل جاتی ہے۔’’شکست؟‘‘خالدؓ نے پُر جوش لہجے میں کہا۔’’خدا کی قسم!اسلام کی تاریخ میں شکست کا لفظ نہیں آنا چاہیے……کیا اُکیدر بن عبدالملک مجھے بھول گیا ہے؟ کیا وہ ہمارے رسولﷺکو بھول گیا ہے جنہوں نے اسے اطاعت پر مجبور کیا تھا؟کیا وہ ہمارے اﷲکو بھول گیا ہے جس نے ہمیں اس پر فتح عطا کی تھی؟‘‘تاریخ شاہد ہے کہ بدلے ہیں تو انسان بدلے ہیں۔اﷲنہیں بدلا۔اﷲنے فتوحات کو شکستوں میں اس وقت بدلا تھا جب مسلمان بدل گئے تھے اور خدا کے بندوں کے ’’خدا‘‘بن گئے تھے۔خالدؓ نے عیاضؓ بن غنم کو پیغام کا تحریری جواب دیا۔اُس دور میں عربوں کی تحریروں کاانداز شاعرانہ ہوا کرتا تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓکا جواب منظوم انداز کا تھا۔انہوں نے لکھا:
’’منجانب خالد بن ولیدبنام عیاض بن غنم۔میں تیرے پاس بہت تیز پہنچ رہا ہوں۔تیرے پاس اونٹنیاں آ رہی ہیں جن پر کالے اور زہریلے ناگ سوارہیں۔فوج کے دستے ہیں جن کے پیچھے بھی دستے آگے بھی دستے ہیں۔ذرا صبر کرو۔گھوڑے ہوا کی رفتار سے آرہے ہیں۔ان پر تلواریں لہرانے والے شیر سوار ہیں۔دستوں کے پیچھے دستے آرہے ہیں۔‘‘پیغام کا جواب قاصد کو دے کر خالدؓنے اسے کہا کہ وہ جتنی تیزی سے آیا تھا اس سے زیادہ تیز دومۃ الجندل پہنچے اور عیاض ؓکو تسلی دے۔اس کے ساتھ ہی انہوں نے اپنے ایک نائب سالار عویم بن کاہل اسلمی کو بلایا۔
’’ابنِ کاہل اسلمی!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا تو جانتا ہے کہ میں تجھے کتنی بڑی ذمہ داری سونپ رہا ہوں؟‘‘’’اﷲمجھے ہر اس ذمہ داری کو نبھانے کی ہمت و عقل عطافرمائے جو مجھے سونپی جائے۔‘‘عویم نے کہا۔’’میری ذمہ داری کیا ہوگی ابنِ ولید؟‘‘’’عین التمر!‘‘خالدؓنے­کہا۔’’اس کا انتظام اوراس کی حفاظت۔اندر سے بغاوت اٹھ سکتی ہے،باہر سے حملہ ہو سکتا ہے۔میں تجھے اپنا نائب بنا کر دومۃ الجندل جا رہاہوں۔عیاض بن غنم مشکل میں ہے۔‘‘’’اﷲتجھے سلامتی عطا کرے۔‘‘عویم نے کہا۔’’عین التمر کو اﷲکی امان میں سمجھ۔‘‘خالدؓ کے ساتھ ابتداء میں جو سپاہ تھی وہ جانی نقصان کے علاوہ اس وجہ سے بھی کم ہو گئی کہ ہر مفتوحہ جگہ ایک دو دستے چھوڑ دیئے گئے تھے۔عین التمر تک پہنچتے نفری اور کم ہو گئی تھی۔اس علاقے کے مسلمان باشندوں سے نفری بڑھانے کی کوشش کی گئی تھی لیکن ان کی تعداد زیادہ نہیں تھی۔کچھ نو مسلم بھی سپاہ میں شامل ہو گئے تھے لیکن ابھی ان پر پوری طرح اعتماد نہیں کیاجا سکتاتھا۔خالدؓنےکچھ دستے عین التمر میں چھوڑے ،چھ ہزار سوار اپنے ساتھ لیے اور دومۃ الجندل کو روانہ ہو گئے ۔فاصلہ تین سو میل تھا۔خالدؓنے تین سو میل کی یہ صحرائی مسافت صرف دس دنوں میں طَے کرلی۔وہ ابھی رستے میں تھے کہ جب اُکیدر کے آدمیوں نے اس لشکر کو دیکھ لیا۔وہ مسافر ہوں گے۔انہوں نے خالدؓکے پہنچنے سے پہلے دومۃ الجندل میں اطلاع دے دی کہ مسلمانوں کا ایک لشکر آرہا ہے۔بعض مؤرخوں نے یہ بھی لکھا ہے کہ دومۃ الجندل والوں کو یہ بھی پتہ چل گیا تھا کہ اس اسلامی لشکر کے سالارِ اعلیٰ خالدؓہیں۔اس وقت تک عیسائیوں کے تین بڑے قبیلے،بنو کلب، بنو بہراء اور بنو غسان۔جنگ میں شریک تھے۔اُکیدر بن عبدالملک کو اطلاع ملی تو اس نے بڑی عجلت سے عیسائیوں اور بت پرستوں کے چھوٹے چھوٹے قبیلوں کو بھی جنگ میں شریک ہونے کیلئے بلاوا بھیج دیا۔خالدؓکے پہنچنے تک ان چھوٹے قبیلوں نے اپنے آدمی بھیجنے شروع کردیئے تھے۔
خالدؓ طوفان کی مانند پہنچے۔مجاہدین نے خالدؓکے کہنے پر جوش و خروش سے نعرے لگانے شروع کر دیئے۔عیاضؓ بن غنم کے لشکرنے یہ نعرے سنے تو سارے لشکر نے نعرے لگائے۔ان کے ہارے ہوئے حوصلے تروتازہ ہو گئے۔خالدذؓ نے میدانِ جنگ کا جائزہ لیا پھر قلعے کے اردگرد گھوڑا دوڑا کر قلعے کی دیواروں کا جائزہ لیا اور قلعے کی دیوارون پر کھڑے دشمن کو دیکھا۔دشمن کی فوج کے دو حصے تھے۔ایک کا سالارِ اعلیٰ اُکیدر بن عبدالملک اور دوسرے کا جودی بن ربیعہ تھا جوقلعے کے باہر تھا۔ قلعے کے باہر ان چھوٹے چھوٹے قبیلوں کے آدمی بھی جمع ہو گئے تھے جو اُکیدر کے بلاوے پر ابھی ابھی آئے تھے۔ان کیلئے قلعے کاکوئی دروازہ نہ کھلا کیونکہ خالدؓ کی آمد قلعے کیلئے بڑی خطرناک تھی۔خالدؓ ایک دہشت کا دوسرا نام تھا۔خالدؓ دشمن پر جو نفسیاتی وار کرتے تھے اس کا اثر مستقل ہوتا تھا۔ایسا ہی ایک زخم اُکیدر بن عبدالملک پہلے ہی خالدؓ کے ہاتھوں کھا چکا تھا۔خالدؓ تو سوچ رہے تھے کہ وہ قلعے میں کس طرح داخل ہو سکتے ہیں لیکن ان کی دہشت قلعے کئے اندر پہنچ چکی تھی۔اُکیدر نے عیسائی سرداروں کو بلا رکھا تھا اور انہیں کہہ رہا تھا کہ وہ خالدؓسے ٹکر نہ لیں اور صلح کر لیں۔عیسائی سردار اس کامشورہ نہیں مان رہے تھے۔’’میرے دوستو!‘‘تقریباًتمام مؤرخوں نے اس کے یہ الفاظ لکھے ہیں۔’’ خالد سے جتنا میں واقف ہوں اتنا تم نہیں ہو۔میں نہیں بتا سکتا کہ اس میں کیسی طاقت ہے۔میں اتنا جانتا ہوں کہ قسمت ہر میدان میں اس کے ساتھ ہوتی ہے۔میدانِ جنگ کا اور قلعوں کی تسخیر کا جو کمال اس میں ہے وہ کسی اور میں نہیں۔تم سوچ رہے ہوگے اور وہ تمہارے سر پر کھڑا ہوگا۔خالد کے مقابلے میں جوقوم آتی ہے ،خواہ طاقتور خواہ کمزور، وہ خالد کے ہاتھوں پِٹ جاتی ہے۔میرا مشورہ تسلیم کرو اور خالد سے صلح کرلو۔‘‘عیسائیوں نے خالدؓسے شکستیں کھائی تھیں ۔وہ انتقام لینا چاہتے تھے۔’’تم اس سے لڑو گے تو ہار جاؤ گے۔‘‘اُکیدر نے کہا۔’’پھر وہ تم پر رحم نہیں کرے گا۔اگر لڑے بغیر صلح کرلو گے تو وہ تمہاری جان، تمہاری عورتوں اور تمہارے اموال کی حفاظت کرے گا مگر تم اس کا مقابلہ کر ہی نہیں سکتے کیونکہ تم اس کی چالیں نہیں سمجھتے۔’’ہم لڑے بغیر شکست تسلیم نہیں کریں گے۔‘‘عیسائی سرداروں نے متفقہ فیصلہ دے دیا۔’’پھر تم میرے بغیر لڑو گے۔‘‘اُکیدر نے کہا۔’’میں اتنا بڑا شہر تباہ نہیں کراؤں گا۔‘‘

عیسائی سردار لڑنے کے ارادے سے چلے گئے۔انہیں اُکیدر کے ارادوں کا اس کے سوا کچھ علم نہیں تھا کہ وہ لڑنا نہیں چاہتا۔رات کا پہلا پہر تھا۔خالدؓکا سالار عاصم بن عمرو قلعے کے اس طرف گشت پر پھر رہا تھا،جدھر علاقہ خالی تھا۔اسے چار پانچ آدمی قلعے سے نکل کر اس کھُلے علاقے میں آتے دکھائی دیئے۔وہ سائے سے لگتے تھے ۔عاصم بن عمرو کے ساتھ چند ایک محافظ تھے انہیں عاصم نے کہا کہ ان آدمیوں کو گھیرے میں لے کر روک لیں۔محافظوں کو معلوم تھا کہ کس طرح بکھر کر گھیرا ڈالا جاتا ہے،وہ آدمی خود ہی رک گئے۔سالار عاصم ان تک پہنچے۔
’’میں دومۃ الجندل کا حاکم اُکیدر بن عبدالملک ہوں۔‘‘ان میں سے ایک نے کہا۔’’اپنے اور اپنے آدمیوں کے ہتھیار میرے آدمیوں کے حوالے کردو۔‘‘عاصم نے کہا۔’’مجھے خالد کے پاس لے چلو۔‘‘اُکیدر نے اپنی تلوار ایک محافظ کے حوالے کرتے ہوئے کہا۔’’میں نہیں لڑوں گا۔خالدکے ساتھ صلح کی بات کروں گا۔‘‘’’میں تمہیں معاف نہیں کرسکتا ابنِ عبدالملک!‘‘خالد­ؓ نے اپنے خیمے میں اس کی بات کو سن کر کہا۔’’تو میرا مجرم نہیں میرے رسولﷺ کا مجرم ہے۔تو نے اﷲکے رسول ﷺسے بد عہدی کی تھی۔تو نے اسلام قبول کیا پھر ارتداد کے سرداروں کے ساتھ جا ملا۔‘‘اُکیدر نے اپنی صفائی میں بہت کچھ کہا۔بہت کچھ پیش کیا۔عیسائی قبیلوں سے لا تعلق ہو جانے کا عہد کیا۔’’اگر یہ لڑائی میری اور تیری ہوتی،یہ دشمنی میری اور تیری ہوتی،توتجھے بخش دینے سے کوئی نہ روک سکتا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’مگر تو میرے رسولﷺ کا ،میرے مذہب کا دشمن تھا۔خدا کی قسم!میں تجھے بخش نہیں سکتا۔تجھے زندہ رہنے کا کوئی حق نہیں دے سکتا۔‘‘خالدؓ نے حکم دیا۔’’لے جاؤ اسے،کل کا سورج اسے زندہ نہ دیکھے۔‘‘رات کو ہی اُکیدر بن عبدالملک کا سر قلم کر دیا گیا۔صبح طلوع ہوتے ہی خالدؓ نے عیاضؓ بن غنم کو بلایااور اسے بتایا کہ اب وہ اپنی سپاہ کا خود مختار سالار نہیں،اس حکم کے ساتھ ہی خالدؓ نے عیاضؓ کی سپاہ اپنی کمان میں لے لی۔’’اب لڑائی قلعے کے باہر ہوگی۔‘‘خالدؓنے اپنے سالاروں سے کہا۔’’اتنے مضبوط قلعے پر وقت اور طاقت خرچ کرنا محض بیکار ہوگا۔پہلے اس دشمن کو ختم کرنا ہے جو قلعے کے باہر ہے۔‘‘خالدؓنے اپنی تمام سپاہ کو ترتیب میں کیا۔عیاض کی سپاہ میں جو مجاہدین نوجوان اور جوان تھے، انہیں الگ کرکے اس طرف بھیج دیاجدھر ایک راستہ عرب کی سمت جاتا تھا۔خالدؓ نے ان جوانوں سے کہا کہ دشمن اِدھر سے بھاگنے کی کوشش کرے گا ،اُسے زندہ نہ نکلنے دیا جائے۔خالدؓ نے کچھ دستے اپنی زیرِ کمان لے کر ایک عیسائی سردار جودی بن ربیعہ کے مقابل رکھے اور عیاضؓ کو کچھ دستے دے کر دشمن کے دو سرداروں ابنِ حدر جان اور الایہم کے دستوں کے سامنے کھڑا کر دیا۔اپنے دونوں سالاروں عاصم بن عمرو اور عدی بن حاتم کو حسبِ معمول پہلوؤں پررکھا۔
عیسائی اور بت پرست سالار قلعے کے اندر سے بھی فوج کی خاصی نفری باہر لے آئے۔اس طرح ان کی تعداد مسلمانوں کی نسبت کئی گنا زیادہ ہو گئی۔خالدؓنے ایک ایسی چال چلی جس سے دشمن پریشان ہو گیا۔چال یہ چلی کہ ذرا بھی حرکت نہ کی۔دشمن اس انتظار میں تھا کہ مسلمان حملے میں پہل کریں گے لیکن مسلمان تو جیسے بت بن گئے تھے۔عیسائی سردار لڑائی کیلئے بے تاب ہو رہے تھے۔جب بہت سا وقت گزر گیا اور مسلمانوں نے دشمن کی للکار کا بھی کوئی جواب نہ دیا تو دشمن نے عیاضؓ کے دستوں پر ہلّہ بول دیا،اس کے ساتھ ہی جودی نے خالدؓ کے دستوں پر حملہ کردیا۔خالدؓنے اپنے سالاروں کو جو ہدایات دے رکھی تھیں ان کے مطابق مجاہدین کے دستوں میں دشمن کو اپنی طرف آتا دیکھ کر بھی کوئی حرکت نہ ہوئی۔دشمن اور زیادہ جوش میں آگیا۔جب دشمن کے سپاہی مسلمانوں کی صفوں میں آئے تو مسلمانوں نے انہیں رستہ دے دیا۔یہ ایسے ہی تھا جیسے گھونسا کسی کو مارو اور وہ آگے سے ہٹ جائے۔فوراً ہی عیسائیوں اور بت پرستوں کو احساس ہو گیا کہ وہ تو مسلمانوں کے پھندے میں آگئے ہیں۔خالدؓ نے اپنے محافظوں کے ساتھ عیسائیوں اور بت پرستوں کے سب سے بڑے سالار جودی بن ربیعہ کو گھیرے میں لے لیا۔اس کے خاندان کے چند ایک جوان اس کے ساتھ تھے۔وہ تو کٹ گئے اور جودی کو زندہ پکڑ لیا گیا۔خالدؓنے اپنے لشکر کو ایسی ترتیب میں رکھاتھا جو دشمن کیلئے پھندہ تھا۔دشمن کے سپاہی جدھر کو بھاگتے تھے ادھر مسلمانوں کی تلواریں اور برچھیاں ان کا راستہ روکتی تھیں ۔آخر وہ قلعے کی طرف بھاگے مگر دروازہ بند تھا۔مسلمان اوپر آگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے دروازے کے سامنے عیسائیوں اور بت پرستوں کی لاشوں کا انبار لگ گیا۔ایک دروازہ اور بھی تھا۔اپنے آدمیوں کو پناہ میں لینے کیلئے قلعے والوں نے دروازہ کھول دیا۔عیسائی اور بت پرست بھاگ کر دروازے میں داخل ہونے لگے لیکن مسلمان تو جیسے ان کے ساتھ چپکے ہوئے تھے۔اس طرح صورت یہ پیدا ہو گئی تھی کہ دشمن کا ایک آدمی اندر جاتا تو دو مسلمان اس کے اندر چلے جاتے تھے۔عیسائیوں اور بت پرستوں کا شیرازہ بکھر چکا تھا۔مسلمان قلعے میں داخل ہو گئے تھے۔اب جو کچھ ہو رہا تھاوہ لڑائی نہیں تھی۔وہ عیسائیوں اور بت پرستوں کا قتلِ عام تھا۔خالدؓچاہتے تھے کہ قتلِ عام کا یہ سلسلہ جاری رہے۔یہ اگست ۶۳۳ء کے آخری (جمادی الآخر ۱۲ھجری کے وسط کے)دن تھے۔خالدؓ نے جودی بن ربیعہ اور اس کے تمام ساتھی سالاروں اور سرداروں کو سزائے موت دے دی تھی۔دومۃ الجندل مسلمانوں کے زیرِ نگیں آگیا۔
اسلام دشمن طاقتیں ختم ہونے میں نہیں آتی تھیں۔ایران کے آتش پرستوں کو جس طرح اسلام کے علمبرداروں نے شکست پہ شکست دی اور جتنا جانی نقصان انہیں پہنچایا تھا،اتنا کوئی قوم برداشت نہیں کر سکتی تھی۔لیکن وہاں صرف آتش پرست نہیں تھے۔تمام غیر مسلم قبیلے جن میں اکثریت عربی عیسائیوں کی تھی،ان کے ساتھ تھے۔آتش پرستوں نے اب ان قبیلوں کو آگے کرنا شروع کر دیا تھا۔جیسا مہراں بن بہرام نے عین التمر میں کیا تھا۔آتش پرستوں کے سالار میدانِ جنگ سے بھاگ بھاگ کر مدائن میں اکھٹے ہوتے جا رہے تھے۔ان کے نامور سالار بہمن جاذویہ نے جب مہراں بن بہرام کو اپنی فوج کے ساتھ واپس آتے دیکھا تو اسے اتنا صدمہ ہوا تھا کہ اس پر خاموشی طاری ہو گئی تھی۔’’مت گھبرا بہمن!‘‘مہراں نے اسے کہا تھا۔’’دل چھوٹا نہ کر۔آخر فتح ہماری ہو گی۔میں شکست کھا کر نہیں آیا۔شکست بدوی قبیلوں کو
ہوئی ہے۔‘‘’’اور تو لڑے بغیر واپس آگیا ہے؟‘‘سالار بہمن جاذویہ نے کہا تھا۔’’تو اتنا بڑا شہر اپنے دشمن کی جھولی میں ڈال آیا ہے تو خوش قسمت ہے کہ تجھے یہاں سزا دینے والا کوئی نہیں۔سزا دینے والے آپس میں لڑ رہے ہیں۔وہ جانشینی پر ایک دوسرے کے خون بہا رہے ہیں۔‘‘
’’بہمن!‘‘مہراں نے طنزیہ لہجے میں کہا۔’’کیا تومجھے سرزنش کر رہا ہے؟کیا تو مسلمانوں سے شکست کھانے والوں میں سے نہیں؟اگر تو میدان میں جم جاتا تو آج مدینہ والے یوں ہمارے سر پر نہ آبیٹھتے۔شکستوں کی ابتداء تجھ سے ہوئی ہے۔میری تعریف کر کے میں اپنے لشکر کو بچا کر لے آیا ہوں۔میں اسی لشکر سے مسلمانوں کو شکست دوں گا۔مدائن میں اس وقت جو لشکر جمع ہو چکا ہے اسے ہم ایک فیصلہ کن جنگ کیلئے تیار کریں گے۔‘‘اس وقت مدائن میں فارس کے جتنے بھی نامور سالار تھے وہ سب خالدؓ سے شکست کھا کر آئے تھے۔انہوں نے اسے ذاتی مسئلہ بنالیا تھا،ورنہ وہاں حکم دینے والا کوئی نہ تھا،حکم دینے والے شاہی خاندان کے افراد تھے جو تخت کی وراثت کیلئے جوڑ توڑ میں لگے ہوئے تھے ۔وہ سالاروں کو بھی اپنی سازشوں میں استعمال کرنا چاہتے تھے لیکن سالار فارس کی شہنشاہی کے تحفظ کو اپنا فرض سمجھتے تھے۔یہ چند ایک سالار ہی تھے جنہوں نے مدائن کا بھرم رکھا ہوا تھا ورنہ کسریٰ کی بنیادیں ہِل چکی تھیں اور یہ عمارت زمین بوس ہوا ہی چاہتی تھی۔اس وقت خالدؓ مدائن سے کم و بیش چار سو میل دور دومۃ الجندل میں تھے۔آتش پرستوں اور عیسائیوں کو ابھی معلوم نہ تھا۔وہ سمجھتے تھے کہ خالدؓعین التمر میں ہیں۔خالدؓ کو دراصل حیرہ واپس آنا تھا۔ایک تو وہ مفتوحہ علاقوں کے انتظامات وغیرہ کو بہتر بنانا چاہتے تھے،دوسرے یہ کہ فوج کو کچھ آرام دینا تھااور تیسرا کام یہ تھا کہ فوج کو از سر نو نظم کرنا تھا۔ایک تو یہ مجاہدین تھے جو میدانِ جنگ میں دشمن کے آمنے سامنے آکر لڑتے تھے، دوسرے مجاہدین وہ تھے جو دشمن کے مختلف شہروں میں بہروپ دھار کر خفیہ سرگرمیوں میں مصروف تھے۔وہ جاسوس تھے۔وہ ہر لمحہ جان کے خطرے میں رہتے تھے۔وہ دشمن کی نقل و حرکت اور عزائم معلوم کرتے اور پیچھے اطلاع بھجواتے یا خود اطلاع لے کر آتے تھے۔تاریخ میں ان میں سے کسی کا بھی نام نہیں آیا۔(دوچار سے دنیا واقف ہے گمنام نہ جانیے کتنے ہیں)
ان میں بعض پکڑ لیے گئے اور دشمن کے جلادوں کے حوالے ہوئے۔ان جاسوسوں کی بروقت اطلاعوں پر خالدؓ کئی بار دشمن کے اچانک حملے اور شکست سے بچے۔خالدؓ جب دومۃ الجندل میں تھے تو مفتوحہ علاقوں کیلئے ایک خطرناک صورتِ حال پیدا ہوگئی۔مدائن پر کسریٰ کی شکست اور زوال کی سیاہ کالی گھٹائیں چھائی ہوئی تھیں۔لوگوں پر خوف و ہراس طاری تھا۔کسریٰ کی اس تلوار پر زنگ لگ چکا تھا جس کا خوف بڑی دور تک پہنچا ہوا تھا مگر دو چار سالار تھے جو اس ڈوبتی کشتی کو طوفان سے نکال لے جانے کی کوششوں میں مصروف تھے۔
ان حالات میں ایک گھوڑا مدائن میں داخل ہوا اور بہمن جاذویہ تک پہنچا۔’’اب اور کیا بُری خبر رہ گئی تھی جو تو لایا ہے؟‘‘بہمن نے پوچھا۔’’کہاں سے آیا ہے تو؟کیا مسلمانوں کا لشکر مدائن کی طرف آرہا ہے؟‘‘’’نہیں۔‘‘اس آدمی نے کہا۔’’مسلمانوں کا لشکر چلا گیا ہے۔‘‘
’’چلا گیا ہے؟‘‘بہمن جاذویہ نے طنزیہ لہجے میں پوچھا۔’’تو ان لشکریوں میں سے معلوم ہوتا ہے جنہیں مسلمانوں کی دہشت نے پاگل پن تک پہنچا دیا ہے۔کیا تو نہیں جانتا تیرے جرم کی سزا موت ہے؟‘‘یہ آدمی گھوڑے سے اتر چکا تھا۔اس کی اطلاع پر بہمن جاذویہ باہر آگیاتھا۔اس نے اس آدمی کو اندر لے جا کر عزت سے بٹھانے کے قابل نہیں سمجھا تھا۔سزائے موت کانام سنتے ہی اس آدمی نے گھوڑے کی باگ چھوڑدی اور تیزی سے آگے ہوکر سالار بہمن جاذویہ کے قدموں میں بیٹھ گیا۔’’میں عین التمر سے آیا ہوں۔‘‘اس نے گھبرائی ہوئی ملتجی آواز میں کہا۔’’بے شک میں شکست کھانے والوں میں سے ہوں۔لیکن ان میں سے بھی ہوں جو شکست کو فتح میں بدلنا چاہتے ہیں۔پہلے وہ بات سن لیں جو میں بتانے آیا ہوں پھر میرا سر کاٹ دینا لیکن میری بات کو ٹالو گے تو یہ نہ بھولنا کہ تم میں سے کسی کا بھی سر مسلمانوں کے ہاتھوں سلامت نہیں رہے گا۔‘‘’’بول،جلدیبول!‘‘ بہمن نے کہا۔’’کیا بات ہے جو مجھے اتنی دور سے سنانے آیا ہے؟‘‘بہمن جاذویہ کی ایک بیٹی جو جوان تھی ،ایک آدمی کو اپنے باپ کے قدموں میں بیٹھا دیکھ کر قریب آگئی۔وہ دیکھ رہی تھی کہ جب سے اس کا باپ شکست کھا کر آیا ہے وہ غصے سے بھرا رہتا ہے اور سزائے موت کے سوا اور کوئی بات نہیں کرتا۔لڑکی تماشہ دیکھنے آئی تھی کہ اس کا باپ آج ایک اور سپاہی کو جلاد کے حوالے کرے گا۔’’خالدعراق سے چلا گیا ہے۔‘‘عین التمر سے آئے ہوئے آدمی نے کہا۔’’میں خود نہیں آیا۔ مجھے شمشیر بن قیس نے بھیجاہے۔آپ اسے جانتے ہوں گے۔مسلمانوں کے سالار خالدنے عین التمر پر قبضہ کرکے وہیں کے سرکردہ افراد کو عمال مقرر کر دیا ہے۔اس کا اور باقی سب حملہ آور مسلمانوں کا سلوک مقامی لوگوں کے ساتھ اتنا اچھا ہے کہ سب ان کے وفادار ہو گئے ہیں۔لیکن کچھ لوگ ایسے ہیں جو اس موقع کی تلاش میں ہیں کہ مسلمانوں کو نقصان پہنچائیں۔میں خود دیکھ رہا تھا کہ مسلمانوں کی فوج اچانک عین التمر سے نکل گئی۔‘‘’’زرتشت کی قسم!‘‘بہمن جاذویہ نے کہا۔’’خالدان شکاریوں میں سے نہیں جو پنجوں میں آئے ہوئے شکار کو چھوڑ کر بھاگ جاتے ہیں……کیا اس کی ساری فوج ہمارے علاقے سے نکل گئی ہے؟‘
end of qist- 85          
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers