مالک بن نویرہ پر خوف طاری ہوتا چلا گیا۔اسے خبریں مل رہی تھیں کہ خالدؓ کا لشکر قریب آ رہا ہے ۔اس نے اپنے قبیلے کو اکھٹا کیا۔’’اے بنو یربوع!‘‘اس نے قبیلے سے کہا۔’’ہم سے غلطی ہوئی کہ ہم نے مدینہ کی حکمرانی کو تسلیم کیا اور ان سے منحرف ہو گئے۔انہوں نے ہمیں اپنا مذہب دیا جو ہم نے قبو ل کیا پھر نا فرمان ہو گئے۔وہ آ رہے ہیں۔سب اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔اور دروازے بند کرلو۔یہ نشانی ہے کہ تم ان کے خلاف ہتھیار نہیں اٹھاؤ گے۔ان کے بلانے پر ان کے سامنے نہتے جاؤ۔کچھ فائدہ نہ ہوگا مقابلے میں……جاؤ،اپنے گھروں کو چلے جاؤ۔‘‘لوگ سر جھکائے ہوئے اپنے گھروں کو چلے گئے۔نومبر ۶۳۲ء(شعبان ۱۱ہجری)کے پہلے ہفتے میں خالدؓ بطاح پہنچ گئے۔ تفصیل سے پڑھئے
انہوں نے اپنے لشکر کو محاصرے کی ترتیب میں کیا۔مگر ایسے لگتا تھا جیسے بطاح اجڑ گیا ہو۔شہر کا دفاع کرنے والے تو نظر ہی نہیں آتے تھے۔کوئی دوسرا بھی دکھائی نہ دیا۔کسی مکان کی چھت پر ایک بھی سر نظر نہیں آتا تھا۔’’کیا مالک بن نویرہ اپنے آپ کو اتنا چالاک سمجھتا ہے کہ مجھے گھیرے میں لے لے گا؟‘‘خالدؓ نے اپنے نائب سالاروں سے کہا۔’’محاصرے کی ترتیب بدل دواور اپنے عقب کا خیال رکھو۔میں اس بستی کو آگ لگادوں گا۔وہ یہاں سے نکل گئے ہیں ۔عقب سے حملہ کریں گے۔‘‘خالدؓ بن ولید زندہ دل،بے خوف اور مہم جو تھے۔ان کے احکام بہت سخت ہوا کرتے تھے۔انہوں نے اپنے دستوں کو اس ترتیب میں کر دیاکہ عقب سے حملہ ہو تو روک لیں اور اگر اس کے ساتھ ہی شہر سے بھی حملہ ہو جائے تو دونوں طرف لڑا جائے۔مسلمانوں کو اس دشواری کا سامنا تھا کہ ان کی نفری تھوڑی تھی اور وہ اپنے مستقر(مدینہ)سے بہت دور تھے۔انہوں نے جن قبیلوں کو مطیع کیا تھا ،ان کی بستیوں کو اڈے بنا لیا تھا لیکن ابھی وہاں کے لوگوں پر پوری طرح سے بھروسہ نہیں کیا جا سکتا تھا۔یہ خالدؓ کی پرجوش اور ماہرانہ قیادت تھی جو مجاہدین کی قلیل تعداد میں بجلیوں جیسا قہر پیدا کئے رکھتی تھی۔خالدؓ نے بستی میں ایک دستہ داخل کیا تو اس پر ایک بھی تیر نہ آیا۔ہر مکان کا دروازہ بند تھا۔خالدؓ نے یہ خاموشی دیکھی تو وہ خود بستی میں داخل ہوئے۔’’مالک بن نویرہ!‘‘خالدؓ نے کئی بار مالک کوپکارا اورکہا۔’’باہر آ جاؤ۔نہیں آؤ گے تو ہم بستی کو آگ لگا دیں گے۔‘‘’’تجھ پر خدا کی سلامتی ہو۔‘‘ایک چھت سے ایک آدمی کی آواز آئی۔’’مت جلا ہمارے گھروں کو ۔وہ جسے تو بلا رہا ہے،یہاں نہیں ہے ۔یہاں کوئی نہیں لڑے گا۔‘‘’’الولید کے بیٹے!‘‘ایک اور چھت سے آواز آئی۔’’کیا تو نہیں دیکھ رہا کہ ہم اپنے مکانوں کے بند دروازوں کے پیچھے بیٹھے ہیں۔کیا مدینہ میں یہ رواج نہیں کہ بند دروازہ ایک اشارہ ہے کہ آجاؤ،ہم تمہارے خلاف ہتھیار نہیں اٹھائیں گے۔‘‘’’بے شک میں یہ اشارہ سمجھتا ہوں!‘‘خالد نے کہا۔’’مکانوں کے دروازے کھول دو اور باہر آجاؤ۔عورتوں اور بچوں پر جبر نہیں۔ان کی مرضی ہے،باہر آئیں یا نہ آئیں۔‘‘لوگوں کو رسم و رواج معلوم تھا۔وہ ہتھیاروں کے بغیر باہر آ گئے۔عورتیں اور بچے بھی نکل آئے۔خالدؓ نے اپنے دستوں کو حکم دیا کہ ہر گھر کے اندر جا کر دیکھیں۔کوئی آدمی اندر نہ رہے۔خالدؓ نے خاص طور پر حکم دیاکہ کسی گھر میں کسی چیز کو ہاتھ نہ لگایا جائے نہ کسی پر ہلکا سا بھی تشدد کیا جائے۔ مالک بن نویرہ کے قلعہ نمامکان میں خالد ؓخود گئے۔وہاں سامان پڑا تھا۔ایسے لگتا تھا جیسے یہاں کے رہنے والے کچھ ہی دیر پہلے یہاں سے نکلے ہوں۔بستی سے خالد ؓکو اتنا ہی پتا چلا کہ مالک بن نویرہ اپنے قبیلے کو یہ کہہ کر کہ وہ مسلمانوں کے خلاف ہتھیار نہ اٹھائیں۔لیلیٰ کو ساتھ لے کربستی سے نکل گیا تھا۔جنہوں نے اسے جاتے دیکھا تھا،انہوں نے سمت بتائی جدھر وہ گیا تھا۔مالک گھوڑے پر اور لیلیٰ اونٹ پر سوار تھی۔خالدؓ نے اردگرد کی بستیوں کو اپنے آدمی بھیج دیئے اور کچھ آدمی اس سمت روانہ کیے جدھر بتایا گیا تھا کہ مالک گیاہے۔وہ صحرا تھا اونٹ اور گھوڑے کے قدموں کے نشان بڑے صاف تھے۔یہ خالدؓکے آدمیوں کو ایک بستی میں لے گئے۔یہ بنو تمیم کی ایک بستی تھی۔’’اے بنو تمیم!‘‘خالدؓ کے آدمیوں میں سے ایک نے بلند آواز سے کہا۔’’مالک بن نویرہ کو اور بطاح کاکوئی اور آدمی جو یہاں چھپا ہوا ہو،اسے ہمارے حوالے کر دیں۔اگر وہ ہماری تلاشی پرملے تو اس بستی کو آگ لگا دی جائے گی۔‘‘ذرا ہی دیر بعد مالک بن نویرہ لیلیٰ کے ساتھ باہر آیااور اپنے آپ کو خالدؓ بن ولید کے آدمیوں کے حوالے کر دیا۔بنو یربوع کے چند اور سرکردہ افراد بھی جو یہاں آکر چھپ گئے تھے۔باہر آگئے۔ان سب کومالک بن نویرہ کے ساتھ بطاح لے آئے۔لیلیٰ بھی ساتھ تھی۔’’مالک بن نویرہ!‘‘خالدؓ نے مالک کو اپنے سامنے بلا کر پوچھا۔’’کیایہ غلط ہے کہ تم نے زکوٰۃ اورمحصول مدینہ کو بھیجنے کے بجائے لوگوں کو واپس کر دیئے تھے؟‘‘’’میں اپنے قبیلے کو یہ کہہ کر نکلا تھا کہ مسلمانوں کا مقابلہ نہ کرنا۔‘‘مالک بن نویرہ نے جواب دیا۔’’اور میں نے انہیں یہ بھی کہا تھا کہ مسلمان ہو جاؤ اور زکوٰ ۃ ادا کرو۔‘‘’’اور تم خود اس لئے روپوش ہو گئے تھے کہ تم اسلام سے منحرف ہو گئے تھے؟‘‘خالد نے کہا۔’’اور تم منحرف ہی رہنا چاہتے ہو……تم نے اپنے شعروں میں لوگوں سے کہا تھا کہ وہ زکوٰۃ اور محصول ادا نہ کریں اور تم نے انہیں کہا تھا کہ اسلامی حکومت کے احکام کی تم خلاف ورزی کرو گے جو تم نے کی۔‘‘’’ہاں ولید کے بیٹے!‘‘مالک نے کہا۔’’میں نے خلاف ورزی کی لیکن میں اپنے قبیلے سے کہہ رہا ہوں کہ اب وہ خلاف ورزی نہ کریں۔‘‘’’اور تم نے سجاع کی جھوٹی نبوت کو تسلیم کیا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اور اس کے ساتھ مل کر لوگوں کو قتل کیا اور انہیں لوٹااور تم نے ان لوگوں کا قتل عام کیا جن لوگوں نے اسلام قبول کر لیاتھا۔‘‘مالک نے سر ہلاکر اس جرم کااقرار کیا۔’’کیا تو مجھے بتا سکتا ہے کہ میں تجھے قتل کیوں نہ کروں؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں جانتا ہوں کہ تمہارے خلیفہ نے تمہیں میرے قتل کا حکم نہیں دیا۔‘‘مالک بن نویرہ نے کہا۔’’خداکی قسم!‘‘خالد ؓنے کہا۔’’میں تجھے زندہ رہنے کا حق نہیں دے سکتا۔‘‘ خالدؓ نے وہ اجڑی ہوئی بستیاں دیکھی تھیں،جو مالک بن نویرہ اور سجاع نے اجاڑی تھیں۔خالد ؓنے مالک بن نویرہ کی بستی بطاح پر بلاوجہ چڑھائی نہیں کی تھی۔انہیں تمام رپورٹیں ملتی رہی تھیں کہ اس شخص نے اس علاقے میں مسلمانوں کو کس طرح تباہ و برباد کیاتھا۔’’لے جاؤ اسے اور اس کے ساتھیوں کو جو اس کے ساتھ روپوش تھے اور انہیں قتل کردو۔‘‘خالدؓ بن ولید نے حکم دیا۔انہیں جب لے گئے تو خالد ؓبن ولید کو اطلاع دی گئی کہ ایک بڑی ہی حسین عورت جس کا نام لیلیٰ ہے اور جو مالک بن نویرہ کی بیوی ہے۔اپنے خاوند کی زندگی کی التجا لے کر آئی ہے۔خالد ؓنے کہا کہ اسے آنے دو۔خالد ؓایک سردار کے فرزند تھے۔انہوں نے امیر گھرانے میں پرورش پائی تھی۔اس لئے ان کے دل و دماغ میں وسعت تھی۔وہ خوش ذوق،خوش طبع اور زندہ مزاج تھے۔لیلیٰ جب ان کے سامنے آئی تو خالد ؓنے پوچھا’’کیا تواپنے خاوند کو موت سے بچانے آئی ہے؟‘‘’’اس کے سوا میرا اور مقصد ہو ہی کیا سکتا ہے؟‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’اگر تو اس وقت اسے ان جرائم سے روک دیتی جب وہ سمجھتا تھاکہ ہر بستی پر اس کی حکمرانی ہے تو آج تو بیوہ نہ ہوتی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا اس نے تجھے بتایانہیں تھا کہ اس کی تلوار نے کتنی عورتوں کو بیوہ کیا ہے؟اسے معلوم نہیں تھا کہ اس کی زندگی میں ایک دن انصاف کا بھی آئے گا۔‘‘’’میں اس کا ہاتھ نہیں روک سکی۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’اور تومیرا ہاتھ بھی نہیں روک سکتی۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہ میرا نہیں میرے اﷲ کا حکم ہے۔‘‘خالدؓ نے لیلیٰ کی التجا قبول نہ کی ۔لیلیٰ ابھی خالدؓ کے پاس ہی تھی کہ اطلاع آئی کہ مالک بن نویرہ اور اس کے ساتھیوں کو قتل کر دیا گیا ہے۔پھر ایک ایساواقعہ ہو گیا جس نے خالدؓ کے دستوں میں اور مدینہ میں ہلچل مچا دی۔ہوایوں کہ بطاح میں ہی خالد ؓنے لیلیٰ کے ساتھ شادی کرلی۔انصارِمدین­ہ اس شادی پر بہت برہم ہوئے۔ابو قتادہ انصاریؓ نے قسم کھائی کہ وہ آئندہ خالد ؓکی قیادت میں کبھی کسی لڑائی میں شریک نہیں ہوں گے۔اعتراض کرنے والے یہ کہتے تھے کہ خالدؓ نے لیلیٰ کی خوبصورتی سے متاثر ہوکر اس کے خاوند مالک بن نویرہ کو قتل کیا ہے کہ لیلیٰ کے ساتھ خود شادی کرلیں۔ لیکن خالد ؓوہ شخصیت تھی جس نے بسترِ مرگ پر کہا تھا کہ’’ میرے جسم پر کوئی جگہ ایسی ہے جس پر جہاد کا زخم نہ آیا ہو؟‘‘ان کاکردار اتنا کمزور نہیں ہو سکتا تھا کہ وہ ایک عورت کی خاطر اپنے رتبے کا ناجائز فائدہ اٹھاتے۔خالدؓ کے حق میں بات کرنے والوں نے کہا ہے کہ خالدؓ نے مالک بن نویرہ اور اسکے ساتھیوں کو قید میں ڈال دیا تھااور انہیں مدینہ بھیجنا تھا۔رات بہت سرد تھی۔خالدؓ کو خیال آیا کہ قیدی سردی سے ٹھٹھر رہے ہوں گے۔انہوں نے حکم دیا۔’’دافؤ اسراکم۔‘‘اس کا ترجمہ ہے۔’’قیدیوں کو گرمی پہنچاؤ۔‘‘کنانہ کی زبان میں مدافاۃ کا لفظ قتل کے معنوں میں استعمال ہوتا ہے ۔بدقسمتی سے یہ قیدی جن آدمیوں کے پہرے میں تھے وہ کنانہ کے رہنے والے تھے۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ مالک بن نویرہ اور اس کے ساتھیوں کے جرائم کتنے سنگین ہیں۔چنانچہ انہوں نے ’’گرمی پہنچاؤ‘‘کو قتل کے معنوں میں لیا اور مالک اور ا سکے ساتھیوں کو قتل کر دیا۔خالدؓ کو پتا چلا تو انہوں نے کہا۔’’اﷲ جو کام کرنا چاہتا ہے وہ ہو کے رہتا ہے۔‘‘ان دو کے علاوہ اور بھی روایات مختلف تاریخوں میں آئی ہیں۔جو ایک دوسرے کی تردید کرتی ہیں۔ان میں بعض خالد ؓکے حق میں جاتی ہیں بعض خلاف۔ مخالفانہ روایات کے مصنفوں کے مذہبی فرقوں کو دیکھو تو صاف پتا چلتا ہے کہ ان کے ایک ایک لفظ میں تعصب بھرا ہوا ہے اور وہ خالدؓ بن ولید کو رُسوا کر رہے ہیں۔تاریخ میں متضاد کہانیاں ملتی ہیں لیکن کسی بھی مؤرخ نے یہ نہیں لکھا ہے کہ اس شادی پر لیلیٰ کا کیا ردِ عمل تھا۔کیا لیلیٰ نے خالدؓ کو مجبور ہو کر قبول کیا تھا؟یا وہ خوش تھی کہ ایک عظیم سپہ سالارکی بیوی بن گئی ہے جس کی فتوحات کے چرچے سرزمینِ عرب کے گوشے گوشے تک پہنچ گئے ہیں۔اس وقت کے جنگی رواج کے مطابق لیلیٰ مالِ غنیمت تھی۔خالد ؓاسے لونڈی بنا کر اپنے پاس رکھ سکتے تھے ۔تاریخ میں ایک ایسا اشارہ ملتا ہے جو خالدؓ کے حق میں جاتاہے۔وہ یوں ہے کہ خالدؓ نے اسے کسی کی یا اپنی لونڈی بننے سے بچا لیا تھا ۔وہ اتنی حسین تھی کہ شہزادی لگتی تھی۔خالد ؓجانتے تھے کہ لونڈیوں کی زندگی کیا ہوتی ہے؟خالدؓ نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ لیلیٰ جتنی خوبصورت ہے اتنی ہی ذہین اور دانا ہے۔انہوں نے اس عورت کی صلاحیتوں کو تباہی سے بچا لیا تھا۔ یہ خبر مدینہ بھی پہنچ گئی کہ خالدؓ نے مالک بن نویرہ کو قتل کرکے اس کی بیوی کے ساتھ شادی کرلی ہے ۔خبر پہنچی بھی سیدھی خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ کے پاس،اور خبر پہنچانے والے ابو قتادہ انصاریؓ تھے۔جو اس شادی پر ناراض ہوکر مدینہ چلے گئے تھے۔ابو بکرؓ نے اس خبر کو زیادہ اہمیت نہ دی ۔انہوں نے کہا کہ خالدؓ کو رسول اﷲﷺ نے سیف اﷲ کا خطاب دیا تھا ۔ان کے خلاف وہ کوئی کارروائی نہیں کریں گے۔خالد ؓنے کسی زندہ آدمی کی بیوی کو ورغلا کر اپنی بیوی نہیں بنایا۔ابو قتادہ انصاریؓ ،خلیفۃ المسلمینؓ کے جواب سے مطمئن نہ ہوئے۔وہ عمرؓ کے پاس چلے گئے اور انہیں ایسے انداز سے لیلیٰ کی خالد ؓکے ساتھ شادی کی خبر سنائی جیسے خالدؓ عیاش انسان ہوں اور ان کی عیش پرستی ان کے فرائض پر اثر انداز ہو رہی ہو۔عمرؓ غصے میں آگئے اور ابو قتادہؓ کو ساتھ لے کر ابو بکرؓ کے پاس گئے۔’’خلیفۃ المسلمین!‘‘عمرؓنے ابو بکرؓ سے کہا۔’’خالد کا جرم معمولی نہیں۔وہ کیسے ثابت کرسکتا ہے کہ بنو یربوع کے سردار مالک بن نویرہ کا قتل جائز تھا؟‘‘’’مگر تم چاہتے کیا ہو عمر؟‘‘ابو بکرؓ نے پوچھا۔’خالد کی معزولی!‘‘عمرؓ نے کہا۔’’صرف معزولی نہیں۔خالد کو گرفتار کرکے یہاں لایا جائے اور اسے سزا دی جائے۔‘‘’’عمر!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’میں اتنا مان لیتا ہوں کہ خالد سے غلطی ہوئی ہے لیکن یہ غلطی اتنی سنگین نہیں کہ اسے معزول بھی کیا جائے اور سزا بھی دی جائے۔‘‘عمرؓ ابو بکرؓ کے پیچھے پڑے رہے۔دراصل عمرؓ انتہا درجے کے انصاف پسند اور ڈسپلن کی پابندی میں بہت سخت تھے۔ وہ نہیں چاہتے تھے کہ سالاروں میں کوئی غلط حرکت رواج پا جائے۔’’نہیں عمر!‘‘ابو بکرؓ نے کہا۔’’میں اس شمشیر کو نیام میں نہیں ڈال سکتا جسے اﷲ نے کافروں پر مسلط کیا ہو۔‘‘عمرؓ مطمئن نہ ہوئے۔ابو بکرؓ عمرؓ کو بھی ناراض نہیں کرنا چاہتے تھے۔انہوں نے خالدؓ کو مدینہ بلوالیا۔خالدؓ بڑی ہی مسافت طے کر کے بہت دنوں بعد مدینہ پہنچے اور سب سے پہلے مسجدِ نبویﷺ میں گئے۔انہوں نے اپنے عمامے میں ایک تیر اُڑس رکھا تھا۔عمرؓ مسجد میں موجود تھے۔ خالد ؓکو دیکھ کر عمرؓ طیش میں آگئے۔وہ اٹھے۔خالدؓ کے عمامے سے تیر کھینچ کر نکالا اور اسے توڑکر پھینک دیا۔’’تم نے ایک مسلمان کو قتل کیا ہے۔‘‘عمرؓ نے غصے سے کہا۔’’اور اس کی بیوہ کو اپنی بیوی بنا لیاہے۔تم سنگسار کر دینے کے قابل ہو۔‘‘خالدؓ ڈسپلن کے پابند تھے۔وہ چپ رہے۔انہوں نے عمرؓ کے غصے کو قبول کرلیا۔سوہ خاموشی سے مسجد سے نکل آئے اور خلیفۃ المسلمین ابوبکرؓ کے ہاں چلے گئے۔انہیں ابو بکرؓ نے ہی جواب طلبی کیلئے بلایا تھا۔ابو بکرؓ کے کہنے پر خالد ؓنے مالک بن نویرہ کے تمام جرائم سنائے اور ثابت کیا کہ وہ مسلمان نہیں بلکہ مسلمانوں کا دشمن تھا۔ابو بکرؓ خالد ؓسے بہت خفا ہوئے اور انہیں تنبیہہ کی کہ آئندہ ایسی کوئی حرکت نہ کریں۔جو دوسرے سالاروں میں غلط رواج کا باعث بنے۔ابو بکرؓ نے (طبری اور ہیکل کے مطابق)فیصلہ سنایا کہ مفتوحہ قبیلے کی کسی عورت کے ساتھ شادی کرلینا اور عدت کا عرصہ پورا نہ کرنا عربوں کے رواج کے عین مطابق ہے۔اس عورت کو آخر لونڈی بننا تھا۔یہ اس کے آقا کی مرضی ہے کہ اسے لونڈی بنائے رکھے یا اسے نکاح میں لے لے۔
ابو بکرؓ نے اپنے فیصلے میں کہاکہ اس وقت مسلمان ہر طرف سے خطروں میں گھرے ہوئے ہیں ۔قبیلے باغی ہوتے جا رہے ہیں ۔اپنے پاس نفری بہت تھوڑی ہے۔ان حالات میں اگر کوئی سالار دشمن کے کسی سردار کو غلطی سے قتل کرا دیتاہے تو یہ سنگین جرم نہیں۔عمرؓ کو خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے یہ کہہ کر ٹھنڈا کیا کہ’’ اسلام کا ایک بڑا دشمن مسیلمہ بن حنیفہ نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا ہے۔جنگی طاقت بن گیا ہے۔اس کے پاس کم و بیش چالیس ہزار نفری کالشکر ہے اور عکرمہ بن ابو جہل اس سے شکست کھا چکے ہیں۔اب سب کی نظریں خالد کی طرف اٹھ رہی ہیں۔اگر مسیلمہ کو شکست نہ دی گئی تو اسلام مدینہ میں ہی رہ جائے گا۔اس کامیابی کیلئے صرف خالد موزوں ہیں۔‘‘عمرؓ خاموش رہے۔انہیں بھی ان خطروں کا احساس تھا ۔ابو بکرؓ نے خالد ؓکو حکم دیا کہ فوراً بطاح جائیں اور وہاں سے یمامہ پر چڑھائی کرکے اس فتنے کو ختم کر دیں۔ خالد ؓایک بڑی ہی خطرناک جنگ لڑنے کیلئے روانہ ہو گئے۔دسمبر ۶۳۲ء(شوال ۱۱ہجری)کے تیسرے ہفتے میں خالد ؓبن ولید نے تیرہ ہزار مجاہدین سے مُرتدین کے چالیس ہزار سے زیادہ لشکر کے خلاف یمامہ کے مقام پر وہ جنگ لڑی جسے اسلام کی پہلی خونریز جنگ کہا جاتا ہے۔اس جنگ کا آخری معرکہ ایک وسیع باغ حدیقۃ الرحمٰن میں لڑا گیا تھا۔وہاں دونوں طرف اس قدر جانی نقصان ہوا تھا کہ حدیقۃ الرحمٰن کو لوگ حدیقۃ الموت(موت کا باغ)کہنے لگے۔آج تک اسے حدیقۃ الموت کہاجاتا ہے۔اس وقت خالدؓ مدینہ میں تھے۔انہیں خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓنے عمرؓ کی اس شکایت پر جواب طلبی کیلئے مدینہ بلایا تھا کہ انہوں نے مالک بن نویرہ کو قتل کراکے اس کی بیوی لیلیٰ کے ساتھ شادی کرلی تھی۔ابو بکرؓ نے ان حالات کو دیکھتے ہوئے جن میں اسلام گھر گیا تھا۔خالدؓ کے حق میں فیصلہ دیا اور خالد ؓکو واپس بطاح جانے اور یمامہ کے مسیلمہ کذاب کے فتنے کو ختم کرنے کا حکم دیا تھا۔مسیلمہ کذاب کے متعلق بتایا جا چکا ہے کہ اس نے نبوت کا دعویٰ کر رکھا تھا۔اس کے پیروکاروں کی تعداد اتنی زیادہ ہو گئی تھی کہ اس کا لشکرمسلمانوں کیلئے خطرہ بن گیا تھا ، اس وقت تک مسلمان ایک طاقت بن چکے تھے لیکن مسیلمہ کی طاقت بڑھتی جا رہی تھی۔یہ مدینہ کیلئے بھی خطرہ تھااور اسلام کیلئے بھی۔مدینہ سلطنت اسلامیہ کا مرکز تھا۔خالدؓ کالشکر بطاح میں تھا۔وہیں انہوں نے مالک بن نویرہ کو سزائے موت دی اور اس کی بیوی لیلیٰ کے ساتھ شادی کی تھی۔لیلیٰ وہیں تھی۔خالد بطاح کو روانہ ہو گئے۔انہیں معلوم تھا کہ ان کے پرانے ساتھی سالار عکرمہؓ اسی علاقے میں اپنے لشکر کے ساتھ موجود ہیں اور مسیلمہ کے خلاف مدد کو پہنچیں گے۔عکرمہؓ بن ابو جہل ان گیارہ سالاروں میں سے تھے جنہیں خلیفۃ المسلمین ؓ نے مختلف علاقوں میں مُرتد اور باغی قبائل کی سرکوبی کیلئے بھیجا تھا۔دوسرے قبیلے اتنے طاقتور نہیں تھے جتنا مسیلمہ کا قبیلہ بنو حنیفہ تھا۔اس لیے اس علاقے میں عکرمہؓ کو بھیجا گیا تھا۔ان کے پیچھے پیچھے ایک اور سالار شرجیلؓ بن حسنہ کو بھیج دیا گیا۔خلیفہ ابو بکرؓ نے شرجیلؓ کو یہ حکم دیا تھا کہ وہ عکرمہؓ کو مدد دیں گے۔ عکرمہؓ یمامہ کی طرف جا رہے تھے۔یہ دو اڑھائی مہینے پہلے کی بات ہے ۔اس وقت خالدؓ طلیحہ سے نبرد آزما تھے۔انہوں نے طلیحہ کو بہت بری شکست دی تھی ۔یہ خبر عکرمہؓ تک پہنچی تو وہ جوش میں آ گئے۔انہوں نے ابھی کسی قبیلے کے خلاف جنگی کارروائی نہیں کی تھی۔کچھ دنوں بعد عکرمہؓ کو خبرملی کہ خالد ؓ نے سلمیٰ کے طاقتور لشکر کو شکست دی ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ عکرمہؓ پر انسانی فطرت کی ایک کمزور ی غالب آ گئی۔انہوں نے اپنے ساتھی سالاروں سے کہا کہ خالد فتح پہ فتح حاصل کرتے جا رہے ہیں اور اِنہیں ابھی لڑنے کا موقع بھی نہیں ملا۔خالدؓ اور عکرمہؓ اسلام قبول کرنے سے پہلے کے ساتھی اور ایک جیسے جنگجو اور میدانِ جنگ کے ایک جیسے قائد تھے۔’’کیوں نہ ہم ایک ایسی فتح حاصل کریں جس کے سامنے خالد کی تمام فتوحات کی اہمیت ختم ہو جائے۔ ‘‘عکرمہؓ نے اپنے ماتحت سالاروں سے کہا۔’’مجھے اطلاع مل چکی ہے کہ شرجیل بن حسنہ ہماری مدد کو آرہا ہے۔معلوم نہیں وہ کب تک پہنچے۔میں زیادہ انتظار نہیں کرسکتا۔ میں مسیلمہ پر حملہ کروں گا۔‘‘مسیلمہ معمولی عقل و ذہانت کا آدمی نہیں تھا۔اسے معلوم تھا کہ مسلمان اس کی نبوت کو برداشت نہیں کر رہے اورکسی بھی روز اسلامی لشکر اس پر حملہ کردے گا۔اس نے اپنے علاقے کے دفاع کا بندوبست کر رکھا تھا۔جس میں دیکھ بھال اور جاسوسی کا انتظام بھی شامل تھا۔ عکرمہؓ سوچے سمجھے بغیربڑھتے گئے اور یمامہ کے قریب پہنچ گئے ۔وہ چونکہ جذبات سے مغلوب ہو کر جا رہے تھے اس لئے احتیاط نہ کر سکے کہ دشمن دیکھ رہاہو گا،انہیں مسیلمہ کے جاسوسوں نے دیکھ لیا اور مسیلمہ کو اطلاع دی۔ایک اور علاقے میں جہاں اونچے ٹیلے اور ٹیکریاں تھیں،عکرمہ ؓکو مسیلمہ کے کچھ آدمی دکھائی دیئے۔ عکرمہؓ نے ان پر حملہ کر دیامگر یہ مسیلمہ کا بچھایا ہوا جال تھا۔مسیلمہ نے وہاں خاصا لشکر چھپا رکھا تھا۔جس نے دائیں بائیں سے عکرمہؓ کے لشکرپر حملہ کر دیا۔عکرمہؓ اس غیر متوقع صورتِ حال میں سنبھل نہ سکے ۔مسیلمہ کے لشکر نے انہیں سنبھلنے دیا ہی نہیں۔عکرمہؓکے ساتھ نامی گرامی اور تجربہ کارسالاراور کماندار تھے۔لیکن میدان دشمن کے ہاتھ تھا۔اس نے مسلمانوں کی کوئی چال کامیاب نہ ہونے دی۔عکرمہؓ کو نقصان اٹھاکر پسپا ہونا پڑا۔عکرمہؓ اپنی اس شکست کو چھپا نہیں سکتے تھے۔چھپا لیتے تو لشکر میں سے کوئی مدینہ اطلاع بھیج دیتا۔چنانچہ عکرمہ ؓنے خلیفۃ المسلمین ؓ کو لکھ بھیجاکہ ان پر کیا گزری ہے۔خلیفہ ابو بکرؓ کو سخت غصہ آیا۔انہوں نے عکرمہؓ کو واضح حکم دیا تھا کہ شرجیل ؓکا انتظار کریں اور اکیلے مسیلمہ کے سامنے نہ جائیں۔مگر عکرمہؓ نے جلد بازی سے کام لیا تھا۔ابو بکرؓ نے عکرمہؓ کو جو تحریری پیغام بھیجا تھا اس میں غصے کا اظہار اس طرح سے کیا تھاکہ عکرمہؓ کو ابنِ ابو جہل لکھنے کے بجائے ابنِ امِ عکرمہ(عکرمہ کی ماں کے بیٹے)لکھا،یہ عربوں میں رواج تھا کہ کسی کی توہین مقصود ہوتی تو اس کے باپ کے نام کے بجائے اسے اس کی ماں سے منسوب کرتے تھے۔خلیفہ المسلمین ؓنے لکھا: ’’اے ابنِ اُمِ عکرمہ! میں تمہاری صورت نہیں دیکھنا چاہتا ،میں یہ بھی نہیں چاہتا کہ مدینہ آؤ۔تم آئے تو یہاں کے لوگوں میں مایوسی پھیلاؤ گے۔مدینہ سے دور رہو۔تم اب یمامہ کا علاقہ چھوڑ دو اور حذیفہ کہ ساتھ جاملو اور اہلِ عمان سے لڑو۔وہاں سے فارغ ہوکر عرفجہ کی مدد کیلئے مہرہ چلے جانا،اس کے بعد یمن جاکر مہاجر بن امیہ سے جا ملنا۔جب تک تم سالاری کے معیار پر پورے نہیں اترتے ،مجھے اپنی صورت نہ دکھانا۔میں تم سے بات تک نہیں کروں گا۔‘‘ خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ نے شرجیل کو پیغام بھیجا کہ وہ جہاں ہیں وہیں رہیں اور جب خالد ؓآئیں تو اپنا لشکر ان کے ساتھ کرکے خود ان کے ماتحت ہو جائیں ۔خالدؓ کو بتا دیا گیا تھا کہ شرجیل ؓکا لشکر بھی اُنہیں مل رہا ہے ۔وہ خوش ہوئے کہ اب وہ مسیلمہ کا مقابلہ بہتر طریقے سے کر سکیں گے۔اُنہیں توقع تھی کہ شرجیل کا لشکر تازہ دم ہو گا۔مگر یہ لشکر خالد ؓکو ملا تو وہ تازہ دم نہیں تھا۔اس میں کئی مجاہدین زخمی تھے۔’’کیا ہوا شرجیل؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’ندامت کے سوا میرے پاس کوئی جواب نہیں۔‘‘شرجیلؓ نے کہا۔’’میں نے خلیفۃ المسلمین کی حکم عدولی کی ہے۔میرے لیے حکم تھا کہ عکرمہ کو مدددوں، مگر میرے پہنچنے سے پہلے عکرمہ ،مسیلمہ کے لشکر سے ٹکر لے کر پسپاہو چکا تھا۔یہ ایک خبط تھا جس نے مجھ پر بھی غلبہ پالیا کہ……‘‘’’کہ ایک فتح تمہارے حساب میں لکھی جائے۔‘‘باریک بین اور دور اندیش خالدؓ نے طنزیہ لہجے میں شرجیل ؓکا جواب پورا کرتے ہوئے کہا۔’’اکیلے پتھر کی کوئی طاقت نہیں ہوتی شرجیل!پتھر مل کرچٹان بنا کرتے ہیں۔پھر اس چٹان سے جو ٹکراتا ہے وہ دوسری بار ٹکرانے کیلئے زندہ نہیں رہتا۔خود غرضی اور ذاتی مفاد کا انجام دیکھ لیا تم نے؟عکرمہ جیسا تجربہ کار سالار پِٹ کرذلیل ہو چکا ہے۔میں تم پر کرم کرتا ہوں کہ خلیفہ کو تمہاری حماقت کی خبر نہیں ہونے دوں گا۔‘‘شرجیلؓ بن حسنہ نے عکرمہؓ جیسی غلط حرکت کی تھی۔اس نے بھی خالدؓ سے بازی لے جانے کیلئے راستے میں مسیلمہ کے لشکر سے ٹکرلی اور پسپا ہونا پڑا تھا۔مسیلمہ کذاب دربار لگائے بیٹھا تھا۔ ٹھنگنے قد والا یہ بد صورت انسان مکمل نبی بن چکا تھا۔اس کا قبیلہ بنو حنیفہ تو اسے نبی مان ہی چکا تھا۔دوسرے قبیلے کے لوگ جوق در جوق اس کی بیعت کیلئے آتے اور اس کی ایک جھلک دیکھنے کو بے تاب رہتے تھے۔لوگوں نے اس کی قوت اور کرامات دیکھ لی تھیں۔اب اس کے پیروکاروں نے دو معجزے اور دیکھ لیے تھے۔انہوں نے مسلمانوں کے دو نامور سالاروں کو ذرا ذرا سی دیر میں میدان سے بھگا دیا تھا۔مذہبی اور نظریاتی کے لحاظ سے تو مسلمان ریشم کی طرح نرم تھے لیکن میدانِ جنگ میں وہ فولاد سے زیادہ سخت اور بجلیوں کی طرح قہر بن جاتے تھے۔جنگی لحاظ سے مسلمان دہشت بن گئے تھے۔عکرمہؓ اور شرجیلؓ نے اپنی غلطی اور کج فہمی سے شکست کھائی تھی۔لیکن بنو حنیفہ نے انہیں اپنے کذاب نبی کے معجزوں اور کرامات کے کھاتے میں لکھ دیا۔وہ کہتا تھا کہ مسلمانوں کو مسیلمہ کے سوا کون شکست دے سکتا ہے۔’’نہار الرجال!‘‘مسیلمہنے اپنے پاس بیٹھے ہوئے اپنے دستِ راست نہار الرجال سے کہا۔’’اب ہمیں مدینہ کی طرف کوچ کی تیاری کرنی چاہیے،مسلمانوں میں اب وہ دم خم نہیں رہا۔‘‘ پہلے بیان ہو چکا ہے کہ نہارالرجال بن عنفوہ وہ شخص تھا جس نے رسولِ کریمﷺ کے سائے تلے بیٹھ کر قرآن پڑھا اور مذہب پر عبور حاصل کیا تھااور اسے مبلغ بنا کر مسیلمہ کے علاقے میں بھیجا گیا تھا۔مگر اس پر مسیلمہ کا جادو چل گیا۔اس نے مسیلمہ کی نبوت کا پرچار شروع کر دیا۔آیاتِ قرآنی کو توڑ موڑ کر اس نے ان لوگوں کو بھی مسیلمہ کا پیروکار بنا دیا جو اسلام قبول کر چکے تھے۔مسیلمہ نے اسے اپنا معتمد ِ خاص بنا لیا تھا۔یہ شراب اور نسوانی حسن کا جادو تھا ۔خود مسیلمہ جس کی شکل و صورت مکروہ سی تھی اور قد مضحکہ خیز حد تک ٹھنگنا تھا۔عورتوں میں زیادہ مقبول تھا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ عورتوں کیلئے اس میں ایک مخصوص کشش تھی۔سجاع جیسی عورت جو قلوپطرہ کی طرح جنگی قوت لے کر مسیلمہ کو تہہ تیغ کرنے آئی ،صرف ایک ملاقات میں اس کی بیوی بن گئی تھی۔یہ مسیلمہ کی جسمانی طاقت اور مقناطیسیت تھی۔اب تو وہ بہت بڑی جنگی طاقت بن گیا تھا۔عکرمہؓ اور شرجیلؓ کو پسپا کرکے اس کے اپنے اور اس کے لشکر کے حوصلے بڑھ گئے تھے۔وہ اب مدینہ پر چڑھائی کی باتیں کر رہا تھا۔وہ دربار میں بیٹھا نہارالرجال سے کہہ رہا تھا کہ مدینہ کی طرف کوچ کی تیاری کرنی چاہیے۔نہارالرجال کچھ کہنے بھی نہیں پایا تھا کہ مسیلمہ کو اطلاع دی گئی کہ ایک جاسوس آیا ہے۔مسیلمہ نے اسے فوراً بلالیا۔’’مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے۔‘‘جاسوس نے کہا۔’’تعداد دس اور پندرہ ہزار کے درمیان ہے۔‘‘’’تم نے جب دیکھا،یہ لشکر کہاں تھا؟‘‘مسیلمہ نے پوچھا۔’’وادیٔ حنیفہ سے کچھ دور تھا۔‘‘جاسوس نے کہا۔’’اب اور آگے آ چکا ہو گا۔‘‘’’ان بد بختوں کوموت وادیٔ حنیفہ میں لے آئی ہے۔‘‘مسیلمہ نے رعونت سے کہا۔’’انہیں معلوم نہیں کہ ان کا دس پندرہ ہزار کا لشکر میرے چالیس ہزار شیروں کے ہاتھوں چیرا پھاڑا جائے گا۔‘‘وہ اٹھ کھڑا ہوا۔تمام درباری احترام کیلئے اٹھے۔وہ نہار الرجال کو ساتھ لے کر دربار سے نکل گیا۔اس نے اپنا گھوڑا تیار کرایا۔نہار الرجال کو ساتھ لیا اور دونوں گھوڑے انہیں یمامہ سے دور لے گئے۔وہ وادیٔ حنیفہ کی طرف جارہے تھے۔’’اس وادی سے وہ زندہ نہیں نکل سکیں گے۔‘‘راستے میں مسیلمہ نے نہارالرجال سے کہا۔’’میرے اس پھندے سے وہ واقف نہیں۔‘‘نہارالرجال نے قہقہہ لگایا اور کہا۔’’آج محمد(ﷺ) کا اسلام وادیٔ حنیفہ میں دفن ہو جائے گا۔‘‘ وہ آدھا راستہ طے کر چکے تھے کہ آگے سے ایک گھوڑ سوار گھوڑا سر پٹ دوڑاتا آ رہا تھا۔مسیلمہ کو دیکھ کر وہ رک گیا۔’’یانبی!‘‘گھوڑ سوار نے ہانپتی ہوئی آواز میں کہا۔’’مجاعہ بن مرارہ کو مسلمانوں نے قید کر لیاہے۔‘‘’’مجاعہ­ کو؟‘‘مسیلمہ نے حیرت سے کہا۔’’مجاعہ کو مسلمانوں نے ……۔‘‘نہارالرجال نے ڈری ہوئی سی آواز میں کہا۔’’مجاعہ کی ٹکر کا ہمارے پاس اور کوئی سالار نہیں ۔‘‘مسیلمہ نے کہا۔’’مجاعہ کا قید ہو جانا ہمارے لئے اچھا شگون نہیں۔‘‘

مجاعہ بن مرارہ مسیلمہ کا بڑا ہی قابل اور دلیر سالار تھا۔وہ خالدؓ سے ملتا جلتا تھا۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ خالدؓ کے مقابلے میں لڑنے اور جنگی چالیں چلنے کی اہلیت صرف مجاعہ میں تھی۔مجاعہ مسلمانوں کے ہاتھ اس طرح چڑھ گیا تھا کہ اس کے کسی قریبی رشتے دار کو بنی عامر اور بنی تمیم کے کچھ لوگوں نے قتل کر دیا تھا۔مجاعہ نے مسیلمہ سے اجازت لی تھی کہ وہ لشکر کے چالیس سوار ساتھ لے جا کر اپنے رشتے دار کے قتل کا انتقام لے لے۔مسیلمہ اپنے اتنے قابل سالار کو مایوس نہیں کر سکتا تھا۔اس نے اسے اجازت دے دی۔مجاعہ اپنے دشمن کی بستی میں گیا اور انتقام لے کر واپس آ رہا تھا ۔اسے معلوم نہیں تھا کہ جس علاقے کو وہ محفوظ سمجھتا تھا وہ اب محفوظ نہیں۔اس نے اپنے سواروں کو ایک جگہ آرام کیلئے روک لیا۔وہ سب اپنا فرض کامیابی سے پوراکر آئے تھے۔گھوڑوں کی زینیں اتار کر وہ لیٹ گئے اور گہری نیند سو گئے۔خالدؓ کا لشکر اسی طرف آ رہا تھا۔علی الصبح اس لشکر کا ہراول دستہ وہاں پہنچا جہاں مجاعہ اپنے چالیس سواروں کے ساتھ گہری نیند سویا ہوا تھا۔ان سب کو مجاہدین نے جگایا۔ان سے ہتھیار اور گھوڑے لے لیے اور انہیں حراست میں لے کر پیچھے خالدؓ کے پاس لے گئے۔خالدؓ کو معلوم نہیں تھاکہ مجاعہ مسیلمہ کا بڑا قیمتی سالار ہے۔خالدؓ اسے بھی محض سوار یا سپاہی سمجھ رہے تھے۔انہوں نے دراصل بڑا موٹا شکار پکڑا تھا۔انہوں نے یہ تو بتا دیا کہ وہ مسیلمہ کی فوج کے آدمی ہیں لیکن مجاعہ کا رتبہ ظاہرنہ ہونے دیا۔’’کیا تم ہمارے مقابلے کیلئے آئے تھے؟‘‘خالدؓ نے ان سے پوچھا۔’’نہیں۔‘‘ایک نے جواب دیا۔’’ہمیں تو معلوم ہی نہ تھا کہ مسلمانوں کا لشکر آ رہا ہے۔ہم بنی عامر اور بنی تمیم سے اپنے ایک خون کا بدلہ لینے گئے تھے۔‘‘’’میں نے مان لیا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں تمہاری جان بخشی کر سکتا ہوں۔اب میرے اس سوال کا جواب دو کہ تم کسے اﷲکا سچا رسول مانتے ہو اور کس پر ایمان رکھتے ہو؟‘‘’’بے شک مسیلمہ اﷲ کا سچا رسول ہے۔‘‘ایک سوار نے جواب دیا۔’’خدا کی قسم!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’تم میری توہین کر دیتے تو میں تمہیں بخش دیتا ،اپنے رسولﷺ کی توہین کو میں کس طرح برداشت کر سکتا ہوں؟‘‘’’تم اپنے رسول کو مانو،ہم اپنے نبی کو مانتے ہیں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’اصل بات بھی یہی ہے کہ مسیلمہ رسالت میں محمد (ﷺ)کا برابر کا حصہ دار ہے۔‘‘’’ہم سب کا عقیدہ یہی ہے۔‘‘سواروں نے کہا۔’’ایک نبی تم میں سے ہے ۔ایک نبی ہم میں سے ہے۔‘‘ خالدؓ نے تلوار کھینچی اور ایک ہی وار سے ایک سوار کا سر اڑا دیااور حکم دیا کہ سب کو قتل کر ڈالو۔ خالدؓ کے آدمی آگے بڑھے اور مجاعہ کو پکڑ کر اس کا سر کاٹنے کیلئے جھکا دیا۔اسے قتل کرنے والے کی تلوار ہوا میں بلند ہوئی۔’’ہاتھ روک لو۔‘‘قیدی سواروں میں سے ایک جس کا نام ساریہ بن عامر تھا،چلایا۔’’اس آدمی کو زندہ رہنے دو ۔یہ تمہارے کام آ سکتا ہے۔‘‘تب انکشاف ہوا کہ مجاعہ بنو حنیفہ کے سرداروں میں سے ہے لیکن یہ پھر بھی نہ بتایا گیا کہ یہ سالار بھی ہے۔خالدؓ دور اندیش تھے،کسی قبیلے کا سردار بڑا قیمتی یرغمال ہوتا ہے۔اسے کسی نہ کسی موقع پر استعمال کیا جاسکتا تھا۔خالدؓ مجاعہ کے پاؤں میں بیڑیاں ڈلوا کر اسے اپنے خیمے میں لے گئے اور اسے اپنی بیوی لیلیٰ کے حوالے کردیا۔باقی سب کو قتل کرا دیا۔مسیلمہ کے لئے مجاعہ کی گرفتاری کوئی معمولی نقصان نہیں تھا۔لیکن وادیٔ حنیفہ وہ پھندا تھا جو اس نقصان کو پورا کر سکتا تھا۔اس کے علاوہ مسیلمہ کے لشکر کی تعداد چالیس ہزار تھی اور مسلمانوں کی تعداد تیرہ ہزارتھی۔مسیلمہ کے پاس گھوڑ سواراور شتر سوار دستے زیادہ تھے۔بعض مؤرخوں نے مسیلمہ کے لشکر کی تعداد تیس ہزار لکھی ہے ۔بہر حال تعداد چالیس ہزار سے زیادہ تھی ،کم نہ تھی۔خالدؓ کی ایک کمزوری تو یہ تھی کہ لشکر کی تعداد خطرناک حد تک کم تھی ،دوسری کمزوری یہ کہ وہ اپنے مستقر سے بہت دور تھے جہاں کمک اور رسد کا پہنچنا ممکن نہیں تھا۔انہیں صرف ایک سہولت حاصل تھی۔اس علاقے میں پانی اور جانوروں کیلئے ہرے چارے کی کمی نہیں تھی۔وہ زرخیز کھیتوں اور باغوں کا علاقہ تھا۔مسیلمہ کو ہرے بھرے کھیتوں اور باغوں کا غم کھا رہا تھا۔اس نے نہارالرجال سے کہا کہ وہ ایسے انداز سے لڑنا چاہتا ہے کہ مدینہ کا لشکر بستیوں کو ،کھیتوں کو اور باغوں کو نہ اجاڑ سکے۔تاریخوں میں لکھا ہے کہ مسیلمہ کسی قسم کے تذبذب ،اضطراب یا پریشانی میں مبتلا نہ تھا۔وہ اس طرح سے بات کرتا تھا جیسے اسے اپنی فتح کا یقین ہو۔وہ بڑی موزوں بنیادوں پر کھڑابات کر رہا تھا۔اس کا چالیس ہزار کا لشکر برتر بھی تھا اور یہ سب مسیلمہ کے نام پر جانیں قربان کرنے والے لوگ تھے۔مسیلمہ کی نبوت کا تحفظ ان سب کیلئے جنون بن چکا تھا۔خالدؓ پھندے میں آنے والے سالار نہیں تھے۔مُوتہ میں وہ پھندے میں آ چکے تھے۔یمامہ کے علاقوں سے وہ واقف نہیں تھے۔انہوں نے دیکھ بھال اور آگے کی زمین کا جائزہ لینے کیلئے ایک پارٹی بھیج دی تھی۔رات کو اس پارٹی نے جو رپورٹ دی ،اس کے مطابق خالدؓ نے اپنا رستہ بدل دیا تاکہ حنیفہ کی وادی کے اندر سے نہ گزرنا پڑے۔وہ ذرا دور کاچکر کاٹ کر آگے نکل گئے۔مسیلمہ نے بھی دیکھ بھال کا انتظام کر رکھا تھا۔اسے اطلاع ملی کہ مدینہ والے آگے نکل گئے ہیں تو اس نے اپنا لشکر بڑی تیزی سے عقربا کے میدان میں منتقل کر دیا۔خالدؓ کی نظر اسی میدان پر تھی لیکن دشمن پہلے پہنچ گیا تھا۔خالدؓ نے ایک جگہ دیکھ لی جو میدان سے بلند تھی ،انہوں نے وہیں اپنا لشکر روک لیا۔وہاں سے وہ مسیلمہ کے پڑاؤ کو اچھی طرح دیکھ سکتے تھے۔ مسیلمہ نے اسی میدان کو بہتر اور موزوں سمجھاتھا۔ایک تو اس نے اپنے لشکر کا تمام تر سازوسامان اور مال و اسباب اپنی خیمہ گاہ سے پیچھے رکھا تھا۔دوسرے یہ کہ کھیتیاں اور باغات بھی لشکر کے پیچھے تھے۔ان سب کی وہ بڑی اچھی طرح سے حفاظت کر سکتاتھا۔اس نے یہ بھی دیکھ لیا تھا کہ خالدؓ یہاں سے آگے یمامہ کو بڑھے تو وہ ان پر عقب سے حملہ کر دے گا۔خالدؓ بھی اس صورت کو بھانپ چکے تھے کہ وہ یہاں سے آگے بڑھے تو مارے جائیں گے۔مسیلمہ نے اپنے لشکر کو تین حصوں میں تقسیم کردیا۔اس نے دائیں حصے کی قیادت نہارالرجال کو دی۔بائیں حصے کا سالار محکم بن طفیل تھا اور درمیان میں یعنی قلب میں وہ خود رہا۔اس نے اپنے بیٹے کو جس نام شرجیل تھا کہا کہ وہ لشکر سے خطاب کرے۔ایک شرجیل بن حسنہ خالدؓ کے لشکر کا سالار تھا۔مسیلمہ کے بیٹے کا نام بھی شرجیل تھا۔شرجیل گھوڑے پر سوار ہوا اور اپنے لشکر کے تینوں حصوں کے سامنے باری باری جاکر کہا۔’’اے بنو حنیفہ!آج اپنی آن اور اپنی آبرو پر مر مٹنے کا وقت آگیا ہے۔خدا نے تمہارے نبی کو نبوت دی ہے۔آج اپنی نبوت اور آبرو کی خاطر اس طرح لڑو کہ مسلمانوں کو پھر کبھی تمہارے سامنے آنے کی جرات نہ ہو۔اگر تم نے پیٹھ دکھائی تو دشمن تمہاری بیویوں ،تمہاری بہنوں اور تمہاری بیٹیوں کو لونڈیاں بنا لے گااور اس زمین پر ہی جو تمہاری زمین ہے ،ان کی آبرو لوٹے گا۔کیا تم یہ منظر برداشت کرلو گے؟‘‘مسیلمہ کے لشکرکو جیسے آگ لگ گئی ہو۔وہ مسیلمہ کے نام کے نعرے لگانے لگے ۔گھوڑے کھر مارمارکر ہنہنانے لگے۔خالدؓ اس صورتِ حال کا مقابلہ کرنے کیلئے تیار تھے کہ مسیلمہ کا لشکر ان پر فوراً حملہ کر دے گا۔نفری کی افراط کے زور پر مسیلمہ کو حملہ کر دیناچاہیے تھا لیکن مؤرخ لکھتے ہیں کہ وہ جنگ کے فن میں مہارت رکھتا تھا۔اس نے حملے میں پہل نہ کی۔اس کا خیال تھا کہ پہلے خالدؓ حملہ کرے اور دفاع میں لڑا جائے اور جب مسلمان تھک جائیں تو دائیں بائیں سے حملے کرکے انہیں ختم کر دیا جائے۔اس دور کی تحریریں بتاتی ہیں کہ خالدؓ مسیلمہ کی چال نہ سمجھ سکے۔انہوں نے اپنے سالاروں سے کہا کہ مرتدین سے آمنے سامنے کی جنگ اس طرح لڑی جائے کہ اسے اپنے دستوں کو اِدھر ُادھرکرنے کی مہلت نہ ملے اور وہ دفاعی لڑائی لڑتا رہے۔خالدؓ کو توقع تھی کہ تیرہ ہزار سے چالیس ہزار کو اسی طریقے سے شکست دی جا سکتی ہے کہ اسے کوئی چال چلنے کا موقع نہ دیا جائے۔اس وقت کے رواج کے مطابق خالدؓ کو بھی ضرورت محسوس ہوئی کہ اپنے لشکر کا حوصلہ بڑھائیں ۔خلیفۃ المسلمین ؓ نے خالدؓ کی مددکیلئے جو دستے بھیجے تھے ان میں قرآن کے حافظ اور خوش الحان قاری بھی خاصی تعداد میں تھے۔اس دور کے حافظِ قرآن اور قاری ماہر تیغ زن اورلڑنے والے بھی ہوتے تھے۔وہ مسجدوں میں بیٹھے رہنے والے لوگ نہیں تھے۔ اس کے علاوہ خالدؓ کے ساتھ وہ لوگ بھی تھے جنہوں نے ہر میدان میں اپنے سے کئی گنا طاقتور دشمن کو شکستیں دی تھیں۔خالدؓ کے لشکر میں عمرؓ کے بھائی زیدؓ بن الخطاب اور ان کے بیٹے عبداﷲؓ بھی تھے۔اسکے علاوہ ابو دجانہؓ بھی تھے جو جنگِ احد میں ان تیروں کے سامنے کھڑے ہو گئے تھے جو رسولِ کریمﷺ پر آ رہے تھے۔انہوں نے اپنے جسم کو آپﷺ کی ڈھال بنا دیا تھا۔خلیفۃ المسلمین ؓ کے بیٹے عبدالرحمٰنؓبھی تھے اور ایک خاتون اُمّ ِ عمارہؓ اپنے بیٹے کے ساتھ گئی تھیں ۔اُمّ ِ عمارہؓ جنگِ احد میں باقاعدہ لڑی تھیں۔ان کے علاوہ وحشی نام کا حبشیؓ بھی خالدؓ کے ساتھ تھا۔جس کی پھینکی ہوئی برچھی نشانے سے بال برابر ادھر ادھر نہیں ہوتی تھی۔قبولِ اسلام سے پہلے جنگِ احد میں اسی وحشی ؓنے حمزہ ؓ کو برچھی پھینک کر شہید کیا تھا۔مجاہدین کالشکر تعداد میں تو کم تھا لیکن جوشِ جہاد اور جذبے کے لحاظ سے کمتر نہ تھا۔ خالدؓ نے خود بھی اپنے لشکر کا حوصلہ بڑھایا اور قرآن کے حافظوں اور قاریوں سے کہاکہ وہ مجاہدینِ مدینہ کو آیاتِ قرآنی سناکر بتائیں کہ وہ گھروں سے اتنی دور کس مقصد کیلئے لڑنے آئے ہیں۔قاری اپنی پر اثر آوازوں میں لشکر کو وہ آیات سنانے لگے جن میں مسلمانوں کیلئے جہاد فرض قرار دیا گیا ہے ۔یہ سلسلہ رات بھر چلتا رہا ۔اﷲکے سوا اور کون تھا جو ان قلیل تعداد مجاہدین،اسلام کی مدد کرتا۔مؤرخین کے مطابق مجاہدین کے اس لشکر نے تمام رات عبادت اور دعاؤں میں گزار دی۔دسمبر ۶۳۲ء کے تیسرے ہفتے کی ایک صبح طلوع ہوئی تو خالدؓ نے مسیلمہ کے لشکر پر حملے کا حکم دے دیا۔خالدؓ نے بھی اپنے لشکرکو تین حصوں میں تقسیم کر رکھا تھا۔قلب کی قیادت انہوں نے اپنے پاس رکھی تھی ،ایک طرف ابو حذیفہؓ اور دوسری طرف زیدؓ بن خطاب تھے۔مسلمان جس قہروغضب سے حملہ آور ہوئے اور جس بے جگری سے لڑے وہ دیکھ کر خالدؓ کو امید بندھ گئی کہ وہ مرتدین کے لشکر کو اکھاڑ پھینکیں گے ۔خود خالدؓ سپاہیوں کی طرح لڑ رہے تھے۔لیکن خاصا وقت گزر جانے کے بعد بھی مسیلمہ کا لشکر جہاں تھا وہیں رہا۔بہت سے مجاہدین پہلے ہلّے میں ہی شہید ہو گئے۔دن گزرتا جا رہا تھا۔میدانِ جنگ کا قہر بڑھتا جا رہا تھا۔ایک شور تھا،چیخ و پکار تھی ،کربناک آہ و بکا تھی جو زمین و آسمان کوہلا رہی تھی ۔مسیلمہ کا لشکر گھوم پھر کر لڑ رہاتھا۔اس کی کوشش یہ تھی کہ مسلمانوں کو گھیرے میں لے لے اور مسلمانوں کا عزم یہ تھا کہ مرتدین کے اس لشکر کے قدم اکھاڑنے ہیں اور یمامہ پر قبضہ کرنا ہے۔دونوں لشکر اپنی اپنی کوششوں میں ناکام ہو رہے تھے۔اگر کامیاب تھا تو وہ مسیلمہ کالشکر تھا۔مسیلمہ بہت چالاک اور ہوشیار جنگی قائد تھا۔وہ جائزہ لیتا رہا کہ مسلمان کب تھک کر چور ہوتے ہیں ،آدھا دن گزر گیا۔زمین خون سے لال ہوتی جا رہی تھی ۔زخمی انسان بھاگتے دوڑتے گھوڑوں تلے کچلے جا رہے تھے ۔مسلمان اس قدر بے جگری سے لڑنے کی وجہ سے کچھ جلدی تھک گئے۔مسیلمہ نے بھانپ لیا۔اس نے اپنے لشکر کے ایک تازہ دم حصے کو مسلمانوں پر حملے کا حکم دے دیا۔اس کے لشکر کا یہ حصہ طوفانی موج کی طرح آیا۔مسیلمہ نے سب کو یقین دِلارکھا تھا کہ جو اس کی نبوت کی خاطر لڑتا ہوامرے گا وہ سیدھا جنت میں جائے گا۔ خالدؓ نے تھوڑی ہی دیر بعد محسوس کرلیا کہ اس کے لشکر پر دباؤ بہت تیز ہو گیا ہے۔خالدؓ کوئی چال سوچ ہی رہے تھے کہ مسلمانوں نے پیچھے ہٹنا شروع کردیا۔آگے والے دستے تیزی سے پیچھے ہٹے۔پیچھے والے ان سے زیادہ تیزی سے پسپا ہوئے۔سالاروں نے بہت شور مچایا۔ لشکر کو پکارا۔نعرے لگائے لیکن مرتدین کا دباؤ ایسے قہر کی صورت اختیار کر گیا تھاجسے مسلمان برداشت نہ کر سکے اور ان میں بد نظمی پھیل گئی۔دیکھا دیکھی مسلمان ایسی بری طرح پسپا ہوئے کہ اپنی خیمہ گاہ میں بھی نہ رکے اور دور پیچھے چلے گئے۔مسیلمہ کے لشکر نے ان کا تعاقب کیا۔احد کے میدان میں بھی مسلمانوں نے اپنے لئے ایسی ہی صورتِ حال پیداکر لی تھی اور ہزیمت اٹھائی تھی۔یہ ان کی دوسری پسپائی تھی جو بھگدڑ کی صورت اختیار کر گئی تھی۔مسیلمہ کا لشکر جب مسلمانوں کی خیمہ گاہ تک پہنچا تو اس نے وہاں لوٹ مار شروع کرد ی۔وہاں انہیں روکنے والا کوئی نہ تھا۔خالدؓ اور ان کے سالار دوڑ دوڑ کر اپنے لشکر کو روکنے کیلئے چیخ چلا رہے تھے لیکن مسلمان اپنی خیمہ گاہ سے خاصی دور جا کر رکے۔مسیلمہ کے کچھ آدمیوں کو خالدؓ کا خیمہ مل گیا۔وہ اس میں جا گھسے۔وہاں انہیں زیادہ مال و دولت ملنے کی توقع تھی لیکن اس خیمے میں انہیں دو اتنے قیمتی انسان مل گئے جن کی انہیں توقع نہیں تھی۔ایک تو ان کا اپنا سردار اور سالار مجاعہ تھا جو بیڑیوں میں جکڑا ہوا تھااور اس کے ساتھ خالدؓ کی نئی بیوی لیلیٰ ام تمیم تھی جس کے حسن کے چرچے انہوں نے سن رکھے تھے لیکن اسے دیکھا کبھی نہیں تھا۔مجاعہ کو تو انہوں نے پہچان لیا۔لیلیٰ کے متعلق انہیں مجاعہ نے بتایا کہ یہ کون ہے۔بیک وقت دو تین آدمی لیلیٰ کی طرف لپکے۔وہ اسے قتل کرنا یا اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے۔’’رک جاؤ۔‘‘انکے قیدی سردار مجاعہ نے حکم دیا۔’’دشمن کے آدمیوں کے پیچھے جاؤ۔ابھی عورتوں کے پیچھے پڑنے کا وقت نہیں ۔میں اب اس کا نہیں یہ میری قیدی ہے۔‘‘ان کے سردار کا حکم اتنا سخت تھا کہ وہ بڑی تیزی سے خیمے سے نکل گئے ۔انہیں اتنا بھی ہوش نہ رہا کہ اپنے سردار کی بیڑیاں ہی توڑ جاتے۔’’تم نے مجھے ان آدمیوں سے کیوں بچایا ہے؟‘‘لیلیٰ نے مجاعہ سے پوچھا۔’’کیا تم مجھے اپنا مالِ غنیمت سمجھتے ہو؟اگر تمہاری نیت یہی ہے تو کیا تمہیں یہ احساس نہیں کہ میں تمہیں قتل کر سکتی ہوں۔‘‘’’تم نے میرے ساتھ جو اچھا سلوک قید کے دوران کیا ہے میں اس کے صلے میں اپنی جان دے سکتا ہوں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’خدا کی قسم! میری بیڑیاں ٹوٹ کر تمہارے پاؤں میں پڑ جائیں تو بھی میں تمہیں مالِ غنیمت یا لونڈی نہیں سمجھوں گا۔تم نے مجھے قیدی نہیں مہمان بنا کر رکھا ہے۔‘‘’’میں نے تم پر کوئی احسان نہیں کیا۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’یہ مسلمانوں کی روایت ہے کہ دشمن ان کے گھر چلا جائے تو وہ اسے معزز مہمان سمجھتے ہیں۔اگر تم میرے گھر میں ہوتے تو میں تمہیں اور زیادہ آرام پہنچا سکتی تھی۔‘‘’’لیلیٰ!‘‘مجاعہ نے کہا۔’’کیا تجھے ابھی احساس نہیں ہوا کہ تمہاراخاوند شکست کھا کر بھاگ گیا ہے اور تم میرے قبضے میں ہو؟‘‘’’فتح اور شکست کا فیصلہ خدا کرے گا۔‘‘لیلیٰ نے جواب دیا۔’’میرا خاوند اس سے زیادہ سخت چوٹیں برداشت کر سکتا ہے۔‘

’’کم فہم خاتون!‘‘مجاعہ نے فاتحانہ مسکراہٹ سے کہا۔’’کیا تجھے ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ خدا مسیلمہ کے ساتھ ہے جو اس کا سچا نبی ہے؟محمد (ﷺ)کی رسالت سچی ہوتی……‘‘’’مجاعہ!‘‘لیلیٰ نے گرج کر اس کی بات وہیں ختم کر دی اور بولی۔’’اگر تو نے محمدﷺکی رسالت کے خلاف کوئی بات کی تو مجھ پر تیرا قتل فرض ہو جائے گا۔میں دیکھ رہی ہوں کہ میرا لشکرمجھے اس خیمہ گاہ میں اکیلا چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔جہاں میرے دین کے دشمن لوٹ مار کر رہے ہیں۔لیکن میرے دل پر ذرا سا بھی خوف نہیں۔خوف اس لئے نہیں کہ مجھے اﷲ پر پورا بھروسہ ہے۔‘‘مجاعہ خاموش رہااور وہ کچھ دیر نظریں لیلیٰ کے چہرے پر گاڑے رہا۔باہر فاتح لشکر کا فاتحانہ غل غپاڑہ تھا۔وہ مسلمانوں کے خیموں کو پھاڑ پھاڑ کر ان کے ٹکڑے بکھیر رہے تھے۔مجاعہ اور لیلیٰ کو توقع تھی کہ ابھی مسیلمہ کے آدمی آئیں گے اوردونوں کو ساتھ لے جائیں گے لیکن اچانک غل غپاڑہ ختم ہو گیا اور لوٹ مار کرنے والے لوگ بھاگتے دوڑتے خیمہ گاہ سے نکل گئے۔اس کی وجہ یہ تھی کہ مسیلمہ کی طرف سے حکم آیا تھا کہ فوراً واپس میدانِ عقربا میں پہنچو کیونکہ مسیلمہ نے دیکھ لیا تھا کہ مسلمان بڑی تیزی سے اکھٹے ہو کر منظم ہو رہے تھے۔مسیلمہ کوئی خطرہ مول نہیں لینا چاہتا تھا۔وہ مسلمانوں کی شجاعت اور ان کے جذبے سے مرعوب تھا۔مجاعہ اور لیلیٰ خیمے میں اکیلے رہ گئے۔مجاعہ کے چہرے پہ جو رونق آئی تھی وہ پھر بجھ گئی۔خالدؓ اتنی جلدی ہارماننے والے نہیں تھے ۔ضائع کرنے کیلئے ان کے پاس ایک لمحہ بھی نہیں تھا۔انہوں نے اپنے سالاروں اور کمانداروں کو اکھٹا کیا اور انہیں اس پسپائی پر شرم دلائی ،اتنے میں ایک گھوڑا سر پٹ دوڑتا آیا اور سالاروں وغیرہ کے اجتماع میں آ رکا۔وہ عمرؓ کے بھائی زیدؓ بن خطاب تھے۔’’خداکی قسم ابنِ ولید!‘‘زیدؓ بن خطاب نے گھوڑے سے کود کر اترتے ہوئے جوشیلی آواز میں کہا۔’’میں نے مسیلمہ کا دایاں ہاتھ کاٹ دیا ہے……میں نے نہارالرجال کواپنے ہاتھوں قتل کیا ہے۔یہ اﷲ کا اشارہ ہے کہ فتح ہماری ہوگی۔‘‘نہارالرجال کا ہلاک ہو جانا مسیلمہ کیلئے کوئی معمولی نقصان نہیں تھا۔بتایا جا چکا ہے کہ وہ مسیلمہ کا معتمدِ خاص واحد مشیر اور صحیح معنوں میں دستِ راست تھا۔خالدؓ اور ان کے سالاروں نے یہ خبر سنی تو ان کے چہروں پر تازہ حوصلوں کی سرخی آ گئی۔’’کیا تم جانتے ہو کہ ہمیں کس جرم کی سزا ملی ہے؟‘‘خالدؓ نے غصیلی آواز میں کہا۔’’مجھے بتایا گیا ہے کہ ہمارے لشکر میں دل پھٹ گئے تھے ۔لڑائی سے پہلے ہی ہمارے لشکر کے مہاجر کہنے لگے تھے کہ بہادری میں انصار اور بدّو ان کامقابلہ نہیں کر سکتے۔انصار کہتے تھے کہ مسلمانوں میں ان جیسا بہادر کوئی نہیں اور بدوؤں نے کہا کہ مکہ اور مدینہ کے لوگ تو یہ بھی نہیں جانتے کہ جنگ ہوتی کیا ہے……تم جانتے ہو کہ ہم میں مکہ کے مہاجر بھی ہیں ،مدینہ کے انصار بھی ہیں اور اردگرد کے علاقوں سے آئے ہوئے بدو بھی ہمارے ساتھ ہیں،ان لوگوں نے ایک دوسرے پر طعنہ زنی شروع کر دی تھی۔‘‘’’اس کا ہمارے پاس کوئی علاج نہیں۔‘‘ایک سالار نے کہا۔ ’’میرے پاس اس کا علاج ہے۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ہم نے لشکر میں ان سب کو اکھٹا رکھا ہوا ہے۔مزید وقت ضائع کیے بغیر تم سب جاؤ اور مہاجرین کو الگ انصار کو الگ اور بدوؤں کو الگ کرلو۔‘‘تھوڑے سے وقت میں خالدؓ کے حکم کی تعمیل ہو گئی،لشکر تین حصوں میں تقسیم ہو چکاتھا۔ایک حصہ مہاجروں کا،دوسرا انصار کا اورتیسرا بدوؤں کا تھا۔خالدؓ گھوڑے پر سوار ان کے سامنے جا کھڑے ہوئے۔’’اﷲ کے سپاہیو!‘‘خالدؓ نے بڑی ہی بلند آواز میں کہا۔’’ہم نے میدان میں پیٹھ دکھا کر دشمن کیلئے ہنسی اورطعنہ زنی کا موقع پیدا کر دیا ہے۔کون کہہ سکتا ہے کہ تم میں سے کون بہادری سے لڑا اور کون سب سے پہلے بھاگ اٹھا……مہاجرین؟ا­نصار ؟یابدو؟‘‘’’اب میں نے تمہیں اس لئے الگ الگ کر دیا ہے کہ دشمن پر فوراً جوابی حملہ کرنا ہے۔اب دیکھیں گے کہ تم میں سے کون کتنابہادر ہے۔بہادری اور بزدلی کا فیصلہ طعنہ زنی سے نہیں کیا جا سکتا۔میدان میں کچھ کر کے دکھاؤ لیکن اتحاد کو ہاتھ سے نہ جانے دینا۔رسول اﷲﷺ نے تمہیں جس باہمی پیار کا سبق دیا تھا وہ بھول نہ جانا،تم میں سے کوئی گروہ دشمن کے دباؤ کوبرداشت نہ کرتے ہوئے پیچھے ہٹے تو دوسرے گروہ اس کی مدد کو پہنچیں۔ہمیں دشمن پر ثابت کرنا ہے کہ مسیلمہ جھوٹانبی ہے۔اگر ہم شکست کھا گئے تو یہ جھوٹی نبوت ہم پر مسلط ہو جائے گی،اور ہم مسیلمہ کے غلام اور ہماری عورتیں مرتدین کی لونڈیاں بن جائیں گی۔‘‘خالدؓ کے یہ الفاظ ان تیروں کی طرح کارگر ثابت ہوئے جو اپنے نشانے سے ادھر ادھر نہیں جایا کرتے۔لشکر میں نیا جوش اور نیا ولولہ پیدا ہو گیا۔ادھر مرتدین مجاہدین کی خیمہ گاہ لوٹ کر اورتباہ کرکے جا چکے تھے۔ادھر سے مسلمان اشارہ ملتے ہی مسیلمہ کے لشکر کی طرف چل پڑے۔مسیلمہ نے اپنے لشکر کو پھر حملہ روکنے کی ترتیب میں کر لیا تھا۔جب مجاہدین ِ اسلام کا لشکر مقابلے میں پہنچا تو انصار سے ایک سردار ثابت بن قیس گھوڑے کو ایڑلگا کرلشکر کے سامنے آ گئے۔’’اے اہل ِمدینہ!‘‘ انہوں نے بلند آواز سے کہا۔’’تم ایک شرمناک مظاہرہ کر چکے ہو۔‘‘ثابت بن قیس نے دشمن کی طرف اشارہ کر کے کہا۔’’اے میرے اﷲ!جس کسی کی یہ لوگ عبادت کرتے ہیں میں اس پر لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘انہوں نے مجاہدین کی طرف منہ کرکے کہا۔’’اے اﷲ!جو بری مثال میرے اس لشکر نے قائم کی ہے میں اس پر بھی لعنت بھیجتا ہوں۔‘‘اتنا کہہ کر ثابت بن قیسؓ نے نیام سے تلوار کھینچی اور گھوڑے کارخ دشمن کی طرف کے ایڑ لگادی۔ان کے آخری الفاظ یہ تھے۔’’دیکھو!میری تلوار دشمن کو مزہ چکھائے گی اور تمہیں ہمت اور استقلال کا نمونہ دکھائے گی۔‘‘ثابت بن قیس نے گھوڑے کو ایڑ لگائی اورخالدؓنے حملے کا حکم دے دیا۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ ثابت بن قیس کی تلوار ایسی شدت اور ایسی مہارت سے چل رہی تھی کہ جو ان کے سامنے آیا وہ پھر اپنے پاؤں پر کھڑا نظر نہ آیا۔ان کے جسم کا شاید ہی کوئی حصہ رہ گیا ہو گا جہاں دشمن کی تلوار برچھی یا انی نہ لگی ہو۔دشمن کی صفوں کے دور اندر جاکر ثابت بن قیس گرے اور شہید ہو گئے۔اپنے لشکر کیلئے وہ واقعی ہمت اور استقلال کابے مثال نمونہ پیش کرگئے۔ محمد حسین ہیکل نے بعض مؤرخوں کے حوالے دے کر لکھا ہے کہ خالدؓ کے لشکر نے قسمیں کھالی تھیں کہ اب ان کی لاشیں ہی اٹھائی جائیں گی۔وہ زندہ نہیں نکلیں گے۔ایک مؤرخ نے لکھا ہے کہ انہوں نے قسم کھائی کہ ہاتھ میں ہتھیار نہ رہا ،ترکش میں تیر نہ رہا تو وہ دانتوں سے لڑیں گے۔خالدؓ نے یہ مثال قائم کی کہ چند ایک جانباز چن کر اپنے ساتھ اس عزم سے کر لئے کہ جہاں لڑائی زیادہ خطرناک ہوگی وہاں ان جانبازوں کے ساتھ جا کودیں گے۔انہوں نے اپنے جانبازوں سے کہا۔ُ’’تم سب میرے پیچھے رہنا۔‘‘آگے وہ خود رہنا چاہتے تھے۔ دوبارہ لڑائی شروع ہوئی تو نئی مصیبت آن پڑی ۔آندھی آ گئی جس کا رخ مجاہدینِ اسلام کی طرف تھا۔ کچھ مؤرخ لکھتے ہیں کہ یہ صحرائی آندھی نہیں تھی بلکہ تیز ہوا تھی۔میدانِ جنگ میں گھوڑوں اور پیادوں کی اڑاتی ہوئی گرد زمین سے اٹھتے بادلوں کی مانند تھی۔تیز وتند ہوا کا رخ مجاہدین کی طرف تھا اس لئے مٹی اور ریت مسلمانوں کی آنکھوں میں پڑتی تھی۔بدر میں کفار کے ساتھ ایسا ہی ہوا تھا ۔ہوا تیز ہوتی جا رہی تھی۔کچھ مجاہدین نے زیدؓ بن خطاب سے پوچھا کہ ایسی آندھی میں وہ کیا کریں؟’’خدا کی قسم!‘‘زیدؓ بن خطاب نے گرجدار آواز میں کہا۔’’میں اپنے اﷲ سے دعا کرتا ہوں کہ مجھے دشمن کو شکست دینے تک زندہ رکھے……اے اہلِ مکہ و مدینہ! آندھی سے مت ڈرو۔سروں کو ذرا جھکا کہ رکھو۔اس طرح ریت اور مٹی تمہاری آنکھوں میں نہیں پڑے گی۔پیچھے نہ ہٹ جانا۔ہمت سے کام لو۔استقلال کو ہاتھ سے نہ جانے دو۔آندھی اور طوفان تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔‘‘زیدؓ بن خطاب سالار تھے۔انہوں نے مجاہدین کیلئے یہ مثال قائم کی کہ تلوار لہراتے ہوئے دشمن پر ٹوٹ پڑے۔ان کے دستے ان کے پیچھے گئے۔زیدؓ بن خطاب تلوار چلاتے ہوئے دورتک نکل گئے اور شہید ہو گئے۔ایک اور سالار ابو حذیفہ ؓنے بھی یہی مثال قائم کی۔وہ یہ نعرہ لگا کر دشمن پر ٹوٹ پڑے ۔’’اے اہلِ قرآن !اپنے اعمال سے قرآنِ حکیم کی ناموس کو بچاؤ۔‘‘وہ بھی مقابلے میں آنے والے ہر مرتد کو کاٹتے گئے ،زخم کھاتے گئے اور شہید ہو گئے۔ان سالاروں نے جانیں دے کر مجاہدین کے عزم میں جان ڈال دی اور وہ آسمانی بجلیوں کی طرح دشمن پر ٹوٹ پڑنے لگے۔اس کے باوجود مسیلمہ کالشکر قائم و دائم تھا۔خالدؓ نے میدانِ جنگ کا جائزہ لیا۔یہ ایسی جنگ تھی کہ جس میں چالیں چلنے کی ذرا سی بھی گنجائش نہیں تھی۔یہ آمنے سامنے کی ٹکرتھی۔اس میں صرف ذاتی شجاعت ہی کام آ سکتی تھی۔خالدؓ نے میدانِ جنگ کا جائزہ لیتے ہوئے دیکھا کہ مسیلمہ کے محافظ اس کی حفاظت کیلئے جانیں قربان کر رہے ہیں ۔خالدؓ کو فتح کاایک یہی طریقہ نظر آیا کہ مسیلمہ کو مار دیا جائے۔یہ کام اتنا سہل نہیں تھا جتنی آسانی سے دماغ میں آیا تھا،لیکن خالدؓ ناممکن کو ممکن کر دکھانے کیلئے اس طرح مسیلمہ کی طرف بڑھے کہ ان کے جانبازوں نے ان کے گرد گھیرا ڈال رکھا تھا۔جب قریب گئے تو مسیلمہ کے محافظوں نے ان پر ہلّہ بول دیا۔خالدؓ کے قریب جو آیا وہ زندہ نہ رہا مگر مسیلمہ تک پہنچنا ممکن نظر نہیں آتا تھا۔ خالدؓ کے جانبازوں نے اپنی ترتیب بکھرنے نہ دی ۔ایک موزوں موقع دیکھ کر خالدؓ نے اپنے جانبازوں کو مل کر ہلّہ بولنے کا حکم دے دیا۔خالدؓ خود بھی ہلّے میں شریک ہو گئے۔کچھ محافظ پہلے ہی مر چکے تھے یا زخمی ہو کر تڑپ رہے تھے۔خالدؓ کے جانبازوں کا ہلّہ اتنا شدید تھا کہ مسیلمہ کے محافظ بوکھلا گئے۔میدانِ جنگ کی صورتِ حال یہ ہو گئی تھی کہ مجاہدین جو فتح یا موت کی قسمیں کھا چکے تھے وہ مرتدین پر ایک خوف بن کر چھا رہے تھے۔مسیلمہ کو اپنی حفاظت کیلئے کوئی اور محافظ نہیں مل سکتا تھا۔مسلمانوں کے نعروں کے ساتھ آندھی کی چیخیں میدانِ جنگ کی ہولناکی میں اضافہ کر رہی تھیں۔مسیلمہ کے بچے کھچے محافظ گھبرانے لگے۔خالدؓ کے جانبازوں نے ان کا حلقہ توڑ دیا۔’’یا نبی!‘‘ کسی محافظ نے کہا۔’’اپنا معجزہ دکھا۔‘‘’’اپنا وعدہ پوراکر ہمارے نبی!‘‘ایک اور محافظ نے کہا۔’’تیرا وعدہ فتح کا تھا۔‘‘مسیلمہ نے موت کو اپنی طرف تیزی سے بڑھتے دیکھا تو اس نے بلند آواز سے اپنے محافظوں سے کہا۔’’اپنے حسب و نسب اور اپنی ناموس کی خاطر لڑو۔‘‘اور وہ بھاگ اٹھا۔دشمن کا قلب ٹوٹ گیا۔پرچم غائب ہو گیا تو مرتدین میں شور اٹھا۔’’نبی میدان چھوڑ گیا ہے……رسول بھاگ گیا ہے۔‘‘اس پکار نے مرتدین کے حوصلے توڑ ڈالے اور وہ میدان سے نکلنے لگے۔تھوڑی سی دیر میں مرتدین میدان چھوڑ گئے ،لیکن میدانِ جنگ کی کیفیت یہ تھی کہ خون ندی کی طرح ایک طرف کو بہنے لگا۔جہاں یہ معرکہ لڑا گیا وہ تنگ سی گھاٹی تھی۔اس کا کوئی نام نہ تھا۔اس معرکے نے اسے ایک نام دے دیا۔یہ تھا شعیب الدم جس کے معنی ہیں خونی گھاٹی۔دونوں لشکروں کا جانی نقصان اتنا زیادہ ہوا کہ میدان میں لاشوں کے اوپر لاشیں پڑی تھیں۔زخمی تو ہزاروں کی تعداد میں تھے۔مسیلمہ کے لشکر کا جانی نقصان اس کی تعداد کی زیادتی کی وجہ سے زیادہ تھا۔مسلمانوں کا جانی نقصان بھی کچھ کم نہ تھا۔کئی زخمی گھوڑے بے لگام ہوکر لاشوں اور زخمیوں کو روند رہے تھے۔انہوں نے کئی اچھے بھلے آدمیوں کو کچل ڈالا۔مسیلمہ کا لشکر جب بددل ہو کربھاگا تو مجاہدین ان کے تعاقب میں گئے۔مسیلمہ کا ایک سالار محکم بن طفیل اپنے لشکر کو پکار رہا تھا۔’’بنو حنیفہ! باغ کے اندر چلے جاؤ۔‘‘انہیں اب باغ میں ہی پناہ مل سکتی تھی۔اس باغ کا نام حدیقۃ الرحمٰن تھا جو وسیع و عریض تھا۔اس کے اردگرد دیوار تھی۔مسیلمہ اس باغ میں چلا گیا تھا۔باغ میدانِ جنگ کے بالکل قریب تھا۔مسیلمہ کے لشکر کے بچے کھچے آدمی بھی اس میدان میں داخل ہو گئے۔جب مجاہدین باغ کے قریب پہنچے تو باغ کے دروازے بند ہو چکے تھے ۔مؤرخین کے مطابق باغ میں پناہ لینے والے مرتدین کی تعداد سات ہزار تھی۔خالدؓ گھوڑا دوراتے باغ کے اردگرد گھوم گئے ۔انہیں اندر جانے کا کوئی رستہ نظر نہ آیا۔اندر جانا ضروری تھا۔مسیلمہ کو قتل کرنا تھا کہ یہ فتنہ ہمیشہ کیلئے ختم ہو جائے۔اﷲ کے ایک مجاہد براءؓ بن مالک آگے بڑھے اور بولے۔’’مجھے اٹھا کے دیوار کے اندر پھینک دو۔خدا کی قسم! دروازہ کھول دوں گا۔‘‘براءؓ بن مالک صحابہ کرامؓ میں خصوصی درجہ رکھتے تھے ۔کسی نے بھی یہ گوارا نہ کیا کہ انہیں باغ کے اندر پھینک دیا جائے لیکن انہوں نے اتنا زیادہ اصرار کیا کہ دو تین مجاہدین نے انہیں اپنے کندھوں پر کھڑا کر دیااور وہ دیوار پر جاکر باغ میں کود گئے۔باغ میں دشمن کے سات ہزار آدمی تھے اور براءؓ اکیلے۔ سات ہزار کفار میں ایک مسلمان کا کود جانا ایسے ہی تھا جیسے کوئی آتش فشاں پہاڑ کے دہانے کے اندر کود گیا ہو۔براءؓ بن مالک سراپا عشق تھے جو آتشِ نمرود میں کود گئے تھے۔انہوں نے باغ کا دروازہ اندر سے کھولنے کا بے حد خطرناک کام کسی کے حکم کے بغیر اپنے ذمے لے لیا تھا۔انہوں نے دروازے کے قریب سے دیوار پھاندی تھی۔سات ہزار بنو حنیفہ جو باغ کے اندر چلے گئے تھے اور جنہوں نے دروازہ بند کر لیا تھا ،ابھی افراتفری کے عالم میں تھے۔انہیں معلوم تھا کہ مسلمان ان کے تعاقب میں آگئے ہیں اور انہوں نے باغ کو محاصرے میں لے لیا ہے لیکن وہ یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ کوئی مسلمان اکیلا دیوار پھاند کر اندر آنے کی جرات کر سکتا ہے۔’’وہ کون ہے؟‘‘کسی نے بڑی بلند آواز میں کہا۔’’وہ دروازہ کھول رہا ہے۔‘‘’’کاٹ دو اسے!‘‘کوئی مرتد للکارا۔’’گردن مار دو۔‘‘ایک اور للکارا۔’’پکڑ لو،مار ڈالو۔‘‘ایک شور اٹھا۔بے شمارمرتد تلوریں اور برچھیاں تانے براءؓ بن مالک کی طرف دوڑے۔براءؓ ابھی دروازہ کھول نہیں سکے تھے ۔انہوں نے تلوار نکالی اور بنو حنیفہ کا جو آدمی سب سے پہلے ان تک پہنچا تھا۔اسے براءؓ کی تلوار کے بھرپور وار نے وہیں روک دیا۔وہ لڑکھراتا ہوا پیچھے ہٹا۔براءؓ نے ایک بار پھر دروازہ کھولنے کی کوشش کی۔وہ بروقت پیچھے کو گھومے بیک وقت دو آدمیوں نے ان پر برچھیوں کے وار کیے تھے۔براءؓ پھرتی سے ایک طرف ہو گئے دونوں برچھیوں کی انیاں جو براءؓ کے جسم میں اترنے کیلئے آئی تھیں دروازے میں اتر گئیں۔براءؓ نے بڑی تیزی سے تلوار چلائی اور دونوں آدمیوں کو اس وقت گھائل کر دیا جب وہ دروازے میں سے برچھیاں نکال رہے تھے۔کئی مرتد براءؓ بن مالک پر مل کر حملہ کرتے تھے اور براءؓ دروازے کے ساتھ پیٹھ لگائے بڑی تیزی سے تلوار چلا رہے تھے ان کی زبان سے دو ہی نعرے گرجتے تھے ’’اﷲ اکبر۔۔ محمد رسول اﷲ ‘‘وہ وار روکتے وار کرتے اور دروازے کھولنے کی کوشش کرتے تھے۔تاریخ میں لکھا ہے کہ براءؓ بن مالک نے بنو حنیفہ کے بہت سے آدمیوں کو ہلاک اور زخمی کردیا اور دروازہ کھول دیا۔بعض مؤرخوں نے لکھا ہے کہ براءؓ بن مالک کے پیچھے چند اور مسلمان دیوار پھاند کر اندر چلے گئے تھے،جنہوں نے تیروں سے مرتدین کو دور رکھا اور براءؓ بن مالک نے دروازہ کھول دیا۔اس پر تمام مؤرخ متفق ہیں کہ سب سے پہلے براءؓ بن مالک دیوار پھاند کر اندر گئے تھے۔دروازہ کھلتے ہی مسلمان اس طرح دروازے میں سے اندر جانے لگے جیسے نہر کا کنارا کہیں سے ٹوٹ گیا ہو۔بہت سے مسلمان خالدؓ کے کہنے پر دیوار پر چڑھ گئے یہ سب تیر انداز تھے انہوں نے بنو حنیفہ پر تیروں کا مینہ برسا دیا۔ مسلمان جو اند رچلے گئے تھے وہ بنو حنیفہ پر قہر کی مانند ٹوٹے۔مرتدین کا قتلِ عام ہونے لگا ۔ان کے بھاگ نکلنے کے راستے مسدود ہو چکے تھے وہ اب زندہ رہنے کیلئے لڑ رہے تھے۔ ان کا نبی خواہ جھوٹا ہی تھا ان کے ساتھ تھا۔اس کی للکار سنائی دے رہی تھی اور وہ بڑی بے جگری سے لڑ رہے تھے۔

مرتدین کی تعداد بہت زیادہ تھی جو بڑی تیزی سے کم ہوتی جا رہی تھی ۔باغ خون سے سیراب ہو رہا تھا ۔خالدؓ کے ذہن میں یہی ایک ارادہ تھا کہ مسیلمہ کو قتل کیا جائے ورنہ لڑائی ختم نہیں ہوگی لیکن مسیلمہ کہیں نظر نہیں آ رہا تھا۔مسیلمہ کذاب خالدؓ کو تو نظر نہیں آ رہا تھا ایک اور انسان تھا جس کی عقابی نگاہوں نے مسیلمہ کو دیکھ لیاتھا۔ وہ حبشی غلام وحشی ؓبن حرب تھے۔برچھی نشانے پر پھینکنے میں وحشی کا مقابلہ کرنے والا کوئی نہ تھا۔اس نے ایک بار اپنی برچھی کا کمال سب کو دکھایا تھا ۔ایک رقاصہ کے سر پر ایک کڑا جوکانچ کے اوسط سائز کا تھا اس کے بالوں کے ساتھ اس طرح باندھ دیا گیا تھا کہ کڑا اس کے سر پر کھڑا تھا۔ وہ ناچنے لگی اور وحشی برچھی لے کر چند قدم دور کھڑا ہو گیا۔ اس نے برچھی ہاتھ میں اٹھاکر تولی ،رقاصہ رقص کر رہی تھی ۔جونہی رقاصہ موزوں زاویہ پر آئی ،وحشی نے تاک کر برچھی پھینکی،برچھی رقاصہ کے سر پر کھڑے کڑے میں سے گزر گئی۔جنگِ احد میں وحشی بن حرب نے رسول کریمﷺ کے چچا حمزہ ؓبن عبدالمطلب کو اسی طرح برچھی پھینک کر شہید کیا اور ابو سفیان کی بیوی ہند سے انعام وصول کیاتھا۔اس وقت وحشی مسلمان نہیں ہوا تھا۔فتحِ مکہ کے بعد اس نے اسلام قبول کرلیا تھا۔ اب مسیلمہ کذاب کے خلاف جنگ میں وحشی ؓمسلمانوں کے لشکر میں تھا۔ باغ کے خونریز معرکے میں اس نے مسیلمہ کو دیکھ لیا تھا۔ اس نے خالدؓ کی زبان سے سن لیا تھا کہ مسیلمہ کوختم کیے بغیر لڑائی ختم نہیں ہو گی۔وحشیؓ مسیلمہ کی تلاش میں دشمن کی تلواروں اور برچھیوں سے اور اپنے ساتھیوں کے تیروں سے بچتا، لاشوں اور تڑپتے ہوئے زخمیوں سے ٹھوکریں کھاتا سارے باغ میں گھوم گیا اوراسے مسیلمہ نظر آگیا۔مسیلمہ اپنے محافظوں کے نرغے میں تھا جو اس قدر جانبازی کامظاہرہ کر رہے تھے کہ کسی مسلمان کوقریب نہیں آنے دیتے تھے۔وحشی کو قریب جانے کی ضرورت نہیں تھی ۔مسلمان مسیلمہ کے محافظوں کے ساتھ لڑ رہے تھے اور ان کے اردگرد وحشیؓ گھوم رہا تھا کہ مسیلمہ پر برچھی پھینکنے کا موزوں موقع اور صحیح زاویہ مل جائے۔ اسے ایک موقع مل گیا۔لیکن اس کے راستے میں ایک خاتون اُم عمارہ ؓآ گئیں وہ بھی مسیلمہ تک پہنچنے کی سعی کر رہی تھیں ۔وہ اپنے بیٹے کے ساتھ تھیں۔ وہ مسیلمہ کے محافظوں کا حصار توڑنے کیلئے آگے بڑھیں تو ایک مرتد کی تلوار نے انہیں روک لیا ۔اُم عمارہ ؓنے اپنی تلوار سے اسے گرانے کی بہت کوشش کی لیکن مرتد کے ایک وار نے اُم عمارہ ؓکا ایک ہاتھ صاف کاٹ دیا ۔ان کے بیٹے نے تلوار کے ایک ہی وار سے اس مرتد کو مار گرایا اور یہ مجاہد اپنی ماں کو ساتھ لے گیا ۔ وحشیؓ کو موقع اور زاویہ مل گیا۔ اس نے برچھی کو ہاتھ میں تولا اور تاک کرپوری طاقت سے برچھی مسیلمہ پر پھینکی ۔برچھی مسیلمہ کے پیٹ میں اتر گئی ۔اس کے ہاتھوں نے برچھی کو پکڑ لیا لیکن برچھی اپنا کام کر چکی تھی۔ مسیلمہ کے ہاتھوں میں برچھی کو پیٹ سے نکالنے کی سکت نہیں تھی ۔مسیلمہ گرا ،اسے مرنا ہی تھا۔لیکن ابو دجانہؓ نے اسے تڑپ تڑپ کر مرنے کی اذیت سے اس طرح بچا لیا کہ اس کا سرتلوار کے ایک زور دار وار سے اس کے دھڑ سے الگ کر دیا۔ابو دجانہؓ مسیلمہ کی سر کٹی لاش ابھی دیکھ ہی رہے تھے کہ مسیلمہ کے ایک محافظ نے پیچھے سے اتنا سخت وار کیا کہ ابو دجانہؓ گرے پھر اٹھ نہ سکے اور شہید ہو گئے۔’’بنو حنیفہ……‘‘ ایک مرتد گلا پھاڑ کر چلایا۔’’ہمارے نبی کو ایک سیاہ فام حبشی نے مار ڈالا ہے ۔‘‘مشہور مؤرخ ابنِ ہشام نے لکھا ہے کہ باغ کے اندر معرکے کی خونریزی میں یہ آوازیں سنائی دینے لگیں ۔’’نبی مارا گیا۔مسیلمہ قتل ہو گیا ہے۔‘‘ مسیلمہ کذاب کے قتل کا سہرا بلا شک و شبہہ وحشی ؓبن حرب کے سر ہے۔ وحشی ؓکی زندگی عجیب گزری ہے۔ بتایا جا چکا ہے کہ اس نے بالکل اسی طرح جس طرح اس نے مسیلمہ کو برچھی کھینچ کر قتل کیا تھا ،حمزہؓ کو جنگِ احد میں شہید کیا تھا۔جب مسلمانوں نے مکہ فتح کرلیا تو رسول اﷲﷺ نے مکہ کے چند لوگوں کو جنگی مجرم قرار دیا تھاان میں وحشی کا نام بھی تھا۔اسے کسی طرح پتا چل گیا تھا کہ اسے مسلمان زندہ نہیں رہنے دیں گے وہ مکہ سے نکل گیا اور طائف میں قبیلہ ثقیف کے ہاں جا پناہ لی۔قبیلہ ثقیف کو مسلمانوں نے جس طرح شکست دی تھی وہ بیان ہو چکا ہے ،اس قبیلے نے اسلام قبول کیا اور وحشی ؓنے بھی اسلام قبول کر لیااور بیعت کیلئے اور اپنی جان بخشی کیلئے رسولِ کریمﷺ کے حضور گیا ۔آپﷺ نے اسے کئی بر س پہلے دیکھا تھا۔شاید حضورﷺ اسے اچھی طرح پہچان نہ سکے۔’’کیا تم وہ وحشی ہو ؟‘‘رسولِ کریمﷺ نے اس سے پوچھا۔’’وہی وحشی ہوں۔‘‘وحشی نے جواب دیا ۔’’اور اب آپﷺ کو اﷲکا رسول مانتا ہوں۔‘‘۔رسولِ کریمﷺ نے اس کی جان بخشی کردی۔وحشیؓ بن حرب رسولِ کریمﷺ کا گرویدہ ہو چکا تھا۔اُس کے سر پر حمزہؓ کا قتل تھا جس کاوحشی کو بہت دکھ تھا۔وہ مکہ سے چلا گیا اور اس نے دو سال طائف کے علاقے میں کبھی یہاں کبھی وہاں گزارے۔اس پر خاموشی طاری رہتی اور وہ سوچوں میں گم رہتا تھا۔ اس نے اسلام کودل سے قبول کر لیا تھا وہ سچا مسلمان رہا۔ دو سال بعد اپنے بے چین ضمیر کو مطمئن کرنے کیلئے وہ اسلامی لشکر میں شامل ہو گیا اور اس نے خالدؓ کے دستوں میں رہنا پسند کیا۔یمامہ کی جنگ میں اسے پتا چل گیا تھا کہ خالدؓ مسیلمہ کو ہلاک کرنے کی کوشش میں ہیں ۔یہ فرض اس نے اپنے ذمہ لیا اور فرض پوراکر دیا۔اسکے بعد وحشی خالدؓ کے دستوں میں رہااور کئی لڑائیوں میں اس نے بہادری کے جوہر دکھائے ۔شام کی فتح کے بعد وہ اسلامی لشکر سے الگ ہوکر حمص میں گوشہ نشین ہو گیا۔ مؤرخوں نے لکھا ہے کہ ایسے معلوم ہوتا تھا جیسے حمزہ ؓ کا قتل بہت بڑا گناہ بن کر اس کے ضمیر پر سوار ہو گیا ہو۔ اس نے شراب نوشی شروع کر دی جو عیاشی نہیں تھی بلکہ وہ اپنے آپ کو فراموش کرکے الگ پڑ ارہتا تھا۔حضرت عمرؓ نے اپنے دورِ خلافت میں اسے شراب نوشی کے جر م میں اسّی کوڑوں کی سزا دی تھی جس کا اس پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا،وہ شراب پیتا رہا۔زندگی کے آخری دنوں میں اسے ایسی شہرت ملی کہ لوگ اسے عقیدت سے ملتے تھے مگر وہ ہوش میں کم ہی ہوتا ۔جب کبھی ہوش میں ہوتا تو لوگوں کو حمزہؓ اور مسیلمہ کے قتل کے واقعات سناتا۔لوگ اس سے یہی واقعات سننے کیلئے جاتے تھے۔اس نے کئی بار اپنی برچھی ہاتھ میں لے کر کہا۔’’ میں جب مسلمان نہیں تھا تو اس برچھی سے میں نے ایک بہت ہی اچھے آدمی کو قتل کیا تھا اور میں مسلمان ہوا تو اس برچھی سے ایک بہت ہی برے آدمی کو قتل کیا۔‘‘(قربان جائیے اﷲ کی حکمت پہ۔۔۔رسولِ کریم ﷺ کی رحمت پہ۔۔۔اور وحشیؓ کے عشق و ایمان کی عظمت پہ۔۔۔) اُم عمارہ ؓایک عظیم خاتون تھیں ۔جنگِ احد میں ان مسلمان عورتوں کے ساتھ تھیں جو زخمیوں کی مرہم پٹی اور دیکھ بھال کیلئے اپنے لشکر کے ساتھ گئی تھیں۔اس لڑائی میں ایسی صورت پیدا ہو گئی کہ میدان پر قریش چھا گئے انہوں نے رسول ِکریمﷺ پر ہلّے بولنے شروع کر دیئے ۔صحابہ کرامؓ نے رسول اﷲﷺکے گرد گھیرا ڈال رکھاتھا۔مگر دشمن کے ہلّے اتنے شدید تھے کہ آپﷺ کے محافظوں کا گھیرا ٹوٹ گیا۔ قریش کا ایک آدمی ابنِ قمہ رسول کریمﷺ تک پہنچ گیا۔رسولِ کریمﷺ کے دائیں مصعب ؓبن عمیر تھے اور اس وقت اُم عمارہؓ بھی قریب ہی تھیں ۔انہوں نے جب رسول ِ کریم ﷺ کو خطرے میں دیکھا تو زخمیوں کو پانی پلانے اور انہیں اٹھانے کا کام چھوڑ کر رسولِ اکرمﷺ کی طرف دوڑیں،انہوں نے ایک لاش یا شدید زخمی کی تلوار لے لی۔ابنِ قمہ حضورﷺ پر حملہ کرنے کے بجائے آپﷺ کے محافظ مصعبؓ کی طرف گیا۔ مصعبؓ نے اس کے ساتھ مقابلہ کیا ۔اُم عمارہؓ نے ابنِ قمہ پر تلوارکا وار کیا جو اس کے کندھے پر پڑا مگر ابنِ قمہ نے ذرہ بکتر پہن رکھی تھی۔ اس لئے تلوار اس کا کچھ نہ بگاڑ سکی ۔ابن قمہ نے گھوم کر اُم عمارہ ؓپر جوابی وار کیا جو اس خاتون کے کندھے پر پڑا اور اتنا گہرا زخم آیا کہ وہ گر پڑیں ۔ابنِ قمہ نے دوسرا وار نہ کیا کیونکہ وہ رسول ِ اکرمﷺپرحملہ کرنا چاہتا تھا۔اب جنگِ یمامہ میں ام عمارہؓ اپنے بیٹے کے ساتھ آئی تھیں، یہاں ان کی دلیری کا یہ عالم کہ مسیلمہ کو قتل کرنے کا خطرہ مول لے لیامگر ان کاایک ہاتھ کٹ گیا۔وہ دسمبر ۶۳۲ء کے آخری دنوں میں سے ایک دن تھا۔حدیقۃ الرحمٰن سر سبز اور ہرا بھرا باغ ہوا کرتا تھا۔جو لوگوں کو پھل دیا کرتا تھا ۔وہاں تھکے ماندے مسافر آ کر سستایا کرتے تھے ۔وہاں پھولوں کی مہک تھی مگر اب وہ حدیقۃ الموت بن چکا تھا۔اس کا حسن خون میں ڈوب گیا تھا۔ اس کی رعنائیاں لاشوں تلے دب گئی تھیں۔جہاں پرندے چہچہاتے تھے وہاں زخمیوں کی چیخ و پکار تھی ۔زخمی گھوڑے بے لگام بھاگ دوڑ رہے تھے ۔ان کے ٹاپ یوں سنائی دے رہے تھے جیسے موت بے ہنگم قہقہے لگا رہی ہو۔جب شور اٹھا کہ مسیلمہ مارا گیا ہے تو مرتدین نکل بھاگنے کا راستہ دیکھنے لگے وہ تو پہلے ہی بھاگے ہوئے اس باغ میں آئے تھے ۔ان پر پہلے ہی مسلمان دہشت بن کر طاری ہو چکے تھے۔ باغ میں وہ ہزاروں کی تعداد میں مارے گئے تھے۔ وہ ایسی جنگ لڑ رہے تھے جو وہ پہلے ہی ہار چکے تھے۔ اب ان کے کانوں میں یہ صدائیں پڑیں کہ ان کا نبی مارا گیا ہے تو ان کی رہی سہی سکت بھی ختم ہو گئی۔ ان میں جو ابھی تک لڑ رہے تھے وہ باغ سے نکل بھاگنے کی کوشش تھی ۔شکست ان کے ذہنوں پر مسلط ہو چکی تھی۔وہاں سے کچھ دور مسلمانوں کی لٹی ہوئی تباہ حال خیمہ گاہ میں صرف ایک خیمہ صحیح سلامت کھڑا تھا، یہ خالدؓکا خیمہ تھا ۔بنو حنیفہ باقی تمام خیمے پھاڑ کر پرزے پرزے کر گئے تھے۔ وہ خالدؓ کے خیمے میں بھی گئے تھے لیکن وہاں ان کااپنا سردار مجاعہ بن مرارہ زنجیروں میں جکڑا بیٹھا تھا۔وہ لیلیٰ کو قتل کرنا یا اپنے ساتھ لے جانا چاہتے تھے لیکن مجاعہ نے انہیں یہ کہہ کر روک دیا تھا کہ پہلے مردوں کی طرف جاؤ ابھی عورتوں کو پکڑنے کا وقت نہیں۔وہ سب اپنے سردار کے حکم سے چلے گئے تھے۔اس طرح خالدؓ کا خیمہ محفوظ رہا تھا ۔ خالدؓ کی بیوی لیلیٰ خیمے کے باہر ایک اونٹ پر بیٹھی تھی۔ اسے کہیں جانا نہیں تھا ۔وہ اونچی ہوکر میدانِ جنگ کو دیکھ رہی تھی ۔ میدان خالی ہو چکا تھا ۔اسے باغ کی دیوار اور درختوں کے بالائی حصے نظر آ رہے تھے لیکن یہ نظر نہیں آ رہا تھا کہ اندر کیا ہو رہا ہے ۔وہ اونٹ سے کود آئی اورخیمہ میں چلی گئی۔’’ابنِ مرارہ!‘‘لیلیٰ نے مجاعہ سے کہا۔’’تمہارا نبی میدان خالی کر گیا ہے۔خدا کی قسم !بنو حنیفہ بھاگ گئے ہیں ۔‘‘ ’’میں نے کبھی نہیں سنا کہ تیرہ ہزار نے چالیس ہزار کو شکست دی ہے۔‘‘ مجاعہ نے کہا ۔’’میدان چھوڑ جانا مسیلمہ کی چال ہو سکتی ہے پسپائی نہیں۔‘‘’’سب باغ کے اندر ہیں۔‘‘ لیلیٰ نے کہا۔ ’’اگر سب باغ میں ہیں تو وہاں سے زندہ صرف بنو حنیفہ نکلیں گے ۔‘‘مجاعہ بن مرارہ نے کہا۔’’اگر مسلمان باغ میں میرے قبیلے کے پیچھے چلے گئے ہیں تو سمجھ لو کہ انہیں موت باغ میں لے گئی ہے۔ بنو حنیفہ ناقابلِ تسخیر ہیں ۔‘‘’’آج فیصلہ ہو جائے گا ۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’ٹھہرو…… مجھے گھوڑے کے ٹاپ سنائی دے رہے ہیں ،میرے خاوند کا قاصد ہو گا۔‘‘وہ خیمے سے نکل کے کھڑی ہو گئی اور بولی۔’’ وہ فتح کی خبرلایا ہو گا۔وہ آ رہاہے ۔‘‘گھوڑا جو سر پٹ دوڑا آ رہا تھا لیلیٰ کے قریب آ رکا اورسوار گھوڑے سے کود آیا۔ وہ خالدؓ تھے، لیلیٰ انہیں اکیلا دیکھ کر گھبرائی ۔سالار کے اکیلے آنے کا مطلب یہی ہو سکتاتھا کہ اس کی سپاہ تتر بتر ہو گئی ہے ۔ ’’میدانِ جنگ کی کیا خبر ہے ؟‘‘لیلیٰ نے پوچھا۔’’آپ اکیلے کیوں آئے ہیں؟‘‘’’خدا کی قسم! میں نے بنو حنیفہ کو کاٹ دیا ہے۔‘‘خالدؓ نے جوشیلی آواز میں کہا۔’’مسیلمہ کذاب مارا گیا ہے اور وہ قیدی کہاں ہے؟‘‘لیلیٰ نے دونوں ہاتھ اٹھا کر آسمان کی طرف دیکھا اور سکون کی آہ بھر کر بولی ۔’’مجاعہ کہتا ہے کہ بنو حنیفہ ناقابلِ تسخیر ہیں ۔‘‘’’میں پوچھتا ہوں وہ کہاں ہے؟‘‘خالدؓ نے ہانپتی ہوئی آواز میں پوچھا۔’’کیا وہ اسے چھڑا کر لے گئے ہیں ؟‘‘’’میں یہیں ہوں ولید کے بیٹے! ‘‘خیمے کے اندر سے مجاعہ کی آوازآئی۔’’میں تیری اس بات کو سچ نہیں مانوں گا کہ مسیلمہ مارا گیا ہے۔‘‘’’میرے ساتھ چل مجاعہ۔‘‘خالدؓ نے خیمے کے اندر جاکر کہا۔’’ہو سکتا ہے تیری بات سچ ہو۔میں مسیلمہ کو نہیں پہچانتا۔تیرا قبیلہ یہ شور مچاتا بھاگ گیا ہے کہ مسیلمہ مارا گیا ہے ۔میرے ساتھ آ اور لاشوں میں اس کی لاش دیکھ کر بتا کہ یہ ہے اس کی لاش ۔‘‘ ’’پھر کیا ہو گا؟‘‘مجاعہ نے پوچھا۔’’مجھے آزاد کر دو گے؟‘‘’’خدا کی قسم!‘‘ خالدؓنے کہا۔’’میں اس قبیلے کے ایک سردار کو آزاد نہیں کروں گا جو میرے دین کا دشمن ہے۔رسالت میں شرکت کا دعویٰ کرنے والے اور اس دعویٰ کو ماننے والوں کو میں کیسے بخش دوں؟اﷲکے سوا تجھے کوئی نہیں بخش سکتا ۔‘‘’’او ولید کے بیٹے!‘‘مجاعہ بن مرارہ نے کہا۔’’میں نے اسے کب نبی مانا تھا؟وہ چرب زبانی اور شعبدہ بازیوں سے نبی بن گیا تھااور تو نے دیکھ لیا ہے کہ کتنا بڑا لشکر اس کا مرید ہو گیا تھا۔ اگر میں اسے نبی نہ مانتا تو وہ میرے سارے خاندان کو زندہ جلا دیتا اور یہ وجہ بھی تھی کہ میں اپنے قبیلے سے اپنے آپ کو کاٹ نہیں سکتا تھا۔اگر تو میرے قتل کا حکم دے گا تو یہ ایک بے گناہ کا قتل ہو گا۔‘‘’’اِس نے مجھے اپنے اُن لوگوں سے بچایا ہے جو ہماری خیمہ گاہ کو لوٹنے اور تباہ بربادکرنے آئے تھے ۔‘‘لیلیٰ نے خالدؓ سے کہا۔’’اِس نے اُنہیں کہا تھا کہ عورتوں کے پیچھے مت پڑو۔ پہلے آدمیوں کے پیچھے جاؤ۔وہ چلے گئے ۔اس نے انہیں یہ بھی نہ کہا کہ وہ اس کی بیڑیاں کھول دیں۔‘‘’’تو نے اس عورت پر رحم کیوں کیا ہے مجاعہ؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔ ’’کیونکہ ا س نے مجھے قید میں بھی وہی عزت دی ہے جومجھے اپنے قبیلے میں ملا کرتی ہے۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’میں نے اسے اس سلوک کا صلہ دیاہے جو اس نے میرے ساتھ کیا۔کیامیں ایسا نہیں کر سکتا تھا کہ اپنے آدمیوں سے کہتا کہ میری بیڑیاں کاٹ دیں پھر میں تیری اتنی حسین بیوی کو اپنی لونڈی بنالیتا۔‘‘’’بے شک! تو عزت کے لائق ہے مجاعہ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں تیری بیڑیاں اپنے ہاتھوں سے کاٹتا ہوں ۔پھر میرے ساتھ چلنا اور بتاناکہ مسیلمہ کی لاش کون سی ہے۔‘‘مجاعہ بن مرارہ خالدؓ کے ساتھ خیمہ سے نکلا تو اس کے پاؤں میں بیڑیاں نہیں تھیں ۔باہر خالدؓ کے دو محافظ کھڑے تھے ۔خالدؓ اکیلے ادھر آئے تھے۔ ان کے محافظ دستے کو پتا چلا کہ سپہ سالارکسی اور طرف نکل گئے ہیں تو دو محافظ ان کی تلاش میں ادھر ادھر گھوم پھر کر ان کی خیمہ تک جا پہنچے ۔وہ انہیں تنہا نہیں چھوڑ سکتے تھے ۔مجاعہ نے اپنی آنکھوں سے میدانِ جنگ کی حالت دیکھی ۔اسے اپنے قبیلے کی لاشوں کی سوا کچھ نظر نہیں آتا تھا۔’’مجھے یقین نہیں آرہا۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’دیکھ کر بھی یقین نہیں آ رہا۔کیا اتنے تھوڑے مسلمان اتنے بڑے لشکرکو شکست دے سکتے ہیں۔‘‘’’یہ فتح انسانوں نے نہیں پائی۔‘‘ خالدؓ نے کہا ۔’’یہ سچے عقیدے اور اﷲ کے سچے رسولﷺ کی فتح ہے۔بنو حنیفہ باطل عقیدے کیلئے میدان میں اترے تھے ،ہماری تلواروں نے اس عقیدے کو کاٹ دیا ہے اور اتنا بڑا لشکر میدان چھوڑ کر بھاگ گیا ہے۔‘‘وہ لاشوں اورتڑپتے زخمیوں میں سے گزرتے باغ تک چلے گئے۔اندر گئے تووہاں لاشوں پر لاشیں پڑی تھیں ۔مسلمان لاشوں کے ہتھیار اکھٹے کر رہے تھے ۔بنو حنیفہ میں سے جوزندہ تھے ،وہ ادھر ادھر بھاگ گئے تھے۔خالدؓ نے وحشی بن حرب کو بلایا اور اس سے پوچھا۔’’کہ اس شخص کی لاش کہاں ہے جسے اس نے مسیلمہ سمجھ کر ہلاک کیا ہے؟‘‘وحشی خالدؓ کو وہاں لے گیا جہاں مسیلمہ کی لاش پڑی تھی۔ اس نے لاش کی طرف اشارہ کیا۔’’نہیں!‘‘خالدؓنے کہا۔’’یہ ٹھنگنا اور بدصورت آدمی مسیلمہ نہیں ہو سکتا۔اس کے چہرے پر کراہیت ہے۔‘‘’’یہی ہے۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’یہ مسیلمہ کی لاش ہے۔‘‘’’یہ اس شخص کی لاش ہے جس نے ہزاروں لوگوں کو گمراہ کیاتھا ۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’یہ شخص اک فتنہ تھا ۔‘‘’’ابن ِولید!‘‘مجاعہ نے خالدؓ سے کہا۔’’فتح پر خوش نہ ہو۔تیرے لیے اصل مقابلہ تو ابھی باقی ہے۔‘‘’’کس کے ساتھ؟‘‘

’’بنو حنیفہ کے ساتھ۔‘‘مجاعہ نے جواب دیا۔’’یہ تو وہ لشکر تھا جو میدان میں آکر لڑا تھا۔ یہ تو چھوٹا سا ایک حصہ تھا ،اس سے بھی بڑا لشکر یمامہ میں قلعے کے اندر تیار کھڑاہے۔اپنی جانی نقصان کو دیکھ اور سوچ کہ تیری یہ سپاہ جو بہت کم ہو گئی ہے اتنے بڑے تازہ دم لشکر کا مقابلہ کرسکے گی؟تیرے سپاہی تھک کر چور ہو چکے ہیں ۔‘‘خالدؓ نے لاشوں سے اٹے ہوئے باغ میں نگاہ دوڑائی۔ ان کا لشکر واقعی لڑنے کے قابل نہیں رہا تھا۔جانی نقصان برداشت کے قابل نہیں تھا۔زخمیوں کی تعدا دبھی زیادہ تھی۔باقی لشکر کی جسمانی کیفیت یہ ہو چکی تھی کہ اﷲ کے سپاہی اتنے تھک گئے تھے کہ جہاں جگہ دیکھتے وہاں لیٹ جاتے اور سو جاتے تھے ۔وہ اپنے سے تین گنا زیادہ لشکر سے لڑے تھے ۔انہیں آرام کی ضرورت تھی۔’’اگر تو میری ایک تجویز مان لے تو میں قلعے میں جاکر صلح کی بات کرتا ہوں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’میراقبیلہمیری بات مان لے گا۔‘‘خالدؓ بڑے قابل سپہ سالار تھے۔جنگی قیادت میں اپنی مثال آپ تھے۔ رسول اﷲﷺ کے سچے عاشق تھے لیکن خود سر تھے اور زندہ دل بھی۔ وہ دشمن کو صرف شکست دے کراسے فتح نہیں سمجھتے تھے بلکہ اپنی فتح کو اس وقت مکمل سمجھتے تھے جب بھاگتے ہوئے دشمن کا تعاقب کرکے اس کی بستیوں کو اپنے قبضے میں لے لیتے تھے۔ ان کا اصول تھا کہ دشمن کو سانپ سمجھو اور اس کا سر کچل کربھی دیکھو کہ اس میں ذرا سی بھی حرکت باقی نہ رہ جائے ۔خود سری کو خالدؓ خوبی سمجھتے تھے ۔ان میں ڈسپلن بڑا ہی سخت تھا اس کے باوجود جہاں صورتِ حال پیچیدہ ہو جاتی خالدؓ اپنے نائب سالاروں سے مشورے اور تجاویز لیتے تھے۔ اب مجاعہ بن مرارہ نے صلح کی بات کی تو خالدؓ نے یہ جانتے ہوئے کہ دشمن پسپا ہو چکا ہے اس حقیقت کو بھی سامنے رکھا کہ ان کے مجاہدین لڑنے کے قابل نہیں رہے۔خالدؓ نے اپنے نائب سالاروں کو بلایا اورانہیں بتایا کہ بنو حنیفہ کا ایک سردار مجاعہ بن مرارہ صلح کی پیش کش کر رہا ہے۔’’اصل فتنہ تو ختم ہو چکاہے ۔‘‘عبداﷲؓ بن عمرؓ نے کہا ۔’’مسیلمہ کذاب کے مر جانے سے بنو حنیفہ کا دم خم ٹوٹ چکا ہے ۔میں تو یہ بہتر سمجھتا ہوں کہ یمامہ کا محاصرہ فوراً کر لیا جائے اور دشمن کو سستانے کی مہلت نہ دی جائے۔‘‘’’صرف یمامہ نہیں ۔‘‘عبدالرحمٰنؓ بن ابی بکر ؓنے کہا۔’’بنو حنیفہ میدانِ جنگ سے بھاگ کر ایسی جگہوں میں چھپ گئے ہیں جو چھوٹے چھوٹے قلعے ہیں ۔پہلے انہیں پکڑنا ضروری ہے۔اس کے بعد صلح کی بات ہو سکتی ہے۔‘‘’’صلح کی شرائط ہماری ہوں گی۔‘‘عبداﷲؓ بن عمرؓ نے کہا۔’’کیا تمہاری نظر اپنے لشکر کی جسمانی حالت پر بھی ہے؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ابھی شہیدوں اور زخمیوں کی گنتی ہو رہی ہے ۔خدا کی قسم! کسی جنگ نے ہمارا اتنا خون نہیں پیا،جتنا یہ جنگ پی گئی ہے اور شاید ہمیں ابھی اور خون دینا پڑے گا۔کیا تم بہتر سمجھو گے کہ دشمن کے جو آدمی اِدھر اُدھر چھپ گئے ہیں انہیں پکڑا جائے تاکہ یہ یمامہ کے قلعے میں جاکر ہمارے مقابلے میں نہ آ سکیں؟‘‘’’ہم یقیناً اسی کو بہتر سمجھتے ہیں۔‘‘عبدالرحمٰنؓ نے کہا۔’’اگر ہم انہیں پکڑ لیں تو صلح کی کیا ضرورت رہ جائے گی۔‘‘ ’’مجاعہ نے بتایا ہے کہ ان کے جس لشکر سے ہم لڑ چکے ہیں اس سے کچھ زیادہ لشکر یمامہ کے اندر موجود ہے۔‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’تم میری اس رائے کو صحیح مانو گے کہ ہماری سپاہ لڑنے کے قابل نہیں رہی ،تم دیکھ رہے ہو کہ ہمارے مجاہدین تھکن سے بے حال ہوکر جہاں بیٹھتے ہیں وہاں سو جاتے ہیں ۔ہمارے لیے کمک بھی نہیں رہی۔اگر کمک منگوائی بھی جائے تو بہت دن لگ جائیں گے ۔اتنے دنوں میں دشمن منظم ہو جائے گااور اس پر ہماری جو دہشت غالب آئی ہوئی ہے وہ اتر جائے گی۔‘‘’’ابنِ ولید!‘‘ عبداﷲؓ نے کہا۔’’تم نے خود بھی تو کچھ سوچا ہو گا؟‘‘’’ہاں ابنِ عمر!‘‘خالدؓنے جواب دیا۔’’میں نے سوچا ہے کہ اِدھر اُدھر بکھرے ہوئے دشمن کو پکڑا جائے پھر یمامہ کا محاصرہ کرلیا جائے اور اس دوران مجاعہ یمامہ میں جاکر اپنے سرداروں کے ساتھ صلح کی بات کرے۔صلح کیلئے ہم یہ شرط ضرور رکھیں گے کہ بنو حنیفہ شکست تسلیم کرکے ہتھیار ڈال دیں۔‘‘’’یہی بہتر ہے۔‘‘عبدالرحمٰنؓ نے کہا۔’’میں بھی اسی کو بہتر سمجھتا ہوں۔‘‘عبداﷲؓ نے کہا۔’’پھر یہ کام ابھی شروع کر دو۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’دستوں کو مختلف سمتو ں میں روانہ کردو اور انہیں کہو کہ بنو حنیفہ کا کوئی آدمی عورت یا بچہ کہیں نظر آجائے تو اسے پکڑ کر لے آؤ۔‘‘دستوں کو روانہ کر دیا گیا اور خالدؓ نے مجاعہ کو اپنے پاس بٹھا لیا۔’’ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓ نے مجاعہ سے کہا۔’’مجھے تجھ پراعتماد ہے اور میں تجھے اس اعتماد کے قابل سمجھتا ہوں۔جا اور اپنے سرداروں سے کہہ کہ ہم صلح کیلئے تیار ہیں لیکن شرط یہ ہو گی کہ تمہارے ہتھیار ہمارے سامنے زمین پر پڑے ہوئے ہوں گے۔‘‘’’میں اسی شرط پر صلح کرانے کی کوشش کروں گا۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’لیکن ابنِ ولید! اپنی فوج کی حالت دیکھ لے۔‘‘’’میں مزید خون خرابے سے ہاتھ روکنا چاہتا ہوں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’کیا تو نہیں چاہے گا کہ تمہارے اور ہمارے جو آدمی زندہ ہیں وہ زندہ ہی رہیں؟اپنے قبیلے میں جاکر دیکھ ۔آج کتنے ہزار عورتیں بیوہ اور کتنے ہزار بچے یتیم ہو چکے ہیں اور یہ بھی سوچ کہ بنو حنیفہ کی کتنی عورتیں ہماری لونڈیاں بن جائیں گی۔‘‘اس وقت کی تحریروں سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ کی یہ بات سن کر مجاعہ کے ہونٹوں پر ایسی مسکراہٹ آگئی جس میں تمسخر یا طنز کی جھلک تھی ۔وہ اٹھ کھڑا ہوا۔’’میں جاتا ہوں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’ابنِ ولید!تیری خواہش پوری کرنے کی میں پوری کوشش کروں گا۔‘‘ خالدؓ اپنے خیمے کی طرف چل پڑے۔وہ لاشوں اور زخمیوں کو دیکھتے چلے جا رہے تھے۔لیلیٰ نے خالدؓ کو دور سے دیکھا اور دوڑی آئی۔ ’’کیا تم نے اسے چھوڑ دیا ہے؟‘‘لیلیٰ نے خالدؓ سے پوچھا۔خالدؓ نے اسے بتایا کہ انہوں نے مجاعہ کو کس مقصد کیلئے چھوڑا ہے۔’’ابنِ ولید! ‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’اتنے انسانوں کا خون کس کی گردن پر ہوگا؟میں نے اتنی زیادہ لاشیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔‘‘’’جب تک انسانوں میں انسانوں کو اپنی خواہشات کا غلام بنانے کی ذہنیت موجود رہے گی ،انسانوں کا خون بہتا رہے گا۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’میں نے بھی اتنی لاشیں کبھی نہیں دیکھی تھیں۔آنے والا زمانہ اس سے زیادہ لاشیں دیکھے گا۔حق اور باطل آپس میں ٹکراتے رہیں گے……میں اسی لیے صلح کی کوشش کررہاہوں کہ اور خون نہ بہے……اس سے آگے نہ جانا۔تم جو دیکھو گی اسے تم برداشت نہیں کر سکو گی۔‘‘آسمان سے گدھ اترنے لگے تھے اور انہوں نے لاشوں کو نوچنا شروع کر دیا تھا۔ کچھ مسلمان لاشوں کے درمیان اپنے زخمی ساتھیوں کو تلاش کرتے پھر رہے تھے ۔انہیں اٹھا اٹھا کر خیمہ گاہ کی طرف لا رہے تھے۔باقی سپاہ بنو حنیفہ کے چھپے ہوئے آدمیوں کو پکڑنے کیلئے چلی گئی تھی۔رات کو خالدؓ کو اطلاعات ملنے لگیں کہ بنو حنیفہ کے آدمیوں کو لارہے ہیں۔بعض کے ساتھ عورتیں اور بچے بھی تھے ،خالدؓ نے حکم دیا کہ عورتو ں اور بچوں کو سردی اور بھوک سے بچایا جائے،لیکن خیمہ گاہ لٹ چکی تھی، خوراک کی قلت تھی۔خالدؓ نے کہا کہ خود بھوکے رہو ،قیدی عورتوں اور بچوں کے پیٹ بھرو۔اس کاحل یہ نکالا گیا کہ مسلمان مجاہدین لاشوں سے کھجوروں وغیرہ کی تھیلیاں کھول کر لے آئے۔ہر سپاہی اپنے ساتھ کھانے پینے کا کچھ سامان رکھتا تھا۔ یہ عورتوں اوربچوں کو دیا گیا۔ علی الصبح مجاعہ یمامہ سے واپس آیا اور خالدؓ کے خیمے میں گیا۔ ’’کیا خبر لائے ہو ابنِ مرارہ؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’خبر بری نہیں۔‘‘ مجاعہ نے جواب دیا۔’’ لیکن تم اسے اچھا نہیں سمجھو گے ۔بنو حنیفہ تمہاری شرط پر صلح کرنے کو تیار نہیں ۔وہ تمہاری غلامی قبول نہیں کریں گے۔‘‘’’خدا کی قسم! میں انہیں اپنا غلام نہیں بنانا چاہتا۔‘‘خالدؓنے­کہا ۔’’ہم سب اﷲ کے رسول کے غلام ہیں۔میں انہیں اس سچے رسولﷺ کے عقیدے کا غلام بناؤں گا۔‘‘’’وہ اس شرط کو بھی نہیں مانیں گے ۔‘‘ مجاعہ نے کہا۔’’ اور یہ بھی دیکھ کہ تیرے پاس رہ کیا گیا ہے ابن ِ ولید۔ میں نے یمامہ کے اندر جاکر دیکھاہے۔ ایک لشکر ہے جو ذرہ پہنے تیری چھوٹی سی فوج کو لہو لہان کردینے کیلئے تیار ہے ۔کبھی یہ حماقت نہ کر بیٹھنا کہ یمامہ کو آکہ محاصرے میں لے لے۔تو کچلا جائے گا ابن ِولید۔ جوش کو چھوڑ اور ہوش کی بات کر ۔اپنی شرط کو نرم کر۔میں نے بنو حنیفہ کو ٹھنڈا کر لیا ہے، اس لشکرکی آنکھوں میں خون اترا ہوا ہے۔‘‘ خالدؓ گہری سوچ میں کھو گئے ۔مجاعہ نے انہیں کوئی نئی بات نہیں بتائی تھی ۔یہ تو خالدؓ دیکھ ہی چکے تھے کہ ان کے پاس جو سپاہ رہ گئی ہے وہ لڑنے کے قابل نہیں رہی۔ اس سپاہ کو آرام کی ضرورت تھی لیکن وہ رات بھر دشمن کے چھپے ہوئے آدمیوں کو تلاش اور گرفتار کرتی رہی تھی ۔اب تو ان مجاہدین کے سر ڈول رہے تھے۔ ’’ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓ نے گہری سوچ سے نکل کر کہا۔’’تجھے شاید معلوم نہ ہو، اپنے ان سرداروں سے پوچھ لینا جو اس جنگ میں شریک تھے کہ ہمارے پاس بنو حنیفہ کاکتنا مال اور سازوسامان ہے اورکتنے باغ اور کتنے قیدی ہمارے قبضے میں ہیں ۔واپس جا اور اپنے سرداروں سے کہہ کہ مسلمان آدھا مالِ غنیمت، آدھے باغ اور آدھے قیدی واپس کر دیں گے۔انہیں سمجھا کہ یمامہ اور اس کی آبادی کو تباہی میں نہ ڈالیں۔‘‘ ابنِ مرارہ چلا گیا ،اس دوران مزید قیدی لائے گئے۔مجاعہ شام سے کچھ پہلے واپس آیا اور ا س نے بتایا کہ بنو حنیفہ کا کوئی سردار اس شرط کو ماننے کیلئے تیار نہیں ۔مجاعہ نے یہ بھی کہا کہ بنو حنیفہ اپنی شکست اور اپنے ہزاروں مقتولین کے خون کا انتقام لیں گے ۔’’میری بات کان کھول کر سن ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓنے جھنجھلا کر کہا۔’’اگر بنو حنیفہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم قلیل تعداد ہونے کی وجہ سے ڈر جائیں گے تو انہیں جا کر کہہ دے کہ مسلمان کٹ مریں گے۔ تمہیں انتقام کی مہلت نہیں دیں گے ۔‘‘’’غصے میں نہ آ ولید کے بیٹے !‘‘مجاعہ نے مسکرا کر کہا۔’’ہمارا جومالِ غنیمت ،باغ اورقیدی تمہارے پاس ہیں ۔ان کا چوتھائی حصہ اپنے پاس رکھ لے باقی ہمیں دے دے اور آ صلح کرلیں۔صلح نامہ تحریر ہو گا۔‘‘خالدؓ ایک بار پھر سوچ میں کھو گئے۔’’میں تجھے ایک بار پھر خبردار کرتا ہوں ولید کے بیٹے!‘‘ مجاعہ نے کہا۔’’ یہ میرا کمال ہے کہ میں نے بنو حنیفہ کو صلح پر راضی کر لیا ہے ۔میں نے ان کی لعنت ملامت بردازشت کی ہے۔ انہو ں نے مجھے غدار بھی کہا ہے وہ کہتے ہیں کہ تم مسلمانوں سے انعام لے کر ہمیں ان کا غلام بنانا چاہتے ہو۔ وہ کہتے ہیں کہ ہماری تعداد اگر کم بھی ہوتی تو بھی ہم صلح نہ کرتے۔ہمارے پاس نہ سازوسامان کی کمی ہے نہ خوراک کی۔ان چیزوں کی کمی ہے تو مسلمانوں کو ہو گی ۔وہ کہتے ہیں کہ اتنی سخت سردی میں مسلمان کب تک محاصرے میں بیٹھے رہیں گے۔ راتو ں کی سردی کو وہ کھلے آسمان تلے برداشت نہیں کر سکیں گے ۔وہ یہ بھی جانتے ہیں کہ تیری اس چھوٹی سی فوج کے پاس خیمے بھی نہیں رہے ۔سوچ لے ابنِ ولید ۔اچھی طرح سوچ لے ۔اگر تجھے شک ہے تو ذرا آگے جا کر یمامہ کی دیواروں پر ایک نظر ڈال اور دیکھ کہ ایک دیوار تو قلعے کی ہے اور اس کے اوپر ایک دیوار انسانی جسموں کی ہے۔‘‘خالدؓ بے شک اپنی کمزوریوں سے آگاہ تھے لیکن وہ دشمن کی ہر شرط ماننے کو تیار نہیں ہو سکتے تھے۔وہ اپنے خیمے سے باہر نکل گئے۔ ان کے نائب سالار باہر کھڑے تھے۔سالاروں نے بے تابی سے خالدؓ سے پوچھا کہ صلح کی بات کہاں تک پہنچی ہے؟’’ میرے ساتھ آؤ۔‘‘خالدؓ نے ان سے کہا۔ نائب سالار خالدؓ کے ساتھ چل پڑے۔ خالدؓانہیں بتاتے گئے کہ مجاعہ صلح نامے کی کیا شرط لایا ہے ۔وہ چلتے گئے اور ایسی جگہ جا رکے جہاں سے یمامہ شہر کی دیوار نظر آتی تھی۔انہوں نے دیکھاکہ دیوار پر آدمی ہی آدمی تھے۔مجاعہ نے ٹھیک کہاتھا کہ شہر کی دیوار کے اوپر انسانی جسموں کی دیوار کھڑی ہے۔اس سے صاف ظاہر ہوتا تھا کہ شہر میں بہت بڑا لشکر موجود ہے۔’’میراخیال ہے کہ ہم نے محاصرہ کیا تو ہم نقصان اٹھائیں گے۔‘‘خالدؓ نے اپنے نائب سالاروں سے کہا۔’’دیوار پر جو مخلوق کھڑی ہے اس کے تیر ہمیں دیوارکے قریب نہیں جانیں دیں گے۔ہمارے پاس مروانے کیلئے اتنے زیادہ آدمی نہیں۔‘‘’’میں تو صلح کی رائے دوں گا۔‘‘ایک نائب سالار نے کہا۔’’جس فتنے کو ہم ختم کرنا چاہتے تھے وہ ختم ہو چکا ہے۔‘‘ایک اور نائب سالار نے کہا۔’’اب ہم صلح کر لیں تو ہم پر کون انگلی اٹھا سکتا ہے؟‘‘خالدؓ واپس اپنے خیمے میں آئے اور مجاعہ کو بتایا کہ وہ صلح کیلئے تیار ہیں ۔اسی وقت صلح نامہ تحریر ہوا جس پر خالدؓ نے خلافت کی طرف سے مجاعہ بن مرارہ نے بنو حنیفہ کی طرف سے دستخط کیے۔ اس میں ایک شرط یہ تھی کہ مسلمان یمامہ کے کسی آدمی کو جنگی مجرم قرار دے کر قتل نہیں کریں گے۔مجاعہ واپس چلا گیا ۔اسی روزاس نے یمامہ کے دروازے کھول دیئے اور خالدؓ کو شہر میں مدعو کیا۔خالدؓاپنے سالاروں اور کمانداروں کے ساتھ یمامہ شہر کے دروازے تک پہنچے ۔انہوں نے اوپر دیکھا ۔دیواروں پر اب ایک بھی آدمی نہیں کھڑا تھا۔ بُرج بھی خالی تھے۔خالدؓکو توقع تھی کہ قلعے کے اندر انہیں بنو حنیفہ کا وہ لشکر نظر آئے گا جس کے متعلق مجاعہ نے انہیں بتایا تھا کہ مسلمانوں کو کچل ڈالے گا مگروہاں کسی لشکر کا نام و نشان نہ تھا۔وہاں عورتیں تھیں ،بچے اور بوڑھے تھے۔جوان آدمی ایک بھی نظر نہیں آتا تھا۔عورتیں اپنے گھروں کے سامنے کھڑی تھیں،بعض منڈیروں پر بیٹھی تھیں۔ان مین زیادہ تر عورتیں رو رہی تھیں،ان کے خاوند ،باپ بھائی یا بیٹے جنگ میں مارے گئے تھے۔’’ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓ نے مجاعہ سے پوچھا۔’’وہ لشکر کہاں ہے؟‘‘’’دیکھ نہیں رہے ہو ابنِ ولید! ‘‘مجاعہ نے دروازوں کے سامنے اور چھتوں پر کھڑی عورتوں کی طرف اشارہ کرکے کہا۔’’یہ ہے وہ لشکر جو شہر کی دیوارپر تیروکمان اور برچھیاں اٹھائے کھڑاتھا۔‘‘’’یہ عورتیں؟‘‘خالدؓنے حیران سا ہو کہ پوچھا۔’’ہاں ولید کے بیٹے! ‘‘مجاعہ نے کہا۔’’شہر میں کوئی لشکر نہیں۔یہاں صرف بوڑھے آدمی ہیں جو لڑنے کے قابل نہیں ۔عورتیں ہیں اور بچے ہیں۔‘‘’’کیا یہ ہمارے حملے کو روک سکتے تھے؟‘‘خالدؓ نے پوچھا۔’’کیا عورتیں مقابلے میں آئی تھیں؟‘‘

’’نہیں ابنِ ولید!‘‘ مجاعہ نے کہا۔’’یہ میری ایک چال تھی۔شہر سے تمام آدمی لڑنے کیلئے چلے گئے ہیں۔شہر میں کوئی جوان آدمی نہیں رہا تھا۔میں اپنے قبیلے کو تباہی سے بچانا چاہتا تھا۔میں نے تمام عورتوں،بوڑھوں اور کمسن لڑکوں کو زرہ اورسروں پر خودیں پہنائیں،اور ان کے ہاتھوں میں تیروکمان اور برچھیاں دے کر دیوارپر کھڑا کر دیا۔میں نے خود باہر جاکر دیکھا۔پتہ نہیں چلتا تھا کہ یہ عورتیں ،بوڑھے آدمی اور کمسن لڑکے ہیں،میں نے تجھے موقع دیاکہ دیوار پر اک نظر ڈال لے تاکہ تو اس جھانسے میں آجائے کہ یمامہ میں بہت بڑا لشکر موجود ہے ……اور تو میرے جھانسے میں آ گیا۔‘‘خالدؓ خشمگیں ہوئے ۔وہ مجاعہ کو اس دھوکے کی سزا دے سکتے تھے۔لیکن اس عہد نامے کی خلاف ورزی انہیں گوارا نہیں تھی جس پر وہ دستخط کر چکے تھے۔’’خداکی قسم!‘‘خالدؓنے مجاعہ سے کہا۔’’تو نے مجھے دھوکا دیاہے۔‘‘ ’’میں تجھے دھوکا دے سکتا ہوں۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’اپنے قبیلے کی عورتوں اور بچوں سے غداری نہیں کر سکتا ۔میں انہیں تیری تلواروں سے بچانا چاہتا تھا۔میں نے انہیں بچا لیا ہے۔‘‘’’تو خوش قسمت ہے کہ میں مسلمان ہوں۔‘‘خالدؓ نے کہا۔’’اسلام معاہدہ توڑنے کی اجازت نہیں دیتا۔میں صلح نامے پر دستخط کر چکا ہوں۔ورنہ میں تمہاری ان تمام عورتوں کو لونڈیاں بنا لیتا۔‘‘’’مجھے معلوم تھا کہ تو ایسا نہیں کرے گا۔‘‘مجاعہ نے کہا۔’’لیکن ایک بات سن لے ابنِ مرارہ!‘‘ خالدؓ نے کہا۔’’میں نے معاہدہ صرف یمامہ شہر کیلئے کیا ہے۔اس میں اردگرد کے علاقے شامل نہیں۔میں پابند ہوں کہ یمامہ کے اندر کسی جنگی مجرم کو قتل نہ کروں۔یمامہ کے باہر میں جسے سمجھوں گا کہ اسے قتل ہونا چاہیے ۔اس کے قتل سے میں گریز نہیں کروں گا۔‘‘ارتداد کا سب سے بڑا مرکز یمامہ تھا جو خالدؓ نے اکھاڑ پھینکا اور جھوٹے نبی کو ہلاک کرکے اس کی لاش کی نمائش کی گئی۔اس کے پیروکاروں سے کہا گیا کہ مسیلمہ کے پاس معجزوں کی طاقت ہوتی تو تمہارے چالیس ہزار سے زیادہ لشکر کا یہ حشر تیرہ ہزار آدمیوں کے ہاتھوں نہ ہوتا۔’’بنو حنیفہ! ‘‘مسلمان یمامہ کی گلیوں میں اعلان کرتے پھر رہے تھے ۔’’عورتیں مت ڈریں۔کسی کو لونڈی نہں بنایا جائے گا۔شہرکے اندر کسی مرد بچے یا عورت پرہاتھ نہیں اٹھایا جائے گا۔ مسیلمہ فریب کار تھا۔اس نے تم سب کو دھوکا دے کر تمہارے گھر اجاڑ دیئے ہیں۔‘‘یمامہ پر خوف و ہراس اور موت کی ویرانی تھی۔عورتیں شہر سے باہر نکلنے سے ڈرتی تھیں۔انہیں مسلمانوں سے کوئی ڈر اور خدشہ نہیں رہا تھا۔وہ اپنے آدمیوں کی لاشیں دیکھنے سے ڈرتی تھیں ۔وہ شہر کی دیوار پر جاکر باہر کا منظر دیکھتی تھیں۔انہیں گِدھوں ،گیدڑوں اور بھیڑیوں کی خوفناک آوازیں سنائی دیتی تھیں۔یہ سب لاشیں کھارہے تھے۔ یمامہ اور گردونواح کے لوگوں نے اتنی قتل و غارت کبھی دیکھی نہ سنی تھی۔یہ تو قہر نازل ہوا تھا ۔گھر گھر ماتم ہو رہا تھا۔اس بھیانک صورت حال میں لوگ اس غیبی قوت کے آگے سجدے کرنا چاہتے تھے جس نے ان پر قہر نازل کیا تھا ۔مسلمانوں کی فوج میں قرآن کے حافظ اور قاری بھی تھے۔ انہوں نے لوگوں کو آیاتِ قرآنی سنا کر بتانا شروع کر دیا تھا کہ انہیں تباہ کرنے والی غیبی طاقت کیا ہے۔مؤرخ لکھتے ہیں کہ بنو حنیفہ کے جو آدمی بھاگ گئے تھے۔ان کی تعداد کم و بیش بیس ہزار تھی۔وہ یوں لا پتا ہوئے کہ ادھر ادھر چھپ گئے تھے۔مسلمان انہیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے تھے ۔وہ بھی خوفزدہ تھے، وہ نادم بھی تھے کہ انہوں نے ایک جھوٹے نبی کے ہاتھ پر بیعت کی جس نے انہیں کہا تھا کہ اسے خدانے ایسی طاقت دی ہے کہ فتح بنو حنیفہ کی ہی ہو گی اور مسلمان تباہ ہو جائیں گے۔انہیں تبلیغ کی یا اسلام کے تفصیلی تعارف کی ضرورت نہیں تھی۔ان میں سے بیشتر نے ازخود اسلام قبول کرلیا۔مجاعہ بن مرارہ بنو حنیفہ کی سرداری میں مسیلمہ کذاب کا جانشین تھا ۔اس نے دیکھا کہ اس کا قبیلہ دھڑا دھڑ اسلام قبول کرتا جا رہا ہے تو اس سے اسے یہ اطمینان ہوا کہ خالدؓ کے دل میں اس کے خلاف جو خفگی تھی وہ نکل گئی ہے۔بنو حنیفہ کے لوگ جوق در جوق خالدؓ کے پاس بیعت کیلئے آ رہے تھے۔خالدؓنے ان میں سے چند ایک سرکردہ افراد کا ایک وفد تیار کیا اور انہیں خلیفۃالمسلمین ؓکے ہاتھ پر بیعت کیلئے مدینہ بھیج دیا۔خالدؓ کو یہ جنگ بہت مہنگی پڑی تھی۔قدیم تحریروں اور دیگر ذرائع سے پتا چلتا ہے کہ خالدؓ کو اتنے بڑے لشکرپر فتح حاصل کرنے کی توقع کم ہی تھی۔انہوں نے یہ اﷲ کے بھروسے اور اپنی جنگی قابلیت کے بل بوتے پر لڑی تھی۔ان کے اعصاب تھک کر چور ہو چکے تھے۔اس جنگ کی خونریزی کا اندازہ یہ ہے کہ بنو حنیفہ کے اکیس ہزار آدمی مارے گئے تھے ۔زخمیوں کی تعداد الگ ہے۔اس کے مقابلے میں شہید ہونے ہونے والے مجاہدین کی تعداد ایک ہزار دو سو تھی۔ان میں تین سو شہید قرآن کے حافظ تھے۔یہاں یہ امر قابلِ ذکر ہے کہ جب خلیفہ ابو بکرؓ کو اطلاع ملی کہ شہیدوں میں تین سو حافظ قرآن تھے تو انہوں نے یہ سوچ کرکہ جنگوں میں قرآن کے تمام حافظ شہید ہو سکتے ہیں ،حکم دیا کہ قرآن ایک جگہ تحریر میں جمع کر لیا جائے۔چنانچہ پہلی بار قرآن کو اس شکل میں جمع کیا گیا جو آج ہمارے سامنے ہے۔جنگِ یمامہ کے بعد خالدؓکی کیفیت یہ تھی کہ جسمانی اور ذہنی لحاظ سے شل ہو چکے تھے۔لیلیٰ ان کے تھکے ماندے اعصاب سہلاتی تھی۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ کسی بھی جنگ میں مسلمانوں کا اتناجانی نقصان نہیں ہواتھا۔اب ایک ہی بار ایک ہزار دو سو مجاہدین شہید ہو گئے تو باقی مجاہدین پر جیسے غم کے پہاڑ آ پڑ ے ہوں۔خالدؓ دکھ اور غم کو قبول کرنے والے نہیں تھے۔اگر وہ مرنے والوں کا ماتم کرنے بیٹھ جاتے یا دل پر غم طاری کر لیتے تو سپہ سالاری نہ کر سکتے۔انہیں آگے چل کر عراق اور شام فتح کرنا تھا۔انہیں ارتداد کو کچل کر اسلام کو دور دور تک پھیلانا تھا۔اس لیے وہ اپنے آپ کو رنج و الم سے آزادرکھتے تھے۔’’ولید کے بیٹے! ‘‘لیلیٰ نے خالد ؓسے کہا۔’’میں تمہیں اس عظیم فتح پر ایک تحفہ دینا چاہتی ہوں۔‘‘ ’’کیا اﷲ کی خوشنودی کافی نہیں؟‘‘خالدؓ نے کہا۔’’وہ تو تمہیں مل ہی گئی ہے۔‘‘لیلیٰ نے کہا۔’’تم اﷲ کی تلوار ہو۔ میں اس دنیا کی بات کر رہی ہوں۔تم بہت تھک گئے ہو۔‘‘’’تحفہ کیا ہے؟‘‘خالدؓنے پوچھا۔’’مجاعہ بن مرارہ کی بیٹی!‘‘ لیلیٰ نے کہا۔’’تم نے اسے نہیں دیکھا۔میں اس کے گھر گئی تھی ۔بہت خوبصورت لڑکی ہے ۔یمامہ کا ہیرا ہے۔وہ تمہیں چاہتی بھی ہے۔کہتی ہے کہ خالدعظیم انسان ہے۔جس نے ہم پر فتح پاکر بھی اعلان کیا ہے کہ کسی عورت کو لونڈی نہیں بنایا جائے گا۔حالانکہ اسے یمامہ کی عورتوں نے دھوکا دیا تھا۔‘‘اس دور میں عربوں کے ہاں سوکن کا تصور نہیں تھا ۔خالدؓ نے مجاعہ بن مرارہ سے کہا کہ وہ اس کی بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتے ہیں۔مؤرخوں نے لکھا ہے کہ مجاعہ اتنا حیران ہوا جیسے اس نے غلط سناہو۔’’کیا کہاتو نے ولید کے بیٹے!‘‘مجاعہ نے پوچھا۔’’میں تمہاری بیٹی کے ساتھ شادی کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ خالدؓ نے اپنی بات دہرائی۔’’کیا خلیفہ ابو بکر ہم دونوں سے خفا نہ ہوں گے؟‘‘مجاعہ نے کہا۔(مجاعہ کے صحیح الفاظ یہ تھے ۔کیا خلیفہ ہم دونوں کی کمر نہ توڑ ڈالیں گے؟)خالدؓ اسی بات پر اصرار کرتے رہے کہ وہ مجاعہ کی بیٹی کے ساتھ شادی کریں گے ۔آخر انہوں نے اس حسین اور جوان لڑکی کو اپنے عقد میں لے لیا۔یہ خبر مدینہ پہنچی تو خلیفۃ المسلمین ابو بکر صدیقؓ نے خالدؓ کو خط لکھا:’’او ولید کے بیٹے!تمہیں کیا ہو گیا ہے؟شادیاں کرتے پھرتے ہو۔تمہارے خیمے کے باہر بارہ سو مسلمانوں کا خون بہہ گیا ہے۔تم نے شہیدوں کا خون بھی خشک نہیں ہونے دیا۔‘‘’’یہ عمر بن خطاب کی کارستانی ہے ۔‘‘خالدؓ نے یہ خط پڑھ کر زیرِلب کہا ۔(یاد رہے کہ یہ عظیم صحابہ ؓ کی آپس کی گفتگو ہے جن کا سب کچھ اﷲ اور رسول اﷲ ﷺ پر نثار تھا۔بعض ناعاقبت اندیش منظر پسِ منظر جانے بغیر اُن سے بد گمانیاں پیدا کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔اُن کی رفعتوں کے ادراک کے لئے رگوں میں حلال خون کا ہونا شرطِ اول ہے )یہ معاملہ سرزنش کے خط پر ہی ختم ہو گیا ۔خلیفہ ابو بکرؓ نے خالدؓ کویہ پیغام بھی بھیجا کہ وہ یمامہ کے علاقے میں رہیں اور اگلے حکم کا انتظار کریں۔خالدؓمجاعہکی بیٹی اور لیلیٰ کو ساتھ لے کریمامہ کے قریب وادیٔ وبر میں جاخیمہ زن ہوئے۔دو ماہ بعد انہیں اگلا حکم ملا۔فروری ۶۳۳ء کے پہلے ہفتے (ذیقعد ۱۱ہجری کے آخری ہفتے)کے ایک دن خلیفہ ابو بکر صدیقؓ سے ملنے ایک شخص آیا۔جس نے اپنا نام مثنیٰ بن حارثہ شیبانی بتایا۔خلیفہؓ کیلئے اور اہلِ مدینہ کیلئے وہ ایک غیر اہم بلکہ گمنام آدمی تھا۔اگر ایسا شخص کسی بادشاہ کے دربار میں جاتا تو اسے وہاں سے نکال دیا جاتا لیکن ابو بکرؓ کسی اقلیم کے بادشاہ نہیں بلکہ شہنشاہِ دوجہاں کے خلیفہ تھے جن کے دروازے ہر کسی کیلئے کھلے رہتے تھے۔یہ شخص جب خلیفہ ابو بکر صدیقؓ کے پاس آیا ،اس وقت اس کے چہرے پر تھکن اور شب بیداری کی گہری پرچھائیاں تھیں۔کپڑوں پر گَرد تھی اور وہ قدرتی روانی سے بول بھی نہیں سکتا تھا۔ ’’کیا مجھے کوئی یہ بتا سکتا ہے کہ یہ اجنبی مہمان کون ہے؟‘‘امیر المومنین ابو بکرؓ نے پوچھا۔’’یہ شخص جس نے اپنا نام مثنیٰ بن حارثہ بتایا ہے ،یہ معمولی آدمی نہیں ۔‘‘قیس بن عاصم المنقری نے جواب دیا۔’’امیرالمومنین ! اس کے یہاں آنے میں کوئی فریب نہیں۔شہرت اور عزت جو اس نے پائی ہے وہ اﷲ ہر کسی کو عطا کرے۔ہرمز جو عراق میں فارس کا سالار ہے اور جس کی فوج کی دھاک بیٹھی ہوئی ہے ،مثنیٰ بن حارثہ کا نام سن کے سوچ میں پڑ جاتا ہے۔‘‘’’امیر المومنین!‘‘کسی اور نے کہا۔’’آپ کا اجنبی مہمان بحرین کے قبیلہ بکر بن وائل کا معزز فرد ہے ۔یہ اسلام قبول کرنے والے ان لوگوں میں سے ہے جنہوں نے کفر اور ارتداد کی آندھیوں میں اسلام کی شمع روشن رکھی ہے اور اس نے ہمارے سالار علاء بن حضرمی کے ساتھ مل کر عراق کی سرحد کے علاقوں میں مرتدین کے خلاف لڑائیاں لڑی ہیں۔‘‘امیر المومنین ؓ کاچہرہ چمک اٹھا۔اب انہوں نے مثنیٰ بن حارثہ کو بدلی ہوئی نگاہوں سے دیکھا۔ان کے ذہن میں عربی مسلمانوں کے وہ قبائل آگئے جو ایرانیوں کے محکوم تھے۔یہ عراق کے علاقے میں آباد تھے۔یہ تھے بنو لخم ،تغلب،ایاد،نمبراور بنو شیبان۔ایک روایت کے مطابق یہ وہ عربی باشندے تھے جنہیں پہلی جنگوں میں ایرانی جنگی قیدی بنا کر لے گئے اور انہیں دجلہ اور فرات کے ڈیلٹا کے دلدلی علاقے میں آباد کر دیا۔ان قبائل نے ایرانیوں کا غلام ہوتے ہوئے بھی اپنے عقیدوں کو اپنے وطن کے ساتھ وابستہ رکھا۔عرب میں اسلام کو فروغ ملا تو انہوں نے بھی اسلام کو قبول کرلیا۔عراق سے سجاع جیسے چند افراد نے نبوت کے دعوے کیے تو ان محکوم عربوں نے اس ارتداد کے خلاف محاذ بنا لیا۔ادھر مسلمان ایک ایسی جنگی طاقت بن چکے تھے جن کے سامنے مرتدین اور کفار کے متحدہ لشکر بھی نہ جم سکے۔میدانِ جنگ سے ہٹ کر مسلمان جو عقیدہ پیش کرتے تھے وہ دلوں میں اتر جاتا تھا۔اس طرح سے مسلمان عسکری اور نظریاتی لحاظ سے چھاتے جا رہے تھے۔لیکن ابھی وہ آتش پرست ایرانیوں کے خلاف ٹکر لینے کے قابل نہیں ہوئے تھے۔ایران اس وقت کی بڑی طاقتور بادشاہی تھی جس کے طول و عرض کا حساب نہ تھا۔اس بادشاہی کی فوج تعداد اور ہتھیاروں کے لحاظ سے بہت طاقتور تھی۔صرف رومی تھے جنہوں نے ان سے جنگیں لڑیں اور انہیں کچھ کمزور کردیا تھا۔اس کے باوجود خلیفہ ابو بکرؓ ایران کی بادشاہی میں رسول اﷲﷺ کا پیغام پہنچانے کا تہیہ کئے ہوئے تھے۔ایرانی نہ صرف یہ کہ اسلام کو قبول کرنے پر تیارنہ تھے بلکہ وہ اسلام کامذاق اڑاتے تھے۔اگر مسلمانوں کا کوئی ایلچی ان کے کسی علاقے کے امیر کے دربار میں چلاجاتا تو وہ اس کی بے عزتی کرتے اور بعض کو قیدمیں ڈال دیا کرتے تھے۔حکومتوں اور حکمرانوں کے انداز اور خیالات اپنے ہی ہوتے ہیں ان کے سوچنے کے انداز بھی مصلحت اور حالات کے تابع ہوتے ہیں لیکن عوام کی سوچیں ان کے جذبوں کے زیرِاثر ہوتی ہیں اور ملک و ملت کی خاطر عوام آگ اگلتے پہاڑوں کے خلاف بھی سینہ سپر ہو جاتے ہیں۔

اس دور میں عراق ایران کی بادشاہی کا ایک صوبہ تھا۔اس کا امیر یا حاکم ہرمز تھا جو اس دور میں مانا ہوا جنگجو اورنڈر جنگی قائد تھا۔ظالم اوربدطینت اتنا کہ اس کے علاقے کے لوگ کسی کے خلاف بات کرتے تو کہتے تھے :’’وہ تو ہرمز سے بڑھ کر کمینہ اور بد فطرت ہے۔‘‘اس کے ظلم و ستم کا زیادہ تر شکار مسلمان تھے۔جو دجلہ اور فرات کے سنگم کے علاقے میں رہتے تھے۔ان کے خلاف ہرمز کو یہی ایک دشمنی تھی کہ وہ اسلام کے پیروکار ہیں۔کسی ایرانی کے ہاتھوں کسی مسلمان کا قتل ہوجانا اور کسی مسلمان عورت کا اغواء کوئی جرم نہیں تھا۔ہندوؤں کی طرح ایرانی مسلمانوں کو تکلیف پہنچا کر،کسی بہانے ان کے گھروں کو لوٹ کر اور جلا کر خوشی محسوس کرتے تھے۔مسلمان خوف و ہرا س میں زندگی گزار رہے تھے۔مسلمان جس علاقے میں آباد تھے۔اس کی زمین سونا اگلتی تھی۔اناج اور پھلوں کی پیداوار کیلئے وہ علاقہ بڑا ہی زرخیز تھا۔یہ علاقہ جو کم و بیش تین سو میل لمبا تھا۔زرخیزی اور شادابی کے علاوہ قدرتی مناظر کی وجہ سے حسین خطہ تھا۔حاکم عیش و عشرت کیلئے اسی علاقے میں آتے اور کچھ دن گزارکر جاتے تھے۔اس زرخیز اور شاداب علاقے میں مسلمانوں کو آباد کرنے کا یہ مقصد نہیں تھا کہ وہ کھیتی باڑی کریں اور خوشحال رہیں بلکہ انہیں یہاں مزارعوں کی حیثیت سے رکھا گیا تھا۔وہ زمین کا سینہ چیر کر شبانہ روز محنت اور مشقت سے اناج اور پھل اگاتے مگر اس میں سے انہیں اتنا ہی حصہ ملتا جو انہیں محض زندہ رکھنے کیلئے کافی ہوتا تھا۔زمین کی اگلی ہوئی تمام دولت حاکموں کے گھروں میں اور ایرانی فوج کے پاس چلی جاتی تھی۔مسلمان مزارعوں کیلئے غربت اور ایرانیوں کی نفرت رہ جاتی تھی۔مسلمان اپنی جوان بیٹیوں کو کو گھروں میں چھپا کر رکھتے تھے۔کسی ایرانی فوجی کو کوئی مسلمان لڑکی اچھی لگتی تووہ کسی نہ کسی بہانے یا اس کے گھر والوں پر کوئی الزام عائد کرکے اسے اپنے ساتھ لے جاتا تھا۔ایرانی فوجی کسی بہانے کے بغیر بھی مسلمان لڑکیوں کو اپنے ساتھ زبردستی لے جاسکتے تھے لیکن غلامی اور مظلومیت کے باوجود مسلمانوں میں غیرت کاجذبہ موجود تھا۔پہلے پہل زبردستی اغواء کی وارداتیں ہوئیں تو مسلمانوں نے دو تین فوجیوں کو قتل کردیا تھا۔مسلمانوں کواس کی سزا تو بڑی ظالمانہ ملی تھی اورانہیں اپنی لڑکیوں کو بچانے کی قیمت بھی بہت دینی پڑی تھی لیکن زبردستی اغواء کا سلسلہ رک گیا تھا۔
آتش پرست ایرانی اپنے فوجیوں کو سانڈوں کی طرح پالتے تھے۔ہر سپاہی اس قسم کی زِرہ پہنتا تھاکہ سر پر آہنی زنجیروں کی خود اور بازوؤں پر دھات کے خول اس طرح چڑھے ہوئے تھے کہ بازوؤں کی حرکت میں رکاوٹ نہیں ہوتی تھی۔ان کی ٹانگوں کو بھی بڑے سخت چمڑے یا کسی دھات سے محفوظ کیا ہوتا تھا۔
اسلحہ اتنا کہ ہر سپاہی کے پاس ایک تلوار ایک برچھی اور ایک گُرز ہوتا تھا۔گُرزپر ایرانی سپاہی خاص طور پر فخر کیاکرتے تھے ۔ان ہتھیاروں کے علاوہ ہر سپاہی کے پاس ایک کمان اور ترکش میں تیس تیر ہوتے تھے انہیں عیش و عشرت کھانے پینے اور لوٹ مار کی کھلی اجازت تھی۔وہ ہ جرات اور عسکری مہارت میں قابلِ تعریف تھے۔ان کی کمزوری صرف یہ تھی کہ وہ صرف آمنے سامنے کی لڑائی لڑ سکتے تھے اور لڑتے بھی بے جگری سے تھے لیکن اتنا اسلحہ اٹھا کر وہ پھرتی سے نقل و حرکت نہیں کر سکتے تھے۔کسی دستے یا جَیش کو فوراً ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا پڑتا تو وہ مطلوبہ وقت میں نہیں پہنچ سکتے تھے۔اتنے زیادہ ہتھیاروں کا بوجھ انہیں جلدی تھکا دیتا تھا البتہ ان کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ ان کی سست رفتاری کی کمزوری کو چھپا لیتی تھی۔دجلہ اور فرات کے سنگم کے علاقے کے جنوب میں اُبلہ ایک مقام تھا جو عراق اور عرب کی سرحد پر تھا۔اس زمانے میں ابلہ ایک شہر تھا۔اس کے اردگرد کا علاقہ شاداب اور سرسبز تھا۔وہاں بڑے خوبصورت جنگل اور ہری بھری پہاڑیاں تھیں۔یا تاریخی اہمیت کا علاقہ تھا۔آج بھی وہاں کھنڈرات بکھرے ہوئے ہیں جو بزبان ِخاموشی تاریخی کہانیاں سناتے ہیں۔ہر کہانی عبرت ناک ہے۔اس خطے میں ان قوموں کی تباہی اور بربادی کے آثار بھی موجود ہیں جنہوں نے عیش و عشرت کو زندگی کا مقصد بنا لیا تھا اور رعایا کو وہ انسانیت کا درجہ نہیں دیتے تھے ۔خدا نے انہیں راہِ مستقیم دکھانے کیلئے پیغمبر بھیجے او ران لوگوں نے پیغمبروں کامذاق اڑایا اور کہا کہ تم تو ہم میں سے ہو اور دنیا میں تمہاری حیثیت اور تمہارا رتبہ بھی کوئی نہیں،پھر تم خدا کے بھیجے ہوئے پیغمبر کس طرح ہو سکتے ہو؟آخر خدا نے انہیں ایسا تباہ و برباد کیا کہ ان کے محلّات اور ان کی بستیوں کو کھنڈر بنا دیا۔خدا نے ان کا تفصیلی ذکر قرآن میں کیا اور فرمایا۔کیا تم نے زمین پر گھوم پھر کر نہیں دیکھا کہ جو اپنی بادشاہی پر اتراتے اور خدا کی سرکشی کرتے تھے اور جو اونچے پہاڑوں پر اپنی یادگاریں بناتے تھے کہ ان کے نام ہمیشہ زندہ رہیں،وہ اب کہاں ہیں؟اب زمین کے نیچے سے ان کے محلات اور ان کی یادگاروں کے کھنڈرات نکل رہے ہیں۔ان کے بعد بھی پر شکوہ شہنشاہ آئے اور ایک کے بعد ایک اپنے کھنڈرات چھوڑتا گیا ۔بابل کے کھنڈربھی آج تک موجود ہیں۔اس خطے میں اشوری آئے،ساسانی آئے،اور اب جب مدینہ میں حضرت ابو بکر صدیقؓ امیر المومنین تھے۔دجلہ اور فرات کے اس حسین اور عبرت انگیز خطے میں ایرانیوں کا طوطی بول رہا تھا اور یہ آتش پرست قوم پہلی قوموں کی طرح یہی سمجھتی رہی کہ اسے تو زوال آہی نہیں سکتا۔وہ محکوموں کے خدا بنے ہوئے تھے۔
’’بنتِ سعود!‘‘ ایک نوجوان مسلمان لڑکی اپنی سہیلی سے پوچھ رہی تھی۔’’خداّم نہیں آیا؟‘‘زہرہ بنتِ سعود کی آنکھوں میں آنسو آگئے اور اس نے آہ بھر کر منہ پھیر لیا۔’’تم کہتی تھیں کہ وہ تمہیں دھوکا نہیں دے گا۔‘‘سہیلی نے زہرہ سے کہا۔’’خدا نہ کرے،وہ اس بدبخت ایرانی کے ہاتھ چڑھ گیاہو۔‘‘’’خدا نہ کرے۔‘‘زہرہ بنتِ سعود نے کہا۔’’وہ آئے گا……چار دن گزر گئے ہیں……میں اس ایرانی کے ساتھ نہیں جاؤں گی۔موت قبول کرلوں گی اسے قبول نہیں کروں گی۔خدام مجھے دھوکانہیں دے گا۔‘‘’’زہرہ! ‘‘سہیلی نے اسے کہا۔’’کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ تم اس ایرانی کماندار کو قبول کرلو؟تمہارے خاندان کیلئے بھی یہی بہتر ہو گا۔یہی ہے نہ کہ تمہیں اپنا عقیدہ بدلنا پڑے گا۔ساری عمر عیش توکرو گی ناں!‘‘’’میں نے جس خدا کو دیکھ لیا ہے اسی کی عبادت کروں گی۔‘‘زہرہ نے کہا۔’’آگ خدا نے پیدا کی ہے ،آگ خدا نہیں ہو سکتی۔میں خداکی موجودگی میں کسی اورکی پرستش کیوں کروں؟‘‘’’سوچ لو زہرہ!‘‘ سہیلی نے کہا۔’’تم اسے قبول نہیں کرو گی تو وہ زبردستی تمہیں اپنے ساتھ لے جا سکتا ہے۔اسے کون روک سکتا ہے؟وہ شاہی فوج کا کماندار ہے۔وہ تمہارے خاندان کے بچے بچے کو قید خانے میں بند کرا سکتا ہے۔ہوں تو میں بھی مسلمان کی بیٹی۔میں اﷲ کی عبادت کرتی اور اﷲ کی ہی قسم کھاتی ہوں۔لیکن اﷲ نے ہماری کیا مدد کی ہے؟کیا تمہیں یقین ہے کہ اﷲ تمہاری مدد کرے گا؟‘‘’’اگر اﷲ نے میری مدد نہ کی تو میں اپنی جان لے لوں گی۔‘‘زہرہ نے کہا۔’’اور اﷲ سے کہوں گی کہ یہ لے۔اگر میرے وجود میں جان تو نے ڈالی تھی تو واپس لے لے۔‘‘اور اس کے آنسو بہنے لگے۔زہرہ اپنے جیسے ایک خوبصورت جوان خدام بن اسد کو چاہتی تھی اور خدام اس پر جان نثا ر کرتا تھا۔ان کی شادی ہو سکتی تھی لیکن شِمر ایرانی فوج کا ایک کماندار تھا جس کی نظر زہرہ بنتِ سعود پر پڑ گئی تھی۔اس نے اس لڑکی کے باپ سے کہا تھا کہ وہ اس کی بیٹی کو بڑی آسانی سے گھر سے لے جاسکتا ہے لیکن ایسا نہیں کرے گا۔’’میں تمہاری بیٹی کو مالِ غنیمت سمجھ کر نہیں لے جاؤں گا۔‘‘شمر نے کہاتھا ۔’’اسے دوگھوڑوں والی اس بگھی پر لے جاؤں گا جس پر دولہے اپنی دلہنوں کو لے جایا کرتے ہیں۔تم لوگوں کو فخر سے بتایا کرو گے کہ تمہاری بیوی ایک ایرانی کماندار کی بیوی ہے۔‘‘’’لیکن ایرانی کماندار! ‘‘زہرہ کے باپ نے کہا تھا۔’’تمہارا احترام ہم پر لازم ہے۔اگر لڑکی تمہاری دلہن بنناچاہے گی تو ہم اسے نہیں روکیں گے۔‘‘’’تم غلیظ عربی! ‘‘ایرانی کماندار نے اس نفرت سے جس سے وہ ہر مسلمان سے بات کیا کرتا تھا ،کہا۔’’تو بیٹیوں کو زندہ دفن کر دینے والی قوم میں سے ہے اور کہتا ہے کہ اپنی شادی کا فیصلہ تیری بیٹی خود کرے گی۔زرتشت کی قسم! اگر تیری بیٹی نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ میں نہ دیا تو تجھے اور تیری بیٹی کو ان کوٹھڑیوں میں بند کروں گا جن میں کوڑھی بند ہیں……بہت تھوڑی مہلت دوں گا بوڑھے۔‘‘
اس کے ساتھ اس کے تین گھوڑ سوار سپاہی تھے ۔انہوں نے بڑی زور کا قہقہہ لگایاتھا۔’’ مدینہ بہت دور ہے بدبخت بوڑھے!‘‘ ایک سپاہی نے اسے دھکادے کر کہاتھا۔’’تیرا امیر المومنین تیری مدد کو نہیں آئے گا۔‘‘زہرہ کے باپ کو اور اس کے بھائیوں کو معلوم تھا کہ وہ ایران کے ایک سپاہی کی بھی حکم عدولی نہیں کر سکتے۔یہ تو کماندار تھا۔انہیں یہ بھی معلوم تھا کہ شِمر ان کی بیٹی کو اٹھوا بھی سکتا ہے اور وہ کچھ نہیں کر سکتے لیکن اس خطے کے مسلمانوں کے دلوں میں آگ کے پجاریوں کی جو نفرت تھی وہ انہیں مجبور کر رہی تھی کہ وہ ان کے غلام ہوتے ہوئے بھی ان کی غلامی قبول نہ کریں،اور اس کا انجام کتنا ہی بھیانک کیوں نہ ہو ،اسے برداشت کریں ۔انہیں اپنے اﷲ پر بھروسہ تھا۔زہرہ اور خدام کو ملنے سے کوئی روک نہیں سکتا تھا۔وہ پھلوں کے باغات میں کام کرتے تھے۔جس روز شِمر زہرہ کے گھر آیا تھا اس کے اگلے روز زہرہ خدام سے ملی اور خوفزدہ لہجے میں خدام کو بتایا کہ ایرانی کماندار کیا دھمکی دے گیا ہے۔’’ہم یہاں سے بھاگ نہ چلیں؟‘‘زہرہ نے پوچھا۔’’نہیں۔‘‘خدام نے جواب دیا۔’’اگر ہم بھاگ گئے تو یہ بد بخت تمہارے اور میرے خاندان کے بچے بچے کو قتل کردیں گے۔‘‘’’پھر کیا ہو گا؟‘‘زہرہ نے پوچھا۔’’جو خدا کو منظور ہو گا۔‘‘خدا م نے کہا۔’’خدا……خدا……خدا۔‘‘زہرہ نے جھنجھلاتے ہوئے لہجے میں کہا۔’’جو خدا ہماری مدد نہیں کر سکتا……‘‘’’زہرہ!‘‘ خدام نے اسے ٹوکتے ہوئے کہا۔’’خدا اپنے بندوں کو امتحان میں ڈالا کرتا ہے۔بندے خدا کا امتحان نہیں لے سکتے۔‘‘خدام گہری سوچ میں کھو گیا۔’’یہ تو ہو نہیں سکتا کہ تم اس آتش پرست شِمر کا مقابلہ کرو گے۔‘‘زہرہ نے کہا۔خدام گہری سوچ میں کھویا رہا۔’’سوچتے کیا ہو؟‘‘زہرہ نے کہا۔’’تم اس شخص کو قتل تو نہیں کر سکتے۔ہمارے سامنے ایک ہی راستہ ہے۔‘‘’’خدا نجات کا راستہ بھی دِکھا دے گا۔‘‘خدام نے کہا۔’’تمہیں ایک اور راستہ میں بھی دکھا سکتی ہوں۔‘‘زہرہ نے کہا۔’’مجھے اپنی تلوار سے قتل کر دو اور تم زندہ رہو۔‘‘’’تھوڑی سی قربانی دو۔‘‘خدام نے کہا۔’’میں اس نفرت کا اندازہ کر سکتا ہوں جو شِمر کے خلاف تمہارے دل میں بھری ہوئی ہے۔لیکن اس پر یہ ظاہر کرو کہ تم اسے پسند کرتی ہو اسے دھوکے میں رکھو ،میں کچھ دنوں کیلئے غائب ہوجاؤں گا۔‘‘’’کہاں جاؤ گے؟‘‘زہرہ نے پوچھا۔’’کیا کرنے جاؤ گے؟‘‘’’مجھ سے ہر بات نہ پوچھو زہرہ!‘‘خدام نے کہا۔’’میں خدائی مدد حاصل کرنے جا رہا ہوں۔‘‘’’خدا کی قسم خدام!‘‘ زہرہ نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا۔’’اگر تم نے مجھے دھوکا دیا تو میری روح تمہیں چین سے نہیں جینے دے گی ۔میں ایک دن کیلئے بھی اس کافر کی بیوی بن کے نہیں رہ سکوں گی۔اس کی بیوی بننے کا مطلب یہ ہے کہ مجھ سے تم ہی نہیں میرا مذہب بھی چھن جائے گا۔‘‘’’اگر تم مذہب کی اتنی پکی ہو تو خدا ہماری مدد کو آئے گا۔‘‘خدا م نے کہا۔’’خدام!‘‘زہرہ نے مایوسی کے لہجے میں کہا۔’’میں مذہب کی تو پکی ہوں لیکن خدا پر میرا عقیدہ متزلزل ہوتا جا رہا ہے۔

خدام کچھ اور کہنے ہی لگا تھا کہ باغ میں کام کرتے ہوئے لوگوں میں ہڑبونگ سی مچ گئی۔تین چار آدمیوں نے خدام کو پکارا۔زہرہ اٹھی اور وہیں سے پودوں میں غائب ہو گئی۔خدام نے اٹھ کر دیکھا۔کچھ دور پرے ایرانی کماندار شِمر اپنے گھوڑے پر سوار آ رہا تھا۔اس نے دور ہی سے کہا تھا کہ خدام کو اس کے پاس بھیجا جائے ۔خدام آہستہ آہستہ چلتا شمر کی طرف گیا۔’’تیز چلو!‘‘شمر نے گھوڑا روک کر دور سے کہا۔خدام نے اپنی چال نہ بدلی۔شمر نے ایک بار پھر گرج کر اسے تیز چلنے کو کہا۔خدا م اپنی ہی رفتار سے چلتا رہا۔شمر گھوڑے سے کود کر اترا اور کولہوں پر ہاتھ رکھ کر کھڑا ہو گیا۔باغ میں کام کرنے والے مسلمان دم بخود دیکھتے رہے۔انہیں معلوم تھا کہ شمر خدام کی ہڈی پسلی ایک کردے گا۔لیکن خدام جب اس کے سامنے جا رکا تو شمر نے ہاتھ بھی نہ اٹھایا۔’’دیکھ کمینے انسان!‘‘ شمر نے خدام سے حقارت آمیز لہجے میں کہا۔’’ میں تمہارے باپ اور تمہاری جوانی پر رحم کرتا ہوں۔آج کے بعد میں تمہیں اس لڑکی کے ساتھ نہ دیکھوں۔‘‘’’اگر تم نے مجھے اس لڑکی کے ساتھ دیکھ لیا تو پھر کیا ہو گا؟‘‘خدام نے پوچھا۔’’پھر میں تمہارے منہ پر ایک دو تھپڑ نہیں ماروں گا۔‘‘شمر نے کہا۔’’تمہیں درخت کے ساتھ الٹا لٹکا دوں گا ۔جاؤ میری نظروں سے دور ہو جاؤ۔‘‘شمر گھوڑے پر سوار ہوا اور چلاگیا۔خدام وہیں کھڑا اسے دیکھتا رہا۔’’خدام!‘‘ اسے کسی نے بلایااور کہا۔’’ادھر آ جاؤ۔‘‘پھر اسے تین چار آدمیوں کی آوازیں سنائی دیں۔’’آجاؤ خدام ……آجاؤ۔‘‘وہ پیچھے مڑا اور لوگوں کے پاس جا رکا۔سب اس سے پوچھنے لگے کہ شمر نے کیا کہا تھا۔خدام نے انہیں بتایا۔سب جانتے تھے کہ خدام کاجرم کیا ہے۔اگر یہ مسلمان آزاد ہوتے ان کی اپنی حکومت ہوتی اور یہ معاشرہ ان کا اپنا ہوتا تو وہ خدام کو برا بھلا کہتے کہ وہ کسی کی نوجوان بیٹی کو اپنے پاس بٹھائے ہوئے تھا۔لیکن وہاں صورت مختلف تھی۔انہیں یہ بھی معلوم تھاکہ خدام برے چال چلن کا نوجوان نہیں۔اس مظلومیت میں بھی مسلمان متحد تھے۔لیکن باغ میں کام کرنے والوں میں سے ایک نے کہا کہ یہ آتش پرست ادھر کیا لینے آیا تھا۔’’اسے ادھر لایا گیا تھا۔‘‘ایک نے کہا۔’’اور لانے والا ہم میں سے کوئی ایک ہی تھا۔‘‘’’معلوم کرو وہ کون ہو سکتا ہے۔‘‘اک بوڑھے نے کہا۔’’یہاں سوال ایک لڑکے اور لڑکی کا نہیں۔یہ ظالم اور مظلوم کا معاملہ ہے۔یہ ہماری آزادی اور خودداری کامعاملہ ہے۔آج اگر اس شخص نے اس ذرا سی بات پر مخبری کی ہے تو کل وہ بہت بڑی غداری کر سکتا ہے۔‘‘سب پر خاموشی طاری ہو گئی ۔ایک ادھیڑ عمر عورت نے جو ان آدمیوں کے پیچھے کھڑی تھی بول پڑی۔’’میں بتاتی ہوں وہ کون ہے؟‘‘اس عورت نے کہااور ان آدمیوں میں بیٹھے ہوئے ایک آدمی کی طرف دیکھنے لگی۔عورت نے ہاتھ لمبا کرکے انگلی سے اس کی طرف اشارہ کیا اور پوچھا۔’’ابو نصر! تم وہاں اس ٹیکری کے پیچھے کھڑے کیاکر رہے تھے؟‘‘
ابو نصر کے ہونٹ ہلے لیکن وہ کچھ کہہ نہ سکا۔اسی سے سب سمجھ گئے کہ یہ شخص آتش پرستوں کامخبر ہے ۔اس نے آخر اس الزام کو تسلیم نہ کیا۔’’میں تمہیں دیکھ رہی تھی۔‘‘اس عورت نے کہا۔’’تم ٹیکری کے پیچھے غائب ہو گئے اور وہاں سے شمر نکلا۔‘‘’’دیکھ ابو نصر! ‘‘ایک بوڑھے نے کہا۔’’ہمیں کوئی ڈر نہیں کہ اب تم شمرکو یہ بھی جا کر بتا دو گے کہ ہم نے تمہیں مخبر اور غدار کہا ہے ۔یہ سوچ لو کہ آتش پرست تمہیں گلے نہیں لگائیں گے۔وہ کہتے ہوں گے کہ تم ان کے غلام ہو اور اپنی قوم کے خلاف مخبری اور غداری تمہارا فرض ہے۔‘‘ابو نصر نے سر جھکا لیا۔اس پر طعنوں اور گالیوں کے تیر برسنے لگے جس کے منہ میں جو آیا اس نے کہا۔آخر ابو نصر نے سر اٹھایا ۔اس کا چہرہ آنسوؤں سے دھلا ہوا تھا اور آنسو بہے چلے جا رہے تھے۔ندامت کے یہ آنسو دیکھ کر سب خاموش ہو گئے۔’’تمہیں آخر کتنا انعام ملتا ہو گا؟‘‘ان کے ایک بزرگ نے پوچھا۔’’کچھ بھی نہیں۔‘‘ابو نصر نے سسکی لینے کے انداز میں کہا۔’’میں نے یہ پہلی مخبری کی ہے ۔اگر تم لوگ مجھے موت کی سزا دینا چاہو تو مجھے قبول ہے۔‘‘’’ہم پوچھتے ہیں ،کیوں؟‘‘ایک نے کہا۔’’آخر تم نے یہ حرکت کیوں کی؟‘‘’’میری مجبوری۔‘‘ابونصرنے جواب دیا۔’’پرسوں کی بات ہے ،اس کماندار نے مجھے راستے میں روک کر کہا تھاکہ میں زہرہ کے گھر پر نظر رکھوں ۔اس کامطلب یہ تھا کہ میں یہ نظررکھوں کہ زہرہ گھر سے بھاگ نہ جائے اور اسے کسی جوان آدمی کے ساتھ الگ تھلگ کھڑا دیکھو ں تو اسے اطلاع دوں……میں نے اسے کہا کہ میں اس لڑکی پر نظر رکھوں گا۔ لیکن میری دو بیٹیوں پر کون نظر رکھے گا۔میں نے کہا کہ شاہی فوج کے کماندار اور سپاہی ہماری بیٹیوں کو بری نظر سے دیکھتے رہتے ہیں……‘‘’’شمر میری بات سمجھ گیا،اس نے کہا کہ تمہاری بیٹیوں کو کوئی شاہی فوجی آنکھ اٹھاکربھی نہیں دیکھے گا۔اس نے میرے ساتھ پکا وعدہ کیا کہ وہ میری بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کا پکا انتظام کرے گا……یہ میرے لیے بہت بڑا انعام تھا۔‘‘’’خدا کی قسم!‘‘ بوڑھے نے کہا۔’’تم اس قابل نہیں ہو کہ تمہیں مسلمان کہا جائے۔تم نے اپنی بیٹیوں کی عزت بچانے کیلئے اپنے بھائی کی بیٹی کی عزت کا خیال نہ کیا۔‘‘’’تجھ پر خدا کی لعنت ہو ابو نصر!‘‘ ایک اور بولا۔’’تو جانتا ہے کہ ان آتش پرستوں کے وعدے کتنے جھوٹے ہوتے ہیں۔ان میں تمہیں کوئی ایک بھی نہیں ملے گا جو کسی مسلمان سے وفا کرے۔‘‘’’اپنی بیٹیوں کی عزت کی حفاظت کیلئے ہم خود موجود ہیں۔‘‘ایک اور نے کہا۔’’تمہاری بیٹیاں ہماری بیٹیاں ہیں۔‘‘’’میں اسے معاف کرتا ہوں۔‘‘زہرہ کے باپ سعود نے کہا۔
’’اور میں بھی اسے معاف کرتا ہوں۔‘‘خدام بولا۔’’خدا کی قسم! میں شمر سے انتقام لوں گا۔‘‘’’جوش میں مت آ لڑکے!‘‘بزرگ عرب نے کہا۔’’کچھ کرنا ہے تو کرکے دکھا۔اور یہ بھی یاد رکھ کہ جوش میں آکہ مت بول، دماغ کو ٹھنڈا کرکے سوچ۔‘‘دوسری صبح جب یہ مسلمان کھیتوں اور باغوں میں کام کرنے کیلئے گئے تو ان میں خدام نہیں تھا۔ہر کسی نے خدام کے باپ سے پوچھا کہ وہ کہاں ہے؟باپ پریشان تھا۔اسے صبح پتا چلا تھا کہ خدام غائب ہے۔’’زرتشت کے یہ پجاری میرے بیٹے کو کھا گئے ہیں۔‘‘خدام کے باپ نے روتے ہوئے کہا۔’’اسے انہوں نے کسی طرح دھوکے سے باہر بلایا ہو گا اور قتل کرکے لاش دریا میں بہا دی ہو گی۔‘‘سب کا یہی خیال تھا۔صرف زہرہ تھی جسے امید تھی کہ خدام خود کہیں چلا گیا ہو گا۔اس نے زہرہ کو بتایا تھا کہ کہ وہ کچھ دنوں کیلئے کہیں غائب ہو جائے گا۔زہرہ نے یہ بات کسی کو نہ بتائی بلکہ اس نے بھی یہی کہاکہ خدام کو ایرانیوں نے غائب کردیا ہے۔زہرہ نے اپنی سہیلیوں سے کہا کہ وہ دو تین روز ہی خدام کا انتظار کرے گی ۔وہ نہ آیا تو دریا میں ڈوب مرے گی۔تین چار روز بعد رات کو شمر فوج کی ایک چوکی میں بیٹھا دو نو عمر لڑکوں کا رقص دیکھ رہا تھا۔ایران کے شاہی درباروں میں ایسے لڑکوں کا رقص مقبول تھا جن کے جسم لڑکیوں کی طرح دل کش ،گداز اور لچکدار ہوتے تھے۔انہیں ایسا لباس پہنایا جاتا تھا جس میں وہ نیم عریاں رہتے تھے۔شِمر شاہی خاندان کا فرد تھا ۔اس رات یہ دولڑکے اس نے اپنے سپاہیوں کیلئے بلائے تھے ۔شراب کا دور چل رہا تھا۔سپاہی چیخ چیخ کا داد دے رہے تھے ۔شراب میں بدمست ہوکر دو تین سپاہیوں نے بھی لڑکوں کے سات ہی ناچنا شروع کر دیا۔شمر کے حکم پر ان سپاہیوں کو دوسرے سپاہی اٹھاکر چوکی سے باہر پھینک آئے۔یہ چوکی چھوٹا سا ایک قلعہ تھا۔لیکن اس کے دروازے رات کو بھی کھلے رہتے تھے۔ایرانیوں کو کسی دشمن کے حملے کا خطرہ نہیں تھا۔وہ اپنے آپ کو ناقابلِ تسخیر سمجھتے تھے۔رقص جب اپنے عروج کو پہنچا اور شراب کا نشہ شمر اور اس کے سپاہیوں کے دماغ کو ماؤف کرنے لگا تو سنسناتا ہوا ایک تیر آیا جو شمر کی گردن میں ایک طرف سے لگا اور اس کی نوک دوسری طرف سے باہر نکل گئی۔شمر دونوں ہاتھ اپنی گردن پر رکھ کر اٹھا۔سپاہیوں میں ہڑبونگ مچ گئی ۔وہ سب شمر کے گرد اکھٹے ہو گئے ۔تین چار اور تیر آئے ۔تین چار چیخیں سنائی دیں ۔پھر ان ایرانیوں پر جیسے قیامت ٹوٹ پڑی۔انہیں سنبھلنے کا موقع ہی نہ ملااور وہ کٹنے لگے۔ان میں سے جو بھاگ کر دروازوں کی طرف گئے وہ دروازوں میں کٹ گئے۔
چوکی والوں کو کہیں سے بھی مدد نہیں مل سکتی تھی۔کسی بھی دروازے سے کوئی باہر نہیں نکل سکتا تھا۔انہیں ہتھیار اٹھانے کی تو مہلت ہی نہیں ملی تھی۔اس حملے میں جو بچ گئے وہ زمین پر لیٹ گئے ۔یہ ایک طوفان تھا یا بگولہ جو غیر متوقع طورپر آیا اور جب گزر گیا تو اپنے ساتھ وہ تمام مال و دولت جو اس چوکی میں تھا لے گیا ۔پیچھے لاشیں رہ گئیں یا تڑپتے ہوئے زخمی یا وہ اچھے بھلے ایرانی سپاہی جو جان بچانے کیلئے لاشوں اور زخمیوں میں لیٹ گئے تھے۔
صبح ہوئی ۔مسلمان کھیتوں اور باغوں میں کام کرنے کیلئے گھروں سے نکل رہے تھے کہ گھوڑ سوار ایرانی فوج نے ان کی بستی کو گھیرے میں لے لیا۔دوسری چوکی کو اس وقت اس چوکی پر حملے کی اطلاع ملی تھی جب حملہ آور اپناکام کرکے بہت دور نکل گئے تھے۔مسلمانوں کو کام پرجانے سے روک لیا گیا ۔ایرانی فوجیوں نے مردوں کو الگ اکھٹا کرکے کھڑا کر دیا اور ان کے گھروں سے عورتوں کو باہر نکال کر مردوں سے دور کھڑا رہنے کا حکم دیا۔فوجی ان کے گھروں میں گھس گئے اور اس طرح تلاشی لی جیسے ان کے مکانوں کے فرش بھی کھودکر دیکھے ہوں۔انہیں کسی گھر سے ایسی کوئی چیز نہ ملی جو شک پیدا کرتی البتہ سپاہیوں کو اپنے کام کی جو چیزیں نظر آئیں وہ انہوں نے اٹھالیں۔پھر انہوں نے عورتوں اور مردوں کو اکھٹا کھڑا کرکے انہیں دھمکیاں دیں۔مسلمانوں کے ساتھ یہ سلوک ان کیلئے نیانہیں تھا۔کسی نہ کسی بہانے ان کے گھروں کی تلاشی ہوتی ہی رہتی تھی۔اس کے بعد انہیں اسی طرح کی دھمکیاں ملتی تھیں لیکن اب ایرانیوں کو معقول بہانہ ملاتھا۔’’رات ابلہ کی ایک مضافاتی چوکی پر بہت سے آدمیوں نے شبخون مارا ہے۔‘‘ایک ایرانی کماندار نے مسلمانوں سے کہا۔’’ہمارا ایک کماندار اور ساٹھ سپاہی مارے گئے اور بہت سے زخمی ہوئے ہیں اگر تم میں کوئی مرد یا عورت اس گروہ کے کسی ایک آدمی کو بھی پکڑ وائے گا اسے انعام ملے گا۔نقد انعام کے علاوہ اسے اس فصل کا آدھا حصہ ملے گا۔‘‘اس نے سب پر نگاہ دوڑائی اور پوچھا۔’’ایک دوسرے کو دیکھ کر بتاؤ کہ تم میں کون غیر حاضر ہے۔‘‘سب نے ادھر ادھر دیکھا لیکن وہ یہ نہیں دیکھ رہے تھے کہ کون غیر حاضر ہے۔ان کی نگاہیں خدام کو ڈھونڈ رہی تھیں۔وہ تین چار دنوں سے بستی سے غائب تھا۔ سب نے دیکھا کہ خدام وہاں موجود تھا۔سب نے سکون کی سانس لی۔پھر بہت سی آوازیں اٹھیں کہ کوئی بھی غیر حاضر نہیں۔ایرانی فوجیوں کے جانے کے بعد جنہیں معلوم تھا کہ خدام تین چار روز غائب رہاہے وہ باری باری اس سے پوچھنے لگے کہ وہ کہاں چلا گیا تھا۔’’میں شمر کے ڈر سے بھاگ گیا تھا۔‘‘خدام نے ہر کسی کو یہی جواب دیا۔اس کے باپ نے سب کو بتایا تھا کہ خدام گزشتہ رات کے پچھلے پہر آیا تھا۔اس روز باغ میں کام کرتے ہوئے زہرہ اور خدام کام سے کھسک گئے اور اس جگہ جا بیٹھے جہاں انہیں کوئی دیکھ نہیں سکتا تھا۔زہرہ خوشی سے پاگل ہوئی جا رہی تھی اوروہ رہ رہ کر خدام کی بلائیں لیتی تھی۔’’یہ کیسے ہوا خدام؟‘‘اس نے خوشی سے لڑکھڑاتی ہوئی زبان سے پوچھا۔’’یہ ہوا کیسے؟‘‘’’اسے اﷲ کی مدد کہتے ہیں زہرہ!‘‘خدام نے کہا۔’’اب نہ کہنا کہ خدا مدد نہیں کرتا۔‘‘

’’خدام!‘‘زہرہ سنجیدہ ہو گئی جیسے اس کے ہونٹوں پر کبھی مسکراہٹ آئی ہی نہ ہو۔خدام کے چہرے پر نظریں گاڑھ کر قدرے پریشان سے لہجے میں بولی۔’’سچ کہوخدام!شمر کے قاتل تم ہی تو نہیں؟……کہتے ہیں رات صحرائی ڈاکو ؤں کے بہت بڑے گروہ نے شمر کی چوکی پر اس وقت شب خون مارا جب وہ شراب اور رقص میں بد مست تھے ۔ایسا تو نہیں کہ تم ان ڈاکوؤں سے جا……‘‘خدام کے اچانک قہقہے نے بنتِ سعود کی بات پوری نہ ہونے دی۔ وہ ہنستا ہی رہا۔جیسے اس سے بڑا مذاق اس نے کبھی سُنا ہی نہ ہو۔خدام نے قہقہے میں ایک راز چھپا لیاتھا۔زہرہ کو یہ خطرہ نظر آیا تھا کہ خدام غیر معمولی طور پر دلیر،غیرت مند اور جسمانی لحاظ سے طاقتور اورپھرتیلا ہے ۔کہیں ایسا تو نہیں ہوا کہ وہ شمر کو قتل کرانے کیلئے ڈاکوؤں کے گروہ سے جا ملا ہو۔اس زمانے میں صحرائی ڈاکوؤں کے گروہ فوجی دستوں کی طرح اپنی کارروائیاں کرتے تھے۔وہ مسافروں کے قافلوں کو لوٹتے اور اگر فوج کے مقابلے میں آجاتے تو جم کر مقابلہ کرتے اور لڑتے لڑتے یوں غائب ہوجاتے جیسے انہیں صحرا کی ریت اور ریتیلے ٹیلوں نے نگل لیا ہو۔زہرہ نے کئی بار دیکھا تھا کہ دو تین اجنبی مسافر آئے اور یہ بتا کر کہ وہ بہت دور جا رہے ہیں ،کسی مسلمان کے گھر ٹھہرے اور صبح ہوتے ہی چلے گئے،وہ جب بھی آتے تھے ،خدام اور اس جیسے تین چار نوجوان زیادہ وقت ان کے ساتھ گزارتے اور ان کے جانے کے بعد یہ نوجوان پراسرار سی سرگرمیوں میں مصروف ہو جاتے تھے۔زہرہ نے یہ بھی دیکھا تھا کہ اجنبی مسافروں کے جانے کے بعد مسلمان قبیلوں کے بزرگ سرجوڑ کر بیٹھ جاتے اور سرگوشیوں میں باتیں کرتے تھے۔پھر جب مسلمان کھیتی باڑی،باغبانی اور دیگر کاموں میں مصروف ہوتے تو یہ بزرگ ان کے درمیان گھومتے پھرتے اور ان کے ساتھ ایسی باتیں کرتے جیسے وعظ کر رہے ہوں۔’’اپنے مذہب کو نہ چھوڑنا۔‘‘بزرگ اس قسم کی باتیں کرتے تھے۔’’جس خدا کے بھیجے ہوئے رسولﷺ کو مانتے ہو اس خدا کی مدد آ رہی ہے……آتش پرست طاقتور ہیں ،بہت طاقتور ہیں لیکن وہ اﷲ سے زیادہ طاقتور نہیں……ثابت قدم رہو……ظالم کا ہاتھ کٹنے والا ہے……اﷲمظلومین کے ساتھ ہے۔‘‘
’’کب؟……آخر کب؟‘‘ایک روز ایک آدمی نے جھنجھلا کر ان بزرگوں سے پوچھا۔’’خدا کی قسم! تم یہ کہہ رہے ہو کہ ہم ظلم و ستم سہتے چلے جائیں اور چپ رہیں اور تمہارے وعظ سنتے رہیں ۔اگر آج ہم کہہ دیں کہ ہم مسلمان نہیں اور اسلام کے ساتھ ہمارا کوئی تعلق نہیں تو غلامی کی زنجیریں ٹوٹ جائیں……خدا کی مدد آرہی ہے۔کب آ رہی ہے؟‘‘’’اسے بتاؤ۔‘‘ایک بزرگ نے اس آدمی کے ساتھ کام کرنے والے ایک آدمی سے کہا۔’’اسے اچھی طرح سمجھاؤ……اسے بتاؤ کہ اس علاقے میں یہ صدیوں پرانے کھنڈر ہیں ،خدا کا ہاتھ ان میں سے اٹھے گا اور ظالم کا ہاتھ کٹ جائے گا۔‘‘ان بزرگوں کے سینے میں وہی راز تھا جو خدام نے زہرہ بنتِ سعود سے چھپا لیا تھا۔ایرانی کماندار شمر کی چوکی پر جو اتنا زبردست شب خون مارا گیا تھا وہ پہلا شب خون نہیں تھا۔اُبلہ کے علاقے میں یہ پہلا تھا ۔یہ چوکی چونکہ آبادی کے قریب تھی اس لیے ان مسلمانوں کو پتا چل گیا تھا ۔اگر ان کے گھروں کی تلاشی نہ لینی ہوتی تو شاید انہیں پتا ہی نہ چلتا۔عراق کے سرحدی علاقے میں یہ دوسری تیسری رات ایرانیوں کی کسی نہ کسی چوکی پر ایسا ہی شب خون پڑتا اور شب خون مارنے والے چوکی میں قتل و غارت کرکے وہاں سے جو مال اور سامان ہاتھ لگتا ،لے کر غائب ہو جاتے۔دو بار ایرانی فوج نے یہ جوابی کارروائی کی کہ کثیر تعداد گھوڑ سوار دستہ شب خون مارنے والوں کی تلاش میں گیا۔اس سر سبز اور شاداب علاقے سے نکلتے ہی صحرا شروع ہو جاتا تھا۔جو ہموار صحرا نہیں تھا۔وہاں ریت کی گول گول اور اونچی اونچی ٹیکریاں تھیں۔آگے وسیع نشیب تھے جن میں عجیب و غریب شکلوں کے ٹیلے کھڑے تھے۔ریت کی پہاڑیاں تھیں جن سے شعلے سے نکلتے محسوس ہوتے تھے۔اس خوفناک علاقے میں جو میل ہامیل پھیلا ہوا تھا،صحرا کے بھیدی ہی جا سکتے تھے۔کسی اجنبی کا وہاں جانا ہی محال تھا اور وہاں جاکر زندہ نکل آنا تو ناممکن تھا۔دونوں بار ایرانی فوج کے گھوڑ سوار دستے کا یہ انجام ہوا کہ اسے گھوڑوں اورانسانوں کے نقوش ِ پا ملتے رہے جو صاف بتاتے تھے کہ یہ ایک گروہ ہے اور شب خون مارنے والا یہی گروہ ہو سکتا ہے۔مگر یہ نقوش انہیں سیدھے موت کے منہ میں لے گئے۔ایرانی جوں ہی پہلے نشیب میں داخل ہوئے اورپورا دستہ نشیب میں اتر گیا تو ان پر تیروں کی بوچھاڑیں آنے لگیں۔پہلی بوچھاڑ میں کئی سوار اور گھوڑے گھائل ہو گئے۔زخمی گھوڑے بے لگام ہو کر ادھر ادھر بھاگے ۔سارے دستے میں بھگدڑ مچ گئی۔ان پر تیر برستے رہے مگر بکھر جانے کی وجہ سے تیر خطا ہونے لگے۔بھول بھلیوں جیسے اس نشیب میں سے چند ایک گھوڑ سوار نکلے۔ان کے ہاتھوں میں برچھیاں تھیں۔ان کے کرتے بڑے لمبے اورسروں پر سیاہ کپڑے اس طرح لپٹے ہوتے تھے کہ ان کے چہرے اور گردنیں بھی ڈھکی ہوئی ہوتی تھیں ۔ان کی صرف آنکھیں نظر آتی تھیں۔ان گھوڑوں کے قدموں میں اور ان کے سواروں کے بازوؤں میں ایسی پھرتی تھی کہ ایرانی سوار جو پہلے ہی ہراساں تھے ،برچھیوں سے زخمی ہوکر گرنے لگے۔ان میں سے کئی بھاگ نکلے۔وہ ٹیلوں اور گھاٹیوں واے نشیب سے تو نکل گئے لیکن ریت کی گول گول ٹیکریوں میں داخل ہوئے تو گھومنے لگے۔ان سینکڑوں ٹیکریوں میں جو ایک دوسری کے ساتھ ساتھ کھڑی تین چار میل کی وسعت میں پھیلی ہوئی تھیں ،یہی خطرہ ہوتا ہے کہ کوئی اجنبی ان کے اندر چلا جائے تو وہ اندر ہی اندر چلتا رہتاہے ،نکل نہیں سکتا۔آخر تھک کر بیٹھ جاتا ہے ۔پیاس سے حلق میں کانٹے چبھنے لگتے ہیں اور ریگستان کے یہ گول گول بھوت اسے بڑی اذیت ناک موت مارتے ہیں۔
دوسری بار ایرانیوں کے سوار دستے پر کسی اور جگہ سے ایسا ہی حملہ ہواتھا اور سوار بکھر کر ادھر ادھر بھاگ رہے تھے تو انہیں ایک للکار سنائی دینے لگی۔’’زرتشت کے پجاریوں !میں مثنیٰ بن حارثہ ہوں……زرتشت کو ساتھ لاؤ……مثنیٰ بن حارثہ ……ہرمز کو یہ نام بتا دینا……مثنیٰ بن حارثہ۔‘‘اس ایرانی دستے کے جو سوار زندہ بچ گئے وہ نیم مردہ تھے۔انہوں نے اپنے کمانداروں کو بتایا کہ انہیں صحرا میں یہ للکار سنائی دی تھی۔اس کے بعد ایرانیوں کی سرحدی چوکیوں پر چھاپے پڑتے رہے لیکن انہوں نے چھاپہ مار وں کے تعاقب کی اور ان کو تلاش کرنے کی جرات نہ کی۔بعض چھاپوں کے بعد بھی یہ للکار سنائی دیتی تھی۔’’مثنیٰ بن حارثہ……آتش پرستو……میں مثنیٰ بن حارثہ ہوں۔‘‘پھر مثنیٰ بن حارثہ دہشت کا،کسی جن بھوت کا،کسی بدروح کا ایک نام بن گیا۔ایرانی فوجی اس نام سے ڈرنے لگے ۔انہوں نے مثنیٰ بن حارثہ یا اس کے گروہ کے کسی ایک آدمی کو پکڑنے کے بہت اہتمام کیے لیکن جب کہیں شب خون پڑتا تھا تو ایرانی فوجی جن کی جرات اور بے جگری مشہور تھی ،دہشت سے دبک جاتے تھے۔یہ تھا وہ مثنیٰ بن حارثہ جو فروری ۶۳۳ء کے ایک روز مدینہ میں خلیفۃ المسلمین ابو بکرؓ کے سامنے ایک گمنام اجنبی کی حیثیت سے بیٹھا تھا۔وہ جنوبی عراق کارہنے والا اور اپنے قبیلے بنو بکرکا سردار تھا۔تاریخ میں ایسا اشارہ کہیں بھی نہیں ملتا کہ اس نے کب اور کس طرح اسلام قبول کیا تھا ۔یہ اسی کی کاوش کا نتیجہ تھاکہ نہ صرف اس کے اپنے قبیلے نے بلکہ ان علاقوں میں رہنے والے کئی اور قبیلوں نے اسلام قبول کر لیا تھا۔جب جنگِ یمامہ ختم ہوئی اورارتداد کے فتنے کا سر کچل دیا گیاتو مثنیٰ بن حارثہ نے عراق کے جنوبی علاقوں میں ایرانیوں کیخلاف جہاد شروع کر دیا۔انہوں نے ان مسلمانوں میں سے جو ایرانی بادشاہی کی رعایا تھے۔ایک گروہ بنالیا اور ایرانی فوج کی سرحدی چوکیوں پر شب خون مارنے شروع کر دیئے۔ان کے شب خون اس قدر اچانک اور تیز ہوتے تھے کہ چوکی والوں کو سنبھلنے کا موقع ہی نہیں ملتا تھااورمثنیٰ کا گروہ صفایا کرکے غائب ہو جاتا تھا۔انہوں نے بڑے ہی دشوار گزار صحرامیں اپنا اڈہ بنالیا تھا جسے انہوں نے مالِ غنیمت سے بھر دیا تھا۔پھر انہوں نے ان بستیوں پر بھی شب خون مارنے شروع کردیئے جہاں صرف ایرانی رہتے تھے۔مثنیٰ نے سرحد پر ایرانی فوج کو بے بس اور مجبور کردیا۔ایرانی فوج کے کئی سینئر کماندار مثنیٰ کے ہاتھوں مارے گئے تھے۔
مثنیٰ بن حارثہ نے دوسرا کام یہ کیا کہ عراق کے جنوبی علاقے مین جومسلمان ظلم و ستم میں زندگی گزار رہے تھے انہیں اس نے اپنے زمین دوز اثر میں لے کرمتحد رکھا ہوا تھا۔ان کا ایک گروہ تو شب خون مارنے کاکام کرتا تھا اور ایک گروہ بستیوں میں رہ کر مسلمانوں کو اتحاد کی لڑی میں پروئے رکھتا تھا اور انہیں بتاتا رہتا تھا کہ باہر کیا ہو رہا ہے۔مسلمان اپنے چھاپہ ماروں کی کامیابیاں دیکھ رہے تھے اور وہ مطمئن تھے۔یہ تھی وہ خدائی مدد جس کے انتظارمیں وہ ایرانیوں کا ظلم و ستم سہہ رہے تھے اور اپنا مذہب نہیں چھوڑ رہے تھے۔ورنہ مظالم سے بچنے کا ان کے سامنے بڑا سہل طریقہ یہ تھاکہ اسلام سے منحرف ہو کر آتش پرست ہو جاتے۔خدام نے زہرہ سے کہا تھا کہ وہ تین چار دنوں کیلئے غائب ہو جائے گا ۔وہ غائب ہوکر چھاپہ ماروں کے ا ڈے پر چلا گیا تھا اور انہیں ایرانی کماندار شمر کے متعلق بتایا تھا ۔اس کی چوکی تک چھاپہ ماروں کی رہنمائی اسی نے کی تھی ۔چوکی پر حملہ پوری طرح کامیاب رہا ۔اسکے فورا ً بعد خدام اپنے گھر آ گیا تھا۔مثنیٰ بن حارثۃنے امیر المومنین ابو بکر ؓ کو تفصیل سے بتایا کہ انہوں نے خلیج فارس کے ساحل کے ساتھ ساتھ اور عراق کے جنوبی علاقے میں کس طرح عربی مسلمانوں کے قبیلوں کو اپنے اثر میں لیا اورانہیں اسلام پر قائم رکھ کر انہیں زمین دوز محاذپر جمع کیا۔’’تجھ پر اﷲ کی رحمت ہو ابن ِحارثہ! ‘‘خلیفہؓ نے کہا۔’’تو اگر یہ مشورہ دینے آیا ہے کہ میں ایرانیوں پر فوج کشی کروں تو مجھے سوچنا پڑے گا۔کیا تو نے دیکھا نہیں کہ ایرانیوں کی فوج کی تعداد کتنی زیادہ ہے اور ان کے وسائل اور ذرائع کتنے وسیع اور لا محدود ہیں ؟ہم اپنے مستقر سے اتنی دور قلیل تعداد اور بغیر وسائل، کثیر تعداد اور طاقتور فوج کے مقابلے کے قابل نہیں ہوتے لیکن میں نے سلطنت فارس کونظر انداز بھی نہیں کیا۔‘‘’’امیر المومنین!‘‘مثنیٰ نے اپنے سینے پر ہاتھ رکھ کرکہا۔’’اگرایک آدمی اتنی بڑے ملک کی فوج کے ساتھ ٹکر لے سکتا ہے اور ان پرمسلمانوں کے عسکری جذبے کی دھاک بٹھا سکتا ہے تو میں اپنے اﷲ کے بھروسے پہ کہتا ہوں کہ ایک منظم فوج بہت کچھ کر سکتی ہے ۔میں اس آتش پرست سلطنت کی اندرونی کیفیت دیکھ آیا ہوں۔شاہی خاندان تخت و تاج کی خاطر آپس میں دست و گریباں ہو رہا ہے۔آپ جانتے ہیں کہ شہنشاہ ہرقل فارسیوں کو نینوا اور دستجرد میں بہت بری شکست دے چکا ہے۔اس کی فوجیں آتش پرست فارسیوں کے دارالحکومت مدائن کے دروازوں تک پہنچ گئی تھیں۔اس کے بعد فارسی(ایرانی)سنبھل نہیں سکے۔اگر ان میں عیش پرستی کو دیکھاجائے تو وہ سنبھلے ہوئے لگتے ہیں لیکن اب ان میں بادشاہی کے تاج پر رسہ کشی ہو رہی ہے۔یمن ان کے ہاتھ سے نکل گیا ہے اور وہاں کے حاکم بازان نے اسلام قبول کرلیا ہے،ان کی رعایا ان کی زنجیریں توڑنا چاہتی ہے ۔ان کی محکومی میں ان کے جنوبی علاقوں کے مسلمان میرے اشارے اورمدینہ کی فوج کے منتظر ہیں۔‘‘’’تجھ پر رحمت ہی رحمت ہو مثنیٰ!‘‘امیر المومنینؓ نے کہا۔’’لارَیب تیری باتیں میرے دل میں اتر رہی ہیں ۔میرا اگلا قدم وہیں پڑے گا جہاں تو کہتا ہے۔کیا یہ بہتر نہیں ہو گاکہ میں سالاروں کی مجلس سے بات کر لوں؟‘‘
’’یا امیرالمومنین!‘‘مثنیٰ نے کہا۔’’فیصلہ وہی بہتر ہوتا ہے جو صلح و مشورے کے بعد کیا جاتا ہے لیکن میں امیر المومنین سے اجاز ت چاہوں گا کہ جو کہنا چاہتا ہوں وہ کہہ لوں اور آپ میری باتیں سالاروں کے سامنے ضرور رکھیں……دجلہ اور فرات جہاں ملتے ہیں ،وہاں کے بڑے وسیع علاقے میں عربی قبیلے آباد ہیں جو سب کے سب مسلمان ہیں۔چونکہ وہ مسلمان ہیں اس لئے وہ آگ کے پجاری بادشاہوں کے جورو ستم کا نشانہ بنے ہوتے ہیں۔مسجدوں پر بھی ان کا حق تسلیم نہیں کیا جاتا۔فارسیوں کے ہاتھوں ان کی جان محفوظ نہیں۔ان کی عزت محفوظ نہیں……وہ مسلمان فصل اگاتے ہیں جو پک جاتی ہے تو آتش پرست زمیندار اور فوجی اٹھا کر لے جاتے ہیں ،وہاں مسلمان مزارعے ہیں اور انہیں دھتکاری ہوئی مخلوق سمجھا جاتا ہے ۔وہ مسلسل خوف و ہراس میں رہتے ہیں۔ان کیخلاف الزام صرف یہ ہے کہ وہ مسلمان ہیں اور کفر کے طوفانوں میں بھی وہ اسلام کی شمع روشن کیے ہوئے ہیں۔وہ مدینہ کو روشنی کا مینار سمجھتے ہیں……امیر المومنین! اگر آپ بیٹھے یہ سوچتے رہیں کہ دشمن بہت طاقتور ہے تو وہ روز بروز طاقتور ہوتا جائے گا اور مسلمان مایوس ہو کراپنی بھلائی کا کوئی ایسا طریقہ سوچ لیں گے جو اسلام کے منافی ہو گا۔میرے چھاپہ ماروں نے جو کامیابیاں حاصل کی ہیں اور آپ کی فوج کیلئے جو زمین ہموار کی ہے وہ دشمن کے حق میں چلی جائے گی……کیارسول اﷲﷺمظلوم مسلمانوں کی مدد کو نہیں پہنچا کرتے تھے؟‘‘’’خدا کی قسم! میں ان کی مدد کو پہنچوں گا۔‘‘خلیفہ ابو بکرؓ نے کہا اور اپنے پاس بیٹھے ہوئے ایک سالار سے پوچھا۔’’ولید کا بیٹا خالد کہاں ہے؟‘‘’’یمامہ میں آپ کے اگلے حکم کا انتظار کررہا ہے امیر المومنین!‘‘انہیں جواب ملا۔’’کوئی تیز رفتار قاصد بھیجو اور اسے پیغام بھیجو کے جلدی مدینہ پہنچے۔‘‘خلیفہ ابو بکر ؓ نے کہا ۔’’فارس کی بادشاہی سے ہم اﷲ کی تلوار کے بغیر نہیں لڑ سکتے۔‘‘خلیفہؓؓ مثنیٰ سے مخاطب ہوئے۔’’اور تم مثنیٰ!واپس جاؤ اور عرب قبیلوں کے جس قدرآدمی اکھٹا کر سکتے ہو کرلو۔اب تمہیں کھلی جنگ لڑنی پڑے گی۔جو تم شب خون اور چھاپوں کے انداز سے بھی لڑ سکتے ہو۔لیکن اپنے فیصلوں میں تم آزاد نہیں ہو گے۔خالد سالارِاعلیٰ ہوگا ۔تم اس کے فیصلوں کے پابندہو گے۔‘‘’’تسلیم امیر المومنین!‘‘مثنیٰ بن حارثہ نے کہا۔’’ایک اور عرض ہے……اس علاقے میں جو عرب قبیلے ہیں وہ سب کے سب مسلمان نہیں۔ان میں عیسائی بھی ہیں اور دوسرے عقیدوں کے لوگ بھی۔وہ سب آتش پرستوں کے خلاف ہیں ۔فارس کے آتش پرست ان کے ساتھ بھی وہی سلوک کرتے ہیں جو مسلمانوں کے ساتھ کر رہے ہیں۔اگر اﷲ تعالیٰ نے ہمیں فتح عطا فرمائی تو غیر مسلم عربوں کے ساتھ ایسا ہی سلوک ہونا چاہیے جیسا وہاں کے عرب مسلمانوں کے ساتھ ہو گا۔‘‘’’ایسے ہی ہو گا!‘‘امیر المومنین ابو بکرؓ نے کہا۔’’جنہوں نے اسلام کے خلاف کچھ نہیں کیا ،اسلام ان کی پریشانی کا باعث نہیں بنے گا……تم آج ہی روانہ ہو جاؤ۔‘‘
end of qist 55          
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers