سابقہ سیریز میں کھانے کے ہضم ھونے کے وقت پر بات کی گئی تھی ۔۔۔
جس میں بتایا گیا تھا کہ غذاء کے ہضم ھونے میں کم از کم گیارہ گھنٹے سے لیکر پندرہ سے سولہ گھنٹے درکار ھوتے ہیں.
اب موجودہ سیریز میں اس دوران کی جانے والی بے صبری سے متعلق بات کی جائے گی اور انسانی جسم میں بیماریوں کے پیدا ھونے اسباب کا پس منظر دکھانے کی کوشش کی جائے گی ۔۔۔۔۔    تفصیل سے پڑھئے

  غذاء کا درمیانی وقفہ ۔۔۔۔۔۔۔
ظاہر تو معلوم ھوتا ھے کہ جب تک ایک وقت کی کھائی ھوئی غذاء خون بن کر جزو بدن نہ ھو اس وقت تک دوسری غذاء نہیں کھانی چاہیئے- کیوں کہ غذاء ہضم ھو رہی ھے اس کی طرف پورے جسم و روح اور خون و رطوبت کی توجہ ھے – جب بھی اس ہضم کے دوران میں غذاء کھائی جائے گی توجوتوجہ اول غذا کی طرف ہے وہ یقینا نئی غذا کی طرف لگ جائے گی ، اس طرح اول غذا پوری طرح ہضم ھونے سے رہ جائے گی ، اور جہاں پر رہ گئی ھے وہاں پڑی رہنے سے متعفن ھو جائے گی اور یہ تعفن باعث امراض ھو گا اور یقینا طاقت دینے کی بجائے ضعف پیدا کرے گی-
اگرطبیعت دوسری غذا کی طرف متوجہ نہیں ھو گی تو یقینا وہ بغیر ہضم ھوئے پڑی رہے گی اور متعفن ھو جائے گی –
اب اصولا اور فطرتا پندرہ سولہ گھنٹے اس پر عمل کرنا انتہائی مشکل کام ھے ، اس لیئے اطباء اور حکماء نے اس وقت کو زیادہ اہمیئت دی ھے جس وقت ہضم میں تیزی اور طبیعت کی توجہ زیادہ ھو یہ صورت اس وقت تک قائم رہتی ھے جب تک غذا چھوٹی آنتوں سے بڑی آنتوں میں اتر جائے ،
اس عرصہ میں تقریبا پانچ ساتھ گھنٹے لگ جاتے ہیں –دوسرے معنوں میں اس طرح سمجھ لیں کہ جب تک غذا کے ہضم میں خون کی مختلف رطوبات شامل ھوتی رہتی ہیں اس وقت تک دوسری غذا نہیں کھانی چاہیئے۔ کیوں کہ اس طرح وہ رطوبات جو ہضم میں شامل ھوتی ہیں وہ رک جاتی ہیں اور اس طرح وہ خراب اور نامکمل رہ جاتی ھے،
گویا چھ سات گھنٹے وقفہ ہر غذا کے درمیان لازمی اور یقینی ھے امر ھے ورنہ صحت قائم رہنا نا ممکن ھے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

اس پوسٹ اور سابقہ سیریز میں آپ کو سارا سال کھانے میں خود احتسابی کے لیئے اہم معلومات کے ساتھ اختیار دیا گیا ھے کہ آپ رمضان کے آنے سے پہلے کیا کرتے رہے ۔۔۔ اور ماہ رمضان ھمارے لیئے کیسے رحمت بن کر آیا ،بارے سوچ سکیں ۔۔ اور خود فیصلہ کر سکیں ۔۔۔ جو معلومات آپ کو فراہم کی گئی یہ آپ کے ڈائیجیسٹو سسٹم کا تفصیلی پوسٹ مارٹم ھے ۔
کہ آپ کو اندرونی معاملات کا علم ھو اور آپ اس ماہ مبارک کی رحمت پہ غور کر سکیں ۔

اب آگے انشاءاللہ روزوں کی فرضیئت کے حوالے سے بات کی جائے گی ۔۔۔۔۔۔۔ شکریہ ۔-۔-۔-۔- مینٹل کر کے جیو
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers