آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ تعلیم یافتہ افراد کا وہ طبقہ جو کبھی یونیورسٹی کے ہوسٹل میں چند برس مقیم رہا ہو اپنی ہوسٹل کی زندگی پر لب کشائی کیوں نہیں کرتا۔انتہائی بردبار مہذب اور اعلیٰ عہدوں پر فائز لوگ جب اپنے ہوسٹل کے پرانے ساتھیوں سے ملتے ہیں تو تمام تہذیب وادب لپیٹ کر ایک طرف کیوں رکھ دیتے ہیں اور کھسر پھسر کے دوران ایک آواز بلند ہوتی ہے اوئے یارتجھے یاد ہے ؟ اور اس کے ساتھ ہی قہقہوں کا سلسلہ شروع ہوتا ہے جو اس عمر میں کھانسی پر ختم ہوتا ہے۔     تفصیل سے پڑھیے
ہوسٹل میں ایک بار زندگی گزارنے والے افراد KKK (Klu klux klan) یا فری میسن کی طرز کا ایک ایسا گروہ ہوتا ہے جو اپنے راز کسی سے نہیں کہتا۔ اس خاموشی سے ہی ان کی معاشرے میں عزت ہے اگر آپ کو ان چند برس کو زندگی کہنے پر اعتراض ہے تو یہ بات بھی کوئی ہوسٹل کا باسی ہی بتا سکتا ہے کہ زندگی ہوتی کیا ہے ۔
قبل از ہوسٹل اور بعد از ہوسٹل زندگی کا مفہوم، معنی، مقصد، حاصل، غرض و غایت اور تصور کیسے بدلتا ہے۔ آپ اس بات پر بھی رائے کا حق رکھتے ہیں کہ آزادی کے بغیر زندگی بے معنی ہے یا با معنی۔ یا گھروں میں جوان ہونے والے کیا اس ذہنی بالیدگی کے مراحل سے گزرتے ہیں جن سے ہوسٹل میں رہنے والے گزرتے ہیں۔ ویسے تو کینگرو کی تھیلی میں بیٹھا بچہ اپنے آپ کو درخت میں بیٹھے چیتے سے اور مرغی کے پروں میں چھپا ہوا چوزہ خود کو بادلوں سے بلند شاہین سے زیادہ آزاد سمجھنے کا مکمل حق رکھتا ہے۔
ہوسٹل میں گزارے ہوئے شب وروزکی کیفیات قابل تحریر کیوںنہیں ہوتیں؟ اسکی بڑی معقول وجہ ہے۔ اگر تو ہوسٹل کی ڈائری یا واقعات ابتدا میں ہی قلمبند کرکے گھر بھیج دیں تو جوابی تار کے ذریعے ہی آپ کی واپسی یقینی ہے اور اعلیٰ تعلیم کا یہ خواب کسی مقامی ادارے میں ہی تکمیل کو پہنچے گا۔اگر تعلیم کے اختتام پر یہ واقعات صفحہ قرطاس پر بکھیر ے جائیںتو کالی روشنائی سے لکھنے کے باوجود یہ تحریر رنگین ہی کہلائے گی بالکل اسی طرح جیسے کالے کر توت نیلی روشنائی سے لکھ کر توقع کی جائے کہ یہ اب کالے نہیں رہے۔
اس حماقت کے دُور رس نتائج یہ ہوں گے کہ کوئی بھی نیک خاندان آپ کو داماد بنانے کا سوچے گا بھی نہیں ۔ملازمت کے بعد کچھ لکھیں گے تو آپ کا جمع کروایا ہوا کیریکٹر سر ٹیفکیٹ فوراً منسوخ تصور ہوگا۔ ریٹائر منٹ کے بعد لکھنے کا ارادہ کریں گے تو زندگی بھر اخلاقیات،تعلیم، مذہب، قانون کی پاسداری، بسوں کی چھتوں پر سفر اور بازاروں میں فضول پھرنے کے نقصانات اور وقت کی اہمیت پر دیے گئے لیکچر اور پندونصائح کا ڈھیر آنکھوں کے سامنے آجائے گا۔
ادھر آپ کا دل ودماغ کثرت ِواقعات سے پھٹا جارہا ہے اور ادھر زندگی بھر کی تپسیا،بزرگی، معاشرے میں ساکھ نے لب پر مہر لگا دی ہے اور قلم کو اذنِ جنبش نہیں مل رہا۔یہ پرنالہ تو بہتا ہے پرانے دوستوں کے ملنے پر، ہاتھ پر ہاتھ مار کر”اوئے یارتجھے یاد ہیـــ” کہنے پر اور نہ ختم ہونے والے قہقہوں کے جاری ہونے سے۔ نجانے آنکھوں میں آنے والے پانی سے یہ آتش ماضی فرو ہوتی ہے یا فروزاں ؟
کہاں تو گھر میں آپ رات جلدی سونے کے عادی تھے، وقت پر ناشتہ، دُھلے استری شدہ تیار کپڑے، رات کو مطالعہ اور دوسری صالح عادات۔ اور اب یہ عالم ہے کہ رات کو دو بجے بھوک لگ رہی ہے ، تو اسٹیشن چل دیے، مرغوں کے جاگنے سے پہلے سو رہے ، کتاب بینی فلم بینی میں بدل گئی، کہاں کالج کے زمانے میں گروپ سٹڈی ہو رہی ہے اور کہاں یہ کہ پورا غول دوستاں بازاروں اور میلوں کی سیر کو نکلا ہوا ہے۔بے فکری کا وہ عالم کہ پیسے نہ ہونے کی فکر نہیں اور نہ وقت اور موسم آپ کے ارادوں میں حائل ہو سکتے ہیں۔
ہوسٹل یونیورسٹی کا وہ خطہ ہوتا ہے جہاں کے قواعد وضوابط اور قوانین یہاں تک کہ وقت کی تقسیم اور اکائی باقی یونیورسٹی بلکہ پورے ملک سے یکسر مختلف ہوتی ہے۔ کبھی یہ پانچ ہزار برس قبل مسیح کی بستی معلوم ہوتی ہے اور کبھی پانچ ہزار برس بعداز مسیح کا جدید علاقہ۔ ہوسٹل میں کھانے کے مقابلے دیکھیں تو اس بات کی تصدیق ہوسکتی ہے۔
پانی کے گلاس پینے پر منفی ایک نمبر، روٹی کا ایک نمبر اور سالن کی پلیٹ کے دو نمبر، عموماً 28 سے 30 نمبر حاصل کرنے والا جی دار دوسری پوزیشن حاصل کرتا ہے۔ خوش خوراکی سے زیادہ حیرت اس بات پر ہونی چاہئیے کہ کوئی ذی روح، صاحب نظر وعقل ہوسٹل کے سالن کی دوسری پلیٹ کیسے کھا لیتا ہے۔
ہوسٹل کی میس (Mess) میں موسم کی سبزی ہی پکتی ہے مثلاً مٹر کے زمانے میں مٹر گوشت، مٹر قیمہ،آلومٹر، مٹر کے چاول یہاں تک کہ پانی کے جگ میں مٹر کے دانے تیرتے ہوئے ملتے ہیں کبھی باورچی ترنگ میں ہو تو کھانا اچھا بھی پکا لیتا ہے یا یوں کہیں کہ اس کے ہاتھ کے کھانے کی عادت سی ہو جاتی ہے۔صیاد سے مانوس ہونا اسی کو کہتے ہیں۔
وہ امی کے ہاتھ کے کھانے بہن کے ہاتھ کے پراٹھے یاد ماضی بن جاتے ہیں۔ باورچی کی یاد اس وقت بہت آتی ہے جب وہ نہیں ہوتا۔ موسم گرما کی چھٹیوں کے بعد یا کسی مجبوری کے تحت اگر وہ نہ ہو تو ہوسٹل کے شیر اس بلی کے بچے بن جاتے ہیں جسے ان کی ماں چھوڑ کر کہیں چلی جائے۔ بغیر بوٹی کے سالن کی اضافی پلیٹ جسے سپلی (سپلیمینٹری کا مخفف) کہا جاتا ہے کھانے کا مزہ دوبالا کر دیتی ہے۔ بے حساب روٹیاں اور ان گنت سپلیاں ہوسٹل والے کی قسمت میں لکھی ہوتی ہیں۔ یہاں سپلی سے مراد تعلیمی سپلی ہے۔
لذت کام ودہن کی اس قربانی سے گزریں تو اور کئی مقتل آپ کی راہ تک رہے ہوتے ہیں۔تقریباً 60 طلبا کے لئے 8 غسل خانے۔یااللہ ساڑھے سات افراد کیسے بیک وقت ایک غسلخانہ استعمال کرسکتے ہیں ۔ واش بیسن پر آپ نے صابن رکھا اور ساتھ والے نے مسکراتے ہوئے اسے ہاتھ میں لے کر کھردری لکٹری جیسے ہاتھوں پررندے کی طر ح کہنیوں تک رگڑ لیا۔
دس بارہ لوگوں کی مسکراہٹوں کے بعد صابن اپنے لفافے سے بھی پتلا ہو جاتا ہے۔آپ نے ابھی ٹوتھ پیسٹ کے ڈھکنے کو بند نہیں کیا کہ ایک مانوس چہرے پر التجائی مسکراہٹ نے ٹوتھ پیسٹ آپکے ہاتھ سے پکڑ لیا بلکہ جکڑ لیا۔اب کہاں تو وہ موصوف بچپن سے آج صبح تک سامنے کے چار دانت ہی صاف کیا کرتے تھے اور آج 32دانتوں کی اندر باہر سے صفائی ہو رہی ہے۔
چند لمحوں بعد ہی ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب تپ دق کے مریض یا دوسری جنگ عظیم کے جاپانی قیدی کی طرح ہو جاتی ہے۔آپکے ماتھے کی شکنیں تعد اد اور گہرائی میں اس ٹیوب پر پڑنے والی شکنوں کا مقابلہ نہیں کر سکتیں۔غسل سے فارغ ہو کر جب آپ کمرے میں واپس آتے ہیں تو اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں کہ کسی نے آپ کے جسم سے لپٹا تولیہ ہی نہیں مانگ لیا۔کیونکہ ہوسٹل میں بے تکلفی انتہا کو چھوتی ہے تو دلوں میں جذبہ ایثار بھی پیچھے نہیں رہتا۔
صابن دانی میں چپکی صابن کی پرت اور نچڑی ہوئی ٹیوب کو گواہ بنا کر آپ خود سے وعدہ لیتے ہیں کہ آئندہ ان چیزوں پر پیسے نہیں خرچ کریں گے۔ آپ کاخود آگہی کا یہ سفر شروع ہو چکا ہے۔ مطلب یہ ہے کہ آپ نے خود کو لاحق خطروں سے آگا ہ کر لیا ہے اگلی صبح جب آپ صابن دانی کا یہ چراغ سحری ہاتھ میں لے کر نکلیں گے۔
تو آپ ان درویشوں اور فاقہ مستوں کی صف میں کھڑے ہوں گے جو مسکراہٹ کے ہتھیار سے دوسروں کی صابن دانی سے صابن ہتھیا لیتے ہیں ۔ مانگے ہوئے صابن سے جس محبت کا اظہار یار لوگ کرتے ہیں اس کا ثبوت اس وقت ملتا ہے کہ جب کبھی اچانک شاور کی آواز بند ہوتی ہے۔
اور اندر سے سفید براق بھوت جس کی کالی آنکھوں کے گھومتے ڈھیلے اس کی سامنے کی سمت کی نشاندہی کر رہے ہوتے ہیں صابن کے بلبلوں میں ملبوس یہ کہتا ہو ا بھاگتا نظر آتا ہے کہ نیچے چلو پانی ختم ہو رہا ہے۔ اور صحرائوں اور دریائوں کو ٹھوکر سے دو نیم کرنے والے نوجوان ٹھوکریں کھاتے افتاں و خیزاں، پانی کی رفتار سے تیز گرائونڈ فلور پر پہنچ کر اس نعمت کو زمین میں جذب ہونے سے پہلے جا لیتے ہیں۔
جسے آپ نے سفید بھوت سمجھا تھا وہی کالا شخص ہے جس نے کسی دوسرے کے صابن کواس خیال سے اتنا استعمال کیا کہ شاید وہ کورپر بنی تصویر جیسا نازک اندام بن جائے گا۔ یہ ویسی ہی معصوم خواہش ہے کہ کریلا چاہے کہ گل ِنرگس بن جائے اور گینڈا چاہے کہ اس کی جِلد ہرن جیسی ہو جائے ، مچھلی تو ساری عمر بھی پانی میں رہے تو اسکی بو نہیں جاتی۔
دوسروں کی چیزیںاستعمال کرنے کے حوالے سے ایک مدت تک روم میٹ آپس میں کھنچے کھنچے سے رہتے ہیں۔ لیکن بعد کا زمانہ مکمل اشتراک کا زمانہ ہوتا ہے۔ یہاں مدت سے مراد شروع کے پندرہ دن اور بعد کے زمانے سے سولہویں دن سے ابد تک کا وقت مراد ہے۔ بے تکلفی کا سفر عموماً بتدریج طے ہوتا ہے۔ لیکن ہوسٹل میںاسکی نشوونما بیکٹریا کی طرح ہوتی ہے، یعنی گھنٹوں کے لحاظ سے۔
ابتدائی دنوںمیں سب نے اپنے اپنے کپڑے سلیقے سے اپنی الماریوں میں لٹکائے ، کتابیں اور قلمدان میز پر سجائے ۔ آپ نے ٹرنک میں سے میٹھی ٹکیوں کا شیشے کا جار جو آپ کے گھر والوں کی محبت اور سونف کی خوشبو سے معمور ہے الماری میں سامنے رکھا۔ اخلاقاً ہر روم میٹ کو ایک ایک ٹکیا دی۔ سب نے بے حد تعریف کی ، کسی کو اپنی والدہ کے ہاتھ کے کھانے یاد آئے اور آنکھیں جھلملانے لگیں۔
اگلی شام قریبی کمروں کے احباب بھی اس تبرک کو چکھنے اور اپنی اپنی والدہ کو یاد کرنے حاضر ہو گئے۔ اس سے اگلی شام آپ کی الماری اور جار تو جذباتی اور نباتاتی خوشبو سے لبریز ہے پر جار سے روشنی آر پار ہو رہی ہے۔ رہ گیا الماری کا تالا تو یہ آہنی ڈھکوسلہ تو شرفا کے لیے حدود کی نشاندہی ہے حلقۂ یاراںمیں تو یہ ابریشم کی طرح نرم ہوتا ہے۔
بھائی چارے کا لفظ اس حوالے سے بر محل ہے کہ اگلی بار گھر سے واپسی پر آپ یہ چارہ ساتھ نہیں لائیں گے۔ جسے کھا کر آپ کے دوست کہہ سکیں یہ تو میری امی بھی بناتی ہیں اور مائیں تو سب کی سانجھی ہوتی ہیں وغیرہ وغیرہ۔
ابھی ایک ماہ نہیں گزرے گا کہ دروازے سے ایک ہانپتی آواز آئے گی یار کسی کے پاس نیلی شرٹ ہے۔ آپ کہتے ہیں نیلی نہیں کالی ہے، وہ کہتا ہے جلدی دے یار! دیر ہو رہی ہے۔ آپ اٹھتے ہیں تو آپ کا روم میٹ کہتا ہے یار میری ا لماری سے نکال لے میں نے کل تیری شرٹ پہنی تھی۔ یار دیر نہ کرو ابھی میں نے کسی سے پینٹ بھی مانگنی ہے۔
آپ حیرت سے سوچتے ہیں کہ یہ لوگ گھر سے پتے باندھ کر آئے تھے یا رات کے اندھیرے میں سفر کرکے یہاں پہنچے تھے۔ پہلا سمسٹر ختم ہونے سے پہلے ہر ایک الماری مختلف لوگوں کے کپڑوں سے آراستہ ہوتی ہے۔آپ اور آپ کے دوست کپڑے اور جوتے خریدتے ہوئے دوسروں کی پسند اور کمرے میں پہلے سے موجود کپڑوں کے رنگ کا خیال رکھتے ہیں تاکہ بدل بدل کر ایک دوسرے کی چیزیں استعمال کر سکیں۔
قدیم راہِ سلوک کا تو پتا نہیں جدید راہِ سلوک کا جو سفر ان ابتدائی دنوں میں طے ہو جاتا ہے اس کے لیے آپ کی کشادہ دلی، وسعت قلبی اور اکٹھے رہنے کا جذبہ ضروری ہے۔برداشت اور مسکراہٹ کا امتزاج ہی اس منزل کی پہلی شرط ہے۔ اور اگر ایسا ہے توآپ پانی کے جگ میں ہچکولے کھاتے مٹر کے دانے، کچے آٹے اور کوئلے کے درمیان روٹی کے ٹکڑے، ذائقے سے عاری سالن، صابن کی بے ثباتی، ٹوتھ پیسٹ کی ٹیوب کی بے حرمتی ، کسی غیر کے تن پر سجی آپ کی ذاتی قمیص، کمرے کے ساتھیوں کے ہاتھوں سے اٹھنے والی سونف کی خوشبو سب ایک قہقہے میں اڑا دیں گے۔
کہتے ہیں کہ جوڑے آسمان پر بنتے ہیں میرا خیال ہے کہ روم میٹوں کا تعین بھی روز ازل فرما دیا گیا ہو گا۔ اور تمام نہیں کچھ خاص الخاص روم میٹ تو آئندہ زندگی میں بھی آپس میں ایسے رہتے کہ اللہ تعالی کی شان رحیمی صاف جھلکتی ہے۔ وہ ذات باری جو ہم شکل افراد پیدا کرتی ہے کیا عجب کہ مماثل روحیں بھی بنا دیتی ہو۔
ویسے تو عمر کے اس حصے میں توانائی کی ضرورت زیادہ ہوتی ہے لیکن ہوسٹل میں مشقت بڑھ جاتی ہے۔ ایک موٹر سائیکل پرچار سے زائد لوگ کیسے سوار ہو سکتے ہیں، رات ایک بجے سینما ختم ہونے پر کون سی ٹیکسی بغیر پیسوں کے آپ کو بارہ کلو میٹر دور لیکر جائے گی، لامحالہ پیدل ہی جانا پڑے گا۔ا
وریہ دونوں وقت اور مشقت طلب کام ہیں۔ مشقت بڑھی تو بھوک میں اضافہ ہوا، رات تین بجے یا تو تھانہ کھلا ہوتا ہے یا اسٹیشن، شریف بھوکا شخص اسٹیشن نہ جائے تو کیا کرے۔ رات کے آخری پہر چلنے والی ٹھنڈی ہوا، بھرا پیٹ، جسمانی تھکن، اور جوانی ان میں سے کوئی تین چیزیں بھی اکٹھی ہو جائیں تو کیا شاندار نیند آتی ہے۔
شب بیدار ملامتی صوفیوں کے اس گروہ کے علاوہ ایک اور گروہ بھی یو نیورسٹی کے در و بام کے چکر لگاتا ہے۔ صبح آکر شام کو واپس لوٹ جانے والے یہ پنچھی ڈے سکالرز کہلاتے ہیں۔ (اس حوالے سے ہوسٹل والوں کو نائٹ سٹرالر (Night Strollers)
کہنا مناسب ہو گا) گھر سے یونیورسٹی اور واپس گھر تک اڑان رکھنے والے یہ پرندے رفعتِ پرواز سے عاری ہوتے ہیں۔ دوسرے سمسٹر کے آخر تک آپ سب کے امتحانی نتائج، اخلاق، اطوار، اوقات کار کسی محفل میں بلند آواز سے بتانے کے قابل نہیں رہتے۔ اب کوئی اس دھارے میں بہنے کی بجائے ساحل کی طرف نظر کرے تو یقینا راندۂ درگاہ ہو جائے گا۔
سچ تو یہ ہے کہ اس گرداب میں بے حال گھومنے والا بچ نکلتا ہے اور سلامتی کا خواہاں ڈوب جاتا ہے۔جو اس میکدے میں ایک بار جام آزادی پی بیٹھا اسی کوچے کا ہو رہا۔ آپ نے بھی ہوسٹل چھوڑنے والے مرتدین کا ذکر کم کم ہی سنا ہو گا۔البتہ ایسی داغدار امتحانی کارکردگی کی اصلاح نو کے لیے اجتماعی توبہ ضرور کی جاتی ہے جو توبتہ النصوح نہ سمجھی جائے۔
لائق ہم جماعتوں سے دوستی اور تعلق بڑھ جاتا ہے۔ مزہ تو اس روز آتا ہے جب ڈے سکالر صبح سوجی ہوئی آنکھوں سے آپ کے کمروں میں آکر آپ کو جگاتے ہیں کہ چلو ٹیسٹ میں آدھ گھنٹا رہ گیا ہے اور آپ انہیں جمائی لیتے ہوئے بتاتے ہیں کہ وہ تو کل شام ہم نے ہیڈ آف ڈیپارٹمنٹ کے گھر جا کر موخر کروا دیا ہے۔ نیم خوابیدہ شخص کا قتل جائز ہوتا تو یقینا یہ کمرہ مقتل ہوتا۔
آپ کی روح جسے مالی آسودگی ، تن آسانی، خوش ذائقہ کھانوں کی فراوانی نے آپ کے فربہ جسم میں جکڑ رکھا تھا آج صحیح معنوں میں آزاد ہوئی ہے۔یہ منزل سلوک نہیں تو کیا ہے۔ اہل مغرب اسے کتھارسس کا عمل کہتے ہیں۔اہل طریقت ہوں کہ اہل مغرب یہاں پہنچنے کے لیے کیا کیا نہیں کرتے۔
ہر نو وارد کو یقین ہوتا ہے کہ وہ اس سمندر سے اپنا دامن بھگوئے بغیر ہی پار اتر جائے گا لیکن یہ خیال خام جلد ہی اس تلخ حقیقت میں بدل جاتا ہے کہ تعمیر کے لیے شکست وریخت ضروری ہے۔ کچھ عرصے بعد آپ اپنے آپ کو ناتراشیدہ اور بے ہنگم پتھروں کے ڈھیر پر بیٹھا پاتے ہیں۔
اب آپ پر منحصر ہے کہ آخر میں اس سے بد ہیئت کوٹھڑی بنا لیں یا تاج محل۔ گھر سے دوری ، نامانوس حالات، آزاد ماحول اور تمام مروجہ قیود سے یکسر لا تعلقی آپ کو اپنا ذاتی کوڈ آف کنڈکٹ لکھنے پرمجبور کر دیتی ہے۔ اب خود عائد کردہ پابندیوں کی پاسداری آپ کا واحد کام رہ جاتاہے۔
خرابات کی چمک، اجنبی رویّوں کی تپش، نئے ماحول کی گرمی، شعلہ زن جوانی غرض تجربے کی یہ بے رحم بھٹی کئی نازک انداموں کو جلا کر راکھ بھی کر دیتی ہے لیکن عمومی طور پر لوہا فولاد اور سونا کندن بن کر ہی نکلتا ہے ۔اگر دعائیں دینے والے زندہ ہوں اور ہمیشہ زندہ رہنے والی ذات آپ پر کرم کرے تو ویسے بھی کچے کوئلے اور سخت جان ہیرے میں واحد فرق تخلیقی مراحل میں سختی برداشت کرنے کے وصف کے علاوہ کچھ بھی نہیں۔
ہوسٹل پھولوں کی سیج نہیں تو کانٹوں کا بستر بھی نہیں۔سچ تو یہ ہے کہ اس عمر میں سیج وبستر ،تخت وتختہ بے معنی ہوتے ہیں اور جس کو جان و دل عزیز ہوتے ہیں وہ اس کوچے کا رخ بھی نہیں کرتا یہ تو دیوانوں کا خطہ ہے، فرزانوں کا یہاں کیا کام۔ جفاکشی، خودانحصاری کے اسباق وتجربات روح میں ایسے پیوست ہوتے ہیں کہ باقی زندگی کسی ہنر سیکھنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔کپڑے دھونا، چارپائی مرمت کرنا، کھانا پکانا، سبزی کاٹنا، برتن دھونا غرض کیا کام ہے جو وقت نہیں سکھا دیتا ۔
ان خوبیوں کے ساتھ کو ئی شریف شہری بنے نہ بنے کا رآمدفرماں بردار شوہر ضرور بن جاتا ہے۔ ہوسٹل کے نوٹس بورڈ پر آویزاں ادب پارے اپنی گہرائی اور بے ساختہ پن میں جدید سبع معلقات کہے جاسکتے ہیں۔ افسوس مشرق کی زبان میں فحش الفاظ گالی کے زمرے میں آتے ہیں اور اہل مشرق کھلی تحریروں کا ذوق بھی نہیں رکھتے ورنہ تحریری ا دب میں خوب اضافہ ہوتا۔
اب یہ ہوسٹل والوں کے وسیع سینوں میں دفن بے شمار خفتہ رازوں میں شا مل ہیں۔ یو نیورسٹی میں درسی کتب حصول علم کا ذریعہ ہوتی ہیں جبکہ ہوسٹل میں ہر شخص بغیر جلد اور ملمع سے پاک کھلی کتاب کی مانند ہوتا ہے۔ اس لائبریری میں رہ کر چاہے تعلیمی جی پی اے (GPA) دو اور تین کے درمیان رہ جائے لیکن عملی اور معاشرتی جی پی اے چار سے کم نہیں ہوتا۔
یہ سن کر ڈارون بھی خوش ہو گا کہ چھوٹے شہروں، قصبوں اور گا ئوں سے آنے والی معصوم فاختائیں بھی چند ماہ میں شکرے ، باز اور شاہین بن جاتی ہیں۔ اہل خانہ سے کنارہ کشی روحانی ترقی میںکتنی معاون ہوتی ہے اس راز کو مہاتما بدھ نے جانا۔ شہر پھیلے اور ویرانے سکڑے تو اللہ نے ہوسٹل جیسی نعمت عطا کر دی۔ اب دیوانوں کو ویرانوں کی خوبیوں والی چار دیواری میسر آگئی۔
ذہن اور تخلیقی سوچ کو جامد کرنے والی گھریلو آسائشوں سے دور ویرانے ہوں، جیل کی کوٹھڑیاں یا ہوسٹل۔ ا پنوں سے دور چلیّ ہوں، بن باس ہو ، اعتکاف ہو یا ہوسٹل کا قیام، خود شناسی اور وجدان کی راہیں ہی لگتی ہیں۔ زندگی کی تلخیوں سے کون بچ سکا ہے لیکن ان پر مسکرانے کا فن بلکہ ٹھٹھے مار کر ہنسنے کا طریقہ اس کراماتی چار دیواری میں ہی سکھایا جاتا ہے۔
ان تمام نشیب و فراز سے گزر نے کے بعدگھر سے لایا ہوا آپ کی اَنا کا صیقل شدہ آئینہ جس میں آپ کی اپنی شبیہ کے علاوہ کچھ نظر ہی نہیں آتاتھا، رفتہ رفتہ زنگ آلود ہو جاتا ہے۔کافی عرصے بعد آپ اسے دیکھتے ہیں تو معلوم ہوتا ہے کہ صیقل ماند ہو کر ختم ہو گیاہے۔ یہ آئینہ شفاف شیشے میں تبدیل ہو چکا ہے۔
آپ کا عکس مد ھم یا مبہم کسی حالت میں نظر نہیں آرہا۔ دکھائی دیتے ہیں تو اس کے اس پار صرف اور صرف دوسرے لوگ۔ اس سفر میں اگر یہ شیشہ شکستگی کا شکار بھی ہو جائے تو سودا برا نہیں کہ شیشے کی شکستگی سفید روشنی کو قوس قزح میں بدل دیتی ہے۔
ہوسٹل کا قیام صیقل شدہ آئینے کو شفاف شیشہ بنانے کے سفر کے سوا کچھ نہیںاور قسمت یاوری کرے تو چند برس بعد آپ بھی کسی پرانے دوست کے ہاتھ پر ہاتھ مار کر کہہ رہے ہوں گے ’’ اوئے یار تجھے یاد ہے؟‘
Labels:
Reactions: 

Enter your email address:

Delivered by FeedBurner

Live Match Score

فیس بک پر تلاش کریں

مفت اکاؤنٹ کھولیں

Jobs Career in photography today!

Jobs Career in photography today!
Click on ads and grab your job.

گوگل پلس followers

گوگل پلس followers