قوم کو (ماہ شوال المکرم) عیدُالفطر کا چاند مبارک ہو- مرکزی رویت ہلال کمیٹی نے اتفاق رائے سے ماہ شوال کا چاند نظر آنے کا اعلان کردیا ہے لہذا کل بروز منگل پاکستان اور خطے کے دیگر ممالک میں عیدُالفطر بھرپور مذہبی جوش و خروش سے منائی جائے گی پوری قومکو ایک بار پھر عید کے چاند کی مبارکباد اور التماس کہ خوشیوں کے اس موقع پر اپنے قرب وجوار اور عزیزواقارب میں سے ان لوگوں کے لیئے بھی وسائیل مہیا کریں جو اس کی استظاعت نہیں رکھتے یا مصائب سے گذر رہے ہیں آئی ڈی پیز کے لیئے بھی جو بھی تعاون ممکن ہو ضرور کریں-
نوے کی دہائی کا آغاز تھا۔ گجرات سے جنم لینے والا انڈسٹریل کوآپریٹیو بینک اپنی پوری آب و تاب سے چل رہا تھا۔ اچانک شہر میں افواہ پھیلی کہ بینک بند ہو رہا ہے۔ صبح سویرے اس بینک کی برانچوں کے باہر لوگوں کی لائنیں لگی ہوئی تھیں جو اپنی رقوم نکالنا  چاہتے تھے۔ چند ایک تو کیش ہوئے پھر بہانے شروع ہو گئے..... کیش منگوایا ہے، ابھی آتا ہی ہو گا، ہیڈ کوارٹر سے وین چل پڑی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
برصغیر کے مسلمانوں کے لیے وہ وقت بہت کڑا تھا جب ایک طرف انگریز اپنی حکمرانی کے نشے میں مست ان پر ہر طرح کے ظلم ڈھارہا تھا تو دوسری طرف ہندو بنیا سیکڑوں برس کی غلامی کا بدلہ چکانے کے لیے تیار بیٹھا تھا۔ جب ہندوں اور انگریزوں نے یہ سمجھ لیا کہ اب مسلمان تھک چکا ہے اور اس بے بس و بے کس مخلوق سے کسی قسم کا کوئی خطرہ نہیں تو انہوں نے اپنی خباثت ِباطنی کا آخری مظاہرہ شروع کردیا۔تفصیل سے پڑھئے
شراب پینے والے شراب پینے کو اتنا بُرا نہیں جانتے، جتنا اس بات پر بُرا مانتے ہیں کہ کوئی اُن کو’شرابی‘ کہہ دے۔ ہمارے کچھ دوستوں میں سے بھی کچھ بھائی ایسے ہی بھائی ہیں۔ آئینہ اُن کو دکھایا تو برا مان گئے۔ اُن کو شاید یہ ڈر لگا رہتا ہے کہ کہیں محلے کے لونڈے لپاڑے تالیاں پیٹتے ہوئے پیچھے ہی نہ پڑ جائیں…    تفصیل سے پڑھئے
تاریخ بتاتی ہے کہ جب اقوام نے اپنی بنیادوں سے اپنا واسطہ توڑا تو پھر انکی شکست و ریخت کا عمل شروع ہو گیا اور یہ شکست و ریخت انکی مسلسل پستی پر ختم ہوئی اقوام و ملل کی دوبارہ تشکیل کا کام ایک طویل اور تکلیفدہ تخلیقی عمل ہوتا ہے . گزشتہ ادوار میں قومیں دوسری قوموں کی زمینوں انکے ملکوں اور انکے لوگوں پر غالب ہوتی تھیں لیکن آج معاملہ مختلف ہے حملہ افکار کردار اور مذاہب پر ہے اور اسی فتنے کی نشاندہی اقوال رسول صل الله علیہ وسلم سے بھی ہوتی ہے.       تفصیل سے پڑھئے
“ذکر” کی روایت ہزاروں برس پرانی ہے۔ یہ روایت اسلام سے پہلے بھی موجود رہی ہے۔ مگر”سماع” اپنے جوہری انداز میں خالصتاً اسلام سے منسلک ہے۔ امام غزالیؒ نے اسکو بہت تفصیل سے بیان کیا۔ انھوں نے “ذکر” اور “سماع” کے فرق کو بھی اجاگر کیا۔ برصغیر میں اسلام “صوفیا” کی بدولت عام لوگوں تک پہنچا۔ صوفیاء کا کمال یہ تھا کہ انھوں نے ہمارے دین کو لوگوں کے لیے آسان اور سہل بنا کر پیش کیا۔ ان صوفیا کے علم میں تھا کہ برصغیر میں لوگوں پر موسیقی کی گہری چھاپ ہے۔ چنانچہ ان عظیم لوگوں نے اس روایت کو بھی اپنے اندر سمونے کی بھر پور کوشش کی۔ تفصیل سے پڑھئے
سوئزر لینڈ اور زیورچ کے سودی بینکاری نظام کی اصل بنیاد کیا ہے۔ وہ کونسی لوٹ مار ہے جس پر اس کی عمارت تعمیر ہے اور آج بھی اس نے دنیا بھر کے مظلوم‘ مقہور اور مجبور انسانوں کی دولت کو لوٹنے والوںکو اپنا محسن قرار دیا ہے اور اس لوٹی ہوئی دولت سے لٹیروں اور ڈاکوئوں کا ایک شہر آباد کیا ہے۔ ایک ایسا شہر جو دنیا بھر کے ظالموں‘ چوروں‘ اچکوں‘ اٹھائی گیروں اور کرپٹ انسانوں کی دولت پر پلتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
جب عید الفطر کی رات ہوتی ہے تو اس کا نام آسمانوں پر لیلة الجائزہ ( انعام کی رات) سے لیا جاتا ہے او رجب عید کی صبح ہوتی ہے تو حق تعالیٰ شانہ فرشتوں کو تمام شہروں میں بھیجتے ہیں، وہ زمین پر اتر کر تمام گلیوں ، راستوں کے سروں پر کھڑے ہو جاتے ہیں ۔ او راسی آواز سے جس کو جنات اورانسان کے سوا ہر مخلوق سنتی ہے پکارتے ہیں اے محمد صلی الله علیہ وسلم کی امت! اس کریم رب کی در گاہ کی طرف چلو، جوبہت زیادہ عطا فرمانے والا ہے اور بڑے بڑے قصور کو معاف کرنے والا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
1۔ ﺍﯾﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ:-
29 ﺭﻣﻀﺎﻥ 13 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ، ﻣﺜﻨﯽ ﺑﻦ ﺣﺎﺭﺛﮧ ﮐﯽ ﻗﯿﺎﺩﺕﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯ ﻋﺮﺍﻕ ﻣﯿﮟ ﺑﻮﯾﺐ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺍﯾﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺧﻼﻑ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ،ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺣﻮﺻﻠﮯ ﺩﻭﺑﺎﺭﮦ ﺑﻠﻨﺪ ﮨﻮﺋﮯ، ﮐﯿﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﺱ ﺳﮯ ﭘﮩﻠﮯ ﺍﯾﺮﺍﻧﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﻨﮓ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮭﯿﮟ ﺟﺴﺮ ﮐﮯ ﻣﻘﺎﻡ ﭘﺮ ﺷﮑﺴﺖ ﮨﻮ ﮔﺌﯽ ﺗﮭﯽ۔

2 ۔ﺳﭙﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮧ:-
 29 ﺭﻣﻀﺎﻥ 92 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﻃﺎﺭﻕ ﺑﻦ ﺯﯾﺎﺩ ﮐﯽ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﺎﺫﺭﯾﻖ ﮐﯽ ﺳﺮﺑﺮﺍﮨﯽ ﻣﯿﮟ ﻗﻮﻁ ﻗﺒﯿﻠﮧ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﻭﺍﺩﯼ ﻟﮑﮧ ﻣﯿﮟ ﻣﻌﺮﮐﮧ ﮨﻮﺍ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮﮞﮑﻮ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﻮﺋﯽ۔ ﺍﺱ ﮐﺎﻣﯿﺎﺑﯽ ﺳﮯ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﮯ ﺍﺳﭙﯿﻦ ﻣﯿﮟ ﺩﺍﺧﻠﮯ ﮐﺎ ﺭﺍﺳﺘﮧ ﮨﻤﻮﺍﺭ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﻮ ﺁﭨﮫ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺗﮏ ﻭﮨﺎﮞ ﺣﮑﻤﺮﺍﻧﯽ ﮐﺎ ﻣﻮﻗﻊ ﻣﻼ۔
دوپہر کے وقت جب گرمی انتہا پر پہنچ گئی تو رومیوں نے زیادہ نفری سے بڑا ہی سخت حملہ کیا۔اس کے آگے پوری کوشش کے باوجود مسلمان جم نہ سکے۔ عمروؓ بن العاص کے پورے کا پورا اور شرجیلؓ بن حسنہ کا تقریباً نصف دستہ پسپا ہو گیا۔اس روز بھی ایسے ہی ہوا جیسے گشتہ روز ہوا تھا۔بھاگنے والوں کو عورتوں نے روک لیا، انہیں ڈنڈے بھی دکھائے، طعنے بھی دیئے، غیرت کو بھی جوش دلایا اور ان کا حوصلہ بھی بڑھایا۔ تفصیل سے پڑھئے
تاریخ لاہور ماضی میں گم ہے اس کی ابتدائی تاریخ کے بارے میں صرف روایات اور قیاس آرائیاں ملتی ہیں۔پرانے لاہور کے شمال میں واقع قلعہ اپنے اندر بے شمار تاریخی واقعات کے راز چھپائے برصغیر کے مسلمان حکمرانوں کی عظمت کا خاموش شاہد بنا کھڑا ہے۔ موجودہ قلعہ عظیم مغل بادشاہ اکبر کے دور میں تعمیر ہوا اور بعد میں آنے والے مغل حکمرانوں نے اسی کے اندر اپنی خواہشات کے مطابق اضافے کیے، تفصیل سے پڑھئے
انگریزی(انگلش) ادب سے مراد انگلینڈ میں لکھا گیا ادب ہے، جس کا آغاز پانچویں صدی عیسوی میں اینگلو ساکسنز کی جانب سے پرانی انگلش متعارف کروائے جانے کے ساتھ ہوا۔ پرانی انگلش کے ادب کا دور 450ء سے 1066 تک ہے جب نارمن فرانسیسیوں نے انگلینڈ کو فتح کیا۔ رومنوں کی پسپائی کے بعد پانچویں صدی میں یورپ پر چڑھائی کرنے والے جرمن قبائل اپنے ساتھ پرانی انگلش یا اینگلو ساکسن زبان لائے جو جدید انگلش کی بنیاد ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
صدر کینیڈی کا قتل اور ’سیکریٹ سروس‘ میں آنے والی تبدیلیاں
22 نومبر 1963ء کو جب ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس میں صدر کینیڈی پر گولیاں چلیں، سیکریٹ سروس کے ایجنٹ کلنٹ ہل وہیں موجود تھے۔ وہ اُس دن کا تجزیہ کچھ ان الفاظ میں کرتے ہیں، ’اس بارے میں کوئی ابہام نہیں ہے کہ ہم صدر کینیڈی کے تحفظ میں ناکام رہے‘۔   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

 علم طب میں مسلمانوں کی مہارت قرون اولیٰ سے مانی جاتی ہے،  طب نبوی کی روشنی میں مسلمان حکماء نے بہت سی بیماریوں کے علاج دریافت کیے، جن میں سے ایک معروف نام شیخ بو علی سینا کا بھی ہے، انہوں نے طب اور طبیعات کے شعبوں میں مفید چیزوں کا اضافہ کیا . انہوں نے سب سے پہلے پانی کے ذریعے بیماری کے پھیلنے کا بھی ذکر کیا۔     تفصیل سے پڑھئے
اسلام کے سب ٹکسالی نقوش کو کھرچ کھرچ کر ان کی جگہ کچھ نئے تصورات اور جدید بدعات ہیں جو ”علمیت“ کی سند کے ساتھ ہماری پڑھی لکھی نوجوان نسل کیلئے پیش خدمت ہیں اور ان کے کانوں میں صبح شام اب انہی اشیاءکی گونج ہے!
کیسے نئے سے نئے ”اسباق“ ہیں جو اسلام کے نام پر آج ہمیں بڑی محنت کے ساتھ پڑھائے جا رہے ہیں! تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ڈیوک آف ولنگٹن کی سپاہ ایک خونریز معرکہ میں سرنگا پٹم فتح کرچکی تھیں مگر ڈیوک آف ولنگٹن کو ابھی تک اپنی فتح کا یقین نہیں آرہا تھا۔ وہ عالمِ تصور میں میسور کے شیر کو ایک خوفناک دھاڑ کے ساتھ اپنے پرحملہ آور ہوتا دیکھ کر چونک جاتا تھا‘ اسکی سپاہ سرنگا پٹم کے میدان میں جمع ہونے والے سپاہیان اسلام کی نعشوں میں میسور کے شیر کو تلاش کر رہے تھے، رات کی سیاہی اور گہری ہوتی جا رہی تھی۔ لگتا تھا آسمان نے بھی ٹیپو سلطان کی شکست پر جو اسکے اپنے بے ضمیر درباریوں‘ اور لالچی وزیروں کی وجہ سے ہوئی اپنا چہرہ شب کی تاریکی میں چھپا لیا تھا- تفصیل سے پڑھئے
مشہورعباسی خلیفہ معتصم باللہ (833ءتا 843ء) کے دربار خلافت میں ایک شخص کھڑا ہوا- عرض کی: امیر المومنین میں عموریہ سے آرہا ہوں- میں نے ایک عجیب منظر دیکھا- ایک موٹے عیسائی نے ایک مسلمان لونڈی کے چہرے پر زناٹے دار تھپڑ رسید کیا- لونڈی نے بے بسی کے عالم مین آہ بھری اور بے اختیار اس کے منہ سے نکلا:
{ وا معتصماہ}
" ہائے خلیفہ معتصم تم کہاں ہو!" اس موٹے عیسائی نے لونڈی کا مذاق اڑاتے ہوئے کہا-   تفصیل سے پڑھئے

ﻋﺮﺏ ﻓﻠﺴﻔﯽ ﮐﻨﺪﯼ ﮐﯽ ﻭﻻﺩﺕ:-
28 ﺭﻣﻀﺎﻥ185 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﻋﺮﺏ ﻓﻠﺴﻔﯽﮐﻨﺪﯼ ﮐﻮﻓﮧ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺍ۔ ﺍﺱ ﮐﺎ ﭘﻮﺭﺍ ﻧﺎﻡ ﺍﺑﻮ ﯾﻮﺳﻒ، ﯾﻌﻘﻮﺏ ﺑﻦ ﺍﺳﺤﺎﻕ ﺑﻦ ﺻﺒﺎﺡ ﺑﻦ ﻋﻤﺮﺍﻥ ﺑﻦ ﺍﺳﻤﺎﻋﯿﻞ ﺑﻦ ﻣﺤﻤﺪ ﺑﻦ ﺍﺷﻌﺚ ﮐﻨﺪﯼ ﺗﮭﺎ، ﺍﺱ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻧﺴﺐ ﯾﻤﻦ ﮐﮯ ﻋﺮﺑﯽ ﻗﺒﯿﻠﮯ ﮐﻨﺪﮦ ﮐﮯ ﺑﺎﺩﺷﺎﮨﻮﮞ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺟﺎ ﮐﺮ ﻣﻠﺘﺎﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﻓﻠﮑﯿﺎﺕ، ﻓﻠﺴﻔﮧ ﻃﺐ، ﺍﺩﻭﯾﺎﺕ، ﮐﯿﻤﺴﭩﺮﯼ ﺍﻭﺭ ﻣﻮﺳﯿﻘﯽ ﺟﯿﺴﮯ ﻣﻮﺿﻮﻋﺎﺕ ﭘﺮ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﻟﮑﮭﯿﮟ۔ ﮐﻨﺪﯼ ﻧﮯ ﺳﻤﻨﺪﺭﻭﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﻣﺪﻭ ﺟﺰﺭ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﮐﺘﺎﺑﭽﮧ ﻟﮑﮭﺎ ۔ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺑﺘﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺳﻤﻨﺪﺭ ﮐﺎ ﭘﺎﻧﯽ ﻭﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﮔﻮﻻﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ ﺟﯿﺴﮯ ﺯﻣﯿﻦ ﺑﮭﯽ ﮔﻮﻻﺋﯽ ﻣﯿﮟ ﮨﮯ۔ ﺍﺱ ﻧﮯ ﻋﻄﺮ ﮐﯽ ﺍﻗﺴﺎﻡ ،ﭼﯿﺰﻭﮞ ﮐﻮ ﺭﻧﮕﻨﮯ ﮐﮯ ﺫﺭﺍﺋﻊ ﺍﻭﺭ ﻟﻮﮨﮯ ﮐﮯ ﺯﻧﮓ ﺳﮯ ﺑﭽﺎﻧﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﮐﯿﻤﯿﮑﻞ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﺘﺎﺑﭽﮯ ﻟﮑﮭﮯ۔ ﮐﻨﺪﯼ ﻧﮯ ﺳﻮ ﺳﺎﻝ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻋﻤﺮ ﭘﺎﺋﯽ ﺍﻭﺭ 285 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﻓﻮﺕ ﮨﻮﺍ۔
یہ دسمبر کا مہینہ تھا، سردی کا عروج شروع ہو چکا تھا ۔مسلمان اتنی زیادہ سردی کے عادی نہیں تھے۔ ان پر سردی بڑا برا اثر کر رہی تھی۔یہ سب سے بڑی وجہ تھی کہ محاصرہ طول پکڑتا گیا اس دوران خلیفۃ المسلمینؓ کا حکم آگیا اس کے تحت کچھ دستے عراق کو بھیجنے تھے۔  یہ دستے چلے گئے تو رومی سمجھے کہ مسلمان محاصرہ اٹھا رہے ہیں۔لیکن ایسا نہ ہوا۔رومی یہی توقع لیے قلعے میں بیٹھے رہے کہ مسلمان محاصرہ اٹھا لیں گے۔مارچ ۶۳۶ ء کا مہینہ آگیا۔سردی کی شدت ختم ہو چکی تھی۔رومی سالار ہربیس روم کے شاہی خاندان کا آدمی تھا۔ اسے کسی کے حکم کی ضرورت نہیں تھی۔ تفصیل سے پڑھئے
میری موت پر میرے صحافی دوستوں نے مقامی خبروں والے صفحے پر سیاہ حاشیہ میں دو کالمی خبر لگائ ”دوسروں کی خبر لگانے والا آج خود خبر اور قبر بن گیا” ایک نے متن میں لکھا ”مرحوم نے اپنے پیچھے صرف ایک بیوہ، دو خوش و خرم بچے،یاہو کی دو،جی میل کی ایک اور ہوٹ میل کے تین اکاؤنٹس،ایک فیس بک اور ٹیوٹر اکاؤنٹ اور نیٹ پر اپنی لاتعداد ایسی تصاویر چھوڑیں جسے دیکھ کر محسوس ہوتا ہے کہ وہ زندگی سے بیزار تھے۔“ تفصیل سے پڑھئے
  کہتے ہیں موسم انسان کے اندر ہوتا ہے اندر کا موسم خوشگوار ہو تو باہر کا موسم کسی کا کچھ نہیں بگاڑتا جبکہ میرے مطابق باہر کا موسم انسان کے اندر کے موسم سے مربوط ہے اور اس پر پوری طرح اثر انداز ہوتا ہے- دنیا میں چار موسموں کا چرچا ہے -   تفصیل سے پڑھئے
خلافت عباسیہ اپنی حکمرانی کی آخری ہچکیاں لے رہی تھی ۔ اسلامی ریاستیں تقسیم ہو رہی تھیں اور ان کے باشندوں میں باہمی تنافس اور افتراق و انتشار کا زہر پھیل رہا تھا۔ گروہی اختلافات ان کی جڑیں گھن کی طرح کھائے جا رہے تھے۔ ادھر یوروپی عیسائیوں نے بیت المقدس اور شام و فلسطین کے ساحلی علاقوں پر قبضہ کر کے ملت اسلامیہ کو بدترین بحران سے دوچار کر دیا تھا۔ اس پرآشوب زمانے میں ایک بہت تشویشناک حادثہ رونما ہوا جس نے مسلم دنیا کو جھنجھوڑ کر رکھ دیا۔    تفصیل سے پڑھئے
علم تاریخ اصطلاحاً اس علم کو کہتے ہیں جس کے ذریعہ بادشاہوں،نبیوں،فاتحوں اورمشہور شخصوں کے حالات اورگذرے ہوئے مختلف زمانوں کے عظیم الشان واقعات ومراسم وغیرہ معلوم ہوسکیں اورجو زمانہ گذشتہ کی معاشرت ،اخلا ق،تمدن وغیرہ سے واقف ہونے کا ذریعہ بن سکے،بعض شخصوں نے تاریخ کی تعریف ان الفاظ میں بیان کی ہے کہ انسانوں کے یک جا ہوکر رہنے کو تمدن اور اُس انسانی مجمع کو مدینہ اوراُن مختلف حالتوں کو جو طبعاً اُس کو عارض ہوں واقعاتِ تاریخی اورپچھلوں کو پہلوں سے سُن کر اُن واقعات کو اکٹھا کرنے اوراپنے سے پیچھے آنے والوں کی عبرت اورنصیحت کے لئے بطور نمونہ چھوڑ جانے کو تاریخ کہتے ہیں، تفصیل سے پڑھئے
باب الاسلام سے "موئن جو دڙو" تک !، سندھی زبان میں "موئن" کا مطلب "مردے" اور "دڑو" کا مطلب "ٹیلہ" جبکہ "جو" "کا" کے لئے استعمال ہوتا ہے اس طرح لفظ بنتا ہے "مردوں کا ٹیلہ"
یہ سندھ کی قدیم ترین تہذیب ہے جو ٢٦٠٠ قبل از مسیح کا زمانہ ہے ایک اندازے کے مطابق لگ بھگ ٣٠٠٠٠ ہزار کی آبادی والا یہ شہر جدید ڈسٹرکٹ لاڑکانہ میں واقع تھا ١٩٢٢ میں ایک ہندوستانی تاریخ دان اور محقق آر ڈی بنجیری (Rakhaldas Bandyopadhyay (Bengali: রাখালদাস বন্দোপাধ্যায়) نے دریافت کیا . تفصیل سے پڑھئے
حضرت خباب ؓ نے اپنے اسلام لانے کو کسی سے نہیں چھپایا۔یہ خبر ان کی مالکہ ام انمار کو جب ملی تو وہ غصے سے بھڑک اٹھی،اپنے بھائی سباع بن عبدالعزٰی کو ہمراہ لیا اور یہ دونوں بنو خزاعہ کے نوجوانوں سے ملے ۔انھیں صوتحال سے آگاہ کیا اور حضرت خبابؓ کے مسلمان ہونے کی خبر دی اور ان کے خلاف نوجوانوں کو بھڑکایا ۔پھر یہ سب مل کر حضرت خبابؓ کے پاس گئے۔کیا دیکھتے ہیں کہ وہ اپنے کام میں منہمک ہیں۔ ام انما رکا بھائی سباع آگے بڑھا اور کہا:
اے خبابؓ!میں ایک ایسی خبر ملی ہے کہ ہمارے دل اسے صحیح نہیں مانتے ۔ تفصیل سے پڑھئے

آسٹریلیا
آسٹریلیا آنے والے ابتدائی مسلمانوں کا تعلق انڈونیشیا سے تھا اور وہ ماہی گیر تھے- خود آسٹریلیا کے بھی بہت کم لوگ جانتے ہیں کہ عیسائی نوآبادکاروں کی آمد سے بہت پہلے آسٹریلیا کے قدیم باشندوں کے مسلمانوں سے تعلقات تھے اور ایبوریجنل کہلانے والے بہت سے لوگوں کو اب تک اسلام سے دلچسپی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
آجکل بہت سے لوگوں کے زبان پر صرف ایک ہی لفظ ہیے "فرقہ واریت" مگر اصل میں انہیں معلوم ہی نہیں کہ فرقہ
واریت کسے کہتے ہیں ۔؟ اگر انڈیا میں ہندوں اور مسلمانوں مین لڑائی ھو جاے تو کہتے ہیں کہ فرقہ واریت ھوئی۔ اگر اہلسنت اور قادیانی کا اختلاف ہیے تو اسے بھی فرقہ واریت کہتے ہیں ۔اگر شیعہ سنی مسئلہ ہیے اسے بھی فرقہ واریت کہہ دیتے ہیں۔۔۔۔۔ مگر۔۔۔۔۔ اصل میں یہ فرقہ واریت ہیے کیا۔؟؟     تفصیل سے پڑھئے

913ءمیں عبدالرحمان سوم سپین کا سلطان تھا۔ زہد و تقویٰ اور عدل و انصاف کا شیدائی تھا۔ اس کے دو بیٹے تھے۔ ایک کا نام الحکم اور دوسرے کا عبداللہ تھا۔ عبدالرحمان سوم بڑھاپے کی عمر کو پہنچا تو اس نے دونوں بیٹوں میں سے الحکم کو اپنا جانشین مقرر کرنے کا فیصلہ کیا۔ عبداللہ کی فطری خود سری نے اس کی عقل پر پردہ ڈال دیا اور تخت و تاج کی ہوس نے اسے باﺅلا اور اندھاکر دیا۔  تفصیل سے پڑھئے
کافی عرصہ ایک ساتھ گذارنے کے بعد ایک دن لڑکے نے لڑکی سے کہا۔۔۔۔۔ ”میرے خیال ہے اب ہمیں شادی کرلینی چاہیے!“
لڑکی نے کچھ سوچ کرکہا۔۔۔۔”وہ تو ٹھیک ہے لیکن ہم سے شادی کرے گاکون؟“
تو قبلہ قارئین صاحبب !آج کل شادیوں کا سیزن ہے۔روزانہ ڈیڑھ دوکلو نکاح ہورہے ہیں۔ عطاءالحق قاسمی مجھ سے پوچھنے لگے”تم شادی کب کررہے ہو؟“ تفصیل سے پڑھئے

فلسطین اور فلسطینیوں کی کہانی کو انتہائی اختصار سے پڑھنا چاہیں تو معروف مغربی دانشور نوم چومسکی کی لکھی ہوئی یہ بات پڑھ لیں جو دراصل ایک فلسطینی کے جذبات ہیں جو ایک اسرائیلی صیہونی سے مخاطب تھا:
’’تم نے میرا پانی لے لیا، زیتون جلا ڈالے، گھر مسمار کر دیا، روزگار چھین لیا، زمین چرا لی، باپ قید کر دیا، ماں مار ڈالی، میری دھرتی کو بموں سے کھو د ڈالا، میرے راستے میں فاقے بچھا دیے، مجھے کہیں کا نہ رکھا اور اب یہ الزام بھی کہ میں نے تم سے پہلے راکٹ کیوں پھینک دیا‘‘۔ تفصیل سے پڑھئے

نام و نسب:۔
خدیجہ نام، ام ہند کنیت، طاہرہ لقب، سلسلہ نسب یہ ہے۔ خدیجہ بنت خویلد بن اسد بن عبدالعزی بن قصی، قصی پر پہنچ کر انکا خاندان رسول ﷺ کے خاندان سے مل جاتاہے۔ والدہ کا نام فاطمہ بنت زائدہ تھا، اور لوری بن غالب کے دوسرے بیٹےعامر کی اولاد تھیں۔ حضرت خدیجہ ؓ کے والد اپنے قبیلے میں نہایت معزز شخص تھے۔ مکہ آکر اقامت کی، عبد الدارین ابن قصیٰ کے جوان کے ابن عم تھے، حلیف بنے اور یہیں فاطمہ بنت زائدہ سے شادی کی، جن کے بطن سے عام الفیل سے 15 سال قبل حضرت خدیجہ اللہ تعالی عنہ پیدا ہوئیں،(طبقات ابن سعدج8و) سنِ شعورکو پہنچیں تو اپنے پاکیزہ اخلاق کی بنا پر طاہرہ(اصابہ ج8ص60) کے لقب سے مشہور ہوئیں، تفصیل سے پڑھئے

سوال:- میرا سوال یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی جنگ کے سوا کوئی جنگ نہیں لڑی۔ تو حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی عنہ نے کس کی اجازت سے جنگیں لڑیں؟ برائے مہربانی وضاحت فرمائیں۔
جواب :- آپ نے بنیادی طور پر دو سوالات پوچھے ہیں: ایک حضرت عمر یازیادہ درست الفاظ میں خلافت راشدہ کے دور میں ہونے والے اُس جہاد سے متعلق جس کے نتیجے میں اسلامی حکومت پورے مشرقِ وسطیٰ تک پھیل گئی۔ آپ یہ جاننا چاہتے ہیں کہ صحابہ کرام نے یہ جہاد کس کے حکم سے کیا تھا۔ آپ کا دوسرا سوال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالے سے یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دفاعی جنگ کے علاوہ اپنی زندگی میں کبھی جنگ نہیں کی۔ ہم اس دوسرے سوال کو پہلے لے لیتے ہیں۔ ہمارے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں کیے گئے جہاد کو دفاعی اور اقدامی میں تقسیم کرنا درست نہیں۔ بلکہ اس کی درست ترین تعبیر وہی ہے جو قرآن کریم نے اختیار کی ہے۔ یعنی یہ ظلم کے خلاف جہاد تھا۔ ارشاد باری تعالیٰ ہے:-    تفصیل سے پڑھئے

1۔ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺰﻭﻝ::؛
ﺑﺨﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ 27 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﮐﺎ ﻧﺰﻭﻝ ﮨﻮﺍ۔ ﺑﺨﺎﺭﯼ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺣﻀﻮﺭ ﷺ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺁﺧﺮﯼ ﺩﻭﺭﻣﻀﺎﻥ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ؑ ﻧﮯ ﻧﺌﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﭖ ﺳﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﻨﺎ۔ﺍﺱ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﮐﻮ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺗﻮﻗﯿﻔﯽ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔ ﺍﺱ ﻭﻗﺖﻗﺮﺁﻥ ﮐﻮ ﮨﻢ ﺍﺳﯽ ﺗﺮﺗﯿﺐ ﺳﮯ ﭘﮍﮬﺘﮯ ﮨﯿﮟ ۔

2 ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﮐﺎ ﻗﯿﺎﻡ
27 ﺭﻣﻀﺎﻥ 1366 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﻭﺟﻮﺩ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ۔ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮ ﮐﮯ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﮐﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪﮐﺎ ﻧﺘﯿﺠﮧ ﮨﮯ ۔ ﺍﻧﮕﺮﯾﺰ ﮨﻨﺪﺳﺘﺎﻥ ﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﮯﮮ ﺑﻐﯿﺮ ﺧﺎﻟﺺ ﺟﻤﮩﻮﺭﯾﺖ ﮐﮯ ﺍﺻﻮﻝ ﭘﺮ ﮨﻨﺪﻭ ﺍﮐﺜﺮﯾﺖ ﮐﮯ ﮨﺎﺗﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﺩﮮ ﮐﺮ ﺟﺎﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﺗﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﺎﻧﮕﺮﺱ ﭘﻮﺭﮮ ﮨﻨﺪﺳﺘﺎﻥ ﭘﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﺘﻌﺼﺐ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﻗﺎﺋﻢ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﺎ ﺧﻮﺍﺏ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﯽ ﺗﮭﯽ،ﻟﯿﮑﻦ ﻗﺎﺋﺪﺍﻋﻈﻢ ﮐﯽ ﻭﻟﻮﻟﮧ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﻗﯿﺎﺩﺕ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﻣﺴﻠﻢ ﻟﯿﮓ ﮐﯽ ﻋﻈﯿﻢ ﻋﻮﺍﻣﯽ ﺟﺪﻭﺟﮩﺪ ﻧﮯ ﺍﻥ ﮐﻮ ﯾﮧ ﻣﺎﻧﻨﮯ ﭘﺮ ﻣﺠﺒﻮﺭ ﮐﺮﺩﯾﺎ ﮐﯽ ﺑﺮﺻﻐﯿﺮﮐﻮ ﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﯾﻮﮞ ﭘﺎﮐﺴﺘﺎﻥ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﻧﻘﺸﮯ ﭘﺮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﺑﮍﯼ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﺭﯾﺎﺳﺖ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﻇﺎﮨﺮ ﮨﻮﺍ۔
’’یہ صرف ایک کتاب نہیں ہے جس کے مندرجات نیو یارک ٹائمز میں چھپے ہیں تو شور شروع ہو گیا ہے۔ کار لوٹا گیل (Carlotta Gall) کی یہ کتاب جس میں اس نے ایک افسانوی انداز سے پاکستان کی حکومت خصوصاً فوج کا تعلق اسامہ بن لادن کے ساتھ ثابت کرنے کی کوشش کی ہے۔ کوئٹہ کی گلیوں اور بازاروں میں جس طرح اُس نے طالبان کی ٹریننگ اور بھرتی کے افسانے تراشے ہیں، اس پر اس ملک کے شہروں اسلام آباد، لاہور اور کراچی کے دانشور تو شاید یقین کر لیں لیکن بلوچستان کے قبائلی معاشرے میں بسنے والے لوگ جہاں ذرا سی آمدورفت لوگوں کی آنکھوں سے پوشیدہ نہ رہتی ہو، جس معاشرے کے بارے میں آج بھی لوگ اعتماد سے کہتے ہیں کہ وہاں نہ قتل چھپ سکتا ہے اور نہ چوری، وہاں کے رہنے والے یہ کہانی پڑھیں یا تصویریں دیکھیں تو انھیں ہنسی آئے۔   تفصیل سے پڑھئے
سرکارِ دو عالم حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم اپنے صحابہ کرام رضی اللہ تعالٰی عنہما کے درمیان تشریف فرما تھے کہ ایک یتیم جوان شکایت لیئے حاضر خدمت ہوا۔ کہنے لگا یا رسول اللہ؛ میں اپنی کھجوروں کے باغ کے ارد گرد دیوار تعمیر کرا رہا تھا کہ میرے ہمسائے کی کھجور کا ایک درخت دیوار کے درمیان میں آ گیا۔ میں نے اپنے ہمسائے سے درخواست کی کہ وہ اپنی کھجور کا درخت میرے لیئے چھوڑ دے تاکہ میں اپنی دیوار سیدھی بنوا سکوں، اُس نے دینے سے انکار کیا تو میں نے اُس کھجور کے درخت کو خریدنے کی پیشکس کر ڈالی، میرے ہمسائے نے مجھے کھجور کا درخت بیچنے سے بھی انکار کر دیا ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
ﺍﯾﮏ ﻣﺮﺗﺒﮧ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﺑﻦ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﻤﻠﮏ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﭘﮩﻨﭽﮯ ﺍﻭﺭ ﭼﻨﺪ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻡ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺳﮯ ﺩﺭﯾﺎﻓﺖ ﮐﯿﺎ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻃﯿﺒﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﺏ ﮐﻮﺋﯽ ﺍﯾﺴﺎ ﺁﺩﻣﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻧﮯ ﮐﺴﯽ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮐﯽ ﺻﺤﺒﺖ ﭘﺎﺋﯽ ﮨﻮ؟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﺑﺘﻼﯾﺎ، ﮨﺎﮞ ﺍﺑﻮﺣﺎﺯﻡ ﺍﯾﺴﮯ ﺷﺨﺺ ﮨﯿﮟ، ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﺁﺩﻣﯽ ﺑﮭﯿﺞ ﮐﺮ ﺍُﻥ ﮐﻮ ﺑﻠﻮﺍﻟﯿﺎ، ﺟﺐ ﻭﮦ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺗﻮ ﺳﻠﯿﻤﺎﻥ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﺑﻮ ﺣﺎﺯﻡ ﯾﮧ ﮐﯿﺎ ﺑﮯ ﻣﺮﻭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﮨﮯ؟ ﺍﺑﻮ ﺣﺎﺯﻡ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ،ﺁﭖ ﻧﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﺑﮯﻣﺮﻭﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﻭﻓﺎﺋﯽ ﺩﯾﮑﮭﯽ ﮨﮯ؟ تفصیل سے پڑھئے
تعارف۔۔۔
حضرت حواجہ معین الدین چشتی 14 رجب 536 ھجری کو جنوبی ایران کے علاقے سیستان کے ایک دولتمند گھرانے میں پیدا ھوے۔ آپکا شجرہ عالیہ بارہ واسطوں سے امیر المومنین حضرت علی سے ملتا ھےآپ کے والد گرامی کا نام غیاث الدین حسین تھا آپکے والد بھت دولتمند اور بااثر انسان تھے۔ آپ متقی پرھیزگار اور عابد زاھد تھے شاید اس وجہ سے آپ دولت کے منفی اثرات سے محفوظ تھے۔ حضرت حواجہ معین الدین چشتی جس زمانے میں پیدا ھوے اس وقت مسلمان دین کے حدمت میں لگے تھے اور فرقے بن کر ایک دوسرے کو قتل کرنے میں مگھن تھے، اسی وجہ سے آپ کے والد گرامی نے وھاں سے ھجرت کی اور حراسان میں آباد ھوے، تفصیل سے پڑھئے

ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ:
26 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 808 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﻮﺭﺥ ،ﻣﻔﮑﺮ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮨﺮ ﻋﻤﺮﺍﻧﯿﺎﺕ ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ۔ﺍﻥ ﮐﻮ ﻓﻘﮧ ،ﺣﺪﯾﺚ ، ﻋﺮﺑﯽ ﺍﺩﺏ ﺍﻭﺭ ﺩﯾﻨﯽ ﻣﻌﺎﺭﻑ ﺳﻤﯿﺖ ﺍﭘﻨﮯ ﺯﻣﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺗﻤﺎﻡ ﻋﻠﻮﻡ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﺎﺭﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﯽ۔ ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﻧﮯ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﻓﮑﺮ ﮐﻮ ﺍﯾﮏ ﻧﺌﮯ ﻣﺮﺣﻠﮯ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺎﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﻭﺍﻗﻌﺎﺕ ﻧﻘﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﯽ ﺻﻮﺭﺕ ﻣﯿﮟ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻟﮑﮭﻨﮯ ﮐﯽ ﺭﻭﺵ ﮐﻮ ﺗﺠﺰﯾﺎﺗﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﯽ ﺭﻭﺵ ﻣﯿﮟ ﺗﺒﺪﯾﻞ ﮐﺮﺩﯾﺎ۔ ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﮐﮯ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﮐﯽ ﺭﻭﺷﻨﯽ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻌﺎﺷﺮﻭﮞ ﮐﮯ ﺗﺎﺭﯾﺨﯽ ﺗﻐﯿﯿﺮﺍﺕ ﮐﻮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﺑﮩﺘﺮ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﺗﺎﻟﯿﻔﺎﺕ ﻭ ﺗﺼﻨﯿﻔﺎﺕ ﻣﯿﮟ ” ﺧﻼﺻﮧ ﻣﻨﻄﻖ “ ، ”ﻣﻘﺪﻣﮧ ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ “ ﺍﻭﺭ ” ﮐﺘﺎﺏ ﺍﻟﻌﺒﺮ ﻭ ﺍﻟﺘﻌﺮﯾﻒ “ ﮐﯽ ﻃﺮﻑﺍﺷﺎﺭﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔
ہمارے ایک دوست کے بقول چائے اور اُردو اخبارکا تعلق چولی دامن کا ہے۔صبح کی چائے بغیر اُردو اخبار کے مزہ نہیں دیتی اور اسی طرح اُردو اخبار چائے کے ہوٹل میں بیٹھ کر پڑھنے میں وہ مزہ نہیں آتا جو خرید کر گھر کے لان میں بیٹھ کرپینے میں آتاہے۔اس وقت شہروں اور قصبات میں بلکہ بازاروں میں حقیقی معنوں میں اُردو کے قارئین انھیں چائے کے ہوٹلوں میں نظرآتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
1۔ ﻋُﺰّﯼٰ ﻧﺎﻣﯽ ﺑﺖ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻟﺸﮑﺮ ﮐﯽ ﺭﻭﺍﻧﮕﯽﻓﺘﺢ ﻣﮑﮧ ﺳﮯ ﻓﺎﺭﻍ ﮨﻮ ﺟﺎﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ 25 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 8 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮﺣﻀﺮﺕ ﺧﺎﻟﺪ ﺑﻦ ﻭﻟﯿﺪ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺳﺮﮐﺮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻋُﺰّﯼٰ ﻧﺎﻣﯽ ﺑﺖ ﮐﻮ ﺗﻮﮌﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﻃﺎﺋﻒ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ ﺍﯾﮏ ﺳﺮﯾﮧ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ۔( ﺳﺮﯾﮧ ﯾﻌﻨﯽ ﺍﯾﺴﯽ ﺟﻨﮓﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺧﻮ ﺩﺷﺮﯾﮏ ﻧﮧ ﮨﻮﮞ، ﺑﻠﮑﮧ ﺁﭖ ﮐﺴﯽ ﺍﻭ ﺭ ﮐﻮﺷﺨﺼﯿﺖ ﮐﯽﺳﺮﮐﺮﺩﮔﯽ ﻣﯿﮟ ﻟﺸﮑﺮ ﺭﻭﺍﻧﮧ ﮐﺮﯾﮟ ) ۔ﻓﺘﺢ ﻣﮑﮧ ﮐﮯ ﺑﻌﺪﺟﺐ ﭘﻮﺭﮮ ﻋﺮﺏ ﺗﮏ ﺍﺳﻼﻡ ﮐﯽ ﺩﻋﻮﺕ ﭘﮩﻨﭻ ﮔﺌﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﻼﻡ ﻻﻧﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﺋﯽ ﺭﮐﺎﻭﭦ ﺑﮭﯽ ﻧﮧ ﺭﮨﯽ ﺗﻮ ﻋﺮﺏﮐﯽ ﺳﺮﺯﻣﯿﻦ ﮐﻮ ﺷﺮﮎ ﮐﯽ ﻏﻼﻇﺖ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﺩﯾﻨﮯﮐﺎ ﺣﮑﻢ ﮨﻮﺍ ﺍﻭﺭ ﯾﮧ ﺳﺮﯾﮧﺍﺳﯽ ﻣﮩﻢ ﮐﯽ ﺍﯾﮏ ﮐﮍﯼ ﺗﮭﺎ۔

2 ۔ ﻓﺨﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺍﺯﯼ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ..
25 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 544 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﺩﺍ ﻧﺶ ﻭﺭ ﻓﺨﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺍﺯﯼ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﺭے ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻓﺨﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺍﺯﯼ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻋﻠﻢ ﮐﻼﻡ ﻣﯿﮟ ﺍﮨﻢ ﻣﻘﺎﻡ ﺣﺎﺻﻞ ﺗﮭﺎ۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺩﻭﺭ ﮐﮯ ﺩﺍﻧﺶ ﻭﺭﻭﮞ ﮐﯽ ﺗﺼﺎﻧﯿﻒ ﮐﯽ ﺗﺼﺤﯿﺢ ﺑﮭﯽ ﮐﯽ۔ ﻓﺨﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﺭﺍﺯﯼ ﮐﯽ ﺍﮨﻢ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ”ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ “،” ﺍﺳﺮﺍﺭ ﺍﻟﺘﻨﺰﯾﻞ “ ، ”ﺟﺎﻣﻊ ﺍﻟﻌﻠﻮﻡ“ ﺍﻭﺭ ” ﻣﻔﺎﺗﯿﺢﺍﻟﻐﯿﺐ“ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﺳﮯ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﮨﯿﮟ۔ﺗﻔﺴﯿﺮ ﺍﻟﮑﺒﯿﺮ ﮐﻮ ﮐﻼﻣﯽ ﺗﻔﺎﺳﯿﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﻣﮩﺎﺕ ﮐﺎ ﺩﺭﺟﮧ ﺣﺎﺻﻞ ﮨﮯ ۔
برصغیر پاک و ہند کی تاریخ کے صفحات پر آج تک جتنے بھی یورپی اور انگریزنام تحریر ہوئے ہیں ، ان میں سے شایدہی کسی نام کو تاریخ نے اتنا ملعون و مطعون کیا ہو جتنا کہ جنرل ڈائر کا نام ہمارے لئے مردود ٹھہرا ہے۔ لیکن جنرل ڈائر سے نفرت کے باوجود ہم جلیانوالہ باغ میں سیکڑکوں معصوم ہندوستانیوں کے خون سے ہاتھ رنگنے والے جنرل ڈائر کے بارے میں کم ہی کچھ جانتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
مشہور انجینئر مامور خان نے جہانگیر کے محل کے بیرونی دروازہ کے پاس یعنی مکتب خانہ سے ملحقہ یہ خوبصورت مسجد تعمیر کروائی تھی مسجد کے گول موتی نما گنبد کی مناسبت سے اس کو’’موتی مسجد‘‘ کے نام سے پکارا جاتا ہے مسجد کے سن تعمیر کا تعین کرنا مشکل ہے کیونکہ جہانگیری اور شاہ جہانی عہد کے مورخین نے مسجد کے بارے میں کچھ نہیں لکھا لیکن بعد کے بعض مورخین اس کو شاہجہان کے دور میں شمار کرتے ہیں۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
میں حاضرہوں اے میرے مولا!میں حاضرہوں۔ابولہب کے گھرسے آوازآئی ۔یہ آوازاس کی چہیتی بیٹی درہ بنت ابی لہب کی ہے جواندرکی کوٹھری میں مقیدہے وہ دوزانوبیٹھی ہوئی ہے دونوں ہاتھ پیچھے بندھے ہوئے ہیں آنکھیں بندہیں۔
میں حاضرہوںاے میرے معبود!میں حاضرہوں۔وہ اپنے مالک حقیقی کے گردگڑگڑارہی ہے اے میرے خدامجھے اس قیدسے رہائی دلاکراپنے پیارے حبیب صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس یثرب پہنچادے۔ اتنے میں ابولہب اوراس کی بیوی ام جمیل داخل ہوتے ہیں قدموں کی چاپ سن کردرہ آنکھیں کھول دیتی ہے - بیٹی اپنے باپ کاکہنامان جاام جمیل پیابھرے اندازمیں درہ سے مخاطب ہوتی ہے اورمحمدکے خداسے بازآ امی مجھے جانے دومیرارب مجھے بلارہاہے درہ والہانہ اندازمیں کہتی ہے
ابھی تیرے سرسے محمدکاجادونہیں اتراہے ابولہب دانت پیستے ہوئے سوال کرتاہے- تفصیل سے پڑھئے

ابن جریر کی روایت ہے فتح مکہ کے موقع پر عورتیں رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم کے پاس بیعت کرنے کے لئے حاضر ہوئیں تو آپ ۖ نے حضرت عمر بن خطاب رضی ﷲ عنہ کو حکم دیا کہ وہ عورتوں سے کہیں کہ رسول ﷲ صلی ﷲ علیہ وسلم تم سے اس بات پر بیعت لیتے ہیں کہ تم ﷲ تعالیٰ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو. ان بیعت کے لئے آنے والوں میں حضرت ہندہ بھی تھیں جو عتبہ بن ربیعہ کی بیٹی اور حضرت ابوسفیان کی بیوی تھیں، یہی تھیں جنہوں نے اپنے کفر کے زمانے میں حضور صلی ﷲ علیہ وسلم کے چچا حضرت حمزہ رضی ﷲ عنہ کا پیٹ چیر دیا تھا. اس وجہ سے یہ ان عورتوں میں ایسی حالت میں آئی تھیں کہ انھیں کوئی پہچان نہ سکے.  تفصیل سے پڑھئے
حضرت امیر معاویہ رض کی شخصیت وہ ہے کہ جن پر تاریخ میں سب سے زیادہ گند اچھالا گیا ہے مختار بن عبید ثقفی جیسے مدعی نبوت جسکو حضرت عبدللہ ابن زبیر رض نے جہنم واصل کیا تھا کی یاد تو بطور ہیرو اور رہنما منائی جاتی ہے لیکن حضرت امیر معاویہ رض پر دل کھول کر کیچڑ اچھالی جاتی ہے انکے اسلام کو مشکوک قرار دیا جاتا ہے اور ہر وہ برائی انکی شخصیت میں تلاش کی جاتی ہے جو انکے کردار کو اسلام کے منافی ثابت کر سکے لیکن ان مذموم کوششوں سے نہ تو ماضی میں انکی شخصیت و کردار کو گہنایا جا سکا ہے اور نہ ہی دور جدید میں یہ کوششیں رنگ لائینگی مندرجہ ذیل سطور میں کچھ جھلکیاں پیش کی جا رہی ہیں تاکہ حقائق واضح ہو سکیں .   تفصیل سے پڑھئے
عمرؓ کا دور، اسلام کی پوری تاریخ کا سنہرا دور ہے۔ یہ وہ زمانہ ہے جب مسلمان پوری طرح متحد تھے اور ان کی افواج روم اور ایران کے خلاف فتح پر فتح حاصل کیے جا رہی تھیں۔ بلوچستان سے لے کر مصر تک علاقہ اسی دور میں فتح ہوا۔ صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم نے ان علاقوں کے عام لوگوں کو قیصر و کسری کی غلامی سے نکال کر انہیں مذہبی اور دنیاوی امور میں آزادی عطا کی اور ایک نیا نظام معاشرت ترتیب دیا۔ اس دور میں صحابہ کرام رضی اﷲ عنہم کے درمیان کوئی قابل ذکر اختلافات نہیں ہوئے،  تفصیل سے پڑھئے
افسانوی شہرت کی حامل مصری ملکہ قلو پطرہ اور مارک انٹونی تاریخ میں اپنی محبت کے حوالے مشہور ہیں مگر اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی ایک معما بنا رہا ہے کہ دونوں کا مدفن کہاں ہے؟ مگر اب یہ معما تقریبا حل ہونے کے قریب ہے اور مصری اعلی حکام نے اعلان کیا ہے کہ وہ ملکہ قلو پطرہ کی قبر کے قریب پہنچ گئے ہیں جو کہ بحیرہ روم کے کنارے ایک پہاڑی پر زیر زمین سرنگوں میں واقع ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
اس واقعہ میں بہت سی ہدایات ہیں۔ مثلاََ یہ کہ حضرت سلیمان علیہ السلام جن کو ایسی بے مثل حکومت و سلطنت حاصل تھی کہ صرف ساری دنیا پر ہی نہیں بلکہ جنات اور طیور اور ہوا پر بھی ان کی حکومت تھی، مگر ان سب سامانوں کے باوجود موت سے ان کو بھی نجات نہ تھی اور یہ کہ موت تو مقررہ وقت پر آنی تھی۔ بیت المقدس کی تعمیر جو حضرت داؤد علیہ السلام نے شروع کی، پھر حضرت سلیمان علیہ السلام نے اس کی تکمیل فرمائی، تفصیل سے پڑھئے
صحرائےگوپی کے شمال میں دریائے کیرولین اور دریائے اونان کی زرخیز وادیوں میں ان گنت قبائل آباد کے ساتھ ساتھ منگولوں کے بھی قبائل آباد تھے۔ منگولوں کے ایک قبیلہ میں یسوکائی نامی شخص کے گھرایک بچہ کی ولادت ہوئی جس کا نام اس نے تموچن رکھا ۔اس موقع پر اس قبیلے کے بعض دانا لوگوں نے یہ پیشن گوئیاں کیں کہ یہ لڑکا بڑا ہوکر ایک ظالم وجابرجنگجو حکمران ر بنے گا۔ منگول وحشی قسم کی شکاری قوم تھی ، چونکہ یہ علاقہ برفانی تھا اس لئے انھیں برفباری اورسردی سے بچاﺅ کے لئے کھالوں کی ضرورت پڑتی تھی ، تفصیل سے پڑھئے


چنگیز خان کی قبر تووا میں تلاش کی جانی چاہیے 

عظیم چنگیز خان کی آخری آرام گاہ ایک عرصے سے تلاش کرنے والوں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے-عظیم چنگیز خان کی آخری آرام گاہ ایک عرصے سے تلاش کرنے والوں کے لیے معمہ بنی ہوئی ہے اور اس بارے میں دنیا بھر کے دانشوروں اور تلاش کنندگان میں اختلاف پائے جاتے ہیں۔ منگولوں کا خیال ہے کہ ان کے عظیم جد کی قبر الن باتور کے شمال کے پہاڑی علاقے میں کہیں ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

چنگیز خان نے منگول قبائل کو اکٹھا کرکے ایک بڑے خطے پر حملہ کرکے اس پر حکمرانی کی
امریکی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ تیرہویں صدی عیسوی میں چنگیز خان کا اقتدار میں آنے اور ایک بڑی منگول سلطنت کے قیام میں موافق موسمی حلات کا بڑا دخل تھا۔ مرکزی منگولیا میں پرانے درختوں کے جھنڈ کا مطالعہ کرنے والے امریکی محقیقین نے یہ دریافت کیا ہے کہ چنگیز خان کا ایک مضبوط اور طاقتور سلطنت قائم کرنے کے زمانے میں موسم 1000 سال سے زیادہ عرصے میں سب سے زیادہ معتدل اور موافق تھا ۔  تفصیل سے پڑھئے
وہ شہروں میں عذاب بن کر آتا ،لوگوں کو قتل کر تا ، فصلوں کو تباہ کر دیتا ، کٹے ہوئے انسانی سروں کے مینار کھڑے کرتا ،لوگوں کو زندہ جلا دیتا ،شہروں کو برباد کر کے پھر اپنی مرضی سے نئے شہر آبا د کرتا ۔ سیکڑوں سال گزرنے کے باوجود بھی تیمور کے متعلق یورپ کے ایسے ہی خیالات ہیں ۔ لیکن تیمور سکندر نہیں تھا جو بادشاہ کا بیٹا ہو اور اُسے طاقت وراثت میں ملی ہو ۔جس کی پرورش جاہ و جلال کے ساتھ کی گئی ہو جسے بچپن سے ہی حکمرانی کا سبق پڑھایا گیا ہو ۔ اور نہ ہی تیمور چنگیز خان تھا جو ایک سردار قبیلے کا رکن ہو ۔ تفصیل سے پڑھئے

مبارک حویلی کو تین بھائیوں میر بہادر علی، میر نادر علی اور میر بابر علی نے تعمیر کروایا تھا۔ سکھ عہد کے آخری سالوں میں سردار کہر سنگھ سندھانوالیہ کے زیر تصرف آگئی ۔اس دوران اس کی عمارات میں بے شمار تغیر و تبدل کیا گیا ۔ مشرق کی طرف بڑا دروازہ نکالا گیا۔ بڑے بڑے دالان ، صحن و عمارات جدید طرز پر بنوائی گئیں ۔ وزیر خان نے شاہ عالمی دروازے کے اندر پری محل کے نام سے ایک حویلی تعمیر کروائی۔ تفصیل سے پڑھئے
نارویجیئن ادب … 800ء سے لے کر موجودہ عہد تک نارویجین لوگوں کا اور نارویجیئن زبان میں تخلیق کردہ ادب۔ اس ادب کو تین ادوار میں بانٹا جا سکتا ہے: پہلے دور (800-1400ء) میں ناروے اور آئس لینڈ کا ادب کافی حد تک مشترکہ تھا؛ دوسرے دور (1400-1814ء) میں ڈینش ادب کے ساتھ شراکت قائم ہوئی اور تیسرے دور (1814ء تا حال) میں ناروے نے جداگانہ ادب تخلیق کیا۔ پرانا نارس ادب بنیادی طور پر وائیکنگ عہد کی پیداوار ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
ریگستان سکوائر سمر قند شہر کے مرکزمیں واقع ہے۔ اسی ریگستان سکوائر میں بادشاہوں کی تاجپوشی کی تقریب بھی منعقد ہوتی تھی۔ اس جگہ کا ایک منفی پہلو یہ ہے کہ ریگستان سکوائر پھانسی گھاٹ کے طور پر بھی استعمال ہوتا تھا۔ حکومتِ وقت کے باغیوں اور خطرناک مجرموں کو اسی جگہ لا کر تختہ دار پر چڑھایا جاتا تھا۔ سمر قند آج ازبکستان کا دوسرا بڑا شہر ہے۔ آج بھی سمر قند میں ایسے ماہررنگ ساز، نقاش اور سنگتراش موجود ہیں جن کے ہاتھوں میں پکڑے ہوئے اوزاروں کی ضربوں سے پتھروں کو زبان مل جاتی ہے۔ ایسے ہنر مندلوگوں پر اہل سمر قند کو بجا طور پر فخر ہے۔ زرفشاں وادی میں واقع ہونے کی وجہ سے سمر قند کی مٹی بہت زرخیز ہے۔ یہ علاقہ کپاس کی فصل اور ریشم کی پیدوار کے لیے خاص شہرت رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ گندم، پھلوں کے باغات اور چمڑے کی مصنوعات کی وجہ سے سمر قند کا سارا علاقہ خاص طور پر مشہور ہے۔ پھلوں کو ڈبوں میں بند کر کے محفوظ کیا جاتا ہے۔ جن کو سال کے کسی بھی حصہ میں کھانے کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔ (فقیراللہ خاں کی کتاب’’سیرِ جہاں‘‘ سے مقتبس)

افواہوں والے کالم میں ذکر کیا تھا کہ سا زشیں کرنے والے افواہوں سے کام لیتے ہیں، کیونکہ افواہوں کے پیر نہیں پر ہوتے ہیں۔ یہ ایسے اُڑ کر ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتی ہیں کہ کوئی تیز ترین سواری بھی ان کا مقابلہ نہیں کر سکتی... تاریخ کے ایک بد ترین کردار سے ملیے۔ نام ہے ’’عبدا للہ بن سبا‘‘... عملاً یہودی تھا... یمن کے شہر صنعا کا باشند ہ تھا۔ وہی شہر جس میں مصنوعی کعبہ بنایا گیا تھا اور طواف کر ایا گیا تھا..تفصیل سے پڑھئے
قومی غیرت اور عصبیت ہمیشہ سے عرب قوم کا خاصہ رہی ہے ایک وقت ایسا بھی آیا کہ عرب دنیا اسلام کے رنگ میں رنگ گئی اور قومیت کے بت کی پرستش سے انہوں نے اپنی گردنوں کو چھڑوا لیا لیکن پھر ایک وقت ایسا بھی آیا کہ قومیت کے جن نے دوبارہ عرب کو اپنی لپیٹ میں لیا جس کا خمیازہ سقوط خلافت عثمانیہ کی شکل میں امت کو بھگتنا پڑا یہ ایک تکلیف دہ تاریخ ہے ...... تفصیل سے پڑھئے
شہروں کا آباد ہونا، ارتقاء اور تمدنی رجحانات ایک طویل تاریخی عمل کے تحت اس شہر کی ایک مخصوص شخصیت وضع کرتے ہیں، جو ایک مستقل تاثر کی طرح اس شہر کے ہر باسی کی شخصیت کا حصہ بن کر اس کی ذات اور مزاج کی پہچان بنے رہتے ہیں۔ہمارے سماج میں ہمیشہ کسی بھی فرد کی شخصیت کے بارے میں رائے قائم کرنے کے لیے اس کے شہر سے مخصوص عمومی تاثر کو ایک سکہ بند حوالے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ شہر جھنگ مختلف زمانوں میں عشقیہ داستانوں، قبائلی سورماوں کے بہادرانہ قصوں، لوک رقص اور گیتوں کے حوالے سے اور پھر فرقہ وارانہ تشدد، مذہبی تحریکوں اور فسادات کے حوالے سے مختلف اور متضاد شناختوں کا حامل رہا ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺷﯿﺮﺍﺯﯼ ﮐﯽ ﻭﻓﺎﺕ:-
24 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 710 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﮩﺮﮦ ﺁﻓﺎﻕ ﻃﺒﯿﺐ ، ﺭﯾﺎﺿﯽ ﺩﺍﻥ ، ﻓﻠﺴﻔﯽ ﺍﻭﺭﻋﻠﻢ ﻓﺰﮐﺲ ﻭﻧﺠﻮﻡ ﮐﮯ ﻣﺎﮨﺮ، ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦﺷﯿﺮﺍﺯﯼ ﻧﮯ ﺗﺒﺮﯾﺰ ﻣﯿﮟ ﻭﻓﺎﺕ ﭘﺎﺋﯽ۔ﻭﮦ ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﺼﯿﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﻃﻮﺳﯽ ﮐﮯ ﺷﺎﮔﺮﺩ ﺗﮭﮯ ۔ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺷﯿﺮﺍﺯﯼ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺍﻧﺶ ﻭﺭ ﮨﯿﮟ ﺟﻨﮭﻮﮞﻧﮯ ﻗﻮﺱ ﻗﺰﺡ ﮐﮯ ﺑﺎﺭﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻤﯽﻧﻘﻄﮧ ﻧﮕﺎﮦ ﺳﮯ ﺍﺱ ﭘﺮ ﺑﺤﺚ ﮐﯽ۔ﻗﻄﺐ ﺍﻟﺪﯾﻦ ﺷﯿﺮﺍﺯﯼ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﻃﺐ ﻣﯿﮟ ﺑﮭﯽ ﮐﺎﻓﯽ ﻣﺤﻨﺖ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﮐﺌﯽ ﺳﺎﻝ ﺗﮏ ﺷﯿﺮﺍﺯ ﮐﮯ ﮨﺴﭙﺘﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻃﺒﯿﺐ ﺍﻭﺭ ﻣﻌﺎﻟﺞ ﮐﯽﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯ ﺧﺪﻣﺎﺕ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺩﯾﮟ۔ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯﻓﻠﺴﻔﮯ،ﺍﺻﻮﻝ ﻓﻘﮧ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﻣﻌﺎﻧﯽ ﻭ ﺑﯿﺎﻥ ﭘﺮ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﮐﺘﺎﺑﯿﮟ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﮨﯿﮟ ﺟﻦ ﻣﯿﮟ ﺍﺑﻦ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻗﺎﻧﻮﻥ ﮐﯽ ﺷﺮﺡ، ﺧﻮﺍﺟﮧ ﻧﺼﯿﺮﺍﻟﺪﯾﻦ ﻃﻮﺳﯽ ﮐﯽﺗﺤﺮﯾﺮ ﺍﻗﻠﯿﺪﺱ ﮐﺎ ﺗﺮﺟﻤﮧ ﺍﻭﺭ ﻋﻠﻢ ﻧﺠﻮﻡ ﻣﯿﮟ ” ﻧﮩﺎﯾﺔ ﺍﻻﺩﺭﺍﮎ ﻓﯽ ﺩﺭﺍﯾﺔ ﺍﻻﻓﻼﮎ“ ﮐﺎ ﻧﺎﻡ ﻟﯿﺎ ﺟﺎ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔..
شرجیلؓ بن حسنہ نے خالدؓ بن ولید کو لڑائی کی ساری روئیداد سنائی اور یہ بھی بتایا کہ رومی سالار توما اگر مرا نہیں تو وہ لڑائی کیلئے ناکارہ ہو گیا ہے ۔انہوں نے یہ بھی بتایا کہ ان کی کتنی نفری شہید اور کتنی نفری زخمی ہو گئی ہے۔’’اگر رومیوں نے ایسا ہی ایک اور حملہ کیا تو شاید ہم نہ روک سکیں۔‘‘شرجیلؓ نے خالدؓ سے کہا۔’’مجھے کمک کی ضرورت ہے۔‘‘’’حسنہ کے بیٹے!‘‘خالدؓ نے کہا۔’’ایسا حملہ کسی اور دروازے سے ہم میں سے کسی اور پر بھی ہو سکتا ہے۔کسی بھی دستے کی نفری کم نہیں کی جاسکتی……ابنِ حسنہ!خدا کی قسم، تو ہمت ہارنے والوں میں سے نہیں تھا۔کیا اپنے اتنے زیادہ ساتھیوں کے خون نے تیرا حوصلہ کمزور کر دیا ہے؟‘‘’’نہیں ابنِ ولید!‘‘شرجیلؓ نے کہا۔’’اگر مجبوری ہے تو میں ایک آدمی کی بھی کمک نہیں مانگوں گا۔‘‘’’میں تجھے تنہا نہیں چھوڑوں گا۔ تفصیل سے پڑھئے
حضرت اویس قرنی رضی اللہ عنہ کو حضور صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی ذات سے والہانہ عشق تها یہی وجہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرمایا کرتے تهے کہ "مجهے یمن کی طرف سے محبت کی نسیم آتی ہے کیونکہ وہاں میرا دوست اویس قرنی رہتا ہے" آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ قیامت کے روز اللہ ستر ہزار فرشتے پیدا کرےگا جن کی اشکال خواجہ اویس جیسی ہوگی اور ان کے جلوس میں خواجہ صاحب کو بہشت میں لے جایا جائےگا ساری کائنات یہ منظر دیکهے گی مگر کوئی شخص پہچان نہیں پائےگا - تفصیل سے پڑھئے
ایک شہنشاہ جب دنیا کو فتح کرنے کے ارادے سے نکلا تو اس کا گزر افریقہ کی ایک ایسی بستی سے ہوا جو دنیا کے ہنگاموں سے دور اور بڑی پرسکون تھی۔ یہاں کے باشندوں نے جنگ کا نام تک نہ سنا تھا اور وہ فاتح اور مفتوح کے معنی سے ناآشنا تھے‘ بستی کے باشندے شہنشاہ اعظم کو مہمان کی طرح ساتھ لے کر اپنے سردار کی جھونپڑی میں پہنچے۔ سردار نے اس کا بڑی گرم جوشی سے استقبال کیا اور پھلوں سے شہنشاہ… کی تواضع کی۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ہم نے بچپن میں پڑھا تھا کہ مقدونیہ کا الکزنڈر ٢٠ سال کی عمر میں بادشاہ بنا، ٢٣ سال کی عمر میں مقدونیہ سے نکلا، سب سے پہلے یونان فتح کیا پھر ترکی میں داخل ہوا، پھر ایران کے دارا کو شکست دی، پھر شام میں داخل ہوا اور وہاں سے یروشلم اور بابل کا رخ کیا اور پھر مصر پہنچا۔ وہاں سے ہندوستان آیا اور راجہ پورس کو شکست دی، اپنے عزیز از جان گھوڑے کی یاد میں پھالیہ شہر آباد کیا اور پھر مکران کے راستے واپسی کے سفر میں ٹائیفوا یڈ میں مبتلا ہو کر بخت نصر کے محل میں ٣٣ سال کی عمر میں جان سے ہاتھ دھو بیٹھا۔ دنیا کو بتایا گیا کہ وہ اپنے وقت کا عظیم فاتح جنرل اور بادشاہ تھا اور اسی وجہ سے دنیا اس کو الکزنڈر دی گریٹ یعنی سکندر اعظم ۔ بمعنی فاتح اعظم ۔ کے لقب سے یاد کرتی ہے۔
آج اکیسویں صدی میں دنیا کے مورخین کے سامنے یہ سوال رکھا جا سکتا ہے کہ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے ہوتےہوئے کیا واقعی الکزنڈر فاتح اعظم کے لقب کا حقدار ہے؟ تفصیل سے پڑھئے
حضرت مصعب رضی اللہ عنہ بن عمیر مکے کے ایسے حسین و جمیل اور خوشرو نوجوان تھے.. کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ والہ واصحابیہ وسلم بھی ان کا تذکرہ کرتے تو فرماتے کہ:.. ’’ مکے میں مصعب سے زیادہ کوئی حسین و خوش پوشاک اور پروردۂ نعمت نہیں ہے..‘‘ ان کے والدین کو ان سے شدید محبت تھی.. خصوصاً ان کی والدہ خناس بنت مالک نے مالدار ہونے کی وجہ سے اپنے جگر گوشے کو نہایت ناز و نعم سے پالا تھا.. تفصیل سے پڑھئے
ﺍﻥ ﮐﮯ ﮨﻨﺴﻨﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﮯ ﮐﺎ ﮐﻮﺋﯽ ﻭﻗﺖ ﻣﻘﺮﺭ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﺗﺎ ….. ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﺟﻨﺎﺯﮮ ﭘﺮ ….. ﮐﮭﯽ ﮐﮭﯽ ﮐﮭﯽ ﮐﮭﯽ -  ﮐﺮﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ -  ﺍﻭﺭ ﺟﯽ ﭼﺎﮨﮯ ﺗﻮ ﻋﯿﺪ ﮐﮯ ﺩﻥ ﻣﻮﭨﮯ ﻣﻮﭨﮯ ﺁﻧﺴﻮ ﺑﮩﺎﻧﮯ ﻟﮕﯿﮟ۔ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﻣﺤﺘﺎﻁ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﻮ ﭘﭽﯿﺲ ﮐﯽ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ﻭﮦ ﺁﮔﮯ ﮨﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﮍﮬﺘﯽ۔ ﺳﯿﺎﻧﮯ ﮐﮩﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﻋﻮﺭﺕ ﮐﯽ ﺻﺤﯿﺢ ﻋﻤﺮ ﮐﺎ ﭘﺘﺎ ﭼﻼﻧﺎ ﮨﻮ ﺗﻮ ﺍﺳﮯ ﺑﻮﻟﺘﮯ ﮨﻮﺋﮯﻏﻮﺭ ﺳﮯ ﺩﯾﮑﮭﻨﺎ ﭼﺎﮨﯿﮯ- ﺟﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻟﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯﺍﻭﺭ ﺟﺲ ﮐﺎ ﻣﻨﮧ ﮐﻢ ﮐﮭﻠﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺗﺠﺮﺑﺎﺗﯽ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺍﭘﻨﯽ ﮨﻤﺴﺎﺋﯽ 80 ﺳﺎﻟﮧ ﺍﻣﺎﮞ ﺟﯿﺮﺍﮞ ﺳﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ ﮐﮧ ’’ ﺍﻣﺎﮞ ! ﺗﻢ ﺗﻮ ﺑﮍﯼ ﺟﮩﺎﻧﺪﯾﺪﮦ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺑﺘﺎﺅ ﮐﮧ ﮐﯿﺎ ﻭﺍﻗﻌﯽ ﯾﮧ ﺳﭻ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺟﻮ ﻋﻮﺭﺕ ﺑﺎﺕ ﮐﺮﺗﮯ ﻭﻗﺖ ﮐﻢ ﻣﻨﮧ ﮐﮭﻮﻟﮯ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮ ﺑﮭﯽ ﮐﻢ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ؟؟؟ ‘‘  تفصیل سے پڑھئے   
ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦ ﻃﻮﻟﻮﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﺋﺶ ...
23 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 220 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﻣﺼﺮ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﮐﮯﻓﺮﻣﺎﻧﺮﻭﺍ ﺍﻭﺭ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻃﻮﻟﻮﻧﯿﺎﻥ ﮐﮯ ﺑﺎﻧﯽ ﺍﺣﻤﺪ ﺑﻦﻃﻮﻟﻮﻥ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﻃﻮﻟﻮﻧﯿﺎﻥ ﭘﮩﻼ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﺗﮭﺎ ﺟﺲﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﻗﻠﻤﺮﻭ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻡ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺷﺎﻣﻞ ﮐﺮﻟﯿﺎ۔ﺍﺱﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﻧﺴﺐ ﻃﻮﻟﻮﻥ ﻧﺎﻣﯽ ﻏﻼﻡ ﺗﮏ ﭘﮩﻨﭽﺘﺎ ﮨﮯ ﺟﺴﮯ ﺑﺨﺎﺭﺍ ﮐﮯ ﺣﺎﮐﻢ ﻧﮯ ﻋﺒﺎﺳﯽ ﺧﻠﯿﻔﮧ ﻣﺎﻣﻮﻥ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﺤﺎﺋﻒ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﺗﮭﺎ۔ﺍﺱ ﮐﮯﺑﯿﭩﮯ ﺍﺣﻤﺪ ﻃﻮﻟﻮﻥ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﮐﯽ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽﺑﻨﯿﺎﺩ ﺭﮐﮭﯽ۔ﺍﺱ ﺧﺎﻧﺪﺍﻥ ﻧﮯ 254 ﮨﺠﺮﯼ ﺳﮯ 292 ﮨﺠﺮﯼ ﺗﮏ ﻣﺼﺮ ﺍﻭﺭ ﺷﺎﻡ ﭘﺮ ﺣﮑﻮﻣﺖ ﮐﯽ۔
دیوان سنگھ مفتون قیام پاکستان سے پہلے دہلی سے شائع ہونے والے ایک ہفت روزہ اخبار ” ریاست” کے کھرے اور انقلابی قسم کے ایڈیٹر تھے ۔ وہ گوجرانوالہ کے قریب ایک گاوں میں پیدا ہوئے اور ایک سیلف میڈ قسم کے انسان تھے ۔ ان کے اخبار ریاست میں معمول کی خبروں کے علاوہ اس دور کے راجے رجواڑوں اور مسلم ریاستوں کے نوابین کےاندرونی خفیہ راز سکینڈل کی صورت میں زیادہ شائع ہوتے تھے ۔ اس جرم کی پاداش میں وہ اکثر ہتک عزت کے دعووں کی جواب دہی کے لئے ان ریاستوں کی عدالتوں میں دھکے بے مزہ ہوئے بغیر کھاتے رہتے تھے ۔ اُن کی آپ بیتی کتابی صورت میں “ناقابل فراموش ” کے نام سے شائع ہوئی ۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
پرانے وقتوں کا ذکر ہے بصرہ عراق کے ایک شخص نے حج کا اردہ کیا۔ جس کے لیے اُس نے دِن رات محنت مزدوری کر کے حج کے لیے اپنا زادِ راہ اکھٹا کیا۔ آج کل کے دور کی طرح اُس وقت بھی لوگ قافلوں کی صورت میں حج پر روانہ ہوتے تھے۔ قافلے کے افراد کو جمع کرنے کے لیے ایک انتظار گاہ بنائی گئی تھی جو اُس کے گھر سے کچھ ہی دور تھی۔ روانگی کے روز یہ شخص اپنے گھر والوں سے وداع لے کر نکلنے لگا تو فرطِ جذبات میں سب کے آنسو نکل آئے، اور سب نے اُسے اپنی دُعاؤں اور نیک خواہشات کے سائے میں رخصت کیا۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ابن بطوطہ (779-703 هہ) چودهویں صدی عیسوی کا مشہور عرب سیاح ہے-اس کا پورا نام شمس الدین محمد بن عبداللہ بن محمد بن ابراهیم اللواتی ہے-وه مغرب کے شہر طنجہ میں پیدا هوا-اس نے تین بار دنیا کے سفر کئے جن کی مجموعی مدت 29 سال ہے-وه جن ملکوں میں گیا ان میں مغرب،الجزائر،تونس،مصر،شام، فلسطین،حجاز،عراق،فارس،یمن، ایشیا مائز،ترکی،خوارزم،بخارا،افغانستان،سیلان،ملایا،انڈونیشیا،ہندوستان، چین؛جاوا،اندلس،جبرالٹر،مشرقی و مغربی افریقہ،سوڈان وغیره شامل ہیں-   تفصیل سے پڑھئے
بچپن میں ایک بار افغانستان کی ایک پشتو فلم دیکهنے کا اتفاق هوا. کہانی کچھ ذیاده یاد نہیں هے. بس اتنا یاد هے کہ ایک دیہاتی لڑکے سے ایک لڑکی کو پیار هو جاتا هے..اور فلم کے آخر میں جو "آئٹم نمبر" هوتا هے وه صرف یہ تها کہ لڑکی اس دیہاتی کا هاته پکڑ لیتی هے. اور وه لڑکا وهاں سے بهاگ جاتا هے اور بهاگتا هوا چیختا جاتا هے... گنہگار هو گیا..گنہگار هو گیا... میں الحمد للہ مسلمان هوں. لیکن جب بهی گوشت کهاتا هوں تو دل کرتا هے میں بهی چلاوں کہ گنہگار هو گیا... .گنہگار هو گیا... گوشت کهانے کے بعد ایک عجیب هندوانہ قسم کی فیلینگ آتی هے.. تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کرد قبیلےکا ایک شخص مشھور ڈاکو تھا- وہ اپنا قصہ بیان کرتا ھے کہ میں اپنے ساتھیوں کے ساتھ ڈاکہ ڈالنے جارھا تھا_ راستہ میں ھم ایک جگہ بیٹھے تو ھم نے دیکھا کہ کجھور کے تین درخت ہیں ان میں سے دو پھلدار اور ایک بالکل خشک ہے_ ایک چڑیا بار بار آتی ھے اور پھلدار درختوں پر سے تروتازہ کجھور اپنی چونچ میں لے کر خشک درخت پر جاتی ھے_ ھمیں یہ دیکھ کر تعجب ھوا، میں نے دس مرتبہ اس چڑیا کو یوں کجھوریں لے جاتے ھوۓ دیکھا تو مجھے تجسس ھوا کہ اس پر چڑھ کر دیکھوں کہ یہ چڑیا اس درخت میں جاکر کیا کرتی ھے_ چنانچہ اس درخت کی چوٹی پر جاکے دیکھا کہ وھاں ایک اندھا سانپ منہ کھولے پڑا ھے اور یہ چڑیا وہ تروتازہ کھجور اس کے منہ میں ڈال رھی ھے_ مجھے یہ دیکھ کر اس قدر عبرت ھوئ کہ میں رونے لگا-  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
سوال: میں امیر (غنی) بننا چاھتا ہوں؟
جواب : فرمایا قناعت اختیار کرو،امیر ہو جاؤ گے

سوال: میں سب سے بڑا عالم بننا چاھتا ہوں،؟
جواب: تقوی اختیار کرو عالم بن جاؤ گے

سوال: عزت والا بننا چاھتا ہوں؟
جواب: مخلوق کے سامنے ہاتھ پھیلانا بند کر دو باعزت بن جاؤ گے،  تفصیل سے پڑھئے

مہاتما بدھ بڑی شان و شوکت سے تین محلوں میں پلا بڑھا اس کے باپ سدھورن نے دنیا کا کوئی غم کوئی تکلیف کسی تشنگی کو اس کے پاس پھٹکنے تک نہ دیا۔ ہزاروں رقاصائیں اپنے مسحور کن رقص سے بدھ کا دل بہلاتیں جب وہ شادی کی عمر کو آن پہنچا تو 500 حسین و جمیل دوشیزائوں کو اس کی خد مت میں پیش کیا گیا تا کہ وہ ان میں سے اپنے لیے شریک حیا ت کا انتخاب کرسکے اس نے ان میں سے بسو دھرا کا انتخاب کیا۔ شادی کے بعد بیٹے راہول کی ولادت ہوئی۔ ایک روز بدھ چہل قدمی کی غرض سے اپنے محل کے با ہر گلیوں میں گھو م رہا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

رڈولف ہیس نے چالیس سال برلن کی جیل میں گزارے- جرمنی میں ایڈولف ہٹلر کے نائب رُڈولف ہیس کی قبر کشائی کے بعد ان کی باقیات کو نذرِ آتش کیا گیا اور اب راکھ کو سمندر برد کردیا جائے گا۔ ان کی قبر کو صفحۂ ہستی سے مٹانے کا اقدام اس لیے کیا گیا کیونکہ خدشہ تھا کہ نیو نازی ان کی قبر کو مزار کی صورت نہ دے دیں۔ جنوبی جرمنی میں واقع علاقے وُنسیدل میں بدھ کی صبح ان کی قبر کشا کر کے ان کی باقیات کو نکالا گیا اور بعد میں انہیں جلا دیا گیا۔ ان کی باقیات کی راکھ کو اب سمندر میں بہا دیا جائے گا۔   تفصیل سے پڑھئے
ہٹلر
جرمنی کے سابق آمر اڈولف ہٹلر کے بارے میں ایک نیا طنزیہ ناول آج کل جرمنی میں بہت فروخت ہو رہا ہے اور لوگ اسے مزے لے کر پڑھ رہے ہیں۔ ہٹلر کے بارے میں جرمنی میں جہاں لوگ عام طور پر بات کرنا پسند نہیں کرتے، وہاں ان پر ناول لکھنا اور اس کا اس قدر مقبول ہونا اپنے آپ میں خاصا دلچسپ ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
پاکستان کا قومی ترانہ
ایسا لگتا ہے کہ پاکستان میں جہاں مذہبی حلقے، شدت پسند سمجھے جانے لگے ہیں وہیں خود کو روشن خیال، لبرل اور سیکولر کہنے والے بھی ان سے پیچھے نہیں رہے۔ سوال یہ تھا کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ کس نے لکھا؟ اور کچھ آخر الذکر دوستوں کا اصرار ہے کہ پاکستان کا پہلا قومی ترانہ جگن ناتھ آزاد نے لکھا۔
جگن ناتھ آزاد اردو کے نامور دانشور تلوک چند محروم کے فرزند اور خود بھی اہم شاعر اور ناقد تھے۔ اُسی عیسٰی خیل میں پیدا ہوئے تھے جہاں کے ہمارے مقبول گلوکار عطا اللہ ہیں۔ کئی نسلوں سے وہیں رہتے تھے لیکن تقسیم نے انہیں ہندوستان دھکیل دیا اور اب انہیں ہندوستان کے معروف شاعر کہا جاتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے
طارق بن زیاد بن عبداللہ ہسپانیہ کے پہلے فاتح اور اسلام کے پہلے والی تھے۔ دنیا کے بہترین سپہ سالاروں میں سے ایک تھے۔ طار قبن زیاد نے ایک مختصر فوج کے ساتھ یورپ کے عظیم سپین کو فتح کیا تھا۔ اور یہاں دین اسلام کاعلم بلند کیا تھا۔ اسپین کی فتح اور یہاں پراسلامی حکومت کا قیام ایک ایسا تاریخی واقعہ ہے جس نے یورپ کو سیاسی‘ معاشی اور ثقافتی پسماندگی سے نکال کر ایک نئی بصیرت فکر عطا کی تھی۔ اور اس پر ناقابل فراموش اثرات مرتب کیے تھے۔
طار ق بن زیاد ایک متقی، فرض شناس اور بلندہمت انسان تھے۔ ان کے حسن اخلاق کی بنیاد پر عوام اور فوجی سپاہی انہیں احترام کی نظر سے دیکھتے تھے۔  تفصیل سے پڑھئے


سندھ کا ہر خطہ تاریخ، تہذیب اور ثقافت کا گہوارہ رہا ہے سندھ کی سرزمین میں لاکھوں بزرگان دین یا ولی اللہ، اولیاء کرام، صوفی، سادھو، شاعر، ادیب، عالم اور دانشور ابدی نیند سو رہے ہیں۔ تاریخ کے ثبوت ہمیں مقبروں، مزاروں اور دوسرے بے شمار پھیلے ہوئے کھنڈرات کی صورت میں ملتے ہیں۔ جسے دیکھتے ہی ماضی کا شاندار عکس ذہن میں ابھر آتا ہے ایسے عام آثار دیکھنے والوں کے لیے عبرت کا مقام بھی ہیں۔ ایسے ہی تاریخی آثاروں میں سندھ کی قدیم تاریخ کا لازوال شہرہ آفاق قبرستان مکلی بھی ہے جو دنیا کا سب سے بڑا قبرستان ہے دنیا میں مسلمانوں کے اس سب سے بڑے قبرستان میں لاکھوں قبریں اور مقبرے عہد پارینہ کی یاد دلاتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
جہانگیر بادشاہ نے 1619ء میں آگرہ اور لاہور کے درمیان ہر کوس پر ایک مینار تعمیر کرنے کا حکم دیا اور اس کے ساتھ ہر تین کوس کے فاصلے پر مسافروں کی سہولت کے لیے کنوئیں بھی کھدوائے۔ اس مینار کو کوس مینار بھی کہا جاتا ہے ان میں سے کچھ مینار لاہور سے واہگہ جاتے ہوئے دائیں سمت باٹا پور سے پہلے کھیتوں میں موجود ہیں۔ یہ عمودی اور چھوٹی اینٹوں سے بنے ہوئے ہیں۔ ایک مینار جوکہ جسامت میں ان میناروں سے بہت بڑا ہے ریلوے شیڈ کے پاس سے ایک سڑک سیدھی ریلوے پھاٹک سے گزرتی ہوئی سیدھی گڑھی شاہو کی سمت جاتی ہے یہ مینار ریلوے لائنوں کے پاس موجود ہے۔ اگر بڑے کوس مینار کو سیدھا دوسرے کوس میناروں سے ملایا جائے تو مقبرہ علی مردان خان، گلابی باغ، باغ مہابت خان، بیگم پورہ انگوری باغ اور شالا مار باغ سب ایک طرف رہ جاتے ہیں اور دوسرا یہ کوس مینار جسامت میں بہت بڑا ہے اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہاں ایک بہت بڑا چوک ہوگا اور یہاں سے سڑک مڑ کر ان سب عمارات کے درمیان میں سے گزری ہوگی۔ (شیخ نوید اسلم کی کتاب ’’پاکستان کے آثارِ قدیمہ ‘‘ سے ماخوذ)

یہ خاتون جرمنی کے شہر لائزگ کی رھنے والی تھی ۔ پیشے کے لحاظ سے یہ ڈاکٹر تھیں۔  سن 1958ء کی بات ھے اس خاتون نے 30 سال کی عمر میں پاکستان میں کوڑھ (جزام) کے مریضوں کے بارے میں ایک فلم دیکھی‘ کوڑھ اچھوت مرض ہے جس میں مریض کا جسم گلنا شروع ہو جاتا ہے‘ جسم میں پیپ پڑجاتی ہے اور اس کے ساتھ ہی انسان کا گوشت ٹوٹ ٹوٹ کر نیچے گرنے لگتا ہے‘ کوڑھی کے جسم سے شدید بو بھی آتی ہے‘ کوڑھی اپنے اعضاء کو بچانے کے لیے ہاتھوں‘ ٹانگوں اور منہ کو کپڑے کی بڑی بڑی پٹیوں میں لپیٹ کر رکھتے ہیں‘ یہ مرض لا علاج سمجھا جاتا تھا چنانچہ جس انسان کو کوڑھ لاحق ہو جاتا تھا اسے شہر سے باہر پھینک دیا جاتا تھا اور وہ ویرانوں میں سسک سسک کر دم توڑ دیتا تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
حضرت ابو قلابہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا بیان ہے کہ میں ملک شام کی سرزمین میں تھا تو میں نے ایک شخص کو بار بار یہ صدا لگاتے ہوئے سنا کہ ”ہائے افسوس! میرے لئے جہنم ہے۔”میں اٹھ کر اس کے پاس گیاتو یہ دیکھ کر حیران رہ گیا کہ اس شخص کے دونوں ہاتھ اورپاؤں کٹے ہوئے ہیں اور وہ دونوں آنکھوں سے اندھا ہے اوراپنے چہرے کے بل زمین پر اوندھا پڑا ہو اباربار لگاتاریہی کہہ رہا ہے کہ ”ہائے افسوس ! میرے لئے جہنم ہے ۔”یہ منظر دیکھ کر مجھ سے رہا نہ گیا اورمیں نے اس سے پوچھا کہ اے شخص ! تیرا کیا حال ہے ؟  تفصیل سے پڑھئے
ﻣﺤﺪﺙ ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ:-
22 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 273 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﻣﺴﻠﻤﺎﻥ ﻣﺤﺪﺙ ﺍﻭﺭ ﻣﻔﺴﺮ ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ۔ ﻭﮦ 209 ﮨﺠﺮﯼ ﻣﯿﮟ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﺷﮩﺮ ﻗﺰﻭﯾﻦ ﻣﯿﮟ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺍﻧﮭﻮﮞ ﻧﮯ ﺣﺪﯾﺚ ﮐﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻤﺎﻟﮏ ﮐﺎ ﺳﻔﺮ ﮐﯿﺎ۔ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ﻧﮯ ﻋﻠﻢ ﺣﺪﯾﺚ ﻣﯿﮟ ﻣﮩﺎﺭﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﺮﻧﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺸﮩﻮﺭ ﮐﺘﺎﺏ ﺳﻨﻦ ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ﺗﺤﺮﯾﺮ ﮐﯽ ﺟﻮ ﺍﮨﻞ ﺳﻨﺖ ﮐﯽﺻﺤﺎﺡ ﺳﺘﮧ ﻣﯿﮟ ﺷﺎﻣﻞ ﮨﮯ۔ﺍﺑﻦ ﻣﺎﺟﮧ ﮐﯽ ﺩﯾﮕﺮ ﺍﮨﻢ ﮐﺘﺎﺑﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺗﻔﺴﯿﺮ ﻗﺮﺁﻥ ﺍﻭﺭ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﻗﺰﻭﯾﻦ ﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﮨﯿﮟ۔

خلیج، مشرق وسطیٰ اور افریقا کی مکمل آزاد اور نیم خود مختار عرب ریاستوں کی مجموعی تعداد تیس کے قریب ہے ، لیکن ان میں سے 22 ممالک سعودی عرب، بحرین، مصر ، کویت، جزائر القمر، اردن، عراق، یمن، جیبوتی، لبنان، لیبیا، موریتانیہ،مراکش، اومان ، قطر، سومالیہ، سوڈان، فلسطین، شام، تیونس اور متحدہ عرب امارات لیگ کے رُکن ہیں۔
البتہ شام میں جاری موجودہ خانہ جنگی کے باعث عارضی طور پر اس کی رکنیت معطل ہے ۔ زبان، کلچر، مذہب، تہذیب وثقافت کی یکجائی کے باوجود وسائل اور معیار زندگی کے اعتبار سے ان ملکوں میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ دولت و ثروت اور غربت وافلاس میں ان دو درجن عرب ممالک میں ایک گہری خلیج حائل ہے۔ عرب برادری میں پائے جانے والے اس منفرد تضاد میں ایک ملک کی دولت کا کوئی حساب نہیں اور دوسرے کے عوام زندگی کی سانسیں بحال رکھنے کے لیے روٹی کے ایک ایک لقمے کو ترس رہے ہیں۔   تفصیل سے پڑھئے
” غزالی کو پریشان ہونے کی عادت ورثے میں ملی تھی۔ مالی اعتبار سے وہ اچھی پوزیشن میں تھا، تعلیم بھی مناسب تھی، گھر بار، ملازمت، اولاد، بیوی غرض وہ سب کچھ حاصل تھا جو ایک اچھی زندگی گذارنے کے لئے ضروری ہوتا ہے۔ لیکن چھوٹی چھوٹی باتوں پر پریشان ہوجانا اس کی مستقل صفت بن چکی تھی۔کبھی اسے یہ اندیشہ ہوتا کہ ملازمت ختم ہوگئی تو کیا ہوگا؟۔ کبھی وہ بچوں کے مستقبل کے خودساختہ مسائل کوسوچتاتو کبھی باہر نکلنے پر اسے ایکسیڈنٹ کا خوف ستانے لگتا۔ اس کے دوست احباب اسے سمجھاتے کہ یہ سب سوچیں وہم ہیں اور ان کو خود پر حاوی کرنا فضول ہے۔لیکن اسے اس طرح کی زندگی کی عادت ہوگئی تھی کیونکہ اس طرز زندگی میں خود کو اوپر اٹھانے کے لئے محنت نہیں کرنی پڑتی۔
لیکن وہ بھول گیا تھا کہ ان تفکرات کی ایک قیمت ہوتی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
مسلم دنیا پر تاتاریوں کا حملہ ( 617 هہ) اسلامی تاریخ کا سب سے بهیانک وقعہ تها- عجیب بات ہے کہ یہ حملہ عین اسی زمانہ میں هوا جب کہ مسلمانوں نے یورپ کی صلیبی اقوام پر فتح (587 هہ) حاصل کی تهی اور شاه مصر صلاح الدین ایوبی کے تحت اپنی فوجی برتری کی شاندار روایات قائم کی تهیں-صلاح الدین ایوبی کی وفات (589 هہ) کے صرف 25 سال بعد تاتاری قبائل کو کیسے یہ جرآت هوئی کہ وه مسلم سلطنت پر حملہ کر دیں- تفصیل سے پڑھئے
ٹافن برگ کا تعلق ایک خاندانی گھرانے سے تھا20 جولائی 1944 کو 36 سالہ جرمن فوجی اہلکار کرنل کلاسگراف وان سٹافن برگ مشرقی پروشیا کے جنگل میں فوج کی سخت سکیورٹی میں قائم تنصیب پر پہنچے۔ اُن کا مقصد ہٹلر کو قتل کرنا تھا۔ اس تنصیب کو ’وولف شانزے‘ یا بھیڑیےکا غار کہا جاتا تھا اور یہ مشرقی محاز پر ہٹلر کا خفیہ صدر دفترتھا۔ سٹافن برگ ہٹلر اور جرمن اعلیٰ حکام کے درمیان روزانہ کی بریفنگ میں شامل تھے مگر ان کے بریف کیس میں ایک بم تھا۔ تفصیل سے پڑھئے
صحابہ کرام کی آپس میں محبت، قرآن حکیم کی آیات ، احادیثِ صحیحہ اور تاریخ میں ۔ صحابہ کی آپس میں محبت ، الفت اور شفقت کی مثالیں بھری پڑی ہیں۔
فرمانِ الٰہی ہے :
مُّحَمَّدٌ رَّسُولُ اللَّهِ وَالَّذِينَ مَعَهُ أَشِدَّاء عَلَى الْكُفَّارِ رُحَمَاء بَيْنَهُمْ
کہ جو اس (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) کے ساتھ ہیں ، یہ تو کافروں پر سخت اور آپس میں انتہائی مہربان ہیں ( الفتح:48 - آيت:29 )
یہ محبت و الفت خاص اللہ کا فضل ہے صحابہ اکرام رضی اللہ عنہم پر جو خالصتاً ان کو اللہ کے دین کی وجہ سے حاصل ہوا۔ اور اسی سبب وہ سب آپس میں انتہائی محبت کرنے والے اور ایک دوسرے پر اپنی جانیں نچھاور کرنے والے بن گئے۔ اللہ تعالیٰ اپنے اسی احسان کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے :    تفصیل سے پڑھئے
معصوم بچوں کی آہ جب رحمتِ خداوندی کوجوش میںلے آئی…ماورائے عقل ایک سچاواقعہ
   ۲۰۰۲ء کی خزاں میں پاکستان میں بلدیاتی الیکشن ہوئے۔ مجھے بھی تحصیل بھلوال ضلع سرگودھا کے نائب ناظم کا الیکشن لڑنا پڑا جو میں میاں نصیراحمد ایڈووکیٹ کی معیت میں جیت گیا۔ ہمارے پینل کے ناظم ضلع ملک امجد علی نون بھی جیت گئے۔ اس انتخابی مہم کے سلسلے میں مجھے گائوں (وان میانہ) میں چند روز رکنا پڑا۔ نمازِعشا کے بعد میں نے درسِ قرآن کا سلسلہ شروع کیا جس کا حاصل یہ ہوا کہ ایک معصوم اور یتیم بچے سے متعارف ہوا۔ بچے کا نام حامد رانجھا تھا جو نمازِعشا کی ادائی کے بعد میرے ساتھ میرے گھر آتا اورکھانے میں شرکت کرتا۔ اس کی عمر ۸/۹ سال تھی۔ وہ چند ایام میں مجھ سے مانوس ہوگیا۔ اس بیچارے کی ماں فوت ہوئی تو وہ دو سال اور باپ جب داغِ مفارقت دے گیا تو صرف ۶/۷ سال کا تھا۔      تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اس مکروہ کھیل کا چشم کشا ماجرا جوپاکستانی ہیرو کوبدنام کرنے کی خاطر غیرملکی خفیہ ایجنسیوں نے بین الاقوامی اسمگلروں سے ساز باز کرکے کھیلا  ۵ ؍ فروری ۲۰۰۴ء کی بات ہے، امریکی سی آئی اے کے سربراہ، جارج ٹینٹ نے جارج ٹائون یونیورسٹی، واشنگٹن میں اساتذہ اور طلبہ و طالبات سے خطاب کیا۔ تقریر کے آخر میں ٹینٹ نے حاضرین کو بتایا ’’پچھلے سال میں نے کانگریس میں سالانہ خطاب کے دوران واضح کیا تھا کہ بین الاقوامی نجی ٹھیکے دار ایٹم بم بنانے کے آلات لیبیا سمیت مختلف ممالک کو فروخت کررہے ہیں۔ تب میں نے ان لوگوں کے نام خفیہ رکھے تھے۔ لیکن آج میں بتانا چاہتا ہوں کہ بنیادی طورپر میری مراد ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے تھی۔  تفصیل سے پڑھئے
سالہ لیونارڈ فونگ امریکی شہر، لاس اینجلس میں اشیائے صرف کی دکان کا مالک تھا۔ اس کے والدین ہانگ کانگ سے امریکہ آئے تھے اور پھر یہیں کے ہو کر رہ گئے۔ لیونارڈ نے لاس اینجلس میں تعلیم و تربیت پائی اور ورثے میں باپ کی دکان پائی۔ ۱۹۷۰ء میں اس نے ہانگ کانگ میں مقیم ایک دوشیزہ، سوزین سے شادی کر لی۔ اس بندھن سے دو بیٹے تولد ہوئے۔ یہ ۱۹۸۰ء کے موسم گرما کی بات ہے، لیونارڈ ایک دن اپنے بیٹے، چھ سالہ ڈینئل فونگ کو بھی اپنی دکان میں لے گیا۔ وہاں ڈینئل نے پہلے تو کچھ ٹافیاں مزے سے کھائیں، پھر گیند سے کھیلنے لگا۔ اسی دوران تین امریکی دکان میں داخل ہوئے۔ ان میں سے ایک نے بندوق تانی ہوئی تھی۔   تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
اہلِ مکہ نے پہلی دفعہ اللہ تعالیٰ کے نافرمانوں کونیست و نابود ہوتے دیکھا! تو گورنر ہوتا ہے، چاہے کسی ملک کا بھی ہو۔یہاں جس گورنرکاذکرہے ، اس کا نام تھا ابرہہ۔ ملک یمن میں اسے حبشہ کے بادشاہ نے گورنر مقرر کیا تھا۔ اس وقت جمہوریت نہیں تھی اور نہ ہی جماعتیں ہوتی تھیں کہ قومی خزانہ لُوٹ کھسوٹ کر اپنے بینک بھریں۔ لیکن اس وقت بینک بھی نہیں تھے۔ ابرہہ نے دیکھا کہ ہر سال لوگ بیت اللہ کا حج کرنے ملک عرب کے شہر مکہ مکرمہ جاتے ہیں۔ ابرہہ نے سوچا کہ کیوں نہ وہ بھی ایسا ہی عبادت خانہ بنائے۔ لوگ دور دور سے آئیں گے او ریوں اس کی مشہوری ہوگی ۔ ٹیکس لگائیں گے تو آمدنی بھی ہوگی۔ ہر دور کے لٹیروں کی سوچ یہی رہی ہے۔   تفصیل سے پڑھئے
حضرت عمرؓ بن خطاب  کا عہدِ خلافت ہے۔ عمرؓ کسی شخص سے ایک گھوڑا خریدتے ہیں، اِس شرط پر کہ پسند آ گیا تو رکھ لیں گے، ورنہ واپس کر دیں گے۔ گھوڑا ایک سوار کوے کے لیے دیتے ہیں اور وہ سواری میں چوٹ کھا کر لنگڑا ہو جاتا ہے ۔عمرؓ گھوڑا واپس کرنا چاہتے ہیں مگر مالک لینے سے انکار کر دیتا ہے۔ دونوں شریح بن حارث کو ثالث مقرر کرتے ہیں۔ شریح فیصلہ کرتے ہیں ’’جو گھوڑا خریدا ہے، اُسے رکھو یا جس حالت میں لیا تھا، اِسی حالت میں واپس کرو۔‘‘ عمرؓ فیصلہ ہی تسلیم نہیں کرتے بلکہ شریح کو کوفہ کا جج بھی مقرر کر دیتے ہیں کہ ایسا دقیقہ رس، ذکی، طباع، حدیث و فقہ کا ماہر اور بے خوف انسان شخص ایسے ہی بلند پایہ منصب کا اہل ہو سکتا ہے۔  تفصیل سے پڑھئے

وہ مکہ میں سب سے زیادہ خوشبو پسند تھے۔ نازونعم میں پیدا ہوئے اور اسی فضا میں پرورش پا کر جوانی تک پہنچے۔ شاید مکہ کے نوجوانوں میں کسی کو اپنے والدین کی محبت و شفقت اس حد تک میسر نہ آئی ہو جس قدر حضرت مصعب بن عمیر ؓ کے حصّے میں آئی۔ قریش کا یہ قابل توجہ نوجوان گفتگو کو سب سے زیادہ دلچسپی اور انہماک سے سنتا ۔اِسی لیے اپنی کم عمری کے باوجود مکی مجلسوں اور محفلوں کی زینت بن گیا۔ ہر مجلس کے شرکاء کی یہ شدید خواہش ہوتی کہ مصعبؓ ان کی محفل میں بیٹھے۔ وجہ یہ تھی کہ حسن و عقلمندی مصعبؓ کی وہ دو خوبیاں تھیں جو دِلوں اور دروں کو واکر دیتی۔یہ بھر پور ورعنا جوان، نازو نعمت کا پروردہ، مکہ کا نوخیز حسین اور اس کی مجلسوں اورمحفلوں کا نگینہ…کیا یہ ممکن تھا کہ وہ ایمان وجاں سپاری کی تاریخی داستانوں میں سے ایک داستان بن جائے؟  تفصیل سے پڑھئے
ﷲ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﻧﮯ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﯿﺪ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﻠۃ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﮐﮯ ﺑﯿﺎﻥ ﻣﯿﮞﭙﻮﺭﯼ ﺳﻮﺭﺕ ﻧﺎﺯﻝ ﻓﺮﻣﺎﺋﯽ۔
ﺍﺭﺷﺎﺩ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ :
ﺇِﻧَّﺎ ﺃَﻧﺰَﻟْﻨَﺎﻩُ ﻓِﻲ ﻟَﻴْﻠَﺔِ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِِo ﻭَﻣَﺎﺃَﺩْﺭَﺍﻙَ ﻣَﺎ ﻟَﻴْﻠَﺔُ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِِo ﻟَﻴْﻠَﺔُ ﺍﻟْﻘَﺪْﺭِﺧَﻴْﺮٌ ﻣِّﻦْ ﺃَﻟْﻒِ ﺷَﻬْﺮٍٍo ﺗَﻨَﺰَّﻝُ ﺍﻟْﻤَﻠَﺎﺋِﻜَﺔُﻭَﺍﻟﺮُّﻭﺡُ ﻓِﻴﻬَﺎ ﺑِﺈِﺫْﻥِ ﺭَﺑِّﻬِﻢ ﻣِّﻦ ﻛُﻞِّﺃَﻣْﺮٍٍo ﺳَﻠَﺎﻡٌ ﻫِﻲَ ﺣَﺘَّﻰ ﻣَﻄْﻠَﻊِ
ﺍﻟْﻔَﺠْﺮِo ﺍﻟﻘﺪﺭ، 97 : .1 5
’’ ﺑﮯ ﺷﮏ ﮨﻢ ﻧﮯ ﺍﺱ (ﻗﺮﺁﻥ ) ﮐﻮ ﺷﺐِ ﻗﺪﺭﻣﯿﮟ ﺍﺗﺎﺭﺍ ﮨﮯ o ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﮐﯿﺎ ﺳﻤﺠﮭﮯ ﮨﯿﮟ (ﮐﮧ )ﺷﺐِ ﻗﺪﺭ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ؟ ﺷﺐِ ﻗﺪﺭ ( ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻭﺑﺮﮐﺖ ﺍﻭﺭ ﺍَﺟﺮ ﻭ ﺛﻮﺍﺏ ﻣﯿﮟ) ﮨﺰﺍﺭ ﻣﮩﯿﻨﻮﮞﺳﮯ ﺑﮩﺘﺮ ﮨﮯ o ﺍﺱ (ﺭﺍﺕ ) ﻣﯿﮟ ﻓﺮﺷﺘﮯ ﺍﻭﺭﺭﻭﺡ ﺍﻻﻣﯿﻦ (ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ) ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ (ﺧﯿﺮ ﻭ ﺑﺮﮐﺖ ﮐﮯ ) ﮨﺮ ﺍﻣﺮ ﮐﮯ ﺳﺎﺗﮫ ﺍﺗﺮﺗﮯﮨﯿﮟ o ﯾﮧ (ﺭﺍﺕ ) ﻃﻠﻮﻉِ ﻓﺠﺮ ﺗﮏ (ﺳﺮﺍﺳﺮ)ﺳﻼﻣﺘﯽ ﮨﮯ ‘‘o

ﻟﯿﻠۃ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﮐﺘﺐِ ﺣﺪﯾﺚ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﺭﻭﺍﯾﺎﺕ ﻣﺬﮐﻮﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺫﯾﻞ ﻣﯿﮟ ﭼﻨﺪ ﺍﯾﮏ ﺍﺣﺎﺩﯾﺚ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ۔ تفصیل سے پڑھئے
علی بن ابی طالب بن ہاشم بن عبدمناف, آپ کی کنیت ابوالحسن اور ابوتراب ہے۔ اور آپ کا لقب حیدر ہے۔آپ کی پیدائش بعثتِ نبوی سے دس سال قبل کی ہے۔ ابوبکر ، عمر اور عثمان رضی اللہ عنہم کے علاوہ صحابہ کرام میں علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سب سے افضل صحابی ہیں۔ آپ خلفائے راشدین میں سے چوتھے خلیفہ ہیں۔ آپ )رضی اللہ عنہ( کی خلافت کی مدت چار سال نو ماہ اور کچھ دن ہے۔ آپ نے بچوں میں سب سے پہلے اسلام قبول کیا۔ آپ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حقیقی چچازاد بھائی اور داماد تھے۔  تفصیل سے پڑھئے
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺍﻟﻤﺮﺗﻀﯽٰ ﮐﺮﻡ ﺍﻟﻠﮧ ﻭﺟﮩﮧ ﺍﻟﮑﺮﯾﻢ ﮐﯽ ﺫﺍﺕِ ﮔﺮﺍﻣﯽ ﺑﮯ ﺷﻤﺎﺭ ﮐﻤﺎﻝ ﻭ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﺟﺎﻣﻊ ﮨﮯ۔ ﺁﭖ ﺷﯿﺮ ﺧﺪﺍ ﺑﮭﯽ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﺩﺍﻣﺎﺩ ﻣﺼﻄﻔﯽؐ ﺑﮭﯽ، ﺣﯿﺪﺭﮐﺮﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺫﻭﺍﻟﻔﻘﺎﺭ ﺑﮭﯽ ، ﺣﻀﺮﺕ ﻓﺎﻃﻤۃ ﺍﻟﺰﮨﺮﺍ ﮐﮯ ﺷﻮﮨﺮ ﻧﺎﻡ ﺩﺍﺭ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﺴﻨﯿﻦ ﮐﺮﯾﻤﯿﻦ ﮐﮯ ﻭﺍﻟﺪ ﺑﺰﺭﮔﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽ، ﺻﺎﺣﺐ ﺳﺨﺎﻭﺕ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺎﺣﺐ ﺷﺠﺎﻋﺖ ﺑﮭﯽ، ﻋﺒﺎﺩﺕ ﻭ ﺭﯾﺎﺿﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭﻓﺼﺎﺣﺖ ﻭ ﺑﻼﻏﺖ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ، ﻋﻠﻢ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﺣﻠﻢ ﻭﺍﻟﮯ ﺑﮭﯽ، ﻓﺎﺗﺢ ﺧﯿﺒﺮ ﺑﮭﯽ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﺪﺍﻥ ﺧﻄﺎﺑﺖ ﮐﮯ ﺷﮩﺴﻮﺍﺭ ﺑﮭﯽ، ﻏﺮﺽ ﯾﮧ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺑﮩﺖ ﺳﯽ ﮐﻤﺎﻝ ﻭ ﺧﻮﺑﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﺟﺎﻣﻊ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﮨﺮ ﺍﯾﮏ ﻣﯿﮟ ﻣﻤﺘﺎﺯ ﻭ ﯾﮕﺎﻧۂ ﺭﻭﺯﮔﺎﺭ ﮨﯿﮟ، ﺍﺳﯽ ﻟﯿﮯ ﺩﻧﯿﺎ ﺁﭖ ﮐﻮ ’’ ﻣﻈﮩﺮ ﺍﻟﻌﺠﺎﺋﺐ ﻭﺍﻟﻐﺮﺍﺋﺐ ‘‘ ﺳﮯ ﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﺗﮏ ﺍﺳﯽ ﻃﺮﺡﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﯽ ﺭﮨﮯ ﮔﯽ۔ ﺁﭖؓ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﻭﺍﺭﺩ ﮨﯿﮟ ﺑﻠﮑﮧﺍﻣﺎﻡ ﺍﺣﻤﺪ ﺭﺣﻤۃ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻓﺮﻣﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺟﺘﻨﯽﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﺁﭖؓ ﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﮨﯿﮟ ﮐﺴﯽ ﺍﻭﺭ ﺻﺤﺎﺑﯽﮐﯽ ﻓﻀﯿﻠﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺗﻨﯽ ﺣﺪﯾﺜﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﯿﮟ۔ تفصیل سے پڑھئے
(مشتاق احمد یوسفی کی کتاب چراغ تلے سے ایک دل پذیر و بے نظیر تحریر، کہ جس سے دلوں کے خرابے ہوں روشن)
مرزاکرتے وہی ہیں جو ان کادل چاہے۔ لیکن اس کی تاویل عجیب وغریب کرتے ہیں۔صحیح بات کوغلط دلائل سے ثابت کرنے کا یہ ناقابل رشک ملکہ شاذ و نادرہی مردوں کے حصے میں آتا ہے۔ اب سگرٹ ہی کولیجئے۔ ہمیں کسی کے سگرٹ نہ پینے پرکوئی اعتراض نہیں، لیکن مرزاسگرٹ چھوڑنے کا جو فلسفیانہ جواز ہر بارپیش کرتے ہیں وہ عام آدمی کے دماغ میں بغیر آپریشن کے نہیں گھس سکتا۔ مہینوں وہ یہ ذہین نشین کراتے رہے کہ سگرٹ پینے سے گھریلومسائل پرسوچ بچارکرنے میں مدد ملتی ہے اورجب ہم نے اپنے حالات اوران کی حجت سے قائل ہوکر سگرٹ شروع کردی اوراس کے عادی ہوگئے توانھوں نے چھوڑدی۔ کہنے لگے،    تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
ایک روزامام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ علیہ ظہر کی نماز کے بعد گھر تشریف لے گئے۔ بالا خانے پر آپ کا گھر تھا‘ جاکر آرام کرنے کیلئے بستر پر لیٹ گئے۔ اتنے میں کسی نے دروازے پر دستک دی۔ آپ اندازہ کیجئے جو شخص ساری رات کا جاگا ہوا ہو اور سارا دن مصروف رہا ہو‘ اس وقت اس کی کیا کیفیت ہوگی۔ ایسے وقت کوئی آجائے تو انسان کو کتنا ناگوار ہوتا ہے کہ یہ شخص بے وقت آگیا۔۔۔۔ لیکن امام صاحب اٹھے‘ زینے سے نیچے اترے‘ دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ایک صاحب کھڑے ہیں‘ امام صاحب نے اس سے پوچھا کہ کیسے آنا ہوا؟ اس نے کہا کہ ایک مسئلہ معلوم کرنا ہے۔ دیکھئے اول تو امام صاحب جب مسائل بتانے کیلئے بیٹھے تھے وہاں آکر تو مسئلہ پوچھا نہیں‘ تفصیل سے پڑھئے
مقدمہ
اس کتاب میں سر زمین ایران کے عظیم فلسفی و عالم خواجہ نصیر الدین طوسی کی زندگی کا مختصر بیان ہے۔ کون تھے وہ، ساتویں صدی ہجری کے علمائے اجل میں سب سے نمایاں ایسا انسان کہ ان کی وفات کے سات سو سال بعد بھی دنیا ان کے علم پر تکیہ کئے ہوئے ہے جنہوں نے اپنی فکر و نظر کی وسعتوں کو دنیائے اسلام کے لئے سرمہ نگاہ اپنی سیاسی و علم شخصیت کو نمائش دوام کے لئے رکھا دیا ہے۔    تفصیل سے پڑھئے
images 

ارض مقدس ، ارض فلسطین۔۔۔
انبیاءکی سرزمین، رحمتوں کی سر زمین ۔۔ اس وقت ظلم و ستم ، خوف و وحشت کی تصویر بنی ، انسانیت خصوصاً مہذب اقوام کی بے حسی اور مفاد پرستی کا ماتم کرتی نظر آ رہی ہے۔
فلسطین فراعین مصر کے زمانے میں بولی جانے والی مصری زبان کے لفظ فیلیسٹ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔۔ قدیم مصر میں یہ لفظ ارض مقدس کے باسیوں کے لئے استعمال ہوتا ۔ ارض فلسطین ان علاقوں میں سے ایک ہے جہاں اولاد آدم نے سب سے پہلے سکونت اختیار کی۔   تفصیل سے پڑھئے

1 ۔ ﭘﮩﻠﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﺎ ﺍﺗﺮﻧﺎ:
21 ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﮨﺠﺮﺕ ﺳﮯ 13 ﺳﺎﻝ ﻗﺒﻞ ﺳﻮﻣﻮﺍﺭ ﮐﯽ ﺭﺍﺕ ﺣﻀﺮﺕ ﺟﺒﺮﯾﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﻧﺒﯽ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﭘﺮ ﻏﺎﺭ ﺣﺮﺍ ﻣﯿﮟ ﭘﮩﻠﯽ ﻭﺣﯽ ﻟﮯﮐﺮ ﺍﺗﺮﮮ۔ ﯾﮧ ﻭﺣﯽ ﺳﻮﺭﺋﮧ ﺍﻗﺮﺍﺀﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍﺋﯽ ﺁﯾﺎﺕ تھیں ﺟﻮ ﭘﮩﻠﯽ ﻭﺣﯽ ﮐﮯ ﻃﻮﺭ ﭘﺮ ﺣﻀﻮﺭﷺ ﭘﺮ ﻧﺎﺯﻝ ہوئی.

2 ۔ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﯽ ﺷﮩﺎﺩﺕ:
21ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺍﻟﻤﺒﺎﺭﮎ 40 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﺷﮩﯿﺪ ﮨﻮﺋﮯ۔ ﺷﮩﺎﺩﺕ ﺳﮯ ﺩﻭ ﺭﻭﺯ ﻗﺒﻞ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﺻﺒﺢ ﮐﯽ ﻧﻤﺎﺯ ﮐﮯ ﺩﻭﺭﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﺐ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻠﯽ ﺳﺠﺪﮮ ﮐﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻋﺒﺪ ﺍﻟﺮﺣﻤﻦ ﺍﺑﻦ ﻣﻠﺠﻢ ﻧﮯ ﺯﮨﺮ ﻣﯿﮟ ﺑﺠﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺗﻠﻮﺍﺭ ﺳﮯ ﺁﭖ ﮐﮯ ﺳﺮﭘﺮﻭﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺍﻭﺭﮐﭽﮫ ﺭﻭﺯ ﺷﺪﯾﺪ ﺯﺧﻤﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﻨﮯ ﮐﮯ ﺑﻌﺪ ﺁﭖ ﺍﭘﻨﮯ ﺧﺎﻟﻖ ﺣﻘﯿﻘﯽ ﺳﮯ ﺟﺎ ﻣﻠﮯ۔

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers