روزہ کو عربی زبان میں صوم کہتے ہیں۔ صوم کا لغوی معنی رکنے کے ہیں شرع کی رو سے صبح صادق سے لے کر غروب آفتاب تک کھانے پینے اور عمل مباشرت سے رک جانے کا نام روزہ ہے۔ جیسا کہ قرآن حکیم سے ثابت ہے :
وَکُلُوْا وَاشْرَبُوْا حَتّٰی يَتَبَيَنَ لَکُمُ الْخَيْطُ الْاَبْيَضُ مِنَ الْخَيْطِ الْاَسْوَدِ مِنَ الْفَجْرِ ثُمَّ اَتِمُّوا الصِّيَامَ اِلَی الَّيْلِ۔
البقرة، 2 : 187 ’’)روزہ رکھنے کے لئے سحری کے وقت( اور کھاتے پیتے رہا کرو یہاں تک کہ تم پر صبح کا سفید ڈورا )رات کے( سیاہ ڈورے سے )الگ ہو کر( نمایاں ہو جائے، پھر روزہ رات )کی آمد( تک پورا کرو۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے

570-650AD -عہد رسالت اور خلافت راشدہ کا دور - ایک ایسے انقلاب کی بنیاد جس نے جہل ۔ ظلم وزیادتی اور بے راہ روی کو جڑ سے مٹانے کی راہ دکھلائی۔دین میں عقلیت پسندی کا رواج عام ہوا۔علم کی اہمیت پر زور دیا گیا۔رنگ و نسل کی بنیاد پر کسی بھی برتری کو خارج کر دیا گیا۔
650-700AD-خلافت راشدہ کا اختتام۔ امیہ دور کی شروعات۔ اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری۔ شام اور یروشلم میں عظیم تعمیرات کا سلسلہ شروع
AD 700-750 -امیہ دور میں معاشی ترقی کے ساتھ فتوحات کا سلسلہ سندھ سے اسپین تک۔ امیہ دور کا خاتمہ۔ تفصیل سے پڑھئے
آپ رضی اللہ عنہ کا نام و نسب
----------------------
خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم عبداللہ ابوبکر بن عثمان ابی قحافہ بن عامر بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ
آپ کا نام عبداللہ تھا لقب صدیق اور عتیق ہیں دونوں القاب رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم نے عطا کئے تھے۔ کنیت ابو بکر تھی آپ کا نسب مبارک آٹھویں پشت میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم سے مل جاتا ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کی آٹھویں پشت میں مرہ ہیں اور ان کے دو فرزند تھے ایک کلاب اور ایک تیم، رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم کلاب کے نسل سے ہیں اور خلیفہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و سلم تیم کی نسل سے ہیں۔           تفصیل سے پڑھئے
یہ پنجابی نظم ‘ویلا بابا’ دراصل ان بزرگوں کے متعلق ہے جو زندگی بھر جدو جہد کے بعد جسمانی قوت کی کمی کی وجہ سے مزید کام نہیں کر پاتے اور ان کے بچے انہیں گھر میں آرام کرنے کا مشورہ دیتے ہیں، مگر یہ آرام کس طرح کا ہوتا ہے یہ وہی جانتے ہیں، کیوں کہ گھر کے چھوٹے موٹے کام مل کر اتنے ہو جاتے ہیں کہ انہیں بہ مشکل ہی آرام کا وقت ملتا ہے۔ اور کہنے کو تو وہ گھر میں فارغ بیٹھے ہوتے ہیں۔               تفصیل سے پڑھئے
یہ چارپائی ہے. اس کے چار پائے ہوتے ہیں. جن کا خیال ہے کہ تین یا دو ہوتے ہیں وہ غلطی پر ہیں....انسان چارپائی پر لیٹ کر بہت خوش ہوتاہے. اس لئے کہ یہ شروع میں چوپایہ ہی تھا بعد میں دو پاؤں پر چلنے لگا. چارپائی پر لیٹتا ہے تو سمجھتا ہے کہ اب اپنی اصل جُون میں آیا. اس شوق کو بعض لوگ موٹر وغیرہ کی سواری سے بھی پورا کرتے ہیں. انسان اور حیوان میں پاؤں کی تعداد ہی کا تو فرق ہے. موٹر پر سوار ہونے سے یہ فرق بڑی حد تک مٹ جاتا ہے. اسی لئے تو دو پاؤں والے ایسے لوگوں کو دیکھ کر دُور ہی سے بھاگ جاتے ہیں.
چارپائی بڑے کام کی چیز ہے. اس پر لوگ بیٹھتے ہیں، سوتے ہیں، گاتے ہیں، روتے ہیں، کھاتے ہیں، پیتے ہیں، مرتے ہیں، جیتے ہیں. پڑھے لکھے لوگ لیٹتے وقت کچھ کتابیں بھی اپنے ساتھ چارپائی پر رکھ لیتے ہیں.
چارپائی تخت اور کرسی کے مقابلے میں سستی بھی ہے. نادر شاہ ہندوستان آیا تو محمد شاہ کا تخت اُٹھا کر لے گیا تھا اور محمد شاہ کو زمین پر بٹھا گیا تھا. اگر بادشاہ چارپائی پر بیٹھا ہوتا تو اس کے زمین پر بیٹھنے کی نوبت نہ آتی. چارپائی کی مرمت بھی آسان ہے. لوگ گلیوں میں آواز لگاتے پھرتے ہیں "چارپائی بنوالو. منجی پیڑھی ٹھکوا لو". کوئی چارپائی والا ان سے ٹیڑھی بات کرے تو یہ اس کو بھی ٹھوک دیتے ہیں. اس کی بھی کان نکال دیتے ہیں. سیدھا کر دیتے ہیں.
ابنِ انشاء کی تصنیف " اردو کی آخری کتاب" سے اقتباس
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
حیرت کی بات ہے کہ دنیائےطب کے ماہرین و محققین اپنی تحقیق زیادہ تر ادویات کی ساخت اور اثرات پہ جاری رکھتے ہیں لیکن نجانے یہ نکتہ ابھی تک انہیں کیوں نا سوجھ سکا کہ جتنے بیمار کسی مرض کے سبب مرتے ہیں اس سے کہیں زیادہ تیمار داروں کے ہاتھوں کھیت رہتے ہیں اور چند مریضوں کی فوتگی کیلیئے ڈاکٹروں اور نرسوں کا بھی استحقاق ہے ،، خوبرو نرسوں والے ہسپتالوں میں ایک ہی مریض کئی کئی بار بیمار ہو ہو کے داخل ہوئے جاتا ہے اوراپنے اور اپنے اقرباء و احباب کے"ذوق جمال" کی تسکین کیئے جاتا ہے،،، اور دوسرے کئی محروم لوگوں کا طبی و جمالیاتی استحصال ہوئے چلا جاتا ہے-     تفصیل سے پڑھئے
خاتون جنت حضرت بی بی فاطمہ رضی الله کا کرتہ مبارک جو کے استنبول ترکی سے لی گئ ہے ، زیارت کریں اور ہمارے لئے بھی دعا کریں .
پرانے وقتوں میں لوگوں کو بیوقوف بنا کر مال بٹورنے کے لیے ایک گروہ ہوا کرتا تھا اس گروہ سے وابستہ لوگ ٹھگ کہلاتے تھے، انہی ٹھگوں کا ایک واقعہ ہے کہ ....!
"ایک دیہاتی بکرا خرید کر اپنے گھر جا رہا تھا کہ چار ٹھگوں نے اسے دیکھ لیا اور ٹھگنے کا پروگرام بنایا۔ چاروں ٹھگ اس کے راستے پر کچھ فاصلے سے کھڑے ہو گئے۔ وہ دیہاتی کچھ آگے بڑھا تو پہلا ٹھگ اس سے آکر ملا اور بولا ’’بھائی یہ کتا کہاں لے کر جارہے ہو؟
‘‘دیہاتی نے اسے گھور کر دیکھا اور بولا ’’بیوقوف تجھے نظرنہیں آرہا کہ یہ بکرا ہے کتا نہیں‘‘۔   تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
طلعت حسین کا تجزیہ کافی حد تک درست ہے ۔۔۔ کوئی شک نہیں، اس وقت وہ تمام دانش وروں سے زیادہ بہتر سیاسی مغز رکھتے ہیں ۔۔۔۔آج کا کالم بھی سیاسی حوالے سے ان کی غیر معمولی بصیرت کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔۔۔۔
کالم: عمران خان اور پاکستانی اسٹیبلشمنٹ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

پاکستان مسلم لیگ نواز میں چند حلقوں کا خیال ہے کہ عمران خان کو پاکستان کی اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے شہہ دی جا رہی ہے۔ سیاسی حلقوں سے باہر بھی یہ تصور مضبوط ہے کہ عمران خان کی جماعت راولپنڈی کی ایجاد ہے۔ اس الزام کے ساتھ مستقبل میں ممکنہ سیاسی نظام کی شکل سے متعلق پیش گوئی بھی جڑی ہوئی ہے۔ کہا جا رہا ہے کہ دھرنوں، گھیرائو اور نہ ختم ہونے والے سیاسی پتھرائو کے ذریعے نواز شریف کی حکومت کو اتنا زخمی کر دیا جائے گا کہ وہ چلنے کے قابل نہ رہے۔ اس کے بعد نئے انتخابات کے پلیٹ فارم کو استعمال کرتے ہوئے مقتدر قوتیں میاں محمد نواز شریف کی جگہ عمران خان کو لے آئیں گی۔           تفصیل سے پڑھئے
1- ﺻﺤﻒ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢ ﮐﺎ ﻧﺰﻭﻝ...
ﻣﺴﻨﺪ ﺍﺣﻤﺪ ﻣﯿﮟ ﺣﻀﺮﺕ ﻭﺍﺛﻠﮧ ﺑﻦﺍﻻﺳﻘﻊ ﺳﮯ ﺭﻭﺍﯾﺖ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﯽﭘﮩﻠﯽ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽٰ ﮐﮯ ﺟﻠﯿﻞﺍﻟﻘﺪﺭ ﭘﯿﻐﻤﺒﺮ ﺧﻠﯿﻞ ﺍﻟﻠﮧ ﺣﻀﺮﺕ ﺍﺑﺮﺍﮨﯿﻢﻋﻠﯿﮧ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﮐﮯ ﺻﺤﯿﻔﮯ ﻧﺎﺯﻝ ﮨﻮﺋﮯ۔
2-ﺭﻣﻀﺎﻥ ﮐﮯ ﺭﻭﺯﻭﮞ ﮐﯽ ﺍﺑﺘﺪﺍ..
.ﺍﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺍﮨﻢ ﺭﮐﻦ ﺭﻭﺯﮦ ﮨﮯ۔ ﯾﮑﻢﺭﻣﻀﺎﻥ2ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﻣﺴﻠﻤﺎﻧﻮﮞ ﻧﮯﺷﺮﯾﻌﺖ ﻣﺤﻤﺪﯼ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﭘﮩﻼ ﺭﻭﺯﮦﺭﮐﮭﺎ۔
3- ﻣﺼﺮ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻓﺘﻮﺣﺎﺕ ﮐﺎ ﺩﺧﻮﻝ..
ﯾﮑﻢ ﺭﻣﻀﺎﻥ ﺳﻦ 20ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺣﻀﺮﺕﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺧﻼﻓﺖ ﻣﯿﮟﺟﻠﯿﻞ ﺍﻟﻘﺪﺭ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮﻭ ﺑﻦﺍﻟﻌﺎﺹ ﻣﺼﺮ ﻣﯿﮟ ﻓﺎﺗﺢ ﮐﯽ ﺣﯿﺜﯿﺖ ﺳﮯﺩﺍﺧﻞ ﮨﻮﺋﮯ ﺍﻭ ﺭﻣﺼﺮ ﺍﺳﻼﻣﯽ ﻣﻤﻠﮑﺖ ﮐﺎﺣﺼﮧ ﺑﻦ ﮔﯿﺎ۔
4- ﺑﻮ ﻋﻠﯽ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﺎ ﺍﻧﺘﻘﺎﻝ...
ﯾﮑﻢ ﺭﻣﻀﺎﻥ 428 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ”ﺷﯿﺦﺍﻟﺮﺋﯿﺲ “ ﮐﮯ ﻧﺎﻡ ﺳﮯ ﻣﻌﺮﻭﻑ ﺍﮨﻢ ﺍﯾﺮﺍﻧﯽﻧﺠﻮﻣﯽ , ﻓﻠﺴﻔﯽ , ﺭﯾﺎﺿﯽ ﺩﺍﻥ ﺍﻭﺭﻃﺒﯿﺐ ﺑﻮﻋﻠﯽ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﺎ 58 ﺑﺮﺱ ﮐﯽ ﻋﻤﺮﻣﯿﮟ ﺍﯾﺮﺍﻥ ﮐﮯ ﻣﻐﺮﺑﯽ ﺷﮩﺮ ﮨﻤﺪﺍﻥ ﻣﯿﮟﺍﻧﺘﻘﺎﻝ ﮨﻮﺍ۔ﺍﺑﻦ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﺻﺮ ﺩﺍﻧﺶﻭﺭﻭﮞ ﮐﮯ ﻧﻈﺮﯾﺎﺕ ﭘﺮ ﺍﻥ ﮐﮯ ﺍﻓﮑﺎﺭ ﮐﺎﮔﮩﺮﺍ ﺍﺛﺮ ﮨﻮﺍ, ﺟﺲ ﮐﺎ ﺳﻠﺴﻠﮧ ﺻﺪﯾﻮﮞﺗﮏ ﺟﺎﺭﯼ ﺭﮨﺎ۔ﺍﺑﻦ ﺳﯿﻨﺎ ﮐﯽ ﻣﺘﻌﺪﺩ ﺍﻭﺭﺑﯿﺶ ﺑﮩﺎ ﮐﺘﺐ ﻣﯿﮟ ” ﺷﻔﺎ “ , ” ﻗﺎﻧﻮﻥ “ﺍﻭﺭ ” ﺩﺍﻧﺶ ﻧﺎﻣﮧ ﻋﻼﺋﯽ “ ﺧﺎﺹ ﻃﻮﺭ ﺳﮯﻗﺎﺑﻞ ﺫﮐﺮ ﮨﯿﮟ۔
5- ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﮐﯽ ﭘﯿﺪﺍﯾﺶ...
ﯾﮑﻢ ﺭﻣﻀﺎﻥ 732 ﮨﺠﺮﯼ ﮐﻮ ﺗﯿﻮﻧﺲ ﮐﮯﻣﻌﺮﻭﻑ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﺩﺍﻥ , ﻣﻮﺭﺥ ﺍﻭﺭ ﻣﺎﮨﺮﺳﻤﺎﺟﯿﺎﺕ ”ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ “ ﭘﯿﺪﺍ ﮨﻮﺋﮯ۔ﺍﺑﻦﺧﻠﺪﻭﻥ ﮐﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﻮ ﺗﯿﻦ ﺣﺼّﻮﮞ ﻣﯿﮟﺗﻘﺴﯿﻢ ﮐﯿﺎ ﺟﺎﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﭘﮩﻼ ﺣﺼّﮧ ﺍﻧﮩﻮﮞﻧﮯ ﻣﺨﺘﻠﻒ ﻋﻠﻮﻡ ﮐﯽ ﺗﺤﺼﯿﻞ ﻣﯿﮟﮔﺰﺍﺭﺍ۔ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺣﺼﮯ ﻣﯿﮟ ﺳﯿﺎﺳﺖ ﻣﯿﮟﺑﮭﺮ ﭘﻮﺭ ﺣﺼّﮧ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﺩﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻭﮦﻣﻠﮏ ﮐﮯ ﺑﮩﺖ ﺳﮯ ﺳﺮﮐﺎﺭﯼ ﻋﮩﺪﻭﮞ ﭘﺮﻓﺎﺋﺰ ﺭﮨﮯ۔ ﭘﮭﺮ ﻭﮦ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺁﮨﺴﺘﮧ ﺳﯿﺎﺳﺖﺳﮯ ﺍﻟﮓ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﺱ ﻭ ﺗﺪﺭﯾﺲﺍﺧﺘﯿﺎﺭ ﮐﺮ ﻟﯽ۔ ﯾﮧ ﺯﻣﺎﻧﮧ ﺍﺑﻦ ﺧﻠﺪﻭﻥ ﮐﯽﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﮯ ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺣﺼّﮯ ﮐﺎ ﺁﻏﺎﺯ ﺗﮭﺎ,ﺍﺑﻦﺧﻠﺪﻭﻥ ﮐﯽ ﮐﺘﺎﺏ ﻣﻘﺪﻣﮧ ﮐﻮ ﻓﻦ ﺗﺎﺭﯾﺦﮐﯽ ﭘﮩﻠﯽ ﺑﺎﻗﺎﻋﺪﮦ ﻋﻠﻤﯽ ﺗﺼﻨﯿﻒ ﻗﺮﺍﺭﺩﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺳﯽ ﻭﺟﮧ ﺳﮯ ﺍﺳﮯﻓﻠﺴﻔﮧ ﺗﺎﺭﯾﺦ ﮐﺎ ﺑﺎﻧﯽ ﺳﻤﺠﮭﺎ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔..
دکانداروں کی لمبی لمبی داڑھیاں ، ہاتھ میں عربی سٹائل کی تسبیح ، سر پر ٹوپی ، چہروں پر ناپاک مسکراہٹ اور دوگنا منافہ کمانے کے بھیانک خیالات ، سٹوروں میں پچھلے سال سے سستی قیمت پر اکھٹا کیا ہوا سامان پر اس سال دوگنی قیمت پر بیچنے کی بھر پور تیاری -
آگیا رمضان __________
بڑے بڑے عزت داروں کے گھروں میں Get Together کے نام سے بڑی بڑی مخلوط نمائشی افطار پارٹیاں ، روزے سے زیادہ سیاسی و مالی ڈسکشنز ، خواتین کا میک اپ اور کپڑوں کے ساتھ بھر پور انصاف -
آ گیا رمضان _______
ٹی وی چینلز پر ریٹنگ کی دوڑ ، اشتہاروں اور ایڈز کی بھرمار ، فلمی سٹالی میں چاند رات تک آدھے سروں پر دوپٹے لیے مخلوط محفلوں میں نعت خوانی اور چاند رات پر ڈانس پارٹیاں ، مجرے -
آ گیا رمضان ___________
پیٹرول و سی این جی سٹیشنز پر لائن میں لگنے پر لڑائی ، پبلک ٹرانسپورٹ میں سیٹ نہ ملنے پر لڑائی ، گھروں میں سالن میں نمک تیز ہونے پر لڑائی -
مسلمانوں کے لیے ویسے تو یہ مہینہ رحمتوں ، برکتوں اور گناہوں سے معافی کا ہے لیکن ہمارے ہاں ہم نے خود اس کو اپنے لیے زحمت اور عذاب بنا لیا ہے - اعتدال "جو اسلام کی بنیاد ہے" کو پاؤں تلے ایسے روندا جاتا کہ شائد یہ موقعہ دوبارہ نہیں ملے گا جو ہو سکتا ہے کر لو __ زیادہ کھاؤ ، زیادہ سو ، کام مت کرو ، قیمتیں بڑھاؤ ، دوسروں کو بار بار جتاؤ کہ ہم روزے سے ہیں ، اخلاقیات کی دھجیاں اڑا دو آخر روزے میں غصہ تو آتا ہی ہے _______
سب ٹھیک پر پلیز رمضان کو معاف کر دو ان کاموں کے لیے باقی کے گیارہ مہینے کافی ہیں

قصص الا انبیاء
زمین پر آدم اور حوا کا پہلا قدم

اللہ کا حکم ھوا
قال اهبطوا، جنت سے اتر جاو۔
مزید فرمایا
بعضكم لبعض عدو ولكم في الأرض مستقر ومتاع إلى حين
کچھ تم میں آپس میں ایک دوسرے کے دشمن ھوگے اور تمھارے واسطے زمین میں رھنے کی جگہ ھے اور ایک وقت تک نفع حاصل کرنا ھے۔
اللہ نے مزید فرمایا قَالَ فِیھَا تَحْیَوْنَ وَفِیھَا تَمُوتُونَ وَمِنْھَا تُخْرَجُونَ تم وھی زندگی بسر کروگے اور وھی مروگے اور وھی سے دوبارہ نکالے جاوگے۔

آدم علیہ سلام زمین پر اترے اور اپنے رب سے معافی کے کلمات سیکھ لیے رَبَّنَا ظَلَمْنَا أَنْفُسَنَا وَإِنْ لَمْ تَغْفِرْ لَنَا وَتَرْحَمْنَا لَنَكُونَنَّ مِنَ الْخَاسِرِينَ ... اے ھمارے رب ھم نے اپنا نقصان کیا اور اگر آپ نے ھم پر معفرت اور رحمت نہ فرمای تو ھم حسارہ پانے والوں میں ھو جاینگے۔                        تفصیل سے پڑھئے
پن کھلا ، ٹائی کھُلی ، بکلس کھُلے ، کالر کھُلا
کھُلتے کھُلتے ڈیڑھ گھنٹے میں کہیں افسر کھُلا
آٹھ دس کی آنکھ پھوٹی آٹھ دس کا سر کھُلا
نو خطیب شہر کی تقریر کا جوہر کھُلا
سچ ہے مغرب اور مشرق ایک ہو سکتے نہیں
اس طرف بیوی کھُلی ہے اس طرف شوہر کھُلا
تیرگی قسمت میں آتی ہے تو جاتی ہی نہیں
میرے گھر کے بالمقابل کوئیلہ سنٹر کھُلا
کوئی ٹوکے روکے اُن کو یہ بھلا کس کی مجال
مولوی گل شیر ہے قصبے میں شیر نر کھُلا
اُن کا دروازہ تھا مُجھ سے بھی سوا مشتاق دید
میں نے باہر کھولنا چاہا تو وہ اندر کھُلا
آدمی احساس منصب کے مطابق قید ہے
دیکھ لو ڈپٹی کمشنر بند ہے ریڈر کھُلا
اگر مجھ پر بننے والے لطیفوں سے لوگوں کا دل بہل جاتا ہے تو میں غریب عوام سے ان کی یہ خوشی کیسے چھین سکتی ہوں۔ 
موضوع پڑھتے ہی آپ سوچ رہے ہوں گے کہ میرا نے ایسے کون سے کمالات کردیئے ہیں جن پر میں تاریخ لکھنے بیٹھ گیا؟ گھبرایئے مت ایسا ویسا کچھ نہیں ہے۔ میں تو بس میرا کی بھولی بھالی اور معصوم باتوں کی فہرست آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں جو میرا کے علاوہ کوئی بھی عقل و شعور سے تعلق رکھنے والا انسان نہیں بول سکتا۔ ہے نا کمال کی بات، توپھر توجہ فرمائیں۔          تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
آج میں بہت خوش ہوں‘ میری جیب میں پورے چھ سو روپے موجود ہیں جو میں نے مختلف دوستوں سے شرط لگا کے جیتے ہیں‘ مجھے لگا کہ میں تھوڑی سی کوشش اور کروں تو دو ہزار کی ’’دیہاڑی‘‘ آسانی سے لگا سکتا ہوں‘ یہ سوچتے ہی میں نے اپنے اُردو کے لیکچرار دوست فیصل کو فون کرکے آفس بلا لیا اور پرجوش آواز میں کہا’’اُردو لکھنا پڑھنا جانتے ہو؟‘‘وہ غصے سے مجھے گھورنے لگا‘ میں نے طنزیہ لہجے میں سوال دوبارہ دہرایا‘ وہ غرایا’’کیا یہی مذاق کرنے کے لیے بلایا ہے؟‘‘ میں نے قہقہہ لگایا’’نہیں جانی! بس آج تمہاری اردو کا امتحان لینا ہے‘ بولو کتنے کی شرط لگاتے ہو؟‘‘فیصل نے دانت پیسے’’شرط لگانا حرام ہے‘‘۔ اب کی بار میں نے اسے گھورا’’اگر میں ثابت کردوں کہ شرط حرام نہیں تو ؟؟؟‘‘۔۔۔اس کی آنکھیں پھیل گئیں’’سوال ہی پیدا نہیں ہوتا‘ کرو ثابت‘‘۔ میں نے اطمینان سے کہا’’    تفصیل سے پڑھئے
ایک انگریز محقق کو تحقیقی مقالے کے لیے موضوع ملا کہ جلیبی میں شیرہ کیسے بھرا جاتا ہے جب کہ اس میں کوئی سوراخ نہیں ہوتا۔
مرتا کیا نہ کرتا، وہ پاکستان آیا اور پوچھتے پوچھتے پھجے حلوائی کی دکان تک جا پہنچا اور دستِ سوال دراز کیا۔
پھجے حلوائی نے اس کا سوال غور سے سنا اور پوری سمجھناکی سے سمجھا اور کہا:
لاٹ صاحب کیا آپ کو جلیبی بنانی آتی ہے؟
سوٹڈ بوٹد انگریز کا منہ کھلے کا کھلا رہ گیا۔ لیکن بمشکل منہ بند کرتے ہوئے اس نے نفی میں سر ہلا دیا۔
پھجے حلوائی نے انگریزوں کے نظامِ تعلیم پر ناقابلِ اشاعت الفاظ میں لمبا چوڑا تبصرہ کیا اور امریکہ و برطانیہ کے درجات خوب بلند فرمائے۔ اس کی تقریرِ اس جملے پر ختم ہوئی کہ سرکار منہ دھونا ہے تو پہلے منہ تو لاؤ۔
انگریز پہلی فلائٹ سے واپس چلا گیا۔
اپنی خفت مٹانے کے لیے انگریزوں نے جلیبی کے بارے میں لطیفے بنانے شروع کر دیے۔ مثلًا یہ کہ جلیبی مونث ہوتی ہے یا مذکر؟
جواب دیا گیا کہ مونث ہوتی ہے کیونکہ یہ کبھی سیدھی نہیں ہوسکتی لیکن ہوتی بہت میٹھی ہے۔

ایک حلوائی سے پوچھا گیا کہ کب سے جلیبیاں بنا رہے ہو؟
اس نے فخر سے بتایا کہ پچیس سال سے۔
کہا گیا ، بڑے شرم کی بات ہے کہ پچیس سالہ تجربے کے باوجود تم سیدھی جلیبی نہیں بنا سکتے۔
انگریز جیسا کام چور اور احمق ڈھونڈے سے نہیں ملتا۔ یہ باتیں بڑی بڑی کرتے ہیں لیکن کام کرنے کا کہو تو ادھر ادھر کی باتیں کرنے لگتے ہیں۔ جو کام انھیں نہیں آتا یہ اسے سیکھنے کی کوشش بھی نہیں کرتے۔ آپ ساری دنیا گھوم جائیے، آپ کو ایک بھی انگریز جلیبی بناتا ہوا نہیں ملے گا۔ یہ مریخ پر ضرور جاسکتے ہیں لیکن جلیبی جیسا شاہکار تخلیق کرنے کی صلاحیت ان میں کہاں۔
تم اہلِ وطن کی کن کن خوبیوں کا انکار کرو گے؟
مشہور زمانہ فزکس کے ماہر جناب نیوٹن کُچھ قوانین کہنا بھول گئے جو ہم آپ تک پہنچائے دیتے ہیں۔
1_قطار کا قانون:
کسی جگہ ایک سے زیادہ انتظاری قطاریں ہونے کی صورت میں آپ ایک قطار چھوڑ کر دوسری میں جا کر کھڑے ہوں تو پہلے والی قطار تیزی سے چلنا شروع ہوجاتی ہے۔
2۔ مکینکی قانون :
کوئی مشین مرمت کرتے ہوئے جب آپکے ہاتھ تیل یا گریس سے بھر جائیں تو آپکی ناک پر کھجلی ہونا شروع ہوجاتی ہے
3۔ ٹیلیفون کا قانون :
جب کبھی بھی رانگ نمبر ڈائل ملتا ہے تو کبھی مصروف نہیں ملتا ۔
4۔ کچن کا قانون :
اگر آپ نے ایک سے زیادہ برتن*ہاتھ میں اٹھا رکھے ہیں تو ہمیشہ قیمتی اور نازک برتن زمین پر پہلے گرے گا
5۔ دفتری قانون :
اگر آپ دفتر دیر سے پہنچنے پر اپنے باس کو " ٹائر پنکچر " ہوجانے کا بہانہ بنا کر مطمئن کریں تو اگلے دو سے تین دن کے اندر لازمی ٹائر پنکچر ہوتا ہے
6۔ باتھ روم کا قانون :
جب آپ نہانے کے دوران صابن لگا چکے ہوں تو بیٹھک میں ٹیلیفون بجنا شروع ہوجاتا ہے
7۔ خفیہ ملاقاتی قانون :
جب آپ کسی خفیہ ملاقات میں ہیں تو کہیں نہ کہیں، کوئی نہ کوئی جاننے والا ضرور آپکو دیکھ لیتا ہے۔
8۔ سینما قانون :
راہداری سے دور نشستوں کی بکنگ والے افراد ہمیشہ دیر سے ہال میں پہنچتے ہیں اور پھر راہداری سے قریب بیٹھے افراد کی ٹانگوں کو مسلتے ہوئے اپنی نشست پر پہنچتے ہیں
9۔ کافی/چائے کا قانون :
دوران کام اگر آپکا دل گرم گرم چائے یا کافی کو چاہ رہا ہے اور گرم گرم کافی /چائے آپکی ٹیبل پرپڑی ہو تو آپکا باس عین اسی وقت آپکو بلائے گا یا ٹیلفون کرے گا تاوقتیکہ کافی / چائے ٹھنڈی ہوجائے۔
10۔ امتحانی قانون :
دیانتداری اور محنت سے حل کیے گئے سوال کے نمبر ہمیشہ نقل شدہ جواب سے کم آتے ہیں...
کوئ شک !!!
بوائے فرینڈز بڑے اعلیٰ قسم کے لوگ ہوتے ہیں یہ جس لڑکی سے سچے پیار کی قسمیں کھاتے ہیں شام کو اسی کی تصویر موبائل پر دوستوں کو دکھا کر فخر سے کہتے ہیں " بچی چیک کر " انہوں نے ہر لڑکی کا نام گڑیا رکھا ہوتا ہے تاکہ کسی بھی قسم کی جذباتی کفیت میں کسی اور لڑکی کا نام منہ سے نہ نکل جائے ۔ ان بوائے فرینڈز کی اولین کوشش ہوتی ہے کہ کسی طرح گرل فرینڈ کی سہیلی کا موبائل نمبر لیا جائے اگر نمبر مل جائے تو چار دن بعد سہیلی کی سہیلی کا نمبر تلاش کرنے کی کوشش میں لگ جاتے ہیں ایسے بوائے فرینڈز گھر میں اپنی والدہ کو بےبے اور والد صاحب کو ابا کہتے ہیں لیکن لڑکی کے سامنے مام ڈیڈ سے کم پر بات نہیں کرتے یہ ہر روز گرل فرینڈ کو فون پر بتاتے ہیں کہ کوئی خوبصورت اور امیر لڑکی ہاتھ دھو کر انکے پیچھے پڑ گئی ہے-     تفصیل سے پڑھئے
قومی سیاسی منظر پر عجیب کھچڑی سی پکتی نظر آ رہی ہے۔ شیخ الاسلام کا انقلاب اٹھان لینے سے پہلے تھک ہار کر بیٹھ گیا ہے۔ مگر طاہر القادری صاحب کو چین آنے والا نہیں۔ کوئی نہ کوئی ہنگامہ کرتے رہیں گے۔ عمران خان نے پہلے اعلان کیا تھا کہ وہ 11 مئی کے انتخابی نتائج تسلیم کرتے ہیں لیکن دھاندلی کو نہیں۔ اب انہوں نے تمام کے تمام انتخابات کو فراڈ قرار دے دیا ہے۔ چار حلقوں میں انگوٹھوں کے نشانات کی تصدیق کے مطالبے سے جسے وہ پورا سال پورے زور شور کے ساتھ اٹھاتے رہے ہیں، تفصیل سے پڑھئے
شادی کے بعدکافی عرصہ میرا ٹھکانہ ایک فلیٹ میں رہا ‘ یہ فلیٹ مجھے میرے ایک دوست کی وساطت سے کرائے پر ملا تھا اورعرصہ دراز سے خالی تھا۔یہ ایک مختصر سی بلڈنگ تھی جس میں فرسٹ فلور پرصرف چار فلیٹس تھے اور چھت بالکل خالی تھی‘ گراؤنڈ فلور پر آٹھ دس دکانیں تھیں۔بلڈنگ کے ساتھ ہی ایک شادی ہال تھا جہاں آئے روز ڈھول بجتے۔سخت سردیوں میں پہلی دفعہ جب میں فلیٹ کا جائزہ لینے کے لیے اپنے دوست کے ہمراہ فلیٹ کے اندر داخل ہوا تو فلیٹ انتہائی ویرانی کا منظر پیش کر رہا تھا۔ میں نے اس کے سارے کمروں کا جائزہ لیا تو مجھے سب سے زیادہ خوشی بیڈ روم دیکھ کر ہوئی کیونکہ سامنے سڑک کے پار بہت بڑا پارک تھا- تفصیل سے پڑھئے
ٹیلی گراف برطانیہ کا معروف اور سنجیدہ اخبار ہے۔ اس نے پاکستان کے المشہور مولوی صاحب کو ’’کنٹینر کلیرک ‘‘ (کنٹینر کا پروہت) کا خطاب دیا ہے۔ ایسے بڑے ادارے جب خطاب دیتے ہیں تو ساتھ میں کوئی سند اور ’’ٹرافی‘‘ وغیرہ بھی دیتے ہیں۔ اخبار کی خبر سے نہ تو یہ پتہ چلتا ہے کہ سنداور ٹرافی دی جائے گی یا نہیں اور نہ ہی ایسا کوئی اشارہ ہے کہ تقریبِ عطائے خطاب و سند کب ہوگی۔ یہ اندازہ بھی نہیں کہ وصولئ خطاب و سند کے لئے مولوی صاحب لندن خود تشریف لے جائیں گے یا اپنے ’’پروٹوکول افسر‘‘ المعروف بہ پرویز الٰہی کو بھیج دیں گے۔ ممکن ہے تب تک پرویز الٰہی پروٹوکول افسر سے ترقی کرکے مولوی صاحب کے ٹوپی بردار (Capkeeper) بن چکے ہوں۔ ٹوپی بردار کی ضرورت مولوی صاحب کو پڑتی رہتی ہے۔ خاص طور سے ہوائی سفر کے دوران کیونکہ وہ ہر چھ گھنٹے بعد ایک مختلف قسم کے ماڈل کی ٹوپی پہنتے یا بدلتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے

اشوک اعظم دنیا کا پہلا شخص تھا جس نے پورے ہندوستان پر حکومت کی‘ اشوک کی سلطنت کابل‘ قندھار اور ہرات سے لے کر کشمیر اور نیپال‘ بنگال اور جنوب میں دریائے پینار تک پھیلی ہوئی تھی‘ سری نگر شہر اس نے آباد کیا تھا‘ یہ پورے ہندوستان میں امن قائم کرنے والا آخری فرمانروا بھی تھا‘ اشوک نے ہندوستان میں قتل‘ فسادات‘ چوریاں اور ڈاکے ختم کرا دیے۔        تفصیل سے پڑھئے

محبت کی شادی ہمیشہ سے ہی اس معاشرے میں جرم رہی ہے ، ایک بیٹی جب تک اپنے گھر میں غلام رہتی ہے تب تک تو سب کی آنکھ کا تارا ہوتی ہے لیکن جیسے ہی وہ اپنی زندگی کا کوئی ہمسفر چن لے تو کینسر بن جاتی ہے ، یہ کیسا معاشرہ ہے جہاں لڑکا تو بھاگ کر شادی بھی کرلے،جب چاہے جسم کی تسکین بھی کرلے تو ٹھیک ہے لیکن ایک لڑکی جب اپنا ہمسفر پسند کرتی ہے تو اس کا جینا حرام کردیا جاتا ہے-          تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
"دیکھو میں بڑی تکلیف میں ہوں۔ "
۔ یہ فقیروں کی بستی تھی۔ دور دور تک جھونپڑیاں ہی جھونپڑیاں، انہی میں ایک جھونپڑی کمالے کی تھی جس میں کمالے کے علاوہ چار اور زندگیاں بھی سانس لیتی تھیں،اسکی بیوی رجو اور انکے تین بچے، زندگی جینے اور زندگی گزارنے میں بڑا فرق ہوتا ہے سو وہ گزار رہے تھے، ۔ انکا واحد ذریعہ روزگار بھیک تھی، کمالے کو ایک ہی ہنر آتا تھا اور وہ تھا بھیک مانگنا۔ کوئی اور ہنر سیکھنے کا اسے کبھی خیال ہی نہیں آیا۔ وہ اور رجو سارا دن بھیک مانگتے اور تینوں بچے صبح سے شام انکا انتظار کرتے، کمالے نے کئی بار رجو کو کہا بھی کہ انہیں بھی اب ہنر سیکھنا چاہیے پر رجو ہر بار آڑے آجاتی۔ نہ نہ کمالے یہ ابھی چھوٹے ہیں . حالانکہ ارد گرد کی جھونپڑیوں سے انکی عمر کے بچے اب پچاس ساٹھ روپے کی دیہاڑی لگا رہے تھے۔۔۔۔ باقی بچوں کی نگاہ میں یہ بچے انتہائی کاہل اور بیکار تھے جو سارا دن جھونپڑی کے اندر یا جھونپڑیوں کے درمیان، کھیلتے رہتے ۔۔۔                  تفصیل سے پڑھئے

اس کے پیچھے عکرمہ کے دو سوار اکھٹے چلے آ رہے تھے۔ خندق کے کنارے پر آکے دونوں سواروں نے اپنے گھوڑوں کی پیٹھیں خالی کر دی تھیں اور ان کی گردنوں پر جھکے ہوئے تھے۔ دونوں گھوڑے خندق پھلانگ آئے۔اہلِ قریش کے لشکر نے داد وتحسین کے نعرے لگائے۔ اس شور سے مسلمان پہرے دار دوڑے آئے،اتنے میں عکرمہ کے دو اور گھوڑے اپنے سواروں کو اٹھائے خندق کے کنارے سے ہوا میں اٹھے۔ ان کے پیچھے سات میں سے باقی سواروں نے بھی اپنے گھوڑوں کو ایڑھ لگا دی۔ تمام گھوڑے خندق پھلانگ آئے۔’’ٹھہر جاؤ !‘‘عکرمہ نے مسلمان سنتریوں کو بلند آواز میں کہا۔’’ کوئی اور گھوڑا خندق کے اس طرف نہیں آئے گا۔محمد (ﷺ)کو بلاؤ۔ تم میں جو سب سے زیادہ بہادر ہے اسے لاؤ۔ وہ میرے ایک آدمی کا مقابلہ کرکے گرا لے تو ہم سب کو قتل کر دینا۔خدا کی قسم! ہم تمہارا خون اس ریت پر چھڑک کر واپس چلے جائیں گے۔‘‘ مسلمانوں کی اجتماع گاہ میں کھلبلی بپا ہو چکی تھی ۔ایک شور تھا ’’قریش اور غطفان نے خندق عبور کر لی ہے۔مسلمانوں تمہارے امتحان کا وقت آ گیا ہے ۔ تفصیل سے پڑھئے
جب سیّدنا ابراہیم علیہ السلام آگ سے سلامتی کے ساتھ باہر نکل آئے تو آپ نے ایک مرتبہ پھر ان لوگوں کودعوت دی
مگر یہ قوم ہٹ دھرم ہی رہی اور ایمان نہ لائی ۔بلکہ نمرود نے کہا کہ اے ابراہیم! میں تمہیں بھی قتل کروں گا اور تمہارے خدا کو بھی جاؤ اپنے خدا سے کہو کہ وہ اپنی فوج لے کر آئے اور میں اپنی فوج لیکر آتاہوں ابھی معلوم ہوجائے گا کہ سب سے بڑااخداکون ہے؟             تفصیل سے پڑھئے

بسا اوقات انسان خدا سے وہ مانگ لیتا ہے جو اُس کے لئے نہیں ہوتا۔کسی اور کیلئے مخصوص ہوتا ہے۔
ایک چیز یا شخص دنیا میں صرف ایک ہی ہے۔اور وہ دنیا میں کسی ایک ہی شخص کو مل سکتا ہے۔
ایسے میں اُس چیز یا شخص کے زائد اُمیدواروں کو اکیلا نہیں چھوڑا جاتا کہ وہ اللہ کی رحمت سے نا اُمید ہو رہیں۔اور اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال لیں
۔ایسے لوگوں کو اُس مقام پر لا کر کھڑا کر دیا جاتا ہے کہ اُنہیں اپنی دعا قبول ہوتی ہوئی نظر آ رہی ہوتی ہے۔۔پر پھر اُن کی طلب سلب کر لی جاتی ہے۔۔                     تفصیل سے پڑھئے

زنا عام کرنے کا ایک سبب ___ ان سے پوچھو ..... !
جانتے ہو سانپ کے کتنے بچے ہوتے ہیں ... ؟
مچھلیوں کے بچےکس قدر افراط سے ہوتے ہیں ..؟
اگر الله افزائش کو کنٹرول نہ کرے تو سانپوں سے زمین بھر جائے ...... اور مچھلیوں سے دریا اور سمندر ......
اگر زیادہ بچے نقصان ہوتے تو رب سانپوں اور مچھلیوں کی طرح ان کی افزائش ضرور روکتا .....
تم کو رزق کی فکر ہے جو وہیل مچھلی کو کئی من خوراک دے سکتا ہے ' بچے کو دو وقت کی روٹی نہی دے سکتا ...؟
سنو اور غور سے سنو !
منصوبہ بندی سے افزائش انسانی رک جائے تو رک جائے ___ مگر زنا بڑھے گا .
جو زیادہ بچوں سے زیادہ خطرناک ہے .
بازؤوں ' ٹانگوں ' انگلیوں کے بالوں کی رفتار سر کے بالوں کی رفتار سے کیوں کم ہے ..؟
ہر چیز کی افزائش اور کنٹرول کو الله نے مقرر کیا ہے ...... اس کے کاموں میں دخل اندازی کرو گے ' تو وہ تم پہ چھوڑ دے گا ..... اور تم نقصان اٹھاؤ گے .

ولا تقتلوا أولادكم من خشية إملاق
حضرت ادریس علیہ السلام اللہ سبحانہ وتعالیٰ کے نبی ہیں ان کیلئے قرآن مجید میں اللہ سبحانہ وتعالیٰ ارشاد فرماتاہے:۔

وَاذْکُرْ فِی الْکِتٰبِ اِدْرِیۡسَ ۫ اِنَّہٗ کَانَ صِدِّیۡقًا نَّبِیًّا ٭ وَّرَفَعْنٰہُ مَکَانًا عَلِیًّا

اور کتاب میں ادریس کویاد کرو وہ صدیق تھا غیب کی خبریں دیتا اور ہم نے اسے بلند مقام کی طرف اٹھایا۔

حضرت ادریس علیہ السلام نے ایک دن ملک الموت جو ان کے دوست تھے کہاکہ میں موت کا مزہ چکھنا چاہتا ہوں کہ کیساہوتاہے؟                               تفصیل سے پڑھئے

اے مسلمانو! کیا تم سنتے ہو؟
مغرب کی درسگاہوں‘ تحقیقاتی اداروں اور علمی مرکزوں سے مسلسل ایک آواز ہم سے مخاطب ہے‘ مگر افسوس کوئی اس پر توجہ نہیں دیتا‘ کسی کا خون جوش نہیں مارتا اور کسی کی غیرت نہیں جاگتی‘ یہ آواز کہتی ہے:
”اے مسلمانو! اے ہمارے غلامو! سنو! تمہارے اقبال کے دن گزر گئے تمہارے علم کے کنویں سوکھ گئے اور تمہارے اقتدار کا سورج ڈوب گیا۔ اب تمہیں حکمرانی اور سلطانی سے کیا واسطہ‘ تمہارے بازو اب شل ہوگئے اور تمہاری تلواروں میں زنگ لگ چکا ہے‘ اب ہم تمہارے آقاہیں اور تم سب ہمارے غلام ہو۔ دیکھو! ہم نے سر سے پاؤں تک کیسا تمہیں اپنی غلامی کے سانچے میں ڈھالا ہے- تفصیل سے پڑھئے

ایک دفعہ ابو سفیان بن حرب اور صفوان بن امیہ دونوں مکہ مکرمہ کے نواح میں تھے کہ دیکھا کہ ایک بھیڑیے نے ہرنی کو پکڑنے کے لیے اس کا پیچھا کیا ہرنی بھی تیز دوڑ رہی تھی اور بھیڑیا بھی کہ اچانک ہرنی حدود حرم میں داخل ہو گہی جو نہی ہرنی حدود حرم میں داخل ہو ئی بھیڑیا واپس لوٹ گیا۔ ابو سفیان کہنے لگا کہ اﷲ تعالے نے ہمیں اور ہمارے اس حرم کو کتنا مقام دیا ہے کہ جانور بھی اس کا احترام کرتے ہیں اے صفوان کیا تو نے یہ منظر نہیں دیکھا کیسی عجیب بات ہے ؟ ۔ اس بھیڑیے نے کلام کیا اور کہنے لگا کہ اس بھی عجیب تر بات ہے وہ یہ کہ حضرت محمد ﷺ مدینہ میں قیام پذیر ہیں وہ تو تمہین جنت کی طرف بلاتے ہیں اور تم ان کو جہنم کی طرف بلاتے ہو ۔ تفصیل سے پڑھئے
~وہ ایک لڑکی - وہ کون ھے؟
اداس لوگوں کی بستیوں میں
وہ تتلیوں کو تلاش کرتی
وہ ایک لڑکی ___
وہ گول چہرہ ، وہ کالی آنکھیں
جو کرتی رہتی ہزار باتیں
مزاج سادہ ___ وہ دل کی اچھی
وہ ایک لڑکی ___                                          تفصیل سے پڑھئے

یکم جولائی ویسے تو دوسرے دنوں کی طرح ہی ایک دن ہے لیکن کچھ لوگوں کی زندگی میں بہت گہرے اثرات چھوڑ جاتا ہے. ایسا ہی کچھ اس کے ساتھ بھی ہوا. وہ صبح آفس جانے کے لیے اٹھا تو اس کے ابو نے حسب معمول نصیحت کی کہ باقی نمازوں کی طرح فجر کی نماز بھی پکی کر لو اور صبح آٹھ کے وقت سے پڑھ لیا کرو. دل میں پکی نیت کے ساتھ کہ آئندہ مس نہیں کروں گا اس نے آفس جانے کی تیاری شروع کر دی جو اکثر پانچ منٹ سے زیادہ نہیں ہوتی تھی. اس کی اماں جی نے اس کی بڑی بھابھی جی کو ناشتہ لانے کو کھا اور وہ اپنی اماں جان کے ساتھ ناشتہ کرنے کے لیے بیٹھ گیا. وہ آج بھی نخرے کرنا نہیں بھولا- تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
دلوں کے تارسے چھیڑ دینے والا وہ محاورہ سنا ہےآپ نے،،،، بچے اپنے اور دوسرے کی بیوی زیادہ اچھے لگتے ہیں۔۔۔! بات تو سچ ہے مگر بات ہے رسوائی کی،،،! تاہم یہ اودھم پرور محاورا گھر میں زبان پہ لانے کا نہیں،،، ورنہ دونوں ہی ہاتھ سے جائینگے۔۔۔ ِادھر آپ کے بچے نزدیک پھٹکنے نہیں دیئے جائینگے اور ُادھر آپ کسی کی بیوی کے قریب پھٹکنے کے قابل بھی نہیں رہنے دیئے جائیں گے۔۔۔ تاہم کئیوں کے مطابق "ایسا سوچنے میں کوئی مضائقہ نہیں ، کہ اسکے بنا زندگی میں کوئی ذائقہ نہیں"۔۔۔ لیکن ذرا سا بچ بچا کے -          تفصیل سے پڑھئے
ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺑﻦ ﺧﻄﺎﺏ ﮐﺎ ﻋﮩﺪِ ﺧﻼﻓﺖ ﮨﮯ۔ ﻋﻤﺮ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﺳﮯ ﺍﯾﮏ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺧﺮﯾﺪﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍِﺱ ﺷﺮﻁ ﭘﺮ ﮐﮧﭘﺴﻨﺪ ﺁ ﮔﯿﺎ ﺗﻮ ﺭﮐﮫ ﻟﯿﮟ ﮔﮯ، ﻭﺭﻧﮧ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮ ﺩﯾﮟ ﮔﮯ۔
ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺍﯾﮏ ﺳﻮﺍﺭ ﮐﻮﮮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺍﻭﺭ ﻭﮦ ﺳﻮﺍﺭﯼ ﻣﯿﮟ ﭼﻮﭦ ﮐﮭﺎ ﮐﺮ ﻟﻨﮕﮍﺍ ﮨﻮ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ ۔ﻋﻤﺮ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﻭﺍﭘﺲ ﮐﺮﻧﺎ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﻣﮕﺮ ﻣﺎﻟﮏ ﻟﯿﻨﮯ ﺳﮯ ﺍﻧﮑﺎﺭﮐﺮ ﺩﯾﺘﺎ ﮨﮯ۔ ﺩﻭﻧﻮﮞ ﺷﺮﯾﺢ ﺑﻦ ﺣﺎﺭﺙ ﮐﻮ ﺛﺎﻟﺚ ﻣﻘﺮﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ۔ﺷﺮﯾﺢ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ’’ ﺟﻮ ﮔﮭﻮﮌﺍ ﺧﺮﯾﺪﺍ ﮨﮯ، ﺍُﺳﮯﺭﮐﮭﻮ ﯾﺎ ﺟﺲ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻟﯿﺎ ﺗﮭﺎ، ﺍِﺳﯽ ﺣﺎﻟﺖ ﻣﯿﮟ ﻭﺍﭘﺲﮐﺮﻭ۔ ‘‘ ﻋﻤﺮ ﻓﯿﺼﻠﮧ ﮨﯽ ﺗﺴﻠﯿﻢ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﺮﺗﮯ ﺑﻠﮑﮧ ﺷﺮﯾﺢ ﮐﻮ ﮐﻮﻓﮧ ﮐﺎ ﺟﺞ بھی ﻤﻘﺮﺭ ﮐﺮ ﺩﯾﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﮧ ﺍﯾﺴﺎ ﺩﻗﯿﻘﮧ ﺭﺱ،ﺫﮐﯽ، ﻃﺒﺎﻉ، ﺣﺪﯾﺚ ﻭ ﻓﻘﮧ ﮐﺎ ﻣﺎﮨﺮ ﺍﻭﺭ ﺑﮯ ﺧﻮﻑ ﺍﻧﺴﺎﻥﺷﺨﺺ ﺍﯾﺴﮯ ﮨﯽ ﺑﻠﻨﺪ ﭘﺎﯾﮧ ﻣﻨﺼﺐ ﮐﺎ ﺍﮨﻞ ﮨﻮ ﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ۔      تفصیل سے پڑھئے


1- ( ﻓﺮﺍﻧﺲ ﮐﮯ ﻋﻈﯿﻢ ﺟﺮﻧﯿﻞ ﻧﭙﻮﻟﯿﻦ ﺑﻮﻧﺎﭘﺎﺭﭦ )
  حضرتﻣﺤﻤﺪﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﺩﺭﺍﺻﻞ ﺳﺎﻻﺭِ ﺍﻋﻈﻢ ﺗﮭﮯ۔ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﮨﻞِ ﻋﺮﺏ ﮐﻮ ﺩﺭﺱِ ﺍﺗﺤﺎﺩ ﺩﯾﺎ۔ ﺍﻥ ﮐﮯﺁﭘﺲ ﮐﮯ ﺗﻨﺎﺯﻋﺎﺕ ﻭﻣﻨﺎﻗﺸﺎﺕ ﺧﺘﻢ ﮐﯿﮯ۔ ﺗﮭﻮﮌ ﯼ ﮨﯽﻣﺪﺕ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﯽ ﺍﻣﺖ ﻧﮯ ﻧﺼﻒ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﻮ ﻓﺘﺢ ﮐﺮﻟﯿﺎ۔ 15ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻗﻠﯿﻞ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﯽ ﮐﺜﯿﺮﺗﻌﺪﺍﺩ ﻧﮯ ﺟﮭﻮﭨﮯ ﺩﯾﻮﺗﺎﻭﮞ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﮐﺮﻟﯽ۔ ﻣﭩﯽ ﮐﯽ ﺑﻨﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﺩﯾﻮﯾﺎﮞ ﻣﭩﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﻼﺩﯼﮔﺌﯿﮟ ، ﺑﺖ ﺧﺎﻧﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮐﮭﯽ ﮨﻮﺋﯽ ﻣﻮﺭﺗﯿﻮﮞ ﮐﻮﺗﻮﮌ ﺩﯾﺎ ﮔﯿﺎ۔ ﺣﯿﺮﺕ ﺍﻧﮕﯿﺰ ﮐﺎﺭﻧﺎﻣﮧ ﺗﮭﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﻣﻌﻈﻢ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻤﮑﯽ ﺗﻌﻠﯿﻢ ﮐﺎ ﮐﮧ ﯾﮧ ﺳﺐ ﮐﭽﮫ
ﺻﺮﻑ ﭘﻨﺪﺭﮦ ﮨﯽ ﺳﺎﻝ ﮐﮯ ﻋﺮﺻﮯ ﻣﯿﮟ ﮨﻮ ﮔﯿﺎ۔ ﺟﺒﮑﮧﺣﻀﺮﺕ ﻣﻮﺳﯽٰ ﺍﻭﺭ ﻋﯿﺴﯽٰ ﻋﻠﯿﮩﻤﺎ ﺍﻟﺴﻼﻡ ﭘﻨﺪﺭﮦﺳﻮﺳﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﯽ ﺍﻣﺘﻮﮞ ﮐﻮ ﺻﺤﯿﺢ ﺭﺍﮦ ﭘﺮ ﻻﻧﮯﻣﯿﮟ ﮐﺎﻣﯿﺎﺏ ﻧﮧ ﮨﻮﺋﮯ ﺗﮭﮯ۔ ﺣﻀﺮﺕ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻋﻈﯿﻢ ﺍﻧﺴﺎﻥ ﺗﮭﮯ۔ ﺟﺐ ﺁﭖ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺍﮨﻞ ﻋﺮﺏ ﺻﺪﯾﻮﮞ ﺳﮯ ﺧﺎﻧﮧﺟﻨﮕﯽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﺗﮭﮯ۔ ﺩﻧﯿﺎ ﮐﮯ ﺍﺳﭩﯿﺞ ﭘﺮ ﺩﯾﮕﺮﻗﻮﻣﻮﮞ ﻧﮯ ﺟﻮ ﻋﻈﻤﺖ ﻭﺷﮩﺮﺕ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺍﺱ ﻗﻮﻡ ﻧﮯ ﺑﮭﯽ ﺍﺱ ﻃﺮﺡ ﺍﺑﺘﻼﺀﻭﻣﺼﺎﺋﺐ ﮐﮯ ﺩﻭﺭ ﺳﮯ ﮔﺰﺭﮐﺮ ﻋﻈﻤﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯽ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﯽ ﺭﻭﺡ ﺍﻭﺭﻧﻔﺲ ﮐﻮ ﺗﻤﺎﻡ ﺁﻻﺋﺸﻮﮞ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮐﺮ ﮐﮯ ﺗﻘﺪﺱﻭﭘﺎﮐﯿﺰﮔﯽ ﮐﺎ ﺟﻮﮨﺮ ﺣﺎﺻﻞ ﮐﯿﺎ۔    تفصیل سے پڑھئے


میں جسم و جاں کے تمام رشتوں سے چاہتا ہوں
نہیں سمجھتا کہ ایسا کیوں ہے
نہ خال و خد کا جمال اس میں، نہ زندگی کا کمال کوئی
جو کوئی اُس میں ہُنر بھی ہوگا
تو مجھ کو اس کی خبر نہیں ہے
نہ جانے پھر کیوں!                     تفصیل سے پڑھئے

اسلام آباد میں بھارتی ہائی کمیشن کے سامنے مرزا غالب دہلی جانے کے لئے ویزے کے سلسلے میں:
پولیس: تم کون ہو؟ رمضان کے مہینے میں چنے چبارہے ہو؟
غالب: افطارِ صوم کی جسے کچھ دستگاہ ہو
اس شخص کو ضرور ہے روزہ رکھا کرے
جس پاس روزہ کھول کے کھانے کو کچھ نہیں
روزہ اگر نہ کھائے تو ناچار کیا کرے
پولیس: شاعر ہو؟
غالب: ملنے جلنے والے یہی کہتے ہیں-             تفصیل سے پڑھئے

ﺷﺎﺩﯼ ﺍﯾﮏ ﻻﺯﻣﯽ ﭼﯿﺰ ﮨﮯ، ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﻮﻣﺤﻠﮯ ﻭﺍﻟﮯ ﺟﻮﺗﮯ ﮐﯽ ﻧﻮﮎ ﭘﺮ ﻟﮑﮭﺘﮯ ﮨﯿﮟ ‘ ﮐﺴﯽ ﺷﺎﺩﯼﺑﯿﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﻧﮩﯿﮟ ﺑﻼﯾﺎ ﺟﺎﺗﺎ ‘ﺁﭖ ﮔﻠﯽ ﻣﯿﮟ ﺗﮭﻮﮌﯼ ﺩﯾﺮ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺟﺎﺋﯿﮟ ﺗﻮ’’ ﺍُﻻﻣﮯ ‘‘ ﺁﻧﮯ ﺷﺮﻭﻉ ﮨﻮﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﺁﭖ ﮐﯽ ﮨﺮ ﺣﺮﮐﺖ ﭘﺮﻧﻈﺮ ﺭﮐﮭﯽ ﺟﺎﺗﯽ ﮨﮯ ‘ ﺍﮔﺮ ﺁﭖ ﺍﮐﯿﻠﮯ ﺭﮨﺘﮯ ﮨﯿﮟ ﺗﻮ ﮐﺒﮭﯽﮨﻤﺴﺎﯾﻮﮞ ﮐﮯ ﮔﮭﺮ ﺳﮯ ﻧﯿﺎﺯ ﮐﮯ ﺩﺍﻝ ﭼﺎﻭﻝ ﺁﭖ ﮐﯽ ﻃﺮﻑ
ﻧﮩﯿﮟ ﺁﺗﮯ۔۔۔ﺗﺎﮨﻢ ﺁﭖ ﺟﺘﻨﮯ ﻣﺮﺿﯽ ﺑﺮﮮ ﮨﻮﮞ، ﺟﻮﺍﻥ ﻟﮍﮐﯿﻮﮞ ﮐﯽ ﻣﺎﺋﯿﮟﺁﭖ ﭘﺮ ﺧﺼﻮﺻﯽ ﻧﻈﺮ ﮐﺮﻡ ﮐﺮﺗﯽ ﮨﯿﮟ۔ﺗﺤﻘﯿﻖ ﮐﮯ ﻣﻄﺎﺑﻖ ﺁﺩﮬﮯ ﺳﮯ ﺯﯾﺎﺩﮦ ﮐﻨﻮﺍﺭﮮ ﻟﮍﮐﮯ ﮐﺴﯽ ﻧﮧﮐﺴﯽ ’’ ﻣﺎﮞ ‘‘ ﮐﮯ ﺑﯿﭩﮯ ﺑﻨﮯ ﮨﻮﺗﮯ ﮨﯿﮟ، ﯾﮧ ﺍﭘﻨﯽ ﻣﺎﮞ ﺳﮯﺯﯾﺎﺩﮦ ﻏﯿﺮ ﻣﺎﮞ ﺳﮯ ﭘﯿﺎﺭ ﮐﺮﺗﮯ ﮨﯿﮟ ﮐﯿﻮﻧﮑﮧ ﻏﯿﺮ ﻣﺎﮞ ﮐﮯﮔﮭﺮ ﺍﯾﮏ ﻋﺪﺩ ﺩﻭﺷﯿﺰﮦ ﺑﮭﯽ ﻣﻮﺟﻮﺩ ﮨﻮﺗﯽ ﮨﮯ۔ تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
بہت سے لوگ قوت ِفیصلہ میں کمی کی وجہ سے تذبذب کا شکار رہتے ہیں۔اور بر وقت فیصلہ نہیں کر پاتے کہ انہیں کیا کرنا چاہئے۔ اس کی وجہ یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ دوسرے افراد کے مشوروں پر انحصار کرنا چاہتے ہیں۔دوسروں پر انحصار کرنے والے لوگوں کے ساتھ یہ مسئلہ اس وقت پیچیدہ ہو جاتا ہے جب انہیں خود کوئی فیصلہ کرنا پڑے۔
ہمارے ہاں نوجوانوں کی اکثریت اس مسئلہ کا شکار نظر آتی ہے۔خود انحصاری کا فقدان ان کے لئے بڑے مسائل کا سبب بنتا ہے۔بعض اوقات ، قوت ِفیصلہ کی کمی سے بے یقینی اور عدم تحفظ کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ تفصیل سے پڑھئے

ایک مرتبہ مدینہ میں قحط پڑ گیابہت سے لوگ مدینہ سے ہجرت کر کے دوسرے علاقے چلے گئےانہی لوگوں میں ایک عظیم خاندان تھاجو آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے تھا، یہ ایک بیوہ خاتون تھیں اور ان کے ساتھ ان کی 7 کنواری جوان بیٹیاں بھی ساتھ تھیںجب مدینہ کے منافقین نے ان کا مذاق اڑایا کہ آل رسول صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا خاندان بھوکا اور بے سروسامان ھےتوان بیوہ خاتون نے ہجرت کرنے میں ہی غنیمت جانی آپ اپنی بچیوں کے ساتھ بڑے تکلیف دہ مراحل سے گزر کرشام پہنچیں راستے کی تھکان اور بھوک پیاس کی تلکیف نے مزید چلنے سے روک دیا توآپ ایک درخت کے سائے میں اپنی بچیوں کو لے کر بیٹھ گیئں لوگوں نے جب پا پردہ و باوقار خواتین کو اسطرح بے یارو مددگار بیٹھے دیکھا تو ایک صاحب نے کہا کہ یہ سامنے والا گھر ایک مسلمان کا ھےآپ ان سے پناہ لے لیجئیےوہ خاتون اٹھیں اور گھر کے دروازے پر دستک دی- تفصیل سے پڑھئے

حضرت ابراہیم ادهم اپنی درویشی سے پہلے ایک بہت بڑی سلطنت کے حاکم تهے..لیکن امور حکومت کے دوران بهی اس تفکر میں رهتے تهے.کہ خدا سے ملاقات کا زریعہ تلاش کیا جائے..ایک شب وہ اپنے شاہی محل میں سپاہیوں کے پہرے میں محو خواب تهے کہ یکایک انکی آنکهہ کهل گئی..ان کو ایسا محسوس ہوا کہ انکی خواب گاہ کی چهت پر کوئی چل رہا ہے. .اور اسکے ساتھ ہی سرگوشیوں کی آواز بهی آئی. .حضرت ابراہیم ادهم اس سوچ میں پڑ گئے کہ آدهی رات کو اتنے سخت پہرے کے باوجود کس میں اتنی جرات هے کہ شاہی محل میں یوں چوری چهپے گهس جائے. .وہ اپنے تجسّس سے خود اٹهے اور چهت پر گئے_وہاں کا منظر کچھ یوں تھا کہ کچھ نورانی چہرے کے آدمیوں کی جماعت کھڑی تهی_بادشاہ نے پوچها ' تم لوگ کون ہو اور آدهی رات کو یہاں کیا کر رہے ہو '؟؟؟
انہوں نے عاجزی سے گردنیں جهکا کر کہا__"اے بادشاه! هم رات کے پہلے پہر سے اپنا گمشدہ مال تلاش کر رہے ہیں__لیکن اسکا کہیں پتا نہیں چل رہا ہے._" بادشاہ نے متجسس ہوکر پوچھا.."تمہاری کیا چیز کهو گئ ہے..جسے تم یہاں تلاش کر رہے ہو. .؟؟" وہ جماعت بولی "ہم اپنا اونٹ ڈهونڈ رہے ہیں"
بادشاہ سخت تعجب سے بولا "اونٹ.! بهلا کوئ عقل کی بات ہے کہ اونٹ شاہی محل کی بلند و بالا چهت پر کیسے چڑھ سکتا ہے.؟"
وہ جماعت برجستہ بولی "اگر ہمارا اونٹ اس چهت پر چڑهنے سے قاصر ہے..تو یہ بتا کہ تو کیسے اس شاہی تخت پر جلوہ گر ہو کر خدا کو ڈهونڈ سکتا ہے..؟"

دنیا کی تاریخ شاھد هے که صرف ان اقوام نے ترقی کی منازل طے کیں جنھوں نے تعلیم کو زیور بنایا.اور یه زیور نظر آتا هے جب که نظام تعلیم معیاری هو. جو نظام تعلیم معیاری نه هو تو ریسرچ کا ارتقایی عمل بھی حالت سکوت میں آجاتا هے.
مملکت پاکستان میں کراچی سے خیبر تک چار مختلف اقسام کے یکساں معیار تعلیم هیں.پنجاب کے نظام تعلیم و معیار تعلیم کے بارے میں جو ھماری خام خیالی تھی وه بھی اب رفو چکر هو چکی هے . کراچی هو یا لاڑکانه ، صادق آباد هو یا لاهور، کویٹه هو یا پشاور سب جگه کم و بیش ایک جیسا هی حال هے. تفصیل سے پڑھئے

اشفاق احمد صاجب ایک واقعہ بیان کرتے ھیں کہ ایک دفعہ لندن کے کسی پارک میں اپنی زوجہ محترمہ کے ساتھ تشریف فرما تھے کہ چند لوگ آئے سفید پگڑی باندھے ھوئے.. کوئی عصر کا وقت ھو رھا تھا تو انہوں نے اسی پارک میں جماعت کرائی اور عصر کی نماز پڑھی..
ایک برٹش لڑکی انہیں ٹکٹکی باندھے دیکھ رھی تھی.. جب ان لوگوں نے نماز ختم کی تو وہ لڑکی ان کے پاس گئی اور پوچھا.. "جناب آپ کو انگلش آتی ھے..?"
انہوں نے جواب دیا.. "جی ھاں آتی ھے.."
انگلش لڑکی نے پوچھا.. "آپ لوگ یہ کیا کر رھے تھے..?"
ان لوگون نے جواب دیا.. "ھم عبادت کر رھے تھے.."
انگلش لڑکی نے کہا.. "پر آج تو اتوار نہیں ھے..?"
ان لوگوں نے کہا.. "ھم مسلمان ھیں اور دن میں پانچ وقت اسی طرح عبادت کرتے ھیں.."
وہ لڑکی بڑی متاثر ھوئی.. اس نے مزید چند باتیں پوچھیں.. پھر اس نے ان کی طرف ھاتھ بڑھایا کہ چلیں آپ سے کافی اچھی ملاقات رھی.. تو ان کے جو امیر جواب دے رھے تھے' انہوں نے اسے جواب دیا..
"اس ھاتھ کو میرے ھاتھ چھو نہیں سکتے.. میرے ہاتھوں کو چھونے کی اجازت صرف میری زوجہ کے لئے ھی ھے.." یہ سن کر اس انگلش لڑکی نے زور کی چیخ ماری اور بھاگ پڑی..
اشفاق احمد صاحب بتانے ھیں کہ پھر میں نے اپنی زوجہ سے کہا.. "آج بہت بڑی تبلیغ ھو گئی.."
اس مغربی لڑکی کو اندازہ تھا کہ اس کی اوقات محض ایک ٹشو پیپر کی ھے.. آج کوئی استعمال کرلے اور کل کوئی اسے گرل فرینڈ بنا کر استعمال کرلے..
عورت کو عزت تو صرف اسلامی معاشرہ ھی دیتا ھے
باڈی بلڈنگ (جسمانی اعضاءیا پٹھوں کی مضبوطی اور کٹس بنانا) کرنا آج نوجوانوں کا محبوب مشغلہ بنتا جا رہا ہے۔ اس مقصد کے حصول کے لئے باڈی بلڈنگ کرنے والے بھاری بھرکم اور بہت زیادہ غذا کا استعمال کرتے ہیں، جو بعض اوقات ان کے لئے فائدہ کے بجائے نقصان کا باعث بھی بن جاتی ہے۔ پٹھوں کی مضبوطی اور قوت کے لئے بعض باڈی بلڈر اپنی پسندیدہ یا ذائقہ دار غذا کی قربانی بھی دے دیتے ہیں، لیکن یہاں ہم آپ کو عضلاتی مضبوطی اور خوبصورتی کے لئے ایسی غذاﺅں کے بارے میں بتائیں گے، جن کے استعمال سے آپ کو بہت زیادہ فائدہ ہو سکتا ہے اور آپ کو اپنی پسندیدہ غذا کے ذائقے کی قربانی بھی نہیں دینا پڑے گی۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

کس قدر سادہ لوح ہیں وہ لوگ جو یہ گمان کیے بیٹھے ہیں کہ اس مملکتِ خدا داد پاکستان کے حکمران، دانشور، اہلٍ سیاست، مذہبی رہنما اور میڈیا عالمی طاقتوں کے اس کھیل سے آزاد ہے جو مسلم امہ کے ساتھ کھیلا جا رہا ہے۔ حکمرانوں کی مجبوریاں ان کے اقتدار کی طوالت سے وابستہ ہیں، دانشوروں کا علم ان کی سوچ متعین کرتا ہے اور یہ علم مغربی تجزیہ نگاروں کی رپورٹوں، مقالوں اور کتابوں سے روشنی حاصل کرتا ہے۔ تفصیل سے پڑھیں
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 


1186ء میں ایک صلیبی سردار رینالڈ دیگر عیسائی جنگجو امرا کے ساتھ شہرِ نبوی، مدینہ منورہ پر ناپاک حملے کی غرض سے حجاز مقدس پر حملہ آور ہوا۔ تو نبیء آخر الزماں ﷺ کے سچے عاشق سلطان صلاح الدین ایوبی نے اس بدبخت کا فوری تعاقب کرتے ہوئے اسے حطین کے تاریخی مقام پر گھیر لیا۔ سلطان نے اس لشکر پر ایک ایسا آتش گیر مادہ پھینکوایا کہ میدان جنگ کی زمین پر چاروں طرف بھیانک آگ بھڑک اٹھی۔ اس خوفناک آتشیں ماحول اور بھڑکتے ہوئے شعلوں کے درمیان حطین کے مقام پر تاریخ کی اس خوف ناک ترین جنگ کا آغاز ہوا جس کے عبرتناک انجام کو یاد کر کے آج بھی صلیبی حکمرانوں کے کانوں سے تپتا ہوا دھواں برامد ہوتا ہے۔ اس تاریخی جنگ کے نتیجہ میں تیس ہزار سے زیادہ عیسائی حملہ آور جہنم واصل ہوئے۔ بدبخت ریجنالڈ کو زندہ گرفتار کیا گیا اور پھر ایوبی سلطان نے شہر محمد ﷺ پر حملے کی ناپاک جسارت کرنے والے اس گستاخ صلیبی سالار کا سر اپنے ہاتھ سے قلم کیا کہ اس بدبخت نے سرور کونین ﷺ کی مقدس نگری پر حملے کی ناپاک جسارت کی تھی۔ ایوبی نے اس کے سر کو تلوار کے ایک ہی وار سے تن سے جدا کیا تو ہر طرف در و دیوار نعرہء تکبیر اور درود و سلام کی والہانہ صداؤں سے گونج کر یہ اعلان کر رہے تھے کہ جو ملعون بھی سرور کونین، جان ِ دوعالم، مسیحائے جن و بشر، تاجدار ختم نبوت ﷺ کے در و چوکھٹ کی طرف میلی آنکھ سے دیکھے گا اسے نشانِ عبرت بنا کر اس کا نام و نشان تک خاک میں ملا دیا جائے گا۔ اس شاندار فتح کے فوری بعد صلاح الدین نے بیت المقدس کی طرف رخ کیا۔ سات دن کی خونریز جنگ کے بعد عیسائیوں نے ہتھیار ڈال دئے اور یوں پورے اکانوے برس کے بعد قبلہ اول بیت المقدس دوبارہ مسلمانوں کے قبضہ میں آ گیا ۔۔۔۔۔۔ یہ تھا آقائے نامدار، نبیء برحق سے محبت اور عشق کا خدائی صلہ ۔۔۔۔۔۔ جس مجاہد ِ ملت نے اپنے نبی ﷺ کی حرمت و توقیر اور سرزمینِ مقدس کی حفاظت کیلئے سر پر کفن باندھ کر عدوئے محمدی کو للکارا، اللہ کریم نے اس کے سر پر فتح بیت المقدس کا سنہرا تاج رکھ کر تاریخ میں ہمیشہ کیلئے امر کر دیا
جب اللہ نے آدم علیہ سلام میں روح پھونکی اور آدم علیہ سلام اٹھے کھڑے ھوے تو اللہ نے آدم علیہ سلام کو کہا کہ جاو فرشتوں کی جماعت کو اسلام علیکم کہوں۔ آدم گیے اور سلام کہا فرشتوں نے وعلیکم اسلام ورحمۃ اللہ و برکۃ کہا۔۔۔ اللہ نے فرمایا کہ یہ تیرا اور تیری اولاد کا ایک دوسرے کے لیے تحفہ ھے۔۔اللہ نے آدم علیہ سلام کو فرشتوں سے بھی بڑا عالم بنایا۔۔
اللہ نے ابتدء ھی میں تمام چیزوں کے نام آدم علیہ سلام کو سکھانے کا کورس شروع کیا جس میں انکو تمام نام سکھایے گیے۔ اس سلسلے کا مضبوط موقف سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالہ کا ھے۔آدم علیہ سلام زمین اور آسمان کی ھر چیز کا نام جانتے تھے، یہ علم کیسا تھا۔ انسان نے کیسے یہ علم جان لیا۔ یقینا اللہ انسان میں یہ طاقت پیدا کر سکتا ھے کہ وہ ھر علم کا احاطہ کر سکے۔۔ تفصیل سے پڑھئے
جب آپ اپنے کمرے میں ہوں تو اپ اس کی چھت کو ناپ کر معلوم کر سکتے ہیں کہ اس کی چوڑائ کتنی ہے اور لمبائ .. مگر جب آپ کھلے آسمان کے نیچے ہوتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ آسمان کی چھت کی لمبائ اور چوڑائ ناپنے کے لیے آپ کے تمام پیمانے ناکافی ہیں...
یہی حال خدا کی پوری کائنات کا ہے...ایک بیج جس طرح بڑھ کر درخت کی ایک دنیا بناتا ہے اس کو کون بیان کر سکتا ہے..
سورج کی روشنی , ہواؤں کا نظام , چڑیوں کے نغمے , پانی کے بہتے ہوئے چشمے اور اس طرح کی بےشمار چیزیں جنہیں ہم کھلی آنکھوں سے دیکھتے ہیں ..ان کو لفظوں میں بیان کرنا ممکن نہیں. تفصیل سے پڑھئے

حضرت علی رضی اللہ تعالہ عنہ(599 – 661) رجب کی تیرہ تاریخ کو شہر مکہ میں خانہ کعبہ میں پیدا ہوۓ ۔ آپ کے والد کا نام ابوطالب علیہ السّلام اور والدہ کا نام فاطمہ بنت اسد السلام اللہ علیہا ہے۔ آپ کی پیدائش خانہ کعبہ کے اندر 13 رجب بروز جمعہ 30 عام الفیل کو ہوئی۔ حضرت علی علیہ السلام پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے چچا زاد بھائی ہیں بچپن میں پیغمبرصلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کے گھر آئے اور وہیں پرورش پائی ۔ پیغمبر صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی زیر نگرانی آپ کی تربیت ہوئی ۔حضرت علی علیہ السلام پہلے مرد تھے جنہوں نے اسلام کا اظہار کیا ۔ آپ کی عمر اس وقت تقریبا دس یا گیارہ سال تھی ۔  تفصیل سے پڑھئے

اُٹھو بیٹا آنکھیں کھولو
بستر چھوڑو اور مُنہ دھو لو
اُٹھو بیٹا آنکھیں کھولو
بستر چھوڑو اور مُنہ دھو لو-               تفصیل سے پڑھئے
اک دن کسی مکھی سے يہ کہنے لگا مکڑا
اس راہ سے ہوتا ہے گُزر روز تمہارا
ليکن مری کُٹيا کی نہ جاگی کبھی قسمت
بھُولے سے کبھی تُم نے يہاں پاؤں نہ رکھا
غيروں سے نہ مليے تو کوئی بات نہيں ہے
اپنوں سے مگر چاہيے يوں کھنچ کے نہ رہنا
آؤ جو مرے گھر ميں تو عزت ہے يہ ميری
وہ سامنے سيڑھی ہے جو منظور ہو آنا-     تفصیل سے پڑھئے
اس پھول پہ بیٹھی کبھی اس پھول پہ بیٹھی
بتلاؤ تو کیا ڈھونڈتی ہے شہد کی مکھی
کیوں آتی ہے کیا کام ہے گلزار میں اس کا
یہ بات جو سمجھاؤ تو سمجھیں تمہیں دانا
چہکارتے پھرتے ہیں جو گلشن میں پرندے
کیا شہد کی مکھی کی ملاقات ہے ان سے
عاشق ہے قمری پہ کہ بلبل کی ہے شیدا
یا کھینچ کے لاتا ہے اسے سحر کا چسکا-            تفصیل سے پڑھئے
بہت پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھا ، اس کا کوئی بیٹا نہ تھا ۔ جب وہ بوڑھا ہو گیا تو اسے فکر ہوئی کہ اس کے مرنے کے بعد تخت و تاج کا وارث کون ہو گا ؟ لہذا ایک دن اس نے اپنے ملک میں اعلان کرایا کہ وہ ایک بچے کو گود لینا چاہتا ہے جو بعد میں اس کے تخت و تاج کا وارث ہو گا ۔ بچے کے انتخاب کے لیے یہ طریقہ بتایا گیا کہ تمام ملک میں سے کچھ بچے منتخب کیئے گئے ہر بچے کو بیج دیا جا ئے گا ۔ جس بچے کے بو ئے ہوئے پودے پر سب سے خوبصورت پھول کھلے گا ، وہ بادشاہ کا وارث بنا دیا جا ئے گا ۔ سونگ چن نامی کا ایک لڑکا تھا ، اس نے بھی بادشاہ سے ایک بیج لیا اور اپنے گھر آکر ایک گملے میں بو دیا ۔     تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
 hn4
کون جانے کہ پاکستانی میڈیا کے نقلی دانشور اور جعلی تاریخ کے اصلی مورخ قرآن و شریعت، اسلامی تاریخ و معاشرت، سخن و ادب، ملی افکار اور نظریہء پاکستان کے خود ساختہ دجالی ڈیزائن اور سامراجی فارمیٹ کے نفاذ کیلئے کب اورکونسی گل رنگیء صحافت دکھائیں گے۔ ملت اسلامیہ کے لازوال روشن کرداروں کو جاہل اور فرسودہ خیال ثابت کرنے میں مصروف انہی آدھے تیتر آدھے بٹیر کرداروں میں ایک کردار، چوراہوں میں کیچڑ پھیلا کر دنیا کے ساتھ ساتھ عاقبت کیلئے لعنتیں سمیٹنے والے”صاحب ِ حرف کل” حسن نثار  ہیں۔   تفصیل سے پڑھئے
شاعر مشرق ڈاکٹر سر محمد اقبال اردووفارسی کے ایک عظیم اور آفاقی شاعر تھے۔ وہ شاعر ہی نہیں بلکہ مفکر اور فلسفی بھی تھے۔ ان کی شاعری میں جہاں فکر وفلسفہ ، دلجوئی اور دانائی کے علاوہ جدید افکار وخیالات کی فراوانی کا پتہ چلتا ہے تووہیں سیاسی ، معاشی اور معاشرتی افکار کے لیے بیان کا سلیقہ بھی نظرآتا ہے۔ اسی سبب انہیں حکیم الامت، ترجما ن حقیقت ، شاعر انسانیت اور پیغامبر شاعر کہا جا تا ہے۔ علامہ اقبال کے کلا م میں فلسفے کے ساتھ ساتھ فن شاعری کے تما م خوبیاں موجود ہیں۔ انہوں نے اپنی شاعری کو کبھی خشک اور بے رنگ ہونے نہیں دیا ۔ تفصیل سے پڑھئے
’’پنچ تنتر‘‘ دنیا کی قدیم ترین سبق آموز کہانیوں کا مجموعہ ہے جو ہلکی پھلکی طنزیہ ومزاحیہ کہانیوں اور کہاوتوں کے ذریعہ نئی نسل کو زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتا ہے اور بڑوں کو بھی غور وفکر کی دعوت دیتا ہے۔ تقریباً دو ہزار دو سو پچاس سال قبل تحریر کی گئی اس کتاب کا مطالعہ کیا جائے تو یہ وقت وحالات کی کسوٹی پر آج بھی کھری اترتی ہے اور بچوں وبوڑھوں دونوں کے لئے یکساں طور پرمرکز توجہ بن جاتی ہے بلکہ بدلتے موسم مزاج اور رسم ورواج پر بھی اثر انداز ہونے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
 دعاو ں کی قبولیت کے لئے واسطوں پر یقین رکھنے والے میرے بریلوی بھائی اپنا ا نقلاب برپا کرنے کی خاطر لندن سے دوبئی اورد وبئی سے پاکستان تک ”یا فوج مدد“، ”یا فوج مدد“ کی تسبیح کرتے پہنچے ، امارات ائیرلائنز کے طیارے کی پر تعیش بزنس کلاس میں پانچ گھنٹے سینتیس منٹ تک چلہ بھی کاٹا مگر فوج نہیں آئی تو پھر وہ انقلاب کہاں سے آتاجس کا رستہ ہی جی ایچ کیو سے ہو کے آنا تھا۔ میں تو حکیم الامت علامہ محمد اقبال کے ماننے والوں میں سے ایک ہوں جنہوں نے کہا تھا ”
 فضائے بدر پیدا کر فرشتے تری نصرت کو ،
اتر سکتے ہیں گردوں سے قطار اندر قطار اب بھی“ تفصیل سے پڑھئے


ایس ایم ظفر کی یہ کتاب مارچ2003 ء سے مارچ 2012ء تک کی کہانی ہے جب وہ بطور سینیٹر اپنے فرائض انجام دے رہے تھے۔ پاکستان کے لیے یہ عرصہ نہایت اہمیت کا حامل رہا۔مصنف نے کئی کہانیاں اپنے سامنے تشکیل پاتے دیکھیں اور انہیں بلاکم وکاست بیان کیا ہے۔
اسی عرصے میں پاکستان میں ایک ’’باوردی‘‘ صدر حکمران رہے اور انھیں بھرپور ’’سیاسی‘‘ معاونت حاصل رہی۔ یہاں تک کہ انھیں وردی میں صدر رہنے کا آئینی حق بھی دیا گیا۔کچھ سیاسی قائدین انہیں دس دس بار وردی میں منتخب کرانے کے اعلانات کرتے رہے لیکن ’’انھوں‘‘ نے اپنی پینگیں کسی اور ہی پارٹی کے ساتھ بڑھا لیں۔ تفصیل سے پڑھئے
نکولائی  وسیلی ریلوے اسٹیشن میں دو دوستوں کی اچانک ملاقات ہوئی۔ ایک موٹا تھا اور ایک دبلا۔ موٹا آدمی ابھی کمرائِ طعام سے کھانا کھا کر باہر نکلا تھا۔ اس کے چکنے لب سرخ چیریوں کی طرح چمک رہے تھے۔ لباس سے خمرو لذیذ کھانوں کی خوش بوئیں اُٹھ رہی تھیں۔
دبلا پتلا آدمی تھوڑی دیر قبل ہی ریل سے اُترا تھا۔ وہ چھوٹے بڑے بنڈلوں سے لدا پھندا تھا۔ اس سے کافی اور گوشت کی بو آ رہی تھی۔ آدمی کے پسِ پُشت ایک لمبی ناک والی عورت اور ایک طویل قامت لڑکا اِستادہ تھا۔ یہ اس کی بیوی اور بیٹا تھے۔
موٹے نے جیسے ہی دبلے آدمی کو دیکھا تو خوشی سے چلایا’’پورفرے! کیا یہ تم ہی ہو میرے دوست! اف کتنی گرمیاں گزریں، کتنی سردیاں بیت گئیں۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے
پنسلین  کے موجد‘ الیگزینڈر فیلمنگ خاصے غائب دماغ شخص تھے اور مردم بیزار بھی۔ وہ گھنٹوں لیبارٹری میں تنہا بیٹھے کام میں محو رہتے۔ یہ دیکھا گیا ہے کہ زندگی کے ہر شعبے میں اسی قسم کے ’’سرپھرے‘‘ لوگ ملتے ہیں۔ ان میں سے بعض نے نام بھی کمایا۔ ایسے ہی چند سرپھروں کا تذکرہ پیش ہے۔ تفصیل سے پڑھئے
ڈیوائٹ  آئزن ہاور 1953ء تا 1961ء امریکا کے صدر رہے۔ اس سے قبل دوسری جنگ عظیم میں سرگرم حصہ لے چکے تھے۔ ان کا قول ہے: ’’قیادت کی اعلیٰ ترین خصوصیت دیانت داری ہے۔ اس کے بغیر کامیابی ممکن نہیں… چاہے فٹ بال کا کھیل ہو‘ میدان جنگ یا دفتر۔‘‘
یہ حقیقت ہے کہ فٹ بال کا میچ ہو یا جنگ کا میدان‘ جو فریق جان لڑا کر مقابلہ کرے‘ وہی فتح یاب ہوتا ہے۔ سو تیار ہو جائیے‘ 12جون تا 13جولائی برازیلی اسٹیڈیمز میں دنیا کی بہترین بتیس فٹ بال ٹیموں کے مابین کانٹے دار مقابلے دیکھنے کے لیے۔    تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
 
 لاہور کے چڑیا میں آنے والے تمام افراد تفریح کی غرض سے نہیں آتے، بلکہ کچھ کا مقصد کافی شرپسندانہ ہوتا ہے اور وہ یہاں ایسی چیزوں کی تلاش میں رہتے ہیں جنہیں کالے جادو کے کسی عمل میں استعمال کیا جاسکے۔
جعلی پیروں اور عاملوں کی جانب سے کالے جادو کے ذریعے پریشانی میں متبلا افراد کے تمام پریشانیوں سے نجات کا لالچ دیا جاتا ہے۔
جانوروں اور پرندوں کے جسمانی اعضاء کی مانگ میں بہت زیادہ اضافہ ہورہا ہے کیونکہ یہ عطائی پیر اپنے پاس آنے والوں سے کالے جادو کے عمل میں ان اشیاء کا استعمال کرنے لیے طلب کرتے ہیں۔  تفصیل سے پڑھئے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کون کہتا ھے کہ نبی آخر الزمان صلی اللہ علیہ وسلم سے جڑے جھوٹے خواب بیان کر کے لوگوں کو بیوقوف بنانے والا طاہر القادری شعبدہ باز نہیں ۔۔۔۔۔۔۔۔ کیا بعد از بزرگ خدا ، محبوب کبریا ہستی قیام و طعام اور سفری سہولتوں کیلئے نعوذ باللہ اس جیسے صلیبی ایجنٹ یا کسی بھی انسان کی محتاج ہو سکتی ہے ۔۔۔۔۔۔ ہر گز نہیں۔۔۔۔۔۔ جو ایسے جھوٹے خوابوں اور عہدہء نبوت توہین کرنے والے اس ننگ دین صلیبی ایجنٹ کی کذب بیانی اور توہین رسالت کی مذمت نہ کرے وہ بھی اللہ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مجرم ہو گا- 




نذیر ناجی کا پورا کالم پڑھیں اور خود اندازہ لگائیں کہ طاہر القادری کتنا بڑا فتنہ ہے ۔۔۔
آج قریباً 2برس کے بعد‘ وزیراعلیٰ شہبازشریف سے ملاقات ہوئی۔ اتنے عرصے بعد ملیں‘ تو گپ شپ کا ڈیڑھ گھنٹہ تو بنتا ہے۔ داخلی اور عالمی صورتحال کے حوالے سے‘ پاکستان آج کس پوزیشن میں ہے؟ اس پر ہردردمند پاکستانی کی طرح شہبازشریف بھی فکرمند ہیں۔ اتنی پھیلی ہوئی گفتگو ایک کالم میں تو سما نہیں سکتی۔ وقت کے ساتھ ساتھ‘ موضوع کی مناسبت سے جو کچھ یاد آیا‘ لکھتا رہوں گا۔ آج اس حیرت انگیز ڈرامے کی تفصیل بیان کروں گا‘- تفصیل سے پڑھئے

لندن کا ہیتھرو ایئرپورٹ۔ لاؤنج میں صوفے پر انقلاب تشریف فرما ہے۔ کبھی گھڑی پر نظر ڈالتا ہے‘ کبھی موبائل فون دیکھتا ہے۔ دبئی لے جانے والا جہاز اڑنے میں ابھی دیر ہے۔ اچانک موبائل کی گھنٹی بجتی ہے۔ دوسری طرف انقلاب کا کوئی چھوٹا یا موٹا ڈپٹی ہے۔ انقلاب ڈپٹ کر پوچھتا ہے‘ اتنی دیر کیوں لگا دی۔ تمہارا فون بھی بند جا رہا تھا۔ ڈپٹی کہتا ہے‘ مرشد‘ کیل لگے ڈنڈے تقسیم کر رہا تھا۔ ’’کتنے تقسیم کئے ‘‘ انقلاب نے لہجہ بدل کر پوچھا‘ ڈپٹی نے کہا جی‘ دو ہزار تقسیم کر دیئے‘ انقلاب نے حیران ہو کر پوچھا‘ صرف دو ہزار؟ باقی18ہزار کیوں نہیں بانٹے- تفصیل سے پڑھئے
موت کا لمحہ تمام قابلِ قیاس اور ناقابلِ قیاس لمحات سے زیادہ شدید ہے .. ہر دوسری مصیبت جس کے لیے آدمی پریشان ہوتا ہے..اس مصیبت کے مقابلے میں ہیچ ہے جو موت کی صورت میں اس کے سامنے آنے والی ہے...
موت زندگی کے سخت ترین مرحلہ کی طرف سفر ہے ..یہ کامل بےاختیاری, کامل بےسروسامانی اور کامل بےمددگاری کے مرحلے میں داخل ہونا ہے..
دنیا کی ہر تکلیف کی ایک حد ہوتی ہے ..موت ہم کو ایک ایسی دنیا میں داخل کر دیتی ہے جس کی تکلیفوں اور مصیبتوں کی کوئ حد نہیں ہوتی ...
موجودہ دنیا میں بھی آدمی بااعتبارِ حقیقت اسی حال میں ہے انسان آپنی ذات کے اعتبار سے اتنا کمزور ہے ..کہ وہ معمولی ناخشگواری کو بھی برداشت نہیں کر سکتا.. ایک سوئ کا چبھنا .. ایک دن کی بھوک پیاس .. چند دن کے لیے نیند کا نہ انا بھی اس ک وجود کو تڑپا دیتا ہے..
تاہم موجودہ دنیا میں اس کو اس کی ضرورت کی تمام چیزیں حاصل ہیں اس لیے وہ اپنی بےچارگی کو بھولا رہتا ہے ..وہ اپنی حقیقت سے ناآشنا رہتا ہے .. دنیا میں آدمی پر مصیبت پڑتی ہے تو وہ آہ واویلا کرتا یے ..
لیکن اگر وہ آنے والے دن کو جانے تو کہے گا خدایا جو کچھ بیت رہا ہے اس سے کہیں زیادہ سخت ہے وہ جو بیتنے والا ہے ..
دنیا میں آدمی کو عزت اور آرام حاصل ہو فخر اور گھمنڈ میں مبتلا ہو جاتا ہے لیکن اگر وہ آنے والے لمحات کو جانے تو وہ کہہ اٹھے گا خدایا اس عزت اور آرام کی کوئ حیثیت نہیں ...
موت ہماری زندگی کا خاتمہ نہیں...
وہ ایک نئے مرحلہ حیات گا آغاز ہے ... یہ نیا مرحلہ کسی کے لیے تمام مصیبتوں سے زیادہ بڑی مصیبتوں کا غار ہوگا ..اور کسی کے لیے تمام راحتوں سے زیادہ بڑی راحتوں کا دروازہ ...
مولانا وحیدالدین ..
کتاب.. آخری سفر..

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

کیاب جب سولہ سال کی ہوئی تو اس کے بھائی نے اسے شمالی ویتنام کے سیاحوں کے پسندیدہ ایک شہر میں ایک پارٹی میں لے جانے کا وعدہ کیا لیکن درحقیقت اس نے اپنی بہن کو دلہن کے طور پر ایک چینی خاندان کے ہاتھ بیچ دیا تھا۔
Kiab کا تعلق ویتنام میں ہمونگ نسل کی آبادی سے ہے۔ اس لڑکی نے چین میں بمشکل ایک مہینہ ہی گزارا۔ اس کے بعد اپنے خاوند کی قید سے فرار ہو کر وہ کسی طرح مقامی پولیس کے پاس پہنچ گئی اور پھر واپس ویتنام پہنچا دی گئی۔ تفصیل سے پڑھئے
" "نماز کی قضا ھے بیٹا ' خدمت کی کوئی قضا نہیں..!! " لاھور میں جب میں نے ایک بابا سے کہا کہ میں صوفی بننا چاھتا ھوں تو انہوں نے پوچھا.. " کس لئے..؟ " میں نے کہا.. " اس لئے کہ یہ مجھے پسند ھے.. " آپ نے کہا.. " مشکل کام ھے ' سوچ لو.. " میں نے عرض کیا.. " اب مشکل نہیں رھا کیوں کہ اس کی پرائمری اور مڈل پاس کر چکا ھوں.. پاس انفاس نفی اثبات کا ورد کر لیتا ھوں.. اسم ذات کے محل کی بھی پریکٹس ھے.. آگے کے راستے معلوم نہیں ' وہ آپ سے پوچھنے آیا ھوں اور آپ کی گائیڈینس چاھتا ھوں.. " بابا نے ھنس کر کہا.. " تو پھر تم روحانی طاقت حاصل کرنا چاھتے ھو ' صوفی بننا نہیں چاھتے ھو.. " میں نے کہا.. " ان دونوں میں کیا فرق ھے..؟ " کہنے لگے.. " روحانی طاقت حاصل کرنے کا مقصد صرف خرق عادات یعنی کرامات کا حصول ھے اور یہ طاقت چند مشقوں اور ریاضتوں سے پیدا ھو سکتی ھے.. لیکن تصوف کا مقصد کچھ اور ھے..؟ " " وہ کیا..؟ " میں نے پوچھا.. بابا نے کہا.. " تصوف کا مقصد خدمت خلق اور مخلوق خدا کی بہتری میں لگے رھنا ھے.. مخلوق الله سے دور رھنا رھبانیت ھے اور الله کی مخلوق میں الله کے لئے رھنا یہ پاکی ھے اور دین ھے.. " مجھے اس بابا کی یہ بات اچھی نہ لگی.. بیچارہ پینڈو بابا تھا اور اس کا علم محدود تھا.. میں اٹھ کر آنے لگا تو کہنے لگا.. " روٹی کھا کر جانا.. " میں نے کہا.. " جی کوئی بات نہیں.. میں ساھیوال پہنچ کر کر کھا لوں گا.. " کہنے لگا.. " خدمت سعادت ھے.. ھمیں اس سے محروم نہ کرو.. " بابا اندر سے رکابی اور پیالی لے آیا.. پھر اس نے دیگچے سے شوربہ نکل کر پیالی میں ڈالا اور دال رکابی میں ' چنگیر سے مجھے ایک روٹی نکال کر دی جسے میں ھاتھ میں پکڑ کر کھانے لگا.. وھاں مکھیاں کافی تھیں ' بار بار ڈائیو لگا کر حملے کرتی تھیں.. بابا میرے سامنے بیٹھ کر مکھیاں اڑانے کے لئے کندوری ھلانے لگا اور میں روٹی کھاتا رھا.. اتنے میں مغرب کی اذان ہوئی.. کونے میں اس کے مریدوں نے تھوڑی سی جگا لیپ پوت کر کے ایک مسجد سی بنا رکھی تھی.. وھاں دس بارہ آدمیوں کی جماعت کھڑی ھو گئی.. مجھے یہ دیکھ کر بڑی ندامت ھوئی کہ میں روٹی کھا رھا ھوں اور پیر مکھیاں جھل رھا ھے.. میں نے کہا.. " بابا جی آپ نماز پڑھیں.. " کہنے لگے.. " آپ کھائیں.. " میں نے کہا.. " جی مجھے بڑی شرمندگی ھو رھی ھے.. آپ جا کر نماز پڑھیں.. " مسکرا کر بولے.. " کوئی بات نہیں ' آپ کھانا کھائیں.. " تھوڑی دیر بعد میں نے پھر کہا.. " جناب عالی ! انہوں نے نیت بھی باندھ لی ھے.. آپ نماز ادا کر لیں ' قضا ھو جائے گی.. " بابا ھنس کر بولا.. "نماز کی قضا ھے بیٹا ' خدمت کی کوئی قضا نہیں..
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
کافی دنوں سے ایک شاھکار "داستان ایمان فروشوں کی" پڑھ ھوں۔ لکھا گیا ھے کہ۔
ایک صلیبی کمانڈر نے کہا۔" ھم کھلی تہذیب کاری کے قایل نھی ھم زھنوں میں تہذیب کاری کیا کرتے ھے۔ 2 سال پہلے قاھرہ میں کتنے فحاشی کے اڈے تھے ؟ اور اب کتنے ھے۔؟ کیا ان میں بے پناہ اضافہ نھی ھوا؟ کیا دولتمند مسلمانوں کے گھروںوں میں نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کے قابل اعتراض عشق و معاشقے شروع نھی ھوے؟ مسجدوں میں ھمارے امام ھے جو نہایت ھی اچھے طریقے سے اسلام اور جہاد کی شکل بگاڑ رھے ھیں۔ وہ دوست اور دشمن کا تصور بھی بدل رھے ھیں۔ میرا زاتی حیال ھے کہ مسلمان جلد ھی اس مقام پر پہنچ جاینگے جہاں وہ اپنے آپکو بڑے فحر سے مسلمان کہنگے لیکن ان پر اثر صلیب کا ھوگا۔"
دوسری جگہ ایک عیسای راھب جو مسلمانوں کا عالم بنا بیٹھا ھوتا ھے کہتا ھے
" مسلمان بڑی سیدھی اور جذباتی قوم ھے۔ یہ قوم جذباتی الفاظ اور سنسنی حیز دلایل پر مرتی ھے، جنس انسان کی سب سے بڑی کمزوری ھوتی ھے، میں ان میں وہ جذبہ ابھار رھا ھوں۔ مذھب کے نام پر تم مسلمان سے بدی بھی کراسکتے ھوں اور نیکی بھی۔ قرآن ھاتھ میں رکھ کر بات کرو تو یہ لوگ احمقانہ باتوں کے بھی قایل ھو جاتے ھے اور جھوٹ کو بھی سچ مان لیتے ھے۔
اور جب یہی راھب سلطان کے ھاتھوں پکڑا جاتا ھے، تو سلطان کے حاص آدمی سے یوں مکالمہ کرتا ھے،
کسی قوم کی تہذیب و تمدن اور مذھب کو بگاڑ دو تو فوج کے حملوں اور جنگ کی ضرورت باقی نھی رھتی یقین نہ آیے تو مسلمانوں کی حالات دیکھ لو۔ تمھارے رسول نے کہا کہ نفس مار دو یہی تباھی کی جڑ ھے، تمھاری قوم نے اس پر کب تک عمل کیا۔۔۔۔۔رسول کی زندگی تک۔۔۔۔۔؟ یہودیوں اور عیسایوں نے حوبصورت لڑکیوں سے تمھارے قوم کو بگاڑ دیا۔
حیران کن بات یہ ھے کہ اگر موجودہ حالات پر نظریں ڈالی جای تو جو کچھ بیان کیا گیا ھے وہ ایک نہ ماننے والا سچ ھے۔۔۔۔۔جو بولا تو کئ سو سال پہلے لیکن اسکا ایک ایک حرف آج سچا ثابت ھو رھا ھے
دنیا کا سب سے غلیظ ریسٹورنٹ 
برطانیہ کے شہری عام ریسٹورنٹ سے اکتا گئے ہیں اور اب ایسے  ریسٹورنٹ کھولے جا رہے ہیں جن میں کھانے کے دوران بلیاں اور چوہے بھی کھانے والوں کو دل بہلا تے ہیں۔ دارلحکومت میں ایسے ریسٹورنٹ میں نیا اضافہ چوہوں والا ریسٹورنٹ ہے ۔اس ریسٹورنٹ میں چوہوں کا ایک پورا خاندان آباد ہے اور جب لوگ کھانا کھا رہے ہوتے ہیں تو یہ چوہے اردگرد مٹر گشت کرتے رہتے ہیں۔ریسٹورنٹ کی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ یہ چوہے صاف ستھرے ہیں اور ان سے لوگوں کی صحت کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ان چوہوں کی ریستوران میں موجودگی کا مقصد کھانے کیلئے آنے والوں کیلئے تفریح کا سامان فراہم کرنا ہے۔ اس ریسٹورنٹ میں گاجر کا کیک،چائے،کافی اور دیگر کھانے فراہم کئے جاتے ہیں اورچوہوں کے ساتھ کھانے سے لطف اندوز ہونے کیلئے تقریبا آٹھ سو روپے وصول کئے جاتے ہیں۔

مجھے جینے کا حق چاہیے۔ میں اپنا فیصلہ خود کرنے کی مجاز ہوں۔ یہ تھے اس کے الفاظ جو گھر والوں کے کانوں پر بجلی بن کے گرے۔ وہ اپنے فیصلے خود کرنا چاہتی ہے؟ ایک عورت ذات؟ کم عقل اور نا سمجھ۔ یہ اپنے فیصلے خود کیسے کر سکتی ہے؟ اور پھر اس کی ایسی جرات کہ یہ اس طرح گھر کے مردوں سے بات کرے؟ کیا ہوا کہ وہ چوبیس سال کی ہو گئی ہے، ہے تو ایک عورت- وہ کیسے اپنے سارے فیصلے کر سکتی ہے؟ ہاں سلیم ابھی پندرہ سال کا ہے اور ضد کر کے اس نے موٹر سائیکل لے لی ہے ۔ لیکن وہ تو لڑکا ہے ۔ لڑکے تو اپنی من مانی کرتے ہی رہتے ہیں۔ تفصیل سے پڑھئے
لاحاصل محبت اوردیوانگی دونوں ہی جنوں کی حدوں تک لے جاتے ہیں دونوں میں کوئی فرق نہیں ہوتا۔
محبت قبضہ نہیں کرتی نہ اس پر قبضہ کیا جا سکتا ہے۔ کیونکہ محبت کے لئے محبت ہی کافی ہوتی ہے۔
محبت تو پتوں کی سائیں سائیں کی طرح ہوتی ہے۔ نہ دکھائی دیتی ہے نہ پکڑ میں آتی ہے، بس حصار میں لےلیتی ہے۔
محبت کے آگے ساری منطقیں، سارے جواز بے کار ہوجاتے ہیں۔ یہ بڑا انوکھا جذبہ ہے جو آپ سے اپنا آپ بھی چھین لیتا ہے۔
محبت کیا ہے صرف چار حرفوں کا مجموعہ لیکن سمندر کی گہرائی سے بھی گہری ہے۔
محبت اظہار نہیں مانگتی مگر کبھی کبھی اظہار کر دیناچاہیئے دوسرے کو مطمئن کرنے کے لئے۔
محبت کسی کوپانے کا نام نہیں بلکہ سکون حاصل کرنے کا نام ہے۔ اگر آپ کسی کو چاہتے ہیں تو ضروری تو نہیں کہ وہ آپ کو مل جائے۔ وہ آپ کوملے نہ ملے اس کی محبت آپ کے دل میں پہلے کی طرح موجود و تروتازہ رہتی ہے۔
یہ محبت ہی تو ہے جو اگر روٹھ جائےتو انسان کے چہرے سے تمام رنگ چھین لیتی ہے اور اگر مل جائے تو قوس قزح کے تمام رنگ چہرے پر بکھیر کر اسے اتنا خوبصورت کر دیتی ہے کہ وہ خود حیران رہ جاتا ہے۔
محبتوں میں بدگمانی نہیں ہونی چاہیئے۔ محبت کی ہے تو اعتبار کرنا سیکھو اگر وہ خفاہے تو اسے منا لو کہ محبت ہمیشہ اس مان سے روٹھتی ہے کہ اسے منا لیا جائے
Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 
علامہ ڈاکٹر محمد اقبال رحمۃ اللہ علیہ نے پنڈت جواہر لال نہرو کے نام ایک تاریخی خط لکھا تھا جس میں آپ نے قادیانیوں کی ملی شورش کا تذکرہ کیا تھا اور کھل کر اپنے موقف کا اظہار کیا کہ قادیانی قوم و ملت کے غدار ہیں ۔ خط کو پنڈت جواہر لال نہرو نے اپنی کتاب "کچھ پرانے خطوط " کے حصہ اول میں ذکر کیا تھا آئیے پہلے وہ خط پڑھ لیں - تفصیل سے پڑھئے
دو نوجوان حضرت عمر ؓکی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کھڑے ہوتے ہیں اور اس کی طرف اشارہ کر کے کہتے ہیں :

’’اے امیر المومنین! یہ ہے وہ شخص جس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے‘‘
حضرت عمرؓ اُس شخص سے مخاطب ہوئے اور کہا کہ واقعی تو نے ان نوجوانوں کے باپ کو قتل کیا ہے؟
اس شخص نے جواب دیا:’’امیر المو منینؓ ان کا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہوا۔ میں نے منع کیا، وہ باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے ماراجو سیدھا اس کے سر میں لگا۔ وہ موقع پر ہی ہلاک ہو گیا۔‘‘
حضرت عمرؓ نے فر مایا، پھر تو قصاص دینا پڑے گا اور اس کی سزا تو موت ہے۔ اس نے عرض کیا:’’اے امیر المومنینؓ اس کے نام سے جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم ہیں، مجھے صحرا میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جا نے دیجئے تاکہ میں انھیں بتا آؤں، میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں، میں پھر واپس آجائوں گا۔‘‘ تفصیل سے پڑھئے


پنڈ کی کی اس مسجد میں نماز مغرب ادا کرنے کے بعد اجنبی مسافر نے پیش امام صاحب سے کہا کہ میں مسافر ہوں اگے کا سفر صبح کروں گا اگر آپ کو اعتراض نہ ھو تو رات مسجد میں قیام کر لوں .
مولوی صاحب نے کچھ ضروری پوچھ گچھ کے بعد شب بسری کی اجازت دے دی . گاؤں کے چوہدری نے مسافر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا میں آپ کے لئے کھانا بھجواتا ہوں. مسافر نے جواب دیا کہ ٹھیک ہے جناب میں کھانا آپ کے گھر کا ہی کھاؤں گا لیکن یہ یاد رہے- تفصیل سے پڑھئے

Labels: 0 comments | Links to this post
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers